تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’حیات نعمانی‘‘

ناشر: الفرقان بکڈپو، 114/31 نظیرآباد، لکھنؤ، انڈیا

صفحات: 692 

قیمت: 450 روپے 

اشاعت اول: مارچ 2013

بیسویں صدی کے ہندوستان میں(آزادی کے بعدکے دورمیں)دوشخصیتیں ملت اسلامیہ ہندیہ کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ان میں پہلی شخصیت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی المعروف علی میاں کی ہے اوردوسری مولانامحمدمنظورنعمانی کی ۔یہ دونوں حضرات زندگی بھربہترین دوست ،ہم مسلک اورہم مشرب بھی رہے اوردعوت اسلامی ،فکراسلامی اورمسلمانوں کی علمی وعملی اصلاح کے سر تاپا جہد و عمل بھی ۔فکری ہم آہنگی اورہم خیالی کے ساتھ دونوں ہی کے اپنے الگ الگ امتیازات وخصائص بھی ہیں۔مثال کے طورپردونوں بڑے مصنف ہیں مگردونوں کالکھنے کا اسلوب بالکل الگ ہے ۔مولاناابوالحسن علی ندوی پر چھوٹی بڑی کئی کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔حضرت نعمانی کی بھی مختصرخودنوشت ’’تحدیث نعمت ‘‘کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔مگران کے شخصیت اوران کے کام ا ورجلیل القدرخدمات کے شایان شان کوئی سوانح حیات شائع نہیں ہوئی تھی ۔حیات نعمانی ازقلم مولاناعتیق الرحمان سنبھلی جواسی سال شائع ہوئی ہے اسی ضرورت کوپوری کرتی ہے۔

مصنف کتاب حضرت مولاناعتیق الرحمان سنبھلی ایک ایسے مفکر،عبقری صاحب علم وصاحب قلم ہیں کہ ان کے قلم سے جوچیز نکلتی ہے، وہ ان کے علم کی گہرائی وگیرائی ،ان کی تحقیق ،اصابت رائے اورحقیقت پسندی کی دلیل ہوتی ہے۔ حیات نعمانی ایک بڑاکارنامہ ہے اورواقعہ یہ ہے کہ راقم نے یہ کتاب شروع سے آخرتک پڑھی اوراگرمقدمہ میں یہ نہ پڑھ لیاہوتاکہ ’’عام طورپر لوگوں کوبزرگوں کی سوانح میں مبالغے اورتفصیل واطناب کا شکوہ ہوتاہے،اس کے برعکس یہاںآپ کواگرشکوہ ہوگاتوایجازواختصارکا اورحدسے زیادہ احتیاط کا ‘‘تویقیناراقم شکوہ کناں ہوتاکہ اس لذیذحکایت کواتنامختصرکیوں کردیاگیاکہ یہ داستان حیات اس ہستی کی ہے جومجھ سمیت ملت اسلامیہ ہندیہ کی نئی نسل کی محسن ہے جس پر وہی مصرع فٹ بیٹھتاہے : 

اعد ذکرنعمان لنا ان ذکرہ 
ہو المسک ما کررتہ یتضوع 
(نعمان کا ذکر ہمارے سامنے دہراؤ،یہ تو مشک ہے کہ جتنی باربھی اس کو دہراؤ مشام جاں معطرکرے گا) 

حیات نعمانی دوحصوں پرمشتمل ہے۔پہلے حصہ میں 14چودہ ابواب ہیں جن میں مقدمہ وہدیہ تبریک کے بعدوطن خاندان ،پیدائش وتعلیم ،درس وتدریس اوردفاع حق یعنی مناظرانہ زندگی کا دور،الفرقان کا اجراء ،مولانامودودی ؒ اورجماعت اسلامی سے وابستگی اور انقطاع ، حضرت مولاناالیاس ؒ بانی تبلیغی تحریک سے تعلق ،مادرعلمی دارالعلوم دیوبندکی خدمت ،آزادی کے بعدنئے مسائل وتقاضے ،معذوری کا 20سالہ دور،تصنیفات وتالیفات ،بیرون ہندکے اسفاراوران سفروں کے مشاہدات وتاثرات ،ملفوظات ومکتوبات وخطابات ،مذاق ومزاج اورعادات ومعاملات ،ازواج واولاد ،حقوق اللہ وحقوق العباد،بندہ اپنے رب کے بلاوے پر ،وہ شخصیتیں جن سے کچھ خاص تعلق رہایہ چندجلی عنوانات ہیں جن کے تحت یہ پوری داستان حیات بیان ہوئی ہے۔حصہ دوم میں خودحضرت نعمانی کے قلم سے نہایت مؤثرچھوٹی بڑی تحریریں ہیں جن کا عنوان مصنف نے بندگان حق کی یافت قراردیاہے۔کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے حضرت کی تعلیمی زندگی سے متعلق تھوڑی سی تشنگی سی رہ جانے کا احساس ہوا،مثلا مولانانعمانیؒ کے اساتذہ میں علامہ حبیب الرحمن محدث اعظمیؒ کانام بھی آتاہے ۔حیات نعمانی میں یہ توبتایاگیاہے کہ انہوں نے مؤکے مدرسہ دارالعلوم میں تین سال پڑھاتھامگراِس سے اس پر روشنی نہیں پڑتی کہ کیاآپ نے براہ راست محدث اعظمی سے بھی شرف تلمذحاصل کیا تھا یا نہیں؟یہ سوال ذہن میں اس لیے پیداہواکہ حال ہی میں علامہ اعظمی کی بڑی مبسوط سوانح حیات ابوالمآثر از ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔انہوں نے مولانانعمانیؒ کوعلامہ اعظمی کے اجلہ تلامذہ میں شامل کیاہے، مگرحیات نعمانی میں اس کی طر ف ہلکا سااشارہ بھی نہیں ہے !

مسلمانوں کی نئی نسل جس کاکچھ بھی مذہبی مزاج ہے اوردینی لٹریچرپڑھنے پڑھانے سے اس کوتعلق ہے اس کی دینی تعلیم وتربیت اورمذہبی اصلاح میں مولانانعمانی کی کتابوں اورخاص کر’اسلام کیاہے ،دین وشریعت ،قرآن آپ سے کیاکہتاہے‘ کا خاص حصہ رہاہے ۔دین کی صحیح تعبیر وتشریح میں’ مولانامودودی سے میری رفاقت کی سرگزشت اوراب میراموقف‘اورالفرقان کے خاص نمبرات نے جہاں اکسیرکا کام کیا۔وہیں جب ایران میں آیت اللہ روح اللہ خمینی صاحب کا انقلاب آیاتوریاستی پروپیگنڈے کی قوت سے ایک دنیاکویہ باورکرایاگیاکہ یہ خالص اسلامی انقلاب ہے ۔لاشیعیہ لاسنیہ اسلامیہ اسلامیہ کے نعروں نے شیعہ حلقوں کوتوچھوڑیے خودسنی اسلام پسندوں اورجوشیلے نوجوانوں کواپنی گرفت میں لے لیا۔ایسامعلوم ہونے لگاکہ عقیدہ کی کوئی اہمیت ہی نہیں اوراسلام کے نام پر جذباتی مسلمانوں کوہربڑے بول بولنے والاآسانی سے بے وقوف بناسکتاہے ۔جب اس فتنہ نے ایک دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیاتو80سال کے اس بوڑھے نے جوانوں کی طرح کام کیااوروہ کتاب لکھی جس کا اردولٹریچرمیں اپنے موضوع پر کوئی جواب نہیں ہے اس کتاب ’ایرانی انقلاب ،امام خمینی اورشیعیت ‘نے شیعیت کوجس طرح بے نقاب کیااس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔واقعہ تویہ ہے کہ امام اہل سنت مولاناعبدالشکورلکھنؤیؒ کو چھوڑ کر شیعیت کا سنجیدہ اورتحقیقی مطالعہ کی یہ اولین مثال تھی جس نے کتنے ہی لوگوں کے خیالات بدل دیے اوران کی اصلاح کی ۔معارف الحدیث ہندوستان میں علم حدیث کی اس انداز سے ایک بالکل نئی اورانقلابی کاوش ہے کہ خالص علمی وفنی اورتحقیقی دقیق بحثوں کی بجائے اس پر ترکیز رکھی ہے کہ مسلمانوں کی دینی زندگی ،عقائدوایمانیات،عبادات ،اخلاق ومعاملات کونبوی تعلیمات کی روشنی میں کس طرح ڈھالاجائے ۔ 

حضرت نعمانی ؒ کی تحریریں لفاظی سے خالی ،صناعی سے معری سادہ انداز واسلوب کی حامل ،سلاست وروانی اوربرجستگی میں بے نظیرہیں ۔یہ بامقصداورصالح تحریریں نہایت مؤثرسوزوگداز میں ڈوبی ہوئی اورازدل ریزد بردل خیزد کا عمدہ نمونہ ہیں ۔یہ وہ ادب ہے جس کی تابندگی اورتاثیرکے سامنے ساری لفاظیاں اورساری خطابت ہیچ معلوم ہوتی ہے۔اورغالبایہی بڑاسبب ہے کہ ان کی کتابیں نہایت مقبول عام ہیں۔

حضرت نعمانی ایک عالم ربانی تھے اورنہایت جامع کمالات شخصیت ،جوبیک وقت دینی خدمات کے کئی سارے محاذوں پر سرگرم ۔علماء ربانین اورجماعت دیوبندکے اکابرین سے مخلصانہ روابط وتعلق اوران سے عقیدت واحترام اوراس مسلک کی حفاظت میں وہ سرگرم رہے ۔ اکابرسے روحانی کسب وفیض ایک طرف انجام پارہاہے دوسری طرف تبلیغی جماعت کے ساتھ طویل دعوتی واصلاحی دورے ہورہے ہیں ۔ تیسری طرف الفرقان کی ادارت کا فریضہ بھی ہے جس پر نامساعدحالات بھی آتے ہی رہتے ہیں۔خانگی ذمہ داریاں اوراہل خانہ اور بچوں کی تعلیم وتربیت پر بھی پوری توجہ ہے۔علمی ،دینی ،دعوتی وفکری تصنیفات کا سلسلہ الگ ہے۔خطابات اورمکتوبا ت کی جولانیاں ہیں ۔تبلیغی جماعت کے بارے میںیارلوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ’’آسمان سے اوپرکی اورزمین سے نیچے کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرتے ‘‘مگرحضرت نعمانی کی زندگی اوران کی ساری چلت پھرت اس مشہورعام مقولہ کی مکمل تردیدکرتی ہے،کہ وہ تبلیغی جماعت کے بارے میں بھرپوروقت لگانے کے ساتھ دوسرے اجتماعی تقاضوں سے عہدہ برآ ہوتے ہیں، ملی وجماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کرشامل ، عام مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت ،اسلام واسلامی تعلیم اورمسلم پرسنل لاکی بقاء کی جدوجہدسے ذرابھی غافل نہیں ہیں بلکہ دوسروں سے کچھ آگے ہی ہیں۔

تقریباسات سوصفحات پر مشتمل یہ کتاب صاحب سوانح کی 70سے کچھ اوپرسالوں کی جہدوعمل کی داستان راستان ہے ۔ان کی 92 سال کی یہ بابرکت اوربافیض زندگی تلاش حق ،احیاء دین ،عقائدحقہ کے تحفظ،ملت اسلامیہ کی اصلاح ،تزکیہ وسلوک ،رسوخ فی العلم ،اخلاص عمل اورروشن ملی خدمات کے تابندہ نقوش کی ایک تاریخ ہے جس میں قاری ایک پورے عہدکواپنے سامنے پاتاہے ۔بعض جگہوں پر مصنف نے کچھ اختصارسے کام لیاہے۔ورنہ حضرت نعمانی کا ذکرجمیل ہواور مولاناعتیق الرحمن سنبھلی کا گہربارقلم ہوتویہی جی چاہتاہے کہ یہ تذکرہ اوردراز ہواوردراز ہو۔حضرت نعمانی کی ایک مکمل سوانح عمری اہل علم پر ایک قرض تھاجواس کتاب سے اترگیاہے اورواقعہ ہے کہ خانوادۂ نعمانی میں بھی شاید کوئی اورمصنف مدظلہ سے بہتراس فرض سے عہدہ برآنہیں ہوسکتاتھا۔

کتاب میں کتنے ہی مقامات ایسے ہیں جوہم جیسے طالبان علم کے لیے عقدہ کشا اور سرمۂ بصیرت ہیں۔امیدہے کہ مصنف مدظلہ کی دوسری کتابوں کی طرح یہ بھی ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔ 

(تبصرہ نگار: ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی)

جان کائزر کی کتاب ’’امیر عبدالقادر الجزائری ؒ ‘‘ پر ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا تبصرہ

انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں مسلم ممالک پر مغرب نے اپنے نت نئے حملوں کا آغاز کردیا‘ بہت سے مسلم ممالک پر قبضہ کرکے اپنے استعماری تسلط کو برقرار رکھا۔اس استعماری یلغار کے خلاف ان مسلم ممالک کے عوام الناس اور علماء و کرام نے مزاحمت کا پرچم بلند کیا۔ اپنی جرات واستقلال عزیمت واستقامت حوصلہ اور تدبر کی داستانیں تاریخ میں ثبت کیں اوران کی قربانیوں کواپنوں نے کیا، ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور جب ۱۸۳۰ء میں فرانس نے مسلمانوں کے ریاست الجزائر پر تسلط قائم کرنے کی کوشش کی‘ جس کی مزاحمت میں اس وقت کے عظیم مجاہد شیخ محی الدین ؒ نے فرانسیسوں کے خلاف جہادی تنظیم منظم کی۔ اس کے دیرپا ثمرات مرتب ہونے پر اس نے اپنے جواں سال بیٹے عبدالقادر کو امیر بنا کر باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ امیر عبدالقادر جوان‘ توانا ‘ باہمت اور پرعزم ہونے کے ساتھ ساتھ جذبات کی رو میں بہنے والی شخصیت نہیں تھے بلکہ ہرقدم کو غور و تدبر اوراپنی جماعت مجاہدین کی وسیع ترمفادکی بنیاد پر اٹھاتے رہے۔ 

زیرتبصرہ کتاب اس عظیم مجاہد کی طویل جدوجہد پر مبنی عزیمت و جہاد کی لمبی داستان ہے جو آج کے ہرنوجوان ‘ ہر عالم دین اور ہرمجاہد کے لیے مشعل راہ ہے۔کتاب کے پیش لفظ میں نامور سکالر علامہ زاہد الراشدی صاحب لکھتے ہیں: ’’امیر عبدالقادر الجزائری‘‘ مغربی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ حریت اور جوش و مزاحمت کی علامت تھے اور وہ اپنی جدوجہد میں جہاد کے شرعی و اخلاقی اصولوں کی پاس داری اور اپنے اعلیٰ کردار کے حوالے سے امت مسلمہ کے محسنین میں سے ہیں۔ان کے سوانح وافکار او رعملی جدوجہد کے بارے میں جان کائزر کی یہ تصنیف نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کرانے میں یقیناًمفید ثابت ہوگی۔ ایسی شخصیات کے ساتھ نئی نسل کا تعارف اوران کے کردار ‘ افکار اور تعلیمات سے آگاہی استعماری تسلط اوریلغار کے آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لئے راہنمائی کا ذریعہ ہے اوراس سمت میں کوئی بھی مثبت پیش رفت ہمارے لئے ملی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ‘‘

بدقسمتی سے معاصر مذہبی رسائل وجرائد میں امیر عبدالقادر الجزائری کی بہت زیادہ کردار کشی کی گئی ‘ انہیں نقلی اور جعلی مجاہد جیسے القابات سے یاد کیا گیا۔لیکن بنیادی طور پر ایک نقطہ سب کی نظروں سے اوجھل رہا۔ وہ یہ کہ کتاب ایک انگریز مصنف جان کائزر کی تصنیف ہے۔ بہت سی ایسی چیزیں جواس نے اپنی طرف سے شامل کی ہیں‘ ان کا امیرؒ سے کچھ تعلق ہے یا نہیں؟ ہمیں ان مسائل کا تجزیہ کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوتی کہ کوئی مسلمان مصنف اور مورخ اردو یا عربی میں ان کی سوانح لکھتا، لیکن افسوس کہ ہم اپنوں کی قدر نہ کرسکے۔مولانا زاہد الراشدی صاحب نے امیر عبدالقادر کی تشبیہ مولانا عبیداللہ سندھی ؒ سے دے کر بہت سے مسائل کو سلجھا دیا ہے۔ کاش مولانا سندھی ؒ کے تحریک کا ادراک ہم کرتے ہیں اور یہ عقدہ بڑی آسانی سے حل ہوتا۔ امیرعبدالقادر کو عرب دنیا خصوصاً الجزائر وغیرہ میں اب بھی وہی حیثیت حاصل ہے جس طرح اسلامی دنیا خصوصاً پاکستان وافغانستان میں شیخ اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر صاحب مدظلہ کوحاصل ہے۔

بہرحال کتاب ظاہری و معنوی ہراعتبار سے مرصع ہے۔ البتہ ترجمہ کو مزید سلیس ‘ رواں اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ۴۵۴ صفحات پر مشتمل یہ تاریخی دستاویز مکتبہ امام اہل سنت مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ سے دستیاب ہے۔ 

تعارف و تبصرہ

(دسمبر ۲۰۱۳ء)

دسمبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۲

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہید کون؟ کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ
محمد عثمان فاروق

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک
مولانا عبد الرؤف ربانی

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

مکاتیب
ادارہ

نسوانیت کا دشمن لیکوریا
حکیم محمد عمران مغل

Flag Counter