فقہی مسالک کے درمیان جمع و تطبیق

مولانا سید سلمان الحسینی الندوی

(دارالعلوم ندوۃ العلماء میں کلیۃ الشریعۃ کی طرف سے اساتذۂ فقہ کے لیے ایک سہ روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے درج ذیل خطاب فرمایا۔ مولوی محمد مستقیم محتشم ندوی نے اس کو کیسٹ سے نقل کیا اور مولانا کی نظر ثانی کے بعد افادۂ عام کی غرض سے اسے شائع کیا جارہا ہے۔)


الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونسغفرہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیآت أعمالنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلاہادي لہ، ونشھد أن لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ. صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وأزواجہ وذریاتہ وأہل بیتہ، وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا، اما بعد!

اساتذہ گرامی قدر،بزرگان محترم ،نمائندگان مدارس ، دارالافتاودارالقضاء سے تعلق رکھنے والے فضلاء ،اور عزیز طلبہ!

اس سہ روزہ تربیتی پروگرام میں جو عنوانات منتخب کیے گئے ہیں، سب اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان عنوانات میں میں سمجھتا ہوں کہ فکر ولی اللہی اور فقہ ولی اللہی سے متعلق فقہی مسالک کے درمیان جمع وتطبیق کا موضوع بہت حساس ہے۔ آج تقلید وعدم تقلید کے عنوان سے مسلکی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں،بلکہ افکار ونظریات اور کلامی مسائل کے اختلافات سے لے کرجماعتی اور سیاسی اختلافات میں شدت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے،جس کے نتیجے میں لوگ ایک دوسرے سے، اور ادارے دوسرے اداروں سے دورہوتے چلے جارہے ہیں۔ عالم اسلام میں اس اختلاف نے ایک بڑی مصیبت کی شکل اختیار کرلی ہے۔فرقہ وارانہ اختلاف نے میدان کارزار گرم کر دیے ہیں اور ہندوستان کی سرزمین پر اگر چہ مسلک ولی اللہی سے تعلق رکھنے والے حضرات ہمیشہ مسلکی توسع اور رواداری کی ترجمانی کرتے رہے، لیکن اس کے باوجود وقتاً فوقتاًاختلافات میں کسی نہ کسی حلقے کی طرف سے شدت پیدا کردی جاتی ہے۔ ان حالات میں مسالک کے درمیان جمع وتطبیق کی کوشش کرنا، اورفکر ولی اللٰہی کو اپنے لئے رہنما بنانا بہت ضروری ہے۔ اختلاف رائے کے باوجود ہمارے درمیان اتحاد برقرار رہ سکتا ہے،یہ ہنر سیکھنا چاہئے، ہماری روز مرہ کی زندگی میں جماعتی، تنظیمی، اداری اختلافات کی بنیاد پر ہمارے دلوں میں عداوت پیدانہیں ہونی چاہئے۔

مجتہدین امت اور علمائے ملت فقہی اور کلامی اختلافات کو زحمت نہیں بلکہ رحمت کے طورپر پیش کرتے رہے ہیں ’’اختلاف امتی رحمۃ‘‘ والی حدیث پراگرچہ کلام ہے ، وہ فنی طور پرصحیح درجے کی حدیث نہیں ہے ،اور بہت سی حدیثیں ایسی ہیں جوسند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہیں لیکن ان کا متن صحیح ہے اور دیگر روایات سے مدلل ہے، کسی بھی حدیث پر حکم لگانے کیلئے محض سند کا مطالعہ کافی نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جومتن سند ضعیف کے ساتھ نقل کیاگیا ہے، اس کی تائید قرآن پاک کی آیات سے، دیگر احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، صحابہ کرام کے تعامل سے اور مابعد کے علمائے کرام کے اتفاق سے کس درجے میں ہوتی ہے ؟ بہت سے ایسے حقائق ہیں جن پر سند کی وجہ سے اشکال پیدا کردیا گیا ہے ،لیکن ان کا مضمون قرآن وحدیث اور علمائے امت کے تعامل سے ثابت ہے۔ ’’اختلاف امتی رحمۃ‘‘ والا مضمون بھی اسی نوعیت کاہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی قرآن پاک کی آیات سے ، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کے تعامل سے تائید ہوتی ہے اور اس کا بھرپور ثبوت ملتا ہے۔

اختلاف رائے کی دوقسمیں ہوتی ہیں۔ ایک اختلاف مذموم اورایک اختلاف محمود۔ اختلاف مذموم وہ ہے جس کی بنیاد کتاب وسنت نہ ہو محض کسی کی رائے ہو، یا اجتہاد وقیاس میں حدود سے تجاوز کیا گیا ہواور بدون دلائل کے کسی مسئلہ کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہو ، ظاہر ہے کہ یہ رائے اس لئے مذموم ہے کہ کتاب وسنت کے خلاف ہے،لیکن اگر اختلاف دلائل کی بنیاد پر ہو اور دلائل پیش کرنے والا وہ ہو جس کو استدلال اور استنباط کا حق حاصل ہوتو اس کی تحقیقی کوشش محمود ہے۔ہاں ہر شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ جس طرح کورٹ میں وکیل کو ہی پیش ہونے کا حق ہے اور جس طرح کرسئ جج پر جج ہی بیٹھ سکتا ہے، اور جیسے بیماری میں کسی ڈاکٹر سے ہی رجوع کیا جاتا ہے، محض طبی نسخوں کی کتاب پڑھنے والے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ علاج ومعالجہ شروع کردے ،اورقانون کی کتاب کے مطالعہ سے کوئی جج نہیں بن جاتا۔ اس کو نہ قانو نی حق حاصل ہوتا ہے اور نہ علمی دنیا میں اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔اسی طرح فقہی اجتہاد واستنباط کا مسئلہ ہے۔

قرآن پاک اور حدیث کے اپنے طور پر مطالعہ سے اجتہاد کا حق حاصل نہیں ہوجاتا ہے، کسی نے قرآن کا ترجمہ پڑھ لیا ہو، حدیث کی کوئی کتاب دیکھ لی ہو، مثلا صحیح بخاری کا ترجمہ دیکھ لیا ، تو اسے یہ درجہ حاصل نہیں ہوتا ہے کہ وہ اجتہاد شروع کردے، فیصلہ صادر کرنے لگے ،اپنی رائے پیش کرنا شروع کردے ، آج کل عام طور پر طلباء اور مدرسین بھی فقہی اعتبار سے ’’عامی ‘‘کے درجے میں ہی ہیں۔ فقہائے کرام نے مجتہد مطلق سے لیکر عامی تک جوطبقات اور مراتب ذکر کئے ہیں، ان کے اعتبار سے مدرسین کا درجہ بھی ایک عامی سے کچھ زیادہ بلند نہیں ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی شخصیت کاجہاں تک تعلق ہے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ وہ ہندوستان میں علوم اسلامیہ کے مجدد تھے، حضرت مجدد سرہندی نے حکومتی ارتداد کا مقابلہ کیا، اور جھوٹے دین الہی کے مقابلہ میں اسلام کی نصرت ودفاع میں کامیابی حاصل کی، ان کی ایمانی اور روحانی توجہ ، اصلاح اور تربیت کے ذریعہ ایسی تبدیلی وجود میں آئی کہ اکبر کا ارتداد دور جہانگیر ی میں کمزور پڑگیا،اور دور شاہ جہانی میں وہ ماضی کا ایک حصہ بن گیا، اور بتدریج ہندوستان مجددی کوششوں سے گہوارۂ اسلام بن گیا۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی ؒ چودہ سال کی عمر میں نصابیات سے فارغ ہوگئے تھے، اس کے بعد انہوں نے درس وتدریس کا سلسلہ شروع فرمادیا تھا، وہ دور عام طور پر ہندوستان میں سخت جمود کا تھا،مسلکی تعصب میں بڑی شدت تھی ، حنفیت اور شافعیت کی فقہی، کتابی، جنگ تو تھی ہی،بنیادی مآخذ سے رابطہ بھی کمزور پڑگیاتھا۔صورت حال یہ تھی کہ قرآن پاک سے یا حدیث نبوی سے اگر براہ راست کوئی دلیل دی جاتی تو بعض لوگ دھڑلّے سے کہہ دیتے کہ ہمیں تو امام ابو حنیفہ کا قول چاہئے ،ہمیں حدیث نہیں چاہئے۔ شاید وہ ان علماء کی ہدایت کی بنیاد پر کہتے ہوں گے، جنہوں نے ان کو سمجھارکھا تھا کہ کسی کو اجتہاد کاحق حاصل نہیں ہے، اور آپ براہ راست حدیث سے استدلال نہیں کرسکتے، علم کلام میں ما تریدی اور اشعری نقطۂ نظر کے درمیان بھی جنگ وجدل کی فضاتھی اور کوئی اصلاحی تحریک نہیں کام کررہی تھی، تصوف کے مختلف حلقوں میں بھی خلیج بڑھتی جارہی تھی۔ وحدۃ الوجود  اور وحدۃ الشہود  معرکۃ الاراء مسئلے بنے ہوئے تھے۔ایسے ماحول میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے قلم اٹھایا اور ’’ البدور البازغۃ‘‘ تصنیف فرمائی، جو ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کا نقش اول ہے۔ اور ’’تفہیمات‘‘ میں جوا ن کا ایک کشکول ہے ، ان کی ایک علمی ڈائری ہے۔ اس صورتحال پر تبصرے کئے، بلکہ اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ، معاشرے کی نباضی کی، امراض کی نشاندہی فرمائی۔اس میں انہوں نے کبھی صوفیہ کو خطاب کیا ،کبھی علماء کو،کبھی وزراء وامراء کو ،کبھی فوج کے جنرلوں کو ،کبھی فوجیوں اور سپاہیوں کو اورکبھی عوام کو، ہرطبقہ کی کمزوری کی نشاندہی فرمائی۔ ’’تلبیس ابلیس‘‘ میں ابن الجوزی نے جو طرز اختیار کیا ہے اسی سے ملتا جلتا طرز شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے’’ تفہیمات‘‘ میں اختیار کیا۔

شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی جو سب سے معرکۃ الاراء کتاب ہے جس نے پوری دنیا کے علماء اوراہل فکر ونظر سے خراج تحسین حاصل کیا وہ ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک الہامی کتاب ہے، انہوں نے اس میں پورے اسلامی نظام کوایک مربوط اور منظم شکل میں پیش کرنے کی ایسی پہلی کامیاب کوشش ہے جس کی نظیردور دور تک نہیں ملتی ہے۔ علامہ شاطبی نے’’ الموافقات‘‘ میں اور عزالدین ابن عبدالسلام، غزالی ، ابن تیمیہ الحرانی جیسے حضرات نے ان موضوعات پر قلم اٹھایا اور فکر اسلامی کی تجدید اور تشکیل جدید کی کوششیں کی ، اور خاص طورپر شریعت اسلامی کے اسرارو حکم کو موضوع بنایا ،لیکن جس تفصیل کے ساتھ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے بارگاہ الہی کے’’ ملأ اعلی ‘‘سے ریاست کے امراء اور وزارا تک ،اورپھر ان سے علماء وصلحا ء اور عوام مسلمین تک جس طرح زندگی کے تمام موضوعات عقائد، عبادات، معاشرت،معاملات، اور سیاست اور انتظامی امور وغیرہ پر بحثیں کی ہیں، وہ ایک نادرالمثال علمی کارنامہ ہے،جو نہ صرف یہ کہ اپنے مضامین میں بلکہ اپنے اسلوب اور طرز ادا میں بھی منفرد ہے ،مولانامنظور نعمانی سے میں نے خود سنا ، فرماتے تھے کہ اسلام کو ایسے منظم اور مربوط انداز میں پیش کرنے کا کام شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی علاوہ شاید کسی اور سے نہیں ہوسکا۔ انہوں نے پورے دین کو اس طرح پیش کیا کہ سارے احکام گویا ایک لڑی میں پرودیئے گئے ہیں۔

شاہ صاحب کا سب سے بڑا مشن ربط و تطبیق واتحاد کا تھا، انہوں نے عقائد میں سلفیت، اشعریت اور ماتریدیت، فقہ میں شافعیت ،حنفیت،مالکیت اور حنبلیت، تصوف میں نقشبندیت ، چشتیت ، وحدۃ الوجود  اور وحدۃ الشہود کی شرح میں ابن عربی اور مجدد الف ثانی کو بہم آمیز کردیا، اور ان سب کو شیر وشکر بنادیا۔انہوں نے جمع وتطبیق کاجو موقف اختیار کیا اس نے تضاد کواتفاق سے بدل دیا۔حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے تفہیمات میں ایک جگہ لکھا ہے کہ میری طبیعت تقلید کے لئے بالکل تیارنہیں لیکن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجھ سے مطالبہ کیا گیا کہ میں پابندی قبول کروں۔فیوض الحرمین ،مکاشفات اور مراقبات پر مبنی کتاب ہے ،مدینہ منورہ میں دوران قیام جن مراقبات اور مکاشفات سے انہیں نوازا گیا، اس کی روداد انہوں نے اپنی اس کتاب میں درج کی ہے۔اس میں ایک وصیت یہ بھی تھی کہ تم عمل میں لوگوں کی مخالفت نہ کرو۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے متعدد مقامات پر یہ بات لکھی ہے کہ مجھ سے طلب کیا گیا ہے کہ میں عمل میں اس کی رعایت کروں، تاکہ معاشرے میں کوئی انتشار نہ ہو۔ انہوں نے اس کا ذکر بھی فرمایا کہ جب میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں تو حنفیت کی پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں ،لیکن جب اپنی نمازتنہائی میں پڑھتا ہوں، تو اپنی ترجیحات پر عمل کرتاہوں ،مثلاً رفع یدین کے بارے میں شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے لکھا ہے کہ رفع یدین اور عدم رفع یدین دونوں ثابت ہیں، لیکن رفع یدین ارجح ہے۔پھر بھی انہوں نے لوگوں کے سامنے اس پرعمل نہیں کیاایسے ہی مثلاً وہ وتر کی ایک رکعت، پانچ رکعات یا سات رکعات کے قائل ہیں لیکن عمل مشہور قول پر کرتے رہے، جہراً بسم اللہ پڑھنا ،امام کے پیچھے قرأت ،عید کی تکبیرات کی تعداد وغیرہ بہت سے موضوعات ہیں جن کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ یہ اختلافات صرف ترجیحی بنیادوں پرہیں، اور سب چیزیں قابل عمل ہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے اپنی شرح مسوی اور مصفی میں جا بجا اپنی ترجیحات کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا عبدالحیؒ لکھنوی نے مصفی کے بارے میں لکھا ہے کہ تکلم فیہ کلام المجتھدین اس میں انہوں نے مجتہدانہ گفتگوکی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مقدمے میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فرمایا ہے کہ بندۂ ناچیز کو اجتہاد کا ملکہ حاصل ہے۔اور بھی مختلف مقامات پر انہوں نے اپنے لئے اجتہاد کا دعوی کیا ہے، جبکہ کہیں کہیں وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں کہ الحنفی مسلکاً والشافعی تدریساً۔مسلک کے اعتبار سے اگر چہ میں حنفی ہوں لیکن تدریس میں شافعی ہوں۔

تفہیمات میں اس کا بھی ذکر ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس طرح مسائل پر عمل کرتے ہیں، تو فرمایا کہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ائمہ اربعہ کے مسالک میں جمع وتطبیق سے کام لوں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جمع وتطبیق کے کام میں سب سے زیادہ حنفیت اور شافعیت میں جمع وتطبیق کا مسئلہ درپیش آتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے عملی طور پر اس بات کی کوشش کی کہ حنفیت کو شافعیت کے اور شافعیت کو حنفیت کے قریب لایا جائے کیونکہ اگریہ دونوں مسالک ایک دوسرے سے قریب ہوجاتے ہیں تو پھر زیادہ اختلافات باقی نہیں رہ جاتے۔ مالکیت، حنبلیت اور حنفیت کے درمیان اتنے اختلافات نہیں ہیں جتنے کہ حنفیت اور شافعیت کے درمیان ہیں۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارۂ روحانی سے یہ تجویزپیش کی ہے کہ فقہ حنفی کی تجدید کی جائے ،اور امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف اور امام محمدکے اقوال کا احادیث کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور جس کی رائے احادیث صحیحہ کے زیادہ قریب ہو، اسے اختیار کیاجائے۔اس پر مولانا محمدیوسف بنوری ؒ نے اپنے مقالے میں یہ بات لکھی تھی کہ اگر فقہ ولی اللہی کی روشنی میں فقہ حنفی کی ترتیب وتدوین حضرت شاہ صاحب کی رائے کے مطابق کی جائے تو پھر حنفیت اور شافعیت کے بمشکل پندرہ بیس مسائل میں اختلافات باقی رہ جائیں گے ،اکثر اختلافات ختم ہوجائیں گے۔

اس سلسلہ میں، میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی کتاب کا جب نزول ہو ا اور حضور اکرم ؐ کی احادیث جب سامنے آئیں تو وہ نہ حنفی تھیں نہ شافعی ،نہ مالکی ، نہ حنبلی ، قرآن سب کے لئے تھا ،حدیثیں سب کے لئے تھیں، علماء وفقہاء کے غور وخوض، تشریح وتوضیح اوراستنباط واجتہاد کی بنیاد پران کی تحقیقات اور اجتہادات سامنے آئے اور معاشرہ پر ان کے اثرات مرتب ہوئے، اور اپنے اپنے علاقوں میں ان کی چھاپ قائم ہوتی چلی گئی، لوگ ان کا اتباع کرتے چلے گئے ،اور فطری طور پر کسی علاقہ میں کسی فقیہ کے فقہ کا رواج ہوگیا، اس میں نہ کسی کی پلاننگ کو کوئی دخل تھا، نہ تعصب اور حلقہ واریت کو۔امام مالک ؒ مدینہ منورہ میں درس دیتے تھے، ان کے شاگردوں کے ذریعہ ان کی فقہ مراکش اور اندلس تک پہنچ گئی۔ مدینہ منورہ اورجزیرۃ العرب میں ان کامسلک اتنا نہیں پھیلا، جتنا کہ وہ افریقہ کی شمالی پٹی میں پھیل گیا ، اسپین میں پھیل گیا۔امام مالک کے شاگردوں میں بڑے بڑے اجلۂ علماء انہیں علاقوں سے اٹھے۔یہی صورت حال امام ابوحنیفہ ؒ کی رہی۔ وہ عراق میں رہے، وہاں ان کی شخصیت اور علمی تحقیق کا گہرا اثر ہوا اور پھر ان کے اثرات ایران،خراسان ،ترکستان، ہندوستان تک پھیلتے چلے گئے۔ فطری طور پر یہ علاقے متاثر ہوتے گئے، اس میں کسی کی منصوبہ بندی یا پلاننگ کو کوئی دخل نہ تھا ،امام شافعی ؒ حجازمیں رہے، عراق میں رہے، بعد میں مصر تشریف لے گئے ،ان کا مسلک عراق میں پھیلا ،شام اور مصرمیں بھی پھیلا، امام احمد بن حنبل بغدادمیں رہے ، ان کا مسلک بغداد میں اور دیگر علاقوں میں محدود طور پر پھیلا۔ایک طویل عرصے تک ان کا مسلک بہت زیادہ نمایا ں نہیں رہا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ ائمہ ثلاثہ کوفقہاء میں ، اور امام احمد ابن حنبل کو محدثین کی فہرست میں شمار کرتے ہیں، اگر چہ وہ ائمہ اربعہ میں ہیں ، لیکن حضرت شاہ صاحب ان کے مسلک کو شافعی مسلک کا ضمیمہ قرار دیتے ہیں۔

کتب حدیث میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے سب سے زیادہ توجہ’’ موطا‘‘پر فرمائی اور ان کا یہ فرماناہے کہ’’موطا‘‘ حدیث کی بنیادی اور اولین کتاب ہے ،بخاری اور مسلم اس کی شرح اور تکمیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔امام بخاری اور امام مسلم کا کام اس شکل میں سامنے آیا کہ انہوں نے احادیث کے بڑے ذخیرے سے اعلی درجہ کی صحیح احادیث کا انتخاب فرمایا۔ امام ترمذی، امام ابوداؤد، امام نسائی ، امام ابن ماجہ، امام دارمی وغیرہ حضرات نے اصل کوشش اس پر صرف کی کہ فقہائے کرام کے مستدلات یکجا کردیئے جائیں،تاکہ فقہاء کی آراء کے مآخذ واضح ہوجائیں، اور یہ واضح کردیا جائے کہ جو مسلک چل رہا ہے اس کے پیچھے دلائل کیا ہیں اور ان دلائل کی حیثیت کیا ہے ؟ امام ترمذی ؒ نے اس کا بھی اہتمام کیا کہ دلیل کی حیثیت کو بھی واضح کردیا۔ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ، شاذ یامنکر اس کو بھی بیان کیا ،اور اس سلسلہ کی دیگر احادیث کی طرف اشارہ بھی کردیا،ساتھ ہی ساتھ ائمہ فقہاء کی آراء بیان کیں۔

محدثین کرام اور فقہائے عظام نے وقت کی ضرورت اور تقاضے کی تحت اپنے اپنے کا م انجام دیئے ، ان ائمہ فقہاء میں چار حضرات بہت ممتاز اورنمایا ں ہوئے، اور ان کو ایسے شاگرد ملے، جنہوں نے ان کے مسلک کا تعارف کرایا،اور اس کی علمی خدمت انجام دی۔امام اوزاعی ،امام ابوحنیفہ کے درجے کے سمجھے جاتے تھے ، اورامام لیث بن سعد، امام مالک کے ہم پلہ قرار دیئے جاتے تھے ،لیکن ان دونوں کا مسلک زیادہ نہیں چل سکا، اپنے دور میں ایک بڑی تعداد ان کے مسلک پر عمل کرتی تھی، بہت سے لوگ ان سے فتوی لیتے تھے ، ان سے رجوع کرتے تھے ،لیکن ان کا مسلک رائج نہیں ہوسکا۔ اسحاق بن راہویہ ،امام احمد بن حنبل کے معاصر اوربرابرکے درجے کے تھے، دونوں فقہ اور حدیث کے امام تھے لیکن امام احمد کے مقابلے میں اسحاق بن راہویہ کا مسلک نہیں چلا۔ عبداللہ ابن مبارک کا مسلک بھی باقاعدہ چلتا تھا، امام ترمذی ائمہ فقہا ء میں ان کا بھی حوالہ دیتے ہیں لیکن ان کا مسلک بھی رائج نہیں ہوا۔ ائمہ اربعہ کے ساتھ خداتعالی کی خاص تائید اور توفیق تھی ، اللہ کی طرف سے ان کا انتخاب ہوا ، مابعد کی تاریخ سے یہ حقیقت واضح ہوتی چلی گئی۔ امام ابن الصلاح ؒ نے اپنی کتاب’’ معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں ائمہ مسالک کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ائمۃ المذاہب الخمسۃ المشہورۃ۔ اس میں پانچواں مسلک سفیان ثوری کا تھا۔ ابن الصلاح ساتویں صدی ہجری میں تھے ، وہ اس وقت کے مشہور پانچ مسالک کی بات کررہے ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسلامی قانون سازی کی اور اس کے تسلسل اورفقہ کی تدریحی ترقی کا بڑا منصفانہ جائزہ لیاہے۔ حضرت شاہ صاحب کی طبیعت میں اعتدال وانصاف کوٹ کوٹ کر بھرا تھا اور جامعیت اور اجتماعیت ان کا مشن تھا ، وہ چاہتے تھے کہ ملت کی شیرازہ بندی ہو اور انتشار کو دور کیاجائے۔بہرحال انہوں نے بارہویں صدی ہجری میں یہ صدا لگائی کہ مسالک میں جمع وتطبیق کی ضرورت ہے۔ یہ اس وقت ایک بالکل اجنبی اور نامانوس سی صدا تھی ، لیکن دھیرے دھیرے ،عالم اسلام کے مفکرین اور دعوتی اور اصلاحی کام کرنے والے اب اس رخ پر بڑھتے چلے جارہے ہیں، یہاں تک کہ دینی مدارس اورعلمی حلقوں میں اب یہ مذاکرہ کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم عہد اول کی طرف رجعت اختیار کررہے ہیں۔ آخری زمانے میں جب حضرت مہدی تشریف لائیں گے ،تو وہ نہ حنفی ہوں گے نہ شافعی ، نہ مالکی نہ حنبلی ،وہ خود مجتہد ہوں گے۔ قرآن پاک اور حدیث نبوی ہی کی بنیاد پر وہ پوری امت کی قیادت فرمائیں گے۔اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ان کی آمد کے موقع پر امت مجتمع ہوچکی ہوگی ،یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ مسیحؑ بھی ان کی قیادت کو تسلیم کریں گے۔ظاہر ہے کہ اس وقت نہ مسلکی اختلافات باقی رہیں گے ، نہ کلامی، نہ جماعتی نہ گروہی، اس اجتماعی صور تحال تک پہنچنے کیلئے تدبیری انتظامات بھی چاہئیں، الحمدللہ ہم فکر ولی اللہی کی روشنی میں ان ہی تمہیدی راستوں پر چل رہے ہیں۔

جہاں تک تحریک ندوۃ العلماء اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کا تعلق ہے وہ فکر ولی اللہی کا ترجمان اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے منہج اور طریقۂ کار کا علمبردار ہے۔ ۱۹۷۵ ء میں جب دارالعلوم ندوۃ العلماء میں۸۵ سالہ جشن تعلیمی منعقد ہوا تھا ، اس وقت حضرت مولانا سید ابوالحسن ندوی ؒ نے ایک بہت بڑے چارٹ پر ایک تحریر عباسیہ ہال کے دروازہ کے اردگرد آویزاں کروائی تھی جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ ندوۃ العلماء اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کا مسلک وہی ہے جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا مسلک ہے ، اس کا اظہار واعلان اہتمام سے کیا گیا تھا تاکہ یہ بات تمام حاضرین پرپوری طرح واضح ہوجائے کہ ہم فکر ولی اللہی کے امین ہیں ،ہم ان کے شارح وترجمان ہیں ، افسوس ہے کہ اس پر جو کام ہونا چاہئے تھا وہ ابھی تک نہیں ہوا ، کتنی عجیب بات ہے کہ کتنی ضروری اور غیر ضروری کتابوں کے ترجمے عربی سے اردو ،اردو سے عربی میں کئے گئے ،لیکن حضرت شاہ ،صاحب ؒ کا اجتہادی شاہکار ’’مصفی ‘‘ شرح ’’موطا‘‘ کا ترجمہ نہیں ہوا ، اس معرکتہ الاراء کتاب میں انہوں نے اصول فقہ کی تشکیل جدید کی طرح ڈال دی ہے اور مجتہدانہ شرح کا ایک نمونہ پیش کیا ہے۔اپنی آراء اور اجتہاد ات بھی بیان فرمائے ہیں اور جمع وتطبیق کی کوشش کا ایک نمونہ پیش کیا ہے۔ میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے زمانہ طالبعلمی سے فکر ولی اللہی کی ترجمانی کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے مولانا علی میاں ؒ اور مولانا منظور نعمانی کی صحبتوں میں حضرت شاہ صاحب کے مقام کو سمجھنے کا موقعہ ملا، پھر’’ حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے درس اور شاہ صاحب کی سوانح اور علمی کارناموں پر متعدد کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا، الفرقان کے سن ۱۹۴۱ء کے شاہ ولی اللہ پر خاص نمبرکے مطالعہ کا خوب موقعہ ملا، اور میں نے اپنے فضیلت کے سندی مقالہ کیلئے حضرت شاہ صاحب کے منہج فقہی کو اپنا موضوع بنایا، بعد میں یہ مقالہ دو کتابوں میں شائع ہوا،ایک ’’تاریخ التشریع الاسلامی واسباب الاختلافات الفقہیۃ فی ضوء آراء الامام الدھلوی‘‘ اور دوسرا ’’التقلید والاجتھاد عند الامام الدھلوی‘‘ کے عنوان سے، ادھر چند سالوں سے دارالعلوم کے دراسات علیا کے طلباء سے حضرت شاہ صاحبؒ کے متعدد رسالوں پر کام کرانے کا موقع ملا، اور موطا کی شرحیں ’’مسوی‘‘ اور’’ مصفی‘‘ شائع کی گئیں۔

میری دیرینہ تمنا ’’مصفی ‘‘کے ترجمہ کی تھی،جو الحمداللہ پوری ہوئی، اور فارسی اصل سے عربی ترجمہ دوجلدوں میں مکمل ہوکر شائع ہوا۔حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’فیوض الحرمین ‘‘میں فقہ حنفی کی تجدید یاتشکیل جدید کا جو طریقۂ کاربیان فرمایا ہے کہ ائمہ ثلاثہ ابوحنیفہ ، ابویوسف، اور محمد بن الحسن کے اقوال میں اقرب الی الاحادیث الصحیحۃ کو اختیار کیا جائے۔اس پر بھی میں نے کام شروع کرایا تھا ، جو ابھی تشنہ ہے۔حضرت شاہ صاحب ان تینوں کو مجتہد مطلق مانتے ہیں۔ انہوں نے اپنے استاد سے اکثر اصول میں اتفاق کرتے ہوئے بعض اصول اور بہت سی فروع میں اختلاف کیا ہے۔ عام طور پر یہ شہرت ہے کہ وہ مجتہد فی المذہب ہیں ،لیکن شاہ صاحب کے نزدیک یہ تینوں مجتہد مطلق ہیں۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ؒ کی فقہ کا سرچشمہ حضرت ابراہیم نخعی کی فقہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابراہیم نخعی اور ابوحنیفہ کے اقوال کا موازنہ کیجئے تو آپ اس کی تصدیق کریں گے کہ اکثرجگہ امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی سے متفق ہیں۔ اسی طرز پر ابو یوسف اور محمد بن الحسن نے اپنے استاذگرامی سے استفادہ کیا ہے ،ان سے قیاس واجتہاد سیکھا ہے ، اور وہ ان سے اکثر اتفاق کرتے ہیں لیکن بہت سے مسائل میں اختلاف بھی کرتے ہیں۔ بنیادی طورپروہ بھی ابراہیم نخعی کی فقہ کو اپنے سامنے رکھتے ہیں ، کہنے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے، کہ تقریباً دوتہائی مسائل میں دونوں شاگردوں نے امام صاحب سے اختلاف کیا ہے،جس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تقریباً ساٹھ فیصد مسائل میں اختلاف ہے، یہ ایک قابل تحقیق موضوع ہے۔ امام ابو یوسف کی صحبت مدینہ منورہ کے محدثین وعلماء کے ساتھ بھی خوب رہی ، اورامام محمد بن الحسن تو باقاعدہ امام مالک کے تین سال شاگرد رہے ، ان کی خدمت میں’’ موطا‘‘ کی روایت حاصل کی، ان کی شخصیت میں فقہ مالکی اور فقہ حنفی دونوں جلوہ گرہیں، اگرچہ وہ اصلاً امام ابوحنیفہ کے ترجمان ہیں۔امام محمد کی ’’روایت موطا‘‘ امام مالک کے دیگر شاگردوں کی روایات سے بعض پہلوؤں سے ممتاز ہے۔ انہوں نے اس میں اپنی آراء بھی ذکر فرمائی ہیں۔ بہرحال امام محمد دونوں مدرسوں کے فارغ ہیں۔

اسی طرح امام شافعی ؒ بھی دونوں مدرسوں کے فارغ ہیں، وہ ایک طرف امام محمد کے شاگرد ہیں، دوسری طرف امام مالک کے۔ فقہی بصیرت کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ انہیں امام محمد کے مدرسے سے ملی ،لیکن حدیث کا خاص ذوق مالک بن انس اور سفیان ابن عیینہ سے ملا، دونوں کے اصول اجتہاد سے استفادہ کرتے ہوئے ، انہوں نے اپنے مسلک کے اصول ’’ الرسالہ ‘‘ میں مرتب فرمائے۔ ان کو احادیث کے بڑے ذخیرہ تک پہونچنے کے مواقع حاصل ہوئے اور بہت سی جگہوں پر انہوں نے دونوں مسلکوں سے اختلاف رائے ظاہر فرمایا، میرا یہ خیال ہے کہ امام ابو یوسف اور امام محمد کی آراء اور امام شافعی کی آراء کا موازنہ کرنا چاہئے۔اور امام شافعی کے اقوال پر اسی طرح غور کرنا چاہئے جس طرح احناف امام ابو یوسف اور امام محمد کے اقوال پرکرتے ہیں۔ امام شافعی اگر امام ابوحنیفہ کی مجلس میں ہوتے ،تو ان کی مجلس کے ایک اہم رکن ہوتے ، اور ان کودیگر ارکان مجلس کی طرح اختلاف رائے کا پورا موقعہ ملتا، وہ اگر بعد زمانی کے ساتھ حاصل ہوا تواس سے فقہی نظام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

مسلک حنبلی شاہ صاحب کی نظر میں فقہ شافعی کی ایک شاخ ہے،امام احمد امام شافعی کے شاگردتھے ، انہوں نے فقہ میں ان سے براہ راست استفادہ کیا اور متعدد محقق علماء کے نزدیک ان کی فقہ کے بارے میں وہی رائے ہے، جوحضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی رائے ہے۔

ہمیں فقہائے صحابہ سے فقہائے تابعین تک، اور ائمہ فقہاء سے ان کے شاگردوں تک ، اسی طرح ان کی فقہ اور اجتہادی آراء کا جائزہ لینا چاہئے جیسے صحابہ کرام کی احادیث اور آراء بغیر کسی حلقہ واریت اور مسلکی تقسیم کے ہم جائزہ لیتے ہیں، یہ سارے حضرات ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں، ان سب سے استفادہ اسی نقطۂ نظر سے ہونا چاہئے۔بعد کے دور میں جو مسلکی حلقے پیدا ہوئے اور فقہی شخصیات کے الگ الگ حلقے بن گئے ،اورپھر ان کے درمیان دوریاں پیدا ہوتی گئیں، یہ حقیقی اسلامی روح کے خلاف ہوا۔ اسلام اس حلقہ واریت کا قائل نہیں ہے، نہ وہ دین وعلم کے میدان میں تعصب کی اجازت دیتا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ائمہ اربعہ کی فقہ میں تطبیق واتحاد کے قائل تھے ،کیا ہی اچھا ہو کہ ان تمام ائمہ فقہاء بالخصوص ائمہ اربعہ کی فقہ کو پوری ملت کا مشترک سرمایہ سمجھا جائے ، اور سب سے مشترک طورپر استفادہ کی شکلیں پیدا کی جائیں، محدثین کرام کی عظیم علمی کوششوں کو اس میں شامل کیا جائے ، اور متفق علیہ باتوں کو ترجیح دی جائے ، اور اختلافات کی گنجائش رہنے دی جائے۔ فقہاء احناف میں جنہوں نے تحقیقی اقوال اختیار کئے اور احادیث کی روشنی میں اقوال فقہاء کا جائزہ لیا، ان کی کوششوں کو نمایاں کیا جائے، اور خالص فقہی تخریجات کے پابند اور مسلکی دائرہ میں ’’مفتی بہ ‘‘کے طوق سے گلوبند حضرات کے فیصلوں کو بنیادی حیثیت نہ دی جائے۔اگر امام صاحب کی طویل صحبت میں رہنے والے،ان سے مسلسل استفادہ کرنے والے، اور ان کے عزیز شاگرد ان سے اختلاف کررہے ہیں، تومریدان باصفا ’’ پیر نہ پرد مریداں می پرانند‘‘ کا مصداق کیوں بنے ہوئے ہیں ؟حق وانصاف کی بات یہ تھی کہ ان حضرات کے اقوال پر غیر جانبدارانہ غور وفکر ہونا چاہئے ،پھر ترجیح کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جانا چاہئے۔یہ بات اصولاًتو ائمہ فقہاء کے درمیان ترجیحات میں ملحوظ رہنی چاہئے تھی۔ لیکن کم ازکم فقہائے احناف میں تو اس کو لازماً ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔

خلفائے راشدین کی سنت، ان کے اجتہاد اور رائے کی جب بات آتی ہے تو بعض کم عقل سلفی یہ کہتے ہیں کہ ہمیں عمرؓ کی سنت نہیں چاہئے! ہمیں رسول اللہ کی سنت چاہئے! ظاہر ہے کہ یہ حماقت’’ علمی بدویت‘‘ اور’’ ابلہی ‘‘کے سوا کچھ نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر وحضرت عمر کو خاص مقام تشریعی عطا فرمایا ہے، ارشاد فرمایا: اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر اور تمام خلفائے راشدین کو مجموعی طورپر ایک مقام تشریعی عطا فرمایا ہے۔ارشاد فرمایا: علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیھا بالنواجذ۔ حضرت شاہ صاحب نے ازالۃ الخلفاء عن خلافۃ الخلفاء میں اس موضوع پر بڑی سیرحاصل بحث فرمائی ہے۔

ترتیب یہ ہے کہ سب سے پہلے کتاب اللہ ہے، پھر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،پھر ابوبکر وعمرکی سنت،پھر عثمان وعلی کی سنت، پھر اہل بیت نبوی کی سنت اور طریقۂ کار، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ ترکت فیکم أمرین لن تضلوا إن تمسکتم بھما کتاب اللہ وعترتی‘‘(۱) اس لئے خلفائے راشدین اوراہل بیت نبوی شرعی طور پرحجت ہیں ، یہ موضوع تفصیل طلب ہے، اس وقت صرف اشارہ کررہا ہوں۔ اس کے بعد اجماع امت ہے ، جس میں سرفہرست اجماع صحابہ ہے، جس پر اس آیت سے بھی استدلال فرمایا گیاہے : (ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤ منین نولہ ماتولی ونصلہ جہنم وساء ت مصیرا) ’’سبیل المؤمنین‘‘ کو حجت قراردیاجارہا ہے، اسی حقیقت کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا تھا ’’ما رآہ المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن‘‘ اور حضور ؐ کا یہ قول کتب احادیث میں صحت کے ساتھ منقول ہے: ’’لایجتمع امتی علی ضلالۃ ومن شذ شذ فی النار‘‘اور یہ بھی آپ کا ارشاد ہے: ’’ید اللہ علی الجماعۃ ومن شذ شذ فی النار‘‘ مزیدارشاد ہے: ’’علیکم بالسواد الاعظم‘‘۔ لہٰذا خلفائے راشدین اور اہل بیت کے بعد اجماع علماء امت ہے، اس کو شرعی حجت کے نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ ہر دور میں علماء کی ذمہ داری ہے اور اہل حق علماء کے بارے میں پیشین گوئی ہے کہ ’’یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتأویل الجاہلین‘‘ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان حضرات کی نشاندہی ہوکہ وہ کون سے علماء ہیں جن کے بارے میں حضورؐ پیشین گوئی فرمارہے ہیں،ان کی پہچان اس لئے ضروری ہے کہ وہ معیار حق ہیں گے ، ان کا اتباع ہونا چاہئے ، انہیں کے بار ے میں مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’ ’لاتزال طائفۃ من أ متی ظاھرین علی الحق لایضرہم من خذلھم الی قیام الساعۃ‘‘۔ یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی تائید کررہی ہے، پھر اورمزید وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ان اللہ تبارک وتعالی سیبعث علی رأس کل مأۃ سنۃ من یجدد لھذہ الأ مۃ أمر دینھا‘‘ اس سے معلوم ہواکہ ہر صدی میں حضور کی نمائندگی کرنے والے علمائے مجددین ومصلحین ضرور موجود رہیں گے۔ یہ حضور ؐ کی صاف پیشین گوئیاں ہیں، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ صرف صحابہ کرام کوہی ہمیں اپنے سامنے نہیں رکھنا ہے، کیونکہ ہردور میں نئے مسائل درپیش آتے رہے ہیں، اور آتے رہیں گے ،نئے چیلنج سامنے آتے ہیں۔ مقابلہ ہر دور میں باطل سے درپیش رہا ہے اور رہے گا،اس لئے ہر صدی میں تجدید واصلاح کا کام ضروری ہے ، تجدید اجتہاد کی متقاضی ہے، اس لئے ہر صدی میں اجتہاد بھی ضروری ہے۔ مسائل کلامی ہوں یا فقہی، انفرادی ہوں یا اجتماعی، معاشرتی ہوں یامعاملاتی،سیاسی ہوں یا معاشی،ہر دور میں تجدیدواجتہاد کی ضرورت باقی رہے گی ، اور اللہ تعالی کی ربوبیت عامہ اس کا انتظام کرتی رہے گی ، یہاں تک علم حق مہدی علیہ السلام اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔

بہر حال امام ابوحنیفہ ، امام مالک ،امام شافعی ، امام احمد ،اپنی اپنی کوشش کرتے رہے ، اپنے نتائج فکر پیش فرماتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ ہماری اندھی تقلید نہ کرنا، بے سمجھے بوجھے اتباع نہ کرنا، امام ابوحنیفہ نے فرمایا تھا: کسی شخص کیلئے جائزنہیں کہ وہ میرے قول پر فتوی دے جب تک اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ میری دلیل کیا ہے ،یہی بات امام ابویوسف سے منقول ہے، امام محمد بن الحسن سے منقول ہے ،امام مالک ، امام شافعی ،امام احمد اور تمام ائمہ سے اسطرح کے اقوال منقول ہیں، ان کے بارے میں تعصب نہ برتا جائے اور ان کی اندھی تقلید نہ ہو۔

جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے ،جو مآخذ دین سے ناواقف ہیں ، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمائے حق سے رجوع کریں ، اور بغیر کسی انتشار کے علماء کی رہنمائی میں عمل کریں۔ ان کا حق یہ نہیں ہے کہ وہ دلائل سے بحث کرنا شروع کردیں، وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ قرآن کی تفسیر سے واقف نہیں ہے، احادیث کے مضامین ،ان کی صحت وعدم صحت ،ان سے استنباط کے طریقے سے واقف نہیں ہیں،جس کا بھی یہ حال ہے اس کی حیثیت عوام کی سی ہے ، اس کو عالم اور فقیہ سے رجوع کرنا چاہئے۔

بہر حال میں حضرت شاہ صاحب کے نقطۂ نظر اور مسلک کا ذکر کررہا تھا ، ان کی اصل کوشش بین المذاہب جمع وتطبیق کی تھی، خاص طور پر حنفیت اور شافعیت میں جمع وتطبیق، اس لئے وہ فرماتے تھے کہ میں عملاً حنفی اور تدریساً شافعی ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ کیوں شوافع واحناف مل کر یہ کام نہیں کرتے، اس کی بہترین جگہ دارالعلوم ندوۃ العلماء ہے، یہاں شافعی طلباء بھی پڑھتے ہیں اور حنفی بھی ہیں، کیا اچھا ہو کہ حنفی اور شافعی طلباء مل کر یہ علمی کام انجام دیں ، اورحضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی تجویز کو بروئے کار لائیں۔ دونوں مسالک کے اصولوں پر بھی غورہونا چاہئے اور فروع پر بھی ،پھر مالکیہ اورحنفیہ کا تقابلی مطالعہ آسان ہوجائے گا، اورفقہ حنفی وفقہ حنبلی کے درمیان بھی رابطہ واضح ہوجائے گا،اور امت ایک متفقہ مسلک کی طرف بڑھتی جائے گی۔ہمیں فقہا ومحدثین کا ادب واحترام ملحوظ رکھنا چاہئے، ان کے ادب واحترام کا اولین تقاضہ ہے کہ ہم ان سب سے مستفید ہوں ان کے علم اوراجتہاد کی قدر کریں ، ہم یہ مان کر چلیں کہ ، محدثین نے مواد فراہم کیا ، اس کی چھان بین کی ، اور اس کو بڑی تفصیل کے ساتھ مرتب کرکے پیش کردیا ،ان کی حیثیت عطا رکی ہے اور فقہا کی حیثیت اطباء کی،اطباء کے نسخوں سے حسب ضرورت فائدہ اٹھانا چاہئے اور عطار کی دوکان سے دوالینا چاہئے۔ امام اعمش نے امام اوزاعی سے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ سے کہا تھا أنتم الأطباء ونحن الصیادلۃ۔آپ لوگ ڈاکٹر ہیں اور ہم عطار، ہماری دوکان پر دوائیں موجود ہیں لیکن ہم مرض کی تشخیص نہیں کرسکتے ہیں، نہ علاج بتاسکتے ہیں، یہ کام فقہا ء کا ہے۔

فقہی تحقیقات پیش کرنے اور اس کے جامع نظام کو وضع کرنے میں اولیت امام ابوحنیفہ کو حاصل رہی ہے، اس کا امام شافعی نے اعتراف بھی کیا ہے، اور اظہار بھی۔ انہوں نے فرمایا تھا: الناس فی الفقہ عیال علی أبی حنیفۃ، سارے لوگ فقہ میں ابوحنیفہ کے محتاج ہیں، بغیر ان کے فقہ کے اصول وضوابط سمجھنا اور اجتھاد کے راستے میں چلنا مشکل ہے۔ امام ابوحنیفہ کی قبر کے قریب جو مسجد ہے اس میں ایک مرتبہ امام شافعی نے نماز فجر پڑھائی تو قنوت نہیں پڑھا، ان سے اسکے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ تو قنوت کے قائل ہیں، آپ نے قنوت کیوں نہیں پڑھا؟ فرمایا کہ ابوحنیفہ کی رائے کا احترام مانع رہا، ان کی رائے کو میں نے یہاں عملاً ترجیح دی، یہ صاحب قبر کے ساتھ ان کا غایت درجہ کا ادب تھا۔ امام ابوحنیفہ حیات ہوتے تو سوچیئے کہ ان کا قدرومحبت کا معاملہ کیسا ہوتا۔ امام ابویوسفؒ ایک مرتبہ مدینہ منورہ آئے ، ایک کنویں کے پانی سے وضو فرمایا، نماز پڑھی ،بعد میں کسی نے بتایا کہ کنویں میں چوہا گرگیا تھا ،اور آپ کا مسلک تو یہ ہے کہ کنویں کاپانی پاک نہیں رہا۔ فرمایا کہ اس وقت اہل مدینہ کے مسلک پر عمل کرلیتے ہیں۔امام ابویوسف جب عید کی نمازپڑھاتے تھے توخلیفہ عباسی ہارون رشید پیچھے نماز پڑھتے تھے، اور وہ کیونکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول تکبیرات کو پسند کرتے تھے لہذا امام ابو یوسف ان کی روایت کے مطابق سات تکبیرات پہلی رکعت میں اور ۵ تکبیرات دوسری رکعت میں ادا کرتے تھے۔ اس طرح بہت سی مثالیں ائمہ کرام کے آپس کے لحاظ واکرام واحترام کی موجود ہیں۔ آج جو تنگ نظری کا ماحول ہے اور جو ایک عرصے سے چلی آرہی ہے وہ درحقیقت عجمیت زدہ ہے، صاف ستھرا عربی ذوق عجمیت سے متاثر ہوکر مکدر ہوگیا۔ صحابہ، تابعین ،تبع تابعین، اور خود ان کے متبعین کا یہ مزاج نہیں تھا۔

بہرحال میری خواہش یہ ہے کہ فکر ولی اللہی کا تعارف کرایا جائے ، امت میں اسے زندہ کیا جائے اور’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کو بھی اس نقطۂ نظر سے پڑھا اور پڑھایاجائے، یہ حکومت اسلامیہ کے احیاء کے نظام کی ایک زبردست علمی وفکری کوشش وکاوش ہے جس میں شاہ صاحب فکر اسلامی کو پیش کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوئے ہیں۔’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ علمائے کرام اور طلباء دراسات علیا کے مطالعے میں ضرور رہنی چاہئے، امت کی شیرازہ بندی کے لئے اس کے ذریعہ جو جامع نظام دیا گیا ہے،اس کو بروئے کار لانے کی کوشش کرنا چاہئے ، ائمہ کرام کے مسالک پر بے جا تنقید اور منفی رویہ درست نہیں ہے۔

سلفیت کے نام سے جو مسلکی ہنگامہ آرائی کی جارہی ہے، اس کا سلف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صحابہ کرام ،تابعین عظام اور محدثین وفقہاء کے طریقہ کار کے بالکل خلاف ہے۔یہ امت میں انتشار برپا کرنے کی ایک سازش ہے، محدثین کرام، اصحاب الحدیث ، اہل الحدیث کا طرز دیکھنا ہو تو سنن الترمذی دیکھیں کہ مختلف مسائل کی احادیث کے تذکرہ اور اس صراحت کے بعد کہ یہ یہ حدیث ضعیف ہے، وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کے مطالب، فقہاء کرام کے مسالک ذکر کرتے ہیں، اس پر نہ وہ ناراض ہوتے ہیں ، نہ فقہاء پر تنقید کرتے ہیں،بلکہ ایک معتبر معمول کی حیثیت سے بغیر کسی تشنج کے اس کا تذکرہ فرماتے ہیں، یہ اہل حدیث کا طریقہ کار ہے،اسی پر ابوداؤد، نسائی،دارمی وغیرہ کا عمل ہے، لہذا مسلکی اختلاف کی بنیاد پر جماعت بندی، گروہ بندی ،اور الگ الگ مساجد کا قیام ایک شیطانی فتنہ ہے ، جس پر ملمع کاری کے ساتھ سلفیت کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔نماز کے مسائل جو روز مرہ پانچ وقت کا اجتماعی عمل تھا اورقدیم صحابۂ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے ایک ایک جزئیہ پر عمل کرتے ہوئے تقریباً اٹھارہ ہزار مرتبہ دیکھا تھا، اس میں جتنے بھی اختلافات ان سے منقول ہیں وہ صرف تنوعات ہیں۔ صحابہ کرام کا تعامل اس سلسلہ میں حجت ہے، او رتنوع اور توسع کے ساتھ امت میں یہ تعامل مستقل ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس لئے روایتیں تلاش کرکے تعامل کے خلاف فضابنانا،اور جھگڑا پیداکرنا کسی طرح درست نہیں ہے، ثناء مختلف الفاظ ،بسم اللہ زور سے یا دھیمی آواز سے پڑھنا ،اما م کے پیچھے فاتحہ پڑھنا ،نہ پڑھنا آمین بلند یا پست آواز سے کہنا، یہ سب جائز صورتیں ہیں۔ امام ترمذی ؒ نے اپنی سنن میں ناف کے نیچے، ناف کے اوپر ہاتھ باندھنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ، ان سب شکلوں میں توسع ہے۔ ان میں کوئی چیز قابل رد نہیں ہے۔یاد رکھئے کہ آپس کا تفرقہ اور نزاع حرام ہے، یہ چوری اور بدکاری سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔آپس کا تفرقہ دین مونڈدینے والا استرہ قراردیاگیا ہے، اس لئے ہمارے تعلیمی اداروں کو خاص طور پر ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ اکثر مدارس ہی علمی جھگڑوں کا اکھاڑابن جاتے ہیں ،ان کو کلامی اور مسلکی فقہی اختلافات کا دنگل بنادیا جاتا ہے ،پھر مساجد اکھاڑا بن جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ملت کی اجتماعیت پارہ پارہ ہوجاتی ہے۔اس لئے ان علمی وتعلیمی مراکز پر پوری توجہ اصلاح حال کی مرجوز ہونی چاہئے، اور فکر ولی اللہی اور فقہ ولی اللہی کے خطوط پر کام کی داغ بیل ڈالنی چاہئے۔

اللہ تعالی ہمیں دین کی سوجھ بوجھ عطا فرمائے، ہماری صفوں میں اتحاد فرمائے، اور ہر تفرقہ سے ہمیں محفوظ فرمائے۔ (آمین) و آخردعوانا ان ا لحمدللہ رب العالمین۔

حاشیہ

(۱) یہ روایت ترمذی، نسائی، مسند احمد بن حنبل وغیرہ صحیح اور حسن سندوں سے موجود ہے، لیکن اہل سنت کے ہاں خلفائے راشدین کے ساتھ جو اہتمام ہے اور سنت الخلفاء الراشدین کا جتنا حوالہ دیا جاتا ہے، جبکہ سندی اعتبار سے یہ حدیث زیادہ قوی ہے، نہ اس کا حوالہ دیا جاتا ہے اور نہ اس کے ساتھ وہ اعتناء ہے جو ہونا چاہئے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کو بھی موضوع بنانا چاہئے۔

مکاتب فکر

اکتوبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۰

ملی مجلس شرعی کے اجلاس کے اہم فیصلے
ادارہ

سنی شیعہ اختلافات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہی مسالک کے درمیان جمع و تطبیق
مولانا سید سلمان الحسینی الندوی

پاکستان کے اسلامی تحقیقی ادارے : جائزہ و تجاویز
مولانا مفتی محمد زاہد

مدارس کی اصلاح: ایک اور کمیٹی!
خورشید احمد ندیم

وزیر اعظم ہاؤس میں اجلاس
مولانا مفتی منیب الرحمن

امام ابن جریر طبریؒ کی جلالت ۔ چند مزید باتیں
مولانا عبد المتین منیری

میری صحافتی زندگی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

’’ذخیرۃ الجنان فی فہم القرآن‘‘
مولانا وقار احمد

Flag Counter