لاہور کے سیاست کدے

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

لاہور کے بادامی باغ سے اگر آپ ریلوے اسٹیشن کی طرف جائیں تو دائیں جانب پہلے مستی گیٹ اور اس سے آگے شیرانوالہ گیٹ نظر آئے گا۔ اب تو ہجوم آبادی کے سبب لاہور کے سب تاریخی دروازوں کی طرح اس کا بھی حسن گہنا گیا ہے ۔ دروازے کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب وہ تاریخی مسجد شیرانوالہ گیٹ ہے جہاں پاکستان کی سیاست کے کئی اسرار ورموز دفن ہیں۔ یہ مسجد ایوب خاں اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلائی جانے والی بڑی بڑی تحریکوں کا مرکز رہی ہے۔ تحریک ریشمی رومال کے بانی مولانا عبید اللہ سندھی کے جانشین مولانا احمد علی لاہوری نے ایک عرصہ تک یہاں اللہ اور اللہ کے رسول کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ۔ انہیں حقوق انسانی کی پاسداری کا سبق دیا اور فرنگی سامراج کے خلاف طویل عرصہ تک صبر آزما جدوجہد کی ۔پھر قیام پاکستان کے بعد حضرت لاہور ی جب ملک عدم کے راہی ہو گئے توفرنگی سامراج کی جگہ "دیسی سامراج"لے چکا تھا اور صرف گیارہ سال بعد ملک پر مارشل لاء کے سیاہ بادل چھا گئے اور جرنیلوں کی طویل رات کا آغاز ہوا ۔ 

ایوب خاں کے مارشل لاء کے دروان سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کو جدوجہد کے لیے لاہور میں جو ٹھکانے دستیاب تھے، جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ کا ان میں بڑا مقام تھا۔ مولانا عبید اللہ انور یہیں ہر جمعرات کو نماز مغرب کے بعد مجلس ذکر کا اہتمام کرتے جہاں دور دراز سے ان کے عقیدت مند شامل ہوتے ۔ ایوب خاں کے خلاف لاہور میں سب سے پہلا اور بڑا جلوس اسی جامع مسجد سے نکالا گیا جس میں پیپلز پارٹی کے شیخ رشید مرحوم کے علاوہ نیشنل عوامی پارٹی کے میاں محمود علی قصوری اور شیخ رفیق نے بھی شرکت کی ۔ میاں صاحب اور شیخ رفیق بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ۔ میاں صاحب وفاقی وزیر قانون اور شیخ رفیق پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور گورنر رہے۔ مولانا سمیت سب اسی جلوس سے گرفتار ہوئے۔ بعد میں انہیں کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ۔ میری خوش قسمتی تھی کہ بہت چھوٹی عمر میں ہی ان ہستیوں کے ساتھ گرفتار ہوا اور کوٹ لکھپت جیل میں قید رہا ۔ 

ایوب خاں رخصت ہوا تو ایک اور جنرل، یحییٰ خاں سامنے کھڑا تھا، اپنا پورا جلال ودبدبہ اور قدوقامت لیے ہوئے۔ یحییٰ خاں نے ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کا اعلان کیا تو مشرقی ومغربی پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ایک لہر دوڈ گئی ۔ ہر سیاسی جماعت نے لنگر لنگوٹ کس کے اپنی اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں ۔ مشرقی پاکستان میں بلاشرکت غیرے شیخ مجیب الرحمان کی جماعت عوامی لیگ اپنے انتخابی نشان "کشتی" کو لیے نمایاں تھی ۔ دیگر جماعتوں میں وہاں جماعت اسلامی کی پوزیشن اگرچہ بہتر تھی مگر فرق انیس بیس کا نہیں، دواٹھارہ کا تھا ۔ جماعت کا خیال تھا کہ مشرقی پاکستان سے انہیں بہت نشستیں ملیں گی اور اگر مغربی پاکستان سے انہیں چند سیٹیں مل جائیں تو وہ حکومت بنا سکتی ہے ۔ جماعت نے تو وزیر اعظم میاں طفیل سمیت تمام کابینہ بھی مکمل کر لی تھی ۔ عوام نے مگر انہیں رد کر دیااور مغربی پاکستان سے انہیں چار نشستیں ملیں جبکہ مشرقی پاکستان سے مکمل صفایا ہو گیا جس کا انتقام جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں سے بڑا بھیانک لیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان سے کوئی بھی امیدوار میدان میں کھڑا نہیں کیا تھا۔ البتہ عوامی لیگ نے لاہورسے ملک حامد سرفراز کو انتخابی میدان میں اتارا ۔ 

مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کا طوطی بول رہا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو ایک پارہ صفت قیادت کے طور پر ابھرے ۔ "تلوار" کا انتخابی نشان لیے وہ پنجاب اور سند ھ میں چھا گئے ۔ مغربی پاکستان کی دیگر قابل ذکر جماعتوں میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام نے صوبہ سرحداور بلوچستان میں اپنی صوبائی حکومتیں قائم کر لیں۔ مفتی محمودصوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اور ارباب سکندر خاں خلیل گورنر بنے ، جبکہ سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور میر غوث بخش بزنجو گورنر بنے۔ کراچی سے جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد اور محمود اعظم فاروقی بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ شاہ احمد نوارنی کی جماعت "جمعیۃ علماء پاکستان" نے کراچی سمیت ملک بھر سے قومی اسمبلی کی سات نشستیں حاصل کیں۔ نورانی میاں پہلی با ر ایک جماعت بنا کر میدان سیاست میں آئے تھے اور آتے ہی سات نشستیں حاصل کر لیں۔ 

مسجد شیرانوالہ گیٹ، شہر لاہور میں پہلے ایوب خان کی آمریت کی خلاف ایک مضبوط قلعہ ثابت ہوئی اور ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں بھی یہ لاہور کے اہم سیاست کدوں میں شمار ہوتی تھی ۔ ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ رشید، حنیف رامے، حبیب جالب اوراحسان وائیں اکثر وبیشتر مولانا عبید اللہ انور سے ملنے آتے ۔ اسی دوران موچی دروازہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے ایک جلسہ عام میں مولانا عبید اللہ انور نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور اُس کی قیادت سے سیاسی اختلاف تو ہو سکتاہے، مگر انہیں کافر نہیں کہا جاسکتا ۔ ان انتخابات میں جماعت اسلامی کا سب سے بڑا نشانہ ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کارکنان تھے۔ جمعیۃ علماء اسلا م کو بھی جماعت اسلامی نے نشانے پر رکھ لیااور خوب گولہ باری کی۔ بس ایک "کافر" کے علاوہ وہ کون کون سے الزمات تھے جو جماعت نے ان پر نہ تھونپے۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو تو اپنی مقبولیت کی معراج پر تھے۔ لاڑکانہ لاہور اور دیگر علاقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان کرتے کرتے پتہ نہیں ان کے من کی موج کس طرف نکل گئی کہ ڈیر ہ اسماعیل خاں سے مفتی محمود کے خلاف بھی کاغذات نامزدگی داخل کرا دیے۔ 

مسجد شیرانوالہ گیٹ کے سینے میں کئی راز دفن ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام کے درمیان انتخابی اتحاد کی گفت وشنید ہو رہی تھی تو بقول مولانا عبید اللہ انور کے صاحبزادے، جناب اجمل قادری کے، مفتی محمود اپنا مقدمہ لے کر جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ لاہور آئے اورپیپلز پارٹی کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام کا ہونے والاممکنہ انتخابی اتحادخواب خیال ہو گیا۔ اب بھی شیرانوالہ گیٹ لاہور میں یہ مسجد موجود ہے ، مگر نہ مولانا احمد علی لاہور ی رہے نہ مولانا عبید اللہ انور۔ گویا اولیاء کا سایہ اُٹھ گیا ۔ رہے مفتی محمود ، شیخ رشید ، حنیف رامے اور حبیب جالب تو وہ ایسے چاند تھے جو چمک چمک کے پلٹ گئے۔ بس اجمل قادری صاحب، ڈاکٹر مبشر حسن اور احسان وائیں باقی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اُن کی عمر دراز کرے کہ قوم کو ابھی ان کی ضرورت ہے۔

مشاہدات و تاثرات

(جون ۲۰۱۶ء)

جون ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۶

غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقتدر طبقات کی تکفیر / تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن‘‘ طریقے / چھوٹی عمر کے بچے اور رَسمی تعلیم کا ’’عذاب‘‘
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۹)
ڈاکٹر محی الدین غازی

فتویٰ کی حقیقت و اہمیت اور افتا کے ادارہ کی تنظیم نو
ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی

مطالعہ و تحقیق کے مزاج کو فروغ دینے کی ضرورت
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

عصری لسانیاتی مباحث اور الہامی کتب کی معنویت کا مسئلہ
محمد زاہد صدیق مغل

دیوبند کا ایک علمی سفر
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

لاہور کے سیاست کدے
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

قرآن مجید کے قطعی الدلالہ ہونے کی بحث
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟
ڈاکٹر عرفان شہزاد

کیا توہین رسالت پر سزا کے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے؟ مولانا شیرانی، پروفیسر ساجد میر اور مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں
مولانا غلام محمد صادق

مولانا غلام محمد صادق کے نام مکتوب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter