’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر اسلم فرخی)

عرفان احمد

(عرفان احمد بھٹی اور عبد الرؤف کے مرتب کردہ سوال نامہ کے جواب میں لکھا گیا۔)


اگرمیں بیان کرناشروع کروں گا تو آج کا دن کل کے دن میں بدل جائے گا لیکن میرے دل کا حال پھر بھی بیان نہیں ہو سکے گا، چونکہ ہرآدمی جومیری عمرکاہے اور جس نے لمبی زندگی گزاری ہے، اُسے اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچ کرماضی کی بازیافت سے بہت دلچسپی پیداہوجاتی ہے۔ میں تو عملاً کبھی اپنے حالات زندگی کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے بارے میں کچھ کہنا نہایت مشکل بات ہے۔ اگرصحیح بات کہوں تو سننے والے یہ کہتے ہیں کہ صاحب بڑی تعلیٰ سے کام لیا اوربہت غلوسے کام لیا۔ اختصار برتوں توسننے والے کچھ اور سوچیں گے۔ 

بہت مختصر بیان کرناچاہوں تو اتنا کافی ہے کہ میں23اکتوبر1924ء کولکھنو میں پیداہوا۔ میں نے ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ میری ننھیال لکھنو ہی میں تھی اور میرے نانا وہاں رہتے تھے اور میں چونکہ اُن کی بڑی بیٹی کابڑابیٹا تھا اور اُن کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی، اس لیے انہوں نے مجھے بیٹے کی طرح پالا اورچاہا۔ جب میں بڑا ہوگیا تو میں اپنے والد کے پاس فتح گڑھ آگیا جو ضلع فرخ آباد کاصدرمقام ہے۔ میرے نانااور میرے دادا دونوں کاخاندانی کام کتابوں کی اشاعت کا تھااوردونوں کے پریس تھے، تو نانانے بہت سی کتابیں شائع کیں اورمشہورشاعرداغ دہلوی کے وہ تمام مجموعے جورام پورمیں مرتب ہوئے، اُن کے حقوق میرے نانا کے پاس تھے۔ گلزار داغ، آفتاب داغ اور فریاد داغ وغیرہ۔ پھراُس کے علاوہ ایک اورسلسلہ تھا جس میں آھا نظم گائی جاتی تھی۔و ہ ایک خاص لے میں گائی جاتی تھی اور اچھے پڑھنے والے وہ نظم پڑھتے تھے۔ مسلمانوں نے بھی ایک نظم لکھی جس کانام تھااسلام کھنڈ اوراُس میں غزوات کے بارے میں اُسی زبان میں شاعری کی گئی تھی۔ وہ بھی بڑے شوق سے گائی جاتی تھی، لوگ سنتے تھے اور اُس سے محظوظ ہوتے تھے۔ یہ کتاب بھی بڑی مشہور ہوئی۔

اس کے علاوہ پریس کاکام تھا۔ اُس زمانے میںHandپریس ہوتے تھے۔اب تومنٹوں میں چیزیں چھپتی ہیں، جب کہ اس وقت پتھرسے چھپائی کی جاتی تھی۔ کاتب پہلے کاغذ پر ایک خاص قسم کی روشنائی سے لکھتے تھے اور وہ پتھر پہُ اتاری جاتی تھی اورلکھنو میں بعض ایسے کاتب تھے جوکاپی نہیں لکھتے تھے بلکہ وہ معکوس رقم کہلاتے تھے۔ پتھر ان کے سامنے ایک چھوٹی میز پر رکھ دیا جاتا تھا اور وہ اُلٹے رخ پر لکھتے جاتے تھے یعنی معکوس انداز میں لکھتے جاتے تھے۔ عبدالحلیم شررکاجورسالہ تھا دل گداز، وہ اسی طرح پتھر پہ لکھا جاتا تھا۔ میں نے دیکھا ہمارے ہاں کاتب صبح نوبجے آئے، ایک میزاُن کے سامنے رکھی گئی اورپتھر اُس پہ جمایا گیا اور دن بھر لکھتے رہے۔ ہمارے پردادا کے ہاں بھی پریس تھا۔ وہ بھی کتابیں چھاپتے تھے اورمصنف بھی تھے۔ انہوں نے بعض اچھی کتابیں بھی چھاپیں۔مثلاً اُن کی چھاپی ہوئی کتاب تاریخ فرخ آباد بہت مشہور ہوئی۔ توکہنے کامقصد یہ ہے کہ مجھے بچپن ہی سے علم وادب کاماحول ملا۔

یہ کتابیں کیسے لکھی جاتی ہیں، کتابیں لکھنے والے کون ہوتے ہیں، کتاب پڑھنے والے کون ہوتے ہیں، ان کے بارے میں تفصیل سے باتیں بعد میں ہوں گی۔ پہلے ذرا تحریک پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ میں قصبے کی مسلم لیگ کاسیکرٹری رہا۔ 1946ء کے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا، گاؤں گاؤں پھرا۔ طالب علموں کا ایک گروہ تھاجویہ کام کرتے تھے۔ سارے یوپی میں جومسلمان طالب علم تھے، وہ یہی کام کرتے تھے۔ توپھر نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان قائم ہوگیا۔ 

میں ستمبر1947ء یہاں آیا اورستمبر1947ء ہی سے میں کراچی میں مقیم ہوں۔ یہاں میری نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ مجھے لکھنے پڑھنے کاشوق تھا۔ اُس زمانے کی مقبول تحریک ترقی پسند تحریک تھی۔مجھے اُس تحریک کے اغراض و مقاصد سے دلچسپی تھی۔ اپنے قصبے میں اُس تحریک کی ایک شاخ میں نے بھی قائم کررکھی تھی۔یہاں آگیا تویہاں ساری سرگرمیاں اس لیے ماندپڑگئیں کہ میں ریڈیومیں مسودہ نگارکی حیثیت سے چلاگیا اور نظم اورنثرساری چیزیں ریڈیوکے لیے وقف ہوگئیں۔ پانچ سال میں ریڈیو میں رہا اور اس دوران بہت کچھ لکھا۔نظمیں لکھیں،غزلیں لکھیں،فیچرلکھے،گیت لکھے، تقریریں لکھیں، بچوں کی تقریریں لکھیں اور جب ریڈیوپاکستان سے سکول براڈکاسٹ کاپروگرام شروع ہواتو اُس کے بہت سے پروگرام لکھے۔ افسوس یہ ہے کہ کوئی چیزمحفوظ نہیں ہے۔ بعض فیچرایسے تھے جومجھے خودپسند تھے۔ مثلاً خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے بارے میں رفیق رسول ﷺ کے عنوان سے فیچرلکھا تھااور بڑی محنت سے لکھا تھا۔ بہت پسندکیاگیا تھااورآفتاب عظیم ٹیلی ویژن کے ایک پروڈیوسرتھے، وہ جب ملتے تھے توکہتے تھے کہ میں اس کی ایک ویڈیو کیسٹ بناؤں گا۔ وہ بھی مصروف ہوگئے، میرے پاس اب کچھ ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ لیکن کبھی کبھی یاد آتا ہے کہ وہ بہت اچھا لکھا تھا۔ اس طرح واجد علی شاہ، بہادرشاہ ظفر پر فیچر تھے۔ 

فیچروں کے علاوہ ڈرامے بھی بہت سے لکھے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن میرایہ ارادہ تھاکہ میں ریڈیو میں زندگی نہیں گزاروں گا۔ مجھے تدریس کاشوق تھا۔ میرے والد نے جب میٹرک پاس کیاتواُن کو گورنمنٹ سکول میں جگہ مل گئی اور وہاں پڑھاتے رہے۔ لیکن اس دوران میں تحریک خلافت اورعدم تعاون کی تحریک شروع ہوئی اورمسلمانوں میں یہ تحریک چلی کہ انگریزوں کی ملازمت ترک کر دینا چاہیے تو انہوں نے ملازمت ترک کردی، اس لیے یوں کہناچاہیے کہ تدریس میرے خون میں شامل ہے۔میں یہ سوچتا تھا کہ میں ان شاء اﷲ تعالیٰ کسی کالج یایونیورسٹی میں پڑھاؤں گا تومجھے سندھ مسلم کالج میں جگہ مل گئی۔ اُس زمانے میں کالج بھی کم تھے اور تعلیم کاماحول بھی ایسا نہیں تھا۔ سندھ مسلم کالج میں جگہ مل گئی، میں چلا گیا۔ بہت اچھا وقت گزرا۔غلام مصطفی شاہ صاحب پرنسپل تھے اوروہ بڑی زبردست شخصیت کے حامل تھے۔ ہمدردتھے۔ جب تک زندہ رہے اُن سے تعلقات رہے اور میری طرح بہت سے نوجوانوں لوگ تھے جوپڑھارہے تھے۔

پھر یہ ہواکہ مرکزی حکومت نے سنٹرل گورنمنٹ کالج قائم کیا جو اب بھی ہے تواُس کالج میں پبلک سروس کمیشن نے اساتذہ کا تقرر کیا۔ تو اُس میں میرا بھی تقررہوگیا، میں بھی وہاں چلاگیا۔نیاکالج تھا اورپڑھانے والے بھی نئے تھے۔ آدھا حصہ مغربی پاکستان اورآدھا حصہ بنگالی اساتذہ کاتھا مگریہ کہ روابط ایسے تھے کہ بنگالی اورغیربنگالی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ اتنے اچھے اور بے تکلف تعلقات تھے اوروہ اس طرح گھل مل گئے تھے کہ دن رات اُن کے گھروں میں جانا اور اُن کاہمارے ہاں آنا۔ساری باتیں تھیں۔ وہیں میں نے ’’محمدحسین آزاد کی حیات اورتصانیف‘‘ کے عنوان سے اپنی پی ایچ ڈی کاThesisلکھا۔یہ دوجلدوں میں تھا اورمجھے بعدمیں آدم جی ایوارڈ بھی ملا تھا۔ پھر گورنمنٹ کالج سے میں کراچی یونیورسٹی آگیا ۔شعبہ اردومیں آگیا، بہت خوش رہا، بہت اچھا ماحول تھا۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی تھے۔ڈاکٹر ابوالخیرکشفی تھے، ڈاکٹر شاہ علی تھے، ڈاکٹر فرمان فتح پوری تھے، اساتذہ کاایک پوراگلدستہ تھا۔ کراچی یونیورسٹی اُس زمانے میں اعلیٰ تعلیم کاایک بہت بڑااوربہت اچھا مرکز بھی تھی۔ ہرشعبے میں ایسے اساتذہ تھے جوبین الاقوامی سطح پرنامی گرامی سمجھے جاتے تھے۔مثلاً تاریخ کے شعبے میں ڈاکٹراشتیاق حسن قریشی اور ڈاکٹر محمود حسین تھے۔ ڈاکٹریوسف تھے جو عربی کے بہت بڑے اسکالرتھے۔ فارسی میں ڈاکٹرغلام سرور تھے، ڈاکٹر ملیع الامام عابد علی خان تھے یہ جونام میں آپ کوگنوارہا ہوں، یہ وہ لوگ تھے جنہیں اپنے موضوع پربہت بڑاعالم اورمستند سمجھا جاتا تھا۔ لکھنے پڑھنے کابہت عمدہ دور گزرا۔ 

یہاں میں شعبہ تصنیف وتالیف کاناظم رہا اور آخرمیں یونیورسٹی کارجسٹرارہوگیا تھا، حالانکہ وہ ایک انتظامی کام ہے۔ چونکہ میں سینٹرٹیچر تھا، لہٰذا ہرمعاملے میں ٹھیک سمجھا جاتا تھا۔بڑاکامیاب رہا۔وہاں سے نکلا توایک دن بھی گھرمیں فالتو بیٹھنا نصیب نہیں ہوا۔ نورالحسن جعفری انجمن ترقی اردو کے ناظم تھے۔انہوں نے کہاکہ آپ کل سے انجمن میں آجائیں۔ میں نے کہاکہ ایک آدھ مہینے آرام کروں توانہوں نے کہا کہ صاحب آپ کو کل آنا ہے توانجمن میں مشیرکی حیثیت سے چلاگیا۔ وہاں کام کرتارہاآٹھ دس سال۔ پھراُس کے بعدصحت خراب ہوگئی تھی۔ گھرمیں بیٹھ گیا۔ میرے حساب سے کوئی چاربرس ہوئے ہوں گے کہ اردو یونیورسٹی کی سینٹ کاممبربن گیا۔سینٹ نے مجھ سے یہ کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایک بڑی گرانٹ اس لیے دی ہے کہ اردومیں سائنس کی درسی کتابیں تیارکی جائیں۔ اردویونیورسٹی توبن گئی ہے اوریونیورسٹی بن جانے کامطلب ہے کہ تدریس اردو میں ہو۔ سائنس بھی اردو میں پڑھائی جائے تومیں نے کہا کہ میری صحت اجازت نہیں دیتی، لیکن مجھے دودفعہ کہا گیا تو مجھے قبول کرناپڑا اس طرح شعبہ تصنیف وتالیف کا اعزازی نگران اعلیٰ بن گیا۔ ایم ایس سی اور آنرز کی سطح کے لیے سائنس کی درسی کتابیں لکھواتا رہا ہوں۔ کتابیں شائع کیں، لیکن مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں کتاب لکھنے کا کوئی تصورنہیں ہے۔ کتابیں توبہت ہیں، لیکن بعض بنیادی باتیں قابل توجہ ہیں اوروہ یہ ہیں کہ ادب اورشعرکی کتابیں توآپ لکھتے ہیں اورسینکڑوں کی تعداد میں شائع ہوتی ہیں، لیکن علمی کتابیں بہت کم لکھی جاتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک مستند مکمل کتاب لکھنے کے لیے مصنف کا پوری طرح اپنے مضمون پرحاوی ہونا ضروری ہے۔ اگروہ اپنے مضمون پر کامل دستگاہ نہیں رکھتا اوراُس کاعلمUpto dateنہیں ہے تووہ ٹیکسٹ بک نہیں لکھ سکتا۔چنانچہ بیشتراساتذہ ٹیکسٹ بک لکھنے سے گھبراتے ہیں۔میں نے سارے ملک میں دورے کیے۔ جامعات اور کالجوں میں گیا، سائنسی اداروں میں گیا۔جوخوشامد کرسکتا تھا کی کہ یہ علم کے فروغ کامسئلہ ہے، مگرکسی نے کتاب لکھنے کی حامی نہیں بھری اوراب بھی یہی حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی علمی اور تحقیقی کتابوں کی اشاعت کی رفتار بہت سست ہے۔

بچوں کی کتابیں بہت پڑھیں۔دارالاشاعت پنجاب کاایک ادارہ تھا، وہ ایک رسالہ ’’پھول‘‘ چھاپتے تھے، وہ پڑھا کرتا تھا۔ میری پہلی کہانی اس میں چھپی تھی۔ مجھے کتنی خوشی ہوئی تھی۔ کراچی آنے کے بعد میں نے شمس تبریزی کے ساتھ مل کر بچوں کا ایک رسالہ ’’میرا رسالہ‘‘ شائع کرنا شروع کیا۔ برسوں جاری رہا۔ ایک ادبی رسالہ ’’نقش‘‘ بھی شمس صاحب کے ساتھ جاری کیا۔ اُس سے آگے بڑھے توجوکتاب ہاتھ لگی پڑھی۔آب حیات اورنیرنگ خیال میں نے بچپن میں پڑھی۔ تب سے محمدحسین آزاد سے دلچسپی پیدا ہو گئی تواب تک یادہے کہ نیزنگ خیال جوتھی وہ لمبے سائز پرتھی اورآب حیات بھی بڑے سائز پرتھی۔ میں نے پچاسوں بارپڑھی۔ اسی طرح درباراکبری بھی پچاسوں بار پڑھی۔ 

شاعری کی بہت سی کتابیں پڑھیں، بچوں کی بھی، بڑوں کی بھی۔ میرے والد کوچونکہ انگریزی کی کتابیں پڑھنے کا غیرمعمولی شوق تھا، وہ جوکتاب پڑھتے تھے میں دیکھتا تھا اور اس سے میرے شوق کو مہمیز ملتی تھی اور میں بھی اس کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔ ایک بات اوربھی ہے کہ کتابوں کے حوالے سے طلسم ہوشربا کا کلچر بھی تھا۔ وہ ہمارے یہاں اس طرح تھاکہ جوہمارے مولوی صاحب تھے، وہ ہمارے یہاں رہتے تھے اورشام کواُن کے دوست احباب اُن سے ملنے آتے تھے اورچونکہ وہ خود بھی شوق رکھتے تھے، اس لیے لالٹین روشن کی جاتی تھی۔ مولوی صاحب بہ آواز بلندطلسم ہوشرباپڑھتے تھے اور وہ بہت سے لوگ جو وہاں جمع ہوتے تھے، اسے سنتے تھے۔ بہت دفعہ میں بھی وہاں جاکربیٹھا اورسنتا رہا۔طلسم ہوشرباکوخود بھی پڑھنے کی کوشش تھی۔ اُس کی سات جلدیں تھیں اور پانچویں کی دوجلدیں ہیں، پنجم اول اور پنجم دوم۔ میں نے یہ کتاب اپنے لڑکپن میں پڑھ لی اور یہ دعویٰ تونہیں کرتا کہ وہ سمجھ میں آئی۔ وہ روانی، وہ اسلوب، سجا ہوا مرصع طرزبیان لیکن پڑھا سب اوربڑا لطف حاصل کیااوراُس کا بڑا اثر رہا۔ وہ ایک بڑی اہم کتاب رہی۔ دوسری داستانیں بھی تھیں طلسم نورپیکر ہے۔ طلسم نور افشاں ہے۔ اول نامہ، ایرج نامہ، بہت پڑھا اوربہت یادرکھا اورمیراخیال یہ ہے کہ اگر اُس کوآسان زبان میں لکھ کربچوں کے لیے ایک کتاب تیارکی جائے توبہت دلچسپ رہے۔

میرے والد انگریزی میں کتابیں منگواتے رہتے تھے۔بعض کتابوں کی کہانیاں انہوں نے مجھے سنائیں۔ مثلاً Victor Hugoکی کتاب Les Miserables کی کہانی میں نے انہی سے سنی تھی اورپھرمجھے یاد ہوگئی تھی اور پھرمیں نے خود بھی پڑھی۔ اوربہت سی کہانیاں بھی سنیں جومیں نے بعدمیں پڑھیں۔ انگریزی ناول پڑھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ اب تک جاری ہے۔ اس طرح کی کتابیں بھی پڑھیں۔ پھرMob lickپڑھی۔ بہت مشکل کتاب تھی، میری سمجھ سے ماورا تھی، لیکن پھر بھی میں نے پڑھی۔پھرمیں نے اس کوباربار پڑھا اورپھر اُس پرایک ریڈیوPlayبھی لکھا۔ ڈارمے سے بڑی دلچسپی رہی۔ نئے ڈرامہ نگاروں کوپڑھا ۔اُن کے ڈراموں سے استفادہ کیا۔ تنقید پڑھی، تنقیدنگاروں سے استفادہ کیا۔انگریزی شاعروں سے استفادہ کیا۔ یہ پوراسلسلہ ہے جوآج تک جاری ہے۔

ادب کا شوق مجھے اپنے والد سے ورثے میں ملا، سارے خاندان کو ملا۔ میری ایک چھوٹی بہن تنقید بہت اچھی لکھتی تھیں۔ میرے ایک چھوٹے بھائی انور احسن صدیقی معروف ادیب شاعر اور صحافی ہیں۔ میرے بچے اور پوتا پوتی ادبی وراثت کے حصہ دار ہیں۔ میری بیوی ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی ہیں۔ انہوں نے شاہد احمد دہلوی کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے۔ ایک کتاب خدیجہ مستور کے بارے میں ہے۔ ایک کتاب ڈپٹی نذیر احمد کے بارے میں زیر طبع ہے۔ میرے بچوں کو ان کی ادبی وراثت سے بھی حصہ ملا ہے۔ 

محمدحسین آزاد کے ساتھیوں میں ڈپٹی نذیراحمد کا نام قابل ذکر ہے۔ میراخیال ہے کہ جیسی گٹھی ہوئی نثرنذیراحمد نے لکھی ہے، اردوکے کسی انشا برداز نے نہیں لکھی۔زبان پر، چہرہ نگاری پر، انسان کے کردار کو بیان کرنے پراور تیز جس مزاح کے ساتھ وہ لاجواب اسلوب تحریر اور انداز نگارش کے حامل تھے۔ کیونکہ اُن کے سامنے ایک مقصدتھا، لہٰذا انہوں نے اپنی کتابوں میں اُس مقصد کوپوراہوتا ہوا دیکھا۔ مولانا شبلی کی سیرت النبیؐ اعلیٰ کتاب ہے۔شبلی کی سیرت النبیؐ کا جو پہلا ایڈیشن تھا، وہ میرے پاس ہے اور اتنے بڑے سائز پرپہلا اور دوسرا ایڈیشن تھا کہ اب اتنے بڑے سائز پر کتابوں کی اشاعت کا رواج نہیں رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایڈیشن اگرنایاب نہیں توکم یاب ضرورہے۔ بہت بڑے اہتمام سے شائع ہواتھا۔اسی طرح اور کچھ کتابوں کے پہلے ایڈیشن تھے، وہ لوگوں کے پاس سے میرے پاس بھی آئے۔

مشتاق احمد یوسفی صاحب کی نثرنہایت اعلیٰ قسم کی نثر ہے اوراردو اسلوب کے اعتبارسے یوسفی صاحب کااردونثر میں بہت اہم مقام ہے۔ محمدحسن عسکری کی نثرایک صاحب اسلوب کی نثرتھی اور جو نثر اختصار، اجمال، جامعیت اوراستعجاب کا نمونہ ہے، وہ سعادت حسن منٹو کی نثر ہے اور عصمت چغتائی کی نثر ہے۔خدیجہ مستورکی نثر ہے۔بڑی کاٹ داربڑی چبھنے والی۔ ہمارا اردو ادب اچھے نثرگاروں سے خالی نہیں تھا۔ شاہد احمد دہلوی سے میں نے نثر لکھنا سیکھی۔ ان کی شخصیت اور فن کا میری زندگی پر گہرا اثر ہے۔ 

نام سے جھگڑے پیداہوتے ہیں کہ صاحب اُس کے افسانے کواچھا کہہ دیا۔ بہت سے نام اور بھی ہیں۔ انتظار صاحب جو ہمارے عہد کے بڑے افسانہ نگار ہیں، انہوں نے اردو افسانے کو نئی جہت دی ہے۔ راجندرسنگھ بیدی نے کراچی کے فسادات پر بعض بہت اچھے افسانے لکھے۔ قاسمی صاحب اشفاق احمد کااضافہ کرلیجیے۔ خالدہ حسین کااضافہ کرلیجیے۔ یہ بہت اچھے اوراعلیٰ درجے کے افسانہ نگار ہیں۔ بعض اور افسانہ نگار بھی ہیں۔ نام کہاں تک گنواؤں۔ 

بیسویں صدی میں اتنابڑاناول ’’آگ کادریا‘‘ لکھاگیا ۔خدیجہ مستورنے آنگن لکھا۔آنگن اتناخوبصورت اور مکمل بھرپور ناول ہے۔ قیام پاکستان کے پورے عمل کو، اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے جذبات کو، اُن کی کوشش کواوراُن کے مجاہدے کو، اُن کے جوش وخروش کوخدیجہ مستور نے جس طرح ظاہر کردیا ہے، وہ بڑے کمال کی بات ہے۔اسی طرح کا ٹیڑھی لکیر ہے، اداس نسلیں ہے، علی پور کاایلی ہے، راجہ گدھ ہے۔ سب اچھے ناول ہیں۔ اور آگ کا دریا ہے، قرۃ العین حیدر کے دوسرے ناول اور افسانے ہیں۔ زندگی اور وقت کا پورا طلسم ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کا ’’کیسے چاند تھے سرآسماں‘‘ زبردست ناول ہے۔ فاروقی صاحب ناول، افسانے اور تنقید کا بہت بڑا نام ہیں۔ عہد ساز اور رجحان ساز ادیب ہیں۔ ہمہ جہت ادیب ہیں۔ 

مولانا امین حسن کی تفسیر تدبر قرآن مجھے بہت پسند ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کی مطالب القرآن جتنی بھی شائع ہوئی، بڑی زبردست اور فکر انگریز کتاب ہے۔ میں اس کتاب سے بہت متاثر ہوا۔ 

بات یہ ہے کہ سیرت کی کتب بڑی عقیدت سے لکھی گئی ہیں بڑی لگن سے لکھی گئی ہیں لیکن ہم سب کو اس پہ غور کرناچاہیے کہ ابھی تک سیرت نگاری کا حق ادانہیں ہوا۔ مسلمان قوم ہی دنیا بھر میں وہ قوم ہے جس نے تاریخ کے علم کوعلمی حیثیت دی ہے۔ مگر ہمارے ہاں تاریخ کاصحیح افادہ نہیں ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر میں نے پڑھی ہے اور میں اُن کی ذہانت اوراُن کے علم اوراُن کے طرز بیان کا مداح ہوں۔ اُن کے خطوط کامجموعہ غبار خاطر اردو نثر کا اعلیٰ نمونہ ہے اوراُن کی جوتفسیر ہے، بہت اچھی تفسیر ہے۔ اسی طرح مولانا مودودیؒ کی تفسیر ہے۔ میں مذہبی سکالر یا دانش ور کی لیاقت اور قابلیت پر رائے دینے کااہل نہیں ہوں۔ مولانا مودودی کااسلوب بڑاسادہ اوربڑا پرکشش ہے۔اُن کی پوری تفسیر میں آپ کو بڑی کامیاب نثرنگاری کااحساس ہوتاہے۔

تصوف سے دلچسپی اپنے نانا کی وجہ سے پیداہوئی۔ انہیں بزرگان کرام سے بڑی دلچسپی تھی اوروہ بالعموم عرسوں میں شرکت کرتے تھے۔ نہ صرف میرے نانا جان عرسوں میں حاضری دیا کرتے تھے بلکہ ہمارے خاندان کے اور افراد بھی مزارات پر جایا کرتے تھے۔ اس طرح صوفیا سے دلچسپی مجھے وراثت میں ملی اور نتیجتاً میں نے امیرخسروکاخصوصی مطالعہ کیا تو پھر میرا ذہن منتقل ہوا حضرت نظام الدین اولیاء کی طرف۔ خواجہ محبوب الٰہی کاخصوصی مطالعہ کیااورمیں بڑامتاثرہوا اورمیں اُن کی درگاہ میں سترہ سال تک مسلسل حاضرہوا۔ میراخیال ہے کہ میرا جوحاصل زندگی ہے، وہ میری کتاب ’’دبستان نظام‘‘ ہے۔ پانچ سو صفحے کی یہ کتاب اس مقصد کی خاطر لکھی گئی ہے کہ لوگ عام طورپر یہ تصور کرتے ہیں کہ صوفیائے کرام کے ہاں کرامتیں تھیں اور روحانی تجلیات تھیں۔ کبھی کسی نے یہ غور نہیں کیا کہ یہ سب کے سب جتنے بھی تھے، اپنے عہد کے عالم اورمعاشرتی مصلح بھی تھے۔ان لوگوں نے اپنی مثالی زندگیوں سے معاشرے میں اصلاح کا کام کیا۔ مثلاً حضرت نظام الدین اولیاء کے حوالے سے تاریخ فیروز شاہی میں ضیاالدین برنی نے لکھا ہے کہ کیفیت یہ ہوگئی تھی کہ لوگ مضافات سے حضرت کے دیدار کے لیے آتے تھے تولوگوں نے راستے میں جگہ جگہ چھپر ڈلوا دیے تھے اور وضو کے لیے لوٹے رکھوادیے تھے۔ مصلے بچھوا دیے تھے تاکہ وہ نماز اداکریں اورلوگ ایک دوسرے سے یہ پوچھتے تھے کہ بھائی فلاں نماز میں حضرت صاحب کون سی سورہ پڑھتے ہیں اور فلاں نماز میں کون سی سورہ پڑھتے ہیں۔ شام کوکیا ورد ہوتا ہے اورصبح کوکیاورد ہوتا ہے اوراس بات کی کوشش کرتے تھے کہ کون کون سے گناہ سے بچیں۔ توصاحب اگرآپ کرامات کے قائل نہیں ہیں، تب بھی یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ انسانوں کے قلوب کونیکی فلاح کی طرف راغب کیا اوردوسری بات یہ ہے کہ یہ بزرگ علمی و ادبی اعتبار سے ایک بڑے دبستاں کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک بہت بڑاادارہ ایک بہت بڑا Institutionتھے۔ دبستان نظام کاپہلا باب جوہے، وہ حضرت سلطان جی رحمتہ اﷲ علیہ کی معلومات کی گہرائی ظاہر کرتا ہے۔ مثلاًیہ کہ اتنا حاضر علم تھا کہ کسی نے قرآن مجید کی کسی آیت کاکوئی لفظ منہ سے نکالا توآپ نے وہ آیت پڑھ دی۔ کسی نے کسی حدیث کاتذکرہ چھیڑا توآپ نے اُس حدیث کی روایت بیان کر دی۔ کسی نے کسی شعر کا مصرع پڑھا تو آپ نے پورا شعرپڑھ دیا۔ تویہ چیزجوہے یہ برجستگی اور تیزی یہ حافظہ یہ یادداشت، اس پہ قربان جانے کو دل چاہتا ہے۔

اسی انداز پر امیر خسرو کوتربیت حاصل ہوئی تو پھر انیس برس کی عمرمیں انہوں نے پہلا دیوان مرتب کیا اور حضرت کی خدمت میں آئے۔ مسودہ دیا۔ حضرت نے ملاحظہ فرمایا اورکہاکہ بھائی اصفہانیوں کی طرح لکھا کرو اور پھرسمجھا یاکہ اصفہانیوں کی طرح لکھنے کامطلب کیاہے اوراُن کی نظم ونثرکی اصلاح ہوتی رہی۔ کوئی کتاب امیرخسرو کی ایسی نہیں ہے جو حضرت سلطان جی کے ذکرسے معمورنہ ہو۔حضرت امیرخسرو کی موسیقی کو چمکانے والے حضرت سلطان جی ہیں۔پھرحسن سجنر جو امیرخسرو کی ٹکر کے شاعرتھے۔ شبلی نے لکھاہے کہ حسن اس پانے کے شاعر تھے کہ خسرو کواُن پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ وہ برجستگی میں خسرو سے بڑے ہیں۔ خواجہ حسن سجنر نے وہ کام کردیا جویاد گارہے۔ حضرت سلطان جی کے ملفوظات فوائد الفواد کے عنوان سے مرتب کیے۔ پندرہ سال کے فوائدلکھے ہیں۔ وہ کتاب ایسی ہے جوملفوظات کا پہلا مستند مجموعہ ہے اور میراخیال یہ ہے کہ ہندوستان میں بنگلہ دیش میں، ایران میں، افغانستان میں، وسط ایشیا میں ہرجگہ بڑی دلچسپی سے پڑھی جاتی ہے۔ پھرخواجہ ضیاء الدین برنی تاریخ فیروزشاہی والے نے تاریخ کاہنراوراندازحضرت سلطان ہی سے سیکھا۔ امیر خرد جنھوں نے ’’سیرالاولیاء‘‘ جیسی کتاب زبردست لکھی، ایسی جوچشتیہ سلسلے کی انسائیکلوپیڈیا ہے۔جس ذات گرامی نے اِن لوگوں کی تربیت کی، وہ علم وادب کانہایت اعلیٰ اورنہایت مستحکم دبستان تھا۔ میری کتاب دبستان نظام جس کے لکھنے میں، میں نے تین برس لگائے، اس کتاب کولکھنے میں اس کاابتدائیہ حضرت کی درگاہ دلی میں لکھا تھا۔ اس کااختتامیہ مدینہ منورہ میں لکھا اورمیں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی کا اگرکوئی کام ہے تو یہی ہے۔ تصوف کے بارے میں پیر و مرشد ڈاکٹر غلام مصطفی خان نے میرے بے ربط خیالات کی تہذیب کی، ان کا فیض میرے لیے بڑی نعمت تھا۔ 

فارسی میں ایک ہی کتاب کاحوالہ دیتاہوں اور وہ فوائد الفواد ہے۔شاعری جوہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ آدمی کو Hauntکرتی ہے۔ مثلاً یہ کہ آج امیرخسرو کاشعر پڑھیں توآپ ہفتوں سردھنتے ہیں۔ حافظ کاکوئی شعرپڑھا، کسی اور شاعر کاکوئی شعر پڑھا، اقبال کاکوئی شعرپڑھا، اُسی کوگنگنا رہے ہیں۔ توہرشاعرکاکوئی نہ کوئی شعراچھا لگتاہے۔نظیری ہوں، فیض ہوں، بیدل، غالب ہوں، خسروہوں اورصاحب! آپ کے بڑے اچھے شاعر جنہیں آپ نہیں پڑھتے، وہ واقف لاہوری ہیں۔ کیا اچھی غزل ہے۔

ہر غنچہ بشگقت الادل من
اے وادل من صدا دل من 

اوربیدل توبہت ہی بڑاشاعرہے۔غنیمت کی مثنوی نیرنگ عشق پہلے پڑھائی جاتی تھی۔ بیدل بڑے شاعرتھے اور ہمارے اپنے زمانے کی اقبال کی جوغزلیں ہیں جاوید نامہ میں، وہ اپنی جگہ ایک شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہیں مگرافسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک سے فارسی کاچلن اُٹھ گیاہے اورہم اپنے ادبی اورثقافتی سرمایے کے بڑے حصے سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ 

جدید شاعروں میں جوبڑے شاعرہیں، وہ سب بہت اچھے شاعر ہیں۔ میں جوش کوبھی پڑھتا ہوں، فیض کوبھی پڑھتا ہوں، منیر نیازی کواوراپنے دوست احمد فراز کو بھی، قاسمی صاحب کوبھی، زہرہ نگاہ، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض، فاطمہ حسن اور شاہدہ حسن کوبھی پڑھتاہوں بلکہ فہمیدہ ریاض میں تو تصوف کی ایک لگن پائی جاتی ہے۔ مولانا روم کی جن غزلوں کااردو میں ترجمہ کیا، وہ توایک بہت ہی نادر اور نفیس تجربہ ہے۔ مولانا روم کی مثنوی فارسی میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ 

ایک تو فوائد الفواد میری زندگی میں سب سے بڑی کتاب ہے۔میرے گھرکے ہرکمرے میں آپ کویہ کتاب ملے گی۔ میری صبح کا آغاز ایک سپارے کی تلاوت اور فوائد الفواد کی ایک مجلس کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ میں روزنامہ ڈان باقاعدہ پڑھتا ہوں۔ ورنہ1942ء سے لے کرآج (8مئی 2011) تک کے اخبارات باقاعدہ پڑھے اور ہندوستان میں دلی سے مسلم لیگ کا ایک اخبارنکلا کرتا تھا جس کانام تھا منشور۔ حسن ریاض ایڈیٹر تھے، ان کی کتاب ’’پاکستان ناگزیر تھا‘‘ تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ پڑھتا رہا، کراچی کے اردو اخبار بھی پڑھتا ہوں۔ 

دوران سفر چھوٹے چھوٹے سفرکے لیے کبھی کوئی اور کبھی کوئی کتاب ساتھ رکھ لیتا ہوں اور حقیقت تو یہ ہے کہ اب ایک ہی سفر کرنا باقی رہ گیا ہے جس میں مطالعے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ دوران سفراخبار پڑھ لیا، رسالہ پڑھ لیا۔ مطالعے کے لیے انسان کواپنی پوری صلاحیتوں کو مجتمع کرناپڑتا ہے۔ مجھے ہزاروں شعریادہیں اور واقعی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ مجھے بے شمار شعر یادہیں، تاریخیں یادہیں، واقعات یاد ہیں، نثر کے ٹکڑے یادہیں۔ حافظہ اچھا ہے۔ مثلاً کسی کا ٹیلی فون آیاکہ صاحب یہ شعر بتا دیجیے توکہتے یہ ہیں کہ غالب کے دیوان میں ڈھونڈناپڑے گا، آپ سے فوراً معلوم ہوجائے گا۔ اس طرح کے ٹیلی فون مسلسل آتے ہیں۔ اشعار یاد رکھنے کا ملکہ مجھے اپنے والد سے ورثے میں ملا ہے۔ انہیں ہزاروں شعر یاد تھے۔ 

میرے ذوق مطالعہ کا میرے بچوں پہ بہت اچھا اثر ہواہے۔ میرے بڑے بیٹے آمد کاجدید ادبیات میں مطالعہ مجھ سے بہت زیادہ ہے۔ وہ انگریزی میں بھی لکھتے ہیں اور ہم دونوں ادبی موضوعات پرتبادلہ خیال کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تومجھے بتاتے ہیں، میں کوئی نئی کتاب پڑھتا ہوں تومیں اُن کوبتاتا ہوں۔ پھر اُس کے بعدگفتگو ہوتی ہے، مکالمہ ہوتاہے۔ افسوس ہے کہ ضعف بصارت کی وجہ سے پڑھنا برائے نام رہ گیا ہے۔ آئے روز ایک نئی کتاب مجھے دکھاتے ہیں، مگر میں پڑھ نہیں سکتا، صرف افسوس کر سکتا ہوں۔ 

ہمارے ہاں کا دستور تھا لڑکوں کاایک گروہ تھاجو چھپ کر گھٹیا جاسوسی ناول پڑھتے تھے ایک مصنف تھے جن کانام تھا منشی ندیم صبہانی فیروز پوری۔چار آنے میں اُن کاناول آتاتھا۔ پیسے جمع کرکے اُن کاناول لاکے پڑھتے تھے۔پھرہم نے اورضمیرالدین احمد نے جو ہمارے دوست تھے یہ طے کیا کہ دلی جاکر منشی ندیم صبایی فیروز پوری سے ملاقات کرتا چاہے بعدمیں یہ عقدہ کھلا کہ وہ اور جتنے اس طرح کے لکھنے والے تھے وہ اصل میں کاتب تھے اور وہ کتابت کی ہوئی کتاب بالعموم دس روپے پندرہ روپے میں پبلشرز کو دے دیتے تھے اب اُس زمانے میں پانچویں چھٹی جماعت میں وہ بہرام ڈاکو اورجاسوسوں کے کارنامے بڑے اچھے محسوس ہوتے تھے۔بعدمیں خیال آتاہے کہ یہ کیا حماقت اور لغویت تھی۔

ذاتی لائبریری ہے توسہی لیکن مرتب نہیں کیونکہ کتابیں رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے۔میرے بزرگوں نے بہت کتابیں جمع کی تھیں۔ میں نے آپ کوبتایا کہ 16-15ہزارکتابیں تھیں جوبعدمیں ہندوستانی حکومت نے گھر کے سارے سامان کے ساتھ ضبط کر لی تھیں اور مجھے بڑا دکھ ہوا اورساری زندگی رہے گا کہ وہ کتب خانہ صرف ساٹھ روپے میں نیلام ہوگیا تھا۔ بہت دن تک یہاں آکر کتابوں کو جمع نہیں کیا پھرجمع کرناشروع کیا ۔یہاں جگہ نہیں ہے بہت سی کتابیں میں کتب خانوں کودے دیتاہوں۔ میں نے ایک دن اندازہ لگایا تومجھے یہ خیال آیاکہ کم ازکم اب تک تیس چالیں برس میں میں ہزاروں کتابیں مختلف کتب خانوں کودے چکاہوں۔انگلش Fictionکابہت بڑاCollectionتھا۔توپھرآہستہ آہستہ اب صورت حال یہ ہے کہ اس گھرکے ہرکمرے میں کتابیں ہی کتابیں ہیں کتابیں اتنی ہوگئی ہیں کہ سارے گھروالے تنگ آگئے ہیں اور یہ بھی سچی بات ہے کہ اُن کوجداکرنے کودل بھی نہیں چاہتا۔مثلاً میں نے ابھی آپ کے سامنے تذکرہ کیاکہ سیرت النبیؐ کاجوپہلا ایڈیشن ہے وہ ہے میرے پاس، اب جی نہیں چاہتا کہ وہ ایڈیشن کسی کودے دوں۔ بہت بڑا اطمینان ہے اوروہ اطمینان یہ ہے کہ میری کتابیں کباڑیوں کے ہاں نہیں جائیں گی کیوں کہ میری ساری کتابیں آصف سنبھال لیں گے ان کاگھربھی اسی طرح کی کتابوں سے بھراہواہے اوریہ کہ اُن سے کہا ہے کہ تم جس کتب خانے کوبہترسمجھواُسے دے دینا۔

سینکڑوں کتابیں ضائع ہوئیں۔افسوس ہوتاہے جولے گیا اُس نے واپس نہیں کی مگریہ کہ ایک شاگردہے اُسے ضرورت ہے توکتاب تو دینا پڑے گی۔ بعض اچھی ہیں ایسی ہیں مثلاً محمدحسین آزاد کی کتابوں کاپوراسیٹ میرے پاس ہے۔ اُن میں سے اگر کوئی کتاب ضائع ہوجائے تووہ پھر مل نہیں سکتی۔

باقی زندگی کے لیے جو تین کتابیں پسند کرنے کی بات ہے، ان میں ایک تو فوائد الفواد ہوگی، دوسری کتاب دیوان غالب ہوگی اورتیسری کتاب یا دبستان نظام ہو گی۔ 

بہت سی ایسی تحریریں ہیں جن سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ ایک تحریر تھوڑی ہے، بے شمار تحریریں ہیں ۔ لوگ دل آزاری سے باز نہیں آتے۔ شائستگی کومدنظرنہیں رکھتے۔ مجھے سفید رنگ پسند ہے۔ آپ کوکوئی دوسرا رنگ پسند ہے تو بھائی اس کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھ میں اورآپ میں تکرار ہو اور آپ میری دل آزاری کے لیے سفید رنگ کو برا کہیں۔ یہ آج کی دنیا میں جودل آزارچیزیں لکھی جارہی ہیں اوران کے پیچھے عصبیتیں ہوتی ہیں، وہ قابل نفرت ہوتی ہیں۔ 

اشتعال انگیز تحریریں نفرت پھیلانے اور خبث باطن کے اظہار کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ دل آزاری کے لیے لکھی جاتی ہیں، فساد کرانے کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ کسی کو برا نہ کہو، ہر بزرگ ہمارا بزرگ ہے۔ اس کی عزت کرو، یہ کیا کہ دوسرے بزرگوں کی مذمت شروع کر دی کوئی کارٹون بنانے لگا کوئی ناول لکھنے لگا، یہ سب نہایت تکلیف دہ باتیں ہیں اور خبث باطن کا اظہار ہیں۔ پھرادب میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جوایک دوسرے کے خلاف لکھتے ہیں۔تووہ جوخلاف لکھتے ہیں تواُن کوحق ہے کہ ضرور لکھیں کہ صاحب غالب جوتھا بڑا گھٹیا شاعرتھا۔ ٹھیک ہے صاحب بالکل ٹھیک ہے اگرآپ کی رائے ہے تواس میںآپ اپنی رائے پرقائم رہیں۔میں اپنی رائے پرقائم رہوں گا کہ غالب اچھے شاعرتھے۔مگرآپ اگریہ کہیں کہ فلاں شاعر یانثرنگارتوذلیل آدمی تھا کمینہ تھا قلاش تھا تویہ تودل آزاری کی بات ہوگی اور اس دل آزاری سے فضا اور ماحول خراب ہو گا، نفرت پھیلے گی۔اگر آپ کسی شخص کی علمی یا ادبی حیثیت کے منکر ہیں توآپ انکارکیجیے کوئی حرج نہیں لیکن گستاخی نہ کیجیے۔

میرے مطالعے کے اوقات مقرر نہیں۔ ہر وقت اور ہر جگہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ میں کتاب پر نشان نہیں لگاتا جو کچھ پڑھتا ہوں اسے ذہن میں محفوظ رکھتا ہوں اور حسب ضرورت اس سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔ یہ سب باتیں اس وقت کی ہیں جب آتس جواں تھا۔ اب دنیا کے ستم جاد نہ اپنی ہی وفا یاد۔ یہ خواب و خیال وہ گیا۔ نہ کسی سے شکوہ ہے نہ کسی سے کوئی گلہ، سب اچھے ہیں۔ سارے لکھنے والے لائق تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو خوش رکھے۔

مشاہدات و تاثرات

نومبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۱

الشریعہ اور ہائیڈ پارک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کار
مولانا امین احسن اصلاحیؒ

فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء
مولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی

اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالک
قاضی محمد رویس خان ایوبی

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر اسلم فرخی)
عرفان احمد

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی