ترجمہ قرآنی ۔اور۔ میری کہانی

مولانا سید سلمان الحسینی الندوی

ستمبر ۱۹۵۴ء میں میری پیدائش ہوئی۔ والد صاحب مظاہر علوم سے فارغ ہوکر حضرت مولانا علی میاںؒ کی خدمت میں ۱۹۵۰ء میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ وہ حضرت مولاناؒ کے ۱۹۵۰ء کے سفرِحجاز میں دیگر چند حضرات کے ساتھ شریک تھے۔ سفر تبلیغی ودعوتی تھا۔ والد صاحب دوسال کے لیے حجاز میں رہ گئے۔اس دوران عراق ،شام وفلسطین کے تبلیغی اسفار کا موقع ملا۔ حجاز کے دورانِ قیام امامِ حرمِ مکی شیخ عبد المہیمن مصری سے قراء ت کی مشق کی۔ قرآن پاک کا حفظ بھی شروع کیا۔ وہ ان کے لہجہ سے متاثر ہوئے۔ حفظ مکمل تو نہیں ہوسکا تھا لیکن اچھا خاصا حصہ یاد تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ میرے بچپن میں محلہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھاتے تھے اور بڑی اچھی حجازی قراء ت فرماتے تھے۔

وہ مرکز تبلیغ، لکھنؤ میں ندوہ کے مکتب میں پڑھاتے تھے جب میری مکتبی تعلیم ان کے پاس شروع ہوئی۔ پھر وہ مددگار ناظم ندوہ بنادیے گئے اور میری مکتبی تعلیم جاری رہی۔ غالباً ۱۹۶۱ء سے مجھے منصور پور ضلع مظفر نگر کے درجہ حفظ میں دو پارے حافظ یامین صاحبؒ کے پاس پڑھنے کا موقع ملا جو بہت اچھے قاری تھے۔ پھر دوبارہ انہی پاروں کا اعادہ مظفر نگر کی حوض والی مسجد میں حافظ ساجد صاحبؒ کے پاس کرنے کی نوبت آئی جہاں ہمارے اباجی سید محمدیوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ رہتے تھے جو حضرت مدنی ؒ کے مرید با اختصاص اور جمعیت العلماء کے مظفر نگر میں ذمہ دار تھے۔ پھر ۶۲۔۱۹۶۳ء میں باقاعدہ میرا داخلہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے درجۂ حفظ میں حافظ محمد اقبال صاحب ؒ کے پاس ہوا۔ پھر ایک سال بعد ۱۹۶۸ء میں حافظ حشمت صاحب ؒ کے سیکشن کی طرف منتقل کردیا گیا جہاں ۱۹۶۷ء میں میرا حفظ قرآن مکمل ہوا۔

دورانِ حفظ قاری رشید الحسن صاحبؒ سے گھر پر قراء ت کی مشق کرتا رہا۔ وہ نواب سید صدیق حسن قنوجی کے پرپوتے تھے جو بعد میں میرے خالو بھی ہوگئے۔ پھر پاکستان منتقل ہوگئے۔ ان کے صاحبزادگان ماشاء اللہ حافظ، قاری اور عالم ہیں اور تعلیمی میدان میں اچھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجھے ان کی قراء ت اور بالخصوص ان کا ’’مد‘‘ اور اس میں ان کی آواز کا تموج بہت پسند تھا۔ درجہ حفظ میں ہمارے دورمیں طلباء کو قاری عبدالباسط عبد الصمد کی قراء ت سنانے کے لیے گراموفون کا انتظام کیا گیاتھا۔ ہم طلباء ان کی قراء ت کے سحر سے مسحور تھے۔ کبھی کبھی فجر بعد کسی ہوٹل میں ان کی تلاوت لگادی جاتی اور سڑک پر لوگ ٹھٹھک کر کھڑے ہوجاتے۔ قرآن پاک سے یہ میرا حفظ وقراء ت، تراویح کی امامت، اور اس کی تلاوت کی نغمگی سے ذوقی اور وجدانی تعلق کا دور تھا۔

۱۹۶۹ء سے عربی کے درجۂ سوم میں داخلہ ہوا اور عربی کی شد بد سے قرآنی الفاظ کے ابتدائی مطالب سے مناسبت شروع ہوئی جو درجہ کی کتابوں کے اہتمام اور مطالعہ کے چسکہ کی بنیاد پر ۱۹۷۰ء میں خوب پروان چڑھی۔

۷۰۔۱۹۷۱ء میں کلیۃ الشریعہ کے پہلے سال ۔جسے عربی پنجم کہتے تھے۔ کا ترجمہ وتفسیرِقرآن کا گھنٹہ مولانا برہان الدین سنبھلی ۔دام ظلہ۔ کا لگایا گیا۔ مکی دور کی سو رتیں اعراف، یونس، ہود وغیرہ نصاب میں تھیں۔ مولانا کی زبان کی چاشنی، لطیف اشارات، عمدہ محاورات، اور افہام وتفہیم پر استادانہ قدرت ومہارت نے اس موضوع سے بڑا انس پیدا کردیا۔ درجہ میں توجہ سے سنتا اور گھر پر آکر ظہر بعد اپنے حافظہ سے درسِ تفسیر لکھ لیتا۔ ہر کام کی چیز کو حفاظت سے رکھنے کا ذوق تھا۔ سب سے زیادہ اہتمام سے قرآن کے ان دروس کو محفوظ رکھا۔ دھاگہ سے سی کر اس کی جلد بنائی اور اس کے صفحہ اول پر ’’عنوان کتاب‘‘ کے طرز کی معلومات درج کیں۔ تقریباً ۴۰؍ سال بعد خیال آیا کہ مولانا برہان الدین سنبھلی ۔دام ظلہ۔ جو فالج کے بعد معذور چل رہے ہیں۔ اللہ ان کو شفائے کامل عطا فرمائے۔ سے چند سطریں بطور تبرک لکھواکر اس مجموعۂ دروس کو شائع کردوں۔ ایک پیش لفظ کے ساتھ الحمد للہ ’’درسِ قرآنِ کریم‘‘ کے نام سے شائع کردیا۔

یہ جملہ معترضہ تھا۔ قرآن کچھ سمجھ میں آنے لگا اور تروایح میں اب ایک خاص کیف کے ساتھ پڑھنے لگا۔ ۷۳۔۱۹۷۴ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شیخ ا لتفسیر حضرت مولانا محمد اویس نگرامی ندویؒ سے مدنی سورتوں ۔البقرۃ، آل عمران۔ وغیرہ کی تفسیر پڑھنے کا موقع ملا اور اس کے منتخب اجزا کو عربی میں قلمبند کرتارہا۔ اسی دوران حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ درجۂ ہفتم میں پڑھی۔ مولانا نگرامیؒ ،شاہ ولی اللہ، ابن تیمیہ، ابن القیم کے عاشق ودلدادہ تھے۔ شاید ہی کوئی دن ان کے حوالوں، ان کی تحقیقات اور علمی نکات اور بلند مقام کے تذکرہ کے بغیر گذرتا ہو۔ آگے چل کر فضیلت دوم میں حجۃ اللہ البالغۃ کے درس نے تو میرے ذہن پر ان کے فکری نقوش ایسے مرتسم کردیے کہ پھر انہی کی فقہی تحقیقات اور اختلافاتِ فقہاء کے اسباب، اور اجتہاد وتقلید پر ان کے نظریات کو اپنے مقالۂ فضیلت کا عنوان بنایا۔ ان موضوعات پر میرے رسائل شائع ہوچکے ہیں۔

یہی وہ زمانہ تھا کہ مرکز تبلیغ لکھنؤ میں ہر اتوار کو مغرب بعد مولانامحمد منظور نعمانیؒ کا درس قرآن پاک ہوتا تھا جس میں لکھنؤ کے خواص اور باذوق حضرات شریک ہوتے تھے۔ میں بھی طالبعلمانہ حاضری دیتا تھا اور مولانا کے سادہ، پرمغز اور موثر درس سے مستفید ہوتا تھا۔

۱۹۷۴ء میں اپنے درجہ کے ساتھیوں کو لے کر میں نے ’’انجمن شباب الاسلام‘‘ قائم کی جس کے مقاصد میں درس قرآن پاک کے حلقوں کا قیام بڑی اہمیت کا حامل تھا، لیکن ۷۵۔۱۹۷۶ء میں فضیلت کے دوسال کی تعلیم اور ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۰ء کے اواخر تک جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ (ریاض) میں کلیۃ اصول الدین  میں ایک سال کی تعلیم اور د و سال مقالۂ ایم اے کی مشغولی نے عملی طور پر انجمن کے کاموں اور درسِ قرآن پاک کے حلقوں کو موخر رکھا۔

ریاض میں کلیۃ اصول الدین میں ۱۹۷۷ء میں میرا داخلہ ہوا۔ وہاں نصاب کا ایک نیا تجربہ ہوا۔ تفسیر کے دوگھنٹے ہوتے تھے۔ ایک تفسیر تحلیلی کے عنوان سے ہمارے ہاں رائج طرز کے مطابق، یہ گھنٹہ ڈاکٹر مصطفی سوری کا تھا۔ وہ بڑے فصیح اللسان اور پختہ صاحبِ علم تھے۔ دوسرا گھنٹہ ’’تفسیر موضوعی‘‘ کے نام سے تھا۔ یہ تفسیر کے معروضی مطالعہ کا نیا طرز تھا جس کے ہم لوگ ہندوستان میں عادی نہیں۔ یہ موضوع ڈاکٹر احمد حسن فرحات سے متعلق تھا۔ وہ بھی شامی ہیں۔ حسن اتفاق یہ کہ میرے اصل موضوع، علوم حدیث کے استاد بھی شام کے معروف عالم ومحدثِ جلیل، شیخ عبدالفتاح ابوغدۃؒ تھے جو ہمارے مقالۂ( ایم، اے) کے نگراں بھی تھے۔ تیسرا موضوع علوم القرآن کا تھا جس میں شیخ مناع القطان کی ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘ ہم طلباء نے پڑھی تھی اور ڈاکٹر صبحی الصالح کی ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘ بھی مطالعہ میں رہی۔

ڈاکٹراحمد حسن فرحات سے سید قطب کی ’’التصویر الفنی فی القرآن ‘‘ پڑھی جس سے ایک نیا پہلو قرآنیات کا سامنے آیا۔ سید قطب کی ’’مشاہد القیامۃ فی القرآن‘‘ اور ان کی عظیم الشان تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ کے مطالعہ کا بھی خوب موقع ملا، بلکہ کہنا چاہیے کہ اس تفسیر میں سید قطب کے جگر کا خون اس طرح شامل ہے اور زبان وبیان کے ساحرانہ ملکہ کی ایسی بلاکی تاثیر اس میں پیدا ہوگئی ہے کہ اس کا قاری صرف علمی اور تحقیقی ٹھنڈی تفسیر نہیں پڑھتا، بلکہ مضامین قرآن کے ساتھ، پہاڑوں پر چڑھتا، وادیوں میں اترتا، گھاٹیوں کو عبور کرتا، فتوحات قرآن سے سرشار ہوتاجاتا ہے۔ یہ حق ہے کہ اس دور میں اتنی طاقتور تفسیر نہیں لکھی گئی۔

ڈاکٹر احمد حسن فرحات کی طرف سے قرآن کے معروضی مطالعہ کے موضوعات طلباء کو دیے گئے تو میں نے ’’الأمانۃ فی القرآن‘‘ اپنے لیے اختیار کیا۔ پھر’’ الأمانۃ‘‘ کو قرآن پاک سے کھنگالا اور کوئی قابل ذکر تفسیر نہ چھوڑی جس سے ’’امانت‘‘ کی تشریحات اکٹھی نہ کی ہوں۔

ندوہ کے دورِ طالبعلمی میں تفسیر قرطبی، تفسیر رازی،تفسیر ابن کثیر، تفسیر مظہری، تفسیر بیان القرآن کے علاوہ تفسیر معارف القرآن، تفسیر ماجدی، مولانا ابوالکلام آزاد کی ترجمان القرآن اور مولانا امین أحسن اصلاحی کی تدبر قرآن، سب ہی پڑھی تھیں، لیکن حضر ت تھانویؒ کے دقیق نکتوں، اور مولانا اصلاحی کی لغوی بحثوں اور سورتوں اور آیتوں کے ربط کے مختلف پہلوؤں اور تفسیر ماجدی کے تقابلی مطالعوں، اور عصری تحقیقی بحثوں سے ذہن متاثر تھا، لیکن مولانا شبیر احمد عثمانی کے حواشی سے زیادہ اشتغال نے ان کا شائق بنارکھا تھا، اور ’’إنا عرضنا الأمانۃ‘‘ کی تشریح میں اس شعر نے 

آسماں بار امانت نتوانست کشید
قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند

لوح دماغ پر ایک تصویر مرتسم کردی تھی، اور یہی ’’ الأمانۃ فی ضوء القرآن‘‘ کے موضوع کا محرک بنی۔ الحمد للہ ایم اے سال اول کا وہ مقالہ طبع ہوچکا ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر احمد حسن فرحات، مولانا حمید الدین فراہی کے بہت قائل تھے۔ ان کا تذکرہ ندوہ کے ماحول میں ،میں سنتارہا تھا اور ان کے رسالے پڑھتارہا تھا، لیکن ڈاکٹر فرحات کا اصرار تھا کہ میں ایم اے کا اپنا تھیسس ان ہی کی تحقیقات پر لکھوں اور تفسیر کو ہی اپنا موضوع بناؤں، لیکن موضوع کے انتخاب میں شیخ عبدالفتاح ابوغدۃ سے خصوصی تعلق غالب آیا، اور موضوع مقالہ ’’ألفاظ الجرح والتعدیل‘‘ علوم حدیث کا طے پایا۔ میں بطور تحدیث نعمت یہ بھی ذکر کردوں کہ جامعہ محمد بن سعود ریاض میں ’’مسابقۃ الحدیث‘‘ (حدیث کا انعامی مقابلہ) ۱۹۷۸ء منعقد ہوا۔ اس میں پوری جامعہ میں میرا اول نمبر آیا اور پھر ۱۹۷۹ء میں قرآن کا انعامی مقابلہ منعقد ہوا، اس میں حفظ میں بعض مقامات پر بھول جانے کی وجہ سے پوری جامعہ میں دوسرا نمبر آیا۔

جامعہ کے ایک مصری استاد جو شعبۂ تفسیر کے صدر تھے،شیخ’’ محمد الراوی‘‘ تھے۔ ان کا طرزِ قراء ت اور اندازِ تفسیر بڑا موثر ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ دل پر دستک کی چوٹ لگارہے ہیں، ان کا نقش بھی دل ودماغ پر رہا۔

جامعہ محمد بن سعود ۔ریاض ۔سے فارغ ہوکر میں دار العلوم ندوۃ العلماء ۱۴۰۱ھ کے جمادی الثانی اور ۱۹۸۱ء کے ماہ اپریل میں حاضر ہوا اور باوجود تعلیمی سال کے اختتام کے میرے گھنٹے بیرونی طلبا کے لیے سنن ترمذی اور تفسیر کے لگا دیے گئے تھے۔ پھر باقاعدہ ۱۴۰۲ھ مطابق ۱۹۸۲ء سے میں نے سورۃ الفاتحہ، سورۃ البقرۃ، سورۃ آل عمران کا عا لمیت کے سندی سال میں درس دینا شروع کیا اور پہلی مرتبہ سورۃ البقرۃ کے درس کے دوران مجھے پوری سورۃ البقرۃ کی منظم فصلوں اور ان کے عنوانات کا انکشاف ہوا۔

تین انسانی طبقات ۔تین بنیادی عقائد۔ قصۂ آدم وابلیس۔بنی اسرائیل کی تاریخ عروج وزوال۔ امامت ابراہیمی۔ ملت ابراہیمی۔ کعبہ کی مرکزیت۔ یہود ونصاریٰ کی معزولی۔ قبلہ کی تبدیلی۔ امت کا موحدانہ نظام۔ نماز اور زکوۃ کا مکی سورتوں میں بیان گذرنے کے بعد، روزوں کابیان۔ حج کا نظام۔ سماجی مسائل اور اصلاحات۔ خاندانی اور عائلی نظام۔ معرکۂ حق وباطل۔ فلسفۂ موت وحیات۔ انفاق فی سبیل اللہ۔اسلام کا غیر سودی نظام۔ مالیاتی اور معاملاتی مسائل۔ حلفیہ بیانات۔ پھردعاؤں پر اختتام۔
مجھے سورۂ بقرہ ایک جامع اسلامی نظام کے ابتدائی خاکہ کی شکل میں نظرآئی اور میں نے طلبا کو اسی ترتیب سے پڑھایا۔

۱۹۸۲ء سے انجمن شباب الاسلام کی تحریک پھر سے ایک نئے و لولہ اور جوش کے ساتھ شروع کی گئی۔ ہفتہ واری، ماہانہ اور سالانہ پروگراموں کے علاوہ ایک اہم پروگرام شہر کی مساجد میں درس قرآن پاک کے حلقوں کا تھا۔ ندوہ کے متعدد مدرسین کے حلقہ ہائے درسِ قرآن، مختلف مساجد میں شروع کرائے گئے۔

اسی دوران ’’الفوز الکبیر فی اصول التفسیر‘‘ کو معاصر عربی اسلوب کے قالب میں ڈھالنے کے لیے میں نے فارسی اصل کا از سرنو عربی ترجمہ کیا۔ ارادہ اس کی تشریحات اور جامع حواشی کا تھا، لیکن تحریکی مصروفیات نے یہ کام نہ ہونے دیا۔ الفوز الکبیر  کا فارسی سے میرا عربی ترجمہ ذی القعدہ ۱۴۰۴ھ میں شائع ہوا۔

درس قرآن کے حلقوں کی مہم ۱۴۰۳ھ کے ماہ رمضان میں، میں نے بڑے زور وشو رسے چلائی اور شہر کی مختلف مساجد میں ختم قرآن کے موقع پر پوری قوت سے عوام کو ترجمہ وتفسیر قرآن پڑھنے کی دعوت دی۔ میرے ذہن میں حضرت شیخ الہند کی یہ بات دوارن مطالعہ نقش ہوگئی تھی کہ حضرت نے مالٹا کے جیل میں خوب غوروخوض کے بعد امت کے مسائل کا حل دونکتوں میں بیان فرمایا تھا، ایک اتحاد ملی کی کوشش، دوسرے قرآن کے مطالب ومعانی کی نشرواشاعت، اور ہماری تحریک کے یہ دونوں بنیادی عناصر تھے۔

میرا ہفتہ واری درسِ قرآن مولوی گنج کی دھنیا مہری مسجد میں بروز چہار شنبہ بتاریخ ۳؍ صفر ۱۴۰۴ ؁ھ مطابق ۹؍نومبر ۱۹۸۳ ؁ء بعد مغرب شروع ہوا جو مولوی گنج کی مسجد خواص کی تعمیر کی تکمیل کے بعد وہاں منتقل ہوگیا۔ پھر مسجد کے لب سڑک ہونے اور ٹریفک کے شوروغل کی وجہ سے ایک عرصہ بعد ہمارے اپنے محلہ کی مسجد ’’قبر ماموں بھانجہ‘‘ میں منتقل ہوا، پہلے یہ درس ہر چہار شنبہ کو بعد مغرب ہوتا تھا، پھر ہر دوشنبہ کو بعد مغرب ہونے لگا۔

لکھنؤ کے مرکز تبلیغ میں بھی مولانا سجاد نعمانی کے لمبے سفرِ تبلیغ کے دوران رمضان وشوال ۱۴۰۳ھ مطابق۱۹۸۳ء میں چند ہفتے پابندی سے درس دینے کا موقع ملا۔ پھر جنوری ۱۹۸۴ء سے نشاط گنج بالدہ روڈ کی جامع مسجد میں وہاں کے حضرات کے اصرار پر پندرہ روزہ درس قرآن شروع کیا، لیکن اپنی شدید مصروفیات کی بنا پر بعد میں اسے دوسرے ساتھیوں کے حوالہ کردیا۔

میرا ہفتہ واری درسِ قرآن۔ حسن اتفاق ہی کہیے کہ۔ نزولِ قرآنی کی مدت ۲۳؍ سال میں پورا ہوا۔ ہر ہفتہ ایک رکوع دور کوع کا درس مغرب سے عشاء تک ہوتا تھا جس کے ٹیپ کرنے کا بھی اہتمام تھا۔ اس کے ساڑھے تین سو، چار سو کیسٹ تیار ہوگئے تھے۔ غالباً ۱۴۲۷ھ ؁ مطابق ۲۰۰۶ ؁ء میں یہ درس مکمل ہوا اور اس موقع پر ایک بڑا اجلاسِ قرآنی منعقد کیا گیا۔

اسی دوران اپنے محلہ کی مسجدمیں، میں نے فجر کی نماز کے بعد مختصر درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا جو ۱۵؍ سے ۲۰؍ منٹ تک ہوتا تھا جس میں، میں ایک رکوع کی تلاوت کرتا تھااور پھر آیات کا رواں ترجمہ کرتا تھا۔ پھر مختصر سی تفسیر ۔مصلیان مسجد کی رعایت کے ساتھ۔ بیان کرتا تھا۔ الحمد للہ اس یومیہ درس کے ریکارڈ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ فجر بعداس مجلس میں الحمد للہ دو مرتبہ پورے قرآن پاک کی تفسیر کا موقع ملا۔

ان دروس کے دوران میں نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے بھی بہت استفادہ کیا۔ تفسیر ماجدی اور مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ کی معارف القرآن بھی زیر نظر رہتی تھی، لیکن یہ احساس ہوتا تھا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے تفہیم القرآن زیادہ مفید ہے۔ میں نے مولانا مودودی کے ترجمۂ قرآن میں کہیں کہیں عربیت کے صاف اور بلند ذوق کی کمی دیکھی۔ چاہتا تھا کہ ان مقامات کی نشاندہی کردوں لیکن نوبت نہ آسکی۔

قرآن پاک کی تحریک شروع کرنے سے قرآن اور موضوعات قرآنی، میری تقریروں کا عنوان اور موضوع بنتے گئے۔ میں نے اپنے نانا حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو اپنی تقاریر قرآنی آیات سے شروع کرتے دیکھا تھا۔ قاری کی تلاوت سے مولانا کسی آیت کا انتخاب فرمالیتے تھے، اور اسے ہی تقریر کا عنوان بنالیتے تھے۔ میں نے اسی طرز کو اختیار کیا اور بسااوقات جلسوں میں خطاب سے پہلے کوئی موضوع ذہن میں نہ ہوتا اور کبھی کبھی حمد وثناء وصلاۃ وسلام کے تمہیدی الفاظ ادا کرتے کرتے کوئی آیت کریمہ ذہن میں آتی اور اسی کو موضوع بناکر جلسہ کی مناسبت سے مربوط کرتا۔ اس سلسلہ میں قرآن پاک کی فیاضی، دادرسی اور حکمتوں کے خزانے خوب خوب سامنے آتے رہے۔ 

مجھے قرآن پاک کے معجزانہ پہلو سے ہمیشہ دلچسپی رہی اور اس سلسلہ میں مصطفی صادق الرافعی کی’’اعجاز القرآن‘‘، علامہ رشید رضا مصری کی ’’الوحی المحمدی‘‘، اور سیدقطب اور محمد قطب کے مضامین کے علاوہ قرآن کے سائنسی اعجاز کے لیے علامہ جوہری طنطاوی کی تفسیر پر بھی نگاہ ڈالی، اوراپنے محترم ومرحوم دوست ۔جن سے عمر کے بڑے فرق کے باوجود تعلق محبانہ اور دوستانہ تھا۔ مولانا شہاب الدین ندویؒ کی ’’چاند کی تسخیر‘‘ سے لے کر تقریباً تمام کتابیں پڑھیں۔ پھر رابطہ عالم اسلامی کے شعبہ ’’الإعجاز العلمی فی القرآن‘‘ کے صدر شیخ عبد المجید زندانی کی ’’إنہ الحق‘‘ اور بعض دیگر کتابیں نظر سے گذریں،اور ان سے متعدد ملاقاتوں میں بھی ان کی تحقیقات سننے کا موقع ملا۔ ہارون یحییٰ کی سی ڈیز دیکھنے اوران کی بعض کتابوں کے مطالعہ سے بھی بہت سے گوشے سامنے آئے۔ قرآن اور سائنس کے موضوع پر موریس بوکائی کی کتاب ’’بائیل قرآن اور سائنس‘‘ بھی غور سے پڑھی۔ اس موضوع پر متعدد متخصص شخصیات کے بیانات سنے جن میں ڈاکٹر زغلول نجار مصری معروف ہیں اور یہ بات کھل کرسامنے آئی کہ آج کے دور میں قرآن کے معجزانہ پہلوؤں میں سب سے زیادہ موثر پہلو، قرآن کے سائنسی اعجاز کا ہے۔ قرآن کے بلاغی، بیانی، لغوی اعجاز کے سمجھنے والے، افسوس ہے کہ مدارس میں بھی برائے نام ہی ہوں گے، لیکن قرآن کے سائنسی اعجاز کا دل ودماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ قرآنی علوم سے متعلق ارض القرآن۔ اعلام قرآنی۔ حیوانات قرآنی۔ اور علوم القرآن کی تمام متداول کتابیں الحمد للہ نظر سے گذریں۔

اسی دوران حضرت مولانا علی میاںؒ کے ۱۹۵۰ء کے قرآنی لکچرز جو انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاد تفسیر دیے تھے اور مولاناؒ کے پاس اس کی اصل بھی محفوظ نہیں رہی تھی، والد مرحوم حضرت مولانا سید محمد طاہر صاحبؒ کے محفوظ کاغذات میں ملے۔ انہوں نے مولانا سے وہ لکچرز سنے تھے اور نوٹ کیے تھے۔ میں نے حضرت مولاناؒ کے سامنے انہیں پیش کیا۔ مولانا باغ باغ ہوئے اور پھر ’’مطالعہ قرآن کے اصول ومبادی‘‘ کے عنوان سے نظرثانی اور اضافوں کے بعد اسے شائع کیا۔ پھر حضرت مولاناؒ کی متعدد اردو اور عربی کتابوں کے عربی اور اردو تراجم کی طرح مجھے اس کتاب کو عربی میں منتقل کرنے کی توفیق ملی، اور ’’المدخل إلی الدراسات القرآنیۃ‘‘ کے عنوان سے حضرت والا ؒ نے اپنے مقدمہ کے ساتھ اسے شائع فرمایا۔


اس سیاحتِ قرآنی، تذکیر بالقرآن، جہاد بالقرآن اور تحریکِ قرآنی کی مصروفیتوں کے درمیان متعدد احباب نے ’’اپنا رواں ترجمہ‘‘ پیش کرنے کامجھ سے مطالبہ کیا۔ گذشتہ سالوں میں، میں نے کام شروع بھی کیا، لیکن ایک پارہ سے کام آگے نہ بڑھ سکا۔

ادھر ایک عرصہ سے صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ سال بھر تدریس اور دعوتی مصروفیات کے دوران صرف ہلکے پھلکے مضامین یارسالوں کی نوبت ہی آتی ہے۔ ہاں رمضان المبارک میں سکون سے وقت ملتا ہے۔ چند سالوں سے جامعہ سید احمد شہید میں ماہِ رمضان المبارک گذارنے اور آخری عشرہ کے اعتکاف سے جو یکسوئی نصیب ہوئی، اس میں مسلسل تین سال کے ماہِ رمضان المبارک میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’مصفی شرح موطأ‘‘ کے عربی ترجمہ میں مشغول رہا۔ عہدولی اللہی سے ملت اسلامیہ ہندیہ کے علماء پریہ قرض چلا آرہا تھا اور ایامِ طالب علمی سے میری تمنا اس کے ترجمہ کی تھی۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی شخصیت میرے فکری اور فقہی تانے بانے کا اصل مرجع تھی۔

گذشتہ رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ میں، میں الحمد للہ’’ مصفی‘‘ کے ترجمہ سے فارغ ہوا اور جوں جوں رمضان المبارک ۱۴۳۴ھ قریب آتا گیا، ترجمۂ قرآن پاک کی پرانی تمنا، دیرینہ مطالبہ اور دلی جذبہ اور پختہ ارادہ عود کرتا گیا۔ ماہ جون ۲۰۱۳ء کے رمضان کوموسم کے اعتبار سے کسی معتدل مقام پر گذارنے اور اس عظیم کام کے لیے یکسو ہونے کا ارادہ کررہا تھا اور خیال تھا کہ جناب ضیاء اللہ شریف صاحب کی قائم کردہ خانقاہ سید احمد شہید میسور ۔ میں ماہِ رمضان المبارک گذارو ں گا اور ترجمہ کا کام انشاء اللہ ایک ماہ میں مکمل کرلوں گا۔ ہمت کہتی تھی کہ روزانہ ایک پارہ کا ترجمہ انشاء اللہ ہوجائے گا، جبکہ رمضان المبارک میں یہ معمول رہتا ہے کہ روزانہ ظہر بعد درس قرآن ہوتاہے، اور پھرروزانہ تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے ہوئے حصہ کی مختصر تفسیر ہوتی ہے۔

میں اسی فکر ورابطہ میں تھا کہ رمضان المبارک سے ۲۰؍۲۵؍ روز پہلے کٹھمنڈو ۔نیپال ۔ سے حافظ محمد حسین ندوی مجھ سے ملنے لکھنؤ آئے۔ کٹھمنڈو میں میرے مشورہ سے انہوں نے برادرم سعید قاضی، مولوی عامر ظفر ندوی اور بعض دیگر احباب کے تعاون کے ساتھ ’’مدرسۃ الحرمین‘‘ ۱۹۹۸ء میں قائم کیا تھا۔ پھر ہمارے اصرار پر اس کے لیے چاروں طرف سے پہاڑوں کے بیچ میں ایک خوبصورت وادی میں اراضی خرید کر مسجد، ہوسٹل، اور درجات کی تعمیر کی تھی۔ میری حاضری مدرسہ کے معاینہ اور مدرسہ کے جلسوں میں شرکت کے لیے متعدد بار ہوچکی تھی۔

میں نے حافظ محمد حسین سے رمضان کسی ٹھنڈے مقام پر گذارنے کی اپنی خواہش کا ذکر کیا۔ انہوں نے شدت سے اصرار کیا کہ آپ مدرسۃ الحرمین ۔ کٹھمنڈو ۔ میں رمضان گذاریں۔ وہاں نیپالی، چینی، تبتی اور پاکستانی احباب دروسِ قرآن اور رمضان کے پروگرام سے مستفید بھی ہوں گے اور آپ اپنا کام سکون سے کرسکیں گے۔ میں نے اس پیشکش پر چند شرائط کے ساتھ سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا اور حافظ حسین نے نیپال میں اس کا اعلان کردیا اور ضروری انتظامات میں کوئی کسرنہ چھوڑی۔

رمضان المبارک ۱۴۳۴ھ کا چاند ہوا۔ مبارک رات سے ابتداہوئی۔ میں نے رمضان المبارک کے پہلے دن، پہلے روزہ کی صبح ۹؍بجے، دو رکعت صلاۃ الحاجۃ اور بارگاہ الٰہی میں مقبول اور پسندیدہ ومفید ترجمہ کی دعاؤں کے ساتھ ۔سورۃ الفاتحہ کے ترجمہ سے’’مقدمۂ قرآن عظیم‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کا آغاز کردیا۔ اب روز کا یہی معمول ہوتا۔ ظہر کی اذان تک تقریباً یہ سلسلہ جاری رہتا۔ ظہر بعد مسجد میں درس قرآن ہوتا۔ تراویح کے بعد حسب معمول جتنا حصہ پڑھا جاتا،اس کا مختصر بیان ہوتا اور کبھی تراویح کے بعد احباب کی مجلس کے اختتام پر پھر ترجمہ کی مشغولیت رہتی۔ آخر آخر میں عصر کے بعد مسجد میں کتاب خوانی ودعا کے بعد اپنی قیام گاہ پرمیں پھر ترجمہ میں مشغول ہوجاتا۔


میں نے طے یہ کیا تھا کہ ترجمہ حرفی نہیں ہوگا، معنی خیز ہوگا۔ ضروری وضاحتیں بین القوسین مربوط طریقہ پر ہوتی چلی جائیں گی، تاکہ قاری کو بغیر تفسیر کی حاجت کے، رواں ترجمہ سے ہی مطالب قرآنی سمجھ میں آتے چلے جائیں۔

قرآن کی نزولی ترتیب وقتی ضرورت سے تھی، لیکن حقیقی ازلی اور ابدی ترتیب یہی ہے جو ہمارے سامنے ہے جس کی بنا پر مصحف صدیقی مرتب کیا گیا اور پھر اس کے نسخے مصاحف عثمانی کی شکل میں عالم اسلامی میں پھیلا دیے گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ ازلی ترتیب اللہ کی حکمتوں سے لبریز ہے۔ جو عرب اپنی شاعری اور نثاری میں کسی تصنیفی ترتیب سے واقف نہیں تھے اور وہ دور جزیرۃ العرب میں تصنیف وتالیف کا تھابھی نہیں،سورتوں کے ذریعہ مضامین کو اور آیتوں کے ذریعہ مفردات اور جملوں کو پیش کیا گیاتھا۔ زیادہ تر سورتوں کے نام عربی ذوق کے مطابق علامتی رکھے گئے۔ زبان وبیان کے معجزہ سے عرب مبہوت تھے اور ان کے دور کے اسلوب کی اس کلام ربانی میں ایسی نادر اور حیرت انگیز رعایت رکھی گئی تھی کہ وہ فطرت انسانی کو اپیل کرتی تھی، اس لیے وہ نہ ان کے لیے اجنبی تھی، نہ کسی دور میں اجنبی رہی، لیکن ہردور کے انسانوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’لتبین للناس‘‘ (تا کہ آپ لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کردیں) کا فریضہ انجام اسی وقت دیا جاسکتا تھا جب ہردور کی زبان اور اصطلاحات میں اس فطری ترتیب کی ترجمانی ہو۔

حق یہ ہے کہ ترجمہ کا یہ کام، رمضان المبارک کے دنوں میں ، صلاۃ الحاجت کے بعد، روزہ کی حالت میں، ایسا مسرت آگیں، سکینت آمیز، اور بارگاہ الہی میں حاضری اور ہم کلامی ومناجات کی روحانی لذتوں کے کیف اور قرب کے وجدانی اثرات سے معمور تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ قلب وذہن پر ایک خاص طراوٹ ہورہی ہے اور قلم کو غیبی سہارا دیا جارہا ہے۔ القاء والہام کا دعویٰ تو بڑوں کی بات ہے، لیکن دل جابجا تایید ایزدی اور توفیق ربانی کی گواہی دیتا تھا۔

انہی کیفیات میں ایک دن پورا قرآن ’’ترجمانی کے عصری قالب میں‘‘ ایسا مرتب ہوتا نظر آیا کہ مقدمہ ،ابواب ، فصلیں، ذیلی عنوانات سب ہی مرتب ہوتے چلے گئے۔ نظم وترتیب قرآنی پر تاریخ تفسیر میں معدودے چند عظیم مفسرین نے روشنی ڈالی ہے، لیکن عوام تو عوام، خواص بلکہ اخص الخواص، طلباء اور مدرسین مدارس کی گرفت میں وہ کم ہی آسکی۔ علامتی ناموں سے سورتوں کے حوالہ اور آیتوں کے نمبرات کے ذریعہ جوباتیں کہی جاتی ہیں، ان کے حوالے اس طرح دیے جاتے ہیں کہ ہر مضمون گویاایک مستقل مضمون ہے۔ میرے لیے بہرحال ایک مربوط ترتیب سامنے آتی چلی گئی اور ایک دو مجلس میں قرآن کی ۱۱۴۔ سورتوں کے پندرہ ابواب اور دسیوں فصلوں کے عنوانات طے پاگئے اور پوری فہرست ابواب اور فصلوں کے ساتھ بحمد اللہ مرتب ہوگئی۔ یہ میرے لیے سب سے بڑی دریافت اور سب سے بڑی معنوی فتح تھی۔

قریبی عرصہ میں مولانا تقی عثمانی کا ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ضروری تشریحات کے ساتھ تین جلدوں میں چھپ کر آیا ہے۔ انہوں نے رمضان المبارک ۱۹۲۹ء مطابق ستمبر ۲۰۰۸ء میں اس کو مکمل کیا۔ دوسرا ’’آسان ترجمہ وتشریح قرآن مجید‘‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے قلم سے رمضان ۱۴۱۹ھ سے درمیان کے لمبے وقفوں کی وجہ سے ربیع الاول ۱۴۳۲ھ مطابق فروی ۲۰۱۱ء میں سورۂ اعراف تک ایک جلد میں شائع ہوا۔ دوسری، تیسری جلد کا انتظار ہے۔ میرا احساس ہے کہ ان دونوں ترجموں سے یہ ترجمہ زیادہ آسان، سہل اور رواں ہے۔ پھر کیونکہ میں نے تفسیر نہیں لکھی، ترجمہ میں ہی ضروری توضیحات مربوط طور پر کر دی ہیں کہ تسلسل کے ساتھ قاری پڑھتا چلاجائے اور اسے بار بار نمبرات دیکھ دیکھ کر نیچے حاشیے نہ دیکھنے پڑیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ اس ترجمہ بلکہ ترجمانی سے مستفید ہونے والے قاری کو جس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، مزید تشریحات کے بغیر مطالب قرآنی سمجھ میں آتے چلے جائیں گے۔

مشاہدات و تاثرات