فرانس کے ایک مختصر دورے کے تاثرات

محمد عمار خان ناصر

(یہ تاثرات الشریعہ اکادمی میں منعقدہ ایک مجلس میں بیان کیے گئے جنھیں ٹیپ ریکارڈر سے مولانا محمد کامران نے منتقل کیا اور ایڈیٹنگ کے بعد انھیں یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔)


۱۲ سے ۱۴ دسمبر ۲۰۱۴ء، مجھے تین دن کے لیے فرانس کے شہر Lyon میں امیر عبد القادر الجزائریؒ کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سلسلہ تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ پروگرام مختلف قسم کی سرگرمیوں پر مشتمل تھا اور اس کا اہتمام بنیادی طور پر فرانس میں مقیم الجزائری مسلمانوں کی ایک مقامی تنظیم نے کیا تھا، جبکہ امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور تاریخی کردار سے مختلف حوالوں سے دلچسپی رکھنے والی بعض دوسری تنظیموں نے اس میں معاونت کی تھی۔ الجزائر میں، جو امیر عبد القادر کا اصل وطن ہے، کئی فورمز پر اور کئی حوالوں سے مختلف سطحوں پر امیر عبد القادر کی شخصیت پر کام ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک تنظیم موسسۃ الامیر عبد القادر ہے، وہ بھی اس پروگرام کی ترتیب اور انتظام میں شریک تھی۔ اسی طرح امریکہ کی ریاست آئیووا (Iowa) میں ایک چھوٹا سا قصبہ Elkader امیر عبد القادر کے دور میں ہی ان کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ وہاں ایک تنظیم ’’عبد القادر ایجوکیشن پروجیکٹ‘‘ کے عنوان سے امریکی اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو امیر عبد القادر کی شخصیت اور کردار سے متعارف کروانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے سرکردہ افراد بھی اس پروگرام میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر آئے تھے۔ اس کے علاوہ دعوت نامے پر کئی اور تنظیموں کا نام بھی لکھا ہوا تھا، لیکن بنیادی طور پر اس کی منتظم فرانس میں الجزائری مسلمانوں کی مذکورہ تنظیم ہی تھی۔

Lyon ، یہ پیرس کے بعد فرانس کا دوسر ابڑا شہر ہے، آبادی کے لحاظ سے بھی اور تاریخی اہمیت کے لحاظ سے بھی۔ کئی صدیاں پہلے یہ علاقہ فرانس کے نام سے معروف نہیں تھا، بلکہ تاریخی طور پر اس خطے کو Gaul کہا جاتا تھا۔ قرون وسطیٰ میں فرانکس کی ایک خاص نسل یہاں آ کر آباد ہوئی تو اس کے بعد اس نے کسی مرحلے پر فرانس کا نام اختیار کر لیا۔ رومی سلطنت کے دور میں Lyon کو گال کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔ بعد میں پھر دار الحکومت پیرس میں منتقل ہو گیا۔ اس لحاظ سے اس شہر کی تاریخی لحاظ سے بھی اور بعض دوسرے حوالوں سے بھی بڑی اہمیت ہے۔ امیر عبد القادر الجزائری کو فرانسیسی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کے بعد ترکی کی طرف جلاوطن کرنے سے پہلے جب کچھ عرصے کے لیے فرانس میں نظر بند رکھا گیا اور پھر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو رہائی کے بعد فرانس سے رخصت ہونے سے پہلے وہ ۱۸۵۲ء میں دسمبر کی ۱۲ اور ۱۳ تاریخ کو اس شہر میں آئے تھے۔ اسی مناسبت سے انھی تاریخوں میں ان کی یاد میں Lyon میں یہ تقریبات منعقد کی گئیں جن میں شرکت کی غرض سے میرا یہ سفر ہوا۔

مجھے جب اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تو میں نے فوراً قبول کر لی۔ مجھے پچھلے چند سالوں سے عبد القادر الجزائری کی شخصیت میں خاص دلچسپی رہی ہے اور پاکستان میں ان کی شخصیت کو عمومی طور پر متعارف کروانے کے لیے ایک امریکی مصنف جان کائزر کی کتاب کا اردو ترجمہ یہاں چھپوانے میں بھی میرا کردار رہا ہے۔ چنانچہ میں نے اس پروگرام میں شرکت کی پیش کش کو فوراً قبول کر لیا۔ الجزائری کی شخصیت سے دلچسپی کے علاوہ خاص طور پر اس پروگرام میں شرکت کے بھی کئی محرکات تھے۔ مجھے دلچسپی تھی کہ یہ دیکھا جائے کہ آج دنیا میں مختلف سطحوں پر مختلف ذہنی پس منظر رکھنے والے لوگ عبد القادر کی شخصیت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تو وہ کون سے مختلف پہلو ہیں جو ان کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں اور جن کی وجہ سے آج عبد القادر کی شخصیت کو یوں کہہ لیں کہ نئے سرے سے دریافت کیا جا رہا ہے۔ اپنے دور میں تو عبد القادر عالمی شہرت یافتہ شخصیات میں شامل تھے۔ ۱۸۳۲ء سے ۱۸۴۸ء تک کا دور وہ ہے جس میں وہ الجزائر میں فرانس کے خلاف جنگ آزادی لڑ رہے تھے۔ تقریباً اسی دور میں ہمارے ہاں برصغیر میں سید احمد شہید نے تحریک مجاہدین برپا کی تھی اور وسط ایشیا میں اسی زمانے میں امام شامل روسی افواج کے خلاف برسر پیکار تھے۔ امام شامل کا عرصہ جہاد ذرا لمبا ہے اور وہ تیس سال تک روس کے خلاف جہاد کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں راہ نماؤں کے آپس میں قریبی روابط بھی تھے۔ 

اپنے دور میں امیر عبد القادر دنیا کی ایک قدر آور شخصیت تھے جس کی وجہ ایک تو فرانس کے خلاف جدوجہد آزادی تھی۔ پھر انھوں نے جلاوطنی کے دور میں ۱۸۶۰ء میں دمشق میں مسلم مسیحی فسادات میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں بے گناہ مسیحیوں کو شر پسندوں کے ہاتھ قتل ہونے سے بچایا اور اپنی حویلی میں لا کر انھیں پناہ دی۔ جو گروہ شر وفساد پھیلانے اور مسیحیوں کا قتل عام کرنے کے لیے نکلے ہوئے تھے، انھیں اپنے مقاصد میں کامیابی سے روکنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت مڈل ایسٹ میں مغربی طاقتوں کی سیاست خاص طور پر اس نکتے پر مرکوز تھی کہ یہاں مقیم مختلف مسیحی گروہوں کی حفاظت کون سی طاقت کرے گی۔ برطانیہ اور فرانس میں خاص طو رپر اس کے لیے سیاسی مسابقت چل رہی تھی اور مسیحیوں کے تحفظ کے دعوے کے ساتھ یہ طاقتیں اس مسئلے کو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ مذاکرات میں بھی اٹھاتی تھیں۔ اس ضمن میں بعض اہم معاہدے بھی ہوئے اور یہ مغربی طاقتیں اس مسئلے کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف ایک سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہی تھیں۔ ۱۸۶۰ء کے واقعے سے قبل الجزائری کا تعارف مسلمان دنیا، خاص طور پر عرب دنیا میں تو تھا ہی اور مغربی دنیا بھی عمومی طور پر ان کے نام سے واقف تھی، لیکن دمشق کے اس کردار کی وجہ سے مغربی پریس نے انھیں بہت زیادہ کوریج دی اور بڑے بڑے عالمی لیڈروں نے ان کے اس اقدام کو سراہا اور تحسین کے کلمات کہے۔ اسی دور میں امریکہ کی ریاست آئیووا (Iowa) میں آباد کاری ہو رہی تھی تو ایک قصبے کا نقشہ بنانے والے انجینئر کو پریس میں خبروں اور مضامین کے ذریعے سے عبد القادر کا تعارف ہوا اور وہ ان کے کردار سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اس قصبے کا نام Elkader رکھ دیا۔ 

اپنے دور میں امیر عبد القادر کا سیاسی اثر ورسوخ بھی کافی تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس دور میں جب اس امکان پر باقاعدہ گفتگو چل رہی تھی کہ شام کا علاقہ سلطنت عثمانیہ سے الگ ہو کر ایک آزاد عرب ریاست کی شکل اختیار کر لے تو مختلف سطحوں پر شام کے گورنر کے طور پر امیر عبد القادر کا نام لیا جانے لگا۔ گویا انھیں ایک ایسی شخصیت تصور کیا جا رہا تھا جن کی قیادت کو شام کے مختلف سیاسی گروہ اپنے داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر قبول کرنے کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ تاہم عبد القادر نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ آخری عمر میں سیاست کے دھندوں سے الگ ہو کر تعلیم وتدریس، تصنیف اور روحانی مشاغل کی طرف یکسو ہو چکے تھے۔

میں عرض کر رہا تھا کہ عبد القادر اپنے دور کی ایک عالمی شہرت یافتہ اور قابل احترام شخصیت تھے۔ اگر آپ امیر عبدالقادر کے حالات پر اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مواد تلاش کرنا چاہیں تو سب سے زیادہ لٹریچر فرانسیسی زبان میں ملے گا، کیونکہ عبد القادر نے جلاوطنی سے پہلے کچھ عرصہ فرانس میں نظر بندی کی حالت میں گزارا ہے۔ اس عرصے میں ان کے فرانس کے مذہبی راہ نماؤں ، کیتھولک چرچ کے پادریوں اور فرانس کے سیاسی لیڈروں سے بڑے اچھے ذاتی روابط قائم ہو گئے۔ انھوں نے اپنے مسیحی حلقہ احباب کے لوگوں سے مذہبی مسائل پر گفتگو اور تبادلہ خیال بھی کیا اور خطوط کا تبادلہ بھی کرتے رہے۔ انھوں نے عربی میں تنبیہ العاقل وذکری الغافل کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں ایک کیتھولک بشپ کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو اس نے عقلی لحاظ سے اسلام کی تعلیمات پر کیے تھے اور کہا تھا کہ اسلام کی تعلیمات عقلی لحاظ سے محل نظر ہیں۔ یعنی فرانس کے علمی اور مذہبی حلقوں میں ان کا خاصا تعارف ہے اور فرانس میں کافی لوگ عبد القادر کی شخصیت اور افکار پر تحقیقی وتصنیفی کام کرتے رہتے ہیں۔ ابھی اسی سفر میں میری ملاقات وہاں کے ایک کیتھولک بشپ Christian Delorme سے ہوئی جنھوں نے حال ہی میں امیر عبد القادر پر فرانسیسی زبان میں L'Emir Abd El-Kader a Lyon (امیر عبد القادر لے آن میں) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا ایک نسخہ انھوں نے میری فرمائش پر مجھے بھی دیا۔ مجھے اگرچہ فرانسیسی نہیں آتی، لیکن میں نے ان سے اس کتاب کا نسخہ لے لیا۔ تو الجزائری پر سب سے زیادہ کام فرانسیسی زبان میں ہوا ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر عربی زبان میں کام ہوا ہے جو زیادہ تر علمی حلقوں تک محدود ہے۔ 

بہرحال ۱۸۸۳ء میں ان کی وفات کے بعد یوں لگتا ہے کہ تاریخ انھیں بھول گئی ہے۔ گویا انھیں فراموش کر دیا گیا ہے، لیکن اب پچھلے چند سالوں سے دوبارہ ان کی شخصیت کا احیا ہوا ہے۔ الجزائر کی حکومت، الجزائر کی سول سوسائٹی کے مختلف طبقات ان کی شخصیت اور کردار کے تعارف میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ باقی عرب دنیا میں بھی ان کا ازسر نو تعارف ہو رہا ہے اور عرب سے جو لوگ امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں گئے ہیں، وہ بھی اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ گویا آپ کہہ سکتے ہیں کہ مختلف سطحوں پرامیر کی شخصیت دوبارہ توجہ کا مرکز بن رہی ہے اور یہی چیز میرے لیے اس سفر میں دلچسپی کی ایک خاص وجہ تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ مختلف پس منظر کے لوگ وہاں آئے ہوں گے اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال سے یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ الجزائری میں کس کس حوالے سے دلچسپی لی جا رہی ہے اور ان کی شخصیت کے کون کون سے پہلو موضوع مطالعہ ہیں۔ الحمد للہ کافی لوگوں سے ملاقات ہوئی اور تبادلہ خیال کا موقع بھی ملا اور بہت سے اہم پہلو سمجھنے میں مدد ملی۔

یہ تین دن کا پروگرام تھا جس میں مختلف طبقات کے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے دو تین الگ الگ انداز کی مجالس اور سرگرمیاں منظم کی گئی تھیں۔ پہلے دن جب میں پہنچا تو ایئر پورٹ سے مجھے سیدھا ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں ابتدائی تعارفی تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔ یہ تقریب فرانس کی عام کمیونٹی کے لیے تھی جس میں مسلمان، غیر مسلم، مرد، عورتیں، طلبہ اور عام لوگ شریک تھے۔ دو تین مقررین نے امیر عبد القادر کی شخصیت اور آج کے دور کے حوالے سے ان کی اہمیت پر مختصر بات کی۔ اگلے دن اس پروگرام کے آرگنائزر فواد چرغی نے اپنے گھر میں الجزائری مسلمانوں کے مختلف گھرانوں اور فرانس کی بعض مقامی فیملیوں کو جمع کیا ہوا تھا۔ یہ ایک طرح کا Social get-together تھا، ایک بہت ہی غیر رسمی قسم کا اکٹھ تھا جس میں فیملیاں آپس میں بیٹھ کر گپ شپ اور تبادلہ خیال بھی کرتی ہیں۔ کھانے پینے کا بھی بندوبست تھا اور مہمانوں کو عربوں کی مشہور ڈش ’’کس کس‘‘ پیش کی گئی جو بالکل پھیکی تھی اور مجھے تو بہت ہی بدذائقہ لگی۔ اس میل جول کی تقریب کو ہلکا سا touch امیر عبد القادر کے تعارف کا دے دیا گیا تھا۔ مختلف فلیکس آویزاں کیے گئے تھے جن میں امیر عبد القادر کی تصویر کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اقتباسات درج تھے۔ مکان کے باہر دو تین منزلہ عمارت کی دیوار پر الجزائری کی ایک بہت بڑی تصویر لگائی گئی تھی جس کی باقاعدہ نقاب کشائی کی گئی۔

پروگرام کے تیسرے اور آخری دن Lyon کی ژاں ملاں یونیورسٹی (Jean-Mullen University) میں اساتذہ اور طلبہ اور پڑھے لکھے طبقات کے لیے ایک علمی نوعیت کی نشست رکھی گئی تھی۔ مجھے اس آخری نشست میں آخری گفتگو کے لیے کہا گیا۔ اس گفتگو کا عنوان تھا: امیر عبد القادر الجزائری کا تصور جہاد۔ میں نے اپنی مختصر گفتگو میں عبد القادر کے تصور جہاد اور اس وقت ہمیں پاکستان اور افغانستان میں جہاد کا جو تصور اور نمونہ دیکھنے کو مل رہا ہے، ان کے مابین تقابل کیا اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان میں سے کون سا تصور جہاد فقہی وشرعی اصولوں کی درست نمائندگی کرتا ہے۔ امیر نے سولہ سال تک جن اصولوں کے تحت جہاد کیا، اس سے ہمارے سامنے جہاد کا جو نقشہ آتا ہے اور جہاد کی جو شکل ہم اس وقت اپنے خطے میں دیکھ رہے ہیں، دونوں کے مابین تضاد کی نسبت ہے۔ عبد القادر کے بعض فیصلوں سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن میری رائے میں ان کا تصور جہاد بڑی حد فقہی اور شرعی اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ ہم اس وقت جو نقشہ دیکھ رہے ہیں، وہ ان اصولوں کی کسی بھی درجے میں نمائندگی نہیں کرتا۔ میں نے اسی پہلو سے گفتگو کے لیے یہ عنوان منتخب کیا کہ جہادکے ان دونوں تصورات میں ہم کن کن پہلووں سے تقابل کر سکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اگر شرعی اصولوں کی روشنی میں جہاد کیا جائے تو اس کا عملی نقشہ کیا ہوگا۔ میں نے اپنی تقریر انگریزی میں لکھی ہوئی تھی، لیکن فرانس میں انگریزی سمجھنے والے لوگ بہت کم ملیں گے۔ ایک مقامی خاتون نے، جن کی اپنی انگریزی اتنی اچھی نہیں تھی، میری تقریر کا فرانسیسی میں ترجمہ کیا اور بحیثیت مجموعی میرا تاثر یہ ہے کہ میں جو کچھ کہنا چاہ رہا تھا، وہ لوگوں تک پہنچ گیا۔ تقریر کے بعد انفرادی ملاقاتوں میں میری گفتگو کے حوالے سے پسندیدگی ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ اس تقریر میں بہت مختصر اور ٹو دی پوائنٹ یعنی بالکل متعین طریقے سے اسلام کے تصور جہاد کے ضمن میں پانچ چھ اہم اصول بیان کر دیے ہیں جن کا لحاظ الجزائری کے ہاں نظر آتا ہے، جبکہ موجودہ تصور جہاد میں انھیں پامال کیا جا رہا ہے۔

میں نے اپنی گفتگو میں اسلام کے تصور جہاد کے ضمن میں جو نکات واضح کیے، ان میں سے نکتہ یہ تھا کہ جہاد کے حقیقی تصور کی روح یہ ہے کہ جہاد کو ذاتی اقتدار یا دولت یا اثر ورسوخ کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ تو ایک فریضہ ہے جو مسلمانوں کو مخصوص حالات میں ایک ذمہ داری کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس میں personal ambitions اور دولت واقتدار کی خواہش شامل ہو جائے تو اللہ کی نظر میں وہ جہدوجہد اپنی روح کے لحاظ سے بے وقعت قرار پاتی ہے۔ امیر کے ہاں جہاد کی یہ اسپرٹ بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ انھوں نے دو مرحلوں پر اس وقت جب کہ وہ باقاعدہ امیر المومنین بن چکے تھے اور الجزائر کا ایک پورا علاقہ ان کے زیر تصرف تھا جس پر ان کی حکومت قائم تھی، مراکش کے بادشاہ کو یہ درخواست کی کہ یہ علاقے جو ہمارے زیر نگیں ہیں، آپ ان کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیں اور یہاں اپنا کوئی نمائندہ مقرر کر دیں جو معاملات کا انتظام وانصرام کرے۔ امیر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ واپس اپنی خانقاہی زندگی اور تعلیم وتدریس کی مشغولیت کی طرف لوٹ جاؤں۔ اس حوالے سے شاہ مراکش کے نام امیر کے جو خطوط ہیں، وہ ہنری چرچل نے اپنی کتاب میں نقل کیے ہیں۔ ہنری چرچل ایک برطانوی مصنف تھا جس نے امیر کے قیام دمشق کے زمانے میں مسلسل کئی مہینے تک امیر عبد القادر سے ملاقاتیں کر کے ان کی یادداشتیں قلم بند کیں اور انھیں ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر دیا۔ یہ کتاب انگریزی میں ہے، جبکہ اس کا عربی ترجمہ حیاۃ الامیر عبد القادر  کے نام سے انٹر نیٹ پر دستیاب ہے اور عبد القادر کے حالات سے متعلق ایک بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں ہنری چرچل نے امیر کے وہ خطوط نقل کیے ہوئے ہیں جو انھوں نے شاہِ مراکش کو لکھے تھے۔ امیر کا یہ اقدام یقینی طور پر جہاد کی صحیح اسپرٹ کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس وقت ہم خاص طور پر اپنے خطے میں جہاد کے نام پر جو سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں، اس میں حقیقی جہادی روح کا واضح فقدان دکھائی دیتا ہے اور واقفان حال جانتے ہیں کہ اب تو اس نے دولت اور اقتدار کے ایک گھناؤنے کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ 

دوسری چیز جو میں نے اپنی گفتگو میں واضح کی، یہ تھی کہ جہاد چند اخلاقی اصولوں کی پابندی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ان اصولوں کی پابندی ہوگی تو شریعت کی نظر میں وہ جہاد ہے، ورنہ نرا فساد ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جنگ کے دوران میں بے گناہوں پر اور ان لوگوں پر جو جنگ میں شریک نہیں، ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔ قیدیوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ اخلاقی اصولوں کے دائرے میں ہونا چاہیے اور آپ دشمن کے ساتھ جو بھی معاہدہ کریں، اس کی لفظ ومعنی کے اعتبار سے آپ نے پابندی کرنی ہے۔ عبد القادر الجزائری کے ہاں ان اصولوں کی بڑی غیر معمولی پاس داری دکھائی دیتی ہے۔ جنگی قیدیوں کے حوالے سے تو ان کا کردار اتنا غیر معمولی ہے کہ اس وقت دنیا میں جنگی قیدیوں کے حوالے سے جو بین الاقوامی قانون ہے، اس کے بارے میں اب یہ بات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے لگی ہے اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بعض کانفرنسیں اس موضوع پر منعقد ہوئی ہیں کہ قیدیوں کے حقوق سے متعلق اخلاقی تصورات کو بین الاقوامی سطح پر معاہداتی شکل دینے میں اور جدید بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھنے میں عبد القادر الجزائری کی کوششوں کو جنیوا کنونشنز پر سبقت حاصل ہے اور عبد القادر نے اس ضمن میں فرانسیسی حکومت کے ساتھ جو معاہدات کیے، وہ دور جدید میں اس نوعیت کی پہلی کوشش کا درجہ رکھتے ہیں۔ عبد القادر نے اپنی قید میں آنے والے فرانسیسی فوجیوں کی نہ صرف جسمانی دیکھ بھال اور حفاظت کا بندوبست کیا، بلکہ ان کی مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فرانسیسی حکومت سے پادریوں کو بھیجنے کی درخواست کی اور فرانس کے ساتھ قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے باقاعدہ معاہدات کیے۔ اس موضوع پر اسی سفر میں مجھے ایک عرب مصنف کی لکھی ہوئی ضخیم کتاب بھی دستیاب ہوئی جو الجزائر کی موسسۃ الامیر عبدالقادر کی ایک اعلیٰ عہدیدار خاتون زہور بو طالب نے دی جو امیر عبد القادر کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور تیسری چوتھی پشت میں ان کا رشتہ عبد القادر کے ننھیال سے جا ملتا ہے۔ کم وبیش چھ سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب مصطفی خیاطی نے لکھی ہے اور فرانسیسی زبان میں L'Emir Abd El Kader: Fondateur du Droit Humanitaire International (امیر عبد القادر: بین الاقوامی قانون انسانیت کا بانی) کے عنوان سے دو سال قبل الجزائر میں منعقد ہونے والی ’’امیر عبد القادر اور جدید بین الاقوامی قانون انسانیت‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر شائع کی گئی ہے۔ مصنف نے اس میں تفصیل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عبد القادر الجزائری جدید بین الاقوامی انسانی قانون کے بانی ہیں۔ 


میرے لیے اس سفر میں دلچسپی کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھاکہ اس میں جان ڈبلیو کائزر شریک ہو رہے تھے۔ یہ وہی مصنف ہیں جنھوں نے الجزائری کی داستان حیات پر چند سال قبل انگریزی میں Commander of the Faithful کے عنوان سے ایک مقبول اور دلچسپ کتاب لکھی ہے۔ میں نے اس کتاب کا اردو ترجمہ ایڈٹ کر کے اسے پاکستان میں چھپوانے میں کافی کام کیا تھا۔ کائزر امریکہ کی ریاست ورجینیا میں شہری ماحول سے دور اپنے ایک فارم پر الگ تھلگ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی عمر ستر سال سے زیادہ ہے، لیکن صحت اور جوش وجذبہ کے لحاظ سے بالکل جوان ہیں۔ ان کی کتاب کے مسودہ پر نظر ثانی اور پھر اردو ترجمہ کی ایڈیٹنگ اور اشاعت کے اس سارے عرصے میں میری ان سے ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ ایک خاص تناظر میں مجھے کائزر سے ملاقات کی خواہش تھی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کائزر کی کتاب کے حوالے سے ہمارے ہاں بعض مذہبی اخبارات میں امیر عبد القادر کی شخصیت کے متعلق ایک بحث چھیڑی گئی اور امیر کے کردار کے مختلف پہلوؤں پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔ اردو میں چونکہ الجزائری کی شخصیت کے متعلق کوئی تفصیلی ماخذ ابھی تک دستیاب نہیں، اس لیے بحث میں سارا حوالہ کائزر کی کتاب ہی کا تھا۔ میں نے جب اس کتاب پر کام کیا تو میرے ذہن میں بھی بہت سے سوالات آئے تھے، تاہم کائزر سے براہ راست ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر سوالات ذہن میں ہی رہے۔ میں نے کتاب کے مندرجات کے حوالے سے اور یہ کہ کائزر نے یہ کیسے مرتب کی اور کن کن مآخذ سے فائدہ اٹھایا اور خاص طور پر یہ کہ انھیں الجزائری کی شخصیت سے کیسے دلچسپی پیدا ہوئی، کئی سوالات کی فہرست اپنے پاس لکھی ہوئی تھی تاکہ کائزر سے ملاقات کے موقع پر تو ان سوالات کے حوالے سے ان سے گفتگو کر سکوں۔ اس سفر میں یہ مقصد کافی حد تک پورا ہوا۔ ہمارا قیام چونکہ ایک ہی ہوٹل میں تھا، اس لیے مختلف نشستوں میں کائزر سے تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع ملا اور جو سوالات میرے ذہن میں تھے، تقریباً ان سب پر بات ہوئی۔

ایک بڑا اہم سوال یہ تھا کہ کائزر نے یہ کتاب تاریخی تحقیق کے اسلوب میں نہیں لکھی، بلکہ ایک کہانی یا داستان کے انداز میں لکھی ہے اور جو شخص بھی اس کو پڑھے گا، اس کو نظر آئے گا کہ اس کا تاریخی پس منظر اور بیان کردہ واقعات کی تفصیلات بنیادی طور پر تاریخی ہیں یعنی افسانوی نہیں ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ جب آپ تاریخی واقعات کو کہانی کی شکل دیتے ہیں تو اس میں آپ کو کچھ فکشن بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔ میرے سامنے سوال یہ تھا کہ کائزر نے واقعات کی تحقیق میں کتنا کام کیا ہے۔ میں نے جب کائزر کے سامنے یہ سوال رکھا تو اور بعض اہم واقعات جو انھوں نے کتاب میں درج کیے ہیں، ان کے اصل مآخذ سے متعلق دریافت کیا تاکہ ان سے رجوع کر کے تحقیق کی جا سکے تو کائزر نے کہا کہ میں نے اس کتاب میں محقق کا کام نہیں کیا، یعنی میں نے عبد القادر کے حالات کی کوئی تاریخی تحقیق نہیں کی، اس لیے کہ تحقیقی نوعیت کی کتابیں بہت سے لوگوں نے لکھی ہوئی ہیں اور خاص طور پر فرانسیسی زبان میں ا س حوالے سے کافی بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ 

کائزر نے کہا کہ مجھے یہ کتاب لکھنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اگرچہ فرانسیسی زبان میں امیر عبدالقادر کی شخصیت پر کافی کام ہوا ہے، لیکن ایک تو فرانسیسیوں کا جو اسلوب کلام ہے، وہ condescending tone میں لکھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں فرانسیسیوں کا احساس برتری جھلکتا ہے۔ چونکہ امیر کو فرانسیسیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور پھر انھیں فرانس میں لا کر محبوس رکھا گیا اور پھر جلا وطن کیا گیا تو قدرتی طور پر فرانسیسی جب عبدالقادر کے بارے میں لکھتے ہیں تو اگرچہ اس میں کوئی تحقیر یا تضحیک نہیں ہوتی، لیکن condescending toneبہرحال ہوتی ہے۔ اس وجہ سے فرانسیسی میں لکھی گئی کوئی کتاب مجھے ایسی نہیں ملی جسے امیر عبد القادر کی شخصیت کے غیر جانب دارانہ تعارف کے لیے پیش کیا جا سکے اور خاص طور پر عرب دنیا میں جس کا کوئی اچھا تاثر ہو۔ کائزر نے کہا کہ اس وجہ سے مجھے یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ غیر جانب دارانہ انداز میں امیر کی داستان حیات تحریر کی جائے۔

کائزر نے دوسری بات یہ کہی کہ امیر پر لکھی گئی بیشتر کتابوں کا انداز تحقیقی کتاب کا ہے جس میں حوالہ جات اور تحقیق کے دیگر لوازمات شامل ہونے کی وجہ سے وہ ایک عام آدمی کی دلچسپی کی نہیں رہتی۔ میں نے یہ چاہا کہ ایک عام آدمی کے لیے جسے تاریخی تحقیق میں کوئی دلچسپی نہیں، لیکن اس کے سامنے امیر کی شخصیت اور کردار کا ایک نقشہ آنا چاہیے، ایک کتاب لکھی جائے۔ چنانچہ میں نے اس کتاب میں ایک محقق کی ذمہ داری انجام نہیں دی اور نہ بہت زیادہ اصل مآخذ سے رجوع کیا ہے۔ میرا انحصار ثانوی مآخذ پر رہا ہے اور میں نے واقعات کی تاریخی تحقیق پر اتنی توجہ نہیں دی جتنا اس بات پر دی ہے کہ اسے ایک عام آدمی کے لیے قابل فہم، آسان اور دلچسپ بنایا جائے۔ اس تناظر میں، میں نے جب کائزر سے کتاب میں درج بعض بڑے اہم واقعات کے ماخذ سے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ میں نے مآخذ تو نوٹ نہیں کیے۔ جب میں مطالعہ کر رہا تھا تو جو چیزیں مجھے اپنے مقصد کے لحاظ سے دلچسپ اور مفید لگیں، وہ میں نے لے لیں، لیکن اب میرے ذہن میں بالکل نہیں ہے کہ میں نے کون سی بات کہاں سے لی ہے۔ البتہ کتاب کے انگریزی نسخے کے آخر میں کائزر نے فرانسیسی اور انگریزی کے ان مآخذ کی ایک عمومی فہرست دے دی ہے جن سے انھوں نے اس کام کے دوران میں استفادہ کیا۔

میں جن واقعات کی تحقیق کے لیے ان کے اصل تاریخی ماخذ سے متعلق جاننا چاہ رہا تھا، وہ کم وبیش وہی تھے جن کا ذکر کچھ عرصہ قبل ہمارے ہاں امیر کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کے لیے ایک ناگوار اور سطحی قسم کی صحافیانہ مہم میں کیا گیا اور انھیں بطور اعتراض نمایاں کیا گیا۔ مثلاً کائزر نے اپنی کتاب میں بعض لوگوں کے بیانات نقل کیے ہیں کہ انھوں نے امیر کے گھر میں ان کی پانچ بیویاں دیکھیں۔ کائزر نے اگرچہ اس پر حاشیے میں یہ وضاحت کی ہوئی ہے کہ اس بیان کی تصدیق کا اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ ہمارے پاس نہیں، لیکن بہرحال ایک بیان تو آ گیا اور اس کی بنیاد پر کوئی شخص پیالی میں طوفان اٹھانا چاہے تو اٹھا سکتا ہے۔ کائزر نے کہا کہ میرا اپنا خیال بھی یہ ہے کہ امیر کی بیویاں چار ہی تھیں، جبکہ پانچویں شاید ان کی کوئی باندی ہوگی، کیونکہ عربوں میں اس وقت تک لونڈیوں کا سلسلہ موجود تھا۔ ظاہر ہے کہ جس خاتون نے بتایا کہ اس نے امیر کے گھر میں پانچ بیویاں دیکھیں، اس نے محض ایک مشاہدہ بیان کیا ہے۔ یہ تو نہیں بتایا کہ اس نے باقاعدہ اس کی تحقیق کی تھی اور امیر کے اہل خانہ سے یہ پوچھا تھا کہ گھر کے افراد میں سے فلاں کون ہے اور فلاں کون۔ عین ممکن ہے کہ اس نے قیاس سے کام لیتے ہوئے یہ سمجھا ہو کہ یہ پانچوں امیر کی بیویاں ہیں، اس لیے یہ بات قرین قیاس نہیں لگتی کہ امیر نے (شریعت کے واضح اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے) بیک وقت پانچ بیویاں اپنے نکاح میں رکھی ہوں گی۔

کائزر سے دوسرا سوال میں نے یہ پوچھا کہ انھوں نے کتاب کے آخری حصے میں ایک آزاد خیال برطانوی خاتون جین ڈگبی کے امیر عبد القادر کی مجالس میں آنے جانے اور ان کے باہمی روابط کا ذکر کیا ہے۔ ان کی درج کردہ تفصیلات سے بعض بیمار ذہنوں نے یہ اخذ کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر کے اس خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ میں نے کائزر سے پوچھا کہ کیا واقعتا تاریخی لحاظ سے ان کے تعلقات اس نوعیت کے تھے یا کیا خود کائزر نے ان دونوں کے باہمی تعلقات کے متعلق کتاب میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ کائزر یہ سوال سن کر بے ساختہ مسکرائے اور فوراً نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگے کہ نہیں، یہ تاثر بالکل درست نہیں۔ میں نے تو ان دونوں کی باہمی ملاقاتوں کا ذکر اس پہلو سے کیا ہے کہ میرے خیال میں یہ دونوں شخصیات اپنے ماحول سے باغی شخصیات تھیں اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خود ایک جرات مند اور حریت فکر رکھنے والی شخصیت ہونے کی وجہ سے امیر کے حلقہ احباب میں بھی بعض ایسے افراد شامل تھے جو اپنی اپنی ثقافت او رماحول سے باغی تھے۔

ایک اور اہم سوال امیر عبد القادر کی فری میسنری میں شمولیت سے متعلق تھا۔ فری میسنری مغرب میں کئی صدیوں سے قائم ایک تنظیم ہے جس کے فکری رجحانات وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ عبد القادر کی شخصیت کے متعلق تاریخی طور پر جو متنازع فیہ سوالات ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آیا انھوں نے فری میسنری میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی یا نہیں۔ عبد القادر کے خاندان کے لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ فری میسنری میں ان کی شمولیت تاریخی طور پر ثابت نہیں۔ اس حوالے سے عربی زبان میں بعض تفصیلی تحریریں انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔ تاہم بعض دیگر مورخین امیر کی اس تنظیم میں شمولیت کے قائل ہیں۔ کائزر کا اپنا رجحان یہ تھا کہ چونکہ فری میسنری کی اپنی بعض کتابوں اور فہرستوں میں امیر عبد القادر کی شمولیت کا ذکر ملتا ہے، اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ انھوں نے فری میسنری کی طرف سے شمولیت کی دعوت قبول کی ہوگی اور اس میں کوئی اچنبھے کی بات اس لیے نہیں ہے کہ اس وقت یعنی آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے فری میسنری کے متعلق وہ تصور عام نہیں تھا جو آج مسلم دنیا میں پایا جاتا ہے۔ اس کے متعلق یہ تصور موجود نہیں تھا کہ یہ کوئی صہیونی ایجنڈے پر بنائی گئی تنظیم ہے یا اس کا مقصد کچھ خفیہ مقاصد کی تکمیل ہے۔ اس وقت یوں سمجھ لیں کہ اسے دانش وروں کا ایک فورم سمجھا جاتا تھا۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے سیاسی، مذہبی، سماجی اور فکری راہ نما جنھیں علمی وفکری بحثوں میں دلچسپی ہوتی تھی، وہ ان کا حصہ ہوتے تھے اور اپنی مجا لس میں مذہب اور معاشرے سے متعلق ایسے سوالات پر آزادانہ بحث ومباحثہ کرتے تھے جو عمومی سطح پر زیر بحث نہیں لائے جا سکتے تھے۔ ہر مذہب اور ہر نقطہ خیال کے لوگ ان مجلسوں میں بیٹھ کر اس طرح کے مسائل پر باہم تبادلہ خیال کرتے تھے۔ کائزر کا خیال یہ تھا کہ عبد القادر چونکہ خود ایک بہت بڑے مفکر تھے او ر فلسفہ اور مذہب سے متعلق بڑے اہم او رنازک سوالات پر مخصوص آرا رکھتے تھے، اس لیے یہ کوئی بعید بات نہیں لگتی کہ انھوں نے فری میسنری کی طرف سے اس تنظیم میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہو اور ان کی مجالس میں شریک ہوتے رہے ہوں، کیونکہ فری میسنری کے بارے میں اس وقت کوئی منفی تصور نہیں پایا جاتا تھا۔ البتہ کائزر نے کہا کہ میں اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تعلق باقاعدہ فری میسنری کا رکن بننے کی صورت میں قائم ہوا یا عبد القادر کی رہائش پر ان کی بعض مجالس میں شرکت تک محدود رہا، لیکن بہرحال ایک نوعیت کا تعلق ضرور رہا ہے۔

اس بحث سے متعلق ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ کائزر کی کتاب کے اردو ترجمہ کا جو مسودہ مجھے بھیجا گیا، اس میں اس مقام پر یہ لکھا ہوا ہے کہ ۱۸۷۷ء میں عبدالقادر نے میسونی تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ’’جب اس سوسائٹی میں الحاد پرستوں کو بھی شامل کر لیا گیا تو عبد القادر کے نزدیک یہ اس تنظیم کا ناقابل قبول اقدام تھا جس کے ارکان نے عیسائیت سے الگ ہو کر محض توحید پرستی کی راہ اپنائی تھی اور اب سوسائٹی بے خدا انسان پرستی کو قبول کرنے کے راستے پر چل نکلی تھی، چنانچہ عبد القادر نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔‘‘ (ص ۴۴۱) یہ پیراگراف کتاب کے انگریزی نسخے میں یہ شامل نہیں ہے۔ میں نے کائزر سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ تھوڑی دیر اپنی کتاب کے انگریزی متن اور پھر کتاب کے آخر میں درج تعلیقات کو دیکھتے رہے۔ پھر وہ کچھ کنفیوز سے ہو گئے اور کہنے لگے کہ مجھے یاد نہیں آ رہا کہ یہ بات میں نے لکھی ہے اور یہ کہ اگر یہ نوٹ میرا لکھا ہوا ہے تو انگریزی متن میں کیوں شامل نہیں۔ یوں اس نکتے پر کائزر کے ساتھ گفتگو سے بات واضح ہونے کے بجائے الجھ سی گئی۔ میں نے پوچھا کہ ان تمام باتوں کا تاریخی ماخذ کیا ہے اور یہ تفصیلات کہاں مل سکتی ہیں تو کائزر نے کہا کہ یہ چیزیں اب مجھے مستحضر نہیں۔ 

کائزر کے ساتھ گفتگو میں ایک اور بڑی اہم بات سامنے آئی جو کتاب کے انگریزی متن میں تو شامل ہے، لیکن افسوس ہے کہ اردو ترجمے میں شامل نہیں ہو سکی اور اس کی وجہ سے ہمارے ہاں ہونے والی صحافیانہ بحث میں ایک بڑا سوال اٹھا دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ چونکہ عبد القادر نے شکست قبول کرنے کے بعد جلا وطنی کے دور میں فرانسیسی حکومت سے وظیفہ لینا شروع کردیا تھا، اس لیے ان کی ساری جہادی جدوجہد ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ ایک حقیقت ہے کہ جلا وطنی کے بعد امیر کی زندگی میں اور اس کے بعد ۱۹۵۴ء تک فرانسیسی حکومت امیر کے خاندان کو سالانہ ایک متعین رقم ادا کرتی رہی ہے۔ میرے ذہن میں بھی اس کی حقیقی نوعیت پوری طرح واضح نہیں تھی، لیکن اس سفر کے دوران میں مجھے کائزر کی کتاب کے انگریزی نسخے کو دوبارہ دیکھنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ ایک بڑا اہم حاشیہ کائزر نے لکھا ہوا ہے جس کی انھوں نے زبانی تصدیق بھی کی اور کچھ مزید معلومات بھی فراہم کیں۔ وہ یہ کہ یہ رقم جو امیر کو اور ان کے خاندان کو دی جاتی رہی، درحقیقت الجزائر میں امیر کے خاندان کی ملکیت ان زمینوں کا معاوضہ تھی جو فرانسیسی حکومت نے ضبط کر لی تھیں۔ ان کی جلاوطنی کے موقع پر فرانسیسی حکومت نے یہ فیصلہ کیا، جس میں بہرحال فرانسیسی حکومت کی good willبھی جھلکتی ہے، کہ چونکہ ہم نے امیر کی خاندانی زمینیں ضبط کر لی ہیں، اس لیے امیر کے خاندان کو اپنے خرچ اخراجات کے لیے اس کے معاوضے کے طور پر سالانہ ایک متعین رقم دی جائے گی تاکہ وہ جہاں بھی رہیں، اسے اپنے اخراجات پر صرف کر سکیں۔ 

کائزر نے بتایا کہ امیر کی وفات کے بعد ایک موقع پر فرانس میں یہ بات زیر بحث آئی کہ جب عبد القادر وفات پا چکے ہیں تو کیا اس رقم کی ادائیگی ان کی زندگی تک محدود تھی یا ان کے بعد ان کے خاندان کو بھی دی جائے گی؟ اس پر فرانس کی عدالت میں ایک مقدمہ چلا اور عدالت نے یہ قرار دیا کہ چونکہ یہ عبد القادر کی ذاتی زمینیں نہیں تھیں، بلکہ ان کے خاندان کی مشترکہ ملکیت تھیں اور یہ رقم بھی عبد القادر کو ذاتی حیثیت میں، بلکہ خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے دی جا رہی تھی، اس لیے یہ ان کے بعد ان کے خاندان کو بھی بدستور ادا کی جاتی رہے گی۔ چنانچہ اس فیصلے کے مطابق ۱۹۵۴ء تک فرانسیسی حکومت امیر کے خاندان کویہ رقم ادا کرتی رہی۔ پھر ۱۹۵۴ء میں فرانس کی سینیٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ اب یہ سلسلہ ختم ہو جانا چاہیے۔ میری خواہش تھی کہ اس مقدمے سے متعلق کچھ مزید تفصیلات دستاویزی صورت میں مل جائیں، تاہم کائزر اس ضمن میں کوئی مدد نہیں کر سکے۔ ان کے حافظے میں بس اتنی ہی بات محفوظ تھی۔

سوالات وجوابات

سوال: کیا جان کائزر مسلمان ہیں؟

جواب: نہیں، وہ مسلمان نہیں۔ البتہ وہ مسیحی ہیں یا نہیں اور مسیحی تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں، یہ میں ان سے نہیں پوچھ سکا۔ میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ وہ مسیحی ہیں۔ بنیادی طور پر کائزر جو سوچ رکھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ مغرب نے جس رخ پر ترقی کی ہے، اس میں مادیت پر بہت زور ہے اور روحانی قدروں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس اندھا دھند ترقی کے نتیجے میں انسانی زندگی میں سکون اور اطمینان ناپید ہو گیا ہے اور ماحولیاتی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سوچ رکھنے والے تعداد میں محدود ہیں، لیکن اس کے ترجمان آپ کو مغربی معاشروں میں مل جائیں گے۔ کائزر بھی اسی طرز فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے موبائل فون نہیں رکھا ہوا اور وہ ریاست ورجینیا میں شہر سے دور اپنے ایک فارم پر رہتے ہیں۔ وہ جدید طرز معاشرت کے سخت ناقد ہیں جس میں اخلاقی قدریں مفقود ہوتی جا رہی ہیں اور انسانی زندگی کو ایک مشینی زندگی بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جو سرمایہ دارانہ نظام ہے اور اندھا دھند ترقی کا جو رجحان ہے، یہ انسانیت کو بالکل تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ کائزر نے ایک دلچسپ بات یہ کہی، جس سے ان کے انداز فکر کا کسی حد تک اندازہ کیا جا سکتا ہے، کہ طالبان کا جو انصاف فراہم کرنے کا طریقہ ہے، وہ مجھے اچھا لگتا ہے، کیونکہ ایک تو وہ فوری انصاف پر یقین رکھتے ہیں اور دوسرے ان کا سزا دینے کا طریقہ جرائم کو روکنے میں موثر ہے۔ مثلاً کائزر نے کہا کہ اگر عورت کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرم کو خصی کر دیا جائے تو یہ سزا اس جرم کو روکنے میں بہت موثر ثابت ہوگی۔

سوال: عبد القادر نے جب خلافت عثمانیہ سے الگ ہو کر قائم ہونے والی مجوزہ عرب ریاست کی قیادت قبول کرنے سے انکار کیا تو اس کی وجہ کیا تھی؟ کیا ان کی مصروفیات ا س میں رکاوٹ تھیں یا وہ مسلمانوں کے سیاسی اتحاد میں دراڑ نہیں ڈالنا چاہتے تھے؟

جواب: نہیں۔ انھوں نے اس سے متعلق سوال کے جواب میں یہ کہا تھاکہ ’’مجھے اب دنیاوی جاہ وجلال کی کوئی تمنا نہیں ہے۔ میں اب صرف خاندان کے ساتھ رہنے، عبادت کرنے اور سکون سے وقت گزارنے جیسے خوشیاں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ امیر طبعاً ایک سیاسی اور ہنگامہ خیز زندگی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اس سے پہلے انھوں نے الجزائر میں جو کردار ادا کیا، وہ بھی اس لیے تھا کہ اس صورت حال میں اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کوئی متبادل میسر نہیں تھا۔ طبعاً وہ خلوت کی زندگی کو پسند کرتے تھے۔ وہ ابن عربی کے فلسفے سے متاثر بھی تھے اور اس کے بہت بڑے شارح بھی۔ ابن عربی کی فلسفیانہ تعلیمات کی تشریح میں عبد القادر نے اپنی مشہور اور ضخیم کتاب ’’المواقف‘‘ تصنیف کی ہے۔ جلاوطنی کے بعد انھوں نے اپنے آپ کو مطالعہ اور روحانی مشاغل میں مصروف کر لیا تھا اور اب دوبارہ وہ سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ میرے خیال تو انکار کی بنیادی وجہ یہی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہ محسوس کرتے ہوں کہ انھیں پیش کش کرنے والے جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ عرب ان کی قیادت قبول کرنے پر متفق ہو جائیں گے، وہ اتنا قابل عمل خیال نہیں ہے۔ 

بہرحال آپ نے سوال میں جو وجہ ذکر کی ہے، وہ قرین قیاس نہیں لگتی، کیونکہ عبد القادر ان لوگوں میں سے تھے جو ترکوں اور ترک حکام کے طرز حکومت سے سخت نالاں تھے ۔ ہمارے ہاں تو عام طور پر اس مسئلے کو اس حوالے سے دیکھا جاتا ہے کہ انگریزوں نے عربوں میں قومیت کا جذبہ بیدار کر کے انھیں ترکی خلافت کے خلاف ابھارا، لیکن عربوں کے زاویہ نظر سے آپ دیکھیں تو ان کے لیے آخری دور میں ترکوں کی حکومت اسی طرح کی ایک imperialist حکومت بن چکی تھی جس طرح ہم ہندوستان میں برطانوی حکومت کو سمجھتے تھے۔ ترک عربوں اور اپنے زیر نگیں دوسری قوموں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ترک حکام میں بدعنوانی اور کرپشن عام ہو چکی تھی اور بدانتظامی پھیلی ہوئی تھی۔ انگریزوں نے یقیناًاپنے مقاصد کے تحت عربوں میں اس احساس کو بڑھاوا دیا اور منافرت کو تقویت پہنچائی، لیکن بہرحال ترکوں سے عربوں کو بہت سی جینوئن شکایات بھی تھیں۔ عبد القادر کا ذہنی رجحان بھی یہی تھا کہ ترک حکام متکبر اور نااہل ہیں اور ہمیں گڈ گورننس نہیں دے رہے۔ اس لحاظ سے مجھے نہیں لگتا کہ عبد القادر نے اسلامی اتحاد جیسے مفروضے کے زیر اثر مجوزہ عرب ریاست کی قیادت قبول کرنے سے انکار کیا ہو۔

سوال: ترکوں کا رویہ اور طرز حکومت کیا تھا جس سے ان لوگوں کو شکایت تھی؟

جواب: دیکھیں، جیسے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ برطانوی باہر سے آ کر ہندوستان پر مسلط ہو گئے ہیں، اگرچہ انھوں نے یہاں کافی انتظامی سہولتیں بھی فراہم کیں، لیکن ہم انھیں ذہنی طور پر قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں عربوں کے احساسات ترکوں کے متعلق اسی طرح کے ہو چکے تھے۔ اس کی بڑی وجہ خود ترکوں میں ایک نخوت کا رویہ تھا جو پیدا ہو چکا تھا۔ قومی مفاخرت کا احساس ترکوں، عربوں اور ایرانیوں، ان تینوں قوموں میں بڑی شدت سے موجود ہے۔ عرب سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام کے اصل وارث ہیں۔ ایرانی یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں جتنی تہذیبی، علمی اور فکری ترقی ہے، اس میں تو عربوں کا کوئی کردار ہی نہیں۔ کتب حدیث کے مدونین بیشتر عجمی ہیں، تمام نامور مسلمان فلسفی سرزمین ایران سے تعلق رکھتے ہیں، حتیٰ کہ عربی زبان سے متعلق علوم کو مرتب اور مدون کرنے والے اہل علم بھی زیادہ تر عجمی ہیں۔ ہمارے دوست میر احمد علی ایرانیوں کا یہ مقولہ سناتے ہیں کہ عربوں نے تو دنیا کو صرف نبی دیا ہے، اسلام کے لیے باقی سارا کام تو ہم نے کیا ہے۔ اسی طرح کی قومی نخوت ترکوں میں بھی تھی جس کا اظہار ترک حکام کے رویے اور انداز حکومت میں بھی ہوتا تھا اور عرب آخری دور میں اس سے سخت نالاں ہو چکے تھے۔

سوال: اس کی کیا وجہ ہے کہ امیر عبد القادر الجزائری اتنا اہم آدمی ہے، لیکن اس کو دنیا کے سامنے ہم نے متعارف نہیں کرایا، بلکہ ایک مغربی مصنف نے اس کو دوبارہ دریافت کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے؟ اگر اہل مغرب اس کے تعارف میں دلچسپی محسوس کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ امیر عبد القادر کا تصور جہاد انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے زیادہ موزوں لگتا ہے اور انھیں اس میں کم خطرہ نظر آتا ہے، جبکہ طالبان کو جو تصور جہاد ہے، وہ ان کے لیے زیادہ خطرناک ہے؟ جیسے وہ صوفی ازم کو فروغ دینا چاہتے ہیں، کیا اسی طرح کا معاملہ امیر عبد القادر کے حوالے سے تو نہیں؟

جواب: دیکھیں، اس وقت امیر عبد القادرکی شخصیت میں بہت سے حلقے دلچسپی لے رہے ہیں جس میں مغرب کے بعض حلقے بھی شامل ہیں، لیکن یہ بات صحیح نہیں کہ ان کے تعارف کی ابتدا اہل مغرب نے کی ہے۔ کائزر کی کتاب تو کوئی تین چار سال قبل لکھی گئی ہے۔ ان کی شخصیت کو دوبارہ دریافت کرنے کا آغاز الجزائر سے ہوا ہے اور الجزائری حکومت اور خود امیر عبد القادر کے خاندان کے لوگ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ الجزائر کے لوگ امیر عبد القادر کو جدید الجزائر کا بانی سمجھتے ہیں، یعنی قدیم قبائلی طرز زندگی کی جگہ الجزائر کو جدید خطوط پر ایک منظم ریاست بنانے کا آغاز عبد القادر کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔ عبد القادر صرف ایک مجاہد نہیں تھے، بلکہ بہت زبردست منتظم بھی تھے۔ اس کی تفصیلات پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں کہ انھوں نے الجزائر کی قبائلی معاشرت کوبالکل جدید طرز پر استوار کرنے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے۔ اس لحاظ سے الجزائری قوم امیر عبد القادر کو وہی حیثیت دیتی ہے جو ہم اپنی تاریخ میں سرسید احمد خان، علامہ اقبال یا قائد اعظم کو دیتے ہیں۔ سو ان کی شخصیت کے تعارف میں اس وقت initiative اہل مغرب نے نہیں لیا، البتہ اہل مغرب کی دلچسپی یقیناًاس میں ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں ان کا اپنا مفاد بھی شامل ہے۔ انھیں جہاد کے صحیح یا غلط تصور سے دلچسپی نہیں ہے۔ ان کا مطمح نظر یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت جو انتہا پسندی کی ایک سوچ ہے، اس میں کمی آئے۔ 

تو اہل مغرب کو اس لحاظ سے عبد القادر کے تصور جہاد سے دلچسپی ہو سکتی ہے کہ وہ کم سے کم ایسا تصور جہاد نہیں ہے جس میں عام شہریوں کو مارنا بھی درست سمجھا جاتا ہو اور جس میں ہر حال میں لڑنے مرنے ہی کو منتہائے مقصود قرار دیا گیا ہو۔ پھر یہ کہ عبد القادر کا جو طرز فکر ہے دوسرے مذاہب، خاص طور پر مسیحیت کے بارے میں، وہ بھی اہل مغرب کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ مثال کے طو رپر کائزر نے مجھے الجزائری کی شخصیت میں دلچسپی کی دو وجوہ بتائیں۔ ایک یہ کہ عبد القادر یہ کہتے ہیں کہ یہودیت، مسیحیت اور اسلام، ان تینوں کا آپس میں بڑا گہرا رشتہ ہے، کیونکہ یہ ایک ہی ماخذ سے پھوٹے ہیں اور انبیاء کے ایک ہی سلسلے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے مابین کزنز کا رشتہ ہے۔ میں نے کائزر سے کہا کہ یہ عبد القادر کا کوئی منفرد خیال نہیں ہے۔ سارے مسلمان یہی مانتے اور سمجھتے ہیں، البتہ اس کا عملی اثر ان مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ آپ کے رویے اور طرز عمل میں کس طرح دکھائی دیتا ہے، اس میں عبد القادر کسی حد تک مختلف جگہ کھڑے ہیں اور وہ چیز ہمیں عام مذہبی رویے میں دکھائی نہیں دیتی۔ بہرحال اصولی طور پر یہ تصور عبد القادر کا کوئی منفرد تصور نہیں ہے۔

کائزر نے دوسری وجہ یہ بتائی، جو زیادہ دلچسپ ہے، کہ میرے لیے یہ بات بڑی حیران کن تھی کہ عبد القادر یہ کہتے ہیں وہ جو ایک مسیحا نے آنا ہے جس نے آ کر مسلمانوں کو غلبہ دلانا ہے، وہ وہی یسوع مسیح ہے جس پر مسیحی ایمان رکھتے ہیں۔ میں نے کائزر سے کہا کہ یہ بھی عبد القادر کا کوئی منفرد خیال نہیں۔ سارے مسلمان یہی مانتے ہیں کہ آخری زمانے میں آنے والے مسیح، وہی یسوع مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ کائزر نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا سارے مسلمان، چاہے وہ عوام ہوں یا پڑھے لکھے لوگ، یہی مانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ یہ بات کائزر کے لیے مزید حیران کن تھی۔

سو عبد القادر کی شخصیت میں دلچسپی کے مختلف پہلو ہیں اور مختلف حلقے مختلف حوالوں سے ان میں دلچسپی محسوس کر رہے ہیں۔ مثال کے طو ر پر فرانس میں الجزائری کمیونٹی جس نے اس تین روزہ پروگرام کے انتظامات کیے، ان کی دلچسپی الجزائری میں نہ اس حوالے سے ہے کہ وہ ایک بہت بڑے عالم تھے، نہ اس حوالے سے ہے کہ وہ ایک بڑے مجاہد تھے۔ ان کی دلچسپی ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ فرانس میں الجزائری کمیونٹی بہت زیادہ احساس محرومی کا شکار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ تو الجزائری حکومت اپنا سمجھتی ہے اور نہ فرانس کے لوگ اپناتے ہیں۔ الجزائر کے لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ فرانس میں رہتے ہو اور فرانسیسی ہو، جبکہ فرانس کے لوگ ہمیں اس طرح دیکھتے ہیں کہ ہم الجزائر سے آئے ہیں اور الجزائری ہیں۔ یوں الجزائری مسلمانوں کی نئی نسل بے حد احساس محرومی کا شکار ہے۔ اب یہ لوگ عبد القادر میں اس وجہ سے دلچسپی محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہماری نئی نسل کو یہ معلوم ہوگا کہ ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں ایک ایسی شخصیت تھی جسے بین الاقوامی سطح پر اتنا احترام حاصل تھا تو اس سے ان کے اندر ایک خود اعتمادی پیدا ہوگی اور اگر ہم اس شخصیت کا آج کی فرانسیسی کمیونٹی کے سامنے تعارف کروائیں گے تو اس سے دونوں کمیونٹیوں کے مابین جو ایک فاصلہ ہے، اس کو پاٹنے میں مدد ملے گی۔

اب آپ دیکھیں کہ شخصیت ایک ہے، لیکن اس میں مختلف حلقوں کے لیے دلچسپی کے مختلف پہلو موجود ہیں۔ اگر اہل مغرب یا امریکہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں الجزائری کے تصور جہاد کو عام کرنا انھیں زیادہ suit کرتا ہے تو ضرور وہ ایسا سمجھتے ہوں گے، لیکن اگر یہ تصور جہاد خود فقہ وشریعت کے معیارات کے لحاظ سے ایک درست تصور ہے تو ہم صرف اس وجہ سے تو اس کو رد نہیں کر سکتے کہ اہل مغرب بھی اس کا فروغ چاہتے ہیں۔ اگر وہ جہاد کا صحیح تصور ہے اور شرعی اصولوں کی درست نمائندگی کرتا ہے اور اس وقت ہم جس مسخ شدہ تصور جہاد کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، ا س کے مقابلے میں ایک متبادل تصور اور نمونہ ہمیں دیتا ہے تو ہم کیوں نہ اس کو قبول کریں اور لوگوں کو اس سے متعارف کروائیں؟ اگر امریکہ کی تائید سے عملاً جہاد کا فریضہ انجام دیا جا سکتا ہے اور اس سے اس کے استناد پر کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تو جہاد کے ایک صحیح تصور اور نمونے کو محض اس بنیاد پر کیسے مسترد کیا جا سکتا ہے کہ اسے فروغ دینے میں، اپنے مقاصد کے تحت، اہل مغرب کو بھی دلچسپی ہے؟

سوال: امام شامل اور امیر عبد القادر، ان دونوں کے آپس میں کس نوعیت کے تعلقات تھے؟ اگر ہم ان کی جدوجہد کے حوالے سے دیکھیں تو دونوں کا طرز عمل ایک جیسا نظر آتا ہے، یعنی امام شامل نے بھی بعد میں جہادی سرگرمیاں ترک کر دیں۔ 

جواب: امام شامل اور امیر عبد القادر نے اپنی جدوجہد کے آخری مرحلے میں ہتھیار ڈال دیے اور دونوں نے اپنی قوم کو یہ مشورہ دیا کہ وہ یہ راستہ چھوڑ دیں، کیونکہ مزید جانیں گنوانے کے علاوہ اس کا کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دیتا اور کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ اس وجہ سے بعض انتہا پسند چیچن گروہ امام شامل کو بھی ’’غدار‘‘ شمار کرتے ہیں کہ انھوں نے جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بجائے درمیان میں چھوڑ دیا۔ بہرحال ان دونوں ہم عصر لیڈروں کے مابین ذاتی دوستی کا تعلق تھا اور دونوں کے مابین خطوط کا تبادلہ بھی ہوتا رہا ہے۔ کائزر نے بتایا کہ فرانسیسی زبان میں ایک پوری کتاب لکھی گئی ہے جس میں تاریخی دستاویزات کی روشنی میں امام شامل اور امیر عبد القادر کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کائزر نے اس کتاب کا نام اپنی کتاب کے انگریزی نسخے کے آخر میں مراجع ومصادر میں درج کیا ہوا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ اس کتاب کو حاصل کیا جائے اور کسی فرانسیسی جاننے والے کی مدد سے اس استفادہ کیا جائے۔ 

کائزر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب نہر سویز کا افتتاح ہوا تو افتتاحی تقریب میں امیر عبدالقادر کے ساتھ امام شامل بھی موجود تھے۔ امام شامل ان دنوں روسی حکومت کی اجازت سے حج کے لیے آئے ہوئے تھے او ر سعودی عرب میں مقیم تھے۔ مدینہ میں ان کی وفات ہوئی اور وہ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ انھیں نہر سویز کے افتتاح کے موقع پر دعوت دی گئی اور امیر عبد القادر کے ساتھ ان کی ایک تصویر بھی موجود ہے۔ ہمارے ہاں امیر عبدالقادر کے خلاف جو طوفان بدتمیزی اٹھایا گیا، اس میں ان کے خلاف یہ نکتہ بھی پیش کیا گیا کہ چونکہ وہ نہر سویز کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے تھے اور نہر سویز کا سارا منصوبہ ہی یہودی اور صہیونی سازش تھا، اس لیے اس موقع پر جو لوگ بھی موجود تھے، ان کی موجودگی ان کے یہودی ایجنٹ ہونے کا ثبوت ہے۔ اگر اس سطحی طرز استدلال کو مانا جائے تو صرف عبد القادر کو نہیں، بلکہ امام شامل کو بھی صہیونی ویہودی ایجنٹ باور کرنا پڑے گا۔

سوال: مسلمان جو مزاحمت کر رہے ہیں اور جہاد کے نام پر جو کچھ بھی کر رہے ہیں، ان کو بتانے کے لیے تو ہمارے پاس اصول موجود ہیں کہ شریعت یہ کہتی ہے۔ لیکن جو ان کی مخالف قوتیں ہیں، ان کے لیے کیا معیار ہے؟ کیا بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر کو ہم بنیاد بنائیں گے یا عیسائیت جو راہنما اصول دیتی ہے، وہ بتا کر ان سے یہ کہیں گے کہ جنگ کے یہ اصول ہیں جن کی تم خلاف ورزی کر رہے ہو؟

جواب: دیکھیں، یہاں دو باتیں ہیں۔ ایک بات یہ کہ اگر آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت یا کبھی بھی قانون یا اصول کی حکمرانی رہی ہے یا کبھی ہوگی تو یہ بڑی سادگی کی بات ہے۔ دنیا میں اصلاً طاقت کی حکمرانی ہے اور طاقت اپنے طرز عمل کا جواز اخلاقیات سے نہیں، بلکہ اپنی طاقت سے ہی اخذ کیا کرتی ہے۔ تو پہلا کام جو اس وقت ہمیں کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم کوئی ایسی حماقت نہ کریں جس کے نتیجے میں ہم دشمن کو، جس کے ساتھ ہمارا طاقت کا کوئی توازن ہی نہیں ہے، موقع دیں کہ وہ ہم پر چڑھ دوڑے۔ مخالف قوتوں کے پاس کوئی واقعی جواز ہو یا محض ایک بہانہ، ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اپنی کسی حماقت سے دشمن کو طاقت کے استعمال کا موقع نہ دیں جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ حماقتیں کیے بغیر، اس وقت دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جہاں جہاں ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے، ان کی داد رسی کے لیے دنیا میں جو نظم بنا ہوا ہے، ہم اس کا جتنا بہتر سے بہتر استعمال کر کے مسلمانوں کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں، نکالنے کی کوشش کریں۔ مثلاً اقوام متحدہ کی سطح پر دنیا میں بعض اصول مان لیے گئے ہیں۔ جمہوریت کا اصول ہے، قوموں کے لیے حق خود ارادیت کا اصول ہے۔ اب یہ ہماری صلاحیت پر ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے ان سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ہمارا مسئلہ اس وقت یہ نہیں ہے کہ قانون میں یا نظام کے دائرے میں سرے سے کوئی راستے ہی موجود نہیں۔ راستے موجود ہیں اور راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ یہ ہماری حکومتوں کی مفاد پرستیاں اور سیاسی ترجیحات ہیں جو آڑے آ جاتی ہیں۔ مثلاً فلسطین کا جو مسئلہ ہے، آپ کا کیا خیال ہے کہ ا س کو بگاڑنے میں ارد گرد کی عرب حکومتوں کا اور خود فلسطینیوں کا تھوڑا ہاتھ ہے؟ اسرائیل کو تو ہم سامنے رکھ لیتے ہیں کوسنے اور اپنی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کے لیے۔ فلسطین کا مسئلہ پیدا کرنے میں، اس کو بگاڑنے میں اور مشکلات میں اضافہ کرنے میں اسی نوے فی صد کردار ارد گرد کی عرب حکومتوں کا اور خود فلسطینیوں کے داخلی افتراق وانتشار اور باہمی لڑائیوں کا ہے۔ تو یہ ہماری داخلی کمزوریاں ہیں، ورنہ اس وقت دنیا میں جو بھی نظام بنا ہوا ہے، اس کے تحت پر امن طریقے سے مشکلات کے حل کے لیے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ ہم خود اس سے فائدہ اٹھانے اور راستے نکالنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہے اور اس کے لیے جو ضروری کوشش ہے، خود کو اس کا اہل ثابت نہیں کرپا رہے۔

سوال: عبد القادر فرانس کے خلاف لڑتے رہے، اس کے باوجود فرانس میں ان کی یاد میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ تو کیا فرانسیسی حکومت اس کی اجازت دے رہی ہے؟

جواب: دیکھیں، مغربی ملکوں میں جو آزادئ رائے کا تصور ہے، وہ ہمارے یہاں سے کافی مختلف ہے۔ یورپی ملکوں میں سے فرانس میں شہری آزادیوں کا دائرہ نسبتاً محدود ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کا معاملہ کافی مختلف ہے۔ فرانس کو سارے یورپی ملکوں میں ایک الگ نمونے کے طور پر دیکھا جا تا ہے۔ وہ اپنے سیکولرزم میں اور جو فرانسیسی قومیت کا تصور ہے، اس میں کافی سخت ہے۔ لیکن بہرحال فرانس تاریخی طو رپر انقلاب فرانس جیسے سیاسی واقعات اور روشن خیالی جیسی فکری تحریکات کا مرکز رہا ہے اور اس روایت کے اپنے کچھ مسلمات اور تقاضے ہیں جس کے مظاہر آپ کو فرانس میں بھی ملیں گے۔ مثلاً امیر عبد القادر کی یاد میں جو یہ تقریبات منعقد ہوئیں، ان کا انتظام تو فرانسیسی حکومت نے نہیں کیا، لیکن مقامی انتظامیہ نے منتظمین کو اتنی سہولت ضرور بہم پہنچائی کہ مجھے کانفرنس میں شرکت کی غرض سے ویزا کے حصول میں مدد دینے کے لیے جو دعوت نامہ آیا، وہ Lyon کے ڈپٹی میئر کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ 

ایک اور حوالے سے بھی عبد القادر کی داستان سے دنیا کو متعارف کروانا فرانس کے لوگوں کے لیے باعث دلچسپی ہو سکتا ہے۔ ایک دن کائزر اور تقریبات کے مقامی منتظمین کا وفد ایک فرانسیسی بزنس مین سے ملاقات کے لیے گیا تو یہ لوگ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ اس ملاقات کامقصد یہ تھا کہ فرانس میں عبد القادر کے تعارف کے لیے جو کام ان کے پیش نظر ہے، اس کے لیے الجزائری حکومت سے تعاون طلب کرنے کے بجائے فرانس کی مقامی کمیونٹی وسائل مہیا کرے۔ میں نے دیکھا کہ کافی دیر تک، تقریباً گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ وہ اس سے بات کرتے رہے، لیکن اس نے کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ پھر کائزر نے اس سے کہا کہ یہ جو داستان ہے، اس میں فرانسیسی قوم کے لیے بھی دلچسپی کا ایک بڑا اہم پہلو ہے اور وہ یہ کہ فرانس نے اپنے ایک دشمن کو جس نے اس سے شکست کھائی تھی، یہاں فرانس میں لا کر کسی جیل میں نہیں، بلکہ ایک بڑے تاریخی قلعے میں رکھا۔ پھر اس سے بات چیت کے لیے بہترین نمائندے بھیجے جو عبد القادر کے لیے ہمدردی اور احترام کے جذبات رکھتے تھے۔ پھر جب عبد القادر کو رخصت کیا تو ان کے اور ان کے خاندان کے لیے سالانہ وظیفہ مقرر کیا جو اس کی وفات کے بعد بھی فرانسیسی حکومت ۱۹۵۴ء تک انھیں ادا کرتی رہی۔ کائزر نے کہا کہ آپ لوگ اس داستان کے ذریعے سے دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ کم سے کم وہ معاملہ نہیں کرتے جو (دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ میں) امریکیوں نے کیا ہے۔ کائزر کی اس بات سے وہ بزنس مین ایک دم بڑا پرجوش ہو گیا اور اس نے فوراً یہ تجویز پیش کی کہ جن فرانسیسی طلبہ نے عبد القادر کے حوالے سے انعامی تحریری مقابلے میں حصہ لیا ہے، اگلے سال انھیں قلعہ آمبواز کی سیر کے لیے لے جایا جائے جہاں عبد القادر کو نظر بند کیا گیا تھا اور اس دورے کے اخراجات میرے ذمے ہوں گے۔

سوال: عبد القادر کی شخصیت بہرحال بعض حلقوں کے نزدیک ایک متنازعہ شخصیت ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ جو لوگ اس وقت جہاد کے نام سے غلط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، انھیں راہ راست پر لانے کے لیے اس کے علاوہ دوسری شخصیات کو حوالہ بنایا جائے جو متنازعہ نہیں ہیں؟

جواب: دیکھیں، کسی بھی معاملے کو دیکھنے کے ایک سے زیادہ زاویے ہو سکتے ہیں۔ جب ہم جہاد کے تناظر میں عبدالقادر کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم جہاد کے صحیح تصور کا ایک نمونہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ جہاد کے اس تصور سے اختلاف رکھتے ہیں، انھیں عبد القادر کی شخصیت سے بھی چڑ ہوگی۔ لیکن اس بحث کا فریق صرف وہی ایک حلقہ تو نہیں جسے مخاطب بنانے کی ضرورت ہے۔ آپ کی سوسائٹی میں اور دنیا میں اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ اگر عبدالقادر ایک مخصوص حلقے کے لیے ناقابل قبول ہے یا اس کے ساتھ گفتگو میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا تو نہ سہی۔ وہ آج کی دنیا کو اور آپ کی نئی نسل کو بہت سی باتیں سمجھانے اور بہت سی غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ایک مخصوص حلقہ جو عبد القادر کے تصور جہاد سے سے نفور ہے، اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے آپ بے شک عبد القادر کا حوالہ نہ دیں۔ ان سے آپ اصولوں کے حوالے سے بات کریں کہ جہاد کے یہ اصول ہیں جو قرآن، حدیث اور فقہ اسلامی میں بیان ہوئے ہیں۔ آئیے، ان اصولوں پر بات کرتے ہیں۔ تو ان لوگوں کے سامنے آپ بے شک عبد القادر کا حوالہ پیش نہ کریں، لیکن باقی سارے لوگ تو اس طرح کے تعصب میں مبتلا نہیں۔ ان کے سامنے عبد القادر کا نمونہ پیش کرنا کئی پہلوؤں سے مفید ہو سکتا ہے۔ 

مقصد یہ کہ کوئی ضروری نہیں کہ ایک ہی بات یکساں طور پر سب کے لیے مفید ہو۔ عبد القادر پر جو کتاب لکھی گئی ہے، وہ القاعدہ کے ساتھ مکالمے کے لیے نہیں لکھی گئی اور نہ اس آئیڈیالوجی کے متاثرین کے لیے مفید ہے۔ یہ کتاب تو آج کی نئی نسل کے لیے لکھی گئی ہے جسے اس وقت جہاد کا ایک ہی یک طرفہ تصور اور نمونہ دنیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کو یہ سمجھانے کے لیے اور دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ جہاد کا صحیح تصور اس سے مختلف ہے، ہمیں دوسرے نمونے پیش کرنے ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس خاص پہلو سے امیر عبد القادر کی شخصیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ ہے کہ جدید دنیا میں ایک ایسا آدمی، ایسا عالمی شہرت یافتہ شخص جس کا مغرب میں تعارف بھی ہے اور احترام بھی، وہ اسلام کی جنگی اخلاقیات کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔ دور جدید میں جہاد کے حوالے سے جو غلط تصورات دنیا میں پھیلے ہیں، اور ان میں سے بہت سوں کا تعلق خود ہمارے بعض طبقات کی حماقتوں سے بھی ہے، ان کو دور کرنے کے لیے ہمارے پاس قریبی تاریخ میں ایک ایسا نمونہ موجود ہے جس کو دنیا کے سامنے لا کر ہم اسلام کے تصور جہاد کے حوالے سے شکوک وشبہات اور غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔

مشاہدات و تاثرات