اسلامی ریاست کا خواب: کچھ جدید مباحث

عاصم بخشی

(طلال اسد کے اپنے والد کے ساتھ مکالمے کی روشنی میں)


میدانِ صحافت میں روایتی مذہب پسند دوستوں کی رائج تعریفات کے مطابق دایاں بازو مملکت خداداد کو ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جبکہ بایاں بازو سیکولرازم کا پرچارک ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہاں ایک طرف سے اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف پر سوال اٹھتے ہیں تو دوسری طرف سیکولرازم کی تعریف و تعبیر اور اطلاق پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں جو حضرات کسی بھی نظریاتی گروہ کو ایک ٹھوس اکائی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہیں درمیان میں ڈولتے رہنے کا نظریہ اپناتے ہوئے کچھ بنیادی اصولوں پر سمجھوتے کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں، وہ اس میدانِ جنگ میں منمنانے کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں۔ ان منمنانے والی آوازوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذہب کو بھی اپنی زندگی میں اہم اور دلچسپ حقیقت مانتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل بھی چاہتے ہیں جہاں مذہب کو اہمیت نہ دینے یا اپنی ذات تک محدود کرنے کا اصول اپنانے والا فرد بھی مساوی حقوق کے ساتھ ایک بامقصد اور فعال زندگی گزار سکے۔ اگر ایسی آوازوں کو بائیں بازو کی جانب دھکیل کر دیکھا جائے تو وہ مساوی حقوق اور مذہب و ریاست کی علیحدگی کے دعوے میں یقیناًسیکولرازم کے ہم نوا ہیں اور اگر دائیں بازو کی جانب دھکیلا جائے تو وہ سماج میں مذہب کی تمام آفاقی جہتوں سے استفادے کے لئے راہیں ہموار کرنے کے حامی ہیں۔

ہماری رائے میں ان روایتی مذہب پسند دوستوں کے عدم تحفظات اس لئے بے بنیاد ہیں کہ اسلامی فلاحی ریاست کی طرح سیکولرازم کے حق میں کھڑی آوازیں بھی متنوع ہیں اور اس سارے تنوع کو کسی ثنائی منطق کی رو سے علیحدہ کر کے دائیں اور بائیں جانب دھکیل دینا ہمارے سماجی منظر نامے اور اس میں ہوتے مثبت مکالمے کو مصنوعی قطبین پر وضع کرنے کی فاش غلطی ہے۔سمجھ سے باہر ہے کہ پہلے سے قائم شدہ مفروضوں پر اٹل اصرار کے بعد ان کے حق میں فکری اسلحہ جمع کرنے پر صلاحیتیں ضائع کرنا کہاں کی متانت و سنجیدگی اور روشن فکری ہے۔ اس کے برعکس ہمیں تو مکالمے کو اس طرح آگے بڑھانا چاہیے کہ تمام موجود آراء میں فکری ابہام اور پیش کئے جانے والے تجزیوں کے منطقی سقم دور ہو سکیں۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں دو قطبین فرض کر کے باہمی مناظرے نہیں بلکہ مخلوط فکری رویے رکھنے والا ایک سماج فرض کر کے باہمی مکالمے کی روایت کو فروغ دینا چاہئے۔ آخر یہ فرض کرنے میں کیا مانع ہے کہ ہم اپنی اپنی سرحدی چوکیاں چھوڑ کر ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں اور مثبت مکالمے کے ذریعے اپنی تجزیوں کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں اور اپنے فکری ابہام آشکار ہو جانے کی صورت میں ایک جرات قلبی کے ساتھ اپنی آراء سے رجوع کر سکتے ہیں؟ ہم میں سے کون ہے جس نے آج تک اپنی کسی رائے پر نظر ثانی نہیں کی؟ کون اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتا؟ مثال کے طور پر اگر تصوراتی بائیں بازو کے دوست قراردادِ مقاصد کو مساوی شہری حقوق کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں تو اسلامی فلاحی ریاست کے دعویدار کیا کسی ایسی مذہبی تعبیر کی جانب پیش قدمی کر سکتے ہیں جہاں ایک عیسائی یا ہندو کو اپنے مذہبی عقائد کی ترویج و تبلیغ کی اجازت ہو، مذہبِ اسلام کے علاوہ باقی تمام مذاہب کی بنیادی اہمیت پر اتفاق کرتے ہوئے جامعات میں بین المذاہب مکالمے کی بنیاد ڈالی جا سکے، یا مختلف فرقوں کی باہمی تکرار سے بالاتر ہو کر کسی کاسموپولیٹن مدرسے کی جانب پیش قدمی کی جا سکے؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر کیا مان لیا جائے کہ ہمارے دوستوں کے ذہن میں موجود اسلامی ریاست کے خدوخال ایک ایسی ریاست کے ہیں جو شہریوں میں ان کے مذہب کی بنیاد پر فرق کرنے کی قائل ہے اور ریاست میں موجود دوسرے مذہب اور اقلیتی فرقوں کو کسی ایسے مغربی ملک میں ہجرت کی کوشش جاری رکھنی چاہئے جہاں وہ نفسیاتی طور پر کوئی جبر محسوس نہ کریں؟

دائیں اور بائیں بازو کی تاریخی تعبیرات خواہ کچھ بھی ہوں، سرسری مطالعہ بھی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت اسلامی فلاحی ریاست کے وکلاء کے ذہن میں یہ تمام سوالات مختلف شکلوں میں موجود تھے جن کے جوابات تاحال تشنہ ہیں۔ دائیں بازو کے لکھاریوں کو محمد اسد کی فکر سے رجوع کرنے کا مشورہ اس تناظر میں دیا جاتا ہے کہ وہ ان کی فکر میں سے کسی مناظرے کی تیاری کی طرح دلائل تلاش کریں۔ ہم ان لکھاریوں کا کام آسان کرنے کے لئے وہ سارے دلائل اس مشورے کے ساتھ پیش کئے دیتے ہیں کہ وہ اپنے تناظر کو کسی فکری جنگ جیتنے کے مقصد تک محدود کرنے کی بجائے محمد اسد کی فکر کا مطالعہ کھلے ذہن سے کریں، ضرورت پڑے تو ان سے اختلاف بھی کریں اور نئے مباحث کی روشنی میں اسی فکری روایت کا ارتقاء کریں جس کے امین محمد اسد اور علامہ اقبال جیسے مفکرین تھے۔محمد اسد کی کل فکر عقل، اسلامی روایت یعنی نقل اور انسانی ارادے کو ایک باہم اکائی میں پرونے کی جدوجہد سے عبارت تھی۔ وہ کوئی سیاست دان یا فلسفی نہیں بلکہ مذہبی مفکر تھے اور مذہب کے بارے میں ان کا بنیادی مفروضہ یہی تھا کہ الہامی روایت انسانی عقل کو اپنا مخاطب کرتی ہے اور محض کچھ مابعدالطبیعیاتی دعووں پر اصرار کی بجائے ایسے سوالات اٹھا دیتی ہے کہ انسانی وجدان انہیں اہم مانتے ہوئے جواب کی تلاش میں نہ صرف خود اسی روایت بلکہ نفس انسانی اور کائنات میں موجود مختلف حقائق کی جانب رجوع کرتا ہے۔ 

سیاست کے باب میں ان کے کتابچے ’’اسلامی مملکت و حکومت کے بنیادی اصول‘‘ میں عقل، نقل اور ارادے کی اس طلسماتی اکائی کی تلاش واضح ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ اپنے کتابچے کی ابتداء ہی میں وہ ہمیں سیکولرازم کی ایک تعریف فراہم کرنے کے بعد اس سوال سے بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر ایک سیکولر ریاست کیوں نہیں؟ ان کے نزدیک دورِ حاضر کی سیکولر ریاست میں ’’کوئی ایسا مستقل معیار موجود نہیں جس کی بناء پر حق و باطل اور نیک و بد کے درمیان فیصلہ کیا جا سکے ۔۔۔ معاصر مغربی سیاسی نظاموں جیسے اقتصادی آزادی، اشتمالیت (کمیونزم)، قومی اشتراکیت (نیشنل سوشلزم)، عمرانی جمہوریت وغیرہ میں کوئی بھی اس کشیدگی اور ابتری کو کسی ایسی چیز میں نہیں بدل سکا جو نظم سے مشابہ ہو۔ وجہ صرف یہ ہے کہ کسی نے بھی سیاسی اور عمرانی مسائل پر مستقل اخلاقی اصول کی روشنی میں غور کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس ان میں سے ہر نظام میں نیکی اور بدی کے تصور کی بنیاد اس طبقے یا اس طبقے، اس گروہ یا قوم کے مفروضہ مفاد پر ہے۔‘‘ (ترجمہ: مولانا غلام رسول مہر)

یاد رکھنا چاہئے کہ صرف یہی وہ واحد مفروضہ نہیں جس پر محمد اسد کا پورا اسلامی ریاستی ڈھانچہ کھڑا ہے بلکہ یہ ذکر کرنے کے بعد کہ کوئی مستقل اخلاقی اصول نہ ہونے کے باعث اخلاقی ضوابط کی قطعیت متاثر ہوتی ہے، وہ ہمیں اپنے دوسرے اہم ترین مفروضے سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ مفروضہ اصولِ راحت ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کوئی قوم یا جماعت اس وقت تک راحت سے ہمکنار نہیں ہو سکتی جب تک اس میں حقیقی اتحاد موجود نہ ہو۔ کوئی قوم اس وقت تک متحد نہیں ہو سکتی جب تک نیک و بد کے متعلق اس کے اندر وسیع ہم آہنگی پیدا نہ ہو جائے۔ اس قسم کی ہم آہنگی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ قوم یا جماعت کسی دائمی اور مستقل اخلاقی قانون سے پیدا ہونے والے اخلاقی ضابطے پر متفق نہ ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ صرف مذہب اس قسم کا قانون فراہم کر سکتا ہے اور یہی قانون کسی گروہ کے اندر اس اخلاقی ضابطے پر اتفاق کی بنیاد بن سکتا ہے جو گروہ کے تمام افراد پر واجب و لازم ہو۔ ‘‘(ترجمہ: مولانا غلام رسول مہر)

یہ ہیں اس فکری اسلحے کے وہ دو اہم ستون جس کی طرف ہمارے کچھ صحافی دوست اپنے دائیں بازو کی لکھاریوں کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔ ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ اگر آپ واقعی کسی اسلامی فلاحی ریاست میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اگلے دو تین سو سال تک مملکت خداداد پاکستان کے کسی قدیم آئینی مخطوطے پر قراردادِ مقاصد کی خشک سیاہی کو تبرک کے طور پر محفوظ رکھنا ہی آپ کا ہدف نہیں تو پھر بحیثیت مذہب پسند مفکرین آپ کے وقت کا بہتر مصرف اپنے تصوراتی فریق سے مجادلہ و مناظرہ کی تیاری کی بجائے جدید مباحث کی روشنی میں رائج مذہبی تعبیرات پر تنقید و تجزیہ ہونا چاہئے۔ محمد اسد ہوں یا اقبال، اپنے تئیں صرف کچھ ایسے اشارے فراہم کر گئے ہیں جو جدید مسلم سماج ا ور ریاست کی تشکیل میں ایک فکری پڑاؤ کا سا درجہ رکھتے ہیں کیوں کہ سماجی تشکیل کے سفر میں کبھی کوئی حتمی منزل نہیں آتی۔ نت نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ان کے حل کے لئے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کئے بغیرفکری ارتقا بھی جاری رہتا ہے۔پھر اگر آپ دائیں بازو کے مجاہد ہیں اور آپ کی نگاہ میں آج کے دور میں محمد اسد کی فکری میراث کی اہمیت برقرار ہے تو کیوں نہ لگے ہاتھوں ان کے روشن فکر پسر طلال اسد کے کام پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے؟ 

یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ طلال اسد جدید لبرل نیشن اسٹیٹ اور سیکولرازم کے صف اول کے نقاد ہیں اور سیکولر ثقافت اور بشریات کے علوم میں ان کا تنقیدی کام چارلس ٹیلر کی طرح ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم یہاں ان کے اپنے والد پر ایک طویل مضمون کے نصف آخر کا ترجمہ پیش کر تے ہیں تاکہ محمد اسد اور طلال اسد کے مابین اس مکالمے کے ذریعے اہم اسلامی ریاست کے اس خواب کو کل اور آج کے تنقیدی مباحث کی روشنی میں تجزیاتی عمل سے گزار سکیں۔ مضمون کے پہلے حصے میں انہوں نے اپنے والد کی حیات و فکر کا ایک مختصر احاطہ کیا ہے۔اقتباس طویل ہے اور محمد اسد کی فکر کی جانب تمام اشارے ذرا سی تگ و دو سے محولہ بالا کتابچے میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ ہماری رائے میں یہ صرف بنیادی مباحث کا ایک خاکہ ہے جس کو پیش کئے جانے کے اور اس کی ناگزیر تفہیم کے بعد ہی تجزیہ و تنقید کا عمل مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ 

طلال اسد لکھتے ہیں:

’’میرے والد کے لئے قانون اور اخلاقی ڈھانچے میں رتی برابر فرق نہیں، خاص طور پر مسلمانوں کے لئے جنہیں ارادہ خداوندی کے سامنے سر جھکا دینے کا حکم ہے۔ میرے والد کا ماننا تھا کہ مذہبی بنیادوں پر ایک ریاست کی تشکیل ضروری ہے کیوں کہ صرف ایک ریاست ہی قانونِ خداوندی کو وہ طاقت دے سکتی ہے جو اسے واقعتا ایک قانون بنائے اور قانونِ خداوندی ہی تمام مستند اخلاقیات اور مسرتوں کا منبع ہے۔ لیکن یہاں میں ذرا ٹھٹک کر ان سے یہ سوال پوچھتا ہوں: کیا غیرمسلموں کے لئے کسی اسلامی ریاست میں اخلاقی طور پر رہنا ممکن ہے؟ اگر ان کو ریاستی قانون کی اخلاقی طاقت کے آگے سرنگوں ہونے پر مجبور نہ کیا جائے تو ان پر اعتبار کر نے کی کیا حدود ہیں؟ 

اسلامی ریاست کے کئی طرفداروں کی طرح میرے والد کا بھی ماننا تھا کہ غیر مسلموں کی مکمل حفاظت ممکن بنانا تو ریاست کی ذمہ داری ہو گی، لیکن وہ اسلامی ریاست کے اہم عہدوں پر فائز نہیں کئے جا سکیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کوئی ناانصافی نہیں بلکہ اس کے برعکس اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ غیرمسلموں کو کسی ایسی ریاست کے ساتھ ’کامل وفاداری‘ (ان کے اپنے الفاظ) کے عہد میں باندھنا ناانصافی تصور کیا جاناچاہئے جس کا نظریہ ان کے نظریے سے مختلف ہو۔ بالفاظِ دیگر ریاست اہم عہدوں پر فائز افراد سے کامل وفاداری کا مطالبہ کرتی ہے اور پھر ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قومی قانون کے دائرہ کار میں ریاست کے باقی تمام شہریوں کو لائیں گے۔ چونکہ کسی اسلامی ریاست میں غیر مسلم یہ دہرا فریضہ سرانجام نہیں دے سکتے، لہٰذا اس حقیقت کا اقرار کرنا لازم ہے۔ اس سے زیادہ معقول بات او ر کیا ہو سکتی ہے؟ 

میں اپنا تبصرہ یوں پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے شہریوں سے حتمی وفاداری اور اتحاد کا یہ ریاستی مطالبہ کلی طور پر جدید ہے۔ تمام شہریوں کا سیاسی اتحاد اور ریاست سے غیرمشروط وفاداری کا مطالبہ ’نیشن اسٹیٹ‘ کے وہ اصول ہیں جو اپنے دشمنوں سے دفاع کی خاطر وضع کئے گئے ہیں، چاہے وہ دوسری دشمن ریاستیں ہوں یا اپنے ہاں کے غدار۔ یہ وہ اصول ہیں جو ماقبل جدید دور کی ریاستیں نہ تو طلب کر سکتی تھیں اور نہ ہی طلب کرنا چاہتی تھیں۔ ماقبل جدید دور کی شاہی ریاستوں کے لئے عام شہریوں کی بجائے شرفاء، جرنیلوں اور گورنروں کی وفاداری اہم تھی۔ چونکہ جدید ریاست کی اساسی علت اندرونی و بیرونی دشمنوں کا خوف ہے، لہٰذا وہ اتحاد کے مطالبے کے لئے طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ جہاں کوئی بھی فرد یا شہری وفاداری کے اس معیار پر پورا نہیں اترتا، ریاست اس فرد کے شکوک و شبہات اور اختلافات سے قطع نظر اسے بزورِ طاقت وفاداری پر مجبور کرتی ہے۔ اس حالت میں دوسرے سیاسی سماج اس کے واقعی یا امکانی دشمن بن جاتے ہیں اور کوئی بھی ایسی ریاست جس کی بقا بالاترین اہمیت کی حامل ہو،اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدام کر گزرے گی۔

اب جدید ریاست کی ہر جہت بھی اتنی شاندار نہیں۔

جدید لبرل ریاست ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو ایک ہی وقت میں بہت سے مشترکہ مفادات کا حصول بھی ممکن بناتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہر ممکن ظلم و جبر کا منبع بھی ہے۔ حاکم اور محکوم ریاست سے علیحدہ کھڑے نظر آتے ہیں، وہ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ریاست لافانی رہتی ہے۔ حکومتی ڈھانچہ ریاست کے اتحاد کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے جن کی وہ ریاست ہوتی ہے۔ شہریوں کو مخاطب کرتے وقت ریاست انہیں قائل کرنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ قوانین کے ذریعے ’قومی مفاد‘ کو لاگو کرتی ہے اور ان تمام وسائل کی مالک ہوتی ہے جو نافرمانوں کی سرکوبی کرنے کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس قانون کی تقریباً لاانتہا تعبیرات کی جا سکتی ہیں لیکن لاگو کی جانے والی تعبیر ریاست کے عدالتی بازو کے حکم کے مطابق ہوتی ہے۔ یہاں کسی مخصوص تعبیر کا بطور قانون نفاذ ہی تشدد کی کسی بھی شکل کو جواز بخشتا ہے۔ ریاست کا تشدد پر اختیار اور نظم و ضبط قائم رکھنے والا مرکزی انتظامی ڈھانچہ اسے وہ طاقت مہیا کرتے ہیں جو کوئی شہری کسی بھی طور مجتمع کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہ سچ ہے کہ لبرل سیکولر ریاست اختلافِ رائے اور مشترکہ رائے عامہ کی ہمواری کا حق دیتی ہے، لیکن کوئی بھی ریاست (اپنے حکومتی ڈھانچے ) کے ذریعے اضطراب انگیز توہین کی اجازت نہیں دیتی کیوں کہ یہ اس کے مقدس وجود کے لئے ایک خطرہ ہوتا ہے۔

یہ بالکل حیران کن نہیں کہ کچھ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست سے کامل وفاداری (اور جدید ریاست کامل غیر مشروط وفاداری کا مطالبہ کرتی ہے) اس حتمی وفاداری سے باہم متناقض ہے جو وہ صرف اور صرف خدا کو دینے کے مجاز ہیں۔ بہت سے دوسرے مسلمانوں کی طرح میرے والد بھی خدا کو اس کی مخلوق میں تلاش کرنے کو شرک سمجھتے تھے۔ اور جدید ریاست تو اس کی مخلوق کی تخلیق ہے۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی مخلوق کی تخلیق سے حتمی وفاداری خود خدا سے وفاداری سے مقدم ٹھہرے؟ لہٰذا مجھ پر کبھی پوری طرح واضح نہیں ہو سکا کہ میرے والد نے کیسے اسلامی ریاست کو حتمی وفاداری طلب کرنے کا حق دیا، خاص طور پر اس وقت جب کلمہ شہادت، خدا اور اس کے رسول سے حتمی وفاداری کے علاوہ ارضی حکمرانوں اور ارضی تنظیموں کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ 

کارل شمٹ کے ’مقتدر اعلیٰ‘ کے مشہور نظریے کے برعکس جو ایک سیاسی الٰہیات کی تشکیل کرتا ہے، سلف صالحین کی روایت میں تو ریاست کو کسی سیکولر الٰہیاتی تصور کے ذریعے جواز مہیا نہیں کیا جا سکتا۔یہ وہی علت قیاس ہے جو شمٹ کے مقتدر حکمران کے قانون میں استثناء متعین کرنے اور خدا کے قوانینِ فطرت میں دخل انداز ہو کر معجزے برپا کر دینے کی قابلیت کے درمیان ہے۔ اس اسلامی روایت میں خدا کو ایک آسمانی بطریق (جیسے جدید یوروپی روایت کے دورِ اول میں بادشاہوں کو ظلِ الٰہی کا حق دیا جاتا) یا کسی آسمانی عہد کے خالق (جیسے جدید سیاسی فکری تشکیل کے اوائل میں سماجی معاہدہ تھا)کے طور پرمتصور نہیں کیا جا سکتا۔ کلاسیکی اسلامی روایت میں ’مقتدرِ اعلیٰ‘ کے سیاسی نظریے کی غیرموجودگی ہی کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ جدید ریاست اپنے شہریوں سے حتمی غیر مشروط وفاداری کا تقاضا نہیں کر سکتی۔ عصر حاضر میں اسلامی ریاست کے کئی طرفدار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ریاست خدا کے نام پر حتمی مقتدر اعلیٰ ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ نص قرآنی سے ثابت ہے کہ پوری کائنات خدائی اقتدار کے تابع ہے، کوئی ریاست ایک سماجی معاہدہ ہوتے ہوئے کیوں کر یہ خاص حق رکھ سکتی ہے کہ اپنے شہریوں سے حتمی وفاداری کا تقاضا کرے؟ ظاہر ہے کہ جب کوئی ریاست ہی الٰہیاتی مقتدرِ اعلیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی تو پھر کسی اسلامی ریاست کا نمائندہ کیوں کر ایسے کر سکتا ہے؟ ریاست یقیناًہماری عصر حاضر کی دنیا میں کئی ایسے افعال کے باعث ناگزیر ہو گی جو صرف وہی انجام دے سکتی ہے، اور اس حد تک بھی کہ وہ فعال اور منصفانہ طریقوں سے اپنے شہریوں کی تائید حاصل کرے بلکہ ان غیرملکیوں سے بھی جو اس کے علاقے میں رہ رہے ہو یا سفر میں ہوں۔ لیکن اسلامی روایت کی رو سے ریاست کوئی الٰہیاتی منصب نہیں اپنا سکتی کیوں کہ شمٹ کے استدلال کے برعکس، جو عیسائی تاریخ سے دلیل لاتا ہے، اسلامی ریاست خدا کے منہ سے بولنے پر اصرار نہیں کر سکتی۔ یہ مخلوق ہے، نہ کہ خالق۔

یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہری اس سے حتمی طور پر وفادار نہیں ہو سکتے، جب کہ میرا استدلال ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ وفادار ہو سکتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کسی اسلامی ریاست میں ایسی حتمی وفاداری کا تصور ہی مشکوک ہے۔ لیکن آخر اس کے علاوہ اور ایسا کیا ہے جو ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم نہیں کر سکتے؟ میرے والد کا کہنا تھا کہ اسلامی ریاست میں تمام شہریوں بشمول غیرمسلموں کو کھلم کھلا اختلافِ رائے اور حکومت پر تنقید کا حق ہو گا۔ لیکن ایک اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کس حد تک اس حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں جو صحیح معنوں میں ان کی حکومت ہی نہیں؟ یہ صرف خوف کا نہیں بلکہ ان کے ریاست میں عمل دخل کا بھی معاملہ ہے۔ ایک جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست پر فرض ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں رائے اور ’عقیدے‘ کی اجازت دے۔لیکن ہر شہری کو یکساں تحفظ دینے کے معنی عوامی زندگی میں یکساں طور پر کردار ادا کرنے کے نہیں ہیں۔اسی لئے جب ہم کہتے ہیں کہ بالغوں پر بچوں کی حفاظت فرض ہے تو اس کے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بچے کو بڑوں کی طرح زندگی گزارنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ کیا اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کو بچوں جیسا تحفظ دیا جائے گا؟ یا ان کی کسی ایسی ریاست کی جانب ہجرت کے لئے حوصلہ افزائی کی جائے گی جہاں مسلمان اکثریت میں نہ ہوں؟ بات یہی ہے کہ ریاست ’ان‘ کی تو نہیں، کیوں کہ غیرمسلم شہری ہونے کے ناتے وہ حقیقت میں تو اس کی نمائندگی نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح جیسے اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی نمائندگی ایک یہودی ریاست نہیں کر سکتی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا عیسائی۔

لہٰذا میں پورے احترام کے ساتھ اس معاملے پر اپنے والد سے اختلاف کرتا ہوں اور اپنے اختلاف کے لئے اسی حدیث مبارکہ کو پیش کرتا ہوں کہ ’’میری امت میں علماء کا اختلاف رحمت ہے‘‘، کیوں کہ ہم دونوں ہی اسلامی روایت کے عالم ہیں ،گو وہ یقیناًمجھ سے علم و فضل میں کہیں آگے تھے۔

لیکن میری رائے میں اس کے باوجود میرے والد کے ایک اسلامی ریاست کے لئے استدلال میں ایک ایسا اہم پہلو تھا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: یہ سیاسی زندگی میں مذہب اور اخلاقیات کا عمل دخل ہے۔ اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے ریاست اور سیاست میں امتیاز قائم کرنا ہو گا، جہاں اول الذکر کا تعلق طاقت کے استعمال اور وفاداری کے مطالبے (جہاں سے غداری کے خلاف قوانین کا استدلال کیا جاتا ہے) یعنی ناگزیر طور پر خوف سے ہے۔ یہ خارجی و داخلی تشدد کا خوف ہے۔ قانونی سزائیں اور جنگ مقتدر ریاست کے مرکزی افعال ہیں۔سب جانتے ہیں کہ ریاست کا یہ تصور تھامس ہوبس کا دیا ہوا ہے اور جدید ریاست کے بارے میں یوروپی روایت کا نکتہ آغاز ہے۔ دوسری طرف سیاست کے معنی مباحثے، جدوجہد اور مساوات کے حصول کے ہیں، کیوں کہ جو بھی میرے کسی دعوے سے اختلاف کرتا ہے، وہ دراصل میرے برابر ہونے کا دعویٰ ہی کرتا ہے۔ سیاست کے لئے ریاستی طاقت کے حصول کو مرکز و محور مان لینا ضروری نہیں۔ صرف اقتدارِ اعلیٰ کا تصور ہی یہ مطالبہ قائم کرتا ہے کہ سیاست کا مرکز و محور ریاست ہی ہو۔ 

کیا صرف مادی مفاد اور طاقت کا حصول ہی ارفع رہے گا یا اخلاقیات اور مذہب کو بھی عوامی زندگی میں کوئی جگہ مل سکے گی؟ یہاں تک کہ’’امربالمعروف‘‘ کا مشہور عقیدہ بھی کسی ریاست کو پیش قیاس نہیں کرتا اور ’’لااکراہ فی الدین‘‘ کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ریاست کو مسلمانوں پر جبری عقیدے اور رسوم و قیود کے نفاذ کا حق مل گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تاریخِ اسلام میں حکمران اکثر اپنی حکومت کا یہی جواز پیش کرتے رہے ہیں کہ وہ اندر اور باہر اسلام کے دفاع کے قابل ہیں، لیکن تاریخ کی ہر چیز اس لئے تو تسلیم نہیں کر لی جاتی کہ وہ تاریخی ہوتی ہے۔ تاریخِ اسلام میں امر بالمعروف کو اکثر ریاست کی ذمہ داری مانا جانا خود بخود اس پر دلالت نہیں کرتا کہ مسلمانوں کے پکے مسلمان ہونے کے لئے آج بھی اس انتظامی معاملے کو ماننا ضروری ہے۔ اخلاقیات ریاست کا فعل بنے بغیر بھی سیاست کا حصہ رہ سکتی ہے۔

عصر حاضر کے لبرل سیاسی فلسفے میں ذاتی اور عوامی دائرے ایک دوسرے سے واضح طور پر ممیز ہیں (اس وقت بھی جب حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا)، بالکل اسی طرح جیسے قانون اور اخلاقیات میں ایک دوسرے سے فرق کیا جاتا ہے (حالانکہ اصل زندگی میں وہ ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں)۔ نتیجتاً سیاست کو اخلاقی تناظر میں ایک ایسا غیرجانبدار ضابطہ مانا جاتا ہے جو سیکولر ریاست کے ذریعے پابندیوں کے تابع کیا جاتا ہے اور مذہب کو خیال و عمل کا ایک ایسا میدان جہاں حتمی وابستگیاں اور اقدار ذاتی دائروں میں محدود ہوتی ہیں۔ اخلاقی اور مذہبی اقدار کو ان بنیادوں پر ریاستی انتظام سے باہر رکھا جاتا ہے۔ باہمی اختلافات عقلی استدلال کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے اور ناقابل ضبط تشدد کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔ لہٰذا لبرل تھیوری اخلاقی اور مذہبی اقدار کو ذاتی اقلیم تک محدود کر دیتی ہے جہاں باارادہ شہریوں سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اخلاقیات پر عمل پیرا رہیں۔ لیکن میں ان نقادوں کے ساتھ ہوں جو اس مفروضے کو چیلنج کرتے ہیں کہ ایک سیکولر ریاست امن کی ضامن ہے اور سیاست میں مذہبی مداخلت جنگ اور امن عامہ کے مسائل پیدا کرتی ہے۔

میرا ان سب لوگوں سے یہ سوال ہے جو ریاست کو عوام کی اخلاقیات میں دخل اندازی کا حق دینے میں تو متامل ہیں لیکن جو پھر بھی اس لبرل اصول سے اختلاف رکھتے ہیں کہ قومی سیاست میں مذہب اور اخلاقیات کو داخل نہ کیا جائے: کیا اخلاقیات اور مذہب کو عوامی زندگی میں اس طرح داخل کیا جا سکتا ہے کہ وہ اقتدار اعلیٰ کے تحت نہ ہوں، لہٰذا نہ تو ریاست کو قابو میں کر لیں اور نہ ہی اس میں حصے دار ہوں؟ میری رائے یہی ہے کہ یہ مسئلہ بھی جزوی طور پر میرے والد کے پیش نظر تھا۔اسلامی ریاست کے متعلق ان کے خیالات کی تہہ میں اخلاقیات سے ان کی دلچسپی ہی کارفرما تھی۔ لیکن میری رائے میں وہ سیاست اور ریاست میں فرق کے بارے میں اپنے خیالات ظاہر نہیں کر سکے۔

سیاست کو ’قومی مفادات‘ متعین کرنے سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اسے سماج میں ایسے فکری و عملی اقالیم کی تخلیق کو ممکن بنانا چاہیے جو مقتدر ریاست کے اختیار سے باہر ہوں اور ایسی اصولی وابستگیوں سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئے جو ’قوم‘ کے تصور سے بالا ہوں۔ ان اقالیم میں موجود محکوم شہری نہ صرف ریاست سے فرار حاصل کر سکیں بلکہ اگر ضرورت پڑے تو مذہبی یا اخلاقی اصولوں کی روشنی میں اس کی نافرمانی اور سامنا بھی کر سکیں۔ یہ اصول ریاست کے سیاست پر اثرانداز ہونے کے اصرار کا انکار کرتا ہے۔

مذہب تاریخی اعتبار سے ہمیشہ اصولی طرزِ عمل کا ایک اہم منبع رہا ہے اور آج بھی ہے۔ لہٰذایہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے سیاسی اسلام کے امکانات ریاستی طاقت کے حصول اور ریاستی قانون کے اطلاق کی خواہشات میں نہیں بلکہ عوامی بحث وتمحیص اور تحریک و ترغیب میں ہیں، یعنی ایک ایسی جدو جہد جس کی راہنمائی وہ گہری وابستگیاں کر رہی ہوں جو نیشن اسٹیٹ کی حدود سے ماورا ہوں۔ اس تناظر میں سیاست کچھ پہلے سے متعین آراء کے مابین دنگل نہیں بلکہ ایک دریافت (دریافتِ نو) کا اقداری سلسلہ ہے۔ یہ ایک ایسی کشادگی اور خطرہ مول لینے کی تیاری کو پیش قیاس کرتی ہے جس کو جدید نیشن اسٹیٹ برداشت نہیں کر سکتی۔ میں اپنے والد کی اخلاقی بصیرت اور اس کے ریاست و سیاست سے تعلق کے بارے میں ایک ایسے بنیادی نکتے پر بات ختم کرتا ہوں جو مجھے خاص طور پر اہم محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے ایک سے زیادہ بار بہت جذباتی انداز میں میرے سامنے سورۃ التکاثر کی تلاوت کی: ’’الھاکم التکاثر حتی زرتم المقابر۔۔۔‘‘ وہ کہتے تھے کہ یہ آیات بے انتہا صارفیت (کنزیومرزم) اور حرص کی ملامت کرتی ہیں جس میں انسان (خاص طور پر ہمارے زمانے میں) پھنس چکا ہے۔ وہ آیات جو علم الیقین اور لترون الجحیم کی بات کرتی ہیں، ان کا مقصد ہمیں صرف آخرت کی سزا سے ڈرانا نہیں بلکہ اس جہنم سے بھی خبردار کرنا ہے جو اس دنیا میں ہے۔ میرے والد ان آیات سے یہ استدلال کرتے تھے کہ اگر ہم واضح طور پر حق کو دیکھ لیں تو ہمیں اپنی گروہی زندگی کی جہنمی جہت کا ادراک ہو جائے گا یعنی وہ نقصان جو ہم خود کو اور دوسروں کو پہنچاتے ہیں۔ یہ ان کے لئے ایک مرکزی اخلاقی نکتہ تھا اور یہ شاید ایک اسلامی سیاست کا نکتہ آغاز بھی ہے: مسلمانوں کے لئے یہ ایمان لانا ضروری ہے کہ حرص بطور ایک گروہی طرزِ حیات (یعنی زیادہ سے زیادہ کی خواہش) اور نمود ونمائش بطور ایک انفرادی طرزِ حیات (جہاں نفس انسانی اور صارفانہ انتخابات کے ڈرامائی مظاہر کو اخلاقی خودمختاری سے خلط ملط کر دیا جاتا ہے) نے مل جل کر لوگوں کو اس چیز سے دور کر دیا ہے جسے وہ ’خدا خوفی‘ یا ’تقویٰ‘ کہتے تھے، یعنی ہمارے ایک خاص طرح زندگی گزارنے کے معروضی نتائج کی آگہی (معاشروں میں بڑھتی ہوئی عسکریت، امیر اور غریب میں بڑھتے ہوئے فاصلے، ماحول کی تباہی وغیرہ)۔

تاہم یہ حقیقت ہمیشہ نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ عصر حاضر میں ہمارے طرزِ حیات کی مرکزی شرطِ لازم ایک مخصوص قسم کی ریاست پر منحصر ہے جو نہ صرف حتمی وفاداری کا تقاضا کرتی ہے بلکہ صارفیت اور انفرادیت پسندی کو باقاعدگی سے بڑھاوا دیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سیکولر لبرل ریاست ایک ایسی متناقضہ قدر کی پشت پناہی کرتی ہے جس کے مطابق مارکیٹ کی شکل میں ’آزادی‘ اور اس کے پھیلاؤ کو ممکن بنانے والے قوانین ، ہر لمحہ زندگیوں میں دخل انداز ہوتے ان باہمی سلامتی کے قوانین سے پوری طرح مطابق رہتے ہیں۔ لہٰذا ریاست ’آزادی‘ کے تحفظ کی خاطر اس پر قدغن لگاتی ہے۔ جہاں تک ریاست کی ایک نیو لبرل معیشت (مارکیٹ کے اصولوں کا پورے سماج پر اطلاق، ملکیت کی نج کاری، مفادات کی آزادانہ تقسیم، اور ایک بڑھتی ہوئی غیرمتوازن دنیا میں منافع کی بے قابو طلب) کی پشت پناہی کا سوال ہے، اسلامی سیاست ریاست کو کسی مخصوص’’ مذہبی‘‘ نظریے سے بدلنے کی بجائے اس کی حدوں سے باہر، بلکہ اس کے مخالف فکری اقالیم میں قدم رکھنے کی جستجو کر سکتی ہے۔ عالمگیر سرمایہ دارانہ رجحانات کے نام نہاد ’مقتدر‘ ریاست کے دائرہ کار پر بہت زیادہ اثرات ہیں، چاہے ریاست اسلامی ہو یا سیکولر۔ اس حالت میں اسلامی سیاست کی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ وہ چنیدہ غیر اسلامی تحریکوں اور ایسی فکری روایات سے اتحاد قائم کرے جو ریاست کی قومی حدود کے اندر بھی ہوں اور باہر بھی۔ 

عدل و انصاف اور اخلاقی بنیادوں پر عوامی مفاد کا حصول حد سے بڑھے ہوئے ایسے مادی فوائد کے حصول سے متضاد ہے جن کی بنیاد یہ ہو کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنی ملکیت میں بڑھوتی کی جائے۔ یہ ایک ایسی پر امن سیاسی جدوجہد ہو گی جس کی بنیاد اس اصول پر ہو کہ موت کے خوف کے باوجود بھی اخلاقی اصولوں پر جمے رہنا لازم ہے۔ اس قسم کی سیاست لبرل ریاست کے سیکولر غیرجانبداری کے دعوے کو قبول نہیں کرے گی۔ اس تناظر میں سیاست لبرل جمہوری ریاست کے اقتدار اعلیٰ اور طاقت کی بجائے جمہوری اخلاقی روایت کی بنیادی قدر کے دفاع اور پھیلاؤ کی خواہش سے جنم لے گی۔

اس ’جمہوری اخلاقی روایت‘ اور ’حقیقی جمہوریت‘ میں کیا فرق ہے جس کے بارے میں آج کل بہت بات ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب یہاں مکمل طور پر تو نہیں دیا جا سکتا، لیکن ان کا فرق ظاہر کرنے کے لئے کچھ نکات ضرور پیش کئے جا سکتے ہیں: جب ہم جمہوری اخلاقی روایت کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہماری مراد ایک باہمی مروت اور لحاظ کی ہوتی ہے، یعنی دوسروں پر محض حکم نہ چلانا بلکہ ان کی رائے کا احترام اور جذبہ ایثار۔ جمہوری اخلاقی روایت میں فرد کو ہر لمحہ اپنی متناہیت، زدپذیری اور بکھر جانے کا احساس ہوتا ہے۔ دوسروں کے کرب اور بکھراؤ کا منظر دردمندی کو دعوت دیتا ہے۔ یہاں اپنا کرب صرف مشکل میں ہونے کی علامت نہیں بلکہ درد و کرب کو عظمت بخشے بغیر ایک مثبت زندگی کی علامت بھی ہے۔ دوسری طرف جب ہم لبرل جمہوری ریاست کو دیکھتے ہیں تو اس کی شکل میں ہمیں حقوق کا ایک ایسا محافظ نظر آتا ہے جس کی توجہ کا مرکز گروہی شناخت ہے۔ یہاں ہمیں ایک ٹھوس اکائی، تمام شہریوں کے قانونی تحفظ اور ریاست کے بنیادی طور پر اصولِ تحفظ کے گرد گردش کرنے کا ادراک ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ریاست حاکموں اور محکوموں سے الگ کھڑا ایک ڈھانچہ ہے جو قومی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دے سکتی ہے اور اپنے قومی مفادات کے دفاع میں جنگ چھیڑ سکتی ہے۔ ایک عوام کی نمائندہ جمہوریت میں فرد، فطرت اور دوسرے افراد کے تشدد سے محفوظ رکھے جانے کی ایک شے ہے اور مقتدر اعلیٰ کا تشدد پر کلی اختیار مقاصد کی رسائی کا ایک طریقہ کار۔ نیشن اسٹیٹ تمام شہریوں کے خوف سے نمٹنے کے لئے انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ’ریاست کے ارفع مقصد‘ کی خاطر قربانی کے ذریعے ایک قسم کی لافانیت بھی عطا کر تی ہے۔ یہاں فرد کی ذات کی قربانی ریاست کا وہ مطالبہ ہے جو وہ کسی فرد کے دوسروں کے لئے اخلاقی جذبہ ایثار کے اصول کے تحت نہیں بلکہ تمام شہریوں کی بالادست نمائندگی کے ذریعے کرتی ہے۔ میں دہراتا ہوں: یقیناًیہ جدید نیشن اسٹیٹ کا واحد فعل نہیں، ظاہر ہے کہ وہ امن عامہ اور قوانین کا نفاذ اور فلاح و بہبود (اکثر آخرالذکر کی نسبت اول الذکر زیادہ ہوتا ہے)بھی کرتی ہے، لیکن صرف ایک غیرمسلح جدوجہد ہی بطور ایک مذہبی و اخلاقی فعل (جہاد) کے، درست طور پر مشترکہ مفادات کے تحفظ کا بار اٹھا سکتی ہے اور عصر حاضر کی عالمگیر تباہیوں کا مقابلہ کر سکتی ہے، ایک ایسی جدوجہد جو موت کے خوف کے بغیر کی جائے، لیکن موت کے لئے نہ ہو۔ 

اس تناظر میں سیاست کوئی ایسا سماجی ضابطہ نہیں جس کا مقصد مشہور لبرل نظریہ ساز جان رالز کے مطابق ’’انصاف بطور حسن توازن‘‘ ہو۔ میری رائے میں ایک اسلامی سیاست کے ممکنہ مقاصد اپنے ہم سخنوں کو یہ دعوت دینے پر منحصر ہیں کہ وہ اپنی انفرادی اور گروہی زندگی کو بہتر اخلاقی سمت میں لے کر جائیں۔سیاسی ترغیب کا عمل اپنے سامعین میں کچھ مخصوص جذبات و احساسات کو پیش قیاس کرتا ہے اور اس شخص کے کردار کا عکس ہوتا ہے جو ترغیب و تبلیغ کی جستجو کر رہا ہے اور اس کا بھی جو واقعتا کہا، کیا اور دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ جذبات و احساسات اور کردار کی خصوصیات مل جل کر فیصلہ کریں گی کہ ایک اسلامی سیاست کے ممکنہ امتیازی اہداف کیا ہیں۔ یہ ریاستی تعریف کے تناظر کی طرح کوئی سکڑی ہوئی ’’سیاست‘‘ نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق محض کچھ قومی پالیسیاں وضع کرنے سے ہے جو شہریوں پر بطور قوانین نافذ کر دی جائیں۔ یہ کسی رسمی لفظی بحث تک بھی محدود نہیں۔ یہ سیاست تو غیرمسلموں اور مسلمانوں سے شائستہ تعلقات اور دوستی کے رشتوں کی تشکیل سے متعلق ہے، اس میں مکالمے و مباحثے کے ساتھ سماعت اور اس کے نتیجے میں اپنی رائے کی تبدیلی کی قابلیت بھی شامل ہے۔ یہ سیاست نام کے مسلمانوں اور نام کے غیرمسلموں دونوں کو اپنا مخاطب بناتی ہے اور انہیں دعوت دیتی ہے کہ وہ ایک حالت سے دوسری کی جانب تبدیلی ممکن بنائیں۔ 

اس سیاست کے بارے میں اولین اہم مشاہدہ اس کا، کارل شمٹ کی بااثر تعریف سے فرق ہے جو ’’دوست یا دشمن‘‘ والی ثنویت کے تناظر میں کی گئی ہے اور مقتدر ریاست کے تصور کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہے۔ مجھے یہ واضح محسوس ہوتا ہے کہ ایک اسلامی سیاست کا تصور ہماری توجہ ایک ایسی اسلامی ریاست کے پراجیکٹ سے دوسری جانب مبذول کرا دے گا جو اپنی ماہیت میں جدید ریاست سے کسی درجے میں مختلف نہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ تناظر بھی میرے والد کی حیات و افکار میں مضمر ہے۔ اسی لئے یہ بھی ان کی علمی میراث کا ایک اہم جزو ہے۔ یقیناًیہ ’اسلام اور مغرب کے درمیان مکالمے‘ کے تصور سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کا آج کل بہت فیشن ہے۔ اس نام نہاد ’تہذیبی مکالمے‘ کی بنیاد دو مفروضوں پر ہے: (الف) کہ مسلمان یوروپی اقوام اور شمالی امریکیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ اسلام تشدد کا منبع نہیں اور (ب) مغربی اقوام اسلام کی تشکیل نو میں مدد کریں۔ یہ ایک بہت منکسر تصور ہے۔ یقیناًمسلمانوں کو دوسرے معاشروں اور روایات کی جانب توجہ کرنی چاہئے اور ان سے سیکھنا چاہئے، بالکل اسی طرح جیسے ہمیں امید ہے کہ مغربی اقوام بھی اسلامی فکر اور تجربے سے کچھ سیکھیں گی (حالانکہ ان میں سے بہت سے اس کی خواہش نہیں رکھتے)۔ جہاں تک تشکیلِ نو کی بات ہے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی تشکیل نو کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود مذہب اسلام۔ ظاہر ہے کہ عصر حاضر میں بھی یہ سلسلہ جاری رہنا ضروری ہے۔ لیکن میرے ذہن میں اس تشکیل نو کی تاثیر جزوی طور پر عین اسی وقت مغرب میں ہونے والی تشکیل نو پر منحصر ہے۔ آخرکار ہم ایک باہم مربوط دنیا کے باسی ہیں۔‘‘ (ترجمہ : عاصم بخشی)

ہماری رائے میں طلال اسد اور ان کے والد کے درمیان یہ فکری مکالمہ کئی اعتبار سے چشم کشا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ مزید ٹھوس سوالوں پر مشتمل ایک ایسا ہی فکری مکالمہ جاوید اقبال بھی اپنے والد کے ساتھ ایک خط میں کر چکے ہیں۔ پھرجہاں ایک جانب اس میں مولانا مودودی جیسوں کی’’تعبیر کی غلطی‘‘ پر مولانا وحید الدین خان کے نصف صدی قبل اٹھائے گئے اعتراضات کی خالص مذہبی بنیادوں پر بازگشت سنائی دیتی ہے، وہیں ریاست و سیاست کے مغربی فلسفوں میں ایک ناگزیر ارتقاء کی روایت کے بارے میں بھی معلوم ہوتا ہے۔ مغرب میں یہ وقت ایک سیکولر بشریات ( Secular Anthropology) کی فکری تشکیل کے اولین ادوار کے بعد اب ایک اسلامی بشریات (Islamic Anthropology ) کی تشکیل کا دور ہے، جہاں پسِ استعمار اٹھنے والے مباحث و نظریات کی روشنی میں نئے سوالات مرتب کئے جا رہے ہیں۔ اس زمانے میں ہمارے ہاں مباحثے کے غالب موضوعات اس قسم کے ہیں کہ کیا لبرل ازم کے معنی ’فحاشی و عریانی‘ اور مادر پدر آزادی کے ہیں اور کیا سیکولرازم کی بات کرنا سماج میں لادینیت کو فروغ دینے کے مترادف ہے؟ہمارے فکری بانجھ پن کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ ہمیں اب تک سماجی مباحثے کے درست موضوع کے انتخاب کا مسئلہ درپیش ہے۔ 

ایسے میں اگرمذہب پسندوں کے ایک مخصوص طبقے کی تعریفوں کے مطابق بایاں بازو سیکولرازم کو بطور نظریہ اپنانے کی بات کرتا ہے تو شاید اس کے بنیادی معنی صرف جدید ریاست کی ایک مخصوص مغربی تعریف یعنی’’ لبرل جمہوریت‘‘ کو فرض کرتے ہوئے مساوی شہری حقوق اور ریاست کے کسی خدائی تعبیر کو اپنا کندھا فراہم نہ کرنے کا مطالبے سے زیادہ کچھ نہیں۔ جواب میں دائیں بازو کے دوستوں کے پاس مودودی صاحب وغیرہ جیسے بزرگوں کے اقتباسات کے علاوہ کچھ نہیں جو ان میں سے کچھ کے بقول دندان شکن استدلال کی معراج ہیں۔ مکالمے کا یہ اسلوب اگر نہایت مضحکہ خیز نہیں تو حیرت انگیز ضرور ہے جس پر کسی فکری دنگل کا سا گمان ہوتا ہے۔دائیں بازو کے کچھ دوست ایسے ہیں جو ہمارے سماج میں لبرل ازم اور سیکولرازم کی وکالت کو کسی ایسی قیامت کے برابر تصور کرتے ہیں جس کے بعد روئے زمین پر کوئی خدا کا نام لیوا نہ بچے گا اورگھر گھر اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا۔ نتیجتاً ایک فکری جنگ کا سا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں ایک فریق فوراً خدا کا نام لیوا بن جاتا ہے اور دوسرے کو مذہب و اخلاقیات کے اصولوں سے منحرف گردانتا ہے۔

ایک ہی سماج میں اس قسم کی فکری جنگ و مناظرے سے کسی خیر کے برآمد ہونے کی رتی برابر امید نہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سماج کو دوخانوں میں بانٹ کر فکری اسلحہ جمع کرنے اور اپنے فکری مخالفین کو دندان شکن جواب دینے کی بجائے، کچھ مشکل سوالوں پر سمجھوتہ کیا جائے ۔اگر ہمارے دائیں بازو کے دوست واقعی کسی ایسی فلاحی مملکت کی تشکیل میں دلچسپی رکھتے ہیں جس میں مذہب سے حاصل کئے گئے مستقل اخلاقی اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو تو پھر انہیں کم از کم اس اصرار سے ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا کہ تمام مشکل سوالوں کے جواب ان کے پاس پہلے سے ہی موجود ہیں اور مسئلہ صرف گزرے ہوؤں کی کتابوں سے دلائل کی تلاش ہے۔ 

مشاہدات و تاثرات