’’میری تحریکی یاد داشتیں‘‘ (چوہدری محمد اسلم کی خود نوشت)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پبلشر: ادارہ معارف اسلامی منصور، لاہور

صفحات : ۳۴۴۔ سال اشاعت: ۲۰۱۰ء ۔قیمت : ۲۵۰روپے

خود نوشت سوانح انتہائی دلچسپ فن ہے۔ ایسی بے شمار سوانح پڑھ چکا ہوں۔ اسلوبِ بیان ہر سوانح میں مختلف ہو سکتا ہے۔ خود نوشت میں عام طور پر صاحبِ تالیف اپنی زندگی کے واقعات بیان کرتا ہے۔ بیان میں سیاق و سباق اتنا مربوط ہوتا ہے کہ بیان کی درستی کا تاثر ہمیشہ گہراہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ گمان باقی رہے گا کہ واقعات کے بیان میں مولف نے اپنے آپ کو صاف طور پر پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ اس طرح بیان میں ڈنڈی مارنے کی کسی حد تک گنجائش بھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض مولفین نے اپنی زندگی کے ایسے پہلو بھی بیان کئے ہیں جو تحریر کی صورت میں لانے سے اجتناب کو ہی انسانی وقار اور قدر کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ ان میں جوش ملیح آبادی کی ’’یادوں کی بارات‘‘ اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی ’’چاکِ گریباں اپنا‘‘ قابل ذکر ہیں۔ یہ کتابیں استثنائی حیثیت رکھتی ہیں۔ البتہ ان کتابوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مولفین نے اپنا آپ کھول کر ظاہر کر دیا ہے۔ یہ مشکل کام ہے۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانا کسی حد تک فطری چیز ہے۔ پردہ داری میں واقعات کی تعبیر اور تفصیل بڑی اہم ہوتی ہے۔ مگر واقعات و حالات کو سرے سے ہی گول کر جانا کسی طرح پسندیدہ اور معیار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوانح نگاری کے فن میں ایسی کوتاہی تالیف کی قدر کو گھٹا دیتی ہے۔

البتہ پیش لفظ میں مولف اگر یہ لکھے کہ’’میرے احباب کا یاد داشتیں مرتب کرنے کا تقاضا حد سے بڑھاتو میں نے بسم اللہ کر کے اس کام کا بیڑا اٹھا لیا۔ اس طرح کئی ماہ کی محنت شاقہ کے بعدمیں نے اپنی داستانِ حیات کو بالآخر قلم بند کر لیا۔ اپنی سرگذشت بیان کرتے وقت واقعات کو بلا لاگ لپیٹ بیان کیا گیا ہے، ۔۔۔ تحریر میں حافظے پر انحصار کیا گیا ہے، لہٰذا اگر کوئی صاحب کسی غلطی کی نشاندہی فرمائیں تو آئندہ اشاعت میں اس کو درست کر دیا جائے گا اور راقم ان کا شکر گزار بھی ہو گا‘‘ اور تقدیم میں اشاعتی ادارہ کے ڈائریکٹر جناب حافظ محمد ادریس جیسے ثقہ اور کہنہ مشق مولف یہ ضمانت دیں کہ ’’چوہدری محمد اسلم صاحب کی یاد داشتوں کو موجودہ صورت دینے کے لیے ادارہ معارف اسلامی کے رفقا پروفیسر ظفر حجازی اور شیخ افتخار احمد نے بہت محنت کی ہے‘‘ تو ہمارے لیے کتاب کے بلند معیار کا جو تصور قائم ہو جاتا ہے، اس کا اندازہ تو ادارہ معارف اسلامی کے قیام اور اس کے متعینہ مقاصد اور ادارہ کی دیگر پروڈکٹس کو سامنے رکھتے ہوئے بخوبی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جناب آباد شاہپوری کی دو جلدوں میں تاریخ جماعت اسلامی اور محمد علی قصوری کی مشاہداتِ کابل و یاغستان واقعتا شاہکار ہیں۔ ایسے میں کتاب پر تنقیدی نگاہ ڈالنا کس قدر مشکل ہو جاتا ہے، مگر جوئندہ یابندہ کے مصداق کتاب کو بغور پڑھا تو کام کافی آسان محسوس ہوا۔ 

مولف نے ایک باب کا عنوان ’’قید و بند کی آزمائشیں‘‘ قائم کیا ہے۔ یہ باب صفحہ ۱۸۱ سے شروع ہوتا ہے۔ صفحہ ۱۹۸ پر اپنی چوتھی گرفتاری کا بیان ہے۔ یہ گرفتاری ۶ جنوری ۱۹۶۴ کو جماعت اسلامی کے خلاف قانون قرار دینے کے ساتھ ہی عمل میں لائی گئی۔ جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ، پوری کی پوری گرفتار کی گئی۔ ایک ممبر کو چھوڑا گیا۔ وہ کوثر نیازی تھے۔ ان کے بارے میں شورش کاشمیری نے انکشاف کیا کہ وہ ۸۰ روز تک حکومت کو جماعت کی ڈائری دیتے رہے۔ گرفتار صاحبان کو مختلف جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا۔ گرفتاری کے بعد دو ماہ کے اندر اندر، نظر بندوں کو ریویو بورڈ کے سامنے پیش کرنے کے لیے لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں جمع کیا گیا۔ یہاں گزرے دنوں کے احوال بیان کرتے ہوئے چوہدری محمد اسلم صاحب، صفحہ ۲۰۴ پر لکھتے ہیں:

’’بورڈ کے فیصلے کے بعد کم و بیش ایک ماہ تک جماعت کی اعلیٰ قیادت اور جملہ ارکان مرکزی شوریٰ کو ڈسٹرکٹ جیل لاہور میں یک جا رہنے کا موقع میسر آیا۔ رفقائے شوریٰ کے لیے یہ خدا داد موقع بہت غنیمت تھا۔ نماز با جماعت اور درسِ قرآن و حدیث کا باقاعدہ اہتمام تھا۔ درسِ قرآن عام طور پر سید ابوالاعلیٰ مودودی دیتے اور جماعت کی امامت بھی آپ ہی فرماتے تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی درسِ حدیث دیتے تھے۔ ‘‘

۱۹۶۴ء میں جماعت پر پابندی کے زمانے میں قید، جماعتی زعما میں، مولانا امین احسن اصلاحی کا درسِ حدیث دینا، چوہدری محمد اسلم صاحب کی بھول یا خواب ہو سکتا ہے مگر ادارہ معارف اسلامی کے ذمہ داران کی محنت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ادارہ کے ذمہ داران میں سے جناب پروفیسر ظفر حجازی صاحب کا میں ذاتی طور پر مداح ہوں۔ شیخ افتخار احمد صاحب سے میری ملاقات نہیں۔ البتہ روئداد ہائے شوریٰ کی تازہ شائع شدہ دو جلدیں میری نظر سے گزری ہیں۔ وہ جناب شیخ نے مرتب کی ہیں۔ ان کی شائع شدہ شکل میں منظوری تو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دی ہے۔ اس کمیٹی میں عرش نشیں لوگوں کی اکثریت ہے ۔ لہٰذا میں روئداد پر رائے دینے سے پرہیز کروں گا۔ البتہ ادارہ معارف اسلامی کے ڈائریکٹر جناب حافظ محمد ادریس صاحب کی تقدیم میں دی گئی ضمانتوں کو شک کی نگاہ کے علاوہ کسی اور نگاہ سے دیکھنا، کم از کم میرے لیے مشکل ہو جاتاہے۔ تاریخ سے متعلقہ امور میں بیان کا ذمہ دارانہ ہونا لازم ہے۔ 

چوہدری محمد اسلم صاحب میرے بزرگ ہیں۔ پیش لفظ میں ان کا یہ کہہ دینا کہ حافظے پر انحصار کی بنا پر بیان میں غلطی محتاجِ درستی ہو گی، اس کے بعد ان سے شکایت کا بظاہر کوئی جواز نہیں رہتا۔ عمر کے اعتبارسے وہ جس مرحلہ میں ہیں، وہ ہر طرح رعایت کے حقدار ہیں۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش ۱۷۔جنوری ۱۹۲۰ء ہے۔ اس طرح ان کی عمر ۹۲ سال سے زیادہ ہے۔ سالِ اشاعت کے لحاظ سے دو سال کم ہو سکتے ہیں۔ اس عمر میں یادداشتوں کوجمع کر کے لکھ دینا یا لکھوا دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ مجھے ان سے ملاقات کے مواقع بھی میسر نہیں کہ ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کر سکوں۔ مجھے جو کچھ بھی کہنا ہے، وہ کتاب کے متن اور ترتیب پر انحصار کر کے کہنا ہے۔ میرا منشا یہ ہے کہ چوہدری صاحب سے بیان میں ایسی غلطیوں کا امکان بہرصورت رہتا ہے۔ میں چوہدری محمد اسلم صاحب کے ایک نیاز مند کے طور پر ایسی بلکہ اس سے بھی بڑی غلطیوں کی نشاندہی کرنا اپنا فرض سمجھوں گا اور اس کے لیے ان کی جانب سے شکریہ کا حق مانگوں گا اور نہ ہی اگلی اشاعت میں درستی کو ضروری سمجھوں گا۔ وجہ یہ ہے کہ ہماری نیاز مندی بے لوث ہے۔ یہ نیاز مندی تو میرے اسکول کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔

اس کتاب کے صفحہ نمبر ۱۸۹ پر چوہدری محمد اسلم صاحب اپنے خلاف ایک سنگین سیاسی مقدمے میں گرفتار ہونے کے بعد کے مرحلے کے ذکر میں تحریر فرماتے ہیں:

’’کیس کی سنگین نوعیت کے پیش نظر جماعت کے رہنماؤں نے دو وکلا صاحبان جناب عطا اللہ سجاد (بطور سینئر وکیل) اور جناب محمد رفیق تارڑ (بطور جونیئر وکیل) کی خدمات حاصل کر لیں۔ انہوں نے کیس کا مطالعہ کیا اور اس کے سنگین ہونے کی تصدیق کی۔ واضح رہے کہ چودھری محمد رفیق تارڑ صاحب نے ابھی نئی نئی پریکٹس شروع کی تھی۔ بڑے سمارٹ، محنتی اور دیندارنوجوان تھے۔‘‘

جناب رفیق تارڑ صاحب کے بارے میں چوہدری محمد اسلم صاحب کا یہ لکھنا کہ وہ دین دار نوجوان تھے، چوہدری صاحب کی بے خبری کی دلیل ہے۔ رفیق صاحب کے جج بننے سے پہلے کی زندگی اور جج بننے کے بعد کی زندگی میں جو واضح فرق ہوا، اس کی شہادت دینے والے لوگ ابھی تک زندہ ہیں۔ وہ خودبھی شاید جوانی کے دور کو فراموش نہیں کرتے ہوں گے۔ بلا شبہہ جج بن کر انہوں نے جس طرح اپنے آپ کو بدلا۔ وہ اوسط درجے کی پیشہ وارانہ مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک دیانت دار اور دیندار جج کا کردار ادا کرتے رہے مگر ان سے جو آخری گناہ سرزدہوا، وہ جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں سپریم کورٹ کو تقسیم کرنا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے بریف کیس لے کر جس طرح چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں کو خریدا، چوہدری محمد اسلم صاحب کسی طرح اس اعلیٰ کردار سے بے خبر نہیں ہوں گے۔ اگر رفیق تارڑ صاحب اس وقت اس طرح کا کردار ادا نہ کرتے تو شاید ہماری عدالتی تاریخ میں جسٹس سجاد علی شاہ اس انقلاب کی طرح ڈال دیتے جو کم و بیش ایک عشرے کے بعد جناب جسٹس افتخار چوہدری نے ڈالی ہے۔

جناب رفیق تارڑ صاحب کا چوہدری محمد اسلم صاحب نے اپنی تالیف میں ایک آدھ دیگر مقام پر بھی اچھے لفظوں میں ذکر کیا ہے۔ ہم اس ذکر سے متفق ہیں مگر کسی شخصیت کے تذکرے میں اس کے مجموعی کردار کو لینا چاہیے۔ کوئی شخص خامیوں سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ کسی شخص کا ادھورا اور یکطرفہ ذکر، بیان کی دیانت اور ثقاہت کو متاثر کرے گا۔

چوہدری محمد اسلم صاحب بڑی صلاحیتوں کے مالک شخص تھے۔ اس کتاب میں ان کے بدلتے ہوئے اسلوبِ بیان سے بھی ان کی متنوع صلاحیتوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بعض مقامات پر اسلوب اتنا سادہ اور سلیس ہے کہ بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔ لیکن اکثر و بیشتر اسلوب میں مشکل پسندی، بوجھل تراکیب اور ثقیل محاورں کا بر محل اور بے محل استعمال اور سیاق و سباق کے بغیر خطابت اور خود کلامی سے مغلوب بے معنی بلکہ لا یعنی پن حیران کر دیتا ہے۔ ایک مثال کے طور پر ذیل کا اقتباس کافی ہے:

’’حضرت مولانا کا آخری کارنامہ جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے، جامعہ عربیہ کا آغاز ہے۔ ۱۹۳۶ء میں جس جامعہ عربیہ کی حضرت نے ابتداکی تھی،پون صدی کے بعد مجھے تو اب یہ جامعہ بمعنی یونی ورسٹی نظر آتا ہے۔ کہاں محلے کی ایک دور افتادہ چھوٹی سی مسجد میں ایک ابتدائی مدرسہ اورکہاں یہ یونی ورسٹی نما جامعہ عربیہ۔ میں اس جامعہ کا سنگ بنیاد (۱۹۶۷ء) میں رکھنے والوں، اعلی حضرت استاذ کل حضرت ولی اللہ صاحب اور مہمان خصوصی حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب جیسے نابغہ روز گار علما کودیکھوں یا اپنے استاذ حضرت مولانا محمد چراغ رحمت اللہ علیہ کی خدا ترسی خلوص اور توکل پر غور کروں۔ میں اس جامعہ کی لب نہر اور لب شاہراہ (جی ٹی روڈ) کی عالیشان اور پر شکوہ عمارت کو دیکھوں یا اس میں دی جانے والی قال اللہ قال الرسول کی تعلیم اور اس کے جدید کمپوٹرائزڈ شعبے پر غور کروں یا حضرت صاحب مرحوم و مغفور کے پوتوں کی جوڑی کوچشم تصور میں لاؤں جو مجھے ہیروں کی جوڑی (نظر بد دور) نظر آتے ہیں۔ یا ان سینکڑوں طالبان اور تشنگان علم کا تصور کروں جو دور دراز علاقوں سے علم دین کی پیاس بجھانے کے لیے یہاں جمع ہوتے ہیں۔ مجھے تو جامعہ عربیہ کا ہر پہلو اپنی طرف کھینچتا اور متوجہ کرتا ہے کہ ’جا ایں جا است‘۔ پھر وہ مدرستہ البنات جو حوا کی بیٹیوں کی سیرتوں کی تعمیر میں کوشاں ہے، ہر لحاظ سے قابل قدر اور قابل ذکر اور قابل ستایش کاوش ہے۔ یہ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ کی طرف سے ایساصدقہ جاریہ ہے کہ جس کی توصیف الفاظ میں نہیں کی جاسکتی۔ حضرت کا یہ کارنامہ آپ کے تمام کارناموں پر فوقیت کا حامل نظر آتا ہے۔‘‘

بیان بھی ہفت زبان ہے۔ فارسی، عربی اور انگریزی کے الفاظ کا بے محابہ استعمال بیان کو کس قدر حسین بنا رہا ہے، دیکھنے اور پڑھنے کی چیز ہے۔ انگریزی زدہ اردو تو الٹر اماڈرن ڈراموں کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ اندازِ بیان اگر کہنے کی اجازت ہو تو اسے نوابانہ کہنا پڑے گا ۔ آخر ریاست کپور تھلہ کے مہتمم اعلیٰ (چیف سیکریٹری یا وزیر اعظم) کے فرزند اور we are seven میں سے واحد چوہدری، باقی چھ کے چھ بھائی تو عمر بھر سرکار کی نوکری کرتے رہے۔ نوکری بقول ان کے نہایت عزت اور دیانت داری سے کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تمام کے تمام جماعت کے رکن بنے۔ زمانے بھر کو جماعت میں شامل کرنے کی جد و جہد کرتے رہے۔ البتہ اپنی اولاد پر جماعت کے اثرات کے بارے میں کتاب میں مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ یہاں نوح کی اولاد کی مثال قائم رکھنا بھی تو سنتِ انبیاء ہے۔ کتاب میں بے شمار دوستوں اور بزرگوں کا ذکر ہے، مگر مشکل ہی کسی کے نام کے ساتھ تکلفاً ہی جناب یا صاحب لکھنا گوارا کیا۔ کتاب میں بیان کی ایک صریح غلطی تو ہم نے شروع میں ذکر کر دی ہے۔ مزید اغلاط کا ذکر کریں تو ساتھ مطالبہ کرنا پڑے گاکہ موجودہ ایڈیشن کو ادارہ واپس لے۔ اس لیے میں ساری اغلاط کا ذکر نہیں کروں گا۔ چند ایک کے ذکر پر اکتفا کروں گا۔ لیکن کتاب میں مشکل اسلوب بیان کے حوالے سے محاوروں کے بے محابہ استعمال کی چند مثالوں کو اولیت دے کرآگے چلیں گے۔

کتاب میں محاوروں کی بھر مار ہے۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا محاورہ رطب اللسان ہونا ہے۔ صفحہ نمبر ۲۵۸ پر تحریر ہے کہ’’ تقریر کے اختتام پر سامعین جہاں چوہدری محمد علی صاحب کے علم و فضل اور حضرت علامہ اقبال کے حیات بخش کلام کی تعریف میں رطب اللسان تھے، وہیں ایوبی حکومت کے جبر واستبداد پر نفرین کر رہے تھے۔‘‘ صفحہ نمبر ۳۱۵ پر ’’کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں توعام لوگوں کومیرے بارے میں رطب اللسان پائیں گے۔‘‘صفحہ نمبر ۳۱۲ پر ’’میں حتی الوسع لوگوں کے جائز کاموں میں مختلف محکموں اور تھانے کچہری میں جائز سفارش کر کے ان کے کام کروا دیتاتھا جس کی وجہ سے وہ مشکور ہو جاتے اوررطب اللسان رہتے تھے۔‘‘ خودستائی میں محاورہ کا یہ استعمال کمیاب ہی ہے۔ مہمان نوازی سے استفادہ (۱۰۲)، نیند کی آغوش میں چلے جانا (۲۰۲)، ’’میں نے باقاعدہ کرسی صدارت نہیں سنبھالی تھی اور فرش مسجد کو ترجیح دی تھی، اس لیے افسران نے غص بصر سے کام لیتے ہوئے مجوزہ لسٹ سے میرا نام حذف کردیا اوریوں میں گرفتار ہوتے ہوتے بچ نکلا‘‘، حکمت عملی سے استفادہ (۲۵۲)، پر تکلف دعوت عصرانہ سے استفادہ(۲۶۳)، تباہ شدہ مکانوں کے ملبے میں کہیں کہیں سیڑھیاںیا دوسری سخت جان دیواریں ایسی تھیں جو بمباری کے صدمے سے جانبرہوگئی تھی، محفوظ تھیں(۲۶۳)، ملک ایک بارپھرفوجی طالع آزما جنرل ضیا الحق کے چنگل میں پھنس گیا اور عوام کوایک بار پھر میرے ہم وطنو والا خطاب سننا پڑا۔ تفوبر تواے چرخ گردوں تفو (۲۸۴)۔ محاورے استعمال ہوئے مگر اسلوب بیان میں ثقالت بڑھ گئی معلوم ہوتی ہے اور موقع کے لحاظ سے مناسبت بھی کچھ کم ہی لگتی ہے۔ یہ اسلوب آج کے دور میں خاصا متروک سا ہے۔

اب ہم کتاب کے متن میں پائی جانے والی واقعاتی غلطیوں کی جانب آتے ہیں۔

چوہدری محمد اسلم صاحب نے کتاب کے صفحہ نمبر ۵۰ پر ایوب خانی دور کی بنیادی جمہوریتوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ بی ڈی ممبرز کی کل تعداد چالیس ہزار بیان کرتے ہیں، جب کہ شروع دن ہی سے یہ تعداد اسی ہزار رہی۔ ایوب اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی معرکے کے حوالے سے کتاب کے صفحہ نمبر ۵۴ پر لکھتے ہیں کہ

’’مادر ملت نے مرکزی قیادت اور پی ڈی ایم اور ان کے احباب و اعوان کے جلو میں پورے ملک کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کیا۔‘‘

جب کہ اس معرکے کے لیے اپوزیشن کا جو فورم تھا، اسے متحدہ حزب اختلاف (COP ) کہا جاتا تھا۔ پی ڈی ایم کی تشکیل تو فروری ۱۹۶۶ء میں ہونے والی نیشنل کانفرنس میں ہوئی تھی۔ جب کہ صدارتی انتخاب کا یہ معرکہ ۲۔جنوری ۱۹۶۵ء کو ہوا۔

صفحہ نمبر ۵۷ پر جناب چوہدری صاحب رقم طراز ہیں:

’’معاہدہ تاشقند کے چند ماہ بعد ایوب خان نے مسٹر بھٹو کو اپنی کابینہ سے نکال باہر کیا، لیکن اب ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ متحدہ اپوزیشن جو پہلے پی ڈی ایم کے نام سے منظم تھی اس میں مزید دو پارٹیاں شامل ہو گئیں اور اسے ڈی اے سی کا نام دے دیا گیا۔ اس طرح تمام اپوزیشن پارٹیاں ایوب خان کے خلاف متحد ہو گئیں۔ ادھر مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش کیس سامنے آیا۔ جس میں ایوب خان کے خلاف طاقت کے بل پر شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں انقلاب کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان ہی میں مولانا عبدالحمید بھاشانی نے حکومت کے خلاف گھیراؤ جلاؤ کا پروگرام لانچ کر رکھا تھا۔ بھٹو صاحب بھی وزارت سے علحدگی کے بعد خم ٹھونک کر ایوب خان کے خلاف میدانِ کارزار میں اتر آئے۔ ان حالات میں ایوب خان بالکل تنہا اور زچ ہو گئے۔ اس پر مزید اضافہ یہ ہوا کہ اپوزیشن نے آل پاکستان نیشنل کانفرنس منعقد کر کے ماحول کو ایوب خان کے خلاف مزید سرگرم کر دیا۔‘‘

یہاں واقعات کی ترتیب الٹ دی گئی ہے۔ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ فروری ۱۹۶۶ء میں نیشل کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں پی ڈی ایم (پاکستان تحریک جمہوریت)قائم ہوئی۔ یہ کانفرنس لاہور میں چوہدری محمد علی سابق وزیر اعظم پاکستان کی کوٹھی پر منعقد ہوئی۔ اسی کانفرنس میں جماعت کے ساہیوال سے صوبائی اسمبلی کے ممبر جناب راؤ خورشید علی خان نے گرما گرم تقریر کی اور بعد میں جماعت سے علحدگی اختیار کر لی تھی۔ ڈی اے سی (جمہوری مجلس عمل)اور مجیب کا منصوبہ اور بھاشانی کا جلاؤ گھیراؤ بعد کے واقعات ہیں۔ ان کے بعد تو ایوب خان نے گول میز کانفرنس بلوا کر مذاکرات کئے تھے۔

چوہدری صاحب کتاب کے صفحہ نمبر ۷۲ پر لکھتے ہیں کہ:

’’جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت نے بھی ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کو حکومت کے بگڑے ہوئے تیوروں اور لب و لہجے کی طرف توجہ دلائی اور انہیں آگاہ کیا کہ حکومت آپ کے درپئے آزار ہے اور یہ بھی کہ آپ کی جان خطرے میں ہے، لیکن ڈاکٹر نذیر احمد شہید پر احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا جذبہ مسلط تھا۔ اس لیے انہوں نے کسی مداہنت سے کام لینے یا امرِ بالمعروف اور نہیِ عن ا لمنکر سے اغماض برتنے سے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ کھر (غلام مصطفےٰ)صاحب کے اشارے پر انہیں کسی پولیس افسر نے دورانِ نمازِ مغرب شہید کر دیا۔ ‘‘

’’ڈاکٹر نذیر احمد شہید پر احقاق حق اور ابطال باطل کا جذبہ مسلط تھا‘‘ میں لفط مسلط تکلیف دہ ہے۔ بہر حال جماعت میں عزیمت اور رخصت کے دونوں نقطہ نظر موجود ہیں۔ چوہدری صاحب کا نقطہ نظر کچھ بھی ہو، لفظ ’’مسلط‘‘ زیادتی ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ ڈاکٹر صاحب کو دورانِ نمارِ مغرب کسی پولیس افسرنے شہید کر دیا، بالکل غلط اور خلافِ واقعات ہے۔ وقوعہ کا وقت بھی غلط ہے۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ان پر حملہ دوران نماز مغرب ہوا۔ ڈاکٹر نذیر شہید پر حملہ آور پولیس افسر نہیں تھا۔ قاتل ایک سپرنٹر سکوٹر پر سوار ہو کر آئے۔ ان میں سے ایک شاہنواز کو موقع پر اور دوسرے شخص کو بعد میں بطور اللہ وسایا شناخت کیا گیا۔ دونوں بستہ الف کے نامی گرامی بدمعاش تھے۔ وقوعہ ۸ جون ۱۹۷۲ء کو رات کے ساڑھے آٹھ بجے ہوا۔ ڈاکٹر صاحب ہسپتال جا کر رات کے نو بج کر پچاس منٹ پر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ حملہ آور پولیس ملازم نہیں تھا۔ البتہ ضیا ء الحق دور میں نامکمل تفتیش میں اس دور کے ڈیرہ غازی خان کے ایس پی قمرالزماں اور پولیس ملازمین شاہنواز کے ساتھ قتل کی سازش میں شریک ثابت ہوئے۔ جماعت اسلامی کے امیر صوبہ سید اسعد گیلانی قتل کیس میں باقاعدہ گواہ تھے۔ کیس میں بڑے ملزم قمرالزماں کا وقوعہ کے بعد گوجرانوالہ میں تبادلہ ہوا۔ وہ یہاں ایس پی کے طور پر کام کرتے رہے۔ یہ امکان ہو سکتا ہے کہ چوہدری محمد اسلم صاحب کی گوجرانوالہ تعیناتی سے پہلے یا دوران ملاقات رہی ہو۔ ڈاکٹر نذیر شہید قتل کیس کے بڑے ملزم کے طور پر قمرالزماں کو فراموش کر دینے میں بھول جانے کا امکان،حالات کے سیاق و سباق میں معتبر نظر نہیں آتا۔

کتاب کے صفحہ نمبر ۷۳ پر نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے کہ 

’’بھٹو صاحب کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی جو seal کر دی گئی۔ یہی FIRضیا الحق کے دور میں قتل کے مقدمے کی بنیاد بنی۔‘‘

ایف آئی آر seal نہیں ہوئی تھی، بلکہ کیس untraced file ہوا تھا۔

جناب چوہدری صاحب کتاب کے صفحہ نمبر ۹۸ پر پٹھانکوٹ میں ہونے والی تربیت گاہ میں اپنی شرکت اور اس میں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے درسِ قرآن کے ذکر میں لکھتے ہیں:

’’ابو صالح اصلاحی نے ان کے سامنے یہ سوال پیش کر دیا کہ آپ قرآن مجید کے اس مقام کی یوں تفسیر فرما رہے ہیں جب کہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب نے یوں فرمایا ہے۔ ان الفاظ کا سننا تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی طیش میں آگئے اور غصے میں لال پیلے ہو گئے اور جذبہِ جلال سے اس قدر مغلوب ہو ئے کہ بڑے جوش اور غضب ناک لہجے میں فرمایا، میں اس معاملے میں امام رازی، امام غزالی اور فلاں اور فلاں امام کو خاطر میں نہیں لاتا تم میرے سامنے مودودی کو پیش کرتے ہو؟
تربیت گاہ کے شرکا اس فرمان کو سن کر سناٹے میں آگئے اور ماحول خاصا کشیدہ اور سوگوار ہو گیا۔ سید صاحب موصوف نے بھی جو ساتھ والے کمرے میں نوشت و خواند میں مصروف تھے، مولانا امین احسن اصلاحی کا ’’شگفتہ تبصرہ‘‘سنا اور پی گئے اور ان کے لب شیریں سے گالیاں سن کر بھی بے مزہ نہ ہوئے۔‘‘

اصلاحی صاحب کے تبصرے پر سوگوار ہونا تو مبالغے اور غلو کے ذیل میں آ سکتا ہے مگر اس پر ’’لب شیریں سے گالیاں سن کر بھی بے مزہ نہ ہونے ‘‘کی پھبتی، نوے سالہ بزرگ اور گوجرانوالہ میں دینی اور جماعتی اور سیاسی حلقوں میں کوہ گراں کا سا وقار پانے والے شخص کے زیادہ ہی شایانِ شان ہو سکتا ہے۔

صفحہ ۸۰ پر لکھا گیا کہ :

’’بالآخر تیسری طاقت نے شب خون مار کر ۴ جولائی کو ملک پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔‘‘

صفحہ نمبر ۸۲ پر فرماتے ہیں:

’’پی این اے کے نمایاں رہنما ائر مارشل اصغر خان نے ایک خفیہ مکتوب کے ذریعے سے افواج پاکستان کو فوجی انقلاب برپا کرنے کی دعوت دی۔ ائر مارشل اصغر خان آس لگائے بیٹھے تھے کہ فوج انقلاب برپا کر کے اقتدار بطور سینئر عسکری قائد ان کے سپرد کر دے گی اور وہ آسانی سے مسند اقتدار پر براجمان ہو جائیں گے لیکن ’اے بسا آرزو کہ خاک شد‘ کے مصداق انہیں اس مکروہ سازش سے کوئی فائدہ نہ ہوا البتہ پی این اے سے غداری کا لیبل ضرور ان پر چسپاں ہو گیا۔‘‘

یہاں یہ سوال ہے کہ اس غاصبانہ مارشل لا میں خاکی وردی اور جرنیلی چھڑی تلے جماعت کے چار وزرا نے نو دس مہینے شامل ہو کر پی این اے کو مضبوط کیا اور کیا یہ غصب اقتدار میں شرکت نہیں تھی؟ اصغر خان پر چوہدری صاحب بہت بر ہم ہیں مگر جماعت کے فیصلوں پر بھی کچھ کہتے۔ جہاں تک ائر مارشل کے خط کا تعلق ہے، اس کے متن کو دیکھنا چاہیے۔ حقیقی صورت حال واضح ہو جائے گی۔

صفحہ ۸۸ پر ہے:

’’انتخابات کے انعقاد کا بہانہ بنا کر وزرا کو فارغ کر دیا۔‘‘

حالانکہ پی این اے کے وزرا انتخابات کے اعلان کے پیش نظر خود الگ ہوئے۔

جناب چوہدری محمد اسلم صاحب کتاب کے صفحہ ۹۸ پر فرماتے ہیں کہ میرے بعد مولانا عبیدا لرحمان جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ کے امیر ہوئے۔ حالانکہ چوہدری صاحب کے بعد امیر ضلع شیخ محمد انور صاحب ہوئے۔ وہ پانچ سال تک اس منصب پر فائز رہے۔ پھر مدنی صاحب کی باری آئی۔

صفحہ نمبر ۱۴۴ پر تحریر ہے کہ :

’’میرے آخری زمانہ امارت میں شہر میں ارکان جماعت کی تعداد ۵۵، ۶۰ کے قریب تھی۔‘‘

یہ تعداد کسی طرح درست نہیں۔ ارکان شہر کی تعداد ۴۰، ۳۵ تھی۔ چوہدری صاحب کا جملہ بھی انتہائی مہمل بلکہ بے معنی ہے۔ ۵۵، ۶۰کی تعداد بیان کرنا تو بیان کا ایک مسلمہ ڈھنگ ہے۔ اس کے ساتھ لفظ قریب لگا دینا بیان کو غیر یقینی پن سے دوچار کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ منشا در اصل اپنے بارے میں پائے جانے والے عام تاثر کا سدباب ہے۔ یہ جملہ بظاہر بڑا معصوم ہے، مگر حقیقت میں معصومیت سے مکمل عاری نظر آتا ہے۔یہاں یہ بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ بیس لاکھ کی آبادی کے شہر میں ۵۵ تا ۶۰ ارکان کی کیا حیثیت ہے۔ ضلعی اور شہری جماعت پر تیس سال کا ہمہ اقتدار جماعتی توسیع میں اتنا ہی ساز گار ہوا، زمین بنجر تھی یا حضرت کاشتکار ہی کچھ ایسے تھے۔

صفحہ مذکورہ پر ہی خالد محمود قریشی کو ایڈووکیٹ قرار دیا گیا ہے، حالانکہ وہ بی اے بھی نہ کر سکے۔ وہ ہمیشہ سے کاشتکاری سے منسلک ہیں۔ البتہ ان کے بڑے بھائی منور حسین ہاشمی وکالت کر رہے ہیں۔

صفحہ نمبر ۱۵۹ پر مولانا امین احسن اصلاحی کے داماد نعمان شبلی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے اسسٹنٹ انجینئر تھے۔ جماعت کے رکن تھے۔ حکومت نے انہیں جماعت کی رکنیت یا ملازمت میں سے ایک رکھنے کانوٹس دیا۔ انہوں نے ملازمت سے دستبرداری اختیار کر لی اوررکنیت کو ترجیح دی۔ چوہدری صاحب نعمان شبلی صاحب کی عزیمت کی تحسین فرماتے ہیں، لیکن منیر احمد صاحب کے سلسلے میں ان کا طرز عمل اس کے بالکل بر عکس تھا۔ ہم یہاں منیر صاحب کے قصے کو درج کر دینا بہت متعلقہ سمجھتے ہیں۔

ان کے اکتیس سالہ دور امارتِ ضلع کے دوران، شہر گوجرانوالہ کے کسی با صلاحیت رکن کو سکون میسر نہ آیا۔ جو بھی اپنی کارکردگی کی بنا پر نمایاں ہوا تو چوہدری صاحب کو کھٹکنے لگا۔ آخر کار اسے کسی نہ کسی طرح ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہوئے۔ اس دور میں شہری جماعت کے ارکان کی تعداد بیس تیس کے لگ بھگ رہی۔ ۱۹۸۳ء میں تعداد پینتیس تھی۔ ۱۹۷۰ء میں منیر احمد صاحب امیر شہر تھے۔ نوجوان، فعال اور بلا کے محنتی۔ ایم اے عربی تھے۔ صنعت کارانہ پس منظر کو چھوڑ کر سکول کے مدرس ہو گئے۔ ملت ہائی سکول کی انجمن کے چوہدی محمد اسلم صاحب صدر تھے۔ منیر احمد صاحب سکول میں استاد تھے۔ تدریس اور امارتِ شہر کی دونوں ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے۔ شہری جماعت میں اس حیثیت سے بڑے مقبول ہو رہے تھے۔ پڑھے لکھے تو تھے ہی مگر حقیقی علمی ذوق رکھتے تھے۔ عربی زبان اور عربی علوم، خاص طور پر کتبِ حدیث پر خاصا درک رکھتے تھے۔ اس طرح امیر ضلع کے لیے صورت حال کافی پریشانی کا باعث بن رہی تھی۔ امیر ضلع کا استصواب دو سال کے بعد ہوتا ہے۔ ضلع میں گوجرانوالہ کی شہری جماعت کے ارکان کی تعداد بڑی موثر تھی۔ ضلع کے کل ارکان پچاس ساٹھ ہو گی۔ منیر احمد صاحب میں ضلعی سطح تک متبادل قیادت کے طور پر ابھرنے کا بڑا امکان نظر آتا تھا۔ صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے امیر ضلع کو کوئی موقع کوشش کے باوجود ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ ۱۹۷۲ء میں بھٹو صاحب نے پرائیویٹ سکولوں کو قومیا لیا تو ملت ہائی سکول بھی سرکار کے کنٹرول میں چلا گیا۔ اس مرحلے میں جماعت کے ارکان اساتذہ کے لیے مشکل صورت کے امکانات پیدا ہوئے۔ سرکاری تحویل میں آنے والے اسکول کے استاد کے طور پر جماعت کی رکنیت رکھنا ایک الجھن ہو سکتی تھی۔ مرکز جماعت کی طرف سے ایک سرکلر کے ذریعے ایسے مدرس ارکان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے روز گار کے بارے میں پریشانی سے بچنے کے لیے جماعت کی رکنیت سے الگ ہو جائیں۔ اس سرکلر نے چوہدری محمد اسلم صاحب کو موقع فراہم کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے منیر صاحب سے جماعت کی رکنیت ترک کر دینے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ منیر احمد صاحب نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ روز گار پر جماعت سے اپنی وابستگی کو ترجیح دیں گے۔ ان کے لیے سکول کی ملازمت چھین لی گئی تو کوئی پریشانی نہیں ہو گی، وہ اپنی روزی کئی دیگر طریقوں سے حاصل کر لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جماعت کی خدمت ان کا مشن ہے وہ اسے ترک کرنا نہیں چاہتے۔ اسکول کی ملازمت قربان کی جاسکتی ہے۔ ہوس و عشق کا یہ معرکہ گرم ہوتا رہا۔ نامہ و پیغام سے خطوط کا ایک پلندہ تیار ہو گیا۔ بالائی نظم تک بات پہنچی۔ امیر صوبہ، امیر ضلع اور امیر شہر کی باہم آویزش میں اپنے آپ کو جلد فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں سمجھتے ہوں گے۔ ایسی صورت میں معاملے کو لٹکانے کی حکمت عملی ہمیشہ موثر ہوا کرتی ہے۔ صورت حال میں ایک پیچیدگی بھی ہے۔ امیر ضلع صوبائی اور مرکزی شوریٰ کے رکن بھی تھے اور امیر صوبہ سے ان کے روابط امیر شہر کے مقابلے پر کہیں موثر تھے۔ ادھر امیر شہر اور امیر ضلع کی آویزش مقامی ماحول کو خراب کر رہی تھی۔ امیر ضلع پیچھے ہٹتے تو ان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا۔ امیر شہر اپنے موقف کی صداقت پر قائم رہنے پر بوجوہ مجبور تھے۔ ضلعی شوریٰ کے لوگ ان دو بڑوں کی لڑائی میں تماشائی سے زیادہ رول ادا کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ کوئی بزرگ ایسا نہ تھا جو جماعتی مصالح کے تحت ہی سلجھاؤ کے لیے کچھ کر سکتا۔ یہ تناؤ دن بدن تلخ ہوتا جا رہا تھا۔ اس مرحلہ میں منیر احمد صاحب نے امیرِ جماعت اسلامی پاکستان جناب میاں طفیل محمد کو ایک خط لکھا۔ خط میں انہوں نے امیرصوبہ کی جانب سے معاملے کو موخر رکھنے کے بار ے میں اپنے احساسات کا کھل کر اظہار کیا۔ اس میں انہوں نے اس بد گمانی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ امیر صوبہ سے ان کو انصاف کی توقع نہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ بے لاگ انصاف کی توقع تو وہ امیر جماعت سے بھی نہیں رکھتے لیکن آخر معاملہ کسی طور پر طے تو ہونا ہی ہے۔

یہ صورت حال امیر ضلع صاحب کے لیے بڑی ہی ساز گار ہو گئی۔ امیر جماعت نے فیصلہ فرمایا۔ انہوں نے قرار دیا کہ متنازعہ امر میں موقف منیر احمد صاحب (امیر شہر)کا درست ہے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب (امیر ضلع) کا موقف غلط ہے۔ لیکن امیر شہرنے امیر صوبہ پر ہی نہیں امیر جماعت پر بھی بد اعتمادی کا اظہار کر کے نظم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس طرح امیرِ شہر کو معذرت کے لیے موقع دیا گیا۔ فیصلہ میں لکھا گیا کہ اگر امیر شہر نے معذرت کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معذرت نہ کی تو ان کے خلاف نظم کی خلاف ورزی کی بنا پر کارروائی ہو گی۔ امیر شہر نے معذرت نہ کی اور نتیجہ کے طور پر نظم کی خلاف ورزی پر جماعت کی بنیادی رکنیت سے فارغ کر دئیے گئے۔ اس طرح امیر ضلع کی راہ کا کانٹا چن دیا گیا۔

امیر ضلع کی راہ صاف ہو گئی۔ نقصان کس کا ہوا؟ جماعت کا۔ امیر ضلع اور رکنیت سے فارغ کئے جانے والے امیر شہر، دونوں فائدے میں رہے۔ دونوں کی انا کی تسکین ہوئی۔ امیر ضلع کا منصب محفوظ رہا۔ ان کی انا قائم رہی۔ امیر شہر کو پرائیویٹ کارو بار کا موقع ملا اور وہ گوجرانوالہ سے لاہور منتقل ہو کر پبلشنگ کے کام میں یکسو ہو گئے لاکھوں میں کھیلتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ بیس پچیس ارکان کی جماعت کو اتنا فعال اور با صلاحیت امیر شہر، قدیم و جدید تعلیم سے آراستہ، ایک طویل مدت تک میسر نہ آیا۔

کتاب کے صفحہ نمبر ۱۵۶ اور ۱۵۷ پر ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں چوہدری صاحب کے قومی اسمبلی کے امیدوار بننے، بیٹھنے اور پھر کھڑے ہونے کی تفصیل بیان کی ہے۔ میں اس اٹھک بیٹھک کا گواہ ہوں۔ چوہدری صاحب نے نظم کی اطاعت کے حوالے سے اپنے طرز عمل کو کھل کر، خود تعریفی کے انداز میں بیان کیا ہے۔ کارکنوں کے نظم کے خلاف جذبات کا ذکر بھی کیا اور ساتھ ہی راولپنڈی سے مولا نا فتح محمد صاحب کی جانب سے ائر مارشل اصغر خان کے حق میں بیٹھنے سے گریز کے لیے ضلعی شوریٰ کی قرارداد کو نہایت دانشمندی قرار دیا ہے۔ اپنی اطاعت کا چرچا اور مولانا فتح محمد کی ضلعی شوریٰ کی مدد سے عدم اطاعت کو دانشمندی قرار دے کر قاری کو کس مخمصے میں ڈال رہے ہیں، اس کا جواب تو ادارہِ معارف اسلامی کے ڈائریکٹر جناب حافظ ادریس ہی دے سکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ قاضی حسین احمد صاحب نے حافظ صاحب کو امیر صوبہ بنانے کے لیے مولانا فتح محمدکو امارت صوبہ سے مستعفی ہونے کے لیے مجبور کردیا تھا، حالانکہ ان کی مدتِ تقرری باقی تھی۔

کتاب کے صفحہ نمبر ۱۶۲ پر لکھتے ہیں کہ ملک محمد رفیق صاحب جوانی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ میں ملک صاحب کے جنازے میں شریک ہواتھا۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کو جنازے میں شریک نہیں دیکھا۔ ملک صاحب کی وفاتِ حسرت آیات کو جوانی کی موت کہا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ چوہدری صاحب بانوے سال کی عمر میں بھی جوان ہیں۔ میرے پاس ان کو جوان قرار دینے کا جواز اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ ہر سال گرمیوں میں میرے والد مرحوم سے ’’ٹھنڈک‘‘ بنوایا کرتے تھے۔ شاید اس معاملے میں ملک رفیق صاحب سے ان کی کوئی قدر مشترک ہو۔ بہر حال ملک رفیق صاحب کافی بزرگی کو پہنچ کر فوت ہوئے۔ میری ان سے نیاز مندی رہی۔ بڑے پیار سے ملتے تھے۔ ان کے جنازے میں شیخ احمد اللہ ظفر صاحب ملے۔ وہ بہت ضعیف ہو چکے تھے۔ مجھے پہچان کر فرمانے لگے کہ کبھی کبھی ملنے کے لیے آ جایا کرو۔

کتاب میں صفحہ نمبر ۱۶۳ پر خالد احمد شیخ کو پروفیسر لکھاگیا ہے۔ حالانکہ ان کے بھائی زاہد احمد شیخ پروفیسر ہیں۔

صفحہ نمبر ۱۸۸ پر transportation for life کا ترجمہ ’سزائے موت‘ لکھا گیا ہے جب کہ عمر قید ہونا چاہیے۔ 

چوہدری صاحب اپنے کہنے کے مطابق، رشوت کے مخالف رہے اور ہمیشہ اس سے بچتے رہے۔ سفارش اسی طرح کی چیزہے۔ دونوں میں فرق نہیں۔ سفارش کرتے رہے۔ یہاں تک کے عدالتوں کے ججوں کو بھی سفارش کرنے کے کئی واقعات کتاب میں درج کئے ہیں۔

صفحہ ۲۷۴ پر لکھا ہے کہ :

’’تمیز الدین خان صدر دستور سازاسمبلی نے دستورسازاسمبلی توڑنے کے حکم کو چیلنج کیا لیکن سپریم کورٹ نے ان کی استدعامستردکردی۔‘‘

یادرہے کہ اس زمانے میں سپریم کورٹ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ فیڈرل کورٹ تھی۔

بھول چوک بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ رفیق تارڑ اورائر مارشل اصغر خان کے حوالے سے چوہدری صاحب کے بیان میں ان کی پسند ناپسند غالب نظر آتی ہے۔ جماعت اسلامی شہر گوجرانوالہ کے نمایاں ارکان کے ذکر میں بھی ان کی بھول چوک پسند نا پسند میں پھنسی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ملت ہائی سکول کا کتاب میں دو دفعہ ذکر کیا۔ اسکول کی انتظامی مجلس کے خود صدر اور ملک امین کے سیکریٹری ہونے کا کئی دفعہ بطور اہتمام ذکر کیا۔ 

ملت ہائی سکول کے اجرا کے مرحلے میں چوہدری محمد اسلم صاحب نے شیخ احمد اللہ ظفر (ناظم دفتر جماعت شہر گوجرانوالہ) کی وساطت سے شیخ عبد اللطیف صاحب کو واہ کینٹ سے گوجرانوالہ واپس بلوا کر سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔ انہوں نے جماعت کی رکنیت بھی اختیار کی۔ ایک سال کے بعد امیر حلقہ (ڈویژن) جناب بہاول خان ناگرہ کو اسکول کے معائینہ کے لیے دعوت دی۔ ناگرہ صاحب محکمہ تعلیم کے اونچے منصب سے ریٹائر شدہ تھے۔ انہوں نے اسکول کا تفصیلی جائزہ لے کر اسکول کی کار کردگی کو اطمینان بخش قرار دیا۔ اس پر چوہدری محمد اسلم صاحب خوش ہونے کے بجائے برہم ہوئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ، ناگرہ صاحب ہم تو چاہتے تھے کہ آپ ایسی رپورٹ دیں کہ اسکول والوں کی گردنیں ناپنے کا موقع ملتا۔

اس کے بعد شیخ صاحب سکول کے ہیڈ ماسٹر رہتے؟وہ خاموشی سے الگ ہو گئے اور اپنا اسکول (تعمیر نو مسلم ہائی اسکول) کھول لیا، لیکن ان کا ذکر نہیں کیا۔ وہ جماعت کے رکن بھی بنے اور ۱۹۶۸ء میں امیر شہر بھی ہوئے۔ ان کا ذکر بالکل بھول گئے ہیں۔ حکیم نذیر احمد صاحب شہر کے بڑے معروف و مستند طبیب تھے۔ نہایت فاضل عالم دین بھی تھے۔ اکثر ہفتہ وار اجتماع میں درس قرآن ارشاد فرماتے تھے۔ جماعت کے باقاعدہ رکن تھے۔ اہلحدیث مسلک سے تعلق بھی تھا۔ ڈاکٹر منظور الحق ڈار بھی اہم رکن رہے۔ شہری و ضلعی شوریٰ کے رکن رہے۔ ان کا تذکرہ بھی فراموش ہوا ہے۔ معلوم یوں ہوتا ہے کہ اختلاف کرنے والے شخص کو بھولنے میں چوہدری صاحب زیادہ مستعد واقع ہوئے ہیں۔

شیخ عبدالرشید امرتسر جماعت کے رکن تھے۔ محکمہ ڈاکخانہ جات میں ملازم تھے۔ جماعت نے ارکان جماعت کے لیے سرکاری ملازمت کو ممنوع قرار دیا تو ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ قیام پاکستان کے بعد گوجرانوالہ شہر منتقل ہو گئے۔ گوجرانوالہ کے ارکان میں سینئر ترین رکن ہوں گے۔ طویل عرصہ جماعت کے ناظم مالیات رہے۔ بڑے نرم خو مگر صاحبِ مطالعہ تھے۔ گوجرانوالہ میں مولانا محمد چراغ کے علاوہ ان کے پاس ماہنامہ ترجمان القرآن کی مکمل فائل موجود تھی۔ مولانا چراغ رکن نہیں تھے۔ شیخ صاحب رکن جماعت تھے۔ چوہدری صاحب ان کا ذکر بھی بھول گئے ہیں۔

چوہدری محمد اسلم صاحب نے ۱۹۵۱ء کے صوبائی انتخابات میں پنڈی بھٹیاں کے حلقے سے انتخاب لڑا۔ حافظ آباد کی نشست سے جماعت کے ایک اور امید وار بھی تھے۔ یہ محکمہ ایکسائز میں انسکپٹرتھے۔ علیگڑھ یونیورسٹی سے ایم اے ایل ایل بی تھے۔ مولانا کے حکم پر انہوں نے چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر ایکسائز انسپکٹری سے استعفا دے کر انتخاب لڑا۔ مولانا مودودی نے ان کے انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ بعد میں گوجرانوالہ منتقل ہوئے۔ گورنمنٹ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے وائس پرنسپل کے طور پر ریٹائرہوئے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کے محلہ دارتھے۔ جس زمانے میں جماعت کا ہفت روزہ اجتماع دال بازار کی مسجد اہلحدیث گوجرانوالہ میں ہواکرتاتھاتواسرار صاحب اجتماع میں حالات حاضرہ پر تبصرہ کیا کرتے تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف رہے۔ حلقہ ادب اسلامی کے مرکزی رہنماؤں میں سے تھے۔ چوہدری صاحب سے ان کا ذکر بھی فراموش ہوا ہے۔

جناب چوہدری محمد اسلم صاحب کتاب کے صفحہ نمبر ۳۱۵ پر دعویٰ کرتے ہیں:

’’جن پندرہ دیہات میں میں نے کاشت پٹے پر کی ہے، ان کے نام میرے پاس محفوظ ہیں۔ میرا یہ دعویٰ ہے اگر کوئی صاحب ان دیہات میں سے کسی گاؤں میں چلے جائیں توعام لوگوں کومیرے بارے میں رطب اللسان پائیں گے۔ میں نے زائد ادائیگی کر دی لیکن کبھی کسی سے مالی جھگڑا نہیں کیا، کسی کا حق نہیں مارا۔ مزدوروں کو اجرت دوسرے لوگوں سے ہمیشہ سوائی ڈیوڑھی دی اور اجرت کی ادائیگی میں کبھی تاخیر نہیں کی۔ ان پندرہ سولہ دیہات میں کوئی شخص میرے معاملات کی شکایت کرنے والاآپ کو یا کسی دوسرے شخص کو نہیں ملے گا۔ انشا ء اللہ۔‘‘

مسلمان کی شان عجزوانکساری میں ہے ۔وہ ہمیشہ اپنی تقصیر کا اعتراف کرتا ہے ۔ دعویٰ عجز و انکساری کی نفی ہے۔ بہرحال چوہدری صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے توسوال یہ ہے کہ اس کتاب میں اس دعوے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ دعویٰ کا کسی نے مطالبہ کیا؟ کیا بغیر مطالبے کے قسم اٹھانے کے بارے میں حدیث رسول واضح نہیں؟ پھر اس دعوے میں پندرہ دیہات کی تخصیص کیوں؟ دعوے کی ضرورت کسی وجہ سے مان لی جائے تو سب سے پہلے تو جماعتی ساتھیوں کے ہاں دعویٰ کیا جانا چاہیے تھا۔ ۱۹۵۲ء سے ۱۹۸۲ء تک جن پر حکمرانی کی ان سے حسن معاملت کا دعویٰ ہونا چاہیے تھا۔ پھر ان کے ساتھ معاملات بھی رہے۔ چوہدری احمد سعید صاحب اور چوہدری اسلم صاحب کے مابین تنازعے میں تو میرے والد صاحب ثالث رہے۔ اس کتاب کے ایک دیگر باب میں بہت سے دوستوں کے بارے میں اپنی معلومات درج کر چکا ہوں۔ چوہدری صاحب کا طویل عرصے تک ذمہ دارانہ حیثیت میں رہنا اور اس میں ان سے کسی کو شکایت کا نہ ہونا ایک نا ممکن کام ہے۔ کوئی شخص بشری کمزوریوں سے مبرا نہیں۔ لہٰذا دعویٰ کسی درجے میں بھی مستحب نہیں ہو سکتا۔ بہرحال چوہدری صاحب کو سیٹلائٹ ٹاؤن سے لے کر کالی صوبہ، چناب سے لے کر کھوڑی تک، کون نہیں جانتا، مگر جماعت چھوڑی، شہر چھوڑا، وہ بھی اس طرح کہ نام و نشان تک نہ رہے؟ ضلع بھر کے محلے، گاؤں، درودیوار، سڑکیں اور پکڈنڈیاں بھی پوچھتی ہیں کہ یہ فراق کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔ آپ کو جماعت سے کسی نے نکالا تو نہیں تھا، خودہی استعفا دیا تو کیوں دیا؟اگر کسی وجہ سے ایسا ضروری تھا تو سیٹلائٹ ٹاؤن کا پیرگودڑی کے قریب والا مکان کیوں فروخت کیا؟ پھر جتنی دیر شہر میں رہے، شہریوں سے ناطہ توڑ کررہے۔ آخر کار گوجرانوالہ شہر پر ۱۹۵۲ء سے لے کر ۱۹۸۲ء تک حکمرانی کرنے کے بعد، اس شہر کے باسیوں سے کیا قصور ہوا کہ آپ لاہور سدھار گئے۔ 

اپنی تحریکی یاد داشتوں کے پیش لفظ میں آپ نے اپنے آپ کو سابق امیر جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ و رکن مرکزی مجلس شوریٰ تحریر کیا ہے۔ گوجرانوالہ کے ارکان آپ کو سابق کرنے والے تو نہ تھے۔ آپ سابق کیوں ہوئے؟ آپ نے رکنیت سے استعفا دیا تو آپ ذہنی طور پر اس وقت بھی جوان و توانا تھے۔ مقامی شوریٰ میں میں نے خود چوہدری صاحب کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر آپ خود پیچھے نہ ہٹتے، لاہور کو گلے نہ لگاتے تو کم از کم بیس سال اور بھی امیر ضلع رہ سکتے تھے۔ آپ مرد میدان تھے۔ شیخ محمد انور، عبید الرحمان مدنی، امان اللہ بٹ، بلال قدرت بٹ اور عبیداللہ گوہر کی آپ کے مقابلے پر کیا حیثیت ! ان یادداشتوں کے لکھنے کے بجائے آپ اپنی تگ و تاز میں مصروف ہوتے۔ یادداشتیں تو اس وقت لکھی جاتی ہیں جب کوئی کام نہ رہے۔ اگر یادداشتوں کا لکھنا پھر بھی ضروری ہوتا تو اس میں جس بھول چوک کی نشاندہی مجھ جیسے کوتاہ شخص نے کی ہے، یہ بھول چوک کبھی واقع نہ ہوتی۔ 

میں اپنے اسکول کے زمانے سے چوہدری صاحب کی جہدِ مسلسل کا شاہد و مداح ہوں۔ آپ نے کتاب میں اس جدو جہد کے بارے میں بہت کچھ بالکل سچ سچ لکھا ہے۔ لیکن یہ سوال تشنہ جواب کیوں چھوڑ دیا۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ آپ شہر کا وقار تھے۔ آپ جیسی قد آور شخصیت شہر سے خاموشی کے ساتھ رخصت ہو گئی تو کیوں؟چلیے شہر چھوڑنا ہی تھا تو کسی کو بتائے بغیر؟یہ جواب تو آپ کو ہی دینا ہو گا کہ یہ شہر کن لوگوں کے ہاتھوں دے کر آپ لاہور کے ہو گئے؟ یہ کیوں ہوا؟کیسے ہوا؟میں اس کا جواب کس سے لوں؟ 

چوہدری محمد اسلم صاحب کی طویل اور بھر پور تحریکی زندگی یقیناًتحریک کی امانت ہے۔ اسے بھرپور طور پر منتقل کیا جاتا توادارہ معارف اسلامی کی خدمت ہوتی۔ افسوس سے کہنا پڑے گاکہ بظاہر کتاب میں ادھورے پن کا اہتمام کرنے کے لیے واقعتا بڑی محنت کی گئی ہے۔ چوہدری اسلم صاحب کی کئی مہینوں کی محنت شاقہ اور ادارہ کے رفقا کے تجربہ اور محنت کا نتیجہ ادھورے پن کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں تکرار بھی کافی زیادہ کھٹکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تکرار کو قرآن کے اسلوب کے طور پر اختیار کیا گیا ہو۔ البتہ ادھورے پن کا کوئی جواز میں پوری ذہنی استعداد لگاکر بھی تلاش نہیں کر سکا۔ چوہدری صاحب نے کتاب میں ضلعی امارت ۱۹۵۲ء سے ۱۹۸۲ء کے دور پر کتاب کو مرکوز رکھا ہے۔ زمانہ رکنیت کاتذکرہ برائے نام ہے۔ مولانامودودی سے کیسے متاثر ہوئے؟ اس کی تفصیل کی کتاب میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ ۱۹۸۲ء کے بعد جماعت سے مستعفی ہوئے۔ استعفا کیوں دیا؟ یاد داشتوں سے محو ہے۔ کتاب میں یہ خلا بہت کھٹکتا ہے۔ محترم چوہدری صاحب بھول گئے یا انہوں نے یہ خلا ارادی طور پر رکھا۔ اس سوال پر چوہدری صاحب کے دور کے لوگ، اپنی معلومات اور ذہن کے مطابق رائے قائم کر سکتے ہیں۔ مگر ادارہ معارف اسلامی کے ذمہ داران بھی اس خلا کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑے گاکہ کچھ تو دال میں کالا ہے جو اتنی پردہ داری کااہتمام ہے۔ 

استعفا کے بعد ربع صدی گذارنے کے بعدیاد داشتیں لکھی گئی ہیں۔ ربع صدی کی یادداشتیں بالکل غائب ہیں۔ لاہور کے لیے گوجرانوالہ کو داغ مفارقت دینے کے باوجود گوجرانوالہ کے تحریکی اور سیاسی لوگ ان کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں اٹھنے بیٹھنے کے مرحلے میں ہی کارکن جذباتی نہیں تھے بلکہ اب بھی متجسس ہیں۔ کتاب اس پہلو سے بالکل ادھوری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ دوبارہ جماعت کے رکن بن گئے ہیں۔ ان کا جماعت سے استعفا کاسوال ابھی محتاجِ جواب ہے لیکن دوبارہ رکن بننا خوشی کا باعث ہونے کے باوجود تجسس کا باعث ہو گا۔ سنا ہے آج کل امریکہ میں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد امریکہ یاترا ضروری ہوگئی ہوگی۔ یقیناًجماعت کے لیے امریکہ سے تارے توڑ کرلانے گئے ہوں گے۔ 

ادھوری کہانی کو نیاز مند لوگوں کو مکمل کرنے کے لیے جس تجسس میں مبتلاکیا گیا ہے وہ نیاز مندوں کی سخت آزمائش ہے۔ مولف اور ادارہ نے تو شاید ساری محنت اور صلاحیت کتاب میں ادھورے پن کو قائم کرنے پر صرف کی ہے۔ کتاب میں مہمل اور غیر یقیناًپن اسی لیے اختیار کیا گیا ہے۔ میں یہاں تک کہوں گاکہ کتاب میں بیان کی غلطیاں بھی دفاعی نوعیت کی اور ارادی ہیں۔ آخر میں پندرہ دیہات میں کاشتکاری کے حوالے سے اپنی معاملت کے شفاف ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے، یہ دعویٰ بھی پھیلی ہوئی ایک خاص کہانی کی صفائی کرنے کے لیے ہے۔ اس کہانی کا تانا بانا ۱۹۸۲ء کے بعد جماعت کی رکنیت سے استعفا سے جا کر ملتا ہے۔ حال ہی میں جماعت کی دوبارہ رکنیت کا حصول بھی صفائی کی اسی مہم کا حصہ ہے۔ در اصل صورت حال یہ تھی کہ گوجرانوالہ کے شہری اور جماعت کے لوگ آج بھی چوہدری صاحب کو بد قسمتی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے بری الذمہ خیال کرتے ہیں۔ چوہدری صاحب کے دو بیٹوں کے بارے میں گناہ گارہونے کاتاثر تو بہت گہراہے، مگر چوہدری صاحب کو لوگ بے قصور خیال کرتے ہیں۔ اس میں چوہدری صاحب کے بارے میں عام پایا جانے والا حسن ظن بڑا طاقت ور ہے۔ مگر حقائق میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ ماننا پڑے گاکہ دولت کے سیلاب کے سامنے چوہدری صاحب کی بھاری بھرکم شخصیت ٹھہرنہ سکی۔ نتیجتاً ڈسکہ تحصیل کے گاؤں میں چوہدری صاحب نے اپنے حق میں تحصیل کی تاریخ کا سب سے بڑا بیع نامہ رجسٹر کروایا۔ یہ بیع نامہ چوہدری صاحب نے خود تحریر و تکمیل کرایا۔ اس میں شناخت کنندہ وکیل صاحب ہماری بار کے ممبر اور بقید حیات ہیں۔ جب سیلاب زر کا پس منظر جرائم کے انسدادی ادراوں کے ہاتھ لگا تو چوہدری صاحب نے اپنا دامن بچایا اور نہ جماعت کو بچانے کی کوشش کی۔ البتہ جماعت کی رکنیت سے استعفا دے دیا۔ اپنے بچوں کا پورا بچاؤ کیا۔ جب لوگ عمومی طور پر صورت حال کو بھول گئے تو پھر دوبارہ رکنیت بھی حاصل کر لی اور اپنی یادداشتیں بھی لکھنے بیٹھ گئے۔ یاداشتوں میں بول بھلیوں کا سا انداز اختیار کر کے پوتر ہوکر نکلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھلکڑوں کا سا اسلوب ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے جناب آصف علی زرداری نے سوس کورٹ میں اپنے پاگل ہونے کی کہانی ثابت کی۔ 

ادارہ معارف اسلامی چوہدری صاحب کی اس شعوری کاوش میں، ان کا ہر طرح سے معاون ہوا ہے۔ یہ معاونت شعوری اور غیر شعوری دونوں طرح کی ہو سکتی ہے۔ زیادہ امکان غیر شعوری کا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جماعت کے اندر شعور کا امکان کافی کم ہوتا ہے۔ البتہ جناب پروفیسر ظفر حجازی صاحب کی معاونت کا امکان کم ہے۔ وہ بیچارے تو اپنی شرافت کی وجہ سے whitener کے طور پر بھی کس حد تک کام آ رہے ہیں، تحقیق کا موضوع ہو سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب، ذہانت و مہارت کا کمال، ہوش و حواس کو عاجز کر دینے کے لیے کافی معلوم ہوتا ہے۔ اس غرض کے لیے انتہائی اونچی درجے کی اجتہادی بصیرت سے کام لیا گیا ہے ۔ چوہدری صاحب کی نسل اس بصیرت کی وارث بنی۔ انہوں نے اس بصیرت کو برؤے کار لا کر، ہیروئن کی سمگلنگ کو اسلامیانے کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ میں اس کار نامے پر ریاست کپور تھلہ کے مقتدر و مقدس خون کو آنئدہ کئی نسلوں کی جانب سے داد و تحسین کا حقدار قرار دیتا ہوں۔ باقی رہی مکافات عمل تو اس پرکسی کا اختیار ہے اور نہ ہی انسان کبھی اس کو سمجھ سکاہے۔

تحریک کے لیے چوہدری صاحب کی لگن، محنت اور جانفشانی سے انکار کرنا بھی چاہیں تو انہیں جاننے والا انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ہمیشہ ذہانت اور جرات مندی سے بھی خوب خوب کام لیا۔ بلا شبہہ انہوں نے محنت و جانفشانی میں کارکن کی ادنیٰ سے ادنیٰ سطح تک جا کر بھی کام کیا۔ البتہ ایک سوال بڑا اہم ہے کہ طویل ترین کیریر میں انہوں نے پورے ضلع میں کسی ایک بھی موثر شخص کوجماعت میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ وہ برابری میں اپنے قریب کی سطح کی کسی شخصیت کو جماعت میں لا سکے۔ اپنی کتاب میں انہوں نے بے شمار بڑے اور چھوٹے لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے ذکر کافائدہ۔ یہ لوگ جماعت میں نہ آئیں، دیگرجماعتوں میں چلے جائیں، یا باہربیٹھ کر صرف سرمایہ فراہم کرتے رہیں۔ سرمایہ فراہم کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے ذہن کو ہاتھ سے جانے نہ دیں، تربیت جمعیت سے پائیں اور دنیاوی داری میں کھو جائیں۔ سوچنا چاہیے، تیس سال کی جانفشانی میں کچھ تو کمی ہے، بے شک چوہدری اسلم صاحب جیسا با صلاحیت اور جذبے والا شخص تیس سال کے بعد بھی آج تک کوئی نہیں آیا۔ ساٹھ سال کی تاریخ کا حاصل ضرب نکالنے کی ضرورت ہے۔ چوہدری اسلم صاحب کو اپنی یاد داشتوں میں یہ حاصل ضرب پیش کرنا چاہیے تھا۔

کیوں ہجوم ہے شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ ساقی ہے مرد خلیق

میرا مطلب یہ ہے کہ تیس تیس سال منصب داری کے اہتمام والا نظام ہمیشہ قحط الرجالی کا ذریعہ بنے گا۔ساٹھ سال کا حاضل ضرب یہ ہے کہ چوہدری محمد اسلم صاحب نے جماعت کی تنظیمی وسعت کو پورے اہتمام سے روکا۔ مقصود امیر ضلع رہ کر اپنے سیاسی مقاصدکے حصول کے لیے جماعتی وسائل کو خوب خوب بروئے کار لانا تھا۔ وہ اپنے اس طرزعمل پر کار بندرہے۔ شہر میں چوہدری صاحب کے سیاسی اثرات پھیلتے رہے۔ یہاں تک کہ قدرت نے سب کچھ سمیٹ دیا اوران کو امار ت ضلع کے منصب سے پیچھے ہٹنے پر مجبورہونا پڑا۔ ان کو کسی نے مجبور نہ کیا۔ وہ خود ہی مجبورہوئے۔ در اصل مکافات عمل نے اپنا آپ دکھا دیا۔ مخلص کارکنوں کو نمایاں کارکردگی کی بنا پر ابھرتے دیکھ کر ان کو جماعت سے باہر دھکیلنے کی روش خمیازہ دیے بغیر کب تک رہتی۔ منیر احمد صاحب کا قصہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر منظور الحق ڈار صاحب اور اقبال بٹ صاحب کے واقعات کا چوہدری صاحب نے ذکر تک نہیں کیا۔ یہاں تفصیل درج کی جاتی ہے۔ 

ڈاکٹر محمد منظور الحق ڈار صاحب گوجرانوالہ کے ایک معروف ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے۔ ریلوے سے مستعفی ہونے کے بعدہومیو پیتھک پریکٹس کرنے لگے۔ بڑے خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ، اعلیٰ ذوق مطالعہ رکھنے کے علاوہ نہایت باریک بین شخص تھے۔ بڑے منضبط معمولات رکھتے تھے۔ وقت کے نہایت پابند۔ جماعت کے رکن تھے۔ ضلعی شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ ضیا ء الحق کے دور میں سیاسی جماعتوں پر پابندی تھی۔ اس کے باوجود دائیں بازو کی جماعتیں اپنی سرگرمیاں علانیہ طور پر جاری رکھی ہوئی تھیں اور حکومت چشم پوشی سے کام لے رہی تھی۔ حقیقتاً پابندی کا اطلاق پیپلز پارٹی پرتھا۔ اصولی جماعت ہوتے ہوئے بھی جماعت اس پابندی کے باوجود پوری طرح سر گرم تھی۔ یہاں تک کے اس کے اپنے انتخابات بھی ہوئے۔ اجتماعات ہوتے اور جماعت کے ہر سطح کے ذمہ داران کے اخبارات میں بیانات بھی چھپتے۔ بظاہر یہ دو عملی تھی کہ جماعت پر قانونی طور پر پابندی ہو مگر عملاً سب کچھ ہو رہا ہو۔ جماعت حکومت سے مطالبات بھی کرتی رہے۔ ڈاکٹر منظور صاحب کو اس صورت حال سے اطمینان نہیں تھا۔ ان کے خیال میں قانونی طور پر پابندی کا احترام ہونا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے اس عدمِ اطمینان کا ساتھیوں کے ساتھ بحث و اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ 

امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب میاں طفیل محمد گوجرانوالہ تشریف لائے۔ جامعہ عربیہ میں ارکان کی نشست تھی۔ ڈاکٹر صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ ڈاکٹر ڈار صاحب کے بڑے ہی چہیتے شاگرد جناب امان اللہ غازی صاحب نے موقع دیکھ کر میاں صاحب کا ان سے اس ایشو پرمکالمہ کروا دیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے منطقی انداز میں اشکالات پیش کرتے رہے۔ خاص طور پر میاں صاحب کا ایک بیان زیر بحث تھا۔ کسی سیاسی مسئلہ پر پریس نے میاں صاحب سے جماعت کا موقف پوچھا تو میاں صاحب نے کہا کہ جماعتوں پر پابندی ہے۔ پابندی ختم ہو گی اور شوریٰ کا اجلاس ہو گا تو جماعت کا موقف طے ہو گا تو پوچھا بھی جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ جماعت عملاً قائم ہے۔ انتخاب و استصواب اور اجتماعات کے سلسلے بھی چل رہے ہیں۔ کسی اہم مسئلے پر موقف پوچھا جائے تو سوال ٹالنے کا یہ طریقہ کار درست نہیں۔ یہ واقعات اور حقائق کے خلاف ہے۔ شوریٰ بھی قائم ہے۔ اجلاس بھی ہوتے ہیں۔ موقف بھی واضح ہے سوال کا جواب قانونی پابندی کی آڑ میں ٹالنا غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے۔ بحث جاری رہی۔ طول پکڑی تو میاں صاحب ڈاکٹر صاحب کا اطمینان نہ کراسکے۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر نے کچھ اس قسم کی بات کی کہ جماعت کا اس مسئلے پر طرز عمل منافقانہ ہے۔ میاں صاحب پابندی کے سائے میں جاری سرگرمیوں کو صورت حال میں بالکل جائز سمجھتے تھے۔ گفتگو میں بے بس ہو کر میاں صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ اتنے متقی شخص کو جماعت سے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے جماعت کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ ٰتحریر کر کے بھجوا دیا۔ ان کا استعفیٰ کبھی منظور تو نہ ہوا مگر امیر ضلع کی ایک نہایت زیرک نقاد سے خلاصی ہو گئی۔ ارباب نظم کی صفوں میں اطمینان قلب وذہنی سکون اپنی اتنہائی حدوں کو پہنچ رہا تھا۔ 

جناب غازی صاحب کو گلا رہا کہ ڈاکٹر صاحب ہر معاملے میں ان سے مشورہ کرتے ہیں اور استعفیٰ دینے میں مشورہ نہیں کیا۔ وہ پشیمان رہے۔ چاہتے تھے کہ اگر ارباب نظم میں کوئی استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کرتا تو وہ واپس آ جاتے۔ غازی صاحب کا نہایت دکھ سے کہنا ہے کہ کسی نے بھی ان کو واپسی استعفیٰ کے لیے رسماً بھی نہیں کہا۔ غازی صاحب کتنے سادہ ہیں۔ ہمیشہ ارباب نظم کے دائیں بائیں رہنے کے باوجود ان کو پہچان نہیں سکے۔ جن اربابِ نظم کے قلب و دماغ میں خوشی حدوں سے پار ہوئی جاتی ہے وہ ڈاکٹر صاحب کو واپس آنے کے لیے کہتے۔ در اصل یہی وہ موقع ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ذاتی انا قربان کر دینا چاہیے تھی اور اپنی غلطی خود تسلیم کر کے استعفا واپس لے لینا چاہیے تھا۔ در اصل انہوں نے میاں طفیل صاحب کے مشورہ کو بھی زیادہ سنجیدگی سے لیا۔ بظاہر میاں صاحب نے صورت حال کو ٹالنے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے استعفا کے مطالبہ نہیں کیا تھا۔ نظم کی اطاعت کے تصور میں غلو چونکہ مامورین کے ذہنوں پر چھایا رہتا ہے اس لیے ڈار صاحب نے استعفا کے مشورہ کو حکم کے طور پر لیا۔ بہر حال مصلحتیں ارباب نظم کی ہی غالب آتی ہیں غازی صاحب کا گلا اور صدمہ باقی رہے گا۔ مجھے معلوم نہیں غازی صاحب اس طرح کے کتنے صدمے اٹھا چکے ہیں۔ بظاہر تو ایک ہی صدمہ نظر آتا ہے۔ میرے سامنے تو صدمات کا ہجوم ہے۔

جناب اقبال بٹ صاحب کا قصہ اس طرح ہے کہ چوہدری اسلم صاحب امیر ضلع نہیں رہے تھے۔ ان کا نظم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جماعت کے عام رکن تھے۔ ۱۹۸۴ء کا ذکر ہے۔ شہری جماعت کے ایک رکن شیخ محمد اقبال بٹ صاحب تھے۔ ریلوے اکاوئنٹس لاہور میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ صاف ستھری سروس کی۔ ملازمت کے زمانے سے ہی جماعت کے کارکن تھے۔ مطالعے کے عادی اور شوقین تھے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں لاہور ڈیوٹی کے لیے جاتے، حاضری لگا کر واپس گوجرانوالہ آ جاتے اور جماعت کی انتخابی مہم میں رات گئے تک مصروف رہتے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب قومی اسمبلی کے لیے جماعت کے امید وار تھے۔ وہ ان کی مہم میں شرکت کو جہاد اکبر کے درجہ کی چیز سمجھتے ہوں گے۔ اس غرض کے لیے لاہور میں اپنے دفتر میں حاضری لگا کر گوجرانوالہ واپس آ جانا ان کے نزدیک اخلاقی اور قانونی طور پر کسی طرح برا نہیں تھا۔ اس واضح مس کنڈکٹ پر، ان کو کسی نے ٹوکا بھی نہیں ہو گا۔ نہ ٹوکنے کی وجہ یہی کہ ہر کوئی اسے تقویٰ اور صالحیت کا تقاضا خیال کرتے ہوئے ثواب عظیم کا ذریعہ سمجھتا ہو گا۔ بہر حال اقبال بٹ صاحب بہت خوش طبع اور مجلسی شخص تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد رکن بنے۔ ایک مقامی اجتماع میں شریک تھے۔ میں بھی موجود تھا۔ امیر شہر مولانا عبیداللہ عبید اجتماع کی صدارت فرما رہے تھے۔ ہر رکن جماعت اپنے اپنے مقامی حلقے، یعنی محلے کی رپورٹ دے رہے تھے۔ اقبال بٹ صاحب نے اپنے محلے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے تفصیل بتائی کہ ہفتہ وار اجتماع میں ایک ہی ساتھی تشریف لاتے ہیں اور کوئی نہیں آتا۔ اس پر عبدالجبار گکھڑ صاحب نے کچھ طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا۔ بٹ صاحب نے امیر شہر سے کہا کہ کیا آپ نے گکھڑ صاحب کو اپنے لیفٹیننٹ کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ اس پر گکھڑ صاحب تلخ ہوئے۔ نوبت تکرار تک پہنچنے لگی۔ اس مرحلہ پر عبدالجبار گکھڑ صاحب نے صورت حال بے جا مداخلت کر کے خراب کی تھی۔ مگر امیر شہر نے گکھڑ صاحب کے بجائے، بٹ صاحب کو اجتماع سے باہر چلے جانے کے لیے کہا۔ بٹ صاحب خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ 

اس کے بعد بٹ صاحب نے شہری جماعت کے ہفتہ وار اجتماعات میں شرکت کے لیے آنا بند کر دیا۔ چند غیر حاضریوں کے بعد امیر شہر نے ان کی رکنیت کے اخراج کا نوٹس جاری کر دیا۔ نوٹس کا جواب آیا تو جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے کر اخراج کی سفارش امیر ضلع کو ارسال کر دی۔ امیر ضلع شیخ محمد انور صاحب نے رپورٹ اخراج ضلعی شوریٰ کے سامنے پیش کر دی۔ شوریٰ نے جوابِ نوٹس کے پیش نظر مقامی شوریٰ کے ذریعے انکوائری کی ہدایت جاری کر دی۔ اس طرح انکوائری کمیٹی بنی اور راقم الحروف کو اس کمیٹی کا کنوینر بنا دیا گیا۔ میں نے بہت معذرت کی مگر امیر شہر مجھے کمیٹی کی سربراہی سے فارغ کرنے کو تیار نہ ہوئے۔ کمیٹی میں تین دیگر ارکانِ شوریٰ مجھ سے ہر لحاظ سے سینئر تھے۔ حافظ محمد انور قاسمی، قاضی محمد فاضل اور حکیم احمد دین اعوان۔ قاضی محمد فاضل صاحب میرے سکول کے استاد تھے۔ ان بزرگوں کی کمیٹی کی سربراہی سے مجھے گریز تھا۔ بہر حال ہمیں انکوائری کرنا پڑی۔ ہم نے باقاعدہ شواہد ریکارڈ کئے اور متفقہ طور پر انکوائری میں بٹ صاحب کو الزامات سے بری کر دیا اور صورت حال میں مقامی نظم پر معاملہ نا فہمی کا بوجھ ڈال دیا۔ خاص طور پر امیر شہر کو کوتاہی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ہم نے مفصل رپورٹ تحریر کر کے امیر شہر کی وساطت سے ضلعی شوریٰ کو بھجوادی۔ ہماری رپورٹ پر عام تبصرے ہونے لگے، حالانکہ رپورٹ پر ضلعی شوری کے فیصلے تک اسے اوپن نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ناظمِ دفتر چوہدری محمد ایوب صاحب نے فرمایا کہ ’’کمیٹی کو بھینس کے نیچے چھوڑا گیا تھا مگر یہ کٹے کے نیچے چلی گئی‘‘۔ امیر ضلع نے رپورٹ چوہدری محمد اسلم صاحب کو بھجوائی۔ ان سے کہا گیا کہ ان کو رپورٹ سے بچاؤ کا راستہ بھی بتائیں اور اقبال بٹ صاحب سے بھی جان چھڑوائیں۔ ذرا سی صورت حال بنی تو ان سے خلاصی کا فیصلہ کر لیا گیا۔ 

اقبال بٹ صاحب چوہدری محمد اسلم صاحب کے ہم عصر اور جماعت کے دیرینہ سرگرم کارکن تھے۔ چوہدری صاحب نے اقبال بٹ صاحب کو اپنے گھر پر بلوایا اور ان پر واضح کیا کہ کمیٹی کی رپورٹ میں ان کی بریت کے باوجود ان کا اخراج ہو سکتا ہے۔ اربابِ نظم نے آپس میں معاملات طے کرنے ہوتے ہیں۔ انکوائری میں بریت پر ان کو خوش نہیں ہونا چاہیے۔ جب نظم ان کو رکن نہیں رکھنا چاہتا تو ان کو مستعفی ہونا چاہیے۔ اقبال بٹ صاحب چوہدری صاحب کی گفتگو سے دلبرداشتہ ہو کر آئے اور رکنیتِ جماعت سے استعفا لکھ کر بھیج دیا۔ استعفے کی زبان احتجاجی نوعیت کی تھی۔ وہ سخت ذہنی اذیت میں تھے۔ استعفے کی ایک نقل کمیٹی کے کنوینر کے طور پر مجھے ارسال کی۔ میں نے نقل کمیٹی کے دیگر ارکان کو دکھائی اور میرے سمیت جملہ ارکان کمیٹی نے مقامی شوریٰ کی رکنیت سے احتجاجاًاستعفا پیش کر دیا۔ ہمارا احتجاج اس وجہ تھا کہ ہماری رپورٹ پر فیصلہ کی مجاذ ضلعی شوریٰ تھی۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کی مداخلت اور بٹ صاحب پر دباؤ ڈال کر مستعفی ہونے پر آمادہ کرنا بڑا غیر مناسب تھا۔ اربابِ نظم استعفے کے منتظر تھے۔ اس کے لیے ان کی کیفیت تو یہ تھی کہ

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

کسی نے استعفے کی احتجاجی زبان کا لحاظ نہیں کیا۔ فوراً ہی اسے منظور کر کے بٹ صاحب کی رکنیت ختم کر دی۔ 

آج غور کرتا ہوں تو اس سارے واقعے میں واضح طور پر مکافات عمل کار فرما نظر آتی ہے۔ اقبال بٹ صاحب سروس میں انتہائی فرض شناس اور ڈسپلن کے پابند رہے۔ ساری سروس میں کبھی explanation  کا موقع بھی نہ آیا۔ ایک مشن کی آڑ میں انتخابی مہم کا مرحلہ آیا تو جعلی حاضری مارک کر کے جس شخص کے لیے شریک مہم ہوتے رہے، اس غرض کے لیے بابو ٹرین کے ذریعے لاہور جاتے اور دس گیارہ بجے واپس گوجرانوالہ آ جاتے اور جس خلوص سے رات گئے تک انتخابی کام میں مصروف رہتے، مصروف کیا رہتے، بس جماعت کے دفتر میں انتخابی گپ شپ میں سارا وقت گذر جاتا۔ اسی شخص کے ہاتھوں بغیر کسی کوتاہی کے جماعت سے باہر کا رستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ 

سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

چوہدری صاحب نے اپنی امارت کی آخری مدت ختم ہونے سے چند ماہ پہلے شیخ محمد انور صاحب کو قائم مقام امیر ضلع نامزد کر دیا۔ اس طرح استصواب میں شیخ صاحب کے امیر ضلع منتخب ہونے کی راہ صاف ہوگئی۔ مگر یہ سب کچھ چوہدری صاحب کی یاد داشتوں سے غائب ہے۔ یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ یہ ان کی یادوں سے بھی محو ہوا ہو۔ اس دورکے ابتدائی ارکان کے ذہنوں میں موجود ہے، چوہدری صاحب کے ذہن سے کیسے نکل سکتا ہے۔ 

کتاب کی تقدیم میں صفحہ نمبر ۹ پر جناب حافظ محمد ادریس صاحب نے تحریر فرمایا ہے،

’’حق واضح ہو جانے کے بعد ان تمام لوگوں نے محسوس کیا کہ کوئی اور اقامت دین کا یہ فریضہ اداکرنے کی کوشش کرے یا نہ کرے، انہیں تو بہر حال یہ فریضہ اداکرنا ہے۔‘‘

حقیقی مرض کی بنیاد اس جملے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ اتفاق سے اسی سے ملتا جلتا جملہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی کئی بار ارشاد فرمایا ہے۔ اس جملے میں نفسیاتی طور پر دوسروں کو ساتھ لینے کی خواہش اور جذبے کی عملاً نفی ہو جاتی ہے۔ البتہ اپنے مقاصد کے حصول میں زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے اور جلد بازی کا بے تدبیری کی حد تک پایا جانے والا مزاج چوہدری صاحب کی زندگی میں پوری طرح راسخ نظر آتا ہے۔ تاریخ نے اس بارے میں خود فیصلہ کر دیا ہے۔ 

چوہدری محمد اسلم صاحب ان تھک شخص تھے۔ سخت سے سخت کام بھی کر لینے کی ہمت رکھتے تھے۔ زندگی بھر انہوں نے بلند ہمتی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کبھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم نے سیاسی لوگوں کے حوصلے دیکھے ہیں۔ چوہدری صاحب نے گوجرانوالہ کی ڈسٹرکٹ بار کے صدر کی چوہدری محمد علی کی یوم اقبال کی تقریب سے غائب ہو نے کا ذکر کیا ہے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب نے بار کے صدر صاحب کا نام نہیں لیا۔ نام لیتے تو اچھا ہوتا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ہم نے بھی مشاہدہ کیا۔ چوہدری جلیل احمد خان ڈسٹرکٹ بار کے صدر تھے۔ بار کے جماعتی دوستوں کی تحریک پر قاضی حسین احمد کو بار میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ ضیا الحق کا زمانہ تھا۔ ضیا صاحب سے جماعت کا بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔ بار کے صدر صاحب پر دباؤ آیا تو چوہدری جلیل احمد خان نے خطاب کی دعوت واپس لے لی۔ اس پر جماعتی دوستوں نے بار کا اجلاس بلوایا۔ اجلاس میں صدر صاحب کی مذمت کی گئی۔ انہوں نے معذرت کی اور قاضی صاحب کو خطاب کی دوبارہ دعوت دی گئی۔ اس طرح یہ معاملہ درست ہوا۔ در اصل بار کا فورم نہایت مضبوط اور جاندار فورم ہے۔ وہاں نا معقولیت پر اصرار ممکن نہیں۔ بار کے فورم کے مقابلے پر جماعت اسلامی جو کہ منظم ترین جماعت سمجھی جاتی ہے، ایک نظریاتی اور دینی تحریک ہے۔ تحریکی یادداشتوں کی روشنی میں معقولیت کی کس سطح پر کھڑی معلوم ہوتی ہے، ہمارا یہ تبصرہ شاید اس کا اندازہ کرنے میں معاون ہو سکے۔ ہم یہ واضح کرنے پر مجبور ہیں کہ مولف کا پیش لفظ میں یہ دعویٰ کہ انہوں نے سب کچھ بلا لاگ لپیٹ بیان کیا ہے، کتاب کے مندرجات کو مولف کے دعویٰ کے لحاظ سے دیکھاجائے تویہ دعویٰ بے بنیاد معلوم ہوتا ہے۔ کتاب میں لاگ لپیٹ کا پورا پورااہتمام پایا جاتا ہے۔

تعارف و تبصرہ