قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۱)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے کراچی، بہاول پور، لاہور، راولپنڈی، خانیوال، کبیروالا، سرگودھا، نوشہرہ، پشاور اور دیگر شہروں میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت اور احباب سے ملاقاتوں کا موقع ملا اور اکثر اوقات میں دوستوں کے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت کی مرکزی قیادت میں اہل تشیع کی شمولیت کے بارے میں آپ کا موقف اور رائے کیا ہے؟ میں نے گزارش کی کہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں بھی تحریک تحفظ ناموس رسالت کی مرکزی کونسل کا حصہ ہوں اور اس حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو ملک کے اکابر علماء کرام کا قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل چلا آرہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جب یہ سوال اٹھاکہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کس فرقے کے مسلک اور فقہ کے مطابق ہوگا اور اس سلسلہ میں فکری، کلامی اور فقہی اختلافات کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب کے لیے علامہ سیدسلیمان ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے متفقہ ۲۳ نکات پیش کرکے اس سوال اور اعتراض کا منہ بند کردیا اور بتایا کہ تمام تر اعتقادی اور فقہی اختلافات کے باوجود پاکستان میں آباد تمام مذہبی مکاتب فکر دستوری بنیاد اور قانونی نظام پر متفق ہیں اور ایک متفقہ دستوری ڈھانچہ انہوں نے پیش کردیا جس میں دیگر مکاتب فکر کے ساتھ اہل تشیع کے ذمہ دار علماء کرام بھی شریک تھے۔

۱۹۵۲ء میں تحریک ختم نبوت کے لیے تمام مکاتب فکر کو پھر سے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں بھی اہل تشیع کی نمایندگی موجود تھی جبکہ مولانا ابوالحسنات قادریؒ اور امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ تحریک کی قیادت کررہے تھے۔

۱۹۷۴ء میں محدث العصر حضرت علامہ سیدمحمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت تشکیل پائی اور اس کی جدوجہد سے قادیانیت کو پارلیمنٹ کو غیرمسلم اقلیت کا درجہ دلوایا تو اس کی قیادت میں بھی اہل تشیع موجود تھے۔ 

۱۹۷۷ء میں ملک میں نفاذاسلام کے لیے تحریک نظام مصطفی کی جدوجہد حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی سربراہی میں میدان میں آئی اس کی قیادت میں بھی شیعہ راہ نما موجود تھے۔

۱۹۹۸ء میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد نوراللہ مرقدہ کی سربراہی میں ایک بار پھر کل جماعتی مجلس عمل کا احیاء عمل میں لایا گیا تو اہل تشیع اس کی قیادت میں موجود تھی، بلکہ نائب صدر کے منصب پر ایک شیعہ راہ نما فائز تھے۔

اب جبکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی اور امیر مجلس حضرت مولانا عبدالمجیدلدھیانوی دامت برکاتہم کی رہ نمائی میں تحریک تحفظ ناموس رسالت وجود میں آئی ہے تو ماضی کے اسی تسلسل میں شیعہ رہنماؤں کو اس کی ہائی کمان میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل متحدہ مجلس عمل میں بھی اہل تشیع کے دیگر مکاتب فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں، اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آرہا ہے، وہ بدستور قائم ہے اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتب فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔

ایک موقع پر بعض دوستوں نے یہ سوال کیا ہے کہ ہمارے والدمحترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کا موقف اور طرزعمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہل تشیع کی تکفیر پر’ ’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے، میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشادالشیعہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہل سنت کا موقف ہے اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہل تشیع کی حد تک یہی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ان تمام تحریکات کا حصہ رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ اور عم محترم حضرت مولانا صوفی عبدالحمیدسواتیؒ اور دیگر بزرگ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں شریک ہوئے ہیں، جلوسوں کی قیادت کی، مشترکہ اجتماعات میں شرکت کرتے رہے ہیں اور دونوں گرفتار بھی ہوئے ہیں۔حضرت والدصاحبؒ کم وبیش دس ماہ، حضرت صوفی صاحبؒ نے تقریباً چھ ماہ اس تحریک میں جیل کاٹی ہے۔ ۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں دونوں حضرات سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، مشترکہ اجتماعات میں خطاب کرتے رہے ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا سیدمحمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں منعقد ہونے والا وہ تاریخی جلسہ تحریکی تاریخ کا حصہ ہے جس میں دوسرے مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے علاوہ شیعہ راہ نماؤں نے بھی خطاب کیا تھا بلکہ یہ واقعہ بھی تاریخی اہمیت کا حاصل ہے کہ جلسہ کے بعد جب پولیس نے علامہ علی غضنفر کراروی کو جلسہ گاہ سے نکلتے ہی گرفتار کرلیا تو آغاشورش کاشمیری نے نہ صرف اپنے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا بلکہ پولیس چوکی کالوگوں کے ہجوم کے ساتھ محاصرہ کرلیا اور کراروی صاحب کو رہا کرکے وہاں سے واپس ہوئے۔

۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں گوجرانوالہ میں حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے مشترکہ عوامی جلوس کی قیادت کی اور گکھڑ میں حضرت والد محترم جلوسوں کی قیادت کرتے رہے اور ان کا یہ تاریخی واقعہ بھی اسی تحریک کا ہے کہ فیڈرل فورس کے کمانڈر نے اس کو روکنے کے لیے اس کے راستے میں لکیر کھینچ کر اعلان کیا کہ جو شخص اس لائن کو عبور کرے گا، اسے گولی مار دی جائے گی، یہ سن کر حضرت والدمحترمؒ نے اپنے رفقاء استاذ محترم حضرت مولانا محمد انور صاحب مدظلہ اور حاجی سیدڈار صاحب مرحوم کے ہمراہ یہ کہہ کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے لائن کراس کی کہ ’’مسنون عمر پوری کرچکا ہوں اور اب شہادت کی تمنا رکھتا ہوں۔‘‘ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر فیڈرل سیکورٹی فورس کی رائفلیں سرنگوں ہوگئیں اور جلوس پوری شان وشوکت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ اپنی زندگی کے آخری دس سال وہ بستر علالت پر رہے، لیکن اس دوران متحدہ مجلس عمل تشکیل پائی تو انہوں نے دونوں الیکشنوں میں متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کی حمایت کی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی تلقین فرمائی۔ بعض حضرات نے اس سلسلہ میں تحفظات کا بھی ان کے سامنے اظہار کیا، مگر ان کا موقف وہی رہا۔ 

میں نے دوستوں سے عرض کیا کہ کسی کو مسلمان، منافق یا کافر قرار دینے کا مسئلہ اپنی جگہ پر ایک دینی ضرورت ہوتی ہے، لیکن قومی ضروریات اور معاشرتی روابط ومعاملات کا ایک مستقل دائرہ ہوتا ہے اور ہمارے بزرگوں نے اپنی اپنی جگہ ان دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔ حضرت والدمحترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کا زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ وہ بہت سے معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے تھے اور رائے بھی دیتے تھے، لیکن جب کوئی اجتماعی فیصلہ ہوجاتا تھا تو اسے نہ صرف قبول کرلیتے تھے بلکہ اس کا بھرپور ساتھ دیتے تھے۔ خود میرا معمول بھی بحمداﷲ تعالیٰ یہی ہے کہ بعض معاملات پر اپنی مستقل رائے رکھتا ہوں، اس کا اظہار بھی کرتا ہوں اور کوئی مناسب موقع ہوتو اس پر بحث ومباحثہ سے بھی گریز نہیں کرتا، لیکن عملاً وہی کرتا ہوں جو اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے اور جمہور اہل علم کا موقف ہوتا ہے، رائے کے حق سے میں کبھی دست بردار نہیں ہوا، لیکن اپنی رائے کو حتمی قرار دے کر جمہور اہل علم کے موقف کے سامنے اڑنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے اور اسے کبھی حق اور صواب کا راستہ نہیں سمجھا۔

میری طالب علمانہ رائے میں اسلام، کفر اور نفاق کی بحث کے باوجود معاشرتی معاملات اور اجتماعی روایات کو الگ دائرے میں رکھنا چاہیے اور اس سلسلہ میں دورنبویؐ میں ہمارے لیے مثال موجود ہے۔ عبداللہ بن أبی اور اس کے منافق ساتھیوں کو جن کی تعداد غزوۂ احد کے موقع پر تین سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی تھی، قرآن کریم کی نص قطعی میں ’’کافر‘‘ قرار دیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ’’وماہم بمؤمنین‘‘ ،وہ مسلمان نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبادات میں شریک ہوتے رہے ہیں، غزوات میں اپنی تمام تر غلط حرکات کے باوجود شامل ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ انہیں قتل نہ کردیا جائے؟ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے جواب دیا کہ ’’نہیں! اس سے یہ تاثر پھیلے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کردیتے ہیں‘‘، اس لیے کہ دنیا کو وہ مسلمانوں کا حصہ ہی نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ منافقین نے ایک موقع پر الگ مسجد بناکر خود کو عمومی معاشرے سے الگ کرنا چاہا تو قرآن کریم نے اسے ’’مسجدضرار‘‘ قرار دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کووہاں جانے سے منع کردیا۔ وہ مسجد گرادی گئی اور مصلحت اسی میں سمجھی گئی کہ منافقین کو ان کے کفر کے باوجود معاشرتی طور پر الگ ہونے سے روکا جائے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اکابر کے فیصلوں پر حسب سابق اعتماد کیا جائے۔ 

مکاتب فکر