قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت

محمد یونس قاسمی

اس عنوان پر ماہنامہ الشریعہ کے مارچ کے شمارہ میں گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب اور میرے مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ حضرت راشدی صاحب کے جواب الجواب کو پڑھ کر کچھ باتیں مزید لکھی جارہی ہیں۔ 

بندہ نے اپنے مضمون میں جن چیزوں کو ذکر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ اہل تشیع اثنا عشری کی قومی وملی تحریکات میں شمولیت بلاجواز ہے، حضرت راشدی صاحب مدظلہ نے میرے پیش کیے گئے نکات پر بحث نہیں فرمائی بلکہ اپنے مؤقف کو مزید مضبوط کرنے کیلئے مزید حوالہ جات پیش فرمائے ہیں اور دور نبوی کی ایک مثال سے استدلال کرتے ہوئے شیعہ کے ساتھ معاشرتی تعلقات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔سب سے پہلے دور نبوی کی مذکورہ مثال کے متعلق وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ۔دور نبوی میں منافق کفار کے ساتھ نص قطعی سے کافر ثابت ہوجانے کے بعدبھی معاشرتی تعلقات برقرار رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں، مگر بات صرف یہیں تک نہیں ہے بلکہ اس کے بعد نص قطعی سے ان منافق کفار کے ساتھ ترک مراسم کا حکم بھی نازل ہوا تھا اور سابقہ احکام منسوخ قرار پائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ترک تعلقات کے احکام نازل ہوجانے کے بعد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کفار کو اخرج فانک منافق  کہہ کر مسجد نبوی اور اپنی مبارک ومطہر مجالس سے نکال باہر کیا تھا۔ مجھے تو یہ بڑی حیرت ہورہی ہے کہ حضرت راشدی صاحب مدظلہ جیسی شخصیت بھی منسوخ آیت سے استدلال کررہی ہے۔ حضرت والا! اگر ان آیات سے استدلال درست ہوتا تو پھر بحکم ربانی ان آیات کے منسوخ ہوجانے کاکیا فائدہ؟ میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اگر اس پوری مثال کو ہم سامنے رکھیں تو صورت حال یہ بنتی ہے کہ دور نبوی میں جب منافقین کے متعلق کفر کا حکم نازل ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان منافقین کو محض کافر سمجھا، پھر جب ترک مراسم کاحکم نازل ہوا تو ان منافق کفار کو اپنی مجالس، مساجد اور مدارس سے نکال باہر کیا۔ ہم بھی یہ استدلال کرسکتے ہیں کہ اہل تشیع اثناعشری جو کہ منافقین مدینہ کے روپ میںآج موجود ہیں، ان کے متعلق بھی پہلے محض کفر کافتویٰ آیا، پھر جب ان کے عقائد مزید واضح ہوئے توکفر کی خاص قسم ارتداد وزندقہ کافتویٰ آیا جس کے معنی دوسرے لفظوں میں ترک تعلقات ہی تھے۔ پھر ان پر حضرات نے مزید تحقیق کی تو ان سے کھلم کھلا اعلان برأت کرنے اور ہر طرح کے تعلقات توڑنے اور انہیں اپنے سے دور کرنے کا فتویٰ آیا۔ لہٰذا جیسے ہم نے ان پر کفر کا فتویٰ مان کر انہیں کافر قرار دیا، بعد میں آنے والے فتاویٰ جات کو بھی مانتے ہوئے ان سے ترک تعلقات کرنے چاہییں۔دور نبوی کی مثال بھی ہمیں یہی درس دیتی ہے۔

جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ یہ مختلف تحاریک میں شامل رہے ہیں تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ ان کے متعلق پہلے محض کافر ہونے کا فتویٰ تھا، اس لیے ان کے ساتھ عام کفار جیسا برتاؤ کیا جاتا رہا۔ پھر ہمارے بعض اکابر نے ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان پر تحقیق کی۔ مجھے اس سلسلہ کی سب سے پہلی تحقیق ۱۳۴۸ھ میں علامہ عبد الشکور لکھنوی فاروقیؒ کی نظر آتی ہے۔ حضرت لکھنویؒ نے اپنی تحقیق کو ان الفاظ کے ساتھ اہل علم کی خدمت میں پیش کیا: ’’اہل سنت والجماعت بوجہ ناواقفیت کے شیعوں کومسلمان سمجھ کران کے ساتھ مناکحت تک سے پرہیز نہیں کرتے، بالآخر جس کے تلخ ترین نتائج سوہان روح ہوتے ہیں، یہاں تک کہ بعض مسلمان شیعوں کو مسلمان سمجھ کر ان کا ذبیحہ بھی استعمال کر لیتے ہیں۔‘‘ پھر اپنے فتویٰ میں رقم طراز ہیں: ’’شیعوں سے مناکحت ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام اور ان کا چندہ ناجائز اور ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازوں میں شریک کرنا شرعاً قطعاً ناجائز ہے۔ سنی جنازہ میں یہ لوگ میت کے لیے بددعا کرتے ہیں، کمافی کتبہم‘‘ (بحوالہ۔شیعہ اثنا عشریہ کے کفرو ارتداد کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فتویٰ، صفحہ ۳)

حضرت لکھنویؒ نے اپنے اس فتویٰ کو اکابر دارالعلوم دیوبند کی خدمت میں پیش کیاتاکہ وہ حضرات اس کی تائید اور تصدیق فرماسکیں۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ کے خلیفہ اجل ،رئیس المناظرین ،دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تعلیمات کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد مرتضی حسن چاند پوریؒ اسی فتویٰ پر اپنے تائیدی وتصدیقی دستخط ثبت فرمانے سے پہلے یہ الفاظ تحریر فرماتے ہیں: ’’روافض صرف مرتد ،کافر اور خارج ازاسلام ہی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بھی اس درجہ کے ہیں کہ دوسرے فرق کم نکلیں گے۔ مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جمیع مراسم اسلامیہ ترک کرنا چاہییں۔‘‘ اکابر دارالعلوم دیوبند میں سے جن حضرات نے اس فتویٰ کی تصدیق وتائید کی، ان میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، صدر مدرس دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ ، مدرس دارالعلوم دیوبند شامل ہیں۔ (بحوالہ شیعہ اثنا عشریہ کے کفرو ارتداد کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فتویٰ،صفحہ۶،۷)

۱۳۴۸ھ کا یہ فتویٰ شاید میرے مخدوم محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ کی نظروں سے نہیں گزرا، کیونکہ اگر حضرت نے اس فتویٰ کو ملاحظہ فرمایا ہوتا تو یقینااپنی صفوں میں اس گروہ باطل کی شمولیت کو جواز فراہم کرنے کے لیے مضمون نہ لکھتے بلکہ ان کے خلاف نبرد آزماشخصیات کے دست وبازوبنتے۔اس فتویٰ کے اندر دارالعلوم دیوبند کے نائب مفتی،فقیہ امت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے جانشین وفرزند ارجمندحضرت مولانا مفتی مسعود احمدؒ کی تحریر’’شیعہ اثنا عشریہ کے کفرو ارتداد کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فتویٰ‘‘ کے صفحہ نمبر۸،۹ پر انتہائی قابل دید ہے جسے میں یہاں ذکر نہیں کررہا کیونکہ میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ موجودہ دور کے اکابر علماء امت کے سامنے اس انداز میں بحث وتکرار کر سکوں، البتہ اس کی ایک کاپی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ کی خدمت میں ارسال کررہا ہوں تاکہ اگر یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے تو وہ ملاحظہ فرمالیں اور دیگر حضرات میں سے جس کسی نے ملاحظہ کرنی ہو، وہ حضرت راشدی صاحب سے رابطہ کرلیں۔

اہل تشیع اثنا عشریہ سے ترک تعلقات کے متعلق دوسرا فتویٰ موجودہ دور کے اکابر علماء امت کا ہے جس کاتذکرہ ماہنامہ الشریعہ کے گذشتہ شمارے میں شائع ہونے والے میرے مضمون میں ہوچکا ہے۔ابھی حال ہی میں محقق اہل سنت علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کی اس تحقیق و فتویٰ کی تصدیق دارالعلوم دیوبند کے موجودہ رئیس الافتاء حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی مدظلہ اور دیگر مفتیان عظام نے بھی کردی ہے۔حضرت مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی نے اس فتویٰ پر جو الفاظ تحریر فرمائے ہیں، وہ کچھ یوں ہیں’’تصدیق کی جاتی ہے کہ مذکورہ جواب بالکل صحیح ہے۔شیعہ کے جو عقائد ان کی کتابوں میں ملتے ہیں، وہ اپنے عقائد باطلہ کی بنیاد پر کافر ومرتد ہیں۔ان سے مذکورہ بالا تعلقات اور مراسم اسلامیہ رکھنا جائز نہیں۔‘‘

آخر میں محسن اہل سنت ،حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانیؒ کے ایک خط کا چھوٹا ساپیرا گراف بھی شامل کررہا ہوں جو انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے نام لکھا تھا۔ اس خط کو شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے اکابر کی شدت جذبات کا احساس ہو اور یہ اندازہ ہوکہ خود ہم اکابر پر کتنا اعتماد کررہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دانستہ یا نادانستہ اپنے اکابرامت کے فیصلوں کا مذاق اڑارہے ہیں۔ 

’’پاکستان میں کے بعض قابل اعتماد حضرات نے مجھے لکھا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ارکان میں بعض معروف شیعہ علماء ومجتہدین ہیں اور وہ برابر جلسوں میں شریک ہوتے ہیں اور اسی حیثیت سے ان کے نام شائع ہوتے ہیں،یہ ان کے مسلمان بلکہ خواص مسلمین اور محافظین اسلام ہونے کا ثبوت ہے۔ نہ صرف خدا کرے یہ اطلاع غلط ہولیکن اگر خدانخواستہ یہ اطلاع صحیح ہے تو میں آپ سے اور آپ کے ذریعے مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت صدر اور دیگر مسلمان اراکین سے عرض کروں گا کہ جلد سے جلد اس غلطی کی اصلاح فرمائی جائے۔ موجودہ صورتحال میں عام مسلمانوں کو یہ بتلانا ہمارا فرض ہے کہ اثنا عشری مذہب اسلام کی شاخ نہیں ہے بلکہ ایک متوازی دین ہے جس کی بنیاد اسلام کی تخریب ہی کے لیے رکھی گئی ہے۔’’الفرقان ‘‘کے مئی، جون، جولائی اور اگست۸۵ء کے شماروں میں، میں نے اس سلسلہ میں جولکھا ہے، وہ نظروں سے نہ گزرا ہوتو ضرور ملاحظہ فرمالیا جائے۔میرے اس عریضہ کی نقل یا فوٹو کاپی کراکر مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت صدر محترم کو بھیج دی جائے اور جناب سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کو خود جناب اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سے یہ کام بہتر طریقے سے لے لے،اور اس سلسلے کی کاوش وجدوجہد کو آپ اپنے قرب ورضا کا وسیلہ بنائے۔‘‘ (بحوالہ،ماہنامہ بینات جمادی الاولیٰ۱۴۱۸ھ)

میں نے اپنے گذشتہ مضمون میں بھی یہ عرض کیا تھا کہ حضرات اکابر علماء کرام کو مل بیٹھ کر اہل تشیع اثناعشری کی قومی وملی تحریکات میں شمولیت کے متعلق علمی بحث ومباحثہ کے بعد متفقہ لائحہ عمل اور ضابطہ اخلاق تیا ر کرنا چاہیے،تاکہ اس عنوان پر جن لوگوں کے تحفظات ہیں، وہ دور ہوسکیں اور ہماری تمام تحریکات مکمل یکسوئی اور اتحاد واتفاق کے ساتھ اپنی جدوجہد میں مصروف رہیں ،یوں ہم نتائج بھی بہترین حاصل کرسکتے ہیں۔اللہ رب العزت ہم سب کو دین حق اسلام کا سچا سپاہی بنائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مکاتب فکر