دینی روایت کی موجودہ صورت حال

محمد عمار خان ناصر

روایتی مذہبی طبقہ ہمارے معاشرے کا ایک بہت اہم عنصر ہے اور اس کی کارکردگی اور کردار پر مختلف زاویوں سے بات ہوتی ہی رہتی ہے۔ کسی بھی شخص یا طبقے کے کردار اور اس کی کارکردگی میں Self-image بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو فرد یا طبقہ اپنی صلاحیتوں اور محدودیتوں اور دائرۂ عمل کا زیادہ درست اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کر لیتا ہے، وہ زیادہ با معنی اور موثر طریقے سے معاشرے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ جدید معاشرے میں روایتی مذہبی طبقہ اس وقت جو کردار ادا کر رہا ہے، ا س کی بنیاد اس سیلف امیج پر ہے جو اس وقت اس کے ذہن میں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے مختلف کسی کردار کی توقع اس سے کی جائے گی تو وہ صدا بصحرا ثابت ہوگی۔ اس لیے اس طبقے کی ترجیحات میں اصلاح یا کسی مختلف کردار کی گفتگو سے پہلے اس پر سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ سیلف امیج کیا ہے اور اس میں کون سی چیزیں دوبارہ غور کرنے کا تقاضا کرتی ہیں۔

ذیل کی سطور میں اس حوالے سے چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔


دینی طبقے کے سماجی کردار کا ایک بنیادی اور اہم پہلو یہ ہے کہ عام مسلمان دینی زندگی گزارنے کے لیے کچھ نفسیاتی اور معاشرتی سہاروں کا محتاج ہوتا ہے اور مختلف دینی گروہ اور ادارے اس کو یہ سہارا فراہم کر دیتے ہیں۔ یہ جدید معاشرے میں دینی طبقوں کی ایک بڑی خدمت ہے۔ اگرچہ دینی طبقے اس کی قیمت وہ معاشرے سے فرقہ بندی کی صورت میں وصول کرتے ہیں، تاہم اس قیمت کے ساتھ بھی عام مسلمان کو دین سے ظاہری وابستگی میں کافی سہارا مل جاتا ہے جس کی قدر کرنی چاہیے۔

سماج سے اور خصوصاً‌ سماج کے کمزور اور غریب طبقوں سے، جڑا ہوا ہونا مذہبی تنظیموں اور دینی مدارس کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اسی لیے ان کی خدمات کا دائرہ بھی بیشتر سماج کی یہی سطح ہوتی ہے۔ اس تعلق کی بدولت یہ طبقے ایک بہت بنیادی سطح پر معاشرے کو مذہبی شناخت اور رفاہی خدمات فراہم کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے ہنگامی حالات میں سب سے پہلے وہی اپنے وسائل اور خدمات لے کر لوگوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ شہری ماحول میں مذہبی مراکز ایک بڑا اہم ذریعہ ہیں جو شہری طبقے کے وسائل کو مختلف صورتوں میں پس ماندہ علاقوں کے لوگوں تک پہنچانے کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اس سے مذہبی طبقوں کو ایک طاقت بھی ملتی ہے جو کئی جگہوں پر غلط بھی استعمال ہوتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ تعلق معاشرے کے لیے بلاشبہ ایک اثاثہ ہے۔

علمی سطح پر دیکھا جائے تو  جدید تعلیم یافتہ طبقے میں ایک  عمومی تاثر  یہ پایا جاتا ہے کہ مذہبی روایت نئے دور کے مسائل اور سوالات سے ہمیشہ پیچھے ہوتی ہے۔ یہ تاثر  کم سے کم فقہی اجتہاد کے دائرے میں درست نہیں۔ جدید فقہی اجتہادات سے اختلاف یا ان پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ جدید دور کا کوئی اہم سوال جو کسی فقہی جواب کا تقاضا کرتا ہے، اسے عالم اسلام میں مذہبی روایت کی نمائندگی کرنے والے بڑے اہل علم یا اداروں نے توجہ نہیں دی، اور اس ضمن میں کوئی بڑا خلا پایا جاتا ہے۔  ان مسائل پر عالمی فقہی ادارے بہت عرصے سے تفصیلی غور وخوض کر رہے ہیں اور سامنے آنے والے تمام اہم سوالات پر باقاعدہ فتاوی بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

یہ غلط تاثر اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ جو بات ٹی وی یا سوشل میڈیا پر زیر بحث نہیں آتی یا عوامی علماء کے ہاں موضوع نہیں بنتی، یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اعلی سطح کے علماء یا علمی ادارے بھی ان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ مذہبی روایت کے اور بہت سے مسائل ہیں، لیکن فقہی مسائل ان کا کمزور پوائنٹ نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کئی اہم اور ضروری مباحث سے صرف نظر کرنے کے باوجود علماء اور علمی اداروں کی حیثیت اور احترام تازہ ترین فقہی سوالات کو تسلسل کے ساتھ ایڈریس کرتے رہنے ہی کی بدولت قائم ہے۔


مذکورہ تمام مثبت اور قابل قدر  پہلووں کے ساتھ یہ بھی  اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کسی بڑے تہذیبی سوال کو ایڈریس کرنے کے حوالے سے  موجودہ دینی روایت کی علمی اہلیت اور قابلیت کا معاملہ توجہ کا مستحق ہے۔ اس کی ناگفتہ بہ صورت حال ویسے تو کم وبیش ہر بڑے سوال کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے، لیکن مثال کے طور پر اس ایک بڑے اور بنیادی سوال کے حوالے سے اس کو دیکھ لیجیے کہ کسی گروہ کو دائرہ اسلام میں شامل سمجھنے یا نہ سمجھنے کا فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟ یہاں تکفیر کے نظری اصولوں کی بات نہیں ہو رہی کہ اس پر تو دفتروں کے دفتر علمی روایت میں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عملاً‌ کسی گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا ہو تو اس کا معیار اور طریقہ کیا ہوگا؟

ماضی میں اس حوالے سے حتمی اتھارٹی مذہبی علماء کے پاس تھی۔ فتوی اور قضاء کے منصب سے وہ جس فرد یا گروہ کے متعلق تکفیر کا فیصلہ کر دیتے، اس پر احکام نافذ ہو جاتے تھے۔ جدید دور میں دینی روایت کو پہلی دفعہ اس صورت حال سے سابقہ پیش آیا کہ انھیں کسی گروہ کی تکفیر اپنے علاوہ کسی دوسری اتھارٹی یعنی جدید ریاست اور قانون کے سامنے جسٹیفائی کرنی ہے۔ مسئلہ قادیانیوں کے حوالے سے اٹھا تھا اور مذہبی روایت کے نمائندوں کے سامنے سب سے مشکل سوال یہ تھا کہ تکفیر کے فتوے تو ہر معروف مذہبی گروہ نے ایک دوسرے کے متعلق دیے ہوئے ہیں تو قادیانیوں کے متعلق علماء کے فتوے کو کیسے عام تکفیری فتووں سے الگ سمجھا جائے اور سنجیدگی سے لیا جائے؟ اور اگر حقیقی تکفیر صرف قادیانیوں کی ہے تو مختلف گروہوں کی باہمی تکفیر کی حقیقت اور جواز کیا ہے؟

مقدمہ بہاولپور سے لے کر جسٹس منیر انکوائری کمیشن اور قومی اسمبلی کی کارروائی تک ساری بحث کا جائزہ لیں تو صاف نظر آئے گا کہ اس بنیادی سوال کا کوئی تشفی بخش جواب دینی روایت کے پاس نہیں ہے۔ دیوبندی وسلفی موحدین، بریلویوں کی تکفیر کرتے ہیں، بریلوی حضرات وہابی گستاخوں کو خارج از اسلام قرار دیتے ہیں، سنیوں کے نزدیک شیعہ کافر ہیں، لیکن پھر یہ سارے کافر مل کر قادیانیوں کی تکفیر کرنا چاہتے ہیں۔ جب ریاست اور قانون کے سامنے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے تو یہ کہہ کر خلاصی حاصل کر لی جاتی ہے کہ یہ فتوے متفقہ نہیں ہیں اور ان کی ذمہ داری پورا طبقہ نہیں اٹھاتا۔ گویا تکفیر کی عملی بنیاد یہ ہوئی کہ چونکہ ایک دوسرے کو کافر کہنے میں یہ سارے متفق نہیں، لیکن قادیانیوں کی تکفیر پر سب متفق ہیں، اس لیے ان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جائے۔ قومی اسمبلی میں تو اس سے بھی کمزور بنیاد پر معاملہ طے کیا گیا جو یہ تھا کہ چونکہ قادیانی عام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، اس لیے عام مسلمان بھی ان کی تکفیر کا حق رکھتے ہیں (جبکہ خوارج کے باب میں یہ اصول نہیں مانا گیا تھا)۔ پھر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے باوجود ان کو باقی اقلیتوں جیسے حقوق اور آزادیاں دینے کے حوالے سے مذہبی موقف کے تضادات اپنی جگہ لاینحل اور قانونی وفقہی دانش کا منہ چڑاتے رہتے ہیں۔

یہ ایک بڑے تہذیبی سوال یعنی امت کی بنیادی شناخت (عقیدہ ختم نبوت) کے تحفظ کے ضمن میں موجودہ دینی روایت کی اہلیت اور علمی قابلیت کی صورت حال ہے۔ اس پر آپ دوسرے بڑے سوالات کو بھی قیاس کر سکتے ہیں ۔


دینی روایت کا ایک اور قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ مدارس کے تعلیمی نظام کا مجموعی مطمح نظر اسلاف کے علمی ورثے کی حفاظت اور اس کے ساتھ علمی واقفیت کے تسلسل کو برقرار رکھنا نہیں رہا۔ یہ سارا نظام معاصر فکری اور سیاسی کشمکش کے تناظر میں پوری طرح حزبیت کا شکار ہو چکا ہے اور سلف کے ذخیرے کی صرف وہ باتیں اس کے لیے قابل قبول ہیں جو موجودہ فکری کشمکش کے تناظر میں ایک خاص  پوزیشن کی تائید کرتی ہوں۔  اس ضمن میں مستند دینی روایت کے بہت سے حصوں کی تنسیخ یا کتمان کو موجودہ دینی ماحول میں ایک دینی تقاضے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر  امام محمدؒ نے عورت کے چہرے کے پردے کے حوالے سے اپنا اور امام ابوحنیفہ کا نقطہ نظر بڑی  صراحت سے یوں بیان کیا ہے :

’’أما المرأة الحرة التي لا نكاح بينه وبينها ، ولا حرمة ، ممن يحل له نكاحها : فليس ينبغي له أن ينظر إلى شيء منها مكشوفا ؛ إلا الوجه والكف ، ولا بأس أن ينظر إلى وجهها وإلى كفها ، ولا ينظر إلى شيء غير ذلك منها .وهذا قول أبي حنيفة.
وقال الله تبارك وتعالى { وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } ، ففسر المفسرون أن ما ظهر منها : الكحل والخاتم ، والكحل زينة الوجه ، والخاتم زينة الكف ، فرخص في هاتين الزينتين .ولا بأس بأن ينظر إلى وجهها وكفها ؛ إلا أن يكون إنما ينظر إلى ذلك اشتهاء منه لها. فإن كان ذلك ، فليس ينبغي له أن ينظر إليه‘‘ (كتاب الأصل ٢/ ٢٣٥-٢٣٦)

اس اقتباس کا خلاصہ یہ ہے کہ آزاد اور غیر محرم عورت کے جسم کے کسی حصے کی طرف دیکھنا مرد کے لیے جائز نہیں، البتہ چہرے اور ہاتھ کی طرف دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ چہرے اور ہاتھ کی طرف دیکھنا بالکل جائز ہے، الا یہ کہ دیکھنے والا شہوت کی نظر سے دیکھے۔ ایسی صورت میں یہ جائز نہیں ہوگا۔

مطلب یہ ہے کہ اصل حکم یہ نہیں کہ چہرہ چھپانا لازم ہے اور چہرہ دکھانا استثنائی ضرورت کے تحت جائز ہے۔ اس کے برعکس اصل حکم یہ ہے کہ عورت کا چہرہ اور ہاتھ حجاب کا حصہ نہیں اور ان کو دیکھنا مباح ہے۔ ہاں، استثنائی صورت جس میں دیکھنا ممنوع ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی بد نیتی سے اور شہوت کی حالت میں دیکھے۔ یہی تصریح فقہ حنفی کی تمام امہات کتب میں تفصیل سے ملتی ہے۔  تاہم موجودہ تناظر میں اگر یہ موقف بیان کیا جائے تو  خود حنفی  علماء کا ایک بڑا طبقہ اس پر چیں بجبیں ہوتا ہے اور  ایسی باتوں کے ذکر کو  فتنہ انگیزی سے کم نہیں سمجھتا۔

اسی طرح موسیقی سے متعلق مالکیہ کا موقف اہل مدینہ کے تعامل کی روشنی میں، حرمت کے عمومی موقف سے مختلف اور کافی توسع اور اعتدال پر مبنی ہے ۔ قاضی ابوبکر ابن العربیؒ نے  جامع ترمذی کی شرح ’’عارضۃ الاحوذی‘‘ میں غنا اور آلات موسیقی کی حرمت کے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سورہ لقمان کی آیت میں ’’لھو الحدیث‘‘ کا مصداق موسیقی کو قرار دینا ضعیف قول ہے اور  آیت کی مراد یہ نہیں ہے۔ اسی طرح  حدیث میں ’’گانے والی باندی‘‘ کی خرید وفروخت کی ممانعت کی وجہ بھی غناء کا حرام ہونا نہیں، بلکہ ایسی باندی کو اپنی ملکیت میں لانے سے جو دوسرے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ان سے گریز کرنا ہے۔ غنا اور موسیقی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بھی سنی ہے اور گھر سے باہر بھی، اس لیے وہ حرام نہیں ہو سکتی۔

ابن العربی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس اباحت کو دف وغیرہ تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کوئی بھی آلہ موسیقی ہو تو وہ اس اباحت میں داخل ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ موسیقی سے انسان کے دل پر سے بوجھ کم ہوتا ہے اور نفس اس میں راحت محسوس کرتا ہے۔ اس لیے کسی آلہ موسیقی سے اگر کچھ لوگوں کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے تو شریعت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس نوعیت کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن میں موجودہ دینی ماحول ماضی کی مستند علمی روایت کو نظرانداز کرنے بلکہ  اسے اپنے لیے خطرہ سمجھنے کا  عمومی رجحان رکھتا ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے ایک دلچسپ تبصرہ یہ کیا  ہے کہ ’’لعمری انھم لیسوون القواعد للنقیضین‘‘، یعنی علماء اپنی سہولت کے مطابق دو متضاد پوزیشنوں کو جواز دینے کے لیے قواعد بنا لیتے ہیں۔  موجودہ دینی ماحول میں اس رویے کا مظہر یہ ہے کہ اگر کسی طبقے کا موقف کچھ نصوص سے بظاہر ٹکرا رہا ہو لیکن کچھ دلائل اس کی تائید میں بھی ہوں تو یہ قاعدہ بیان کیا جاتا ہے کہ اجتہادی اختلاف میں قطعی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، ظنی دلائل ہی کافی ہوتے ہیں یا یہ کہ کسی مسئلے میں معتبر علماء کا اختلاف خود اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ وہ اجتہادی مسئلہ ہے، اس لیے اس میں شدت سے کام نہیں لینا چاہیے۔ لیکن ، اگر کسی مسئلے میں مخالف کو گنجائش نہ دینی ہو، لیکن مسئلہ اختلافی ہو تو یوں کہا جائے گا کہ نص صریح کے مقابلے میں کسی اجتہاد کا اعتبار نہیں، یعنی پھر نص کے صریح ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اس سے بالا ہی بالا نص، صریح اور قطعی ہو جاتی ہے۔

اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ ابنائے مدارس کے لیے جدید علوم سے ناواقفیت کا چیلنج ثانوی ہے۔ اصل چیلنج دینی روایت سے کماحقہ واقفیت نہ ہونا بلکہ ایسی واقفیت پیدا نہ ہونے دینے کا شعوری فیصلہ ہے۔ اس کا باعث یہ ہے کہ مدارس جدید تناظر میں روایتی مدرسے کا تسلسل نہیں ہیں جو مسلم سیاسی طاقت کی چھتری کے نیچے ایک تہذیبی عمل کو آگے بڑھا رہے تھے۔ جدید مدارس، سیاسی طاقت کے زوال سے پیدا ہونے والے تہذیبی خطرے کے عہد میں مختلف قسم کی مذہبی شناختیں قائم کرنے اور ان کو تحفظ دینے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ علمی روایت کے ساتھ تعلق اور تسلسل ان میں مطلوب ہے، لیکن ثانوی حیثیت میں اور اس شرط پر کہ وہ خاص گروہی شناخت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اس کے نتیجے میں دینی مدارس کا مجموعی ماحول فرقہ وارانہ ہو گیا ہے، اگرچہ انفرادی اور جزوی استثناءات بھی موجود ہیں۔


دینی اختلافات کی تحقیق میں دور اول کی طرف واپس جانا اس لیے ہمیشہ مفید ہوتا ہے کہ وہاں ابھی "آرتھوڈوکسی"  وجود میں نہیں آئی ہوتی اور اختلافات کی صحیح نوعیت سے متعلق اہل علم کے فطری احساسات سامنے آ جاتے ہیں۔ بعد کے ادوار میں جب کوئی ایک یا زیادہ مواقف مقبول ہو جاتے ہیں تو ایک تعصب بھی پیدا ہو جاتا ہے اور ہمارے دور میں جب مذہبی علماء کو کئی اسباب سے اپنی اتھارٹی خطرے میں نظر آتی ہے تو سب سے بڑا استدلال یہ بن جاتا ہے کہ طے شدہ مسئلے میں اختلاف کر کے انتشار کیوں پیدا کیا جا رہا ہے۔ اس سے ان کی مراد امت کے مختلف گروہوں میں بٹنے پر فکرمندی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے تو وہ خود حصہ دار ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ ایسی بات جو اس وقت علماء کے طبقے میں نہیں کہی جا رہی، وہ اگر کوئی کہے گا تو انتشار پیدا ہوگا، یعنی علماء کی اتھارٹی مزید کمزور ہوگی۔

پس مذہبی طبقوں کی سیاسی ضروریات جو بھی ہوں، علم دین کے طلبہ اور محققین کے لیے درست راستہ یہی ہے کہ وہ متاخرین "اکابر" کے ہاں طے شدہ سمجھے جانے والے موقف کو بنیاد بنانے کے بجائے ہمیشہ واپس ابتدائی دور میں جائیں اور دیکھیں کہ اہل علم چیزوں کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض اہم فقہی اختلافات کے حوالے سے امام شافعی ؒ کا یہ تبصرہ ملاحظہ ہو:

والمستحل لنکاح المتعة والمفتی بها والعامل بها ممن لا ترد شهادته وکذلک لو کان موسرا فنکح امة مستحلا لنکاحها مسلمة او مشرکة لانا نجد من مفتی الناس واعلامهم من یستحل هذا وهکذا المستحل الدینار بالدینارین والدرهم بالدرهمین یدا بید والعامل به لانا نجد من اعلام الناس من یفتی به ویعمل به ویرویه وکذلک المستحل لاتیان النساء فی ادبارهن فهذا کله عندنا مکروہ محرم وان خالفنا الناس فیه فرغبنا عن قولهم ولم یدعنا هذا الی ان نجرحہم ونقول لهم انکم حللتم ما حرم اللہ واخطاتم لانہم یدعون علینا الخطا کما ندعیه علیهم وینسبون من قال قولنا الی انه حرم ما احل اللہ عز وجل (الام کتاب الاقضیۃ، شہادۃ اہل الاشربۃ ۶/۲۰۶)

’’جو شخص نکاح متعہ کو حلال سمجھتا ہو، ا س کے جواز کا فتویٰ دیتا ہو اور اس پر عمل کرتا ہو، اس کی گواہی کو رد نہیں کیا جائے گا۔ یہی حکم اس شخص کا ہے جو (مالی طور پر) صاحب حیثیت ہو، لیکن کسی مسلمان یا مشرک لونڈی سے نکاح کو حلال سمجھتے ہوئے اس سے نکاح کر لے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو فتویٰ دینے والے بعض معروف اور ممتاز اہل علم اس کو حلال سمجھتے ہیں۔ اسی طرح جو شخص نقد تبادلے میں ایک دینار کے بدلے میں دو دینار اور ایک درہم کے بدلے میں دو درہم لینے کو حلال سمجھتا ہو (اس کی بھی گواہی قبول کی جائے گی) کیونکہ ہم بعض ممتاز اہل علم کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس کا فتویٰ دیتے، اس پر عمل کرتے اور اس مسلک کو (سلف سے) روایت کرتے ہیں۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو بیویوں سے دبر میں جماع کو حلال سمجھتے ہیں۔ یہ سب کام ہمارے نزدیک ناپسندیدہ اور حرام ہیں۔ اگرچہ اس میں ہم ان لوگوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور ان کی بات کو قبول نہیں کرتے، لیکن یہ چیز ہمارے لیے اس بات کا باعث نہیں بنتی کہ ہم ان کی ذات پر جرح کریں اور ان سے کہیں کہ تم لوگوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر دیا ہے اور خطا کے مرتکب ہوئے ہو کیونکہ جس طرح ہم ان کے خطا میں مبتلا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بھی ہمارے متعلق خطا میں مبتلا ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ہماری رائے کو اختیار کرنے والوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے۔‘‘

یعنی امام شافعی یہ فرما رہے ہیں کہ  آپ متعہ اور بیوی کے ساتھ وطی فی الدبر جیسے امور کے جواز کے قائلین پر بھی تنقید کر رہے ہیں تو انھیں یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ تم ’’حرام ‘‘ کو ’’حلال ‘‘ کر رہے ہو۔ کیونکہ ہمارے فہم کے مطابق اگرچہ یہ امور ازروئے دلائل حرام ہیں، لیکن اجتہادی معاملات میں ایسی زبان استعمال نہیں کی جاتی۔


روایتی دینی طبقہ، اپنی داخلی تقسیم سے قطع نظر، اس وقت ایک مشترک چیلنج کے روبرو ہے۔ توسعاً‌ ہم اس میں جماعت اسلامی کو بھی شمار کر سکتے ہیں، اگرچہ سکہ بند روایتی طبقوں کی نظر میں وہ کلی طور پر اس دائرے میں شامل نہیں سمجھی جاتی۔ دیوبندی طبقے کی صورت حال ہم براہ راست جانتے ہیں، جبکہ اہل حدیث، بریلوی اور جماعت اسلامی کے حلقوں کے متعلق بھی کافی معلومات ہمارے سامنے ہیں۔

چیلنج ایک ہی ہے جو یہ ہے کہ ان میں سے ہر طبقے نے دین کے فہم اور عمل کا اپنے تئیں جو ایک معیاری فریم ورک وضع کیا ہے، ہر طبقے کی نئی نسل میں ان کے اپنے تربیت یافتہ متعلقین کی ایک بڑی تعداد اس سے ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہے اور طبقاتی دائرے سے باہر مسائل وامور کی متبادل تفہیم کی تلاش میں ہے، بلکہ بہت سے متعلقین کشمکش کے ذہنی مرحلے سے آگے بڑھ کر مختلف متبادل تعبیرات کے متعلق ہمدردانہ زاویہ نظر رکھتے ہیں، جبکہ بہت سے اپنے طبقے سے فکری عدم تعلق کے مرحلے تک جا چکے ہیں۔

ان تمام طبقوں کا چونکہ بنیادی بیانیہ "تحفظاتی" ہے جس میں اپنے متعلقین کو بیرونی دنیا سے ایک فاصلے پر رکھ کر ان کی دینی حفاظت کا انتظام بنیادی ترجیح ہے، اس لیے اس چیلنج پر کھلے ماحول میں غور وفکر یا تجزیہ اور تبادلہ خیال کا اہتمام نہیں ہو سکتا، بلکہ کسی نمائندہ فورم پر ایسی کوئی گفتگو چھیڑی بھی جائے تو اسے روک دیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے داخلی کمزوری یا عدم تحفظ کا پیغام ملتا ہے جو تحفظاتی ماحول میں اضطراب کا موجب ہوتا ہے۔

البتہ بہت سے اہل قلم اپنی انفرادی حیثیت میں اس پر وقتاً‌فوقتاً‌ اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔ اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، کیونکہ چیزوں کو قالین کے نیچے چھپانے سے ان کا وجود ختم نہیں ہو جاتا۔ تاہم ابھی تک جو تجزیے دیکھنے میں آ رہے ہیں، ان کا رخ زیادہ تر اپنے "منحرفین" پر مختلف قسم کے اخلاقی حکم لگانے یعنی انھیں ڈس کریڈٹ کرنے کی طرف ہے، مثلاً‌ یہ کہ ان کا علم ناپختہ ہے، انھوں نے اساتذہ سے صحیح طرح سے فیض نہیں پایا، وہ ماحول سے باہر جا کر دنیا کی چکاچوند سے متاثر ہو گئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔  طبقے کے سرکاری بیانیے میں کچھ مسائل ہیں یا ہو سکتے ہیں، اس کو فکری سطح پر تسلیم کرنے کی جرات فی الحال ان تجزیوں میں دکھائی نہیں دیتی۔

مشاہدات و تاثرات

(مئی ۲۰۲۳ء)

تلاش

Flag Counter