علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور موچی دروازہ میں اصغر خاں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ یہ 1976 کا آغاز تھا۔ جلسے سے پہلے تحریک استقلال کی اعلیٰ سطح کی قیادت کا اجلاس میاں محمود علی قصوری کی رہائش گاہ 4 فین روڈ پر ہوا۔ ابھی تک اصغر خاں کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کے پورے دور حکومت میں کسی دیگر راہنما نے عوامی جلسوں سے خطاب کرنے وہ طرح نہیں ڈالی تھی جو ہزاروں لاکھوں لوگوں کو جمع کر سکے۔ البتہ چوہدری ظہور الٰہی مرحوم نے مسلم لیگ میں قدرے جان ڈالے رکھی۔ جماعت اسلامی بھی پیپلز پارٹی کے خلاف صف آرا رہی ، مگر بڑے جلسوں کی بجائے ان کا ہدف تعلیمی ادارے تھے جہاں سوشلزم کا مقابلہ کرنے کے لیے وقتاًفوقتاً کسی معصوم طالب علم کی جان بھی لے لیتے اور ثواب دارین حاصل کرتے۔ خاں عبد الولی خاں کو پنجاب میں بالعموم اور لاہور میں بالخصوص پذیرائی ملتی تھی۔ مگر حکومت انہیں پنجاب کے عوام سے ملنے میں ہر طرح سے رکاوٹیں ڈالتی۔ بالآخر انہیں حبیب جالب اور دیگر ساتھوں کے ہمراہ حیدر آباد ٹربیونل میں اس وقت تک قید رکھا گیا جب تک ذوالفقا ر علی بھٹو کی جگہ ضیاء الحق نے اقتدار نہیں سنبھالا۔ دیگر سیاسی جماعتیں بس ایسے ہی کسی پریس کانفرنس، کسی بیان یا کسی بار روم میں خطاب کے سہارے ہی چل رہی تھیں۔ ایسے میں اصغر خاں کے عوامی جلسوں نے جہاں حکمرانوں کو للکارا وہیں عوام کو بھی ایک سیاسی زندگی دی ۔ 

موچی دروازہ جہاں لاہور کی سیاست کا دل دھڑکتا تھا، یہ جلسہ حکومت اور اپوزیشن کے لیے ایک بڑ ا معرکہ تھا۔ ملک وزیر علی تحریک استقلال کے نائب صدر تھے جو بڑے منتظم آدمی تھے ۔ انہوں نے مختلف پارٹی ورکرز کی ٹولیاں بنا کر انہیں مختلف راستوں سے موچی دروازہ پہنچے کو کہا۔ ایک گروپ جس نے موچی دروازہ میں ان ورکرز کا استقبال کرنا تھا، اس کی سربراہی تحریک استقلال کے سیکرٹری اطلاعات علامہ احسان الٰہی ظہیر نے کی جبکہ ان کے ساتھ مجھے نائب کے طور پر مقرر کیا گیا۔ ہم فین روڈسے نکل کر مال روڈ، بیڈن روڈ اورنسبت روڈ سے ہوتے ہوئے چیمبر لین روڈ کے اس سرے تک پہنچے جہاں سے موچی دروازہ ہمارے سامنے تھا۔ ذاتی مقاصد کے لیے بنائی گئی ذوالفقار علی بھٹو کی " فیڈرل سیکیورٹی فورس" سڑک پر سیدھی گولی کی پوزیشن لیے ہوئے صف آرا تھی۔ ہم دونوں دائیں بائیں کی گلیوں سے نکل کر اسٹیج کے عقب میں پہنچ گئے۔ علامہ صاحب فوراً سٹرھیاں چڑھ کر اسٹیج پر پہنچ گئے اور ہاتھ ہلا کر کارکنوں کو تسلی دی۔ انہیں اسٹیج پر موجود پا کر چاروں اطراف سے تحریک استقلال کے کارکن اور عوام کا ایک جم غفیر جلسے میں آگیا ۔ اس سے قبل کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر اپنی تقریر شروع کرتے، اوپر تلے تین چار کریکر چلائے گئے۔ لوگ ہراساں ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی کے ایک طالب علم راہنما جسے " فتنہ" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، اُس نے یہ شرارت کی ہے جو ا س کام میں ماہر گنا جاتا ہے اور یہی اُس کا " افتخار " ہے، تاہم اس کے بعد علامہ صاحب نے ایسی پر جوش تقریر کی کہ سہما ہوا ہجوم جم گیا۔ 

علامہ احسان الٰہی ظہیر برس ہابرس تک تحریک استقلال کے سیکرٹری اطلاعات رہے۔ وہ غایت درجہ آتش نوا مقرر تھے۔ ان کی آواز کا طنطنہ کمال کا تھا۔ رعدکی گونج اور بجلی کی کڑک تھے۔ انہوں نے تلوار کا لہجہ اپنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان میں ایک بلند مقام کے خطیب ٹھہرے۔ انہیں سعودی عرب میں ایک بڑا مقام حاصل تھا، اسی لیے ایک بار حج کے دوران خانہ کعبہ میں جنرل ضیاء الحق سے ملاقات ہو گئی تو ضیاء الحق نے پوچھا کہ علامہ صاحب! آپ میری مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جنرل صاحب آپ نے الیکشن تو کروانے نہیں، کم ازکم قوم سے جھوٹ تو نہ بولیں۔ میں خانہ کعبہ میں کھڑے ہو کر وعدہ کرتا ہوں کہ آپ اسلام کا نام لینا چھوڑ دیں تو میں آپ کی مخالفت کرنا چھوڑ دوں گا۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا دایاں ہاتھ سینے کی بائیں جانب رکھتے ہوئے پھر ایک جھوٹا وعدہ کیا کہ وہ جلد از جلد انتخابات کروادیں گے۔ ضیاء الحق تو حسب توقع الیکشن کروانے سے پھر مکر گیا، مگر علامہ صاحب نے اس کی مخالفت میں مزید تیزی او ر شدت پیدا کر دی ۔ اس وقت تک علامہ صاحب تحریک استقلال سے علیحدہ ہو کر اپنی قیادت میں مسلک اہلحدیث کی ایک بڑی جماعت تشکیل د ے چکے تھے ۔ شہر شہرقریہ قریہ فوجی جنتا کے خلاف خطاب کیا ۔ ضیا ء الحق نے برا محسوس کیا۔ کینہ پرور آدمی تھا، اس لیے علامہ صاحب کو ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کر لیا۔

پھر ایک روز جب علامہ احسان الٰہی ظہیر قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کے چوک میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے آئے تو یہ ان کی زندگی کا آخری جلسہ ثابت ہوا۔ ابھی خطاب شروع کیا ہی تھا کہ ایک بم نے اسٹیج کے بخیے ادھیڑ دیے۔ لوگ لہولہان ہو گئے۔ کچھ موقع پرہی دم توڑ گئے۔ سارا ملک سوگوار ہو گیا۔ علامہ صاحب کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے اپنے نزاعی بیان میں کہا کہ انہیں جنرل ضیاء الحق نے مروانے کی کوشش کی ہے۔ آخری سانس تک بھی یہ ہی کہتے رہے کہ اگر وہ مر گئے تو ان کا خون جنرل ضیاء الحق کی گردن پر ہو گا۔ یار لوگوں نے ان کی موت کے ڈانڈے شاہدرہ کی ایک امام بارگاہ سے ملانا چاہے مگر ناکام لوٹے۔ شدید زخمی حالت میں سعودی عرب نے بڑے اہتمام سے اپنے ہاں لے جا کر ان کا علاج کرنے کی تمام کوشش کیں، مگر وہ زندگی ہار چکے تھے۔ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا اور وطن عزیز کی پر آشوب سیاست کا ایک اور باب ختم ہوا۔ 

مشاہدات و تاثرات