’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مصنف : ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی 

ناشر: مرکز تحقیقات وخدمات علمیہ (مدرسہ مرقاۃ العلوم) مؤیوپی

دوجلد: صفحات قریباً :۱۵۰۰ قیمت : ندارد

علامہ حبیب الرحمن اعظمیؒ نے مؤ میں آنکھ کھولی، اس کے قدیم اور تاریخی مدرسہ دارالعلوم اور پھر مفتاح العلوم سے تعلیم حاصل کی۔ خدا کی شان یہ کہ دوبار دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے کے لیے داخل کیے گئے مگر دونوں ہی بار کچھ عوارض خاص کر طبیعت کی ناسازی کے ایسے پیش آئے کہ ان کو دارالعلوم سے فراغت کا موقع نہیں ملا۔ غالباً مشیتِ الٰہی تھی کہ ایک چھوٹی سی جگہ سے پڑھ کر مؤ کی خاک سے جو ذرہ اٹھے وہ علوم اسلامیہ اور بطور خاص علم حدیث کا نیر تاباں بن کر عالم اسلام کو منور کرجائے۔ ایسی بار عب ، پر ہیبت اور جلیل القدر شخصیات کم ہی ہوتی ہیں جن کے علمی جاہ و جلال کا ڈنکا ہر طرف بج جائے جیسا کہ حضرت اعظمیؒ تھے۔ جن کی زیارت کے لیے علامۃ الشام شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ تین تین بار مؤ جیسے دور افتادہ قصبے میں تشریف لائے۔ جن کی خدمت میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ جیسے مشاہیرنیاز مندوں کی طرح پیش آتے تھے۔ جن کو شیخ الازہر امام اکبر شیخ عبدالحلیم محمود نے اکبر علما العالم الاسلامی (دنیاکے سب سے بڑے عالم )کا خطاب دیا۔ جنہوں نے اپنی پہلی ملاقات میں انا حبیب الرحمن الاعظمی من الہند کہہ کر تعارف کرایا توان کے لیے علامۂ نجد شیخ عبدا لعزیربن بازاحترامااپنی کرسی سے کھڑے ہوگئے اور اس پر آپ کو بٹھادیا۔ جن کوعلامہ یوسف القرضاوی جیسے بڑے فقیہ نے دوحہ قطرکے اپنے مرکزبحوث ودراسات السیرۃ میں تشریف لانے کی دعوت دی ۔مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ جیسے جدید وقدیم کے جامع جن سے استفادہ کرنے میں فخر جانتے تھے ۔ جن سے سید الطائفہ سلیمان ندوی ؒ عمرمیں ان سے بڑے ہونے کے باوجود علمی مسائل میں صرف استفادہ ہی نہیں بلکہ اپنی کتابوں پر نظرثانی کی گزارش کرتے تھے۔جن کوشیخ الاسلام مولانا حسین احمدمدنیؒ ، حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ جیسے اکابرکا اعتمادحاصل ہوا۔جن کو ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ نے شاہ ولی اللہ ثانی کہا۔اس کتاب کو پڑھ کر میری زبان سے نکلا کہ حق یہ ہے کہ محدث عمربن عبسہؒ کا وہ جملہ دہرایاجائے جو انہوں نے مشہورتابعی ابوقلابہؒ کے بارے میں حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کی مجلس میں کہاتھاکہ ’’ہذا الجند بخیر مادام ھذا الشیخ بین اظہرہم‘‘ (اہل شام خیرکے ساتھ رہیں گے جب تک یہ شیخ ان کے درمیان موجودہیں)۔

کتاب کا پہلا حصہ ۱۲؍ابواب پر مشتمل ہے اس میں فاضل مصنف جوحضرت اعظمی کے نواسے ہیں،نے حضرت اعظمی کے وطن ، خاندان، پیدائش ، نشوونما، اساتذہ ، تلامذہ، تدریسی وتالیفی خدمات، اسفار، سیاسی مصروفیت، نثر و نظم ، اعیان کی وفیات پر حضرت کے تاثرات، خانگی زندگی اخلاق و عادات علامہ اور تصوف، مبشرات و کرامات، علامہ اعظمی ؒ اہل علم کی نظر میں وغیرہ جیسے مباحث پر تفصیل سے قلم اٹھایا آثار قلم کے ایک الگ عنوان سے مولانا کے تمام مضامین کے نام اور حوالے اوران کی وفات پر جو مراثی تحریر کیے گئے ان سب کو جمع کیا گیا ہے۔ فہرست مراجع اور رسائل وغیرہ کا اشاریہ دیاگیا ہے۔ یوں اس جامع مرقع کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ محدث کبیرؒ کی شخصیت اس قدر متنوع اور مختلف الجہات تھی کہ سید العلماء سید سلیمان ندویؒ نے بجا طور پر ان کو ہندوستان کے دوائر علم میں شمار کیا تھا۔ ڈاکٹر مسعود الاعظمی قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے نہایت محنت سے حضرت العلامہ کی حیات و خدمات سے متعلق مباحث اور تحریروں کو بڑی عرق ریزی سے جمع کیا اوران کو ایک جاندار تذکر ہ اور ایک دلکش سوانحی مرقع کی صورت میں پیش کردیا ہے۔کتاب کا دوسرا حصہ حضرت اعظمی ؒ کی علمی خدمات کے تعارف و تلخیص پر مشتمل ہے۔ یہ دراصل ایک ار مغان علمی ہے جس میں نہایت جامعیت وکمال کے ساتھ علامہ اعظمی کی وسیع الاطراف خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں حضرت محدث اعظمی کتابوں کی حیرت انگیز معلومات، مخطوطات سے شغف، تفسیر واصول تفسیر ، حدیث، اصول حدیث، متون و رجالِ حدیث کی مہارت، فقہی مرجعیت ، عربی زبان و ادب اوردیگرمروجہ علوم اسلامیہ پر علامہ کی مہارت کو بیان کیاگیا ہے۔ اس کے بعد علامہ اعظمی فتنوں کے تعاقب میں کے تحت رد سلفیت، رد شیعیت، ردرضا خانیت اور فتنہ انکار حدیث پر روشنی ڈالی ہے ۔علامہ کے ردودکی خاصیت یہ ہے کہ وہ علمی دنیاکے مسلمہ اصولوں پر بھی پورے اترتے ہیں اوراپنے اسلوب اورزبان وبیان کے اعتبارسے بھی چاشنی لیے ہوئے ہیں ۔ساتھ ہی خوش گوارطنزیہ جملوں نے ان کو نہایت کاٹ داربنادیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ مذکورہ معاندین حضرت کے علمی تعاقب کے آگے ڈھیرہوجاتے تھے اورکسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اس جبل العلم سے ٹکرائے ۔

علامہ ناصرالدین البانیؒ نے حدیث کی مختلف کتابوں کی تحقیق ،تعلیق اورتحشیہ سے پوری عرب دنیامیں ایک غلغلہ ڈال رکھاتھا ۔اوران کے شذوذ اورنارواحملوں سے حضرت امام اعظم ؒ اوردوسرے حنفی ائمہ بھی محفوظ نہیں تھے ۔ قارئین کویاددلادوں کہ باوجوداپنے تمام ادعائے علم وتحقیق اوردعوائے عدم تقلیدکے البانیؒ صاحب نے اپنی الضعیفہ میں امام ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں خطیب بغدادی کی اڑائی ہوئی اس ہفوات پر جزم ویقین کرلیاکہ امام صاحب کوکل 17حدیثیں پہنچی تھیں۔یہ اوراسی طرح کے بہت سے الزامات حنفی ائمہ پرانہوں نے لگائے ہیں۔جن کا جواب باصواب علامہ اعظمیؒ نے الابانی اخطاۂ وشذوذہ  لکھ کردیا۔اوراس کتاب کا کوئی جواب البانی یاان کے تلامدہ سے نہیں بن پڑا۔مخطوطات ومسودات کی چند عکسی تصاویر اور ردودِ مذکورہ کی تفصیل کے ساتھ فقہیات میں محدث اعظمی ؒ کی خدمات بھی اہم باب ہے۔ جس میں انساب و کفائت کی شرعی حیثیت ہمارے علماء وفقہاء اور اربابِ افتاء کے لیے نہایت چشم کشا بحث ہے۔کیونکہ ہمارے بہت سے مفتیان کرام اورمصنفین اس باب میں افراط وتفریط کا شکارہوگئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اس باب میں حضرت اعظمی نے مفتی محمد شفیعؒ اور مولانا تھانویؒ پربھی نقد فرمایا ہے۔ دست کار اہل شرف بھی اسی موضوع سے ملتی جلتی کتاب ہے اور اس لائق ہے کہ نسب فروشی کے سارے دوکان دار اسے پڑھیں ۔ اموی دور خلافت اور خاص کر سید نا معاویہؓ اور ان کے بیٹے یزید پر لعن طعن کیاجاتاہے۔ حضرت محدث اس وادی میں بھی افراط و تفریط سے ہٹ کر گزرے ہیں اور اس سلسلہ میں مہتم دارالعلوم دیوبندقاری محمد طیبؒ اور مولانا اطہر مبار کپوری ؒ پر گرفت فرمائی ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ محدث اعظمی کے سامنے اصل چیز احقاقِ حق ہے ،اوراس کے لیے انہیں اگراپنی جماعت کے بزرگوںیااپنے احبا ب پر بھی تنقیدکرنے پڑے تواس سے قدم پیچھے نہیں ہٹاتے اوراس میں کسی جنبہ داری یاجماعتی تعصب کوراہ نہیں دیتے ۔

اس کے بعد عربی تصانیف و مضامین کے تحت مولف نے علامہ اعظمیؒ کے حدیثی کا ر ناموں کا ذکر کیا ہے جن میں مسند حمیدی، کتاب الزہد، سنن سعید بن منصور، مصنف عبدا لرزاق ، مختصر الترغیب وا لترہیب، المطالب العالیہ، کشف الاستار ، کتاب الثقات لابن شاہین ، استدرا کات قاسم قطلوبغا ، رسائل شاہ ولی اللہ ، حیاۃ الصحابہ ،فتح المغیث ، اورجزء خطبات النبی اہم ہیں۔ راقم کے نزدیک یہی حصہ اس کتاب کیا مغز ہے اوراس سے پتہ چلتاہے کہ حدیث کی ان عظیم کتابوں کی خدمت کے سلسلہ میں محدث اعظمی نے کتنی جان فشانی کی ہے اورکس طرح محنت ومشقت سے وسائل نہ ہونے کے باوجودایک چھوٹے سے قصبہ میں بیٹھ کراس فردفریدنے وہ کام کردیاجس کویوروپ میں بڑی بڑی اکیڈمیاں کیاکرتی ہیں۔ہمارے علمی حلقے اورخاص کرعلماء کے طبقہ کوجس میں تن آسانی اب عام ہوچکی ہے ،اس کتاب کوضرورپڑھناچاہیے کہ ان کوپتہ چلے کہ ان کی صفوں میں کیسے کیسے گوہرنایاب ہوگزرے ہیں اوراب وہ خوداس کس حال میں ہیں۔ کتاب کے آخر میں مصنف نے علامہ کے چند مکاتیب دے کر اس میں چار چاند لگادیے ہیں۔ غرض یہ کہ کتاب کیا ہے پورا کتب خانہ ہے جس کو فاضل مصنف نے ۷۵۸ صفحات میں جامعیت کے ساتھ لکھا ہے اور یوں حضرت ابوا لمآثر کی مفصل سوانح عمری اورا ن کی علمی و فکری خدمات پردو ضخیم جلدیں لکھ کرعلماء ہندپر سے ایک بڑاقرض اتاردیاہے ۔ توقع ہے کہ کتاب مقبول ہوگی اور محدث اعظمی کے مطالعات کی نئی راہیں کھلیں گی ۔ کیااچھاہواگراس کتاب کا عربی اورانگریزی ترجمہ بھی کروادیاجائے ۔عرب دنیاکے علاوہ مستشرقین اورمغرب کے لوگ بھی آپ کے حالات سے کماحقہ واقف ہوسکیں۔


تعارف و تبصرہ

نومبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۱

الشریعہ اور ہائیڈ پارک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کار
مولانا امین احسن اصلاحیؒ

فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء
مولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی

اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالک
قاضی محمد رویس خان ایوبی

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر اسلم فرخی)
عرفان احمد

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی