مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے متوقع مثبت اثرات

محمد عمار خان ناصر

(جھنگ کی صوبائی نشست پر مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے حوالے سے سوشل میڈیا کے لیے لکھی گئی مختصر تحریر) 

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یہ کامیابی ایک بہت بڑے حلقے کو، جو صحیح یا غلط وجوہ سے گزشتہ تین دہائیوں سے حکومتی وسیاسی پالیسیوں سے نالاں تھا اور بڑی حد تک مین اسٹریم کی مذہبی جدوجہد سے کٹ چکا تھا، دوبارہ اس میں واپس لانے اور جمہوری طرز جدوجہد پر اس کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت نے بھی یقیناًایسے عناصر کو اکاموڈیٹ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے جو ہر لحاظ سے درست اور دانش مندانہ ہے۔ ناراض عناصر کو مین اسٹریم میں واپس لانا اور انھیں سیاسی space دینا، نہ کہ انھیں دور سے دور تر کرتے چلے جانا، ہی مدبرانہ سیاسی حکمت عملی ہے۔ انتہا پسندانہ رجحانات کو اعتدال پر لانے کا واقعاتی دنیا میں یہی ایک طریقہ ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس کامیابی پر پورے دیوبندی حلقے میں بحیثیت مجموعی خوشی محسوس کی گئی ہے اور اس تقسیم کو، جو سپاہ صحابہ کے ظہور کے بعد جمعیت علماء اسلام اور سپاہ صحابہ کے مابین پیدا ہوئی اور رفتہ رفتہ شدید منافرت تک جا پہنچی، کم کرنے میں بھی یقیناًمدد ملی ہے اور مزید مل سکتی ہے۔ جمعیت کا رویہ اور طرز فکر پہلے بھی روادارانہ رہا ہے اور اس کامیابی میں جمعیت کی تائید کا بھی حصہ ہے۔ اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ باہمی منافرت کی فضا میں مزید کمی آئے گی اور ترجیحات کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مشترکہ امور میں تعاون کی فضا دوبارہ قائم ہو سکے گی۔

بعض اطلاعات کے مطابق اس کامیابی میں جھنگ کے بعض شیعہ ووٹرز نے بھی مولانا مسرور نواز کی تائید کی ہے، اس بنیاد پر کہ ان کا تعلق کسی جاگیردار خاندان سے نہیں، بلکہ عوامی طبقات سے ہے۔ یہ بھی ایک بہت اہم پہلو ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سپاہ صحابہ جھنگ میں خود کو ایک حقیقی عوامی جماعت کی حیثیت سے منظم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نہ صرف سیاسی لحاظ سے بلکہ شیعہ اور سنی کی مذہبی تفریق کو کم کرنے کے لحاظ سے بھی اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔

مشاہدات و تاثرات