’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘

مولانا سید متین احمد شاہ

مسلمانوں کی فکری تاریخ میں جب بھی دیگر تہذیبوں سے تصادم ہوا ہے تو اس کے نتیجے میں فکرونظر کے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ صدرِ اول کی تاریخ میں یونانی افکار کے نتیجے میں مسلم دنیا کئی سوالات سے دوچار ہوئی۔اسی نوعیت کا ’انتقالی مرحلہ‘فکر مغرب کے عمومی اور ہمہ گیر استیلا کے نتیجے میں درپیش آیا جو فکر یونان کے مقابلے میں کئی درجے ہمہ گیر تھا۔ علامہ محمد اسد کے الفاظ میں ’’انسانیت شاذ ہی ایسے فکری انتشار سے گزری ہے، جیسی ہمارے دور سے گزر رہی ہے۔نہ صرف یہ کہ ہم بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جن کے لیے نئے اور عدیم النظیر حل کی ضرورت ہے، بلکہ یہ مسائل ایسے انداز سے ظاہر ہو رہے ہیں، جن سے ہم واقف بھی نہیں۔‘‘ (۱) اس دور میں مغربی فکر کی طرف سے پیدا کردہ سوالات اور استشراقی مطالعات نے مسلم دنیا میں عمومی طور پر ماضی کی علمی روایت پر نظرثانی (Rethinking) کا ذہن پیدا کیا۔نظر ثانی کا یہ دائرہ تفسیر قرآن کے اسالیب، حدیث وسنت کی حجیت، فقہ اسلامی کی تشکیل جدید وغیرہ تمام اسلامی علوم پر پھیلا ہوا ہے۔مستشرقین کا حدیث پر کام ایک تو وہ ہے جو ایجابی نوعیت کا ہے جس میں بعض اصل عربی متون کی تدوین، ترجمہ، اشاریہ سازی اور جدید اسالیب تحقیق کے مطابق اشاعت ہے۔(۲) اس میں سے بعض افراد نے تو نقد حدیث کے وہی معیارات استعمال کیے جو مسلم اہل علم نے وضع کیے تھے، جب کہ بعض نے دیگر معیارات بھی وضع کیے۔(۳) ان معیارات میں بنیادی دخل ادبی اور تاریخی تنقید کے مناہج کا ہے۔ اس رجحان کا آغا Aloys Sprenger سے ہوا تاہم اس کو عروج تک پہنچانے میں سب سے مؤثر شخصیت معروف جرمن مستشرق گولڈ زیہر (Ignaz Goldziher) کی ہے۔گولڈ زیہر کا معاملہ اسلام کے حوالے سے عجیب ہے کہ ایک طرف اس کا اعتراف ہے کہ:

I truly entered into the spirit of Islam to such an extent that ultimately I became inwardly convinced that I myself was a Muslim, and judiciously discovered that this was the only religion which, even in its doctrinal and official formulation, can satisfy philosophical minds. My ideal was to elevate Judaism to a similar rational level.(4)

’’میں اس حد تک روحِ اسلام میں اتر گیا کہ داخلی طور پر مجھے یقین سا ہو چلا کہ میں خود مسلمان ہی ہوں اور شعوری سطح پر میں نے دریافت کیا کہ یہ وہ واحد مذہب ہے جو عقیدے اور فکری تشکیل کی سطح پر فلسفیانہ دماغوں کو مطمئن کر سکتا ہے۔میرا مطمح نظر یہ تھا کہ یہودیت کو بھی اسی طرح کے عقلی معیار تک پہنچاؤں۔‘‘

لیکن دوسری طرف اپنے استادVembery کے سامنے ایک گفت گو میں اس نے ایمان کے اقرار سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ غالباً اس کا وہی تعصب تھا جو اسے استشراقی روایت سے ورثے میں ملا تھا۔ نقد حدیث کے لیے اس نے وہی منہج اختیار کیا جسے بائبل کی تنقید کے سیاق میں Higher Criticismسے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس نے اسے بعض عبرانی دستاویزات کے نقد کے لیے بھی بروئے کار لایا تھا۔ اس کے اثرات مسلم اہل قلم نے (براہ راست مطالعے یا تراجم کے ذریعے) بھی قبول کیے۔ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ بیشتر احادیث جعلی اور فرضی ہیں جنھیں حکم رانوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے وضع کیا۔ اس تحریک نے برصغیر کے بہت سے ذہنوں کو بھی اپنی گرفت میں لیا۔حدیث و سنت کی حیثیت کو چیلنج کرنے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے سوال اٹھانے والی شخصیات میں سب سے اولین حیثیت سرسید احمد خان (م 1898ء) کی ہے اور پھر یہ سفر طے ہوتا ہوا جناب غلام احمد پرویز (م 1985ء) پر اپنے عروجِ کمال کو پہنچا۔ پرویز، حافظ اسلم جیراج پوری(م1955ء ) کے فیض یافتہ تھے۔ 1938ء میں جب علامہ اقبال کی وفات ہوئی تو ان کی یادگار کے طور پر سید نذیر نیازی نے مجلہ ’’طلوعِ اسلام ‘‘ جاری کیا جس کی سرپرستی کچھ عرصے بعد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انھوں نے اس میں جہاں فکر اقبال کی نشرواشاعت کی، وہیں اپنے افکار بھی اس کے ذریعے پھیلانے شروع کیے۔ قیام پاکستان کے موقع پر پاکستان آئے تو یہاں اپنے افکار کا کھل کر پرچار کیا۔ فکری طور پر ماضی کے مبتدع فرقوں میں معتزلہ سے عقیدت رکھتے تھے جس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں :’’اگر مسلک اعتزال باقی رہتا تو یہ جمود وتعطل جو آج مسلمانوں میں نظر آ رہا ہے، وجود میں نہ آتا اور علم وفکر کی دنیا میں مسلمان آج ایسے مقام پر کھڑے ہوتے جہاں ان کا کوئی مقابل نہ ہوتا۔‘‘ ( ۵) 

حدیث وسنت کے بارے میں جناب پرویز کے جمہور امت سے ہٹے ہوئے افکار سامنے آتے ہی ان پر نقد ونظر کا سلسلہ علماء کی طرف سے شروع ہوگیا اور دلائل وبراہین سے اس فکر کی علمی کمزوریوں اور داخلی تضادات واضح کیا گیا۔ اس موضوع پر تیار ہونے والا لٹریچر اس فکر کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب اصل میں فکر پرویز پر لکھی گئی تحریروں کا ایک انتخاب ہے۔ کسی موضوع پر نمائندہ تحریروں کا انتخاب اس اعتبار سے آسان ہے کہ اس میں مرتب خود تحقیق وتخلیق کے مرحلے سے نہیں گزرتا، لیکن اس پہلو سے مشکل ہے کہ اس انتخاب میں خوب سے خوب تر کی تلاش کے بغیر انتخاب جامع اور جان دار نہیں ہو پاتا۔علمی مواد کی تنگ دامانی جہاں تصنیف کے کام میں رکاوٹ ثابت ہوتی ہے، وہیں علمی مواد کی فراوانی بھی کچھ کم مشکل کا باعث نہیں ہوتی۔ ایک مؤلف کے سامنے معلومات کا ایک سیلاب ہوتا ہے اور اس نے اپنے ذوقِ سلیم کی مدد سے بہت سا مواد پڑھ کر ایسی تحریروں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو متعلقہ موضوع کی جملہ جہات کا احاطہ کرتی ہوں۔ یہ کام ظاہر ہے موضوع کے وسیع مطالعے اور اس پر ناقدانہ نظر کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

زیر تبصرہ کتاب کے انتخاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ جناب مرتب (محترم شکیل عثمانی) کی نظر فکر پرویز پر لکھے گئے لٹریچر پر غیر معمولی ہے اور انھوں نے اس انتخاب میں اپنے عمدہ ذوقِ سلیم ، تجربے اور وسعت مطالعہ کو کام میں لایا ہے۔ اس وقت مغربی دنیا میں مختلف موضوعات پر Anthologies ترتیب دینے کا چلن روز افزوں ہے۔ کیمبرج ، آکسفرڈ، راؤٹلج اور کئی دیگر اشاعتی ادارے مجموعہ ہاے مقالات شائع کر رہے ہیں، جو اپنے موضوع پر لکھنے والے اعلیٰ سطح کے قلم کاروں کی تخلیقات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے مجموعوں کی افادیت یہ ہوتی ہے کہ ان میں وہ سقم نہیں ہوتا، جو طبع زاد تصنیف کا پیٹ بھرنے کے لیے بسا اوقات ایک مصنف کی کتاب میں معروف اور تکرار شدہ مواد کے ذریعے پیدا ہوا جاتا ہے اور کہیں بہت بعد میں جا کر اصل موضوع کی باری آتی ہے۔ آج کتابوں کی مارکیٹ میں جو جامعات کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سندی مقالات شائع ہو کر سامنے آ رہے ہیں، ان میں سے بیش تر کا حال یہی ہے۔تبصرہ نگار کی راے میں اس طرح کی کتابوں کے بجائے اعلیٰ سطح کے اہل علم کے مقالات کے انتخابات علمی لحاظ سے زیادہ سود مند ہوتے ہیں، وللناس فیما یعشقون مذاھب۔

اس خوب صورت مجموعہ انتخاب میں نو تحریریں شامل ہیں: 1۔تحریک انکارِ سنت پر ایک نظر، مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی، 2۔ جناب پرویز کی فکر کے بنیادی خدوخال، پروفیسر خورشید احمد، 3۔ فکر پرویز کا علمی جائزہ، مولانا قمر احمد عثمانی، 4۔ پرویز صاحب اورا ن کے ’’قرآنی‘‘ نظریات، ماہر القادری، 5۔ تضاداتِ فکر پرویز، ڈاکٹر محمد دین قاسمی، 6۔پرویز صاحب کی اصل غلطی، خورشید احمد ندیم، 7۔ پرویز صاحب اور کفر کا فتویٰ، مولانا امین احسن اصلاحی، 8۔ مقتدر ’’باس‘‘اور غرض مند خوشامدی، پروفیسر وارث میر، 9۔ پرویز صاحب اور طلوعِ اسلام کا سیاسی کردار، شکیل عثمانی(مرتب کتاب)

اس انتخاب پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخری دو مضامین جناب پرویز کی ’شخصیت وکردار‘ کا احاطہ کرتے ہیں، جب کہ باقی مضامین ان کی فکرسے بحث کرتے ہیں۔ ’شخصیت‘ سے بحث کرنے والے مضامین پاکستانی سیاست کی گردشوں اور اقتدار کے بدلتے چہروں کے سامنے ’’طلوعِ اسلام‘‘ کی ’سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں ‘ کا مصداق پالیسی اور ’کشتہ سلطانی‘ مزاج کوعیاں کرتے ہیں۔ گورنز جنرل غلام محمد کی منفی پالیسیوں او رسیاست کا واضح نقشہ پروفیسر وارث میر نے اپنے مضمون میں کھینچ کر ’’طلوعِ اسلام‘‘ کے ان کو خطاب کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:’’اے پیکر عزم وبسالت کہ دنیا تجھے غلام محمد کہتی ہے، ہم ملت شریفہ پاکستان کی طرف سے ادب و احترام سے جھکی ہوئی آنکھوں، لرزتے ہوئے ہونٹوں، کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ہزار عقیدت وصد ہزار سپاس گزاری کے گلہائے تازہ تیری خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ یقین مانیے کہ فرطِ جذبات سے اس وقت ہمارے دل کی یہ حالت ہے کہ : آبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جائے ہے‘‘(۶) اسی طرح جناب شکیل عثمانی نے اپنے مضمون ’’ پرویز صاحب اور طلوعِ اسلام کا سیاسی کردار ‘‘ میں غلام محمد، صدر ایوب اور بھٹو وغیرہ کے دور میں ’’طلاعِ اسلام‘‘ کے خوشامدانہ طرز اور سیاسی موقف کی تبدیلیوں کو اقتباسات کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ دینی امور میں کسی کے افکار کو سامنے رکھتے ہوئے محض یہ دیکھنا کافی نہیں ہوتا کہ ’کیا کہہ رہا ہے‘ بلکہ ’کون کہہ رہا ہے‘ کو بھی اس لیے یکساں اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ دینی پیشوائی محض الفاظ کا لطف لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ منصب سب سے پہلے صاحبِ منصب سے اعلیٰ کردار کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہردور کے اصحابِ دعوت وعزیمت کے ہاں ہمیں زبان، دل کی رفیق ملتی ہے اور ان کے ہاں زہد فی الدنیا، اصحابِ جاہ وثروت سے دوری، بغیر کسی خوشامد کے کلمہ حق کہنے کی صدا بلند ہوتی ملتی ہے اور ان کے یہی اوصاف ان کے اخلاص للہ کی ظاہری علامت ہوا کرتے ہیں۔ 

بقیہ مضامین جناب پرویز کی فکر کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہیں۔ پہلا مضمون مولانا مودودی کا ہے جس میں انھوں نے معتزلہ کے عہد میں انکارِ سنت کی تحریک پر نظر ڈالتے ہوئے اس فتنے کے سدِ باب کے مختلف اسباب ذکر کیے ہیں اور پھر تہذیب مغرب کے استیلا کے نتیجے میں اس فتنے کی نئی اٹھان کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔انھوں نے انکارِ سنت کے اس نئے فتنے کے فروغ کے چھے اسباب بیان کیے ہیں اور ساتھ ہی پرویز صاحب کے نظامِ ربوبیت کو اختصار کے ساتھ چند نکتوں میں عمدگی سے سمو دیا ہے۔ 

دوسرا مقالہ پروفیسر خورشید احمد کا ہے جو مؤلف کی تصریح کے مطابق ایک طویل مقالے ’’دینی ادب ‘‘ سے لیا گیا ہے۔یہ مقالہ پنجاب یونی ورسٹی کی شائع کردہ کتاب ’’تاریخ ادبیات مسلمانان پاک و ہند‘‘ میں شامل ہے۔اس مقالے میں پرویز صاحب کی موضوعی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ ، ’’لغات القران‘‘، ’’نظامِ ربوبیت‘‘، ’’سلیم کے نام‘‘ وغیرہ کتابوں پر گفتگو کی ہے۔ مصنف کے مطابق ’’پرویز صاحب اور علامہ مشرقی کے بنیادی افکار میں کوئی فرق نہیں۔ان کے ہاں جو کچھ فرق ہے، فروعات اور تفصیلات کا ہے۔مشرقی صاحب نے گفتگو زیادہ تر عمومی کی ہے۔پرویز صاحب نے فلسفیانہ اور سماجی نقطہ نظر سے اپنے تصورات کو نسبتاًزیادہ واضح کیا ہے۔ ۔۔۔مشرقی صاحب زیادہ نظری اور بین الاقوامی معلوم ہوتے ہیں جب کہ پرویز صاحب کے نقطہ نظر پر سماجی اور معاشی پہلو کو غلبہ حاصل ہے۔‘‘(۷)

تیسرا مقالہ مولانا قمر احمد عثمانی کا ہے(۸) اور ان کی کتاب ’’ہماری مذہبی جماعتوں کا فکری جائزہ‘‘ کا ایک باب ہے۔ اس میں مولانا عثمانی نے پرویز صاحب کے اطاعت رسول،نظامِ ربوبیت،مسلمات کو تبدیل کرنے والی خود ساختہ اصطلاحات اور شعائر اسلامی کے استخفاف وغیرہ کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ 

چوتھا مقالہ جناب ماہر القادری کا ’’پرویز صاحب اور ان کے قرآنی نظریات ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ یہ مضمون پرویز صاحب کی فکر کا کافی جامعیت کے ساتھ احاطہ کرتا ہے۔اس میں پرویز صاحب کے قرآنی اصطلاحات و مفاہیم کو خود ساختہ اور چودہ سو سال میں امت کے لیے اجنبی معانی کا جامہ پہنانے پر گرفت کی گئی ہے۔ 

پانچواں مضمون ’’تضاداتِ فکرِ پرویز ‘‘ کے نام سے ڈاکٹر محمد دین قاسمی کے قلم سے ہے اور ان کی کتاب ’’جناب غلام احمد پرویز اپنے الفاظ کے آئینے میں‘‘ سے لیا گیا ہے۔اس مضمون میں بڑی محنت اور دقت نظر کے ساتھ پرویز صاحب کی فکر میں پندرہ تضادات کی بطور نمونہ نشان دہی کی گئی ہے۔ اس میں ایک دلچسپ تضاد پرویز صاحب کا مولانا مودودی?کے بارے میں راے بھی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے وہ مولانا مودودی کے علمی اور فکری کمالات کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں، لیکن جب ان کے محل نظر افکار سامنے آتے ہیں اور مولانا مودودی ان کی غلطیوں پر گرفت کرتے ہیں تو انھیں قرآن کی ابجد سے بھی ناواقف قرار دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دوسرے کے بارے میں اچھی یا بری راے قائم کرنے میں بڑی حد تک داخلی پسند ناپسند کااسیر ہوتا ہے اور یہ جذبہ اس کی فکر کا رخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے کئی مظاہر آج ہمارے سماج میں نظر آتے ہیں۔ 

چھٹے مضمون ’’پرویز صاحب کی اصل غلطی‘‘ میں جناب خورشید احمد ندیم نے واضح کیا ہے کہ پرویز صاحب کی اصل غلطی ان کے فہم قرآن کے اصول ہیں جو بنیادی طور پر غلط ہیں۔ یہ مضمون اچھا عمدہ اور فکری مضمون ہے اور اصل میں مؤلف کتاب ہی کے مرتب کردہ ایک چھوٹے سے کتابچے کا مقدمہ ہے جس میں جناب جاوید احمد غامدی نے پرویز صاحب کی قرآنی فکر پر نقد کیا ہے۔ پرویز صاحب کی قرآنی فکر کی کم زوریوں پر یہ ایک عمدہ گفتگو ہے۔ 

ساتویں مضمون ’’پرویز صاحب اور کفر کا فتویٰ‘‘ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے پرویز صاحب پر علما کی طرف سے فتواے کفر پر گفت گو کی ہے اور اس کو اصولاً درست قرار دیا ہے۔ یہ مضمون مولانا اصلاحی کی کتاب ’’تفہیم دین‘‘میں شامل ہے۔

جناب غلام احمد پرویز کی فکر کے مختلف پہلوؤں کے احاطے کے لیے یہ مجموعہ مختصر ہونے کے باوجود کافی جامع اور عمدہ ہے اور قاری کو بہت کچھ دے جاتا ہے۔، تاہم اگر اس میں حجیت حدیث اور تدوین حدیث کی تاریخ پر جامع تحریرات بھی شامل ہو جاتیں تو تو اس پروپیگنڈے کی ایک مرکزی غلطی پر بھی روشنی پڑ جاتی۔ اسی طرح اس طرح کے مجموعہ مضامین میں فکر پرویز کے بارے میں مزید مطالعے کے لیے کتابوں، مجلات، مقالات وغیرہ کی بھی ایک فہرست فراہم ہو جاتی تو اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔ 

کتاب، معروف اشاعتی ادارے کتاب سراے (لاہور) سے عمدہ معیار پر شائع ہوئی ہے۔ جب سے کتابوں کی اشاعت کمپیوٹر کمپوزنگ کے ذریعے ہونا شروع ہوئی ہے، ان میں اغلاط کی بھرمار نظر آتی ہے۔ اس کتاب کے ساتھ بھی یہ مسئلہ درپیش ہوا ہے ، جس کے لیے کتاب کے آغاز میں مؤلف کو ’صحت نامہ‘ شامل کرنا پڑا ہے۔


حواشی

۱ ۔ محمد اسد،’’ ملتِ اسلامیہ دو راہے پر‘‘ ، ترجمہ ، محبوب سبحانی(لاہور:دارالسلام، 2004ء)، 15۔

۲ ۔ اس نوعیت کا ایک جامع اور عمدہ اشاریہ Concordance and Indices of Muslim Tradition (Leiden, 1936) ہے۔اس میں صحاح ستہ کے علاوہ بعض دیگر مجموعے بھی شامل ہیں۔اس منصوبے کا آغاز ونسنک ، ہارویز اور دیگر مستشرقین نے کیا تھا۔ بعد میں اس کام کی تکمیل میں معروف محقق فؤاد عبدالباقی نے بھی حصہ لیا۔ 1936ء میں اس کی پہلی اور 1988ء میں اس کی آٹھویں اور آخری جلد شائع ہوئی، تاہم اس میں کئی فاش اغلاط بھی تھیں جن کی تصحیح اور کمپیوٹر ایڈیشن کی تیاری کے لیے جامعہ ازہر میں ایک بورڈ تشکیل دیا گیا۔

۳ ۔ برٹش اسکالر جے رابسن اور امریکی اسکالر این ایبٹ حدیث کے روایتی فریم ورک کو تسلیم کرتے ہیں ، جب کہ گولڈ زیہر اور جوزف شاخت کا پیش کردہ منہج تشکیکی ہے۔ یورپی زبانوں میں حدیث لٹریچر پر ایکاچھے مطالعے کے لیے دیکھیے: 

Denffer, Ahmad, Literature on Hadith in European Languages (Leicester, 1981)

4- See. Siddiqi,op.cit ,125.

۵ ۔ ’’طلوعِ اسلام‘‘،30 جولائی 1955ء بحوالہ، عبدالرحمن کیلانی ،’’آئینہ پرویزیت حصہ اول، معتزلہ سے طلوعِ اسلام تک‘‘(لاہور: مکتبۃ السلام، 1987ء )، 112۔

۶ ۔ وارث میر،’’مقتدر باس اور غرض مند خوشامدی‘‘ مشمولہ ’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘، مرتب، شکیل عثمانی(لاہور:کتاب سرائے ، 2016ء)، 161۔ 162۔

۷ ۔ خورشید احمد، ’’جناب پرویز کی فکر کے بنیادی خدوخال‘‘، نفس مرجع، 28۔

۸ ۔ مولانا قمر احمد عثمانی ، معروف دیوبندی عالم مولانا ظفر احمد عثمانی کے بیٹے ہیں۔ ان کے دوسرے بیٹے ’’فقہ القرآن‘‘ کے مصنف مولانا عمر احمد عثمانی ہیں۔ ان دونوں حضرات کے بارے میں عام طور پر مشہور ہے کہ وہ منکر حدیث ہیں، لیکن بظاہر یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ تدبر حدیث کے حوالے سے ان کا منہج عام اسلوب سے ذرا مختلف ہے، لیکن اسے انکارِ حدیث سے موسوم نہیں کیا جاسکتا۔ جنوری 1968ء کے ’’البلاغ‘‘میں مولانا ظفر احمد عثمانی اور ان کے ایک شاگرد کے درمیان ایک مکالمہ شائع ہوا جس پر اہل حدیث مکتب فکر کے معروف مجلے ’’الاعتصام ‘‘ نے بہت سخت نقد کیا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ مولانا ظفر احمد عثمانی کے بیٹے منکر حدیث ہیں۔مولانا ظفر احمد عثمانی نے مولانا عمر احمد عثمانی کے ایک مختصر رسالے ’’خاتمۃ الکلام فی القراء ۃ خلف الامام ‘‘ کے پیش لفظ میں اس بات کو محض الزام قرار دیا ہے کہ ان کے بیٹے حجیت حدیث کے منکر ہیں۔ (دیکھیے: عمراحمد عثمانی، ’’خاتمۃ الکلام فی القراء ۃ خلف الامام ‘‘، دیباچہ مولانا ظفر احمد عثمانی (حیدر آباد: العزیز پبلی کیشن ہاؤس، س ن)، 2،3۔)

تعارف و تبصرہ