میخانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

(یہ عمرہ کے سفر کی کچھ روداد ہے۔اس کا اگر کوئی فائدہ ہو تو اس کا ثواب برادرِ عزیز حسان نعمانی کے حساب میں کہ یہ تحریر محض ان کی فرمائش پر ہے۔)


بسم اللہ حمداً وَّسلاماً۔

چالیس برس ہوتے ہیں جب شمالی برطانیہ کے شہر ڈیوز بری میں سکونت پذیر محترم مولانا یعقوب قاسمی زید مجدہم نے راقم کی صحت کے حوالہ سے اپنے یہاں کچھ وقت گزارنے کی دعوت دیتے ہوئے آمد و رفت کاایسا ٹکٹ ارسال فرمایا کہ واپسی براہِ جدہ تھی، یعنی اسی سفر میں حج کی سعادت بھی حاصل کی جا سکتی تھی۔اللہ مولانا کو ہردوعالم میں جزائے خیر سے نوازے،یہ سعادت حاصل ہوئی۔یہ دسمبر۱۹۷۵ء تھا۔ ۱۹۷۶ء سے سکونت ہی برطانیہ میں ہو گئی۔ مگر حالات کی نامساعد ت کہیے یا بے توفیقی کہ اس کے بعد اپنی طرف سے کوئی کوشش اس ارضِ مقدس کی زیارت کے لیے عمل میں نہ آئی، خواہش البتہ رہی اور بڑھتی رہی، حتیٰ کہ گزشتہ سال توفیق شامل حال ہوئی اور عمرے کے ارادہ کا ’’احرام ‘‘ باندھ لیا، مگر اس سال یہ سعادت مقدر نہ نکلی۔ ویزا کے حصول کا مرحلہ اتنا دیر طلب ہوا کہ ارادہ کو آئندہ سال پر محول کرنا ناگزیر ہوگیا۔ کرم اُس گھر والے کا کہ زندگی نے ساتھ دیا اور امسال ۱۰ تا ۱۸؍جنوری( ۲۰۱۶ء )میںیہ ایک دیرینہ آرزو بر آنے کی سبیل بنی۔ رفاقت سفر کا قرعہ برادر زادۂ عزیز ہارون نعمانی کے نام پڑا۔ اور حسنِ اتفاق کہ نعمانی برادر زادگان میں سب سے بڑے، شمعون نعمانی، جو مدت سے مدینۂ منورہ کی سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں اور اپنی بھانجی کی شادی کے سلسلہ میں لکھنؤ آئے ہوئے تھے وہ بھی اسی( لکھنؤ۔جدہ) سعودی فلائٹ سے ہم سفر(بلکہ جدہ تک )امیر قافلہ ہوگئے۔

فلائٹ لکھنؤ سے چار بجے دن کو چل کر بفضل خدا ۱۰؍ بجے جدہ میں بسلامت اتری۔ معلوم ہوا کہ یہاں سے عام مسافروں اور عمرہ کے مسافروں میں تفریق کردی جاتی ہے۔ پس شمعون سلمہ یہاں سے جداہو گئے اور اگلے مراحل، کسٹم وغیرہ، اب ہم میاں ہارون سلمہ کی رہنمائی میں طے کرتے ہوئے ،جو اپنے حج کے بعد ابھی ایک دوسال پہلے عمرہ بھی کرچکے تھے اور واقف راہ و منزل تھے، عازمِ مکہ ہوئے۔ اس کے لیے جدہ سے بس لینا تھی۔بس اسٹیشن پر پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ میاں شمعون موجود ہیں جبکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ ان سے ملاقات اب مدینۂ منوّرہ ہی میں ہوگی۔وہ ہم سے جدا ہوکر جدہ میں مقیم اپنی بہن (عالیہ سلمہا) کے گھر چلے گئے تھے اور وہاں سے بہنوئی (ذیشان سلمہ ) کو لے کر جدہ کے بس اسٹاپ پر آگئے تاکہ مکہ معظمہ کا ہمارا سفر کار سے ہو۔دل سے دعا نکلی کی عزیز بچوں نے کیسی راحت کا سامان کردیا۔ لیکن یہ لوگ اس ارادہ سے آئے تھے کہ ہم پہلے عالیہ و ذیشان کے گھر جائیں اور وہاں کچھ سستا کے عازمِ بیت اللہ ہوں۔ ارادہ بے شک بڑا سعادتمندانہ تھا، مگر اپنے لیے آزمائش ہوگئی ۔چالیس برس کے بعد اُس گھر کے لیے نکلنے کی توفیق پائی تھی جسے اللہ نے لوگوں کے لیے پروانہ وار لوٹ لوٹ کر آنے کی جگہ(مَثابَۃّ لِلنّاس) فرمایا ہے ،پھر بھی آستاں بوسی سے پہلے کسی اور گھر میں سستانے کو جا اُتریں! چنانچہ ہم نے ان کا یہ نیک ارادہ جاننے کے بعدمعذوری ظاہر کی کہ ہم کو سیدھے مکہ مکرمہ جانا ہے۔ لیکن وہ دونوں یہ پروگرام بنا کر آئے تھے کہ ہمیں گھر لے جائیں گے اور گھر سے ابن ذیشان، فرحان سلمہ، ہمیں لے کر مکہ مکرمہ جائیں گے۔ پس گھر جانا تو نا گزیر ہوا جس نے آزمائش دو آتشہ کردی کہ وہاں عالیہ سلمہا ہمیں اپنے گھر خوش آمدید کہنے کو دروازہ پر کھڑی تھیں۔اب اللہ جانے ہم نے اچھا کیا یا برا، دل پتھر کرلیا اور دروازہ کے اندر قدم رکھنے کو تیار نہ ہوئے، جبکہ یہ بھتیجی جدہ کی ساکن ہوکر شاذ و نادر ہی مل پانے کی بناپر ہمیں توعزیز تر ہو ہی گئی ہے، خوداس کے لگاؤکا حال بھی اس سے کمتر نہیں ہے۔آرزومند رہتی رہی ہے کہ کبھی تایا ابا کا بھی ادھر پھیرا ہو کیونکہ خاندان کے لوگوں کا سلسلہ کچھ نہ کچھ لگا ہی رہتا ہے۔

الغرض اس آزمائش سے گزر کر عالیہ کے دروازے ہی سے مکہ مکرمہ کے لیے روانگی ہو گئی۔اب ہمیں فرحان سلمہ اپنی کار میں لے کر چلے تھے۔شب کے کوئی ڈیڑھ بجے منزلِ مقصود ہاتھ آئی، لیکن کیا خوب کسی نے کہا ہے ؂ 

حسرت پہ اس مسافرِ بیکس کی روئیے
جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے

منزل پہ پہنچے تو یہ مسافر تھکن سے ایسا چور تھا کہ عمرہ کے ادائیگی تھوڑے آرام پر مؤخر کرنا پڑی۔ ہوٹل میں اُتر کرکچھ کھا کر اور ایک دو گھنٹے آرام کر کے ہمت ہوئی کہ کم از کم طواف کرلیا جائے،پھر چاہے سعی صبح پر مؤخر ہو۔اور ایسا ہی ہوا۔ سعئ صفا و مروہ صبح پر مؤخر ہوئی۔یہاں اس کم ہمت کو بتا دینا چاہیے کہ عمر کے ۸۸ سال اس نے پورے کر لیے ہیں اورطوارف و سعی میں کلیتاً نہیں تو جزوی طور پر وہیل چیئر کی مدد ناگزیر تھیِ۔طواف الحمد للہ ہوگیا۔زہے قسمت ،زیارتِ بیت اللہ ایک بار پھر اس عاصی کے لیے مقدر تھی۔

نازم بچشمِ خویش کہ روئے تو دیدہ است 

لیکن چالیس برس کے فاصلہ نے بڑا فرق اس وقت کے اور اُس وقت کے طواف کے درمیان کردیا۔اسِ دفعہ صحن مطاف میں تل دھرنے کی جگہ نہ پائی، سہ روزہ قیام میں تمام طواف بالائی منزل پر ہی کرنا پڑے، جبکہ اُس وقت موسم حج والااژدہام ہونے کے باوجود سارے طواف صحنِ مطاف ہی میں میسر آئے تھے۔چالیس برس میں عالم اسلام کی آبادی بھی کچھ سے کچھ ہوگئی ہے اورلوگوں میں استطاعت بھی بحمد اللہ اضعافاًمضاعفہ۔اب وہاں شاید سال بھر یہی عالم رہتا ہے اور حج کا اژدہام تو پھر حج کا اژدہام۔

عالیہ سلمہا کے علاوہ ہمارے گھرانے کی ایک اور بیٹی(عالیہ اور ہارون کی خالہ زاد بہن اورمیرے چچا زاد کی بیٹی) بھی اس دیار میں عین سرزمین مکہ پر سکونت پائے ہوئے ہے۔ہمیں مکہ مکرمہ میں قیام کے لیے جو ہوٹل میسر آیا ،جو ایک طرف نہایت اعلیٰ درجہ کا اور دوسری طرف عین حرم شریف سے لگا ہو، یہ کارنامہ اسی نسرین سلمہا کے بیٹے محمد مکی کا تھا جو اس ہوٹل کے اسٹاف میں ہیں۔ ہم تواس سطح کے ہوٹل میں قیام کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے مگر مکی سلمہ کی بدولت اللہ عمّ نوالہ نے اس شاندار ہوٹل میں تین دن قیام کی سہولت عطا فرمائی۔ اور مکی جو بالکل ہی سادہ عام مؤمنانہ وضع میں رہتے ہیں، اللہ نے ایسا رسوخ انھیں اس ۲۸ منزلہ ہوٹل میں بخشا ہے کہ کمرہ انھی کے نام پر بک ہوا اور مدینہ کے لیے رخصت ہوتے و قت جب کمرہ چھوڑا گیا تو مکی ہارون سلمہ کو لے کر بل کی ادائیگی کو چلے اور واپسی پر جو ادائیگی ہارون میاں نے بتائی، وہ کسی کم سے کم معیار کے ہوٹل میں بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے لیے صحیح لفظ ’’ایک غریبا مؤ بل‘‘ ہوسکتا ہے۔ مکی کو تو دعا ملنی ہی چاہیے، ہوٹل کی انتظامیہ کی شرافت کے لیے بھی جو کچھ کہا جائے کم ہے۔ ہوٹل مغربی مگر برتاؤ عرب سرزمین پر بالکل عربی اور مشرقی۔ 

ہم اتوار اور دوشنبہ کی درمیان شب میں مکہ مکرمہ پہنچے تھے اور اگلے اتوار ہی تک کا وقت ہمارے پاس تھا۔ خود میرے اپنے پا س تو وقت ہی وقت تھا، مگر عزیزی ہارون نے محض میری خاطر اپنی کارو باری مصروفیت سے وقت نکالا تھا جس کے لیے ایک ہفتہ ہی بہت تھا۔ بہر حال ہمیں اتوار کو واپس ہو جانا تھا، پس مدینہ منورہ کے لیے بدھ کو روانگی کا پروگرام بنا کہ شب میں وہاں پہنچ جائیں اورجمعہ کی شام تک رہ کر مکہ مکرمہ کو واپسی ہو اورہفتہ کے دن ایک عمرہ کی اور سعادت حاصل کرکے جدہ کی راہ لے لیں جہاں ہفتہ اتوار کی درمیانی شب عالیہ سلمہا کے گھر گزار کر اس سفر کا آخری ’’رکن‘‘ ادا کردیا جائے۔ مغرب کے قریب مدینۂ منورہ کے لیے بذریعۂ ٹیکسی روانگی ہوئی۔ پانچ چھ گھنٹے کی مسافت تھی۔ کوئی گیارہ بجے اس شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخلہ کی عزت پائی جسے اس زمین کا آسماں کہیے۔ عزیزی شمعون نے وہاں ہم لوگوں کی خواہش کے مطابق مسجدِ نبوی کے بالکل قریب ایک ہوٹل میں کمرہ بک کرایا تھامگر وہاں بیسیوں ہوٹلوں کے ہوتے ہوئے رش کا یہ عالم تھا کہ کمرہ صرف اگلی دوپہر تک کے لیے ملا۔ تاہم اتنے وقت کے لیے بھی یہ قربت میسر آنی بڑی چیز تھی،مگر افسوس کہ جیسا فائدہ اس قرب سے اُٹھایا جا سکتا تھا، یہ عمر رسیدہ ہڈیاں اس کی متحمل نہ ہو پائیں۔ مزید برآن پروانوں کے ہجوم کا وہ عالم کہ روضۂ مقدسہ کی جالی کے قریب ہوکر عرضِ سلام کا موقع بھی ایک ہی بار مل سکا۔ بعد ازاں تو دورہی سے رسمِ سلام ادا ہوئی۔اور ریاض الجنّہ میں قدم رکھنے کی سعادت تو کجا، اس کی دید سے بھی آنکھیں شاد کام نہ ہو سکیں۔ مگر شکر کہ سلام کے لیے جالی(مواجہہ شریف) پر حاضری میسر فرمادی گئی، ورنہ احساسِ محرومی نے کہیں کا نہ رکھا ہوتا۔اگرچہ رحمۃٌللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے محروم لوٹنے کا سوال کہاں ؟طوافِ کعبہ کے لیے میرے جیسے جانے والوں سے بیشک کہا جاسکتاہے کہ’’ برونِ در چہ کردی کہ درونِ خانہ آئی؟‘‘ (کس منہ سے طواف کو آئے ہو؟) مگر رسول اللہ کی ردائے رحمت میں تو عبد اللہ بن اُبی جیسے سردارِ منافقین کے لیے بھی وہ گنجائش تھی کہ زمین و آسمان حیرت سے تکیں۔ 

اور لیجیے حرمِ مکی کے بعد حرمِ مدنی (مسجد نبوی)زادہُ اللہ تعظیماً وَّ تکریماً میں جس تبدیلی سے آنکھیں چار ہوئیں، اس کے بیان کے لیے تو الفاظ اپنے پاس نہیں، مختصر کہیے کہ بقعۂ نور بنادیا گیا ہے ۔ جدھر کو نگاہ اُٹھتی ہے ’’کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست‘‘ کا مضمون بنتا ہے۔پھر اس پر وسعت، کہ ہر چہار سمت کا کنارہ ڈھونڈھتے نگاہ تھک جائے۔ یاد آتا ہے کہ توسیع کے اس کام کی بنا اس وقت پڑرہی تھی جب چالیس برس پہلے حاضری ہوئی تھی۔اب کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر مکمل ہوگئی۔یہاں توسیع اور تزئین و آرائش پر جو بے اندازہ دولت خرچ ہوئی ہوگی، اس کا خیال کرکے ایک بار پھر شاہانِ سعود کے لیے دعا گوئی کا جذبہ اُبھرتا ہے۔ اور دعا ہے کہ اللہ ان کو بقدرِ اخلاص پوری پوری جزا اپنی شانِ کریمی کے مطابق دے۔ لیکن ایک بات دونوں جگہ(حرمِ مکی اور مدنی) کھٹکی، کہ اس توسیع اور تزئین کا کام جن شاہانِ سعود کے ہاتھوں ہوا ہے، دونوں جگہ ان کے نام نمایاں کیے جانے کا اہتمام رہا۔یہ دو بالخصوص ملک فہد اور ملک عبد اللہ تھے۔ہر دو حرمین میں داخلہ کے دروازے ان کے نام سے بڑے جلی طور پر موسوم ہوئے ہیں ، بابُ ملک فہد۔ باب ملک عبد اللہ۔ جبکہ ان مقامات پر توحق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ساتھیوں اور جانشینوں کا تھا۔ بابُ سیدنا ابوبکر الصدیقؓ ہوتا، بابُ سیدنا عمربن الخطابؓہوتا،باب سیدنا عثمان بن عفانؓ ہوتا اور بابُ سیدنا علی المرتضیٰ ہو۔ ہاں کسی جگہ تختی لگی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا کہ اس توسیع و تزئین کی خدمت فلاں اور فلاں خادمِ حرمین کے ہاتھوں انجام پائی ۔اور افسوس کہ یہ تکدر یہیں نہیں رکتا۔ مدینہ منورہ سے لوٹتے میں سڑکوں کے ناموں پر نظر گئی تو بصد رنج دیکھا کہ ابو بکرِ صدیقؓ اور عمر الفاروقؓ کے مقدس ناموں کو طریق ابوبکر  اور طریق عمر بن الخطاب کر کے سڑکوں کے ناکوں پہ ٹانگ دیا ہے۔ کیسے کہا جائے اور کیسے نہ کہا جائے ؂

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

جی ہاں ،توجمعرات کی ظہر آگئی جس تک کے لیے مسجد کے قریب ہوٹل کا کمرہ بک تھا اور ’’حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد‘‘ کے مصداق ظہر مسجد نبوی میں پڑھ کر کمرہ خالی کردیا گیا اور میاں شمعون اپنی گاڑی لے کر ہمیں دوسرے ٹھکانے پر لے جانے کے لیے آگئے۔ یہ ماشاء اللہ بڑا وسیع آرام دہ مکان تھا ، البتہ مسجد شریف سے فاصلہ پر۔میاں شمعون کے دوست جناب سلیمان ظفر صاحب فقط اپنے صاحبزادہ کے ساتھ اس کے مکین تھے۔اس کے زیادہ آرام دہ ہونے ہی کی وجہ سے شمعون سلمہ نے اس کا انتخاب کیا اور واقعی بہت آرام دہ رہا۔ پھر صاحب خانہ کا حسن اخلاق اور مخلصانہ پذیرائی اس پر مستزاد۔ خدا ہر طرح کی برکتوں سے نوازے کہ زائرین شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پذیرائی کو سعادت جانا۔ وہاں سے عصر کے لیے تو حرمِ نبوی جانے کا موقع نہ تھا، مغرب عشاء الحمد للہ وہیں میسر آگئی۔ پھرجمعہ کی فجر حرمِ نبوی میں ادا کرکے شمعون اور ہارون سلمہما نے توجہ دلائی کی جنۃ البقیع کی زیارت کی جائے۔ اسے پایا کہ یہ تو چالیس سال پہلے کے مقابلہ میں کلیتاً بدل گئی ہے۔ قبریں نہیں رہیں ۔ ہر قبر کے سرہانے ایک پتھر گاڑ کر قبر کا نشان کردیا گیا ہے اور ان کی تعداد بے شمار۔ پھر وہاں جانے کے ڈھلوان راستہ کی دونوں طرف سے حد بندی کردی گئی ہے۔ نیز بس فجر کے بعد ہی کچھ وقت کے لیے یہ قبرستان کھولاجاتا ہے۔ بظاہر یہ وجہ تھی کہ راستہ زائرین کے لیے لمحہ بہ لمحہ تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ ایک کشمکش کی صورت تھی۔ اسی میں ہارون سلمہ کا ساتھ بھی چھوٹ گیا تھا اور میں جب تن تنہا جد و جہد کرتا ہوا اوپر قبرستان کے سطح کے قریب ہونے کو ہوا، تب تو تنگی کی وہ کیفیت ہوئی کہ بس دم گھٹ جائے گا، مگر اللہ نے دستگیری فرمائی اور پہرے پر متعین ایک شرطی نے اپنی طرف بڑھا ہوا میراہاتھ تھام کے اوپر آجانے کا سہارا مجھے دے دیا۔ فللہ الحمد۔ ضرورت ہے کہ سعودی حکام کو اس طرف توجہ دلائی جائے کہ زیارتِ بقیع کے لیے وقت بڑھایا جانا چاہیے۔ 

اس زیارت کے بعد بخیر واپسی ہوئی توضرورت تھی کہ کچھ ٹانک ملے۔ شمعون سلمہ جن کے پاس وہیل چیئر تھی، انھوں نے جلد ہی اندازہ کرکے کہ وہ اس بھیڑ میں پار نہ ہو سکیں گے، واپسی اختیار کرلی تھی اورپیچھے جوکھجوریں بیچنے والے اس عرصہ میں آگئے تھے، ان سے ایک ڈبہ خرید لیا تھا۔ وہ اس ضرورت کے وقت بہترین ٹانک بن گیا۔ نہایت نفیس رسیلی کھجوریں تھیں۔ تازہ دم کردیا اور ہمت ہوئی کہِ قبا چل کر مسجد ’’اُسِّسَ علیٰ التقویٰ مِنْ اوّلِ یومٍ ‘‘ میں دو رکعت نماز کے فضیلت حاصل کریں ا ور شہدائے اُحد کی بھی زیارت سے ان شہیدانِ راہِ خدا کی یاد تازہ کی جائے۔ اللہ نے یہ ارادہ بھی اپنے کرم سے پورا کرادیا۔اللہ ان شہدائے کرام کے درجے بڑھائے او ر اس مسجد کی عظمت ورونق۔ یہ خاصا لمبا پروگرام تھا۔واپس قیام گاہ پر آئے ،کچھ سستائے اور پھر جمعہ کی نمازکے لیے مسجد نبوی،مگر بڑاافسوس رہے گا کہ اپنے بعض اعذار کی مجبوری سے نماز کے لیے نکلنے میں دیر ہوئی اوربہت پچھلی صفوں میں جگہ مل سکی۔ افسوس اپنی جگہ مگر تسلی بھی تھی کہ

میخانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے 

مجمع غالباً جمعہ کی وجہ سے اتنا تھا کہ مسجد سے باہر بھی صفیں بنیں۔ہم بہر حال اندر تھے۔

لیجیے ایک جمعہ بھی خانۂ کعبہ کے بعد کے درجہ کی اس مسجد نبی اُمی میں نصیب ہوگیا۔اس سے کیا زیادہ ایک نا لائق کو چاہیے؟ اب تیاری واپسی کے سفر کی ہے۔قیام گاہ پر پہنچے،کھانا کھایا اوراگلے سفر کی تیاری میں کچھ دیر کے لیے لیٹنا اور سو لینا ضروری ہوا۔ عصر پڑھ کر لیٹ رہے۔ مغرب سے فراغت کرکے ایک ٹیکسی مکہ مکرمہ کے لیے لی اور ایک بار پھر دربارِ الٰہی میں حاضری کو چل دیے۔ راستے میں مسجد میقات پر رک کر احرام باندھا، عشاء کی نماز سے فراغت کی اور اب سفر تلبیہ کے ساتھ حالت احرام میں شروع ہوا۔عزیزم محمد مکی کو اطلاع دی جا چکی تھی اور انھوں نے پھر اپنے ہوٹل میں کمرہ بک کرا لیا تھا۔ اور اس دفعہ ہوٹل نے ہمیں اپنا مہمان بنالیاتھا، یعنی نام کو بھی کچھ لینا دینا نہ تھا۔ ایک طرف اپنی گناہوں بھری زندگی تھی اور ایک طرف مالک کے گھر میں یہ پذیرائی کی جیسی باتیں!ایک معمہ تھا سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ 

خدا نہ کرے کہ آزمائش رہی ہو۔

مکہ مکرمہ میں عمرہ کرنے بعد پروگرام چونکہ سیدھے جدہ جانے کا تھا، اس لیے فرحان (ابن ذیشان) سلمہ پیشوائی کے لیے مع کچھ ما حضر پہنچے ہوئے تھے۔ معدہ کی ضیافت کی ،کچھ دیر آرام کیا اور فجر ہو گئی۔ میرا تو جی آرام کو چاہتا تھا مگر ہارون سلمہ نے تھوڑا سا چائے پانی کرکے جب کہا کہ چلیں عمرہ کرلیں تو عذر کرنے کو جی نہ چاہا۔ پس نو بجے کے اندر یہ فریضہ بھی ادا ہوگیا۔اورپھر ناشتہ کرکے جو ہوٹل کی طرف سے بڑے شاندار پیمانے پر ہوتا تھا، اس سفر کے آخری ’’رُکن‘‘ (یعنی ایک شب عالیہ سلمہا کے گھر گزارنا) کی ادائیگی کے لیے جدہ کو چل پڑے۔ مگر افسوس رہے گاکہ یہ ادائیگی بس نام کی ہو ئی۔مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت گلے میں کچھ خراش شروع ہوئی تھی،عمرہ کی ادائیگی تک تو وہ د بی رہی مگراس کے بعد جیسے اسے آزادی مل گئی۔جدہ پہنچتے پہنچتے اس نے کافی پر پرزے نکال لیے۔ اور دوسرے صبح تک سینہ پر نزلہ کی تکلیف نے پوری شدت اختیار کرلی جبکہ اسی صبح کو لکھنؤ کا سفر بھی کرنا۔ اسی حال میں ایر پورٹ پہنچے۔مگر وہاں پتہ چلا کہ ہم لیٹ ہوگئے، پس گھر واپس جانا ہے۔بہت گرانی ہوا ۔ مگر بعد میں پتہ چلا کہ اس میں اس گنہگار کے لیے بھلائی تھی۔ طبیعت کی خرابی تیزی سے بڑھتی جارہی تھی اوراس کی بنا پر ضرورت تھی کہ ڈاکٹر سے رابطہ ہو۔سفر ملتوی ہوجانے کی بناپر جدہ ہی میں یہ کام ہوگیا اور پتہ چلا کہ نزلہ کا معاملہ تو اتنا نہ تھا، بلڈ پریشر تھا جو خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا ۔اس کے بعدضرورت تھی کہ سفر ختم ہو تو پوری طرح آرام و راحت کی جگہ ملے۔ اس کا انتظام اس طور پر ہوا کہ اگلے دن کے لیے لکھنؤ کی سیٹ بہت مہنگے داموں مل رہی تھی اور اس کا بدل یہ تھا کہ جدہ سے لکھنؤ کا سفر براستہ دلّی کیا جائے۔ چنانچہ اس کو اختیار کیا گیا اور اس کے نتیجہ میں اللہ نے مجھے دلی پہنچانے کا انتظام کردیا ،جومیرے اس حال میں میرے لیے بہترین نتظام تھا کہ دلّی بڑے بیٹے عبیدسلمہ کا گھر ہونے کی وجہ سے میرا گھر اور علاج کی بھی بہترین سہولت گویا دروازہ ہی پر میسر۔ 

مشاہدات و تاثرات

مارچ ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۳