ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

1970ء کا آغاز ہوا تو میں میٹرک سے فارغ ہو چکا تھا۔ ابھی کالج میں داخلہ نہیں لیا تھا۔ ہر سو سیاست ہی سیاست ہی تھی۔پیپلز پارٹی کی کامیابیوں کے ڈنکے بج رہے تھے۔جماعت اسلامی کے لوگ ابھی تک انتخابی شکست کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکے تھے۔مسلم لیگ بھی شکستہ دیوار کی مانند گرچکی تھی۔اخبارات میں صرف شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو اور انہیں ڈیرہ اسماعیل خاں میں شکست دینے والے مفتی محمود کے تذکرے اور ان پر تبصرے شائع ہوتے۔ جمعیۃ علماء اسلام والے خوش تھے کہ ناقابل تسخیر بھٹو کو مفتی محمودنے ڈیرہ اسماعیل خاں میں انتخابی شکست سے دوچار کیا ہے۔گوجرانوالہ میں جناب زاہد الراشدی جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے ایک بڑا نام تھا۔ہم اس سفر میں ان کے رفیق بھی رہے پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب ان کی شہرت اور علمی مقام ومرتبہ ملکی سطح تک پہنچا تو پہلے ایک حد تک اورپھر مکمل طور پر سیاست سے کنارہ کش ہوکر علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے اپنے والد مولانا سرفراز خاں صفدر اور چچا صوفی عبدالحمید سواتی سے ورثے میں علم وفضل خوب حاصل کیا۔آج کل "الشریعہ"کے نام سے ایک رسالہ جاری کرتے ہیں۔ اس ماہنامہ کی خوبی یہ ہے کہ پچاس کے لگ بھگ صفحات جو آپ ایک نظر میں نہیں پڑھ سکتے ان کا مختصر نچوڑ وہ ٹائٹل کے صفحے پر کچھ اس طرح بکھیر دیتے ہیں کہ ایک بار ہی میں پڑھنے والا اسے محسوس کئے یا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔آج میں نے ماہنامہ "الشریعہ"کے ٹائیٹل اکٹھے کرکے فکرونظر کے تانوں بانوں کو جوڑ کرکالم مکمل کیا ہے۔لگ بھگ گذشتہ پانچ سالوں کے یہ چھوٹے چھوٹے فکر پارے کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں:

(1) دورحاضر میں داعیان اسلام نہ صرف اپنے مخاطبین کی زبان اور محاورے سے ناواقف ہیں۔بلکہ اس فکری پس منظر سے بھی نابلد ہیں جس میں آج کی نئی نسل کی ذہنی تشکیل ہورہی ہے اور یہی چیز ان کی دعوت کے غیر موثر ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔دور حاضر میں وارثان منبرو محراب پر اصحاب کہف کی مثال صادق آتی ہے ۔جن کی زبان اور سکہ دونوں ہی لوگوں کے لئے اجنبی تھے۔(آراء وافکار۔از ڈاکٹر محمد اکرم ورک شعبہ علوم اسلامیہ ۔گورنمنٹ ڈگری کالج پیپلز کالونی گوجرانوالہ مارچ 2009ء )

(2) ہمارے ارباب علم ودانش حضرات کے لیے یہ بات سوچنے اور ہمارے نوجوانوں ایک طبقے کو سمجھانے کی ہے کہ کب تک ہم دنیا بھر کے تنازعات کو اپنے ہاں درآمد کرتے رہیں گے۔ہمارے لئے یہ لمحہ ء فکریہ ہے کہ بے تحاشہ درآمد کی اس پالیسی نے ہمارے ملک کو کس حد تک پہنچا دیا ہے۔ (حالات وواقعات از مولانا مفتی محمد زاہد۔ شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امدادیہ۔فیصل آبادنومبر2011)

(3) فرقہ واریت اور تفریق کے نتیجے میں مطلع ابرآلود اور فضاء مکدر ہوجاتی ہے ۔اس کو اسلام کی بہت بڑی خدمت تصور کیاجاتا ہے ۔یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اگر کوئی مقرر مخالف فرقے کے لئے نرمی سے کام لے یا تہذیب کے دائرے میں رہ کر تقریر کرے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اچھی تقریر نہیں کی اور دوبارہ اسے بلانے سے توبہ کرلی جاتی ہے (آراء وافکار۔از محمدبدر عالم ۔اپریل 2014)

(4) یہ جو بہت زیادہ تقریریں سننا ہے یہ بھی ہمارے عمل کی حس کو بہت حدتک دبادیتا ہے۔اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میں ایک ہی دن وعظ ونصیحت فرماتے تھے۔جب ہم ہروقت باتیں سنتے اور کرتے رہتے ہیں تو ہماری حس مردہ ہوجاتی ہے اور ہم بے پرواہ ہوجاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم ہر وقت سنتے رہتے ہیں۔ (حالات وواقعات از مولانا مفتی محمد زاہد اپریل 2013ء)

(5) خلیق ابراہیم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " شاہ صاحب تین چار بار ہمارے ہاں آئے۔وہ بڑی دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ہندوستانی مسلمانوں کے قومی مزاج کی بات ہورہی تھی کہنے لگے ۔اس سے زیادہ جذباتی قوم دنیا کے پردے پر نہیں ہوگی۔اس کے دین نے اسے اعتدال اور حقیقت پسندی کا رستہ دکھایا ہے۔ اور رسول کریم کا ارشاد ہے کہ دین میں غلو نہ کرو۔مگر ہندوستان کی مسلمان قوم نے دین کو مشعل راہ بنانے کی بجائے اسے اپنے اعصاب پر سوار کرلیا ہے۔اس کے جذبات میں کنکری ڈالوتولہریں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ایک دم ابال آجاتا ہے۔ (حالات وواقعات از مولانا مفتی محمد زاہد ۔جون 2013)

(6) جہاد کی حقیقی روح یہ ہے کہ جہاد کو ذاتی اقتدار یادولت یا اثرورسوخ کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔یہ ایک فریضہ ہے جو مسلمانوں کو مخصوص حالات میں ایک ذمہ داری کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔اگر اس میں دولت واقتدار کی خواہش شامل ہوجائے تو اللہ کی نظر میں وہ جدوجہد اپنی روح کے لحاظ سے بے وقعت قرار پاتی ہے "(حالات وواقعات از ۔محمد عمار خان ناصر مارچ2014)

(7) جس طرح شریعت رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کی مسلسل تلقین کے باوجود ان سے مشترکہ خاندانی نظام کا تمدنی تقاضہ نہیں کرتی اسی طرح مسلمانوں کو اخوت ومحبت واتحاد کی تلقین کے باوجودعالمگیر متحدہ سلطنت کا تقاضہ بھی نہیں کرتی۔ 

(8 ) دینی مزاج رکھنے والے کروڑوں متشرع تاجروں اور دکانداروں کی موجودگی کے باوجود ملاوٹ ناجائزمنافع خوری ،ذخیرہ اندوزی وعدہ خلافی اور ٹیکس چوری اس طبقے میں از حد نمایاں ہے ۔خوراک تو خوراک ہے ادویات اور معصوم بچوں کا دودھ بھی ملاوٹ سے پاک نہیں ہے (حالات واقعات از ۔محمد اظہار الحق ستمبر2015)

(9) تکفیر وقتال کی روش اور نفسیات کی تازہ لہرنے عالم اسلام کے بہت سے حساس علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس سے عالمی اسلام دشمن قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی ایسی منظم منصوبہ بندی کررکھی ہے کہ ملت اسلامیہ کی اجتماعی دانش کرب واضطراب کی شدت سے تلملا کررہ گئی ہے۔(کلمہ حق از مولانا زاہد الراشدی ۔مارچ2015)

(9) دہشت گردی کے واقعات جتنے بڑھتے چلے جائیں گے ان سے مغرب کے جسم پر خراش تک نہیں آئے گی بلکہ ان کی طرف ہمارا رویہ بدلنے لگے گا اور ہم ان کی اخلاقی برتری کے قائل ہونے لگیں گے۔اس سے ان کے پھیلاؤ کا راستہ اور زیادہ ہموار ہوجائے گا (آراء وافکار احمد جاوید /اے ۔اے سیدمارچ 2016)

مشاہدات و تاثرات

Flag Counter