مدرسہ ڈسکورسز : علماء وفضلاء کے تاثرات

ادارہ

پروفیسر ادریس آزاد 

(استاذ زائر، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد)

مجھے جب پہلی بار مدرسہ ڈسکورسز کا پتہ چلا تو میں نے کچھ دھیان نہ دیا۔ایک سال یونہی گزرگیا۔ پھر جب میں نے مدرسہ ڈسکورسز کے نصاب اورمباحث پر نظرڈالی تو مجھے حیرت کا نہایت خوشگوارجھٹکالگا۔ یہ  میرے لیے بالکل ہی نئی بات تھی۔میں تو مدرسہ ڈسکورسز  کو فقط کوئی  جدیدیت زدہ پروگرام سمجھ رہاتھا لیکن یہ تو ایک ایسی تحریک تھی جس میں مدرسہ کی پرانی ساکھ اورقوت واپس بحال کرنے کی پوری پوری صلاحیت موجود تھی۔ چنانچہ  میرے دل میں  مدرسہ  ڈسکورسزکے ساتھ متعلق ہوجانے کی خواہش پیدا ہوئی۔میری یہ خواہش ابھی میرے دل میں ہی تھی کہ مدرسہ ڈسکورسز کے پاکستان میں لیڈفیکلٹی (Lead Faculty)  برادرم ڈاکٹر عمارخان ناصرنے مجھےکال کرکے مدرسہ ڈسکورسز کی کلاسوں کو سائنس پڑھانے کی پیشکش کردی جسے  میں نے فوراً قبول کرلیا۔

مدرسہ ڈسکورسز، دراصل ایک تعلیمی و تدریسی سرگرمی کا نام ہے۔ یہ ایک پروگرام ہے جو پروفیسر ڈاکٹرابراہیم موسیٰ نے شروع کیا ہے۔ڈاکٹرابراہیم مُوسیٰ اسلامی دنیا کا ایک معروف نام ہیں۔اُن کاتعلق جنوبی افریقہ سےہے جبکہ اُن کے ننھیال ہندوستان میں ہیں۔ڈاکٹرابراہیم موسیٰ کی ابتدائی  تعلیم ہندوستان کے مدراس میں ہوئی۔ ان مدارس میں دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ ندوۃ العلمأ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ  کا تعلیمی پس منظر مدارس کا ہے اس لیے وہ مدارس کے نظام کی اصل خوبیوں سے واقف ہیں۔فی زمانہ ڈاکٹرابراہیم موسیٰ دینی مدارس کی روایت زندہ کو کرنے کے بہت بڑے حامی ہیں۔چنانچہ وہ اپنی کتاب ’’مدرسہ کیا ہے؟‘‘ میں اسکول اور مدرسہ میں سے،  مدرسہ کوبہترسمجھتےاوراس کی بھرپوروکالت کرتے ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز کے پاکستان میں لِیڈ فیکلٹی ڈاکٹرعمارخان ناصر ہیں۔ڈاکٹرعمارخان ناصراپنے علم و حلم، دونوں کے حوالے سے معروف ہیں۔عام طورپر عمارخان کو غامدی صاحب کے ہم مؤقف سمجھ لیا جاتا ہے جو کسی حدتک شاید درست بھی ہے، لیکن فی الحقیقت وہ اپنی فکری زندگی میں بالکل آزادی کے ساتھ غوروفکر کرنے والے ایک نہایت باریک بین اسکالر ہیں۔اُن کا مزاج اورطبیعت محققانہ ہےجبکہ اُن کی شخصیت میں بلا کی متانت ہے۔میں نے ذاتی طورپر اُنہیں ایک صالح اوردیانتدارشخص پایا۔

گزشتہ ہفتے  سمسٹرکے اختتام پر مدرسہ ڈسکورسز کی ورکشاپ تھی۔مجھے پہلی بار اپنی کلاس کے علمائے کرام سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ کہنے کو تو میں ان نابغوں کا استاد تھا کیونکہ میں ان علمائے کرام کو سائنس پڑھاتاہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ورکشاپ کا پورا ہفتہ میں نے حالتِ مرعوبیت میں گزارا۔ میرے چاروں طرف ہندوستان اور پاکستان کے ایسے ایسے فاضل  ، نوجوان علمأ  موجودتھے کہ میں ان کے درمیان اپنے آپ کو اَن پڑھ محسوس کرتاتھا۔ عربی، فارسی، اورفقہ پربے پناہ عبوررکھنےوالے یہ نوجوان ہرمسلک سے تھے۔ بریلوی، دیوبندی اورشیعہ علمأ کی نمائندگی میں تعداد کا فرق تھا تو میں اُس فرق کو ایک عارضی فرق سمجھتاہوں جو وقت کے ساتھ دُورہوسکتاہے۔صرف یہی نہیں کہ مختلف مسالک کے فقط مرد علمأ ہی  اس کورس میں  شریک ہیں بلکہ  خواتین کی نمائندگی بھی مناسب حدتک معقول ہے۔ ورکشاپ میں پاکستانی اور ہندوستانی خواتین اور طالبات نے دقیق  علمی موضوعات پر نہایت سہولت کےساتھ رواں انگریزی میں ایسی  بہادری  سے حصہ لیا کہ میں اپنی سگی بیٹی کو مدرسہ ڈسکورس کی طالبہ بنانے کی خواہش کرنے لگا۔ان میں سے زیادہ تر  طالبات کا تعلیمی  پس منظر بھی مدراس   سے تھا۔

مولانا سمیع اللہ سعدی

مدرسہ ڈسکورسز کی ابتدا ہوتے ہی اسے جوائن کرنے کا ارادہ کیا تھا ، لیکن بعض وجوہ سے اس میں تاخیر ہوگئی ،آخر کار تیسرے بیچ کے لئے اپلائی کیا ،تحریری و تقریری امتحان کے مراحل سے گزرنے کے بعد بحیثیت طالب علم مدرسہ ڈسکورسز کا حصہ بن گیا ۔ ٹھیٹھ روایتی طبقے کی مخالفت اور اپنی افتاد طبع کے سبب ذہن میں اندیشوں و وسواس کا جال بھی بن چکا تھا ،لیکن کچھ وجوہ سے اس چوٹی کو سر کرنے کا اٹل فیصلہ کر لیا تھا ،مدرسہ ڈسکورسز کے تین مہینے کے اسباق ہوچکے ہیں اور قطر میں ایک ہفتہ کی ورکشاپ ،اس لیے ایک سہ ماہی کے اسباق پڑھنے ،ایک ہفتہ قطر میں کورس کے شرکاء اور اساتذہ و منتظمین کو خوب تنقیدی طور پر پرکھنے کے بعد جو تاثرات بنے ہیں ،اس میں اپنے قارئین و احباب کو شریک کرنا چاہوں گا :

1۔ کورس کے شرکاء مضبوط استعداد کے ذہین فضلاء ہیں ،ہر شریک کورس علمی میدان میں (نوجوان فضلاء کے اعتبار سے ) کسی نہ کسی حوالے سے ممتاز ہے ،(سوائے میرے )اس سے کورس کے منتظمین کی نظر انتخاب کی داد دینی پڑے گی ۔ان میں سے بعض شرکا مدارس کے جید اساتذہ کرام اور مفتیانِ کرام ہیں ،خصوصا ازہر الہند دار العلوم دیوبند کے بعض جید مفتیان کرام بھی قافلہ ڈسکورسز کے شرکاء میں سےہیں ۔

2۔مدرسہ ڈسکورسزکے بانی و روح رواں ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب کے بارے میں یہ محسوس کیا کہ ڈاکٹر صاحب علم و فکر کے آدمی ہیں ،گپ شپ ،فضول گفتگو اور ادھر ادھر کی باتوں سے کوسوں دور ہر وقت ،ہر موقع پر وہ سیکھنے سکھانے کی باتوں میں مصروف ہوتے ہیں ۔ان کی فکری باتوں کا مرکزی محور مدارس ،مدارس کو درپیش چلینجز اور مدارس کے فضلا کو اپنی چودہ سو سالہ روایت سے جوڑنے کی فکر تھی ۔مدرسہ کا ذکر کرتے ہوئے آخری مجلس میں ان کے زار و قطار آنسووں نے ساری مجلس کو عجیب کیفیت سے سرشار کیا ۔ ان کے طریقہ کار سے اختلاف کا حق ہر ایک کو ہے ، اور شاید مجھے بھی بعض باتوں میں اختلاف ہو ،لیکن مدرسہ سے ان کی محبت اور مدرسہ کو مدرسہ رہنے کی ان کی خواہش و لگن اور اپنے کاز سے بے پناہ دلچسپی و اخلاص ہر شک وہ شبہ سے بالاتر نظر آتی ہے ۔یہ تاثر صرف میرا نہیں ، پاک وہند کے پچاس کے قریب فضلا کی بالکل نجی مجالس و گفتگووں کے تاثرات بھی تقریبا یہی تھے ۔

3۔مدرسہ ڈسکورسز کے پاکستان میں لیڈ فیکلٹی مولانا عمار خان ناصر صاحب ہیں ۔استاد عمار صاحب پر موافق و مخالف اتنا کچھ لکھا گیا کہ مزید لکھنا ضیاع ِ وقت محسوس ہوتا ہے ۔ آپ کے افکار سے اختلاف اور بعض سے باوجود اب استاد ہونے کے شدید اختلاف کے یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ مولانا عمار صاحب کو اسلاف کی علمی روایت سے حد درجہ اعتنا اور محبت ہے ۔آپ شاید اس کا یقین نہیں کریں گے لیکن اس بات کے گواہ کورس کے پچاس کے قریب شرکاء ہیں کہ آخری مجلس میں جب مولانا عمار صاحب نے مدارس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ مدارس ہماری تہذیب کی واحد آخری نشانی ہیں تو ان پر کچھ ایسی رقت طاری ہوئی اور آنسووں کی لڑی ایسی جاری ہوئی کہ ان سے پھر مزید نہیں بولا گیا اور قطع کلامی کر کے اپنے الوداعی کلمات درمیان میں چھوڑنے پڑے ۔اس کورس کا علمی وقار بلا شبہ استاد عمار صاحب کے دم سے قائم ہے ۔

4۔ مدرسہ ڈسکورسز کے ہندوستان کے لیڈ فیکلٹی جناب ڈاکٹر وارث مظہری صاحب ہیں ۔ڈاکٹر وارث صاحب انگریزی و عربی  کی اعلی استعداد،جدید و قدیم تراث اور تحریری و تقریری میدان میں یکساں مہارت کے باوجود ایک درویش صفت انسان ہیں ۔انہیں بلا شبہ مدرسہ ڈسکورسز کا صوفی کہا جاسکتا ہے ،ایک متدین و صاحب تقوی عالم دین ہیں۔

5۔مدرسہ ڈسکورسز کے امریکہ سے لیے گئے استاد بلوچستان، چمن کے ایک ہونہار نوجوان ڈاکٹر شیر علی ترین ہیں۔عربی ،اردو اور انگریزی (پشتو بھی ) کے ماہر اور خاص طور پر پاک وہند کے مکاتب اور پاک وہند کی علمی و فکری روایت کا تقابلی مطالعہ ان کا اختصاصی میدان ہے ۔ ڈاکٹر ترین صاحب مدرسہ ڈسکورسز کے مستقل استاد ہیں ،ان سے تین مہینے پڑھنے کے بعد شرکائے کورس کی ان سے والہانہ تعلق ان کے اپنے فن میں مہارت اور طلبہ کے دلوں میں گھر کرنے والی معلمانہ صفات کا اظہار ہوتا ہے ۔

6۔مدرسہ ڈسکورسز کو شرورع کرتے وقت ہمارے میں ذہن میں سب سے بڑا سوال کورس کے نصاب کا تھا اور شاید مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں تجسس رکھنے والوں کے اذہان میں بھی یہی سوال کھلبلا رہا ہے ۔کورس کے نصاب کی ترتیب کچھ یوں رکھی گئی ہے کہ کورس کو بنیادی طور پر دو حصوں میں بانٹا گیا ہے ،جس کو حصہ محاضرات اور حصہ مطالعاتی مواد  کہا جاسکتا ہے ۔

7۔حصہ محاضرات میں ہر ہفتے سائنس اور  فلسفے کی ایک کلاس ہوتی ہے ۔سائنس کی کلاس انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ادریس آزاد صاحب لیتے ہیں ۔سر ادریس آزاد اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں ۔جتنا انچا ان کا علمی قد ہے ،اتنی ہی اونچی صفات کے حامل ہیں۔سائنس کا ٹیچر ہوکر اتنا تدین اور مضبوط عقیدے کا حامل ہونا باعث تعجب ہے ۔مبتدیوں کو نیوٹن و آئن سٹائن کے دقیق سائنسی نظریات کو ادبی چاشنی کے ساتھ آسان اسلوب اور پاور پوائنٹ پر بہترین پریزنٹیشن کی صورت میں سمجھانا سر ادریس آزاد صاحب کا امتیاز ہے ۔کورس میں ایک دن جب انہوں نے نظریہ ارتقاء پر اپنی پریزٹیشن پیش کی تو سماں بندھ گیا ،جبکہ فلسفے کی کلاس فلسفے میں ایم فل  کرنے والے نوجوان استاد عثمان رمزی صاحب پڑھاتے ہیں ۔ رمزی صاحب بھی فلسفے جیسے خشک موضوع کو ہم جیسے مبتدیوں کے لیے آسان سے آسان کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں ،فجزاہم اللہ ۔

8۔ حصہ مطالعاتی مواد  میں ترتیب یوں ہے کہ کچھ بڑے موضوعات طے کئے گئے ہیں ،جیسے اسلام اور سائنس،اسلامی تہذیب اور اس کا ارتقاوغیرہ ۔ان موضوعات سے متعلق ہر ہفتہ کا مطالعاتی مواد دیا جاتا ہے۔ مواد کا ایک حصہ عربی میں  ہوتا ہے ،جس میں متعلقہ موضوع پر ایک ٹھیٹھ روایتی کتاب ہوتی ہے ،جیسے امام غزالی ،امام ابن تیمیہ ، امام شاہ ولی اللہ ،مولانا قاسم نانوتوی وغیرہ کی کتب اور ایک حصہ انگریزی مواد کا ہوتا ہے،جس میں کسی مغربی مفکر کی تحریر ہوتی ہے ۔اس مواد کو خود پڑھنے اور سمجھنے کے بعد ایک دن تیاری کلاس کے عنوان سے اس مواد کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔دوسرے دن مرکزی کلاس میں کورس کے اساتذہ مواد سے متعلق مناقشہ کرواتے ہیں۔ مناقشہ کا انداز یہ ہوتا ہے کہ اساتذہ پہلے ریڈنگ کے بنیادی نکات سمجھانے کے بعد شرکائے کورس کے اس بارے میں سوالات رکھتے ہیں اور شرکاء کو اپنی آرا ء پیش کرنے کا کہتے ہیں ۔یوں ہر شریک کورس اس مواد سے متعلق اپنے ملاحظات و سوالات پیش کرتا ہے ،پھر دوسرے شرکاء ان سے اتفاق یا اختلاف کرتے ہیں ۔یہ حصہ اتنا دلچسپ ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔اس کورس کا مغز یہی مناقشہ و مباحثہ ہے ،یوں ایک ٹیکسٹ اور ایک موضوع کے متنوع ابعاد سے واقفیت ہوتی ہے ۔

9۔کورس کو تین مہینے پڑھنے کے بعد ایک واضح تاثر یہ ابھرا کہ اس کورس میں کسی بھی موضوع سے متعلق پہلے سے کچھ نتائج فکس نہیں کیے گئے ،بلکہ مواد دے کر اس پر مناقشہ کروایا جاتا ہے ۔آپ اس مناقشہ میں جو موقف پیش کریں ،جو سوالات کریں ، اتفاق کریں ،اختلاف کریں ،آپ کا حق ہے ۔پھر مناقشہ کرنے کے بعد بھی نتائج کو حتمی شکل نہیں دی جاتی ۔یوں یہ کورس ایک ڈسکشن فورم ہے ،جس سے کسی بھی موضوع سے متعلق مکالمہ و مباحثہ ہوتا ہے۔تین مہینے اور قطر میں پوراا  یک ہفتہ صبح شام مسلسل پڑھنے کے بعد کم از کم یہ تاثر ہر ایک کا بن گیا  کہ یہاں کوئی متعین موقف پیش کر کے اس کے حق میں دلائل نہیں دیے جاتے ،جیسا کہ عمومی طور پر اس طرح کے کورسز میں ہوتا ہے ،بلکہ مناقشہ کروایا جاتا ہے اور خود شرکائے کور س کی آرا و ملاحظات سننے کا اہتمام ہوتا ہے ۔کم از کم میں جس گمراہی کی تلاش میں نکلا تھا ،یہاں سے مایوسی ہوئی ،اور استاد عمار صاحب سے از راہ تفنن عرض کیا کہ آپ لوگوں کے گمراہی والے در کب کھلیں گے؟ہمیں تو گمراہی کی تلاش ہے (اس سوال سے کورس کے شرکاء و اساتذہ کی بے تکلفی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے )۔ استاد عمار صاحب نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ گمراہی نظر نہ آنے کا مطلب ہے کہ آپ گمراہ ہوچکے ہیں، کیونکہ گمراہ کو گمراہی نظر نہیں آتی ۔اس سے محفل کشت زعفران بن گئی ۔

10۔مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں دو بڑے سوال ہر ذہن میں اٹھتے ہیں اور حق ہے کہ یہ سوال پیدا ہوں۔

 پہلا سوال یہ کہ کورس کی اس ساری ایکٹویٹی کا ہدف و مقصد کیا ہے؟اس کے بانی ارکان و اساتذہ کے ذہن میں وہ کون سا  ہدف ہے جس کی وجہ سے نصاب ،موضوعات اور طریقہ کار طے ہوا ہے؟ اس سوال کا جواب جہاں تک میں سمجھا ہوں ، اور مدرسہ ڈسکورسز کے بانی ارکان و اساتذہ کی اس موضوع پر مختلف تحاریر پڑھی ہیں ،تو ان سے اس کورس کے دو بڑے ہدف نکلتے ہیں :

  1. اسلامی روایت کے تنوع کو جاننے کی کوشش اور موجودہ حالات میں اس سے استفادہ
  2. ماڈرن و پوسٹ ماڈرن ایج میں مذہب خصوصا اسلام اور اسلامی مواقف کی پوزیشن کے تعین  کی طرف پیش رفت

جہاں تک پہلا نکتہ ہے تو اس کے لیے ٹھیٹھ روایتی علماء کی نصوص کا مطالعہ کروایا جاتا ہے ،پھر ان نصوص کی مدد سے کسی بھی موضوع میں متعلقہ تنوع کو تلاشنے کی کوشش ڈسکشن کی صورت میں کی جاتی ہے ۔ اسلامی روایت میں تنوع ایک امر واقعہ ہے ۔فقہی اعتبار سے مذاہب اربعہ ،کلامی اعتبار سے اشعری ،ماتریدی ،حنابلہ ،محدثین ، میدانِ تصوف میں چشتی ،قادری وغیرہ ،دورِ جدید کے روایتی حلقوں میں دیوبندی ،بریلوی ،اہل حدیث ،عرب دنیا میں وہابی، سلفی الغرض مکاتب کے اعتبار سے تنوع کا ایک جہاں آباد ہے ۔پھر ہر مکتب میں مختلف مسائل میں تنوع ہے ،مثلا حسن و قبح کے مسئلے میں اہل سنت کے اندر اشعری موقف ،پھر اس موقف پر امام غزالی و رازی کے اضافہ جات ،پھر اس پر قرافی وغیرہ کی تعلیقات ۔الغرض ہماری اسلامی روایت ایک گلدستہ ہے ،جہاں ہر گل ِ را  رنگ و بوئے دیگر کا نظارہ ہوتا ہے ۔ اس تنوع کو جاننا ہر روایت پرست عالم کے لیے ضروری ہے ۔مدرسہ ڈسکورسز ہو یا نہ ہو ،اس کی ضرورت مسلم ہے اور خود درسِ نظامی کے نصاب میں اس تنوع کی کچھ نہ کچھ جھلک رکھی گئی ہے ۔اس نکتے کے تحت کورس کے نصاب میں یہ بھی شامل ہے کہ جب اسلامی روایت و تہذیب کا بیرونی افکار اور ثقافتوں  سے سامنا ہوا تو کس قسم کی صورتحال بنی؟ قبول کیا گیا ہے؟رد کا رویہ اپنایا گیا ؟یا بعض افکار مستعار لیے گئے؟ وغیرہ۔

دوسرے نکتے یعنی ماڈرن و پوسٹ ماڈرن ایج میں مذہب کی پوزیشن کے تعین کے ضمن میں جدید علوم وافکار کی تفہیم کے لیے  مغربی مفکرین کے متون کا مطالعہ کروایا جاتا ہے ،اگرچہ مغربی متون کا مطالعہ بسا اوقات اسلامی روایتی متون کے ساتھ مثبت یا منفی تقابل کے طور پر بھی کروایا جاتا ہے ۔

یہ نکتہ عالم ِاسلام کے دورِ زوال سے لے کر آج تک مسلسل علمی حلقوں میں زیر ِبحث آرہا ہے ،اسی سے دورِ جدید کے کلامی گروہ بنے ہیں ۔مدرسہ ڈسکورسز نے یہ نکتہ اٹھا کر دراصل اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے ،جو روایت و جدیدیت دونوں حلقوں میں زیرِ بحث آیا ہے اور ابھی بھی زیرِ بحث ہے ،اس لیے ہر دو نکات کے لحاظ سے مدرسہ ڈسکورسز کوئی نئی بحث نہیں اٹھا رہا ،بلکہ انہی پامال موضوعات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دے رہے ہیں جس میں دورِ زوال کے مایہ ناز مسلم مفکرین کی زندگیاں صرف ہوئی ہیں ۔ اسلامی بینکاری ماڈرن ایج کی اقتصادیات کے میدان میں اسلامی موقف کا اظہار ہے ،جس سے خود مسلم مفکرین کا ایک بڑا گروہ اختلاف کر رہا ہے۔اسلامی جمہوریت ماڈرن ایج کے تصورِ ریاست و سیاست میں اسلامی موقف کا بیانیہ ہے جو آج تک مختلف فیہ ہے ۔اسی طرح ماڈرن کلچر،علمیات ،سائنس و فلسفہ ،ٹیکنالوجی اور اب پوسٹ ماڈرن ایج میں مذہب خصوصا اسلام کا کیا موقف ہونا چاہئے؟یہ عصر حاضر کا سب سے بڑا سوال ہے ۔مدرسہ ڈسکورسز اسے اٹھائے یا نہ  اٹھائے،مسلم امت کے مفکرین اس پر بحث کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

 دوسرا بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پروجیکٹ کو امریکہ کی جو یونیورسٹی اور امریکی ادارہ فنڈنگ دے رہا ہے، انہیں اس ہدف میں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟اور شاید اس پروگرام سے مذہبی طبقے کی دوری ،اس کی مخالفت یا احتیاط کی وجہ بھی یہی فنڈنگ ہے کہ مغرب کی اسلام و مشرق دشمنی اظہر من الشمس ہے ،تو ایک خالص مسلم امت کو درپیش کسی مسئلے میں مغربی اداروں کی کیا دلچسپی ہوسکتی ہے ؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے یہاں دو باتوں کو الگ الگ کرنا ہوگا۔پہلی بات ہے کہ اس پراجیکٹ کے لیے فنڈنگ کیسے اور کس عنوان کی بنیاد پر کی گئی ہے؟ دوسر ی بات کہ فنڈنگ کرنے والے ادارے کا اس کورس کے نصاب، پروگرامز،موضوعات میں کس قسم کا عمل دخل ہے؟جہاں تک دوسری بات ہے تو اس کورس کے نصاب،پروگرامز ،ورکشاپس ،داخلے ،ٹیچرز اول تا آخر بانی رکن ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر طے کرتے ہیں ،نیز آج تک اس کورس کے کسی بھی پروگرام میں فنڈنگ کرنے والے ادارے کے نمائندے نہیں آئے ہیں ، نہ ہی انہوں نے نے کسی قسم کا حصہ لیا ہے ۔

جہاں تک مسیحی یونیورسٹی کی دلچسپی  والی بات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے استاد عمار صاحب کی زبانی ڈاکٹر موسی صاحب کا موقف نقل کیا جاتا ہے۔ مولانا عمار صاحب لکھتے ہیں:

"ڈاکٹر ابراہیم موسی کا version یہ ہے کہ یہ مسیحی یونیورسٹی کا نہیں، بلکہ ابراہیم موسی کا پراجیکٹ ہے جو ایک مسیحی یونیورسٹی میں کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے مغربی جامعات میں کام کے انداز کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جو بھی اسکالر پروفیسر کے مرتبے تک پہنچ جاتا ہے، مغربی تعلیمی اداروں میں اس کو اپنے ذاتی تجربات اور ذوق کے حوالے سے مختلف منصوبے بنانے کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے اور ادارے پروفیسر حضرات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ پراجیکٹس بنا کر فنڈ فراہم کرنے والے مختلف اداروں سے فنڈز لے کر آئیں۔ اس فنڈ میں سے یونیورسٹی، انتظامی اخراجات کے لیے ایک خاص تناسب سے کچھ رقم منہا کر لیتی ہے اور علمی طور پر ایسے پراجیکٹس یونیورسٹی کا امیج اور ریپوٹیشن بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پروفیسر حضرات پراجیکٹ کے طور پر کوئی انفرادی منصوبہ بھی بنا سکتے ہیں، ایک گروپ بنا کر بھی کام کر سکتے ہیں اور مختلف دوسرے طریقے بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ سسٹم کی سطح پر انڈرسٹینڈنگ یہ ہے کہ اس سارے عمل سے بحیثیت مجموعی علم کی روایت کو فائدہ پہنچے گا اور اس میں نئی جہات سامنے آئیں گی۔

اس تناظر میں پروفیسر ابراہیم موسی نے (جنھیں کئی سال سے انڈیا کے بعض ذمہ دار حضرات کی طرف سے یہ دعوت موصول ہو رہی تھی کہ انھیں مدارس کے فضلاء کے لیے کچھ کرنا چاہیے) یہ منصوبہ جان ٹمپلٹن فاونڈیشن کو پیش کیا کہ انھوں نے مدرسے سے فراغت کے بعد اب تک کے علمی سفر میں جو کچھ سیکھا ہے، اس میں وہ مدرسہ کمیونٹی کو شریک کرنا چاہتے ہیں اور اسلامی الہیات کے تعلق سے جدید فلسفہ اور جدید سائنس کے پیدا کردہ سوالات کی تفہیم پر مبنی ایک تربیتی کورس ان کے لیے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ جان ٹمپلٹن فاونڈیشن نے اور اسی طرح نوٹرے ڈیم یونیورسٹی میں کراک انسٹی ٹیوٹ نے (جس میں ابراہیم موسی کام کر رہے ہیں) اس منصوبے میں دلچسپی محسوس کی اور یوں مدرسہ ڈسکورسز کی بنیاد پڑ گئی۔ ابراہیم موسی کا کہنا ہے کہ مغربی تعلیمی نظام کے norms کے لحاظ سے یہ ایک بالکل معمول کا تعلیمی منصوبہ ہے جس میں کوئی چیز نہ مخفی ہے اور نہ معروف طریقے سے ہٹی ہوئی ہے۔"

لہذا یہ پراجیکٹ مدرسہ سے پڑھے ہوئے ایک پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب کا ہے ،ایسے علمی پراجیکٹ کے لیے وہاں کے اداروں کی فنڈنگ ایک عام سی بات ہے ۔خود پاکستانی یونیورسٹیز میں ایسے کئی پراجیکٹ چلتے رہتے ہیں جنہیں فنڈ بیرونی جامعات و ادارے مہیا کرتے ہیں ،بلکہ آج سے کچھ سال پہلے جرمنی کی ایک این جی او نے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے ایک ہفتہ کی ورکشاپ رکھی تو پانچوں وفاقوں سے وابستہ اہل علم کے صاحبزادگان اور کچھ دوسرے طلبہ ایک ہفتہ کے لیے جرمنی گئے  تھے اور وہاں مختلف ایکٹویٹیز میں حصہ لیا ۔اس میں بعض مواقع کی تصاویر سے معلوم ہوا کہ لیکچر بھی وہاں کے جرمن مسیحی حضرات نے دیے،جبکہ یہاں تو اول تا آخر سارا نصابی مواد ،لیکچرز وغیرہ ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب اور مدرسہ ڈسکورسز سے وابستہ اساتذہ و منتظمین کے ہاتھ میں ہے ۔

11۔ آخر میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ مدرسہ ڈسکورسز کے اساتذہ و بانین یقینا کسی نہ کسی فکر سے جڑے ہیں ،ان کی فکری آراء قابل تنقید اور قابل ِ اختلاف ہوں گے یا شاید ہوں،لیکن کم از کم مدرسہ ڈسکورسز میں ان حضرات نے شرکا ء پر اپنے نظریات یا اپنے فکری نتائج تھوپنے یا اس کے حق میں دلائل دینے کی کوشش بالکل نہیں کی،  بلکہ آج تک کسی بھی استاد نے درسگاہ میں اپنی خاص فکری آرا کا اظہار تک نہیں کیا ۔اساتذہ کا بس اتنا کام ہے کہ مواد دے کر اس پر مناقشہ کرواتے ہیں ،اس لیے مدرسہ ڈسکورسز کو اساتذہ و بانیین کے فکری فریم ورک سے ہٹ کر دیکھا جائے تو شاید اس کے بارے میں پھیلے شکوک و شبہات مزید کم ہوں ۔نیز یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس کورس میں شریک طلبہ چھوٹے اور ناپختہ ذہن کے بچے نہیں ،بلکہ درس ِنظامی کی تکمیل کر کے عملی زندگیوں میں سالہا سال سے کام کر رہے ہیں ،اس لیے یہ سمجھنا کہ مدرسہ ڈسکورسز کے اساتذہ انہیں دو سالہ کورس میں گمراہ کر دیں گے ، خود مدارس کے نظام ِ تربیت پر سوالات اٹھانے کے مترادف ہے۔ (یعنی  اگر اس کورس کا مطمح نظر فضلاء کی گمراہی ہو،لیکن یہ محض مفروضہ ہے ،اس کورس کو جوائن کرنے والوں میں سے اب تک کسی نے گمراہی کی کسی قسم کی کوئی کوشش یا ترغیب نہیں دیکھی ،کورس کا نظام و نصاب آپ اس مضمون میں بالتفصیل پڑھ چکے ہیں، جس سے اس بات کی بخوبی تصدیق ہوتی ہے )۔ انڈیا کے ایک شریک کورس کے الفاظ میں ،جو انہوں نے الوداعی تاثرات میں برملا سب اساتذہ و منتظمین کے سامنے کہا کہ اگر کورس کے اساتذہ ہمیں کسی بھی فکری کجی یا واضح گمراہی کی بات کریں گے تو ہم علی الاعلان مخالفت کریں گے ،کیونکہ ہم عاقل بالغ ہیں ،کوئی بچے نہیں کہ جو جس طرف لے جائے ،چل پڑیں گے ۔نیز شرکائے کورس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم آٹھ سال مدارس میں پڑھ کر کئی سال تدریس سے وابستہ ہو کر دو سالہ کورس ( جس میں ہفتہ میں صرف دو روز اسباق ہوتے ہیں) سے گمراہ ہوسکتے ہیں تو یہ کمزوری ہماری نہیں،مدارس کے سسٹم کی ہوگی کہ آٹھ سال ایک بچے پر محنت کر کے اسے عالم ِ دین کی سند تھما کر اسے مسند تدریس کی اجازت دے کر بھی وہ فکری میدان میں اتنا کچا ہے کہ کوئی بھی چند ہفتوں کے اسباق سے اس کے پورے فکری فریم ورک کو تبدیل کر سکتا ہے ۔ شرکاء کی اس حوالے سے حساسیت حد درجہ باعثِ اطمینان ہے۔

خلاصہ یہ کہ یہ کورس اب تک ایک اچھا تجربہ ثابت ہوا ۔فکری تبدیلی (یعنی مدارس ،روایت سے بدگمانی ، مولوی، داڑھی پگڑی کی تحقیر ،جو عمومی طور پر مدرسہ ڈسکورسز کے اثرات و نتائج کے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں ) کی تو مجھے(اور یقین کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی شریک کورس کو ) ہوا بھی نہیں لگی ،البتہ مناقشہ کے نتیجے میں اپنی بعض فکری آراء پر مضبوطی ہوگئی ،اس لیے میری ہر صاحب استعداد فاضل سے گزارش ہے کہ اسے جوائن کریں ، تاکہ جدید دنیا میں مذہب کی پوزیشن کو سمجھنے میں مدد ملے ،جدید سوالات کا فہم حاصل کریں ،اور جدید تعبیر و اسلوب کے ساتھ جدید ذہن کے مطابق اسلاف کی علمی روایت کے تنوع سے مستفید ہوتے ہوئے اسلام کو دورِ جدید کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ دکھائیں تاکہ موجودہ مسلم نسلوں میں الحاد اور مذہب سے بے اطمینانی کے سیلاب کے سامنے اپنی حد تک بند باندھ سکیں ۔

مذہبی طبقے سے درخواست ہے کہ یہ آپ کے اپنے لوگ ہیں ،انہیں اچھوت بنانے کی بجائے اسے لیڈ کریں ،اپنی سرپرستی دیں ،جو فضلاء اس میں شریک ہورہے ہیں ،ان کی حوصلہ افزائی کریں ،اپنے تیا رکردہ فاضلین پر بدگمانی مت کریں ،اپنے باغ کے پھل سے انکار مت کریں ۔دین بھی قائم رہے گا ،دینی فکر بھی چلتی رہے گی،اتنی زیادہ احتیاط کہیں ہماری فکری کمزوری اور دین کی حقانیت کے بارے میں احساس کمتری کی علامت نہ ہو۔دینی مدارس کی چار دیواری سے جو نکلا ،اسے گمراہی کے مترادف سمجھنے کا رویہ چھوڑ دیں ،وما علینا الا البلاغ۔

ڈاکٹر محمد سعید شفیق

مدرسہ ڈسکورسز کا تیسرا بیچ اپنے پہلے ونٹر انٹینسو کے لیے پاک وہند کے فضلا ءکولے کر دسمبر کے آخری ہفتے میں قطر وارد ہوا۔اس کورس کا آغاز 2017 میں ہوا جس کے روح رواں ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ صاحب (پروفیسر یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم۔امریکہ) ہیں۔آپ نے دارالعلوم دیوبند اور نددوۃ العلماء سے دینی تعلیم حاصل کی ،اور پھر امریکہ سے امام غزالی کے فلسفہ لسانیات پر پی ایچ ڈ ی کی۔ آپ کے ساتھ اس کورس میں پاکستان سے مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر اور انڈیا سے مولانا ڈاکٹر وارث مظہری صاحب بطور لیڈ فیکلٹی ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر ماہان مرزا کی جگہ اس سال کوئٹہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان ڈاکٹر شیر علی ترین صاحب کا مدرسہ ڈسکورسز کی ٹیم میں ایک بہترین اور عمدہ اضافہ ہوا۔ آپ برصغیر پاک وہند میں استعماری ومابعد استعماری دور کی مذہبی فکر پر عمدگی سے بحث کرتے ہیں اور روانگی کے ساتھ چھ زبانیں بول لیتے ہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز ایک خالص تعلیمی اور تحقیقی پراجیکٹ ہے جس میں پاک و ہند سے شرکاء کو باقاعدہ ٹیسٹ اور انٹریو کے بعد ایک مکمل پراسیس کے ساتھ منتخب کیا جاتا ہے۔ حسبِ سابق اس بیچ  میں بھی تقریباً تمام فضلاء پاک وہند کے بڑے بڑے دینی جامعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پاکستان میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، دارالعلوم کراچی، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، دارالعلوم حقانیہ، دارالعلوم غوثیہ محمدیہ اور جامعۃ الکوثر وغیرہ کے فضلاء شامل تھے۔ تمام شرکاء مضبوط استعداد کے ذہین فضلاء اور عصری علوم سے بھی آراستہ ہیں۔ میرے اعداد وشمار کے مطابق اس تیسرے بیچ میں 10 پی ایچ ڈی ڈاکٹرز، گیارہ پی ایچ ڈی سکالرز اور بہت سے  ایم فل اسکالر تھے۔ بہرحال یہ نیا گروپ اپنے ونٹر انٹینسو کے لیے پچیس سے تیس دسمبر تک کالج آف اسلامک اسٹڈیز، حمد بن خلیفہ یونیورسٹی ، ایجوکیشن سٹی قطر میں جمع ہوا  جس میں پاکستان سے چوبیس اور ہندوستان سے انیس جید علماء اور بااستعداد نوجوان فضلاء کے علاوہ نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی بعض انڈر گریڈیجویٹ طالبات نے بھی شرکت کی۔

ونٹر انٹینسیو میں شرکت کے لیے پاکستان سے ہماری فلائٹ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ لاہور سے روانہ ہوئی، رات تین دن بجے ہم سب بخیر وعافیت ایجوکیشن سٹی میں واقع ہوٹل پریمئیر ان میں پہنچ گئے۔ہماری آمد سے پہلے انڈین شرکاء پہنچ چکے تھے۔کوشش یہ کی گئی کہ ہر کمرہ ایک پاکستانی اور انڈین شریک ِ کورس کا مشترکہ ہوجس کا یہ فائدہ ہواکہ مختلف پس منظر رکھنے والوں کا آپس میں گہرا ربط و تعلق قائم ہوا اور ثقافتی و مذہبی افکار کا تبادلہ ہوتا رہا۔مدرسہ ڈسکورسز کے پہلے شرکاء کی طرح ہمارےورکشاپ کی میزبانی بھی دوحہ کے ایجوکیشن سٹی میں واقع حمد بن خلیفہ کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز نے کی۔یہ ہوائی جہاز کے ماڈل کے طرز پر انتہائی دلکش ، دیدہ زیب اور جدید انداز سے بنائی گئی انتہائی وسیع وعریض عمارت ہے  جس کا ہر کونہ فن ِ تعمیر کا شاہکار ہے۔

25 دسمبر 2019 بروز بدھ ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ابتدائی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر شیر علی ترین نے ورکشاپ کا طریقۂ کار،اہداف اور سرگرمیوں کو واضح کیا اور بعض شرکاء کا تعارف ہوا۔چائے کے وقفے کے بعد نوٹرے ڈیم یونیورسٹی سے ڈاکٹر جوش لوپو نے پیٹر ہیریسن کی کتاب  Territories of Science and Religion  کے حوالے سے مذہب اور سائنس کے آپس میں ربط و تعلق پر بڑی عمدہ گفتگو کی  اور سوالات پیش کیے جس پر شرکاء نےتبادلہ خیال کیا۔ حسب ضرورت اردو ترجمہ کے فرائض ڈاکٹر شیر علی ترین نے ادا کیے۔ نماز اور کھانے کے وقفے کے بعد اگلی نشست میں اسی موضوع پر گروپ ڈسکشنز ہوئے اور ہر گروپ میں ایک ممبر نے ان کا خلاصہ پیش کیا۔مغرب کے بعد نشست میں ڈاکٹر وار ث مظہری اور ڈاکٹر شیرعلی ترین نے امام ابوالحسن العامری(المتوفیٰ 381ھ) کی کتاب "الاعلام بمناقب الاسلام" اور مرزا مظہر جانِ جاناں کے مکاتیب کی روشنی میں اسلامی سیاسی حاکمیت اور برتری پر لیکچرز دیے اور اس بارے میں مغربی مفکرین کی آراء پیش کر کے اس پر مناقشہ کیا گیا  کہ جانبین کے درمیان اسلام کی جو فوقیت بیان کی گئی، وہ کس حد تک آپس میں مختلف ہے۔

26 دسمبر ورکشاپ کا دوسرا دن تھا۔ کل کے محاضرات سے متعلق اایک اور دلچسپ مضمون شامل کرکے مناقشہ کو جاری رکھا گیا۔ ڈاکٹر عمار خان ناصر نے بانئ دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی کے مشہور مناظرہ "مباحثہ شاہجہان پور" کا خلاصہ پیش کیا  اور ایک دلچسپ انداز میں اس مناظرے کی گفتگو سے دس سوالات غیر مرتب انداز میں شرکاء کے سامنے رکھ دیے ۔ پھر ان سوالات کو ترتیب دینے کے لیے شرکاء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ۔ یہ ایک دلچسپ تجربہ تھا جس کاخاطرخواہ فائدہ ہوا اور تمام شرکاء نے اس کو سراہا۔ چائے کے وقفے کے بعد اس پر مزید بحث و مباحثہ ہوا اور بیشترشرکاء نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ ظہر اور لنچ کے بعد شام تک وقفہ رکھا گیا۔ مغرب کے بعد مشہور مغربی باحث یوحانن فرائیڈمین کی کتاب “Tolerance and Coercion in Islam” پر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر وارث مظہری نے اپنے ملاحظات پیش کیے کہ کس طرح Tolerance کے جدید تصور کو معیار بنا کر پیش کی جانے والی مذہبی تعبیرات کا مصنف نے تفسیر ،حدیث اور فقہ کی روشنی میں ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ اس پر نہایت عمدہ مناقشہ ہوا اور شرکاء کے سوالات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

27 دسمبر کو تیسرا دن جمعہ کا تھا، اس لیے صرف ایک سیشن رکھا گیا  جس میں ڈاکٹر عمار ناصر اور ڈاکٹر وارث مظہری نے ابوحیان توحیدی کی کتاب "الامتاع والمؤانسۃ" سے متی بن یونس اور ابوسعید السیرافی کے درمیان عربی نحو اور یونانی منطق کی باہمی افضیلت کے سوال  پر ہونے والے مناظرے  پر سیر حاصل گفتگو کی  اور شرکاء نے بھی اس پر اپناتبصرہ پیش کیا۔ اس کے بعد نمازِ جمعہ کے لیے وقفہ دیا گیا۔ جمعہ کے بعد لنچ کیا گیا اور پھر شرکاء کو قطر میوزیم آف اسلامک آرٹ کا وزٹ کرایا گیا۔ ساحلِ سمندر پر کئی ایکڑ پر پھیلی ہوئی یہ  پانچ منزلہ عمارت فنِ تعمیر کا شاہکار ہے جس میں مختلف ادوار اور مشرق ومغرب میں پھیلی مسلم ثقافتوں کی تاریخ کو نہایت عمدگی اور سلیقے سے محفوظ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہمیں قطر کے مشہور بازار سوق واقف کے پاس واقع بیت جلمود میوزیم لے جایا گیا۔ اس میوزیم میں مختلف ممالک بشمول قطر میں غلامی کی تاریخ ، مظاہر اور اشکال محفوظ کی گئی ہیں۔ کچھ کمروں میں بڑی بڑی سکرینوں پر غلامی کے نظام پر مبنی ویڈیوز دکھائی جا رہی تھیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی لائبریری بھی ہے  جہاں غلامی سے متعلق بنیادی مصادر ومراجع پر مشتمل کتابیں موجود ہیں ۔ یہاں سے ہم سوق واقف گئے۔یہ دوحہ کا سوسالہ قدیم ترین بازار ہےجو آج بھی پرانی طرز پر قائم ہے۔ یہاں ہر وقت سیاحوں اور مقامی لوگوں کا رش ہوتا ہے اور مختلف علاقوں کے لوگ اپنی روایات اور ثقافتوں کو مختلف انداز سے پیش کررہے ہوتے ہیں۔ شرکاء کے لیے اسی بازار میں واقع ایک ترکش ریسٹورنٹ "دی ویلج " میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ ڈنر کے بعد کچھ دیر کے لیے کورنیش یعنی ساحل سمندر پر گئے اور پھر ہوٹل واپسی ہوئی۔

28 دسمبر کو پہلے سیشن کا آغاز ڈاکٹر سہیرا صدیقی (ایسوسی ایٹ پروفیسر، جارج ٹاؤن یونیورسٹی ، دوحہ کیمپس) کے لیکچر سے ہوا ۔انہوں نے علم  کی تعریف اور مصادر پر بحث کی اور قانون وشریعت کا علم معرفت سے کیا رشتہ ہے، نیز جدید مسلم معاشرے میں علم معرفت کا کیا کردار ہے،اس کو عمدگی سے واضح کیا۔ اس پر بھرپور مناقشہ ہوا اور اساتذہ سمیت تقریباً تمام شرکاء نے پینل ڈسکشن کے ذریعے اپنے ملاحظات پیش کیے۔ شام کے وقت مہمان اسکالر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی کا لیکچر تھا جو اسلامی اقتصادیات کے عالمی سطح کے ممتاز اسکالر اور اس موضوع پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں ۔ آپ نے تفصیل کے ساتھ "الفقہ الاسلامی بین النصوص والتراث والمعاصرۃ وقفاً لفقہ المیزان" کے موضوع پر بڑی عمدگی سے بحث کی ، اور پھر بڑی فراخ دلی کے ساتھ شرکاء کی جانب سے تقریباً بیس سے زیادہ سوالات کے جوابات دیے ۔ ڈنر کے بعد شرکاء کو ساحل سمندر کورنیش کا وزٹ کرایا گیا اور  بیشتر شرکاء نے  کشتیوں میں سمندر کی سیر کی۔

29 دسمبر بروز اتوار ڈاکٹر رنا دجانی (ایسوسی ایٹ پروفیسر، الجامعہ الہاشمیہ اردن) نے اسلام اور ارتقاء کے حوالے سے ویڈیو لنک کے ذریعے تفصیلی لیکچر دیا، اور آخر میں چائے کے وقفے کے بعد بھی مسلسل ایک گھنٹہ شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔شام کے وقت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے استاذ ادریس آزاد صاحب نے سائنس اور ارتقاء کے کائناتی قوانین کے ساتھ ساتھ کرہ ارض پر حیات کی ابتدا اور نشو ونما پر اپنی پرمغز پریزینٹیشن پیش کی جس سے حاضرین کی سائنس کے حوالے سے معلومات میں بیش بہا اضافہ ہوا،اور پھرسوالات کے سیشن کے بعد اپنی شاعری سے بھی شرکاء کو محظوظ کیا۔

30 دسمبر ورکشاپ کا آخری دن تھا۔پہلے سیشن میں ڈاکٹر عمار ناصر صاحب نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم کی روشنی میں مسلم ثقافت اور تشبہ بالکفار پر بحث کی۔ ان کے بعد پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ایک آرٹیکل کے حوالے سے مذہب اور ثقافت کے باہمی روابط پر گفتگو کی۔ چائے کے وقفے کے بعد شرکاء نے اپنے مشاہدات اور آئندہ کے لیے تجاویز پیش کی جن کو اساتذہ کرام نوٹ کرتے اور سراہتے رہے۔ظہر اور لنچ کے بعد ایجوکیشن سٹی ہی میں واقع قطر نیشنل لائبریری کا آفیشل وزٹ کرایا گیا۔ یہ عظیم الشان لائبریری بیس لاکھ کتابوں پر مشتمل ہے۔ یہاں دینی علوم وفنون پر مشتمل کتب/مصادر ومراجع کے کئی کئی ایڈیشن دیکھنے کو ملے۔ایک خاتون نے لائبریری کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بریفنگ دی اور یہاں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا۔ تہہ خانے میں قدیم مخطوطات، نایاب کتابیں اور مکاتیب محفوظ کیے گئے ہیں۔

شام کے وقت الوداعی سیشن اور ڈنر تھا جس میں بقیہ شرکاء نے اپنے تاثرات اور تجاویزپیش کیں اور آخر میں اساتذہ کرام نے الوداعی کلمات کہے جس میں انہوں نے اسلامی فکری روایت کے اس پہلو پر گفتگو کی کہ دینی مدارس کے فضلاء کو اپنے مذہبی متون ، قدیم وجدید تراث ، الہیات اور اخلاقیات سے متعلق روایتی منہج کو فلسفہ، سائنس سے متعلق نئے علمی نظریات وافکار کی روشنی میں بروئے کار لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توقع ہے کہ یہ کورس علماء کرام کے اندازِ فکر میں مثبت تبدیلیوں کا ذریعہ اور محرک ثابت ہوگا۔ دینی مدارس کے ساتھ ربط وتعلق کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رقت آمیز لہجے میں ڈاکٹر عمار ناصر نے کہا کہ مدرسہ ہماری تاریخ اور تہذیب کا کسی نہ کسی رنگ میں بچا ہوا واحد ادارہ ہے۔ہماری تاریخ وتہذیب نے جتنے ادارے قائم کیے تھے، وہ سارے مختلف حوادث کی نذر ہوچکے ہیں۔یہ ایک واحد ادارہ ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں موجود ہے اوراسے لوگوں کا اعتمادآج بھی حاصل ہے۔ تہذیب و تاریخ میں ادارے آسانی سے نہیں بنتے،ایک ادارے کو اپنا نام بنانے اور اپنی خاص شناخت  حاصل کرنے میں صدیاں لگتی ہیں۔اس لیے اس ادارے کی قدروقیمت کو سمجھنا چاہیے اور جس علمی روایت کا یہ ادارہ امین ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔

الوداعی ڈنر کے بعد اسی رات چار بجے پی آئی اے کی پرواز سے روانہ ہوئے اور صبح 9 بجے اسلام آباد ائیرپورٹ بخیر وعافیت پہنچ گئے۔

خلاصہ یہ کہ یہ کورس اب تک ایک اچھا تجربہ ثابت ہوا  ہے،اوراس پہلی ورکشاپ میں کئی چیزوں سے ہم نے بہت استفادہ کیا۔میرااحساس ہے کہ اب ہم پہلے سے بہتر طور پر تحریر اور تبادلہ افکارکے ذریعے دوسروں تک پیغام پہنچا سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ، مدرسہ ڈسکورسز ایک خالص تعلیمی وتحقیقی پروگرام ہے جس کا مقصد مدارس کے روایتی طرز فکر کو برقرار رکھتے ہوئے معاصر افکار ورجحانات کے تناظر میں دینی حقائق کو سمجھنا اور عصر حاضر کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے جدید اسلامی فکر کی تشکیل ہے۔ ہمارے لیے اس کورس کے نصاب میں تاریخ، فلسفہ،سائنس اور علم الکلام سے متعلق مراجع ومصادر کا درجہ رکھنے والی کتابوں کا انتخاب کیا گیا جو طلبہ کے فکری دائرے کو وسیع کرنے میں ممد اور معاون ثابت ہوتی ہیں۔یہ پروگرام اپنی پوری ترتیب کے اعتبار سے ایک خالص علمی اور نظری سرگرمی ہے  جس میں ہم اپنی شاندار علمی روایت سے کسی درجہ میں واقف ہوئے۔ ہم نے اس کورس میں آنے کے بعد مسلم فلاسفہ کے جو مختلف رجحانات فکر ہیں، ان تک رسائی حاصل کی اور یہ جانا کہ عقل اور نقل کے تعارض میں اشاعرہ، ماتریدیہ، امام رازی، غزالی اور امام ابن تیمیہ کا مؤقف کیا رہا ہے؟ان فوائد کے ضمن میں ہمیں یہ بھی فائدہ ہوا کہ کس طرح علمی انداز میں ہم گفتگو کریں، نیزاپنی بات کو مدلل انداز میں کیسے پیش کیا جائے؟ بحث و مباحثہ میں کھلے ذہن کے ساتھ بغیر کسی تحقیر وتنقیص کے ساتھ شمولیت  اور اپنی بات پر ڈٹے رہنے کی بجائے دوسروں کو ان کا مدعا پیش کرنے کا موقع دینے کا سلیقہ حاصل ہوا۔

مولانا امیر حمزہ

مدرسہ ڈسکورسز کا یہ تیسرا بیچ ہے اور اس تیسرے قافلے میں راقم بھی شریک ہے۔ آغاز سے تاحال یہ پروگرام تنقید کی زد میں ہے۔ جوں جوں یہ متعارف ہورہا ہے، تنقید کی لہر میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پر تنقید میں سواد اعظم کا اجماع دکھائی دیتا ہے۔ دیوبندیت، سلفیت، بریلویت، غامدیت، جامعیت، جوہریت غرض نگاہ کے سبھی زاویے اس پر ترچھے پڑ رہے ہیں۔ ظاہر ہے، ناقدین کے اعتبار سے اس پر ہونے والی تنقید کے محتویات اور محرکات مختلف ہیں۔ اس پر ڈسکورسز کے شرکا اور فضلا کی طرف سے بھی لکھا جارہا ہے۔ عمومی تاثرات پر مولانا سمیع اللہ سعدی کی تحریر بہت جامع ہے۔ اس موضوع بالخصوص تنقید کے جواب میں مزید کچھ لکھنا کارِ عبث ہے۔ تاہم ایک دو ملاحظات پیشِ خدمت ہیں۔

ویسے تو دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں، مگر مدرسہ ڈسکورسز کے ڈھول کا تجربہ مختلف رہا۔ یہ ہمیں دور سے بہت کرخت محسوس ہوا تھا، تاہم جوں جوں قریب آئے تو اس کے سُروں نے دل موہ لیے۔ میں نے اس سے متعلق احباب سے جب معلومات لیں اور اس کی بنا پر داخلہ لینے کا سوچا تو شرکت کے بعد حاصل شدہ معلومات سے بھی مفید تر پایا۔ موضوعات کے حوالے سے اس کی افادیت پر ان شاء اللہ وقتا فوقتا لکھوں گا۔ تاہم سر دست جو انقلاب محسوس ہوا، وہ علم کی نہ بجھنے والی پیاس ہے جس میں گذشتہ کچھ عرصے سے سیری کی کیفیت محسوس ہوتی تھی اور ہم اسے قدرت کے طرف سے "شرح صدر" کا مقام سمجھ رہے تھے۔ یہ وہ واحد "گمراہی" ہے جو میں نے اس پروگرام میں آنے کے بعد محسوس کی۔ ذاتی طور پر میری اس پروگرام میں دلچسپی کے کئی محرکات ہیں۔ ان میں بالخصوص یہ موضوع کہ استشراق کے بعد مغربی فکر (western scholarship) کے مطالعہ اسلام کے حوالے سے کیا رجحانات ہیں؟ اس کے نتیجے میں فہم دین کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟ کیا یہ رجحانات ہماری علمی تاریخ میں پیدا شدہ رجحانات کی ارتقائی شکل ہیں یا ان کا منشا جدید ہے؟ اگر سابقہ رجحانات کے مماثل ہیں تو ہماری قدیم روایت انہیں کیسے دیکھتی ہے؟ اس عنوان پر مطالعہ اور مناقشہ میرے لیے بہت دلچسپ رہا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ مدرسہ کی روایت پر اعتماد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ مدرسہ پر ہم جتنی بھی تنقید کریں، مگر یہ بات بالکل درست ہے کہ مادیت کے اس ماحول میں اگر علمی و فکری خدمات کے لیے کسی طبقے نے خود کو حقیقی معنی میں وقف کیا ہے تو وہ اہل مدرسہ ہی ہیں۔ کل جو فکری ازمات ابھرے تو اسی طبقے سے غزالی، رازی، ابن رشد اور ابنِ تیمیہ پیدا ہوئے۔ آج کے ازمات میں بھی امت اسی طبقے کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ان شاء اللہ یہی امید کی کرن ہے۔ ان تمام ایجابی تاثرات کا سہرا مدرسہ ڈسکورسز کے اساتذہ اور فائق رفقا کو جاتا ہے۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء۔

فی الجملہ تنقید کے حوالے سے بھی مجھے بہت اطمینان ہوا۔ الحمد للہ ہمارے بڑوں کی سرپرستی قائم ودائم ہے۔ وہ ہمیں اون (Own)کرتے ہیں۔ ہمیں پرخطر راستوں پر چلتا دیکھ کر احتیاط کی تلقین کرتے ہیں۔ ہمارے اندر بغاوت کے جذبات ابھرتے دیکھتے ہیں تو ہماری مناسب گوشمالی کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تاثر اس قدر خوبصورت ہے کہ تصور سے ہی دل ودماغ روشن ہوجاتے ہیں اور دہن میں چاشنی محسوس ہوتی ہے۔ الحمد للہ یہ بھی مدرسے کی دین ہے۔ اسے وہی محسوس کرسکتا ہے جو مدرسے کی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ ہم بڑوں کے اس ناقدانہ مزاج کی قدر کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ایسے مخلص احباب اور اکابر کے ہوتے ہوئے کوئی اندھیرے میں گمراہ نہیں ہوسکتا۔ ہاں گمراہی اپنا انتخاب ہو تو اور بات ہے۔

اٗئیر پورٹ پر فارن کرنسی کا آڈٹ ہورہا تھا تو میں نے ایک دوست سے از راہ تفنن کہا کہ اگر مدرسہ ڈسکورسز میں داخلے سے پہلے ہدایت اور ضلال کے ہمارے اثاثوں کا اس طرح کا آڈٹ ہوجاتا تو بہت اچھا تھا۔ ایسا نہ ہو کہ جس قدر "گمراہی کے اثاثوں" کے ہم پہلے ہی مالک ہیں، وہ مدرسہ ڈسکورسز کے کھاتے میں پڑجائیں۔ اس لیے ناقدین سے میری ایک گزارش ہے کہ تنقید میں اسے ضرور ملحوظ رکھیں۔

مولانا محمد یونس قاسمی

جیسے ہی مدرسہ ڈسکورس کی کسی نئی علمی سرگرمی کا آغاز ہوتا ہے تو پاکستان میں مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر اعتراضات کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ کسی بھی اقدام پر سوال اٹھانے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے اور اس پہ کوئی قدغن ہونی بھی نہیں چاہیے، تاہم اس کے ساتھ اگر ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کا عنصر کارفرما ہو تو بات چیت اور اختلاف کی مشق سودمند ثابت ہوسکتی ہے، اور اگر یک طرفہ تنقید ہی مقصود ہوتو غبار مزید غالب آتا ہے اور بدگمانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ چونکہ راقم خود اس عمل کا حصہ ہے، لہذا بہتر محسوس ہوا کہ جو دیکھا اور سمجھ میں آیا، اس کے تناظر میں مدرسہ ڈسکورسز کی تھوڑی بہت وضاحت کردی جائے۔

مدارس کے فضلاء کو ایک پختہ علمی سرگرمی کے ماحول میں بحث ومباحثہ کرنے کی عادت ڈالنے، ماضی کے علمی مواقف پر غوروفکر کرتے ہوئے سوالات اٹھانے اور مسلمانوں کواپنے  گزرے سنہری دور میں پیش آنے والے مسائل ومشکلات کو سمجھنے کی اس کوشش کا نام مدرسہ ڈسکورسز ہے جس میں نہ صرف علمی نصوص کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا جاتا ہے بلکہ اسلاف کےان مناظروں، مباحثوں اور علمی افکار وخیال کو بھی پڑھا جاتا ہے تاکہ یہ سمجھ آسکے کہ انہیں کیسے مسائل کا سامنا رہا اور وہ اس کا حل کیسے تلاش کرتے تھے۔

ناقدین کی اکثریت نے مدرسہ ڈسکورسز کے نصاب کو دیکھے بغیر، اس سے سے وابستہ اہل علم سے سوال کیے بنا ایسے الزامات لگانے شروع کردیے ہیں کہ ان کا ذکر کرتے ہوئے بھی افسوس ہوتا ہے کہ یہ الزام کن لوگوں پر لگایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز میں مسائل تو زیر بحث آرہے ہیں مگر ان کا کوئی مخصوص حل نہیں پیش کیا جاتا، بلکہ یہ تربیت دی جاتی ہے کہ غوروفکر کرنے کی عادت ڈالیں اور ان فکری، تہذیبی مسائل و مشکلات کا حل خود تلاش کریں۔ مجھے اس میں شامل ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے، مگر مولانا عمار خان ناصر اور ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ وغیرہم کو ایک عرصہ سے جانتا ہوں، ان کی کتب و افکار سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔ یہ حضرات اپنی تمام علمی سرگرمیوں میں کامیابی کا سبب مدرسہ کے ساتھ قائم اپنے تعلق کو بتاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں مدرسہ ڈسکورسز کے زیر اہتمام موسم سرما کی ایک پانچ روزہ علمی سرگرمی میں شریک ہونے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کورس ہمیں اپنی دینی روایت سے جوڑنے اور اسے سمجھنے کی ایک کوشش کا نام ہے۔ ڈاکٹر موسیٰ کو ڈاکٹر فضل الرحمن کا شاگرد قرار دے کر تجدد پسند اور ڈاکٹر فضل الرحمن کا متبادل کہا جارہا ہے مگر میں نے جب ڈاکٹر موسیٰ سے اس بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فضل الرحمن سے میری صرف ایک ملاقات ہے۔ بلاسوچے سمجھے ان اہل علم کو متجددکے ساتھ ساتھ مشرک تک قرار دیتے جانا درست رویہ نہیں۔

مدرسہ ڈسکورسز کی پانچ روزہ علمی ورکشاپ کے آخری روز جب طلبہ و اساتذہ اپنے اپنے خیالات و تجاویز کا اظہار کررہے تھے تو مولانا محمد عمار خان ناصر نے مدرسہ سے متعلق چند الفاظ کہے۔ وہ الفاظ میں یہاں من وعن پیش کرتے ہوئے یہ اپیل کرتا ہوں کہ توہمات کی دنیا سے باہر نکلیں اور حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اگر اس علمی سرگرمی کی حمایت نہیں کی جاسکتی تو لوگوں کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنا اچھا طرز نہیں۔ مولانا عمار خان ناصر کا کہنا تھا:

’’ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کے بارے میں چند ایک باتیں کہنا چاہتا تھا، جن میں سے کچھ ڈاکٹر وارث مظہری نے کردی ہیں، کچھ اور تفصیلات بھی ہیں لیکن پھر کبھی بیان کروں گا۔ ڈاکٹر صاحب کی ذات سے بہت ساری باتیں سیکھنے کی ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر جو چیزیں ڈاکٹر موسیٰ سے سیکھی ہیں، ان میں سے اہم چیز  ہر وقت علم سے کسی نہ کسی رنگ میں اشتغال رکھنا ہے۔ مطالعہ، تلاش، تحقیق  اس سے ہر وقت اشتغال ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ  کسی زمانے میں مدرسہ کمیونٹی کا حصہ ہوتے تھے، یہاں سے باہر جانے کے بعد اور ایک دوسری دنیا میں اپنا علمی مقام بنانے کے بعد اب ڈاکٹر موسیٰ امریکہ میں مقیم ہیں۔ امریکہ میں  اسلامک اسٹڈیز کے جو چند بڑے شیو خ ہیں ،ان میں اب ڈاکٹر صاحب کا شمار ہوتا ہے مگر مدارس سے وہ رشتہ جو کئی سال پہلے قائم ہوا تھا، انہیں اب بھی یاد ہے کہ میں نے اپنی دینی تعلیم کی بنیادیں اس مدرسہ کی صفوں پر بنائی تھیں۔

میرے خیال میں ہمارے سیکھنے کے لیے یہ بڑی اہم چیز ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ، بالخصوص پاکستان کے احباب کسی نہ کسی طور پر مدارس سے اپنا تعلق قائم رکھے ہوئے ہیں، مگر ہمارے کیریئر دوسرے اداروں  سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ تعلق یاد رکھنا بہت اہم ہے کہ بطور ادارہ اس کا ہم پر ذاتی حوالے سے حق ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مدرسہ  ہماری تاریخ اور تہذیب کا کسی نہ کسی رنگ میں بچا ہوا واحد ادارہ ہے۔ ہماری تاریخ و تہذیب نے جتنے ادارے قائم کیے تھے، وہ سارے مختلف حوادث کی نذر ہوچکے ہیں۔ یہ ایک واحد ادارہ ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں موجود ہے اوراسے لوگوں کا اعتماد آج بھی  حاصل ہے۔ ہم داخلی طور پر جتنی بھی تنقید کریں مگر اس کی تہذیبی اہمیت کا انکار ممکن نہیں۔

ایک زمانہ مجھ پر بھی ایسا گزرا ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ یہ ادارہ اب کسی کام کا نہیں رہا اور اس کی جگہ کسی دوسرے ادارے کو سامنے آنا چاہیے مگر اب میں شرح صدر سے اس کی اہمیت کا قائل ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تہذیب و تاریخ میں ادارے آسانی سے نہیں بنتے، ایک ادارے کو اپنا نام بنانے اور معاشرے میں اپنے کام سے متعلق تعارف پیدا  کرنے میں صدیاں لگتی ہیں۔ بہت سے مسائل آئے، بہت ساری چیزوں کا سامنا کرنا پڑا، تاریخ نے بڑے عجیب کھیل ہمارے ساتھ کھیلے مگر اس ادارے کی قدروقیمت کو سمجھنا چاہیے اور جس علمی روایت کا یہ ادارہ امین ہے، ہمارا ایک تاریخی  ورثہ ہے جس کا مدرسہ ایک بڑا حصہ ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کے ہماری ذات پر جتنے حق ہیں، انہیں ادا کرنے کی بھرپور کوشش   کرنی چاہیے۔‘‘

اختلاف رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان کی دینی روایت میں شروع ہونے والے اس نئے عمل پر اعتراض کی بجائے اس سے وابستہ اہل علم سے رابطہ کریں، ان سے سوال کریں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بدگمانیوں نے پہلے ہی بہت تفریق پیدا کی ہے، نفرتیں اٹھائی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ایک نئی سعی کو بھی اس کی نذر کردیا جائے، بہتر ہے کہ اس پر بات چیت کا رُخ مثبت و تعمیری ہو۔

مولانا وقاص احمد

مدرسہ ڈسکورسز ایک مرتبہ پھر زیر بحث ہے، ہونا بھی چاہیے کیونکہ مدارس کے کئی فضلاء ان دنوں مدرسہ ڈسکورسز کی ایکٹوٹیز فیس بک پر شیئر کر رہے ہیں۔ بعض دوستوں نے مدرسہ ڈسکورسز  کے پہلے بیچ کو بھی موضوع بحث بنایا ہے جس میں راقم بھی شریک تھا۔ کچھ دیگر احباب کی تحاریر بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ سو چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

1۔ مدرسہ ڈسکورسز کے پہلے بیچ میں مجھ سمیت چند دوست وہ ہیں جنہوں نے مباحث کو جیسے تیسے اور جتنا سمجھا، ان کے متعلق اپنا مطالعہ یا سوالات فیس بک پر لکھنے کا وتیرہ اپنایا تھا۔ دیگر دوستوں کا تو پتہ نہیں مگر میں نے اس تناظر میں لکھنا ترک کر دیا ہے، کیونکہ ہمارے سماج میں ہر وہ شخص اپنے پس منظر کے ساتھ اچھوت بنا دیا جاتا ہے جو سوچنے کی زحمت کرتا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ مدرسہ ڈسکورسز  میرے جیسے عام نوجوان کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنے۔ اس لیے اگر کسی دوست کو مجھ یا مجھ ایسے دیگر کچھ لوگوں سے مسئلہ ہے تو انہیں چاہیے کہ اپنی تنقید کا رخ براہ راست ہماری طرف ہی رکھیں نہ کہ مدرسہ ڈسکورسز کی طرف۔

2۔ میرے تجربے کے مطابق مدرسہ ڈسکورسز  ایسا کوئی سبق نہیں پڑھاتا جس کی ترویج شرکاء پر لازم ہو۔ میری دانست میں مدرسہ ڈسکورسز  کا مقصود وہی جملہ ہے جو استاد مہان مرزا نے اپنے پہلے لیکچر میں کہا تھا کہ "علمائے کرام اگر مغربی فکر و فلسفہ کا رد کریں تو اس میں ہرگز کوئی برائی نہیں ہے، اس معاملے میں شناعت کا عنصر تب پیدا ہوتا ہے جب علمائے کرام مغربی فکر و فلسفے کو سمجھے اور جانے بغیر اس کا رد کریں اور یہ شناعت بھی فکری نہیں بلکہ عملی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کے ہاں خود علمائے کرام کے بارے میں یہ تاثر بننے لگتا ہے کہ یہ جاہل ہیں"۔ میں نے اس تناظر میں کئی علمائے کرام سے بالمشافہہ ملاقات کی، کئی کو سنا اور پڑھا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکا دکا استثناءات کے علاوہ سب کے ہاں یہی خرابی پائی جاتی ہے۔ آپ ہی بتا دیجیے کہ کیا اہل علم کو اپنی یہ کمی دور نہیں کرنی چاہیے؟

3۔ مدرسہ ڈسکورسز  کے حوالے سے ایک پشتو ٹی وی پروگرام میں مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ ابراہیم موسی مدارس کے نظام کو کیوں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ استاد ابراہیم موسی مدارس کا نظام تبدیل نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس نظام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کوشش بھی خود مذہبی روایت ہی کے ذریعے کر رہے ہیں۔ کیا آج کا کوئی بھی مفکر امام غزالی کی کاوش "مقاصد الفلاسفۃ" کو غلط کہہ سکتا ہے؟ اگر کوئی بھی شخص مغربی فکر و فلسفہ کو سمجھنے کی دعوت کو غلط سمجھتا ہے تو اسے لازما امام غزالی کو بھی غلط کہنا چاہیے، بلکہ ساری Greco-Arabic Translation Movement کو بھی سرے سے ناجائز ماننا چاہیے۔ مسلم مفکرین نے بلاشبہ یونانی فکر و فلسفہ کے ساتھ رد و قدح کا معاملہ کیا ہے مگر کیا کوئی ایک بھی ایسی روایت موجود ہے جس کے مطابق ترجمے کے اس پورے عمل ہی کو کسی نے غلط کہا ہو؟ نہیں۔ پھر مدرسہ ڈسکورسز جو کہ بعینہ یہی کام کر رہا ہے، موضوع تنقید کیوں ہے؟

4۔ میری دانست میں ہمارا سماج ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہے جس میں ریڈ لائنز عوام نے نہیں بلکہ دانشور حضرات نے کھینچ رکھی ہیں اور یہ حادثہ شاید انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا کہ جن لوگوں کا کام ہی فکر و تدبر ہو، وہی غور و فکر پر قدغن لگا رہے ہوں۔ ایسی صورتحال میں ہر وہ کاوش بیک جنبش قلم ممنوع قرار پاتی ہے جو دانشوران ملت کی منظور نظر نہ ہو۔ دور نہ جائیے، طاہر القادری صاحب کو لے لیجیے، مسلکا بریلوی ہیں مگر خود بریلوی مکتب فکر کے کئی بزرگ انہیں شیطان کہے دیتے ہیں۔ جاوید احمد غامدی، ابراہیم موسی اور عمار خان ناصر تو پھر وہ لوگ ہیں جن کے پیچھے مسلکی طاقت بھی نہیں کھڑی۔ سو فقیہان حرم کی نظر میں ایسے لوگوں کی کاوشیں مردود نہ ہوں گی تو اور کیا ہوگا؟

5۔ آخری بات یہ ہے کہ سب چھوڑیے، مذکورہ بالا عمومی مسائل کو ایک جانب رہنے دیجیے، بس یہ بتائیے کہ جس دور میں ہم زندہ ہیں، اس دور میں بحیثیت مسلمان (اسکالر یا طالب علم) ہمارا کام کیا ہے؟ ائمہ تفسیر و حدیث و فقہ و کلام کی روش پر چلنا جنہوں نے خدا کی منشا اور اپنے دور کے حالات کی تفہیم میں عمریں کھپا دی تھیں یا ان لوگوں کی روش پر جنہوں نے ہر علمی کام کو تب تک کبھی درخور اعتنا نہیں سمجھا جب تک وقت ہاتھ سے نکل نہ جائے؟ شاہ ولی اللہ کو بطور مثال لے لیجیے۔ آج شاید ہی کوئی مذہبی روایت ایسی ہو جو انہیں امام کے درجہ پر فائز نہ کرتی ہو، لیکن شاہ صاحب کے بعد سو ڈیڑھ سو سال تک سوائے ان کی آل و اولاد کے کسی نے انہیں "اون" کرنے کی ہمت نہیں کی، الٹا ان کے خلاف فتوے ہی جاری ہوتے رہے۔

میرا معاملہ تو یہ ہے کہ درس نظامی سے فراغت کے بعد جب پڑھنا اور پڑھانا شروع کیا تو سوال یہ پیدا ہو گیا تھا کہ آج کے حالات کو سمجھ کر مذہبی روایت کی ان کے ساتھ Relevance کیسے قائم کرنی ہے؟ مدرسہ ڈسکورسز نے مجھے اس سوال کا جواب نہیں دیا، بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ برصغیر کے متنوع مسالک، شاہ ولی اللہ، عبید اللہ سندھی، سید مودودی، جاوید احمد غامدی، مدرسہ ڈسکورسز  اور اب ماڈرن ویسٹرن فلاسفی اس ایک سوال کا جواب تلاش کرنے میں بطور معاون کردار ادا کرتے ہیں اور بس۔

مولانا عبد الغنی محمدی

مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے تنقیدات میں یہ پہلو کافی غالب نظر آرہا ہے کہ ان فضلاء نے اسلام کے سیاسی نظام اور افکار کے حوالے سے کچھ نہیں پڑھا ہوتا، اس لیے ان کو گمراہ کرنا بہت آسان ہے یا سیکولرازم اور ایسے فلسفوں سے یہ بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں فضلاء مدارس کو کم از کم درجے میں جاہل شمار کیا جاتا ہے جن کو دور جدید اور اس کے فلسفوں کی بالکل کوئی سمجھ نہیں۔ اس تنقید میں خود پسندی و خود نمائی کے جذبات کے ساتھ ساتھ بات نہ بن سکنے کی صورت میں غصہ ، حقارت اور جذباتیت کھلے لفظوں دکھائی دیتی ہے۔

میں مدرسہ ڈسکورس کے اوسط لوگوں میں سے ہوں ، مجھ سے زیادہ مطالعہ والے بیسیوں احباب ہیں ۔ مختلف موضوعات پر روایتی و غیر روایتی علماء و مفکرین کی کتابیں مستقل زیر مطالعہ رہتی ہیں۔  پچھلے ایک سال میں جن کتابوں کا مطالعہ کیا، ان میں   جہاد کے حوالے سے ڈاکٹر مشتاق احمد، مولانا عمار خان ناصر ، مولانا فضل محمد اور وہبہ الزحیلی کی کتابیں شامل ہیں۔  تفسیر میں سارے قرآن کریم کو ایک مرتبہ دوبارہ غورو فکر کا موضوع بنایا اور اول تا آخر تفسیر عثمانی اور بعض مختصر تفاسیر کی روشنی میں دیکھا ۔ علوم القرآن پر صرف ایک سال میں تین سے چار کتابیں پڑھیں جن میں ہمارے استاد ڈاکٹر عبدالقیوم صاحب کی تدوین قرآن کے حوالے سے کتاب اور بعض دیگر کتابیں شامل ہیں ۔علامہ شبلی کی الغزالی اور علم الکلام پڑھی، اس موضوع پر کچھ دیگر لوگوں کو بھی پڑھا ۔ مولانا مودودی کی تین سے چار کتابیں صرف اس ایک سال میں پڑھیں۔ مولانا تقی عثمانی کی ایک دو کتابوں کو پڑھا ۔ابھی محمد اسد کی شاہراہ مکہ دوبارہ پڑھ رہا ہوں، اسلام دو راہے پر اس سے قبل پڑھ چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ اصول الفقہ پر نئی سامنے آنے والی کچھ کتابوں کو پڑھا۔ اس کے علاوہ بہت کچھ وہ جو ابھی مستحضر نہیں۔  ماضی میں سید ابو الحسن ندوی کی کافی کتابیں پڑھیں ۔ مضامین اور فیس بک کی تحریرات اس کے علاوہ ہیں ۔

اگر تنقید یہ مفروضہ طے کرکے ہے کہ ان لوگوں نے نہ کچھ پڑھ رکھا ہے اور نہ ان کو کچھ پتہ ہے تو اس سے باہر آجائیے ۔ مدرسہ ڈسکورسز خالصتا پڑھنے والے لوگوں کا گروپ ہے۔  سبھی ایک سے بڑھ کر ایک مطالعہ کرنے والی اور پڑھنے لکھنے والی شخصیات ہیں اور ایسے لوگوں کو ہی اس میں لیا جاتا ہے۔  پھر بھی اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دور میں اسلامی فکر کی جو کڑیاں آپ کو معلوم ہیں، وہ کسی کو معلوم نہیں ہیں تو پھر یہ وحی ہی ہوسکتی ہے جو صرف آپ پر اترتی ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی وسعت ظرفی تو یہ ہے کہ اس میں تمام قسم کی فکریں سامنے لائی جاتی ہیں اور ہم بھی جدیدیت کی طرف مائل یا مخالف، ہر ایک کو کھلے دل سے پڑھتے ہیں ۔ بات علمی موضوعات  کی بجائے بس طعن وتشنیع میں ہی کرنی ہے کہ ان لوگوں کو کچھ پتہ نہیں ، یا مالی مفادات کے چکر میں اس طرف  راغب ہیں تو حمایت یا مخالفت کا مورچہ کھولنے والے لوگ ہم نہیں ۔ ہاں، ہم آپ کو بھی پڑھیں گے، پڑھنے کے بعد اگر آپ کی بات ہمیں کمزور لگے تو ہمیں جاہل کہنے کی بجائے اتنا حق ضرور دیں کہ ہم اس کو نہ مانیں اور جس چیز پر شرح صدر ہو، اس کو مانیں۔ باقی اہل مدارس کو آپ جاہل کہیں گے تو وہ آپ کو جاہل سمجھتے رہیں گے۔ بات مکالمے اور دلیل سے نتیجہ خیز ہوگی، جہالت کے لیبل لگانے سے نہیں۔

مولانا عاطف ہاشمی

مدرسہ ڈسکورسز سے متعلق مختلف حلقوں کی جانب سے ملی جلی آرا سامنے آتی رہتی ہیں۔ دسمبر کے آخری  ہفتے میں جب اس کورس کا تیسرا بیچ ونٹر انٹنسو کے لیے قطر آیا تو یہ سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا۔ قطر میں موجود ہونے کی وجہ سے مجھے بھی کورس کے شرکاء سے ملنے اور خود ان کے تاثرات جاننے کا موقع ملا، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں بھی اس بابت اپنی رائے کا اظہار کروں۔

میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ یہ کورس انتہائی اہمیت کا حامل اور وقت کی ضرورت ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بہت پہلے ہی ہمارے اکابرین جدید چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنے فضلا کو تیار کرتے اور اگر وہ خود اس انداز میں آگے نہیں بڑھ سکتے تھے تو کسی ایسے فاضل سے اس بابت مدد لیتے جو اپنی مدد آپ کے تحت یہ صلاحیت حاصل کر چکے ہیں تاکہ وسیع پیمانے پر نوجوانوں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے، لیکن افسوس کہ ایک طرف خود اہل مدرسہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس طرف توجہ نہیں دے سکے تو دوسری طرف اپنی سرپرستی میں جدید و قدیم سے آراستہ کسی شاگرد سے بھی استفادے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ (اس سب پر مستزاد یہ کہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس جانب قدم رکھنے والوں کو گمراہ اور شر کا پروردہ قرار دیا گیا۔ فإلى الله المشتكى.)

ایسے میں اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب کو اس کام کے لیے چنا اور انہیں پاکستان سے مولانا عمار خان ناصر اور ہندوستان سے ڈاکٹر وارث مظہری صاحب جیسے مخلص اور درد دل رکھنے والے رفقاء کار عطا کیے جنہوں نے علماء کی جدید خطوط پر تربیت کا بیڑہ اٹھایا اور اس میں کافی حد تک کامیاب جارہے ہیں۔ لیکن تاحال اس کورس کے شرکا اور اس کے منتظمین کو اجنبیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جس کی راقم کی نظر میں تین وجوہات ہیں۔ جب تک ان تین خامیوں کو دور نہیں کر لیا جاتا یا یہ کہ دیکھنے والے انہیں خامیاں سمجھنا چھوڑ دیں، تب تک یہ منفی تاثر باقی رہے گا۔

سب سے پہلی اور بڑی خامی اس کورس کی یہ ہے کہ اس کے منتظم اعلی ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب ہیں جوکہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی (نوٹرے ڈیم) میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ اگر یہی ڈاکٹر صاحب انھی افکار و نظریات کے ساتھ کسی عرب ملک کی یونیورسٹی کے پروفیسر ہوتے تو مجدد دوران کہلاتے، اور علما ان کی پیشانی کو چومتے لیکن ان کی سب سے بڑی خامی امریکہ میں مقیم ہونا ہے، چاہے پس منظر میں دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء ہی کیوں نہ ہوں۔

پاکستان کی حد تک دوسری خامی کی وجہ مولانا عمار خان ناصر صاحب ہیں جو اگرچہ سکہ بند دیوبندی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن بعض دیوبندی حلقوں کی طرف  سے " گمراہی" کا سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ وقت نے ایسی بہت سی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے اور دوسری طرف عمار خان صاحب سے متعلق غلط فہمیاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ دور ہو رہی ہیں اور بڑی تیزی سے فضلاء ان کے قریب ہو رہے ہیں۔

 تیسری خامی مدرسہ ڈسکورسز کے پہلے بیچ (batch) کا انتخاب تھا۔ میں تینوں بیچوں کے بہت سے شرکا سے واقف ہوں اور ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ انتہائی ذی استعداد و باصلاحیت ہیں، لیکن پہلے بیج کے بعض شرکا جدیدیت کے اسباق کو اچھی طرح ہضم نہیں کر سکے اور قدیم و جدید کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کر دیا، اس طرح وہ روایت سے باغی بن کر سامنے آئے اور شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں کے شکوک وشبہات کو تقویت دیتے رہے، اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

میں مدرسہ ڈسکورسز سے متعلق منفی تاثر قائم کرنے والے مذکورہ تینوں امور کے بارے میں پوری دیانت داری کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ یہ تینوں ہی محض اتفاقات ہیں نہ کہ کوئی سوچی سمجھی سکیم۔ ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب اگر امریکہ کی بجائے کسی مشرقی ملک میں ہوتے تو شاید انہیں ان چیلنجز کا ادراک ہی نہ ہوتا جو وہ اس دنیا میں رہ کر دیکھ رہے ہیں۔ اچھا اور مخلص مسلمان ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ پاکستانی بھی ہو، انڈیا، امریکہ یا کسی بھی غیر اسلامی ملک میں پاکستانیوں جیسے یا ان سے بھی زیادہ مخلص مسلمان ہو سکتے ہیں۔ مولانا عمار خان ناصر صاحب کی طرح ان سے پہلے بھی بہت سے اہل علم لگی بندھی سوچ سے ہٹ کر سوچتے رہے ہیں، لیکن اپنی متفردانہ رائے کا کھل کر اظہار نہیں کر سکے، لیکن عمار صاحب یہ "غلطی" کر گئے جو بہت ہی خیر کا سبب بن رہی ہے اور مزید بنے گی ان شاءاللہ۔

رہی بات پہلے بیچ کے چند فضلاء کی تو اس کا ادراک مدرسہ ڈسکورسز کی انتظامیہ کو بھی ہے اور حالیہ ورکشاپ کی آخری نشست میں برادرم منصور احمد صاحب نے بھی سب کے سامنے اس کا اظہار کیا اور امیج بلڈنگ سے متعلق ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب کو متوجہ کیا۔ انہوں نے مسند احمد کی ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے علم کی بنیاد پر ایک شخص کے جہنمی ہونے کا فیصلہ کر دیتے ہیں، لیکن چونکہ اس کے حق میں لوگوں کی گواہی مثبت ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گواہی کو دیکھتے ہوئے اسے جنتی قرار دیتے ہیں۔ اس لیے اس حوالے سے بھی مدرسہ ڈسکورسز کی انتظامیہ کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ ان حضرات کی کوششوں کو بار آور بنائے اور امت کی کشتی کو بھنور سے نکالنے میں اسے ذریعے کے طور پر قبول فرمائے۔  آمین

مولانا  ابو اعتصام الحق بختیار

(حیدر آباد، انڈیا)

یہ دنیا تغیر پذیر ہے۔ نظریہ ارتقاء کو کوئی مانے یا نہ مانے؛ لیکن دنیا اپنے وجود کے ساتھ ہر آن ہر سو متغیر ہورہی ہے۔ یہاں ہر چیز میں واضح تبدیلی نظر آتی ہے، حتی کہ انسان کے سوچنے سمجھنے کے انداز اور طریقوں میں بھی تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہےاور ہم جانتے ہیں کہ اسلام دائمی اور ہمیشہ رہنے والا مذہب ہے۔ دنیا میں چاہے کیسی ہی تبدیلی واقع ہوجائے، لیکن اسلام ہر تبدیلی میں اپنے  پورے وجود اور نظام کے ساتھ قائم رہنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے؛ البتہ ضرورت ہوتی ہے ایسے دماغوں کی، ایسے افراد کی جو جدید دنیا کے مطابق اسلام کو سمجھنے ، سمجھانے اورقابل عمل بتانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔بدلے ہوئے ذہنوں کو، سوچنے کے نئے انداز کے حامل افراد کو اسلام کی خوبصورت تصویر پیش کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔ موجودہ چیلنجز اور اسلام پر ہو رہی جدید یلغار کو سمجھنے اور موجودہ زبان اور انداز میں اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ الاسلام يعلو ولا يعلی عليہ کی ہر زمانہ میں نمائندگی کر سکتے ہوں۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں، کچھ اسی طرح کی جدوجہد اور اسی خواب کو عملی تعبیر دینے کی ایک کوشش کا نام مدرسہ ڈسکورسزہے۔

انہی مقاصد کے حصول کے لیے ہم بھی مدرسہ ڈسکورسز سے مربوط ہوئے اور ستمبر2019 سے دسمبر 2019 تک مختلف موضوعات پر آن لائن کلاسز ميں شریک ہوکر مستفید ہوئے۔ ان کلاسز کے لیے اہم اور مفید مواد اور نصاب کا انتخاب کیا گیا تھا۔ عربی ، انگریزی اور اردو تینوں زبانوں میں علمی متون کا مطالعہ کرایا گیا، نیز یہ متون بڑے علماء، مفکرین ، دانشوران، سائنسدان اور علم کلام کے اساطین کی تھیں۔ علم کلام کے بیشتر متون بنیادی مآخذ  کی حیثیت سے تھے اور مجموعی طورپر پورے سمسٹر میں علم کلام کا رنگ غالب رہا؛ اگر چہ دیگر موضوعات پر بھی کافی مطالعہ اورمناقشہ ہوا ۔

اس کورس کی بہت سی خصوصیتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں مطالعہ کرنے کا انداز اور طریقہ بھی بتایا جاتا ہے جو کافی مفید ثابت ہوا۔ اس سے انکار نہیں کہ کسی کے پاس مطالعہ کا  اس سے بھی بہتر طریقہ ہو، اسی طرح اس کورس کی یہ بھی خوبصورتی ہے کہ یہاں استاذ خود کم گفتگو کرتے ہیں اورمشارکین کو تبادلہ خیال اور مطالعہ کی روشنی میں اپنی رائے رکھنے کا زیادہ موقع دیتے ہیں، نیز چند استثناءات کے سوا کبھی کسی کی رائے کی سختی کے ساتھ تردیدنہیں کی جاتی اور نہ ہی کسی کی بے جا تائید۔

سمسٹر مکمل ہونے کے بعد طے شدہ پروگرام کے تحت ونٹر انٹیسو (Winter Intensive)کا قطر میں ایک ہفتہ کا پروگرام تھا ۔ ۲۴  دسمبر کی صبح کو وہاں کے وقت کے حساب سے سوا نو بجے ہم قطر کے حمد انٹر نیشنل ائیر پورٹ پہنچے۔انتظامیہ کی جانب سے قطر میں شرکاءکے لیے تمام انتظامات شاندار رہے۔ ہوٹل ، ناشتہ ،کھانا ، ٹرانسپورٹ اور جائے محاضرات سب سکون بخش اور فرحت آمیز تھے۔  تمام نشستیں جامعہ حمد بن خلیفہ کے کلیۃ الدراسات الاسلامیۃ میں منعقد کی گئیں۔ جامعہ کا یہ حصہ اسلامی اور ماڈرن طرز تعمیرکا شاہکار ہے، بہت دیدہ زیب، پرکشش اور خوبصورت عمارت ہے۔ سمندر کی سطح پر، آدھی پانی میں اور آدھی اس کے اوپر،آسمان کی طرف اپنی دم کو تانے، تیرتی ہوئی شارک مچھلی کے نقشہ پر کلیہ کی عمارت تعمیر کی گئی ہے  جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں ایک وسیع وعریض مسجد بھی ہے ۔ ہماری نماز ظہر زیادہ تر وہیں ہوتی تھی۔

اس سات روزہ پروگرام میں مختلف موضوعات پر محاضرے پیش کیے گئے۔ ڈاکٹر شیر علی ترین ، ڈاکٹر عمار ناصر ، ڈاکٹر وارث مظہری ، ڈاکٹر ابراہیم موسی ،ڈاکٹر ادریس آزاد اور ڈاکٹر محی الدین علی قرہ داغی وغیرہ نے قیمتی محاضرات پیش فرمائے۔ اول الذکر تینوں حضرات کورس کے باضابطہ لیکچرارہیں اور تینوں ہی غضب کی صلاحیتوں کے مالک ہیں ، ڈاکٹر وارث مظہری کا مطالعہ وسیع ، فکر بلند اور نظر عمیق ہے ۔ جب وہ کسی نص پر کلام کرتے ہیں تو اس کے تمام گوشے چوپٹ کھل جاتے ہیں، اس نص کا فہم مشارکین کے لیے بالکل آسان ہوجاتا ہےاور ڈاکٹر عمار ناصر جب علم و تحقیق کی گرہیں کھولتے ہیں تو ان کے اندر سمندر جیسا ٹھہراؤ دکھائی دیتا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دور کسی سناٹے میں کوئی موسیقی کے تاروں کو چھیڑ رہا ہو ، نیز وہ کسی بھی نص کی تنقیح اس طرح کرتے ہیں کہ مشارکین کو لگتا ہے کہ اس متن کے تمام سرکش گھوڑوں کی لگام ہمارے ہاتھوں میں آچکی ہے۔

  ڈاکٹر شیر علی کو اگر نابغہ روزگار اور عبقری کہا جائے تو شایدمبالغہ نہ ہو۔ موصوف بلا کی ذہانت اور حیرت انگیز صلاحیت کے مالک ہیں، نصوص کے مطالعہ کا ان کا انداز انوکھا ہوتا ہے، جب یہ نصوص میں غوطہ زن ہوکر نتائج کا استخراج کرتے ہیں تواہل فضل وکمال مشارکین وسامعین کا مجمع انگشت بدنداں رہ جاتاہے۔ ان کوکئی زبانوں پر عبور حاصل ہے؛ البتہ ان کی اردو میں تقریباً 60 فی صد عربی الفاظ وترکیبات کی آمیزش ہوتی ہےاوریہ بھی ان کی شخصیت کی ایک خوبصورتی ہے ۔

ڈاکٹر ابراہیم موسی اس علمی قافلہ کے روح رواں ہیں۔  سادگی، خورد نوازی، حوصلہ افزائی ان کی شخصیت کے نمایاں عناصر ہیں، ان کی باتوں کے دریچوں سے ان کے قلبی احساسات، تڑپ اور بے قراری کو بخوبی دیکھا جا سکتاہے۔ عربی، انگریزی اور اردو تینوں زبانوں میں بولنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

قطر کے پروگرام میں جتنے محاضرات پیش کیے گئے سب اپنی افادیت میں ممتاز تھے۔ سائنس ، علم کلام، تہذیب، فقہ اور علمیاتی معاییر جیسے اہم موضوعات پر محاضرات مشتمل تھے۔ ڈاکٹر شیر علی تارین نے بھی کئی محاضرے دیے، ان کے محاضرات بڑے دل چسپ اور انوکھے انداز کے ہوتے تھے ۔ جو نصوص ہم نے پڑھ رکھی ہیں، انہی نصوص کو جب وہ پیش کرتے ہیں، تو ان میں ایسے ایسے نکتے پیش کرتے ہیں ، جو سامعین کے لیے بالکل نئے ہوتے ہیں اور ان کا انداز بھی اچھوتا ہوتاہے۔ حضرت نانوتوی کے مباحثہ شاہ جہان پور کی نص پیش کی گئی اور اس میں اس پہلو پر روشنی ڈالی گئی کہ وقت اور ماحول کا کتنا اثر حضرت نانوتوی کے کلام اور ان کی تعبیرات پر تھا، کیوں کہ امام نانوتوی نے اپنے اس مناظرہ میں بعض ایسی تعبیرات کا استعمال کیا ہے، جس سے ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارگی کو فروغ ہوتا ہے اور اس طرح کی تعبیرات دوسرے مناظروں میں ہمیں نہیں ملتیں۔ نیز حضرت نانوتوی کے مناظرے میں اور دیگر علماء کے مناظروں میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے ۔ نیزاس محاضرہ میں مشارکین کو چند سوالات دیے گئے تاکہ وہ اپنے مطالعہ کی روشنی میں اس کے جوابات دیں۔ مشارکین نے اس میں خوب حصہ لیا اور امام نانوتوی اور دیگر علماء کے مناظروں کے درمیان فرق کو واضح کیا۔

مفتی امانت علی قاسمی نے مناقشہ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حضرت نانوتوی کا یہ مناظرہ اگر چہ ہندو اور عیسائی دونوں سے تھا؛ لیکن اس مناظرہ میں ہندو اور مسلم دونوں ہی مناظرکرنے والوں کے پیش نظر عیسائی مناظر کو ہزیمت دینی تھی؛ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت نانوتوی کو اس مناظرہ میں بڑی کامیابی ملی اور عیسائیت اور ہندوازم دونوں کے مناظر بے بس نظر آئے، تو اس کامیابی پر صرف مسلمان ہی نہیں؛ بلکہ ہندوؤں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی؛ کیوں کہ عیسائی پادری ہندوستان کے طول وعرض میں اسلام کے ساتھ ساتھ ہندوازم کوبھی چیلنچ کر رہے تھے، وہ پورے ملک کوعیسائیت کے رنگ میں رنگنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔

ڈاکٹر سہیرا صدیقی  نے ایک محاضرہ علمیات (Epistemology)کے عنوان پر دیا ، جس میں بنیادی طور پر تین اہم عناصر پر بحث کی گئی : (1) معرفت کیا ہے؟ (2) ذرائع کیا ہیں؟ (3) معاییر کیا ہیں ؟نیز اس محاضرہ میں اس پر بھی اہم گفتگو کی گئی کہ مغرب میں علمیاتی معاییر میں کس قسم کی تبدیلی واقع ہوئی ہے؟

اسی طرح ایک بہت ہی پرمغز، مفید اور اطمینان بخش محاضرہ ڈاکٹر ادریس آزاد نےنظریہ ارتقاء کے شواہد (Evidences of Evolutionary Theory)کے عنوان سے پیش کیا۔ ڈاکٹر صاحب کا انداز تفہیم سادہ اور آسان تھا ، ان کی اس بحث سے سائنس کی بہت سی باتیں معلوم ہوئیں، نیز سائنس کے تئیں اشتیاق میں اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے اچھے اندازمیں دنیا کی مخلوق میں ارتقائی مراحل کو سمجھانے  کی کوشش کی ، بڑی اچھی مثالیں اور مضبوط شواہد پیش کیے۔ اسی سے ملتا جلتا ایک آن لائن محاضرہ ڈاکٹر رانا دجانی صاحبہ نے پیش کیا ، ان  کے محاضرہ کا عنوان تھا : سائنس، ارتقاء اور اسلام (Science, Evolution and Islam)انہوں نے بھی اس عنوان پر انگریزی میں اچھا محاضرہ پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نظریہ ارتقاء اسلام سے متصادم نہیں ہےاور بڑے پرجوش انداز میں قرآن کریم کی آیتوں کے حوالوں سے انہوں نے اپنا علمی محاضرہ پیش کیا۔  سوالات کے وقفہ میں مشارکین نے اپنے بہت سے خدشات، شبہات اور اعتراضات وسوالات کیے، میں نے بھی درج ذیل سوال کیا:

(1) ارتقاء کی وجہ سے بندر انسان بن گیا، تو سوال یہ ہے کہ بندروں کا ارتقائی مرحلہ انسان پر آکر کیوں رک گیا؟ اب ارتقاء کی وجہ سے بندرسے بننے والا انسان کوئی دوسری مخلوق کیوں نہیں بن رہاہے؟

(2)  ہمارے زمانہ کے بندروں میں یا ہم سے قریب تر ماضی کے بندروں میں اب یہ ارتقاء کیوں نہیں ہورہا ہے، یعنی   اب کے زمانہ کے بندر، انسان کیوں نہیں بن رہے ؟ کیا سابق میں جو بندر انسان بنے تھے، وہ مخصوص اوصاف کے حامل تھے، جو اوصاف ہمارے زمانہ کے بندروں میں نہیں پائے جاتے؟

ڈاکٹر صاحبہ نے اس کا کیا جواب دیا تھا، اب ذہن میں نہیں؛ لیکن ڈاکٹر ادریس صاحب نے ان دونوں سوالوں کا مختصر سا اور مشترک یہ جواب دیا تھا کہ ارتقائی مرحلہ کوئی ایک دن یا ایک سال میں طے نہیں ہوتا کہ ایک نسل اس کا ادراک کرسکے؛ بلکہ یہ ہزارہا ہزار سال کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔

اس محاضرہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ انسانی زندگی کی پیش قدمی کے لیے ارتقائی نظریہ بہت ضروری ہے، محاضرہ کے بعد ہم نے ڈاکٹر ادریس صاحب سے شخصی ملاقات میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم بندر اور انسان کے قصہ کے علاوہ دیگر تمام چیزوں میں نظریہ ارتقاء کو مانیں، کیا اس نظریہ کو ماننےکے لیے ضروری ہے کہ ہم بندر اور انسان کی بنائی ہوئی کہانی کو بھی مانیں، جبکہ یہ اسلامی تصور سے صاف متصادم ہے؟ ڈاکٹر موصوف نے صراحت کے ساتھ کہا کہ بندر اور انسان کی کہانی کو مانے بغیر بھی نظریہ ارتقاء کو مانا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ان نشستوں میں ایک بیش قیمت محاضرہ تنظم الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر علی محی الدین القرہ داغی کا تھا ۔ محاضرہ کا عنوان تھا "الفقہ الاسلامی بين النصوص والتراث والمعاصرۃ وفقا لفقہ الميزان"۔ ڈاکٹر صاحب کا محاضرہ بہت شاندار تھا، قرآن کریم کی آیات کی تفسیر ، لطائف، دقائق اور نکات کا استخراج حیرت انگیز تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے محاضرہ میں ایک نئی بات یہ ملی کہ انہوں نے تراث اور نص کے درمیان فرق قائم کیا، ان کے نزدیک تراث میں نصوص شرعیہ اور دینیہ داخل نہیں ہے، تراث ان سے الگ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نصوص شرعیہ یعنی تفسیر اور حدیث وغیرہ سے متعلق اہل علم کے جتنے اجتہادات اور آراء ہیں، ان پر تراث کا اطلاق ہوتا ہے، بلکہ تراث کا امتداد حضرت آدم سے لے کر اب تک کے علماء اور فقہاء تک ہے، تراث صرف امت محمدیہ کے اجتہادات میں منحصر نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ بالا موضوع پر نہایت ہی وقیع محاضرہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اچھے محاضرے پیش کیے گئے، جن کی فہرست اور ان پر تبصرہ طویل الذیل ہے۔

مدرسہ ڈسکورسز کی انتظامیہ نے جہاں ہماری علمی سیرابی کا خوبصورت نظم کیا تھا، وہیں ذہنی تفریح ، تاریخی مقامات کی سیر اور قطر کے دل کش اور حسین وجمیل مناظر سے ہمیں محروم نہیں رکھا گیا۔ ہمارا پورا قافلہ قطر کے متعدد عجائب گھروں  اور ساحل سمندر کے حسین نظاروں سے خوب محظوظ ہوا۔ سوق واقف کا تاریخی بازار بھی نظر نواز ہوا، جو صرف قطر کا بازار نہیں تھا، بلکہ وہاں قطر کی تقریباً تہذیب کا جامع تھا۔ سوق واقف میں ہی واقع ہوٹل دی ویلیج (The Village) میں عشائیہ تھا، جہاں ہمارے سامنے ایرانی اور انڈین کھانے پروسے گئے، گویا کہ یہ کھانا بزبان حال پکار رہا تھا "بضاعتكم ردت إليكم" تاہم کھانا بڑا مزیدار تھا، ایرانی کبابوں کا ذائقہ تو ہنوز زبان فراموش نہیں کرسکی۔

پیر کے دن دوپہر سے رات ساڑھے نو بجے تک اختتامی تاثراتی نشست تھی۔ درمیان میں لمبا وقفہ بھی تھا۔ یہ نشست پورے پروگرام کا خلاصہ تھی، اس میں مشارکین نے اپنے قیمتی تاثرات کا برملا اظہار کیا۔ بیشتر مشارکین کے تاثرات تین مرکزی عناصر میں محدود تھے: (1) مدرسہ ڈسکورسز پر ہونے والے اعتراضات کا جواب (2) اس کی افادیت۔ (3) اپنے تاثرات مشورے اور تجاویز۔ مجھے بھی تاثرات پیش کرنے کا موقع دیا گیا، میں نے اس کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عرض کیا کہ فی زمانہ دنیوی تعلیم اور دینی تعلیم کے درمیان ایک خلیج قائم کردی گئی ہے، عام طور پر اِدھر کے حضرات اُدھر سے بے بہرہ رہتے ہیں اور اُدھر کے لوگ اِدھر سے۔ مدرسہ ڈسکورسز نے اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی ہے۔ یہ آخری نشست تھی، اس کے بعد سب کوجدا ہونا تھا؛ اس لیے بڑی جذباتی رہی؛ بالخصوص ڈاکٹر عمار ناصر اور ڈاکٹر ابراہیم موسی وغیرہ کی آنکھیں چھلک آئیں اور اس کے بعد چند منٹوں تک پوری مجلس میں سناٹا چھایا رہا۔

ان نشستوں اور کورس کے تعلق سے درج ذیل چند تاثرات اور مشورے پیش خدمت ہیں:

  1. مدرسہ ڈسکورسز کے روح رواں ڈاکٹر موسی ابراہیم کا نوجوان فضلاء اور حالات حاضرہ کے تئیں جذبہ قابل تقلید ہے۔
  2. مدرسہ ڈسکورسز کے تمام اساتذہ مسلکی، مذہبی غیر جانب داری اور اچھی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
  3. مدرسہ ڈسکورسزکا منتخب کردہ نصاب بہت مفید ہے۔
  4. ہمیں چار مہینے کے سمسٹر سے جتنا فائدہ ہوا، اس سے کہیں زیادہ آٹھ دن کے قطر کے پروگرام سے محسوس ہوا۔
  5. ڈاکٹر جوشوا لوپو  کی خدمات اور ان کے اخلاق متاثر کن ہیں۔
  6. مطالعے کے لیے عربی یا انگریزی میں جونص دی جاتی ہے، اگر ان نصوص کے اصطلاحی اورمشکل الفاظ کا حل بھی ساتھ ہی میں فراہم کردیا جائے تو ہماری توانائی نص کے اصل مغز کوسمجھنے پر زیادہ خرچ ہوسکتی ہے؛ ورنہ ہم الفاظ کے پیچوں میں ہی الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
  7.  کسی بھی مسلک کے بڑے عالم اور رہنما کا اگر ذکر آئے تو تمام مشارکین کو حتمی طور پر یہ التزام کرنا چاہیے کہ ان کے حوالے سے گفتگو کرتے وقت ادب کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں، بصورت دیگر مشارکین کے درمیان ہی بدمزگی پیدا ہوجانے کا قوی اندیشہ رہتا ہے۔
  8. محاضرہ پیش کرنے والی مسلم خواتین میں اگر ان کی اسلامی وضع قطع اور ہیئت کذائیہ کو ترجیحات میں رکھا جائے تو مناسب ہوگا۔
  9. ونٹر اینڈ سمر انٹینسو میں صرف اساتذہ کے محاضرات کے بجائے مشارکین کو پچھلی نصوص کی روشنی میں کسی موضوع پر مقالہ لکھنے اور انٹینسو میں پیش کرنے کا مکلف کیا جائے۔
  10. پختہ عمر کے ماہرین فن اور صلاحیتوں کے حامل افراد کی کثرت کے بجائے شرکاء  کے انتخاب میں یونیورسٹی اور مدارس کے جدید فضلاء کو ترجیح دے کر ان کو تیار کرنا چاہیے۔

مولانا جاوید اقبال 

(نئی دہلی، انڈیا)

بحمد اللہ مدرسہ ڈسکورسز کا پہلا سمسٹر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ چند ماہ بیشتر جب  ایک باصلاحیت ، تحقیقی مزاج اور مثبت فکر کے حامل کرم فرما نے کورس کا تعارف کراتے ہوئے شرکت کی دعوت دی تو ناچیز نے انٹرویو میں شریک ہونے کا ارادہ کرلیا۔ جو اجمالی تعارف انھوں نے کرایا وہ اس مفید علمی حلقہ سے منسلک ہونے پر ابھارنے کے لیے کافی تھا۔ پھر انھی دنوں فیس بک اور واٹس ایپ پر کورس کے تعلق سے کئی تحریریں گردش کرنے لگیں جن میں حمایت سے زیادہ مخالفت کے سر نمایاں تھے۔ صدائے احتجاج بلند کرنے والوں میں زیادہ تر لوگ ایسے تھے جن کی "دور اندیشی" اور "احتیاط پسندی" کو بآسانی 'قانونِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پر اڑنا" کے زمرے میں ڈالا جا سکتا تھا۔ تاہم ان میں کئی معتبر اشخاص بھی تھے جن کے خلوص پر شک نہیں کیا جاسکتا، لیکن ان کے دلائل غیر منطقی بزرگانہ شفقت و خیر خواہی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے تھے۔ حد درجہ خلوص بھی بسا اوقات بے جا اندیشوں کو جنم دیتا ہے۔ لہذا ایسے تمام مخلصین معذور تھے۔ کسی بھی ڈسکورس میں جبر و اکراہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور کورس کے بعض ذمہ داران کی کسی رائے سے علمی اختلاف کی بنا پر اپنے فضلاء کو کورس میں شرکت سے بچنے کی تلقین کرنا یا ان کے گمراہ ہوجانے کا رونا رونا "اپنے ہونہار" علمی فرزندوں کے تئیں صریح بدگمانی اور مدرسوں کے نظامِ تعلیم و تربیت کی افادیت پر ہی سوالیہ نشان لگانے کے مترادف ہے۔ ویسے بھی جن فضلاء کو جدید مسائل اور مختلف افکار و نظریات کے مطالعہ کا شوق ہوتا ہے، ان کے لیے دنیا بہت وسیع ہوچکی ہے۔

مختصر یہ کہ کورس یا اس کے ذمہ داران کی نیک نیتی کے تعلق سے ناچیز کو کبھی کبھی کوئی بدگمانی نہیں رہی۔ جو چیز میرے لیے زیادہ باعثِ مسرت و انبساط ہے، وہ ہے کورس کی افادیت جس کا صحیح اندازہ باقاعدہ اس کا حصہ بننے اور دروس میں شریک  ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔ ساحل کے تماشائی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ قیاس ہر مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ کسی بھی موضوع پر مختلف قدیم و جدید تحریروں کا تقابلی مطالعہ اور پھر خالص دوستانہ ماحول میں ہر پہلو ہر سیر حاصل بحث، مشارکین کی آراء، اعتراضات، جوابات اور جواب الجوابات پر مشتمل ایک ایسا پر لطف علمی ماحول جس سے بلاشبہ فکر کے کئی زاویے وا اور کئی دریچے روشن ہوتے ہیں۔  تحریروں کے انتخاب میں جس بالغ نظری کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وہ بذاتِ خود حیرت انگیز ہے۔

 یہاں کورس میں شامل مضامین کا جائزہ لینا میرا مقصد نہیں ہے اور نہ ہی ونٹر انٹیسو کے محاضرات پر تبصرہ۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے اب تک کی سرگرمیوں پر اپنے دلی تاثرات پیش کرنا ہے۔ کورس کے آغاز سے قطر کے سفر تک چونکہ صرف آنلائن کلاسز ہی ہوئیں، اس لیے باجود دوستانہ ماحول کے ایک گونہ اجنبیت تھی۔ لیکن اس سفر کے دوران جہاں ذمہ داران اور دیگر مہمان علمی شخصیتوں سے براہِ راست استفادہ کا زریں موقع نصیب ہوا، وہیں اس حقیقت کا بھی مشاہدہ سب نے  کیا کہ زاہدِ تنگ نظر جنھیں کافر سمجھتا ہے، وہ ولی ہے۔ فضلاء مدارس کے لیے  یہ خلوص، یہ کڑھن، اور ایسی فکر مندی صاحبانِ جبہ و دستار میں بھی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ مطالعہ میں تنوع آپ کو مختلف فکری جہات سے آشنا کراتا ہے۔ شوقیہ مطالعہ کی بھی اپنی افادیت ہے لیکن کسی خاص موضوع پر مختلف الفکر مصنفین کی تحریروں کا بنظرغائر مطالعہ اور اہل علم اور متجسس اذہان کی صحبت میں ان پر مناقشہ اس کی افادیت کو دو چند کردیتا ہے اور یہی اس کورس کا سب سے نمایاں اور مفید پہلو ہے۔ موضوعات بذاتِ خود اس قدر حساس اور اہم ہوتے ہیں کہ ان پر غور و خوض اور عصری اسلوب میں ان کی پیش کش وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ جدید علم الکلام یا فقہ کی تشکیلِ نو کا مطلب روایتی علم الکلام یا روایتی فقہ سے دستبرداری ہرگز نہیں ہے بلکہ تمام شرعی و اصولی نزاکتوں کا خیال رکھتے ہوئے اسے عصری اسلوب میں پیش کرنا ہے۔

فقہ جدید پر کافی کام ہوچکا ہے اور ہورہا ہے، لیکن علم الکلام کی تشکیلِ نو ہنوز توجہ طلب ہے۔ دونوں ہی کام عصری مزاج و اسلوب اور علم جدید کی بعض  شاخوں سے بقدرِ ضرورت آگہی و استفادہ کے بغیر ناممکن ہیں۔ وارثینِ انبیاء سے ہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے۔ کسی بھی ایسی کوشش میں فکری و علمی اختلاف فطری ہے اور دلیل کا جواب صرف دلیل ہی ہوسکتی ہے، فرار یا محض مخالفت نہیں۔

  الحمد للہ، اب تک کا سفر بہت ہی بصیرت افزوز، معلومات افزا اور لطف انگیز رہا ہے۔ امید ہے آگے کے مراحل مزید دلچسپ اور علمی و فکری لحاظ سے مفید تر ہوں گے۔

مولانا سید عبد الرشید

(کلکتہ، انڈیا)

مدرسہ ڈسکورسز پروگرام میری دانست میں ایک اہم پروگرام ہے، فارغین مدارس اور اسلامیات سے وابستہ افراد کے لئے یہ پروگرام کئی اعتبار سے مفید ہے، مثلا:

  • اس کورس میں  عصر حاضر کے ان مسائل پر گفتگو ہوتی ہے جنھوں نے جدیدیت کے نتیجہ میں تیار ہونے والی عقل کو متاثر کیا ہے۔ ہم طالب علموں کو یہ کمی محسوس ہوتی ہے کہ جدید سوالات کا جائزہ لینے کے لیے ہم کوئی موقع نہیں نکال پائے، اگر کوئی پلیٹ فارم ایسا مہیا ہوتا جہاں ان مسائل کا براہ راست مطالعہ کرنے اور ان پر نقد وتبصرہ کا موقع ملتا تو بہتر ہوتا۔ مدرسہ ڈسکورسز ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو اسلام اور سائنس، اسلام اور جدیدیت، اسلام اور تکثیری سماج، اسلام اور سیکولرزم، اسلام اور جمہوریت وغیرہ مسائل پر علمی انداز میں سوال اٹھاتا ہے اور گفتگو کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
  • مدرسہ ڈسکورسزکا ایک مقصد اسلامی فلسفہ اور علم کلام سے واقف کرانا بھی ہے جس کی طرف بر صغیر کے مدارس اور یونیورسٹیز دونوں جگہ بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ معلمین اسلامی تراث سے منتخب کرکے جدید موضوعات سے میل رکھنے والی تحریریں سامنے لاتے ہیں اور ان کا تجزیہ کراتے ہیں۔  جن  علماء ومحققین کی تحریریں بنیادی نصاب کے طور پر شامل کی گئی ہیں، ان میں امام ابو الحسن اشعری، امام غزالی، ابن حزم، امام رازی، امام ابن تیمیہ، ابن خلدون، ابو الحسن عامری،  فارابی، شاہ ولی اللہ اور مولانا قاسم نانوتوی  شامل ہیں۔
  • استعماری دور سے پہلے لکھی جانے والی تحریروں میں مابعد استعماریت  کی تحریروں سے نمایاں فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کلچر سے کس طرح تعامل کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مقامی عرف وعادت اور رواجات کو بالکل ختم نہیں کرتا، بلکہ اس کے ان عناصر کو علیحدہ کرتا ہے، جو مضر اور فاسد ہوں، یا ان میں شرک کی آمیزش ہو۔ جب کہ استعماریت کے بعد والی تحریروں میں ہمیں اسلام اور مقامی کلچر ہمیں ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ متقدمین کی تحریروں کو پڑھنے سے فکر میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔
  • اس کورس کے ذریعے سے  مغربی مفکرین کی تحریروں کو براہ راست پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم جیسے فارغین مدارس کے لیے جو عربی یا اردو کے ذریعہ بالواسطہ طور پر مغربی مفکرین  کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے۔
  • اس کورس میں مغربی طریقہ فکر کی تفہیم ہوتی ہے، ان کے تحقیقی منہج سے واقفیت ہوتی ہے۔ مغربی منہج تحقیق کے مثبت اور منفی پہلووں کو زیادہ پیچیدگی اور گہرائی سے سمجھاجا جاتا ہے۔
  • شرکاء  کو قدیم یورپی فلسفہ کی تاریخ اور جدید سائنس سے واقف کرانے کے لیے چند کلاسوں کا نظم کیا گیا ہے۔ انٹنسیو میں بھی فلسفہ اور سائنس کے موضوع پر ماہرین کے دو  محاضرات ہوئے جو بہت مفید معلوم ہوئے۔
  • محسوس ہوا کہ مدرسہ ڈسکورسز کے منتظمین اپنے طلبہ کے اندر چار عناصر کو دیکھنا چاہتے ہیں، ایک اتنی عربی استعداد، جس کے ذریعہ اسلامی تراث کا صحیح فہم ممکن ہو، دوسرے اپنے اختصاص کے دائرے میں اسلامی تراث سے بہتر واقفیت، تیسرے انگریزی زبان پر عبور، چوتھے اسلام کے بارے میں تیار شدہ جدید لٹریچر کا مطالعہ۔ مدرسہ ڈسکورسز کے منتظمین ابتدائی دوچیزوں کو سامنے رکھ کر طلبہ کو منتخب کرتے ہیں اور پھر ان کو بقیہ دو چیزوں سے روشناس کراتے ہیں۔
  • اس کورس میں چند ایسے انگریزی داں افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو غیر عربی داں  یا غیر اردو داں ہیں، اس کی وجہ ان کا اسلامیات کا پس منظر ہے۔ ان کو عربی سے واقف کرانے کے لیے کلاس بھی دی جارہی ہے۔ نیز عربی تحریروں کے انگریزی خلاصے بھی دیے جاتے ہیں تاکہ وہ مفہوم کو سمجھ کر مباحثہ میں شریک ہوسکیں۔
  • اس کورس میں خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے، لیکن کورس کے منتظمین کو مذکورہ اوصاف رکھنے والی مدارس سے فارغ شدہ خواتین کو تلاش کرنے میں دشواریاں پیش آئی ہیں جس کی وجہ سے خواتین کی حصہ داری اس میں کم ہے۔
  • اس کورس کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس کورس کے منتظمین مدرسہ ایجوکیشن سسٹم کو ایک نعمت تصور کرتے ہیں، اس کی افادیت کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر میں ڈاکٹر عمار ناصر کا وہ جملہ نقل کروں گا جو انہوں نے قطر انٹینسیو کی الوداعی نشست میں کہا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’مدرسہ اسلامی تہذہب کا واحد ادارہ ہے جو باقی بچ گیا ہے، اس کی حفاظت وترقی امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ادارے یوں ہی نہیں بنتے، کسی ادارہ کو شکل لینے اور اعتبار حاصل کرنے میں صدیوں لگ جاتے ہیں۔ یہ ادارہ آج بھی باقی ہے، اور اس کا اعتبار بھی باقی ہے‘‘۔ مدرسہ کے تئیں مدرسہ ڈسکورسزکے منتظمین کی سنجیدگی اس طرح بھی نظر آتی ہے  کہ انہوں نے مدرسہ کے نظام میں خلل ڈالنے یا ان کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مشورہ دینے کے بجائے فارغین کو مخاطب کیا، فارغین میں سے بھی جید استعداد رکھنے والے علماء اور تدریس سے وابستہ افراد کو منتخب کیا۔ ان سے گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ ان کا ماننا ہے کہ جدید علم کلام کی تشکیل کے لیے جن مہارتوں کی ضرورت ہے، وہ فارغین مدارس کے اندر زیادہ پائی جاتی ہیں۔
  • جدیدیت نے مذہب پر اعتراضات کرتے کرتے اس کو زندگی سے علیحدہ کردیا ہے، اور اجتماعی زندگی سے کھدیڑ کر انفرادی زندگی تک محدود کردیا ہے۔ اس صورتحال نے تمام مذاہب کے پیشواؤوں کو فکر مند بنادیا ہے، اور سب محسوس کرتے ہیں کہ مذہب کو زندگی میں اس کا بنیادی مقام واپس دلانا وقت ایک اہم تقاضا ہے جس کے لیے ہم سب کو مل کر فکر کرنی چاہیے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی کلاسوں میں شریک ہوکر مجھے اندازہ  ہوا کہ عملی زندگی میں مذہب کی بازیافت کے لیے جو مسائل درپیش ہیں، یہ پروگرام ان کو سمجھنے کی ایک  اہم کوشش ہے۔

مولانا نوشاد نوری قاسمی

(دیوبند، سہارنپور، انڈیا)

اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ علم ایک نہ بجھنے والی پیاس کا نام ہے، یہ وہ تشنگی ہے جو علم وفضل کے دریائے ناپیدا کنار کو پی جانے کے بعد بھی ، اسی شدت کے ساتھ باقی رہتی ہے، اپنی علمی حالت کی اصلاح اور مجہول کی تلاش ہی انسانی زندگی کا وہ جوہر ہے ، جو اسے دنیا کی تمام تر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے ۔ علم وفن کی چند کلیوں پر قناعت کرنا کسی بھی دور میں اہل کمال کا شیوہ نہیں رہا ہے، بلکہ  “علاج تنگی· داماں” کی نئی نئی شکلوں کی دریافت ہی اس بزم کے دیوانوں کا دائمی شعار رہا ہے۔

مدرسہ ڈسکورسز پر گفتگو کرتے وقت میرا ذہن اس طرف اس لیے جارہا ہے کہ “ مدرسہ ڈسکورسز” کے ساتھ، چند ایسے خیالات کچھ لوگوں نے وابستہ کردیے ہیں جنہیں “اندیشہ ہائے دور دراز” کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، اور ان خیالات کے لیے جو دلائل فراہم کیے گئے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر بدگمانیوں پر قائم ہیں۔ کبھی مدارس کے نصاب کی جامعیت کا حوالہ دیاگیا ، کبھی ان کی تاریخ اور ان کے افکارونظریات کے حوالہ سے گفتگو کی گئی ؛ لیکن ان سب کے پےچھے ایک قسم کی بدگمانی اور تعلیم واصلاح کے ہرنئے نظام کی مخالفت کا مزاج کارفرماتھا۔

مدرسہ ڈسکورسز کا میں نے پہلی بار نام اپنے رفیق محترم جناب مفتی محمد امانت علی قاسمی صاحب استاذ ومفتی دار العلوم وقف دیوبند سے سنا۔ اس کے کچھ ہی مہینوں بعد جناب ڈاکٹر مولانا وارث مظہری صاحب، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامیات جامعہ ہمدرد دہلی کی دیوبند آمد ہوئی۔ ان کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ہمدرد کے متعدد اساتذہ بھی تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر صاحب سے تفصیلی ملاقات ہوئی، اور مدرسہ ڈسکورسز کے اغراض ومقاصد اور اس کا حصہ بننے کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کے معیار کا علم ہوا۔ اس بات سے بھی کافی اطمینان ہوا کہ جناب ڈاکٹر صاحب ہی ہندوستان میں اس کے نگراں ہیں ؛ کیوں کہ ڈاکٹر صاحب اپنی تحقیقی ، تخلیقی اور علمی شناخت کی وجہ سے ہندوبیرون ہند کے علمی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔

میرے لیے خوشی کی بات تھی کہ مجھے اس کاروان علم کا حصہ بننے کا موقع ملااور اس تعلیمی نظام کے آغاز کے موقع پر  جامعہ ملیہ اسلامیہ دلی میں ایک پروگرام کا انعقاد کا عمل میں آیا، جس میں بذات خود جناب ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب نے بڑی وضاحت سے علم وتحقیق کی ضرورت اور فکری مسائل میں ہماری کم مائیگی کا احساس دلایا اور بڑے ہی درد مند لہجے میں یہ یقین دہانی کرائی کہ یہ تعلیمی نظام کوئی نئی چیز نہیں ہے ؛ بلکہ ہمارے اپنے اکابرین اور سلف کے تحقیقی مزاج کی تلاش اور ان کے منہج کے احیاءکی کوشش ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض ہندوستان کے فکر مند علماءانہےں ایسا کچھ کرنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے، اور ان کی کوشش سے یہ “علمی مشروع” نوٹریڈیم یونیورسٹی، امریکہ میں منظورہوسکا۔

اس موقع پر فقیہ العصر حضرت مولانا خالدسیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کا پرمغز خطاب ہوا جس میں علم وفن کے ہر مثبت اقدام کی تعریف کی گئی اور حالات کے تناظر میں بدلتے رجحانات اور ان کے لیے مناسب اور ضروری تیاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔اسی زمانے میں ایک تحریر سامنے آئی اور مدارس کے حلقے میں ایک سنسنی پھیل گئی۔ پھرکیاتھا، ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا گیااور اس میدان میں وہ لوگ بھی کود پڑے جن کو نہ اس نظام کا پتہ تھااور نہ ہی اس کے طریقہ تعلیم کا، نہ اس کے نصاب کا اور نہ ہی مثبت اندازمیں بحث ومباحثے کا۔ ہرچند کہ اس ہنگامے سے طائر شوق کی بلندپروازی میں اضافہ ہی ہوا اور جلد سے جلد اس علمی سفر کے آغاز کی آرزو مچلنے لگی،لیکن ادارہ کی مصلحت کی وجہ سے گومگوکی کیفیت پیدا ہوئی۔ اس موقع پر مدرسہ ڈسکورسز اور اس سے وابستہ تمام افراد کو جناب ڈاکٹر مولانامحمد شکیب قاسمی صاحب ڈائریکٹر حجة الاسلام اکیڈمی واستاذ دار العلوم وقف دیوبندکا مشکور ہونا چاہیے کہ انہوں نے مدرسہ ڈسکورسزکی مخالفت کے دھارے کو اپنی معروضی اورمنطقی تحریر سے موڑدیااور مخالفین کوہنگامہ اور سنسنی پھیلانے کی روش سے باز آنے کی نصیحت کی ۔

رفتہ رفتہ وہ دن بھی آیا جس کا انتظار رہتا تھا۔ ۴ ستمبر بروز بدھ ۲٠۱۹ء کی شام کو، آن لائن زوم ایپ کے ذریعہ اس درس کاآغاز ہوا جس میں ابن کثیر کی کتاب البدایة والنہایة کی آٹھویں جلد سے دلائل النبوةسے متعلق تقریبا بیس صفحات ریڈنگ کے لیے طے کیے گئے تھے۔ اسی طرح انگریزی میں بھی ایک ریڈنگ تھی جس کا موضوع مذہبی تعلیمات اور مغرب میں اسلامک اسٹڈیز کا منہج تھا۔ پہلے دونوں تحریر کا خلاصہ کیا گیا۔ انگریزی تحریر کا خلاصہ جناب ڈاکٹر شیر علی تارین صاحب نے اور اردو جناب مولانا عمار خان ناصر اورجناب ڈاکٹر وارث مظہری صاحبان نے کیا اور پھر اس موضوع کے تعلق سے بحث ومناقشہ کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس کورس میں سارے لوگ نہ صرف فضلاءمدارس ہیں، بلکہ فضلاءمدارس میں سے بھی ایسے ہیں جو کسی مدرسہ میں تدریس وغیرہ کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں ؛ اس لیے تخصصات کے تنوع نے بحث ومناقشہ کا جو دروازہ کھولا تو ایک علمی تفریح اورصحت مند افادہ واستفادہ کا بالکل ایک نیا سرا ہاتھ آیا۔ افکار ونظریات کے باب میں اتفاق اور اختلاف کی پوری گنجائش رکھی گئی اور کوئی بھی ایسا نظریہ شامل نصاب نہیں کیا گیا جو امت مسلمہ کے یہاں قطعی طور پر مسترد ہو۔ یہ علمی قافلہ ۴ ستمبر سے لے کر ۱۲نومبر تک مسلسل پا بہ رکاب رہا۔ پھر کچھ وقت کے لیے وقفہ استراحت آیا ، اورایک نصاب دیا گیا تاکہ  ۲۵ دسمبر سے ۳٠  دسمبر تک دوحہ قطر میں ہونے والی ورکشاپ میں تیاری کے ساتھ حاضری دی جائے۔اس نصاب میں بھی مسلم مفکرین کی اہم تحریریں شامل کی گئیں  جن میں علامہ ابن تیمیہ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم کا ایک حصہ اور امام نانوتوی ؒ کی کتاب مباحثہ شاہجہاں پور شامل تھی ۔

۲۳ دسمبر ۲٠۱۹ءکو یہ قافلہ قطر کی طرف روانہ ہوا۔ اس قافلہ میں تمام ہندوستانی احباب شامل تھے جن کی قیادت مولانا ڈاکٹر وارث مظہری صاحب فرمارہے تھے۔ ۲۴ تاریخ کومولانا عمار خان ناصرصاحب کی سربراہی میں پاکستانی احباب بھی شامل ہوئے اور اسی دن جناب پروفیسر ابراہیم موسی اورڈاکٹر شیر علی ترین سمیت دیگر امریکی احباب بھی شامل ہوگئے۔۲۵ دسمبر سے ورکشاپ شروع ہوا جو جامعہ حمد بن خلیفہ کے خوبصورت آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا اور جس خوب صورت انداز میں فکری موضوعات پر بحث و مباحثے کے مواقع فراہم کیے گئے ، ان کو قید تحریر میں لانا بھی مشکل ہے ۔مناسب ہوگاکہ موضوعات پر تھوڑی روشنی ڈالی جائے۔

واضح رہے کہ ان مضامین کا تعلق فکر وفن کے ان گوشوں سے ہے   جو کسی بھی حیثیت سے عصر حاضر میں بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ مطالعاتی مواد  کا ایک اجمالی خاکہ پیش ہے: (۱) الاعلام بمناقب الاسلام لابی الحسن العامری (۲) مباحثہ شاہ جہاں پور از حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ  (۳) المنتخب من الامتاع والموانسة لابی حیان التوحیدی (۴) المنتخب من مشکاة الانوار للامام محمد الغزالی (۵) المنتخب من اقتضاء الصراط المستقیم للعلامۃ ابن تیمیۃ۔

اس کے ساتھ اہم موضوعات پر چار محاضرات بھی ہوئے ۔ علامہ محی الدین قرہ داغی(قطر) نے ”الفقہ الاسلامی بین النصوص والتراث والمعاصرۃ وفقا لفقہ المیزان“ کے عنوان پر، ڈاکٹر ادریس آزاد (پاکستان) ڈاکٹر رنا دجانی(اردن)نے نے نظریہ ارتقاء پر اور   ڈاکٹر سہیرہ صدیقی (قطر)  نے اسلامی علمیات پر اپنے محاضرات پیش کیے۔

بلاشبہ یہ موضوعات جویائے علم و فن کے لیے  عقل ونظر کی تسکین کااہم ترین ذریعہ ثابت ہوئے۔ ہرموضوع پر ایک مختصر بیانیہ کے بعد بحث ومناقشہ کا دروازہ کھلتا۔ہر شخص کی چونکہ ان موضوعات پر مکمل تیاری ہوتی تھی، اس لیے مناقشہ کے لیے وقت کم ہورہا تھا۔ شرکاءکے اختصاصات کے تنوع اور نقطہ ہائے نظر کے اختلاف نے  ہرموضوع میں اتنے علمی ومعنوی اضافے کیے کہ محسوس ہوتا، معلومات کا کوئی چشمہ ہے جو پھوٹ پڑا ہے۔ متعلقہ موضوعات کے نئے نئے زاویے کھل کرسامنے آئے ۔ شرکاءکی مداخلات کے بعد ، جناب مولانا عمار خان ناصر، جناب ڈاکٹر وارث مظہری اور جناب ڈاکٹر شیر علی ترین صاحبان کے تحلیل وتجزیہ کا علمی وانوکھا اندازاور بات سے بات نکالنے کا انتہائی خوب صورت جوہر، تمام شرکاءکے دلوں پر ان حضرات کے علم وفضل کا ایک نقش قائم کرگیا۔

جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب کے بعض تنقیدی مضامین سے بہت سے لوگ نالاں ہیں۔ ہمیں کسی کے نظریات سے اتفاق اور اختلاف کا پورا حق ہے ، لیکن ضروری ہے کہ یہ اختلاف علمی دائرے اور صحیح علمی دلائل پر قائم ہوں ۔ اختلاف کے منہج اور اصول کی رعایت طرفین کے حق میں یکساں مفید ہوتی ہے ۔ اختلاف کرنے والے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کی بات سنی جاتی ہے اور اس کا علمی اور سنجیدہ چہرہ سامنے آتاہے ، جبکہ دوسرے فریق کویہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ انتہائی پر سکون ماحول میں اپنی آراءپر غور وخوض اور نظرثانی کرتا ہے اور غلطی سامنے آجانے پر رجوع بھی کرلیتا ہے۔  اس پوری مدت میں ، جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب نے ایک بھی ایسی بات نہیں کہی جو جمہور کی رائے کے خلاف ہو، بلکہ مدارس اور اہل مدارس کے بارے میں یہ کہتے ہوئے الوداعی مجلس میں آب دیدہ ہوگئے کہ ہماری قوم نے علم وفن کے جو مراکز قائم کیے ، وہ سب ختم ہوگئے ۔ یہی ایک علمی مرکز باقی ہے جس کی خدمات کا پورا عالم قائل ہے  اور اس کی بقا وتحفظ کی فکر کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

بات شاید طویل ہورہی ہے ، لیکن یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ اس پوری مدت میں علمی وروحانی غذا کے ساتھ، جسمانی غذا کا بھی پورا خیال رکھا گیا۔ رہائش کے لیے آ رام دہ ہوٹل کا انتخاب کیا گیا، قطر کے تاریخی مقامات کی سیرکی گئی  جن میں اسلامک میوزیم، قطر کی نیشنل لائبریری اورسوق واقف اور متعدد تفریحی اور سیاحتی مقامات شامل ہیں۔ بیشتر احباب سے کوئی خاص تعارف نہیں تھا، اس سفر میں بیشتر احباب سے تعارف اور علمی افادہ واستفادہ کی راہ ہموار ہوئی ۔

پروگرام کے روح ورواں جناب پروفیسر ابراہیم موسی صاحب نے  اس پروگرام کو نفع بخش اور دلچسپ بنانے کے لیے بے حد کوششیں کیں  جس کے لیے وہ تمام شرکاءکی طرف سے شکریے کے مستحق ہیں۔ اس پروگرام میں جناب ابراہیم موسی صاحب کے علمی کمالات کا بھی خوب اظہار ہوا۔ امام الحرمین جوینی، امام غزالی ، امام رازی اور علامہ ابن تیمیہ کے فکر وفلسفہ اور ان کے باہمی اختلافات اور ان کے اسباب ، نیز علم کلام اور اس کے جدید موضوعات جیسے انتہائی اہم فکری موضوعات پر  ان کی گفتگو انتہائی چشم کشا ثابت ہوئی جس کا مجھے ذاتی طور پر کچھ بھی اندازہ نہیں تھا۔ مولانا ڈاکٹر وارث مظہری صاحب اور جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب کی علمی قابلیت اور فکری موضوعات میں ان کے تعمق کا علم پہلے سے تھا، جو اس پروگرام میں بہت ہی نکھرکر واضح شکل میں سامنے آیا۔اس پروگرام سے بہت سے علمی فوائد حاصل ہوئے۔ سب کا تفصیلی تذکرہ تو کسی اور موقع پر کیا جائے گا، لیکن بعض کا انتہائی اختصار کے ساتھ کیا جاتا ہے :

۱۔ مغربی مفکرین کی تحریروں کو پڑھنے اور ان کے نظریات کو براہ راست جاننے کا پہلی بار موقع ملا۔

۲۔ صحت مند علمی مناقشہ کا ایک بہترین نمونہ سامنے آیا۔

۳۔ عبارات کی تحلیل اور تجزیہ کا انتہائی خوب صورت اور دلچسب منہج سامنے آیا۔

۴۔ علمی مناقشوں سے بہت سے نئے علمی زاویے کھل کر سامنے آئے۔

۵۔ بہت سے جدید موضوعات پر   اکابرین کی تحریریں پیش کی گئیں  جو منتظمین کی وسعت فکر ونظر کی غماز ہیں۔نیز ان سے سلف کے علمی تراث سے شرکاءکی عقیدت ومحبت میں اضافہ ہوا۔بلاشبہ یہ خوب صورت علمی تجربہ رہا۔ اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے اور ہمارے علم وفضل میں اضافہ فرمائے ، آمین۔

مولانا مفتی امانت علی قاسمی 

(دیوبند، سہارنپور، انڈیا)

۲۴ دسمبر ۲٠۱۹ء کو طے شدہ پروگرام کے تحت قطر کے لیے روانگی ہوئی ۔ یہ سفر علمی و فکری ارتقاءاورتحقیق کے بند دریچوں کو کھولنے کے لیے تھا ۔ علم کی کوئی انتہاءنہیں ہے ، علم کی معراج ”لا ادری“ ہے، یعنی جب انسان علم کی معراج کو پہنچتاہے تو معلوم ہوتا ہے مجھے کچھ نہیں معلوم ہے۔ علم کی نہ کوئی حد ہے اور نہ ہی کوئی منزل۔حدیث میں ہے : الحکمۃ ضالۃ المومن حیث وجدھا فہو احق بہا (سنن الترمذی حدیث نمبر ۷۸۶۲) : “حکمت مومن کی متاع گم گشتہ ہے وہ جہاں مل جائے وہی اس کا حقدار ہے” ۔ اس لیے ایک مسلمان کو خاص کر علم کے متلاشی اور میدان علم کے آبلہ پا کو اس کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ علم و حکمت کے جو بھی دروازے ہیں، ان کی تلاش کی جائے اور اپنے لیے اس دروازے کو وا کرنے کی سعی کی جائے ۔ علم و فکر کے جنگلات میں صحرا نوردی کی جائے اور وہاں موجود عودو عنبر کی خوشبو سے فائدہ اٹھایا جائے ۔علم کے جویا کے لیے لازم ہے کہ سفینہ علم میں بیٹھ کر سمندر کے سیر کرے اور وہاں موجود صدف سے اپنے آپ کو مالا مال کرے ۔علم کا یہ حق ہے کہ ہر گلستاں کی سیر کی جائے اور وہاں موجود نسرین و نسترن کی خوشبووں سے اپنے قلب و جگر کو معطر کیا جائے۔یہی وہ جذبہ تھا جس نے مجھے مدرسہ ڈسکورسز کی دہلیز تک پہنچادیا۔

ڈاکٹر وارث مظہری صاحب میرے استاذ ہیں ،ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور آج بھی علمی موضوعات پر میں ان سے مشورہ لیتا ہوں ۔ڈاکٹر صاحب نے مدرسہ ڈسکورسز کا تذکرہ کیا اور دہلی میں ہونے والے ایک پروگرام کا تذکرہ کیا چنانچہ ۲۳  جولائی۲٠۱۹ء کو ہوئے اس پروگرام میں میں نے شرکت کی ۔ہندوستان بھر سے حضرات اہل علم نے اس میں شرکت کی تھی۔ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اس میں کلیدی خطبہ دیااور فکراسلامی کو اس وقت کیا چیلنجز درپیش ہیں اور کس نہج پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس پر مولانا نے مفصل روشنی ڈالی ۔مولانا نے جن باتوں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی تھی ،ان میں چند اہم باتیں یہ تھیں :

  • ہمارے دینی مدارس کے فضلاءاور عصری دانش گاہوں کے لوگوں کے درمیان جو ایک خلا ہے، وہ ختم ہونا چاہیے ، ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آئیں تاکہ غلط فہمیاں ختم ہوں ۔
  • ہماری شریعت کے دو پہلو ہیں، ایک علم کلام اور دوسرے شریعت جسے فقہ اسلامی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہم لوگوں نے فقہ اسلامی کی جانب تو خوب توجہ دی ہے، لیکن علم کلام اور فکر اسلامی کی طرف جس قدر توجہ دینی چاہیے تھی نہیں دی گئی ۔ علم کلام پر ہمارے مدارس میں صرف شرح عقائد پڑھائی جاتی ہے ۔
  • جدید علم کلام میں متعدد اہم موضوعات کو شامل کرنے کی ضرورت ہے : احکام شریعت خاص طور پراسلام کے تعزیراتی قوانین، اسلام او ر بین المذاہب تعلقات ۔ اس موقع پر انہوں نے ایک اہم نکتہ یہ ارشاد فرمایا کہ اس وقت استشراق کی طرح استغراب کی ضرورت ہے۔یعنی مغربی ارباب دانش نے مشرقی علوم وثقافت کو پڑھنے اورسمجھنے کی کوشش کی، اسی طرز پر مسلمانوں کو مغربی علوم وثقافت اور نظریات کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔

پروگرام کایہ ابتدائیہ بڑا دلچسپ تھا ،اس لیے میں نے اس پروگرام میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ،اور تین ماہ آن لائن کلاسوں میں بھی شریک ہوا جس میں کل بارہ کلاسیں ہوئیں جس میں بڑے دلچسپ فکری اور کلامی مباحث پر گفتگو ہوئی ۔علم کی ایک دنیا سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔ آن لائن کلاسوں کی ترتیب بھی وہی تھی جو ونٹر انٹینسو کے پروگراموں کی تھی۔ بس دونوں میں فرق یہ تھا کہ آن لائن کلاسوں میں ہم“زوم ایپلیکیشن” کی کھڑکی سے سب کو دیکھتے اور سنتے تھے اور یہاں اس کھڑکی سے باہربالمشافہہ محاضرات اور ان پر ہونے والی بحثوں کو سننے اور ان پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔

 مکمل ایک سمسٹر آن لائن کلاس کرنے کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق ونٹر انٹینسومیں شرکت کے لیے ہم لوگوں نے قطر کا سفر کیا ۔ یہ ایک ہفتہ کا سفر تھا۔ پروگرام قطر کے بہت ہی خوبصورت اور پرشکوہ یونیورسٹی حمد بن خلیفہ میں تھا ۔یہ یونیورسٹی ایجوکیشن سٹی میں واقع ہے اوربالکل منفرد طرز تعمیر سے آراستہ ہے۔ اس کا ہر حصہ فن تعمیر کا حیرت انگیز شاہ کا رمعلوم ہوتا ہے۔اس کا بیرونی منظر جس قدر دلکش ہے، اسی قدر اس کا اندورنی منظر بھی جاذب نظر اور زائرین کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والا ہے۔یونیورسٹی کا آڈی ٹوریم بھی جدید سہولیات سے مزین تھا جس میں سامعین کے سامنے مائک کا نظم تھا ۔ کتاب یا لیپ ٹاپ رکھنے کے لیے ڈیسک ، موبائل اور لیپ ٹاپ چارج کرنے کی سہولت بھی بہم تھی۔ ۲۵ دسمبر سے ۳٠ دسمبر تک یہ پروگرام چلا ، اس دوران وہاں کے تاریخی اور تہذیبی مقامات کو دیکھنے کا بھی موقع ملا، وہاں کی لائبریری ،اور ساحل سمندر پر واقع وسیع اور پرشوکت میوزیم کا نظارہ کیا۔ “غلامی میوزیم ”بھی دیکھا جس میں غلامی کی قدیم وجدید تاریخ، انسانی زندگی اور معاشرے پر اس کے اثرات پرموثر انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں ایک لائبریری بھی تھی جس میں صرف غلامی سے متعلق کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ان سب پرمستزاد ساحل سمندر کشتی کی سیر کی اس دوران ساحل پر واقع وہاں کی خوشنما عمارتوں کے دل فریب منظر نے لطف کو دوبالا کردیا ۔وہاں کے مشہور بازار ”سوق واقف“ میں قدیم طرز کے بنے ہوئے ترکی ہوٹل میں انڈین او رایرانی پرتکلف ڈشوں کا ذائقہ بھی چکھنے کو ملا ۔ یہت سے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں، لیکن یہ سب چیزیں ضمنی تھیں ،اصل تو وہ علمی ورک شاپ تھی جس کی کشش ہمیں یہاں کھینچ لائی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس پروگرام سے بڑا فائدہ محسوس کیا ۔ علم کے بہت سے گوشے کھلے ، فکر کے نئے زاویے معلوم ہوئے ۔ ہم مدارس کے فضلاءیہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں مدارس نے بہت کچھ دے دیا ہے، اب مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس مقدمہ کا آدھا جز صحیح ہے اور آدھا غلط ہے ۔ مدارس نے بہت کچھ دیا ہے، یہ صحیح ہے ۔ مدارس نے ہماری تربیت کی ہے ، اسلامی مزاج بنایا ، مصادر کی طرف رجوع کرنا ،قرآن و حدیث کو زندگی میں بنیاد بنانا ،علم کے ساتھ عمل سے وابستگی کا ذوق۔ ان کے علاوہ بہت کچھ مدارس نے ہمیں سکھایا، لیکن یہ احساس کہ اب مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں ،اور اپنے یمین و شمال کی طرف دیکھنا فضول ہے ،میرا احساس ہے کہ یہ غلط ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ عمومی تصور نہ ہو، لیکن کسی نہ کسی حد تک خود ہمارے اندر ابتداءمیں یہ تصور ضرور تھاجو بعد میں تجربہ سے غلط ثابت ہوا ،اس لیے کہ علم کی کوئی انتہاءنہیں ہے۔ مدارس کے فضلاءچیزوں کو جس انداز سے پڑھتے اور سمجھتے ہیں، دوسرے لوگ ضروری نہیں ہے کہ اسی انداز میں سوچیں اور سمجھیں ۔ جب ہم دوسرے لوگوں سے ملتے ہیں، ہمیں اپنی ہی معلومات کے نئے گوشے معلوم ہوتے ہیں ۔ امام اعمش کا مشہورواقعہ ہے کہ امام ابوحنیفہ سے ایک مسئلہ معلوم کیا گیا جس کا انہوں نے جواب دیا ۔اس پر امام اعمش نے پوچھا کہ تم نے یہ جواب کہاں سے دیا؟ تو امام ابوحنیفہ نے کہا کہ آپ نے جو روایت ابراہیم نخعی سے اور انہوں نے امام شعبی سے بیان کی ہے، اسی کی روشنی میں میں نے یہ جواب دیا۔اس پر امام اعمش نے کہا: یا معشر الفقہاء انتم الاطباء و نحن الصیادلۃ (الفقیہ و المتفقہ ۱/۴۳۴) معلوم ہوا کہ صرف فکر کے زاویے بدلنے سے بہت سے مسائل حل ہوجاتے ہیں ۔ امام اعمش کے پاس وہ حدیث تھی، لیکن ان کے پاس فکر کا وہ پیمانہ نہیں تھا ، جو امام ابوحنیفہ کے پاس تھا ۔ اس لیے جب ہم مختلف فکراور مختلف خیال لوگوں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات تو ہمیں بھی معلوم تھی، لیکن اس یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے، یہ ہمیں معلوم نہیں تھا۔

 مدرسہ ڈسکورسز کے پروگرام میں ہم نے یہی سیکھا کہ جب ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں وسعت اور فکر میں بلندی پیدا ہوتی ہے ۔گویا کہ مدرسہ ڈسکورسز پروگرام ہماری نگاہ کو عقابی بناتا ہے،ہمارے فکر اورحوصلے کو شاہین کا جگر دیتا ہے ۔ مدرسہ ڈسکورسز کے ایک اہم استاذ ڈاکٹر شیر علی تارین ہیں جو چھ سات زبان میں مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستانی ہیں  اور امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے استاذ کی حیثیت سے ایک فرینکلن اینڈ مارشل کالج، پنسلوانیا میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔آپ اردو ، عربی اور انگلش تینوں زبان میں روانی سے بولتے ہیں ۔برصغیر میں اسلامیات کی صورت حال پر انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہے ۔ حضرت نانوتویؒ اور حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ کی کتابوں کا اچھا مطالعہ کیا ہے ۔ ہمارے پروگرام میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کی کتاب “مباحثہ شاہ جہاں پور” بھی شامل تھی۔ اس کتاب کا میں نے مطالعہ کرلیا تھا ، لیکن ڈاکٹر شیر علی تارین نے اس کتاب کا جس انداز سے تجزیہ کیا، وہ ہمارے لیے بالکل نیا تھا ۔اس سے محسوس ہوا کہ اس کتاب کے مطالعہ کے دوران ان پہلو وں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے تھا جو ہم نے نہیں رکھا ۔ ان کے اس تجزیاتی مکالمے سے مطالعہ کا زاویہ اور نقطہ نظر معلوم ہوا  اور استدلالی منہج کے ایک نئے تجربے سے آشنائی ہوئی ۔یہ حقیقت ہے جس میں کوئی مبالغہ آمیزی نہیں ۔

مدرسہ ڈسکورسز کے روح ورواں جن کی فکر سے یہ نئی بزم آباد ہوئی ہے، وہ پروفیسر ابراہیم موسی صاحب ہیں جو دیوبند و ندوہ کے فیض یافتہ ہیں۔ اس وقت امریکہ کی نوٹرے ڈیم یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ امام غزالی سے خاص مناسبت ہے۔ اس پروجیکٹ کے یہی ذمہ دار وسرپرست ہیں ۔ان کی فکر یہ ہے کہ مدراس کے فضلاءکا فکر ارتقاءہو اور جدید چیلنجزکو جدید اسلوب میں حل کرنے کی ان کے اندر صلاحیت پیداہو ۔ وہ دنیا میں ہورہے انقلابات سے واقف ہوں ۔ اسلامو فوبیا کا جو سیلاب بڑی تیز ی سے اسلام کو مجروح کررہا ہے، ہمارے فضلاءان کا مسکت جواب دے سکیں ۔ مغربی مفکرین اسلام کو کس انداز میں پڑھتے ہیں اور اسلام کو کس طرح سمجھتے ہیں، ہمارے فضلاءبھی ان سے واقف ہوں۔ ا س سے ان کی فکر کی پروازبلند ہوگی ، ذہن میں عمق ، گہرائی اور وسعت پیداہوگی ۔

ڈاکٹر وارث مظہری صاحب بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں ، اور ہندوستانی طلبہ کو لیڈ کرتے ہیں ۔ ان کی فکر میں کافی توسع اور اعتدال ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی مفکرین ،شاہ ولی اللہ ، علامہ شاطبی ، ابن تیمیہ ، رازی وغزالی کے افکار کو کثرت سے پڑھا ہے اور جب آدمی اتنے بڑے بڑے مفکرین کو جن کی فکروں میں کافی تنوع ہو پڑھتا ہے توان کی فکر میں بھی توسع پیدا ہوجاتی ہے، اس لیے ڈاکٹر وارث صاحب کی فکر میں گہرائی کے ساتھ بلندی ہے، لیکن یہ بلندی ان کو اعتدال کی راہ سے دور لے کر نہیں گئی ہے اور نہ ہی ان کے اندر کسی قسم کی تعلی کی صفت پیدا کی ہے بلکہ ایک اجنبی اور ناشناس شخص ابتدائی ملاقات میں ان کی علمی و فکری صلاحیتوں کا اندازہ بھی نہیں لگاسکتا ہے۔

پاکستان کے مولانا عمارخان ناصر صاحب بھی اس پروگرام کی ایک اہم کڑی ہیں۔ مولانا عمار ناصر صاحب ہندو پاک میں محتاج تعارف نہیں ہیں ، ان کا رسالہ الشریعہ ہندوستان میں آن لائن پڑھے جانے والے رسالوں میں کافی مقبول ہے ۔ پاکستان میں ان کی فکر سے کافی اختلاف کیا گیاہے اورفکری اختلاف کا ہونا غلط نہیں ہے، لیکن جب یہ اختلاف فکر ی دائرے سے تجاوز کرکے شخصیت اور ذات پر آجائے تو یہ برا ہے ۔ کوئی شخص برا نہیں ہوتا ہے، اس کے نظریات اچھے اور برے ہوتے ہیں اور دلائل کی روشنی میں نظریات کی تردید کرنے کا ہر ایک کو حق ہوتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے شخصیت کو مجروح کرنا اور ان کی اچھی کاوشوں اور سنجیدہ علمی کاموں سے بھی انحراف کرنا علمی روش نہیں ہے ۔

 اس پروگرام کے حوالے سے چند اور باتیں بھی قابل ذکر ہیں:

(۱) اس پروگرام میں علمی انفتاح پایا جاتا ہے ، اسلامی مفکرین کیا کہتے ہیں اور کس انداز سے سوچتے ہیں اور مغربی مفکرین کس انداز سے سوچتے اور لکھتے ہیں، دونوں کا تقابل اس پروگرام کا بڑا دلچسپ حصہ ہے ۔ جو لوگ عربی اور انگریزی دونوں زبان پر مکمل عبور رکھتے ہیں، وہ اس کا زیادہ لطف لے سکتے ہیں ۔

(۲) جو کتابیں اس میں مطالعہ کے لیے دی جاتی ہیں، وہ زیادہ تر اسلامی مفکرین کی ہیں ، امام ابن تیمیہؒ ،امام رازیؒ، حجة الاسلام مولانامحمد قاسم نانوتویؒ ،شاہ ولی اللہؒ اور ان جیسے مفکرین کی ہیں۔ اس کے علاوہ چند مغربی مفکرین کی تحریریں بھی ہوتی ہیں، وہ بھی زیادہ تر انہی موضوعات پر جن پر اسلامی مفکرین کی تحریریں ہوتی ہیں۔ ہمارا وہ علمی وفکری سرمایہ جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے یا ہم ان کتابوں سے واقف ہونے کے باوجود مصروفیات کی وجہ سے انہیں نہیں پڑھ پاتے ہیں، اس پروگرام کی وجہ سے ہمیں ان کتابوں کو بھی پڑھنے کا موقع ملااور ساتھ میں مغربی مفکرین کے سوچنے اور سمجھنے کا انداز بھی معلوم ہوا ۔

(۳) پورے پروگرام میں ہم نے دیکھا کہ سوالات قائم کیے جاتے ہیں، پھر ہر کسی کو اپنی رائے پیش کرنے اوراپنے مطالعہ کی روشنی میں آزادی کے ساتھ اپنی بات رکھنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے ،کسی کو کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی کسی پر کوئی جبر ہوتا ہے ۔سوالات کے درمیان بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آپ کی رائے کے مخالف کسی کی رائے آتی ہے، آپ ان کے دلائل کو بھی سنتے ہیں اس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے ۔ ہم صرف اپنی رائے اور اس کے دلائل جانتے ہیں، مخالف کی رائے نہیں پڑھتے اور نہ ہی سنتے ہیں ،لیکن یہاںمخالف آراکو بھی سننے کا موقع ملتاہے ، اس سے تحمل اور قوت برداشت کی صفت پیدا ہوتی ہے اور ہم مخالف کی باتوں کو سننے کے متحمل ہوتے ہیں ۔ آداب اختلاف میں یہ چیز بہت ضروری ہوتی ہے کہ ہم دوسروں کی باتوں کو بھی سنجیدگی سے سنیں، ہمیں اس پروگرام میں اس کا اچھا تجربہ ہوا ۔

(۴) ذہن وفکر میں وسعت جو اس پروگرام کا اہم مقصد ہے، اس جانب بھی ہماری پیش رفت ہوئی ۔پروگرام کے دوران ایک دن ایک مغربی مفکر کی تحریر کی روشنی میں قتل مرتد کی بحث آئی ۔ہمیں احساس ہوا کہ اس موضوع کو یہاں نہیں لانا چاہیے ۔یہ ائمہ اربعہ کا متفقہ موقف ہے اور اس سلسلے میں بہت سی احادیث ہیں ، چنانچہ مناقشہ کے دوران میں نے اپنی بات بھی رکھی ۔ بہت سی آراءموافقت میں اور بہت سی مخالفت میں آئیں ۔ بات ختم ہوگئی، لیکن ہمیں تردد باقی رہا ۔اسی شام کو قطر کے مشہور عالم دین اور شیخ یوسف القرضاوی کے تربیت یافتہ شیخ محمد علی قرہ داغی کا محاضرہ ہوا جس کا عنوان تھا”الفقہ الاسلامی بین النصوص و التراث والمعاصرۃ وفقا لفقہ المیزان“۔ انہوں نے اپنے محاضرہ میں بڑی عمدہ گفتگو کی ۔ جب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو سوالوں میں بہت سے احباب نے قتل مرتد کے متعلق ہی سوال کیا۔ اس کا انہوں نے جو متوازن اور معتدل جواب دیا، اس سے بڑا اطمینان ہوا اور محسوس ہوا کہ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے اور ایسا نہیں ہے کہ یہاں کوئی پہلی مرتبہ ا س کو گفتگو کے لیے لایا گیا بلکہ اس پر بہت کچھ لکھا چکا ہے اور اس پر گفتگو ہوسکتی ہے اور سوچا جاسکتا ہے ۔

(۵)مذہب اور سائنس کے موضوع پر بھی محاضرہ ہوا اور اس سے بھی بڑا فائدہ محسوس ہوا۔ اس میں ایک محاضرہ پاکستان کے ڈاکٹر ادریس ازاد صاحب کا ہوا جس میں انہوں نے سائنس اور ارتقاءکے موضوع پر بڑا دلچسپ محاضرہ دیا۔ اس سے ہمیں سائنس کے نظریہ ارتقاءکو سمجھنے میں مدد ملی ۔پروگرام میں ہوئے محاضروں کے دوران ٹیسٹ ٹیوب بے بی ، کلونگ ، تبدیلی جنس ،ڈی این اے جیسے مسائل سے واقفیت ہوئی ۔یہ وہ مسائل ہیں جن کے حوالے سے سائنسی دنیا نے حیرت انگیز پیش رفت کی ہے اور آج ہمیں سماجی اور عملی میدان میں ان موضوعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اس پروگرام کے ذریعہ ان موضوعات کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملی ۔

(۶)فکری موضوعات کو پڑھنا تو بہت آسان ہوتا ہے، لیکن فکری موضوعات پر گفتگو کرنا بہت دشوار گزار وادی ہے جس میں ہر کوئی آسانی سے سفر نہیں کرسکتاہے ،اس لیے کہ فکر کی تہوں میں بھی بہت سے افکار ہوتے ہیں۔ ان سے پردہ اٹھانا اور گفتگو کے دوران اس پر لب کشائی کرنا ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے، لیکن مدرسہ ڈسکورسز کا مقصد ہی فکری موضوعات کو گفتگو کا موضوع بنانا ہوتا ہے، اس لیے اس کے ذریعہ ہمیں ایسے موضوعات پر گفتگو کرنے کاسلیقہ حاصل ہوتا ہے۔

مولانا ابوالاعلی سید سبحانی

(نئی دہلی، انڈیا)

ایک معروضی اور غیرجانبدارانہ علمی وتحقیقی سفر کے لیے ذہنی وسعت اور کشادہ ظرفی کی یک گونہ اہمیت ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی جانب سے حمد بن خلیفہ یونیورسٹی قطر میں منعقد ورکشاپ (Science, Hermeneutics, Tolerance: An Encounter of Western and Muslim Humanities) اس ضمن میں ایک اہم کوشش کہی جاسکتی ہے۔

مختلف مکاتب فکر کے حاملین کا یہ اجتماع میرے علمی سفر کا ایک اہم اور یادگار تجربہ ہے۔ مختلف مکاتب فکر، مختلف مسالک فقہ اور مختلف افکارونظریات کے حاملین کے ساتھ انٹرایکشن اور تبادلہ خیال کا یہ ایک شاندار موقع تھا۔ میرے لیے یہ خاص اس طور پر بھی رہاکہ ہندوپاک کے اہل علم ودانش کے درمیان مائنڈ سیٹ اور غوروفکر کے اندازمیں موجود فرق سے راست تعامل کا تجربہ حاصل ہوا۔ یہ فرق پہلے معلومات کی نوعیت کا تھا، اب اس کی حیثیت مشاہدہ اور تجربہ کی ہوگئی ہے۔

اسلامیات اور دینیات سے متعلق مباحثوں میں خواتین کا کردار عالمی سطح پر گزشتہ صدیوں میں بہت کمزور رہا ہے، برصغیر کی موجودہ صورتحال اس تناظر میں کافی حد تک تشویشناک کہی جاسکتی ہے، تاہم مدرسہ ڈسکورس کے اس پورے پروگرام میں طالبات کی نمائندگی امید افزا رہی، ورکشاپ کے دوران مختلف سیشنوں میں چھڑنے والے مباحث میں بھی ان کی شرکت اچھی رہی۔ یہ تجربہ اگر اسی طرح کامیابی کے ساتھ جاری رہا تو برصغیر کی علمی دنیا میں اس حوالے سے ان شاءاللہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

اس دوران مختلف اہل علم اور اہل نظر، بالخصوص ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی، ڈاکٹر موسی ابراہیم، ڈاکٹر عمار خان ناصر، ڈاکٹر شیر علی اور یونیورسٹی کے دیگر پروفیسرس سے مستفید ہونے، ان کے ساتھ وقت گزارنے اور مختلف ایشوز اور موضوعات پر کھل کر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ علامہ یوسف القرضاوی سے ملاقات کرنے اور ان سے دعائیں حاصل کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ معروف اسلامی دانشور ڈاکٹر مختار شنقیطی سے بھی اچھی ملاقات رہی۔ اس کے علاوہ مدرسہ ڈسکورسز سے وابستہ ہم ساتھیوں کا بھی آپس میں اخذواستفادہ کا اچھا سلسلہ رہا۔

اس ورکشاپ کے دوران ناچیز کا یہ خیال اور مضبوطی اختیار کرگیا کہ دلائل اور شواہد کی اپنی عظمت ہوتی ہے، ان پر شرح صدر آپ کو نہ کبھی کمزور پڑنے دیتا ہے اور نہ کبھی پندارعلم کا شکار بناتا ہے، نہ کچھ اہل علم اوربڑی شخصیات کا مخالف رائے رکھنا آپ کو کمزور کرتا ہے اور نہ کسی کا ہم خیال ہونا آپ کو تعلّی کی طرف لے جاتا ہے۔

بہرحال اس دوران بہت کچھ سیکھا، بہت اچھے علمی وفکری ماحول میں ایک اچھا وقت گزارا۔ سچ بات یہ ہے کہ ہفتہ گزرنے کے بعد بھی تشنگی جوں کی توں برقرار رہی۔

ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی
اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہو طے

اصولی مباحث اور عملی مسائل پر بحث کے درمیان ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ اصولی مباحث سے آپ بہت آسانی کے ساتھ گزرجاتے ہیں اور زیادہ الجھنوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن جب عملی مسائل پرآتے ہیں تو انہی اصولی مباحث کو اپلائی کرتے وقت ذہن کھلتا ہے، علمی سفر کو ایک رُخ ملتا ہے اور طرح طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنے کا سلیقہ بھی آتا ہے۔ اصولوں پر بحث سے گہرائی آتی ہے اور عملی مثالوں اور عملی مسائل پر بحث سے وضوح فکر حاصل ہوتی ہے۔ میرے خیال سے مدرسہ ڈسکورسز کے ساتھیوں کے درمیان ہونے والے مباحث میں اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ورکشاپ کے دوران مرتد کی سزا اور نظریہ ارتقاءسے متعلق ہونے والے ڈسکشن کو اس تناظر میں بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ کے تحت شائع ہونے والا لٹریچر اس سلسلہ میں جدید مسائل کے تناظر میں اچھی رہنمائی کرتا ہے۔

ناچیز کے خیال میں مدرسہ ڈسکورسز کی کلاسیز میں کچھ وقت موجودہ دنیا کے عملی مسائل پر بحث ومباحثہ کے لیے مختص کردینا چاہیے، تاکہ مختلف نئے اور عملی مسائل پربھرپور ڈسکشن ہوسکے، اور ذہنوں کوان حقیقی سوالات کی طرف متوجہ کیا جاسکے جو ہمیں سوسائٹی کے حقیقی مسائل اور حقیقی چیلنجز سے جوڑ سکیں۔ اگر ایسا ہوسکے تو یہ مدرسہ ڈسکورسز کے پروگرام کا ایک بڑاحاصل ہوگا، واللہ ولی التوفیق۔

مشاہدات و تاثرات

(فروری ۲۰۲۰ء)

Flag Counter