تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم‘‘

مصنف: مولانا حمید الدین فراہیؒ 

ترتیب: ڈاکٹر عبید اللہ فراہی

صفحات: جلد اوّل ۴۵۰، جلد دوم، ۵۱۴

ناشر: دائرہ حمیدیہ، مدرسہ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ، یو۔پی، انڈیا

قرآن کریم فرقان حمید اپنے نزول کے وقت ہی سے امت کے عالی دماغ جہابذہ کی فکری تگ وتاز کا مرکز رہا ہے۔ حبر الامت ابن عباس سے لیکر اس وقت تک ان گنت طالبین قرآن نے اپنے نتائج فکر امت کے سامنے رکھے لیکن لا تنقضی عجائبہ کے مصداق

ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لو لوئے لالا

قرون متاخرہ میں برعظیم پاک وہند میں جو رجالِ دین پیدا ہوئے، انہوں نے بجا طور پر متقدمین کی یاد تازہ کر دی۔ انہی شخصیات میں ایک مولانا حمید الدین فراہی ہیں جنہوں نے عمر عزیز کا ایک طویل عرصہ یکسوئی کے ساتھ تدبر قرآن میں گزارا، اس کے مطالعہ کے براہ راست طریقہ کی استعداد بہم پہنچائی اور یوں بیسویں صدی کے تفسیری رجحانات میں فراہی سکول کی مساعی ایک روشن باب ہے۔ اس سکول کے طریقہ کار اور افکار ونظریات سے یقیناًاختلاف ہو سکتا ہے، لیکن خصوصاً قرآن فہمی کے سلسلہ میں اس کی جہود قابل قدر ہیں اور اس نے تدبر قرآن کے نئے آفاق وا کیے ہیں۔

مولانا فراہی نے قرآن کی تفسیر ’نظام القرآن‘ شروع کی تھی لیکن کچھ مختصر سورتوں اور سورہ بقرہ کی نامکمل تفسیر کے علاوہ وہ مزید نہ لکھ سکے اور یوں یہ عظیم کام (ان کے دیگر بہت سے کاموں کی طرح) تشنہ تکمیل رہ گیا۔ مولانا فراہی کی مذکورہ تفسیر کے علاوہ ان کا ایک قابل قدر کام یہ ہے کہ وہ تدبر قرآن کے دوران مصحف کے حاشیہ پر اپنے نتائج افکار، اشارات کی شکل میں نوٹ کرتے رہے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی جب پاکستان آئے تو یہ مصحف اپنے ساتھ لے آئے تھے اور ان کی اور باقی کام کی معاونت سے اپنی مشہور تفسیر ’تدبر قرآن‘ لکھی۔ مولانا فراہی کے مذکورہ حواشی ہنوز منتظر طباعت ہیں اور پاکستان میں فکر فراہی کے علمبردار ادارہ ’المورد‘ میں ان کی کمپوزنگ اور تحقیق و تعلیق کا کام ہو رہا ہے اور مستقبل قریب میں ان کی اشاعت کی امید ہے۔

مولانا فراہی کے دوسرے نامور شاگرد مولانا اختر احسن اصلاحی نے اسی مصحف کے حواشی کو اپنے قلم سے نقل کیا تھا۔ ’دائرہ حمیدیہ‘ (انڈیا) کے رفیق ڈاکٹر عبید اللہ فراہی نے ان کو مرتب کیا اور محمد امانت اللہ اصلاحی کی نظرثانی کے بعد یہ گزشتہ سال (۲۰۱۰ء) زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئے۔ تاہم یہ کہنا ابھی از وقت ہوگا کہ یہ نقل کس حد تک مطابق اصل ہے جب تک مولانا فراہی کا وہ اصل نسخہ طبع نہ ہو جائے جس کا ذکر سطور بالا میں ہوا، کیونکہ ’المورد‘ کے بعض رفقاء سے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ مولانا اختر احسن کے حواشی میں ان کے ذاتی نوٹس بھی ہیں جو انہوں نے مولانا فراہی کے دروس کے دوران قلمبند کیے تھے۔

مولانا فراہی کے ہاں چونکہ نظم قرآن کے تصور کو فہم قرآن میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، اس لیے ان تعلیقات میں سورتوں کے داخلی نظم اور سورتوں کی باہم دگر مناسبات سے بھرپور تعرض کیا گیا ہے،سورۃ فاتحہ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’فہذہ سورۃ الشکر و البقرہ سورۃ الإیمان‘ (۱/۱۰)
اس سورت کا موضوع ’شکر‘ اور بقرہ کا ’ایمان‘ ہے۔

سورۃ بقرہ کے تحت لکھا ہے: 

سورۃ الایمان المطلوب وھو الإیمان ببعثۃ محمدﷺ فجمعت دلائلہا (۱/۱۴)
اس سورت کا موضوع وہ ایمان ہے جو مطلوب ہے اور وہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایمان چنانچہ یہ سورت اس کے دلائل کی جامع ہے۔

داخلی نظمِ سورت کے تعین کے لیے سورت کو مختلف پیراگرفوں میں تقسیم کی طرف اشارات بھی ملتے ہیں۔

سورۃ بقرہ کے تحت مرقوم ہے۔

(۱۔۱۵۱) تمہید الشرائع۔
(۱۵۲۔۲۸۶) الشرائع من الذکر۔۔۔ وادآء الأمانۃ۔ (۱/۴۴۔۲۵)
آیات ۱ سے ۱۵۱ شرعی احکام کی تمہید پر مشتمل ہے اور ۱۵۲ سے ۲۸۶ میں ان احکام (ذکر۔۔۔ ادا ء امانت) کی تفصیل ہے۔ یہ تعداد میں چالیس ہیں۔(۱/۲۵)

ان احکام اور ان کی تمہید کو سورت کے عمود (بعثت محمدیﷺ)سے بہت خوبصورت انداز میں یہ کہ کر مربوط کیا گیا ہے کہ یہ اصل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا جواب ہے جس میں انہوں نے ایک رسول کی بعثت کا سوال کیا تھا جو لوگوں پر تلاوت آیات کرے، انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے(بقرہ: ۱۲۹) غور کیا جائے تو ان چالیس احکام میں ان امور کا احاطہ ہوتا نظر آتا ہے۔ سورہ بقرہ کی مذکورہ بالا عمومی تقسیم کے بعد اس کو مزید مختلف حصوں میں بھی موضوعات کی مناسبت سے تقسیم کیا گیا ہے۔

قرآن کریم کے بہت سے مفردات کے حوالہ سے مولانا فراہی کی رائے عام مفسرین سے ہٹ کر تھی اور ان کے معنی کی تعیین کے بارے میں وہ اپنی منفرد رائے رکھتے تھے جس کی بنیا دکلام عرب کے استعمالات پر تھی۔ اپنے اس نقطہ نظر کی وضاحت انہوں نے اپنی ناتمام تصنیف ’مفردات القرآن‘ میں کی ہے۔ ’’تعلیقات‘ میں بھی اس پہلو پر اشارات ملتے ہیں۔ مثلاً ’’قرآن کریم‘‘ میں ایک لفظ ہے: آلآء جس کا معنی تقریباً سبھی مفسرین نے نعمتوں سے کیا ہے۔ مولانا فراہی نے اس معنی کو لینے سے انکار کیا ہے، فرماتے ہیں: آلاَ اللّٰہ، شؤونہ العجیبۃ من لطفہ وبطشہٖ، وترجمتہ فی الفارسیۃ: ’کرشمۂ ایزدی‘ (۲/۳۰۳) ’’آلآء اللّٰہ سے مراد اللہ کی رحمت و عذاب کی وہ بوقلموں نیرنگیاں، ہیں جن کو فارسی میں ’کرشمۂ ایزدی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔‘‘ اس معنی کو مراد لینے کے لئے انہوں نے کلام عرب سے اجدع ہمدانی کے ایک شعر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور نعمتوں والے معنی کو مذکورہ معنی کا لازمی معنی قرار دیا ہے۔(۲/۳۰۴)

’تعلیقات‘ میں کئی جگہ پر کسی آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال اور مولانا فراہی کے ہاں راجح قول کی تعیین ملتی ہے۔ اس ترجیح کی بنیاد عام طور پر قرآن کے سیاق اس کے نظائر وشواہد اور کلام عرب پر ہوتی ہے۔

سورہ قلم میں ارشاد ہے: ’یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلا یستطیعون‘ (القلم: ۴۲)

کشف ساق کی مولانا فراہی نے دو تاویلیں ذکر کی ہیں۔

اوّل: لوگوں کا روز محشر مقام وقوف کی طرف دوڑنا

دوم: نار جہنم کا اہل دوزخ کی پنڈلیوں کے گوشت کو جلا کر بھسم کر دینا کہ ہڈیاں ظاہر ہو جائیں۔

مولانا فراہی نے پہلی تاویل کو لیا ہے اور اس کی بنیاد سیاق اور ذوالرمہ کے ایک شعر پر رکھی ہے۔ (۲ /۳۷۔۳۷۸)

(آیات کی تاویل کے ضمن میں کہیں کہیں سابقہ مفسرین کی آراء کا رد بھی ملتا ہے۔(۲؍۳۲۹)

مولانا فراہی کی قرآنی بلاغت پر بہت گہری نظر تھی، اس مقصد کے لئے انہوں نے ’جمہرۃ البلاغہ‘ تصنیف کی، جس میں جرجانی اور سکاکی کے اسلوب بلاغت کو یونانی اصول بلاغت سے ماخوذ مان کر اس پر تنقید کی ہے۔ مولانا فراہی کے تفسیری افادات میں بلاغت قرآن سے جابجا تعرض کیا گیا ہے۔

نحوکے مسائل سے تعرض بھی جابجا دیکھنے میں آتا ہے۔(مثلاً دیکھئے :۲؍۳۳۰۔۳۳۲)

غرض کہ مولانا فراہی کے پیش نظر جتنے بھی اصول تفسیر ہیں ان سے ان تعلیقات میں استمداد کیا گیا ہے اور قرآن کے فہم کے لئے جو داخل اور خارجی وسائل ہیں ان سے بھرپور رہنمائی کی جھلک ان میں آگئی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’تفسیر نظام القرآن‘ کے تشنہ وتکمیل رہ جانے کی جو کمی تھی ان تعلیقات نے بڑی حد تک اس کا مداوا کیا ہے۔

آخر میں ایک بات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان حواشی کی اشاعت سے پہلے بظاہر یہ گمان ہوتا تھا کہ مولانا اصلاحی نے ’تدبر قرآن‘ میں جو نتیجہ فکر پیش کیا ہے اس میں بہت سے امور میں، جن میں ان کے سامنے مولانا فراہی کی طرف سے کوئی تحریری نمونہ موجود نہ تھا (مثلاً ان کی مطبوعہ تفسیر کے اجزاء میں مدنی سورتوں کے نظام (جو کہ سورتوں کی طوالت اور مضامین کے تنوع کی وجہ سے بہت پیچیدہ اور دشوار ہے) کا کوئی واضح خاکہ نہیں ملتا) یہ احساس ہوتا ہے کہ ان سورتوں میں نظام کی دریافت میں اصالت کا سہرا مولانا اصلاحی کے سر بندھتا ہے۔ ڈاکٹر مستنصرمیر کی کتاب "Coherence in the Quran"سے یہی تاثر ملتا ہے، لیکن ان تعلیقات کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا اصلاحی نے مدنی سورتوں کے نظام کی تعیین میں فقط فراہی اصول وکلیات پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ عملی تطبیق میں بھی حواشی کے ذخیرہ سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے اگرچہ اس کی صراحت کہیں نہیں کی تاہم انہوں نے مقدمہ تفسیر میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انہوں نے تمام عمر استاد کے سر سے ہی اپنا سر ملانے کی کوشش کی ہے۔ (اس مسئلہ کی مکمل تفصیل کے لیے ایاز احمد اصلاحی ؒ کا تصور نظم قرآن اور امام فراہیؒ (دیکھئے: مطبوعہ ششماہی علوم، خصوصی اشاعت، ’’قرآن علوم بیسویں صدی میں‘‘ سیمینار نمبر)

’دائرہ حمیدیہ‘ نے تعلیقات کو عرب دنیا کی کتابوں کے معیار پر طبع کیا ہے۔جلد بندی مضبوط اور کاغذ عمدہ ہے۔ پروف کو باریکی سے دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مخطوط کی پہلی ہی اشاعت غلطیوں سے مبرا ہے۔ قرآنیات کا شغف رکھنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔ پاکستان میں اس کو جناب سجاد الٰہی لاہور (0300-4682752) سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ 

(تبصرہ: سید متین احمد شاہ)

’’جہاد۔کلاسیکی وعصری تناظر میں‘‘ (ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی اشاعت خاص)

موجودہ عالمی حالات، بالخصوص امریکا کی سربراہی میں نیٹو افواج کے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد اسلام کا تصور جہاد علمی، تحقیقی اور دینی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ بقول مدیر الشریعہ برادر عزیز مولانا محمد عمار خان ناصر سلمہ اس بحث کے تین پہلو بہت نمایاں اور اہم ہیں:

۱۔ اسلام میں جہاد کا اصولی تصور اور اس کی وجہ جواز کیا ہے اور عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں مسلمانوں نے جو جنگیں لڑیں، ان کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ امت مسلمہ کے لیے دنیا کی غیر مسلم قوموں کے ساتھ باہمی تعلقات کی اساس کیا ہے؟ 

۲۔ جہاد و قتال کی عملی شرائط اور اخلاقی حدود وقیود کیا ہیں؟ مسلمانوں کا کوئی بھی گروہ جہاد کا فیصلہ کر سکتا ہے یا یہ فیصلہ مسلم معاشرے کی اجتماعی دانش اور ارباب حل وعقد کو کرنا چاہیے؟ 

۳۔ موجودہ مسلم ریاستوں کی شرعی وقانونی حیثیت کیا ہے؟ اور ان ریاستوں میں قائم نظام اطاعت کی پابندی کس حد تک ضروری ہے؟ بالخصوص یہ کہ مسلم ریاستوں کا موجودہ سیاسی نظام اگر شریعت کی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہا ہو اور پرامن ذرائع سے اس میں خاطر خواہ تبدیلی کے امکانات بظاہر دکھائی نہ دیتے ہوں تو اس صورت حال میں مسلح جدوجہد کے ذریعے ریاستی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کا کس حد تک جواز، امکان اور ضرورت ہے؟

’’الشریعہ‘‘ کی مذکورہ اشاعت خاص میں مذکورہ بالا نکات کے اہم ترین گوشوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ موضوع کی ضرورت، اہمیت، افادیت اور نزاکت کا لحاظ رکھتے ہوئے بلاشبہ یہ ایک گراں قدر، لائق تحسین اور قابل داد کاوش ہے۔ بالخصوص مولانا محمد یحییٰ نعمانی (لکھنؤ)، برادر عزیز محمد عمار خان ناصر، حضرت مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی محمد زاہد، جناب زاہد صدیق مغل، جناب محمد رشید اور جناب محمد مشتاق احمد نے موضوع سے متعلق اہم سوالات کے جواب تحقیقی وعلمی انداز میں دیے ہیں۔

ہماری ناچیز رائے میں عوام میں سے اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے اس اشاعت کا مطالعہ ’’فرض کفایہ‘‘ ہے، لیکن اہل علم بالخصوص نوجوان فضلاء ومدرسین کے لیے اس کا مطالعہ ’’فرض عین‘‘ ہے۔ اس کے بغیر وہ خطے میں برپا جنگ کی حقیقت، نوعیت اور ضرورت کو نہیں سمجھ سکتے۔ الشریعہ اکیڈمی ’’جہاد‘‘ سے متعلق اس سنجیدہ علمی وتحقیقی کاوش پر مبارکبار کی مستحق ہے۔ 

(تبصرہ نگار: مولانا محمد ازہر۔ بشکریہ ماہنامہ ’’الخیر‘‘ ملتان)

تعارف و تبصرہ