فری لینسنگ: تعارف، اخلاقیات اور احکام

مولانا مشرف بيگ اشرف

باسم ربي الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم، وصلی اللہ علی نبيہ الأكرم! أما بعد!

فری لینسر  کی اصطلاح  والٹر سکاٹ (1771–1832)   کی طبع زاد ہے انہوں نے ایک کہانی " ايفانہو" لکھی (اس کہانی کےسورما کے نام   سے اسے موسوم کیا)۔ انہوں نے    یہ اصطلاح قرون میانہ کے ایسے جنگجوکے لیے استعمال کی  جس نے باقاعدہ فوج کا حصہ بن کر حلف نہیں لیا ہوتا  تھا۔ چناچہ یہ اصطلاح دو الفاظ کا  مرکب ہے:

۱: فری (Free)  یعنی آزاد (اس لیے فری لینسنگ کا تعلق "مفت" سے نہیں بلکہ "آزادی" سے ہے۔)

۲: لینس (Lance)۔ یہ لفظ دراصل  لاتینی زبان کے لفظ Lancea  سے بنا ہے جس کا مطلب   چھوٹا نیزہ ہے۔1

موجودہ  دور میں یہ ایسے لوگوں کے لیے برتی جاتی ہے جو کسی ادارے یا بندے کے ساتھ طویل المیعاد  معاہدے میں نہیں بندھتے، بلکہ ان کا رشتہ محض ایک  منصوبے کی تکمیل کے لیے ہوتا ہے۔ عام طور سے،  ان میں کسی خاص جگہ سے کام کرنے کی قید نہیں ہوتی۔ نیز کسی وقت  کی پابندی بھی نہیں ہوتی کہ نو سے پانچ تک ہی کام کرنا ہے۔  البتہ ایک مدت مقرر ہوتی ہے جس میں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا  ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ "اجیر "ہی ہوتے ہیں جو ایک مخصوص خدمت مہیا کرتا ہے ۔ اور عام طور سے یہ  - اگر ہم فقہی زبان میں بات کریں - اجیر مشترک ہی ہوتے ہیں جس میں معقود علیہ معین وقت نہیں ہوتا بلکہ "منفعت" ہوتا ہے۔

کیمبرج کی قاموس میں اس کی تعریف کچھ یوں ہے کہ:

"ایک مخصوص ادارے کے بجائے بیک وقت مختلف  اداروں کے لیے کام کرنا"2

چنانچہ اسی مناسبت سے  فری لینس صحافی بھی پائے جاتے ہیں ۔

پھر انٹرنٹ کے آنے کے بعد، برقی منڈیاں وجود میں آ گئیں  جہاں مختلف لوگ اپنی خدمات  پیش کرتے اور صارفین انہیں حاصل کرتے ہیں۔ اور یہی برقی منڈیاں فری لینسنگ پلیٹ فارمز(Freelancing Platforms)  کہلاتی ہیں۔ ان برقی منڈیوں کا مقصد محض لوگوں کو جوڑنا ہوتا ہے  اور اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ:

۱:  صارف ایک منصوبہ شروع کرتا ہے جس میں وہ اپنی ضرورت بیان کر، وہاں موجود  خدمیات مہیا کرنے والوں کو بولی کی دعوت دیتا ہے۔

۲: پھر دلچسپی رکھنے  والے بولی لگاتے ہیں ۔

۳: صارف کو  جو مناسب لگے، اس سے  ایک برقی کھڑکی کے  ذریعے گفت وشنید کرتا ہے۔

۴:  اگر ان کا اتفاق ہو جائے، تو  صارف اس کی بولی قبول کرلیتا ہے۔

۵: جیسے ہی دونوں طرف سے ایجاب وقبول ہو جائے،  منڈی کا خود کار نظام دونوں کےکھاتوں سے اپنی اجرت وصول کر لیتا ہے جو عام طور سے دس فیصد سے بیس فیصد تک ہوتی ہے۔

۶: اس کے بعد، عام طور سے،  صارف وہ مبلغ جو اس منصوبے کی تکمیل پر اس نے مہیا کرنا ہوتی ہے، اسے ایک "برقی پوٹلی" میں رکھوا دیتا ہے۔ اس کے لیے Escrow  کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جو دراصل ایک  قدیم قانونی اصطلاح  ہے  اور ایسے  ضمانت نامے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے فریقین کسی تیسری فریق کے پاس رکھوا دیتے تھے اور طے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی مخصوص شرط پوری ہوجائے، تو اسے  ان فریقین یا ان میں سے کسی ایک کے حوالے کیا جائے۔ لیکن  موجودہ  برقی منڈیوں میں دراصل   باقاعدہ پیسے رکھے  جاتے ہیں جو برقی منڈیوں سے وابستہ کھاتوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس میں اصول یہ ہوتا ہے کہ صارف جو اس پوٹلی میں   پیسے رکھتا ہے وہ اس کا دہانہ کھول اسے خدمت گزار کے کھاتے میں انڈیل سکتا ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ منصوبہ پورا یا جزوی مکمل ہوا۔  اور خدمت گزار کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ انہیں واپس صارف کے کھاتے میں  منتقل کر دے۔ جو عام طور سے اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ منصوبہ منسوخ ہو گیا اورخدمت گزار اس پر راضی ہے اس لیے اس نے  یہ پیسے واپس کر دیے۔  نیز بعض اوقات پیسوں کو کچھ حصوں میں تقسیم کر کے "سنگ میل"بنا دیے جاتے ہیں۔ جونہی ایک سنگ میل تک پہنچے، اس سے وابستہ مبلغ خدمت گزار کے کھاتے میں صارف منتقل کر دیتا ہے اور یوں اگر آگے کچھ اختلاف ہو جائے، تو خدمت گزار نے جتنا کام کیااسے کم از کم اس کا محنتانہ مل جاتا ہے۔

۶: اس کے بعد، خدمت گزار   منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔

۷: البتہ جہاں انسان ہیں وہاں نزاع ہے اور وہیں فصل نزاع کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔  اس لیے، ان منڈیوں میں فصل خصومات کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ اگر کوئی فریق درخواست دائر کرے، تو ان کا نمائندہ اس منصوبے اور  برقی کھڑکیوں سے کی گئی گفت وشنید کی روشنی میں  فیصلہ کرتا ہے۔ جو یہ مقدمہ ہار جائے، اسے فصل نزاع کی اجرت ادا کرنی ہوتی ہے۔

۸: نیز ان میں کارکردگی پیما بھی نصب ہوتا ہے جس سے صارف اور خدمت گزار کا رویہ اور کارکردگی وغیرہ جانی جا سکتی ہے جس میں وقت پر کام کرنا، وقت پر پیسے ادا کرنا ، منصوبے مکمل کرنے کی اوسط شرح وغیرہ شامل ہیں۔ اسی میں ، ہر منصوبے کے اختتام پر ، فریقین کو ایک دوسرے کی بابت تبصرے کا موقع بھی ملتا ہے جسے بعد والے لوگ دیکھ کر اس کی بابت رائے قائم کر سکتے ہیں اور کارکردگی پیما کی سوئی بھی اس کے مطابق اوپر نیچے جاتی ہے۔

بعض برقی بازاروں میں  کچھ فرق بھی ہوتا ہے۔ جیسے بعض جگہوں پر خدمت مہیا کرنے والے اپنا برقی ٹھیا لگا لیتے ہیں اور صارف  ان کے سابقہ تکمیل شدہ کام و کارنامے دیکھ کر   ان کی خدمات کی خود درخواست کرتا ہے۔ ایک مشہور برقی بازار fiverr میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ باقی بنیادی طور سے اسی طرح کام ہوتا ہے جیسے اوپر بیان کیا گیا۔

بلاشبہ، ان منڈیوں کا  تیسری ممالک کے لوگوں کو فائدہ ہے کہ انہیں اس سے ذریعہ معاش مل جاتا ہے اور مقامی بے روزگاری  کے حل میں اس کا ایک اچھا کردار ہے۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے کہ مثلا اگر  وہ مقامی   پروگرامر کی خدمات لیں تو انہیں ایک گھنٹے کے پچھتر سے سو ڈالر  تک ادا کرنے پڑیں لیکن ان ممالک والے اس سے آدھے میں بھی کر دیتے ہیں۔ بلکہ انڈیا اور پاکستان میں بعض لوگ دس سے پندرہ تک میں بھی کر دیتے ہیں۔ بہر حال، یہ ایک اضافی چیز ہے جس سے سرسری گزر کر ہم اپنی مقصد کی طرف بڑھتے ہیں جو ان برقی منڈیوں کی  فقہی حیثیت کا تعین   کرتے   ہوئے ایک مسئلے کا تعین ہے۔

ہمارے سامنے اس وقت جو سوال ہے وہ یہ کہ  ان منڈیوں میں جب خدمت مہیا کرنے والا کسی  کے ساتھ کام مکمل کر لیتا ہے، تو اس کا اس صارف سے براہ راست تعلق قائم ہو جاتا ہے اور بعض اوقات وہ منڈی سے باہر آ کر مزید  معاہدات کر ان کی تکمیل کرتے ہیں اور   اس کی اجرت براہ راست   بینک میں (Bank wire)  منتقل کر دی جاتے ہے یا  ویسٹرن یونین جیسے برقی  ڈاکیوں کے ذریعے  بھجوا دی جاتی ہے ۔ کیا  خدمت گزار کے لیے اس منڈی سےباہر آ کر  اس سے رابطہ روا ہے؟ اور اسی ضمن میں ان منڈیوں سے وابستہ  اخلاقیات بھی زیر بحث ہوں گے۔

ہمارے تعارف سے واضح ہے کہ فری لینس سے وابستہ ڈیرے دراصل برقی منڈیاں ہیں جو لوگوں کو ایک ایسی جگہ مہیا کرتی ہیں جہاں وہ مختلف خدمات مہیا کر سکیں اور  منڈیوں کے  چلانے والے اس پر اپنا کمیشن (جعل) وصول کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے  ان کا اس پر آنے والے لوگوں  سے رشتہ دراصل سمسار  اور وسیط کا ہے ۔  یہ محض تعلق بنوا لینے پر پیسے وصول کر لیتے ہیں۔

ایک مشہور منڈی کا یک جملی تعارف ملاحظہ کیجیے:

Upwork, formerly Elance-oDesk, is an American freelancing platform where enterprises and individuals connect in order to conduct business.

یہاں کلیدی شبد "Platform"  اور "connect"  ہیں۔

نیز مشہور بازار  Freelancer.com  کے قواعد وضوابط میں خدمت مہیا کرنے والوں کے حوالے سےکوئی ایسی شرط موجود نہیں کہ اگر وہ کام منسوخ کریں تو انہیں پیسے واپس مل جائیں گے۔ یہ شرط بہر حال موجود ہے کہ اگر  صارف نے اضافی پیسے ادا کیے، تو بازار کاخود کار نظام اس میں اپنا حصہ لے گا، لیکن منسوخی کے وقت پیسوں کی واپسی اس میں شامل نہیں۔ اور عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔خدمت مہیا کرنے والوں کی شرائط ملاحظہ ہوں:

" For fixed price projects, if you are awarded a project, and you accept, we charge you a small project fee relative to the value of the selected bid, as an introduction fee. If you are subsequently paid more than the original bid amount, we will also charge the project fee on any overage payments.
For hourly projects, the fee is levied on each payment as it is made by the employer to you.
The fee for fixed price projects is 10% or $5.00 USD, whichever is greater, and 10% for hourly projects."3

البتہ  صارف کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ سات دن تک اگر وہ منصوبہ منسوخ کر دے، تو اسے پورے پیسے مل جائیں گے۔ چنانچہ اس صفحے پر آتا ہے کہ:

You may cancel the project from your dashboard at any time for up to seven (7) days after the project has been accepted for a full refund of your fee.

بلاشبہ، اس   مبلغ  واپس کرنے میں کچھ تفصیل ہے جو عملا سامنے آتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ ایک اضافی سہولت ہے کہ سات دن تک وہ منسوخ کر کے پیسے لے سکتا ہے۔ اس کے بعد نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہاں پیسے محض تعلق   بنوانے اور "رشتہ کروانے" کے ہیں۔

اس تنقیح کے بعد ہم اپنے سوال کی طرف آ جاتے ہیں ۔ ان منڈیوں کا نظام دو شرطیں عائد کرتا ہے جو ہمارے سوال سے وابستہ ہیں:

پہلی شرط: رابطہ نہ کرنا

 پہلی شرط یہ ہے خدمت گزار اس منڈی سے باہر کسی صارف سے رابطہ نہیں کرے  الا یہ کہ وہ اسے پہلے سے جانتا ہو۔ ان کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

Unless you have a prior relationship with a User, you must only communicate with Users via the Website. You must not, and must not attempt to, communicate with other Users through any other means including but not limited to email, telephone, Skype, ICQ, AIM, MSN Messenger, WeChat, SnapChat, GTalk, GChat or Yahoo.4

لیکن یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ  آیا  "سمسار" یا "وسیط" ایسی کوئی شرط عائد کر سکتا ہے کہ  جن کا اس  کے وسیلے سے تعلق بنا وہ مستقبل میں کبھی بھی براہ راست  کوئی معاملہ نہیں کر سکتے  ؟

ادنی غور وخوض سے واضح ہے کہ یہ شرط  اس منصوبے  یا  عمل سے بالکل غیر متعلق ہے۔ بلکہ  آپ غور کیجیے کہ  اس عقد کے الفاظ میں کتنا عموم ہے کہ:

"communicate with other Users "

اس کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کچھ لوگوں کی  گفت وشنید میں دوستی ہو جائے، تو وہ  آپس میں کسی سلسلے میں بھی بات نہیں کر سکتے، ایک دوسرے کو سندیس نہیں بھیج سکتے۔ مثلا اگر انہیں علم الکلام یا فلسفے کا شوق تھا جو اس گفتگو میں ظاہر ہوا تو وہ آپس میں اس حوالے سے بات بھی نہیں کر سکتے (یہ صرف فرضی مثال نہیں، بلکہ ایسا عملا ہوتا ہے)۔ اسی طرح کی اور بہت سے مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہاں  شرط سے مقصود صرف کاروباری مقاصد کے لیے ملنا ہے جس کی تخصیص کی ، اگرچہ،  کوئی وجہ نہیں اور ان منڈیوں کے  ساہوکاروں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح آپس میں  اس برقی کھڑکیوں کے علاوہ بات چیت نہ کر سکیں  جس  میں کبھی بھی  وہ جھانک سکتے ہیں، تو سوال پھر عود کر آئے گا کہ  اس مخصوص منصوبے کے علاوہ ، جس کے دونوں فریقوں نے پیسے ادا کر دیے، کسی اور منصوبے کے لیے روکنا کس طرح  روا ہے  جبکہ وہ عقد سے بالکل غیر متعلق ہے۔

یہاں شاید، آپ کے ذہن میں یہ سوال انگڑائی لے کہ  کیا جب مسلمان کسی معاہدے پر ہاں کہہ دے، تو اس پر لازم نہیں ہو جاتا ؟ کیا اللہ کے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے نہیں فرمایا جو بخاری مسلم جیسے کتابوں میں آیا ہے کہ :

"المسلمون عند شروطھم"5 (مسلمان اپنی وضع کردہ شرطوں کی پاسداری کرتے ہیں)

اس پر میں یہ عرض کروں گا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ بلکہ حدیث کا یہ ٹکڑا   مقید ہے۔ چناچہ علامہ قسطلانی نے یہ روایت نقل فرما کر فورا کہا کہ:

أي الجائزة شرعا (یعنی وہ شرطیں جسے شریعت نے بھی روا رکھا ہو)

چناچہ کیا آپ نے بی بی بریرہ  ، رضی اللہ تعالی عنہا ،کا مشہور واقعہ نہیں سنا جو بخاری میں ہے کہ جب بی بی عائشہ  ، رضی اللہ تعالی عنہا ،   نے انہیں خرید نا چاہا تو ان کے بیچنے والوں نے  یہ شرط لگائی کہ ولا انہیں کی ہو گی اور انہوں نے اصرار کیا۔  اس پر ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  برہم ہوئے اور بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ،سےفرمایا کہ: "خرید لو، ولا کی شرط  بھی لگا لو۔ ولا  بہر کیف اسی کی ہے جو آزاد کرے"۔6

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کچھ شرطیں ایسی ہیں جو کالعدم ہو جاتی ہے لیکن اس سے عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

شاید اس پر آپ یہ کہیں کہ  یہاں ولا کا حق اللہ تعالی نے کسی کو دیا ہی نہیں، اس لیے یہ شرط کالعدم ہے۔ لیکن زیر بحث شرط اس قبیل سے نہیں۔ اس پر عرض یہ ہے کہ ہم دین کو فقہا کے منہج کے تحت سمجھتے ہیں   اور فقہا نے جہاں شرطیں بیان فرمائی ہیں وہاں وہ صاف الفاظ میں لکھتے ہیں کہ  کچھ ایسی ہیں جو اگر عائد کر بھی دی جائیں، تو قانون کی نگاہ  میں وہ کالعدم   ہیں اور انہیں ماننے والا اخلاقی طور سے اس کا  پابند نہیں۔ اس کی دو مثالیں پیش خدمت ہیں:

۱: علامہ قدوری اپنی مختصر میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے باربرداری کا جانور کرائے پر دیتے ہوئے یہ شرط عائد کی کہ   اس پر ایک من گندم لادو گے، تو اس پر   بوجھ اور باربرداری میں گندم جیسی کوئی اور چیز بھی لادی جا سکتی ہے۔ "گندم" کا کہنا  (تسمیہ)کالعدم ہو گا۔   بلاشبہ، یہ عرف ورواج میں دیکھ   کر فیصلہ ہوتا ہے کہ  کسی چیز سے  فرق پڑتا ہے یا نہیں لیکن مقصود یہ دکھانا ہے کہ اگرچہ  عقد میں اس کا ذکر ہے، لیکن   اس کی کوئی حیثیت نہیں اور  کرایے پر لینے والا اس کا پابند نہیں۔7

۲: نیز فقہا فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی جانور بیچا اور یہ شرط عائد کی کہ اسے وہ آگے نہیں بیچے گا ، تو  ظاہر الروایہ کے مطابق شرط باطل اور سودا درست جیسا کہ علامہ سرخسی  رحمہ اللہ تعالی نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔  قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے ایک روایت ایسی منقول ہے جس میں سودا  باطل ہوتا ہے، لیکن  حنفی فقہا نے اپنی ترجیح کا وزن اس کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔8

شاید یہاں آپ کہیں کہ یہ شرط اس لیے  لغو ہے کہ اس میں  بائع یا مشتری کا  نفع نہیں جبکہ برقی منڈیوں کا مقصد ان منڈیوں سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے خود اوپر ان "ساہو کاروں" کے حوالے سے کہا۔

اس پر عرض یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ اس شرط کے گرنے کی وجہ وہی جو آپ نے بیان کی۔ لیکن اگر  اس سے یہ مراد لیا جائے کہ شرط لگانے والے کے ذہن میں مستقبل میں کسی بھی قسم کا نفع  لینے کے امکان کی نفی مراد ہے، تو فقہا کی  اس  مثال پر بھی اشکال پیدا ہو جاتا ہے۔ چناچہ دیکھیے ایک بندے کو اپنی چیز بہت پسند ہے اور وہ اسے مجبوری میں بیچتا ہے اور ساتھ ہی یہ لاگو کرتا ہے کہ تم اسے بیچو گے نہیں  اور اس کے من میں یہ ہے کہ جلد ہی وہ اپنی یہ قیمتی چیز اس سے واپس خرید لے گا اگرچہ  کچھ زیادہ قیمت دینی پڑی۔ پر اگر  اس نے آگے بیچ دی، تو وہ کہاں اس کے لیے سرگرداں رہے گا۔بلاشبہ، یہ بھی ایک گونہ نفع ہے۔ لیکن اس طرح  کے امکانات کا فقہا نے لحاظ نہیں فرمایا۔ بلکہ محض وہ "نفع" مراد ہے جو براہ راست  ہو۔ چناچہ ہماری مثال میں دیکھیے کہ یہ ساہوکار اس طرح کی شرطیں لگا کر مستقبل کا نفع ہی محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہ شرط لگانا ایسا ہی ہے کہ رشتہ کروانے والی دونوں خاندانوں سے، جن کا اس نے ملاپ کروایا، کہے کہ "آئندہ بھی اگر تم لوگوں نے آپس میں رشتہ کیا تو مجھے بیچ میں لانا" (یعنی بس فیس دے دینا، دوسرے الفاظ میں)۔ ظاہر ہے کہ اسے ایک مضحکہ کہا جا سکتا ہے لیکن اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں۔

اس لیے، بندے کے ہاں ان برقی منڈیوں کے اس نفع کی کوئی حیثیت نہیں اگرچہ وہ اسے عائد کر دیں اور اگرچہ خدمت گزار کو معاہدے میں اس شرط کی ڈور سے باندھا گیا ہو۔

یہاں آگے بڑھنے سے پہلے میں اس مسئلے کی ایک اخلاقی اور کلامی جہت پر بھی بات کرنا چاہوں گا کیونکہ بعض وہ دماغ جو تجرید  ی وفکری بالاخانوں میں محو استراحت ہوتے ہیں اور منڈی کی    تلخی وسختی سے انہیں کوئی یارا نہیں ہوتا ، اس طرح کی باتیں   ان کی اعلی اخلاقی اقدار  کو کچوکے لگاتی ہے  اور وہ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جسے اتفاق نہیں وہ جائے اور ان چیزوں سے فائدہ نہ اٹھائے۔ لیکن حقیقت میں یہ اسلام کی حقیقت پسندی ہے کہ اس نے ساہوکاروں، سرمایہ داروں اور وہ لوگ جن کے ہاتھ میں ذرائع کی لگام   ہے، انہیں کھلی چھٹی نہیں دے دی کہ وہ اس طبقے کا استحصال کرتا رہے جو نان جویں کے لیے اس   عالم اسباب میں ان کے در کا سوالی ہے۔ چناچہ  اس طرح کے لوگ ایک جتھا (کارٹل)بنا کر اپنی مرضی کی شرطیں عائد کر دیں اور چونکہ ہر منڈی کا کرتا دھرتا اس جتھے کا حصہ ہے اس لیے ہر بندہ اسے ہی ، ان ساہو کاروں کی شرائط پر،  استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے جیسا کہ شوگر ملز وغیرہ کے مالکان کرتے ہیں۔ اس لیے، اسلام نے   ایک طرف "المسلمون عند شروطهم"  کا خوبصورت اصول دیا اور دوسری طرف اس   کابھی خیال کیا کہ یہ دائرہ لا تعین  نہ بن جائے  بلکہ اس پر قدغن لگا دی۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ کہنا برمحل ہو گا کہ فقہا کے ہاں جس شرط میں بائع، مشتری یا مبیع (یہ محض غلام کی صورت میں ہے) کا نفع ہو اس سے بیع فاسد ہو جاتی ہے، ورنہ شرط گر جاتی ہے۔

دوسری شرط:  رابطہ کے ذرائع کا تبادلہ

دوسری شرط ان منڈیوں  کے طرف سے  یہ  بھی عائد کی جاتی ہے کہ صارفین اپنا پتہ وغیرہ ایک دوسرے کو نہیں دیں گے۔ چناچہ ان کے الفاظ پر غور کیجیے:

You must not post your email address or any other contact information (including but not limited to Skype ID or other identifying strings on other platforms) on the Website, except in the "email" field of the signup form, at our request or as otherwise permitted by us on the Website.9

اس شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ   ان منڈیوں کی برقی کھڑکیوں  میں اپنے رابطے کا طریقہ ایک دوسرے کو نہیں بتائیں گے اپنے برقی پتے ایک دوسرے کو نہیں دیں گے ۔

اور جو یہ کہا گیا کہ:

except in the "email" field of the signup form

تو اس سے مقصود اس کا خود کار نظام ہے جس میں خدمت گزار اپنی معلومات ڈالتا ہے جو صارفین کی پہنچ سے کوسوں دور ہوتی ہے۔

بلاشبہ، اس شرط کی پاسداری ایک مسلمان پر ضروری ہے کیونکہ اس شرط کا  مقصد یہ ہے کہ وہ منڈیاں   ایک برقی کھڑکی  مہیا کر رہی ہیں جس سے  فریقین گفت وشنید کر سکتے ہیں۔ اور ان کی اس سہولت پر وہ بات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جس سے انہوں نے منع کیا کیونکہ یہ اس  منصوبے ہی کا حصہ ہے  اس سے باہر نہیں۔ لیکن یہاں بھی  ایک مسلمان کے لیے دو باتیں ہیں:

ا:  اس کے لیے بلاشبہ، یہ روا نہیں کہ اپنا سراغ وہاں دے یا اس سے مانگے۔

۲: لیکن بعض اوقات  صارف  یا خدمت گزار خود اپنا پتہ وہاں لکھ دیتا ہے۔ اس صورت میں ایک مسلمان  کے لیے یہ روا ہے کہ اس پر رابطہ کر لے کیونکہ اس نے کوئی مخالفت نہیں کی۔ ان برقی منڈیوں میں پھندے (کڑکیاں) نصب ہوتے ہیں جو خود کار اس طرح کی چیزوں کو پکڑ لیتے ہیں، لیکن جس طرح فیس بک وغیرہ پر اس طرح کے پھندوں سے لوگ ہوشیاری سے بچ جاتے ہیں ، وہاں بھی بچ جاتے ہیں۔ یہاں مقصود یہ کہنا نہیں کہ ایسا کرنا چاہیے بلکہ صرف قاری کو بتانا ہے کہ جس صورت کی بات کی جاری ہے وہ محض فرضی نہیں اور ایسا ہوتا ہے۔ نیز اس برقی ساگر میں کسی کا نام ہی لے کر اسے گوگلایا جائے (یعنی گوگل پر تلاش کیا جائے)تو اس سے رابطے کے راستے خود بخود  آپ کے قدم چومتے ہیں چناچہ اس کے ذریعے سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بچھڑ چکے تھے ، پھر ملے۔ یہاں پھرمیں یہی عرض کروں گا کہ اس بات کے کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایسا ہوتا ہے اورفرضی بات نہیں۔

اس لیے، پوری گفتگو کا نتیجہ یہ کہ:

۱: وہ لوگ آپس میں  ان برقی ڈیروں سے باہر ملاقات کر سکتے ہیں اور اس سے حاصل شدہ آمدن رواہے۔

۲: نیز اگر کسی مسلمان نے  ان کی برقی کھڑکیاں استعمال کر اپنا پتہ دوسرے کو دے دیا، تو بلاشبہ وہ گناہگار ہے  کہ اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

۳: لیکن اس کی آمدن بہر کیف درست ہے کیونکہ اسے پیسے یہ برقی بازار نہیں دیتے بلکہ  صارف دیتا ہے ۔ ان برقی بازاروں کے پاس ان صارفین اور خدمت گزاران سے پیسا آتا ہے، ان کے پاس جاتا نہیں ۔  اور اس نے صارف کی شرط نہیں توڑی۔ اس لیے، یہاں اس کی آمدن کے حرام ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

۴: اگرچہ  احتیاط اسی میں ہے کہ ان  برقی بازاروں کے نظام ہی سےمعاملہ کرنا چاہیے کہ اس میں صارف وخدمت گزار دونوں  کے لیے اطمینان ہے کہ اس میں دونوں میں سے کوئی کام کروا کر آسانی سے پھر نہیں سکتا اور ایک نظام میں بندھا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہاں مقصود فقہی حکم کا تعین ہے، اس لیے بہر کیف ان کے لیے ان منڈیوں سے باہر بھی ملاقات جائز ہے۔

آخر میں عرض یہ ہے کہ  یہی اصول  دوسری منڈیوں پر بھی عائد ہو گا جیسا Olex  وغیرہ۔ البتہ اگر کوئی اور خاص شرط ہو تو اس پر غور وفکر کر کے اس کا حکم بیان کیا جائے گا۔ .والله أعلم،!


حواشی

(1)  Glare P.G.W., ed. Oxford Latin Dictionary. Oxford University Press 1968.
(2) https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/freelance. This link and all the subsequent links accessed at: 3/6/2021 7:04 PM.
(3) https://www.freelancer.com/feesandcharges
(4) https://www.freelancer.com/about/terms

(5)  صحيح البخاري، كتاب الإجارۃ، باب أجرالسمسرۃ.

(6)  صحيح البخاري، كتاب الشروط، باب الشروط في الولاء.

(7)  وما لا يختلف باختلاف المستعمل فلا ضمان عليہ فإذا شرط سكنی واحد فلہ أن يسكن غيرہ وإن سمی نوعا أو قدرا يحملہ علی الدابۃ مثل أن يقول: خمسۃ أقفزۃ حنطۃ فلہ أن يحمل ما ھو مثل الحنطۃ في الضرر أو أقل كالشعير والسمسم وليس لہ أن يحمل ما ھو أضر من الحنطۃ كالملح والحديد (مختصر القدوري، كتاب الإجارۃ)

(8) المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع، باب البيوع إذا كان فيھا شرط، (۱۳/۱۵)

(9) https://www.freelancer.com/about/terms

مشاہدات و تاثرات

(اپریل ۲۰۲۱ء)

اپریل ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۴

Flag Counter