’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر زاہد منیر عامر)

عرفان احمد

(عرفان احمد بھٹی اور عبد الرؤف کے مرتب کردہ سوال نامہ کے جواب میں لکھا گیا۔)


میری مطالعاتی زندگی کی ابتدا ایک ’’چھن‘‘ سے ہوتی ہے۔ متوسط درجے کے گھرانوں کے بچے اُکھڑے ہوئے فرش والے کلاس روم میں ریشہ ریشہ وردیدہ ٹاٹوں پر بیٹھے ہیں، سرکاری اسکول کے استاد میز پر ٹانگیں رکھے سگریٹ پینے میں مشغول ہیں، دھوئیں کے مرغولے اڑ رہے ہیں، ان کا ایک مستقل مہمان میز پر بیٹھا ان سے باتیں کررہا ہے۔ اچانک ’’چھن‘‘کی ایک آواز ابھرتی ہے۔ استاد محترم جو اپنے مہمان کی بات بھی کم ہی سن رہے تھے، چونک کرسگریٹ کے دھوئیں کوفضامیں بکھیرتے ہیں اور غضب ناک ہو کر پوچھتے ہیں ’’ یہ آواز کہاں سے آئی ہے۔۔۔؟‘‘

لڑکوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے، ساری کلاس سر جھکا کر کتابیں دیکھنے لگتی ہے گویا بہت دل جمعی سے مطالعہ ہو رہا تھا۔ استاد صاحب لڑکوں کی شان میں کچھ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں یہ تحریر جن کا بار اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ’’چھن‘‘ کی یہ آواز ایک روز تو ’چھناکے ‘ میں بدل گئی جب استادِ محترم نے کلاس روم کے دروازے کی اندر سے کنڈی چڑھا دی۔ طالب علموں کی نالائقی اور استادوں کا احترام نہ کرنے پر لیکچر دیا، سگریٹ نوشی کے طویل دورانیے میں لیکچر کا یہ وقفہ خلافِ معمول تھا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ کسی نے ان کمرہ جماعت میں سگریٹ نوشی کی بابت ہیڈماسٹر صاحب کو مطلع کردیا تھا جس پر غالباً ہیڈ ماسٹر صاحب خفا ہوئے ہوں گے، اس کا بدلہ وہ طالب علموں کو Scapegoatکر کے لینا چاہتے تھے، مکالمہ یہ تھا۔ 

اگر آپ سے کوئی کلاس میں آکر پوچھے کہ شاہ صاحب کیسا پڑھاتے ہیں تو آپ کو کیا کہنا ہے۔۔۔؟ردِ عمل میں خاموشی پا کر وہ خود جواب سمجھاتے ہیں:

بہت اچھا۔ بہت کی ’’ہ ‘‘کو کھنچتے ہوئے۔ 

سوال دہرایا جاتا ہے۔ اب جو اب طلبی پرساری جماعت بیک آواز’’ ہ‘‘ کو کھینچ کر بہت اچھا پکارتی ہے۔

کیا کلاس میں ان کے مہمان بھی آتے ہیں۔۔۔؟

طالب علم اس سوال کا کیا جواب دیتے جب کہ ان کے مہمان اس وقت بھی کمرہ جماعت میں موجود تھے۔ ایک بار پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ استاد صاحب جواب سمجھاتے ہیں:

جی نہیں۔ جی کی ’ی‘ کو طول دیتے ہوئے۔

سوال دہرایا جاتا ہے ،اب جماعت بیک آواز جواب دیتی ہے جی ی ی نہیں

کیا شاہ صاحب کلاس میں سگریٹ بھی پیتے ہیں۔۔۔؟

جی نہیں۔ جی کی ی کو کھینچ کر’’جی نہیں‘‘ بعدمیں’’کبھی نہیں‘‘ کا اضافہ کرتے ہوئے۔ 

یہ مڈل اسکول کے زمانے کا قصہ ہے۔ اسی کلاس روم کی عقبی دیوار کے ساتھ لوہے کی کچھ الماریاں اوندھے منہ کھڑی رہتی تھیں جن کا مصرف فقط یہ تھا کہ شرارتی طالب علم کلاس روم کے ٹوٹے پھوٹے فرش سے کنکر اکھیڑ کر چپکے سے پیچھے کی سمت اچھالتے اور یہ کنکرالماریوں کی پشت سے ٹکرا کر ’’چھن‘‘کی آواز پیدا کیا کرتے تھے۔ اس آواز پر استاد سیخ پا ہو جاتے اور اس حرکت پر سزا دینے کے لیے ساری کلاس کو للکارتے لیکن طلبا سر جھکا کر یہ وقت گزار دیتے تھے۔ میرے ذہن میں یہ سوال جنم لیتا کہ آخر کلاس روم میں یہ الماریاں رکھنے کا مقصد کیا ہے۔۔۔؟ الماریوں کے دروازے کمرے کی عقبی دیوار کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، ان میں کبھی کسی کو کچھ رکھتے یا نکالتے نہیں دیکھا گیا تھا۔ میں نے ایک روز جرأت کر کے ان الماریوں میں جھانکا تو پتہ چلا کہ یہ الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی ہیں۔ حیرت اور تعجب سے یہ بات دوسروں کو بتائی تو پتہ چلا کہ یہ تو اسکول کی لائبریری ہے جو جانے کب سے یوں اوندھے منہ دیوار سے لگی کھڑی ہے۔ میں نے ایک مہربان استاد سے یہ لائبریری دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ میں اپنے ان استادِ محترم کا آج بھی ممنون ہوں جنھوں نے کمالِ شفقت سے مجھے یہ لائبریری دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ میں نے اس لائبریری سے جو تین کتابیں اپنے نام جاری کروائیں، وہ مجھے آج بھی یاد ہیں۔ یہ تین مطبوعات ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ کا رسول نمبر‘‘، ’’دیوانِ مولانا محمد علی جوہر‘‘ اور ’’مارشل لا سے مارشل لا تک‘‘ تھیں۔ گویا اس کم سنی میں مذہب، ادب اور تاریخ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تھا، آج پلٹ کر دیکھتا ہوں تو یہ حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعد کے زمانے میں جتنا کچھ پڑھنے لکھنے کا موقع ملا، اس سب کا تعلق علم کے انھی تین دائروں سے ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن کی باتیں بعد کی زندگی اور دلچسپیوں پر کس قدر اثر انداز ہوا کرتی ہیں۔ 

کتابوں سے دوستی کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ صبح گھر سے سکول جاتے ہوئے وہ راستہ اختیار کرتا تھا جس میں عید گاہ راہ میں پڑتی ہے۔ عید گاہ کی ویرانی میں راہ چلتے کوئی کتاب پڑھتا رہتا تھا۔ عید گاہ کے ایک سرے سے داخل ہو کر دوسرے انتہائی سرے تک مطالعہ اور سفر جاری رہتا۔ سکول میں خالی پیریڈ اور وقفۂ تفریح کے اوقات بھی مختلف کتابچوں اور کتابوں کے مطالعہ میں گزرتے۔ اسکول سے نکلتا تو قریب ہی واقع اردو بازار کی دکانوں میں کتابوں کی سیر کرتاجس کتاب کو خریدنے کی قدرت ہوتی وہ خرید لیتا باقی دکان دار کے پاس محفوظ(Reserve) کروادیتا تاکہ اس کی قیمت کے بقدر پیسے جمع ہو جانے پر اسے خرید سکوں۔ اس زمانے کی سیرِ کتب کے ثمرات اب بھی اپنی زندگی میں محسوس کرتا ہوں۔ 

ہائی اسکول کے زمانے میں ایک سکاؤٹ کے طور پر پہلی بار لاہور آنے کا موقع ملا۔ ہمارے گروپ نے باغِ جناح میں ایک ٹیبلوکے بعد ہمیں شہر میں گھومنے پھرنے کی اجازت دے دی گئی۔۔۔ میں نے سن رکھا تھا کہ انار کلی بازار میں سستی کتابیں ملتی ہیں، میں اپنے ایک ہم جماعت دوست کے ساتھ ڈان باسکو ہائی سکول سے نکلا اور ایمپریس روڈ پر آکر راہ گیروں سے انار کلی کا راستہ دریافت کرنے لگا، کسی نے بتایا کہ فلاں ویگن انار کلی جاتی ہے۔ اتنے میں ایک ویگن آکر رکی جس کا کنڈیکٹر ساندے، ’’مفت جاندے‘‘کی آوازیں لگا رہا تھا، یہی وہ ویگن تھی جسے انار کلی بازار سے گزرنا تھا۔ مفت جاندے‘ تو صرف قافیہ پورا کرنے کے لیے تھا، میرے پاس اس وقت پچاس روپے تھے۔ اس زمانے میں یہ ایک بڑی رقم تھی۔ دونوں دوستوں کا کرایہ دینے کے بعد جتنے پیسے بچے وہ سب انار کلی کے کہنہ فروشوں سے پرانی کتابیں خریدنے کے کام آئے۔ ان دنوں مجھے جسٹس منیر مرحوم کی ۱۹۵۳ء کے فساداتِ پنجاب پر تحقیقاتی رپورٹ پڑھنے کی بہت خواہش تھی۔ سرگودھا میں یہ رپورٹ کہاں مل سکتی تھی، انار کلی کے ایک فٹ پاتھ پر یہ رپورٹ نظرآگئی، اس بوگس رپورٹ کو پالینے سے جو خوشی ہوئی تھی وہ بیان میں نہیں آسکتی۔ ایوب خان کی خود نوشت Friends Not Mastersکا اردو روپ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ اپنی پرواز کو تاہ کر کے جگہ جگہ خاک نشین تھا۔ دس روپے کے عوض یہ کتاب بھی خریدی، المیہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے کچھ کتابیں خریدیں، اخبار ’’سیاست‘‘ کے مدیر سید حبیب کے ’’سفر نامہ یورپ‘ کا پہلا ایڈیشن بھی ملا جو غالباً پیسہ اخبار کے مطبع سے شائع ہوا تھا، لیکن کہنہ فروش نے اس کی قیمت میری ہمت سے زیادہ بتائی جس کے باعث میں اسے خرید نہ سکا، بعد میں دیر تک اس نادر کتاب سے محرومی کا افسوس رہا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر اسکول کے ایک طالب علم کو ان کتابوں سے کیوں دلچسپی ہوئی ہو گی، یہ سوال طبعی ہے لیکن جواب خلافِ توقع۔ دراصل اسکول کے زمانہ طالب علمی ہی میں مجھ پر ایک کتاب لکھنے کا خیال مسلط ہو گیا تھا۔ یہ کتاب تحریک آزادی کے ایک خاص گوشے کی وضاحت کے لیے لکھنا چاہتا تھا، منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ وغیرہ کتب اسی ضمن میں مطلوب تھیں، میٹرک کے زمانے اور اس کے بعد ہونے والی چھٹیوں میں میں نے یہ کتاب لکھ لی جو میرے سال اوّل میں پہنچنے تک زیور طبع سے بھی آراستہ ہو گئی۔ 

اب اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ آخر مجھے ایسے خشک موضوع سے دلچسپی کیسے ہوئی تو میں اگر کوئی جواب دے سکتا ہوں تو فقط یہ کہ میرا ابتدائی شوق اخبار بینی تھا، اسکول کے زمانے میں جب تک روزانہ دو اخباروں کا مطالعہ نہ کر لیتا سو نہیں سکتا تھا۔ اخبارات کے اداریے،ادارتی صفحے کے مضامین اور اسپیشل ایڈیشن خاص شوق اور توجہ سے دیکھتا اور پڑھتا تھا۔ اخباروں کو سنبھال کر رکھنے کا بھی شوق تھا ،اخبارات کی خاص خاص اشاعتیں جمع کر کے ان کی جلد بندھوالیا کرتا تھا۔ اس شوق کے طفیل بعض بہت قدیم اخبارات بھی تلاش کرلیے تھے اور ان سب کو بڑے جہازی سائز کی جلدوں میں محفوظ کرنے کی دُھن سوار رہتی تھی۔ یہ جلدیں رکھنے کے لیے گھر میں کوئی موزوں جگہ نہ تھی چنانچہ خود لکڑی کا ایک بہت بڑا صندوق تیار کیا جس میں سیدھے اخباروں کی جلدیں پوری آتی تھیں اور اس صندوق پر ریگزین چڑھا کر بریف کیس کی طرح کے تالے لگا دیے تھے تاکہ یہ قیمتی اخبارات دوسروں کی دست برُد سے محفوظ رہیں۔ 

اسکول ہی کے زمانے میں سرگودھا کے ایک جلد ساز کے ہاں ۱۹۷۰ء کے ہنگامہ خیز انتخابات کے زمانے کے کچھ ہفت روزے مل گئے، اپنی قدرت کے مطابق جیب خرچ سے ایک ایک کر کے یہ تمام رسالے خرید لیے،انھیں پڑھ کر ۱۹۷۰ء کا سارا ملکی منظر نامہ نگاہوں پر آئینہ ہو گیا، اس المیے کی تفصیلات سے آگاہی نے دل اداس کردیا، حب وطن کے جذبے میں اضافہ ہو گیا۔ بعد میں ان رسالوں کی فائلیں مکمل کرنے کاخیال دامن گیرِ دل ہو گیا، یہ مہم بھی سر کرڈالی، اب ان کی تجلید کی فکر ہوئی، اس سے پہلے ان رسائل کے مندرجات ومضامین کی فہرست سازی ضروری محسوس ہوئی سو کر ڈالی اور فہرستوں اور اشاریوں کے ساتھ جلدیں بندھوائیں ، ان جلدوں کے مطابق خانوں کی حامل الماریاں نہ تھیں، چنانچہ ان کے سائز کے مطابق الماریاں خود بنائیں۔ 

اوپر مولانا محمد علی جوہر کے دیوان کا ذکر ہوا تھا، یہ دیوان مولانا کے دستِ خط میں لکھی گئی غزنوی اور سامنے ان کی کتابت کے ساتھ شائع ہوا تھا، یہ نادر کتاب اس سے پہلے کسی جگہ دیکھ چکا تھا جہاں سے اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا، مولانا کے ہاتھ کی لکھی ہوئی غزلوں کی کشش تھی کہ دل میں اس کتاب کی طلب کی شمع روشن ہو گئی تھی، نویں جماعت میں میں سائنس کا طالب علم تھا لیکن آرٹس کے طالب علموں سے اردو اعلیٰ کی کتاب مستعار لے کر پڑھتا رہتا اور اس میں سے اردو شعرا کی غزلیں اور ان کے حالات نوٹ کیا کرتاتھا، اس مقصد کے لیے ایک الگ نوٹ بک بنالی تھی جس میں شاعر کی تصویر لگا کر اس کے حالات زندگی، پھر کچھ انتخابات کلام اور تبصرہ لکھتا بعد ازاں اس میں مفکر ،ادیب، سیاست دان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نام اور اصحاب شامل ہوتے گئے اور اس مقصد کے لیے نام ور لوگوں کی تصویروں اور ان کے احوال کی جستجو رہنے لگی گویا یہ ایک طرح کا تذکرہ تھا جوتذکرہ نگاری کے شعور کے بغیر لکھا جا رہا تھا۔ ٹکٹیں جمع کرنے کا شوق ہوا تو دنیا جہان کی ٹکٹیں جمع کرڈالیں اور پھر ان کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ایک کتابچہ ٹکٹوں کی دنیا کے عنوان سے لکھ ڈالا جس کاآخری جملہ یہ تھا کہ ’’دیکھا آپ نے’’ ٹکٹوں کی دنیا‘‘ کتنی خوبصورت ہے۔‘‘ کالج میں پہنچنے تک علمی دلچسپیوں کے دائرے میں وسعت آئی، جدید شاعری سے آشنائی ہوئی اور ساتھ ساتھ علمی دنیاسے شغف بڑھتا گیا، اب نہیں یاد کہ کیسے چھٹی صدی ہجری کے محدّث اور امامِ لُغت امام رضی الدین حسن الصنعانیسے دلچسپی پیدا ہو گئی، ان کے احوال کی تحقیق میں بہت وقت صرف کیا، ان سے متعلق کم وبیش تمام مصادر عربی میں تھے ،عربی نہ جاننے کے باوجود عربی کی امہات الکتب سے رجوع کرتا رہا۔ کچھ نہ کچھ سمجھ ہی لیتا تھا، البتہ بعد میں کسی اہل علم سے اپنے سمجھے ہوئے مطالب کی تصحیح کروالیا کرتا تھا۔ اسی دور میں یہ منصوبہ بھی پیش نظر رہا کہ حدیث کی ترویج میں اردو زبان کی خدمات کا جائزہ لیا جائے، اس مقصد کے لیے سرگودھا کے کتب خانوں کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد شہر سے نکلا اور لاہور اور کراچی تک کے کتب خانے چھان ڈالے۔ اس زمانے کے بنائے ہوئے سینکڑوں کارڈ آج بھی میرے گھر کے سازوسامان میں منتقل ہوتے ہیں۔ اسی زمانے میں کسی ایسی کتاب کے مطالعہ کی خواہش نے جنم لیا جو میرے ان دنوں کے مسائل ومعاملات سے بحث کرتی ہو، کتابوں اور کتاب خانوں سے بے حد تعلق کے باوجود ایسی کوئی کتاب نہ مل سکی، پھر خیال پیدا ہوا کہ اگر آج تک کسی نے ایسی کتاب نہیں لکھی تو کیوں نہ میں ہی ایسی کتاب لکھوں، یہ درست ہے کہ میرا رسمی طالب علمی کا زمانہ تو ختم ہو جائے گا لیکن ہر زمانے کی نئی نسلیں تو طالب علم بن بن کر آتی رہیں گے۔ اگر مجھے اپنے بزرگوں سے ایسی کوئی راہنمائی مل سکی جو میرے آج کے مسائل ومعاملات سے بحث کرتی ہو تو کیوں نہ میں آنے والوں کے لیے ایسی تحریر چھوڑ جاؤں، چنانچہ اس خیال سے میں نے’’ لمحوں کا قرض‘‘ اور’’ اپنی دنیا آپ پیدا کر‘‘نا می کتابیں لکھیں جو میرے کالج کے زمانہ طالب علمی میں ہی شائع ہو گئیں۔ بلکہ میں وہ کانووکیشن کیسے بھلا سکتا ہوں جس میں مجھے بی۔ اے کی ڈگری کے ساتھ میری ہی کتاب’’ لمحوں کا قرض ‘‘انعام میں دی گئی تھی۔ 

اب تک کی تفصیلات سے آپ جان چکے ہوں گے کہ میرا ذوقِ مطالعہ کبھی تفریح نہیں رہا، میں نے ہمیشہ بامقصد مطالعہ کیا، محنت سے مضامین کا حصر کیا، اپنی بساط کے مطابق نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی اور جو کچھ سمجھا اُسے پوری دیانت داری کے ساتھ سینہ، قرطاس پر منتقل کیا۔ کتابوں کے حصول کے سلسلے میں میرے تجربات بہت دلچسپ ہیں۔ جب میں ایک کم سواد طالب علم تھا (حالانکہ اب بھی ایک کم سواد طالب علم ہوں) تو لوگ کتاب دینے میں بہت خِست سے کام لیتے تھے، بعض تجربات تو بہت ہی تکلیف دہ ہیں لیکن بعد کے زمانے میں وہی لوگ نیاز مندانہ ملنے لگے اور مجھے خدا جانے کیا کیا مقام دینے لگے۔ میں ان تجربات سے گزرنے کے باوجود کتاب دینے کے معاملے میں بخیل نہیں رہا، میرا خیال یہ رہا کہ کتاب ایک جاری کردہ ہے جسے آگے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ایک عمر کے تجربے کے بعد اب البتہ احتیاط کرنے لگا ہوں کیونکہ کتاب کے سب طلب گار کتاب دوست نہیں ہوتے۔ میرا مجموعہ کتب فقط میری دلچسپی کی کتابوں پر مشتمل ہے جس میں قرآن وسیرت، شعروادب، تاریخ تذکرے، سوانح اور خطوط شامل ہیں۔ یہ کتابیں تعداد میں اتنی ہیں کہ اگر آپ فراخ دل ہوں تو انھیں میری ذاتی لائبریری بھی کہہ سکتے ہیں، یہ کتب میں نے بہت محنت اور صرفِ کثیر سے مہیا کی ہیں ۔اب ایک عرصے سے مجھے اطراف واکناف سے بہت زیادہ کتب ورسائل تحفتاً موصول ہوتے ہیں، ان سب کو دیکھتاہوں لیکن اپنی دلچسپی کی چیزوں کے علاوہ باقی مطبوعات اپنے پاس نہیں رکھتا اگر ایسا کروں تو گھر میں رہنے کو جگہ باتی نہ رہے، یوں بھی میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لائبریری بنانا افراد کا کام نہیں، یہ اداروں اور حکومتوں کا کام ہے، انفرادی طور پر بنائی گئی لائبریری میں آپ جتنا بڑا مجموعہ کتب بھی مہیا کرلیں تو بھی کسی باقاعدہ لائبریری سے بے نیاز نہیں ہوا جا سکتا، جب محتاجی قائم ہی رہنی ہے تو پھر انفرادی طور پر رسالوں کے فائل مرتب کرنے، ہر نوع کی کتابوں کا مجموعہ بنانے دوراور دیر کے امکان پر تعداد کتب بڑھانے سے کیا حاصل۔۔۔؟

میں حافظ کی طرح فراغتے وکتابے وگوشہء چمنے کا قائل ہوں لیکن زندگی میں مثالی صورتیں کہاں ملتی ہیں جب اور جیسا وقت ملے پڑھتا ہوں، میرا کوئی سفر کتاب کے بغیر نہیں ہوتا، بچپن میں راہ چلتے کتابیں پڑھا کرتا تھا، بعد میں جب سلامتی کے اصول پڑھے تو یہ روش ترک کر دی لیکن دورانِ سفر اب بھی پڑھتا ہوں ،اگرچہ میڈیکل سائنس اس کی بھی اجازت نہیں دیتی۔ میں نے زندگی میں جو کچھ سیکھا اور سمجھا اس کا مآخذ مطالعے کو تجربے سے آمیز کر کے دیکھنا بھی سیکھا۔ اس سے تصورات دولخت ہوئے لیکن میری عملیت پسندی مثالیت پسندی پر غالب آگئی، میرا خیال ہے کہ بچوں کوکتاب دوستی کی طرف مائل کرنا چاہیے، الیکٹرونک میڈیا نے آج بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین لی ہیں، یہ سوچ کہ سی ڈی، ڈی وی ڈی، انٹرنیٹ کتاب کا نعم البدل ہیں میرے نزدیک یہ خام ہے، میری دانست میں کتاب لامسہ، باصرہ، خیال، حافظہ، واہمہ متصرفہ اورحِس مشترک کو شاد کرتی ہے، الیکٹرونک میڈیا بیک وقت یہ سب کچھ نہیں کرسکتا۔ اس لیے میری رائے میں کتاب زندہ رہے گی اور لکھا ہوا لفظ ہوا میں تحلیل ہوجانے والے الفاظ پر غالب رہے گا۔ 

مشاہدات و تاثرات