دھڑکٹی تصویر اور فقہِ حنفی

ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

اگر کسی مسئلہ یاواقعہ کے شرعی حکم کے بارہ میں فقہا کا کوئی ایک نکتۂ نظر مشہور ہوجائے توضروری نہیں ہوتا کہ فی الواقع بھی اس مسئلہ میں اہل علم کا صرف ایک ہی نکتۂ نظر ہو اور وہ سب اس ایک رائے پر متفق ہوں جو اس مسئلہ کے شرعی حکم کے حوالہ سے زبان زدِ عام ہوچکی ہے ۔ ایسے درجنوں مسائل کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جن کے بارہ میں عوام تو عوام، اچھے بھلے سنجیدہ اور فہمیدہ لوگ بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ یہ اختلاف سے ماورا، اجماعی اور متفقہ ومنصوص مسائل ہیں حالانکہ درحقیقت ان کے اندر اہلِ علم کی ایک سے زیادہ آراء موجود ہوتی ہیں۔ ہماری مراد اس سے وہ مسائل نہیں ہیں جن کے اندر کسی زمانہ میں علماءِ امت کا اختلاف تھا اور بعد میں اللہ کی کسی تکوینی حکمت کے تحت یا کسی ایک موقف کی قطعیت سامنے آنے کے بعد پوری امت ان کے اندر یک رائے ہوگئی، جسے اصولِ فقہ کے اندر ’’اجماع من بعد الصحابۃ علی قول سبقہم فیہ مخالف‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے (۱)کیونکہ یہ اتفاق بھی کسی نہ کسی درجہ میں بہرحال اجماع کے دائرہ میں ہی آتا ہے ۔ ہمارا اِشارہ یہاں اُن ’’مظلوم مسائل‘‘ کی طرف ہے جو کبھی بھی اجماعی نہیں رہے ،مگر ان کے اندر کسی ایک مکتبِ فکر کا نکتۂ نظر اس حد تک مشہور ہوا کہ علماء کی نظروں سے بھی اس مسئلہ کے اندر موجود ایک دوسرا نکتۂ نظراوجھل ہوگیااور اسی شہرت کے زیرِ اثر غلط طور پر یہ سمجھ لیا گیا کہ یہ اجماعی مسائل ہیں۔اگر اجماع وقطعیت کا یہ دعوی کسی ایک دور کے علماء کی ذاتی تحقیق اور ان کے ذاتی اتفاقِ رائے کی حدتک ہوتا تو درست اور قابلِ فہم تھا،لیکن چونکہ سرے سے یہ دعوی کسی تحقیق یازمینی حقائق پر مبنی ہی نہیں تھا اِس لیے کم علمی کی وجہ سے اس اتفاق کو ماضی وحال کی تمام وسعتوں تک محیط کردیا گیااور اس میں اُن اصحابِ نظر کو بھی شامل کرلیا گیا جنہوں نے واشگاف الفاظ میں اس مسئلہ کے اندر اپنے اختلافی نکتۂ نظر کا اظہار کیا تھا۔ پھر یہ ہواکہ جب کوئی طالبِ علم جھاڑ پونچھ کر پرانے اکابرین میں سے ہی کسی مقتدر شخصیت کا اس مسئلہ میں اختلافی نکتۂ نظر میدان میں لے کر آیا تو اچھے اچھے صاحبانِ علم نے اس پر حیرت کے مارے انگلیاں منہ میں دبا لیں۔

ان مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر ہم تفصیل سے گفتگو کسی موقع پر کریں گے ۔فی الحال ہمارے سامنے جو مسئلہ ہے، وہ تصویر کی حرمت کا ہے ۔یہ بھی انہی ’’مظلوم مسائل‘‘ میں سے ایک ہے ۔ یہ درست ہے کہ تصویر کی حرمت چودہ صدیوں میں امت کے ہاں اجماعی اور غیرمختلف فیہ رہی ہے ،لیکن یہ اجماع تصویر کے مجمل شرعی حکم کی حد تک ہے۔ ذیلی جزئیات و تفصیلات سے اِس کا کوئی تعلق نہیں،جیساکہ نماز کی فرضیت ، اذان کی مشروعیت اور ربا کی حرمت بھی فقہاءِ امت کے مابین اتفاقی امور ہیں ، لیکن یہ اتفاق ان کے فی الجملہ شرعی حکم تک محدود ہے ۔سب جانتے ہیں کہ ضمنی تشریحات اور اجتہادی صورتوں کے ساتھ اِس اتفاق کا قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اجماعی مسائل میں اجماع اور اتفاق کا پھیلاؤ بس اِ سی قدر ہی ہوتا ہے،فقہی تفریعات اور اصولی موشگافیاں عموماً اس کے دائرہ سے باہر ہی ہوتی ہیں۔مسئلہ تصویر کی تفصیلات میں صرف ائمہ اربعہ کی مختلف آرا کا اجمالی مطالعہ کرنے کے لیے کتاب الفقہ علی المذاہب الأربعۃ کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ کلاسیکی فقہا میں سے صرف ائمہ اربعہ کا اس مسئلہ میں کتنا اختلاف ہے اور یہ جاننے میں آسانی ہوگی کہ حرمت تصویر کے اجماعی فتوی کے باوصف کتنی ہی قسم کی تصاویر اس فتویٰ سے مستثنیٰ ہیں ؟

ہماری کھود کرید او رجانچ پڑتال کے مطابق جو تصاویر اِ س فتوی سے مستثنی ہیں اور چاروں مذاہب میں بالاتفاق ان کے جواز کی گنجائش موجود ہے ، ان میں جان داروں کی سربریدہ تصاویر یاجسم کے صرف اتنے حصے کی تصاویر شامل ہیں جس کے ساتھ اس جان دار کا زندہ اور بقیدِ حیات رہنا ممکن نہیں ہوتا۔شیخ عبدالرحمن الجزیریؒ احناف کا مذہب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’الحنفیۃ قالوا : ۔۔۔وکذلک یجوز اذاکانت الصورۃ ناقصۃ عضوالایمکن ان تعیش بدونہ کالرأس ونحوہ‘‘(۲) مالکیہ کا مذہب بیان کرتے ہیں:’’المالکیۃ قالوا: انما یحرم التصویر بشروط اربعۃ ۔۔۔ثالثہا : ان تکون کاملۃ الاعضاء الظاہرۃ التی لایمکن ان یعیش الحیوان او الانسان بدونہا، فان ثقبت بطنہا اورأسہا او نحو ذلک فانہا لاتحرم‘‘ (۳) شوافع کے بارہ میں لکھتے ہیں: ’’الشافعیۃ قالوا:۔۔۔وان کان مجسدا فانہ یحل التفرج علیہ اذا کان علی ہیءۃ لایعیش بہا کأن کان مقطوع الرأس أوالوسط أوببطنہ ثقب‘‘ (۴) نیز حنابلہ کا موقف نقل کرتے ہیں:’’الحنابلۃ قالوا:۔۔۔ فاذاکان مجسدا ولکن ازیل منہ مالاتبقی معہ الحیاۃ کالرأس ونحوہا فانہ مباح‘‘ (۵) ان عبارات سے ظاہر ہورہا ہے کہ مذاہبِ اربعہ میں جان داروں کی ایسی نامکمل تصاویر کی گنجائش موجود ہے جو بغیر سر کے ہیں یا کسی اور ایسے عضو کے بغیر ہیں جس کے بغیر اس جان دار کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔

چونکہ ہماری گفتگو کا خاص موضوع اِس وقت فقہِ حنفی ہے ، اس لیے ہم فقہِ حنفی کی نصوص کے حوالہ سے ہی اپنی بات مزید آگے بڑھاتے ہیں۔احناف کے نزدیک تصویر کی کراہت کا ایک دائرہ اس کے عمومی استعمال کا ہے جبکہ دوسرا دائرہ نمازی کے قریب موجود ہونے کا ہے۔اِن دونوں دائروں کی علیحدہ علیحدہ تفصیلات ہیں اور دونوں میں علتِ کراہت بھی مختلف ہے ۔ علامہ ابنِ عابدینؒ لکھتے ہیں :’’علۃ حرمۃ التصویر المضاہاۃ لخلق اللہ ۔۔۔وعلۃ کراہۃ الصلوۃ بہا التشبہ‘‘ (۶) عمومی استعمال کے باب میں حرمتِ تصویر کی علت المضاہاۃ لخلق اللہ یعنی اللہ کی تخلیق کے ساتھ تشابہ ،اس کی نقالی اور یک گونہ مقابلہ بازی ہے ۔ یہ علت درج ذیل حدیث کے مضمون سے اخذ کی گئی ہے :’’ان اصحاب ہذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ ، یقال لہم : احیوا ما خلقتم‘‘ (۷) نیز فرمایا: ’’من صور صورۃ فی الدنیا کلف یوم القیمۃ ان ینفخ فیہا الروح، ولیس بنافخ‘‘ (۸) ان احادیث میں تصویر سازی کی اخروی سزا بیان کی گئی ہے کہ مصور کو روزِ قیامت اپنی تصاویر میں روح ڈالنے پر مجبور کیا جائے گا جوکہ اس کے بس میں نہیں ہوگااور اس کی وجہ سے وہ بے بسی اور اضطرار کی جس تکلیف دہ اندرونی کیفیت سے دوچار ہوگا ، وہی اس کی سزا ہوگی۔ حدیث کا مضمون واضح طور پر بتارہا ہے کہ تصویر سازی صرف جان داروں کی ہی حرام ہے کیونکہ بے جان اشیا میں روح ڈالنے کے حکم کا کوئی معنی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خود احادیث وآثار سے ہی بے روح اشیا کی تصویر سازی اور عکاسی کا جواز صراحتاً ثابت ہے اور نیز یہی وجہ ہے کہ چونکہ جان دارکی صورت گری ہی حرام ہے اس لیے بغیر سر کے کسی جان دار کی تصویر بنانا بھی حرام نہیں ہے کیونکہ بغیر سر کے کوئی ذی روح زندہ نہیں رہ سکتا اور اِس صورت میں وہ تصویر گویا کسی بے جان اور جامد چیز کی ہوگی جس میں روح نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ 

اس تفصیل کی روشنی میں احناف کے نزدیک المضاہاۃ لخلق اللہ کی علت کا معنی ومفہوم اور حدودِ اربعہ بھی پور ی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ علت کامل طور پر اسی صورت میں متحقق ہوگی کہ جب تصویر ذی روح کی ہو ا ور اس میں ان تمام ظاہری اعضا کی ضرور عکاسی کی گئی ہو جو اس کے وجود کے لیے لابدی اور مالایعیش بدونہ کے درجہ میں ہیں۔مطلق مضاہات علتِ ممانعت نہیں۔چنانچہ امام ابو جعفر طحاوی ؒ مقطوع الرأس تصویر کے جواز کے حق میں احادیث وآثار نقل کرنے کے بعد یہی نتیجہ اخذکرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’فلما ابیحت التماثیل بعد قطع رؤسہا الدی لو قطع من ذی الروح لم یبق دل ذلک علی اباحۃ تصویر مالاروح لہ وعلی خروج مالاروح لمثلہ من الصور‘‘ (۹)۔ (حافظ ابنِ حجر عسقلانی ؒ نے بھی بعض علما کی طرف اِس استدلال کو منسوب کرنے کے بعدسنن نسائی کی ایک حدیث کی روشنی میں اسی کو ترجیح دی ہے۔ (۱۰) امام طحاوی ؒ کا یہی مدققانہ استدلال بعد میں فقہاءِ احناف کے مقطوع الرأس کے ساتھ ساتھ مقطوع عضوٍ لایعیش بدونہ کو بھی مستقل طور پر مباح تصاویر کی فہرست میں شامل کرنے کا سبب بنا۔ علاؤالدین الحصکفی ؒ لکھتے ہیں: ’’ولایکرہ لو کانت ۔۔۔أو مقطوعۃ الرأس أوا لوجہ أو ممحوۃ عضوٍ لاتعیش بدونہ (۱۱) نیز شیخ احمد الطحطاوی ؒ لکھتے ہیں: ’’قطع الرأس لیس بقید، بل المراد جعلہا علی حالۃ لاتعیش معہا مطلقا‘‘ (۱۲) مؤخر الذکر دونوں عبارات ’’مکروہات الصلوۃ‘‘ کے باب سے نقل کی گئی ہیں جس سے یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اِن تصاویر کی عدمِ کراہت کا تعلق محض نماز کے ساتھ ہے، لیکن یہ بات درست نہیں ۔ جس طرح مقطوع الرأس تصویرعدمِ مضاہات کی وجہ سے عمومی استعمال کے لیے بلاکراہت جائز ہے ، مقطوع مالایعیش بدونہ کے اندر بھی بعینہ اسی طرح مضاہات کی علت مفقود ہے،اس لیے اس کی عدمِ کراہت کو بھی محض نماز کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔

البتہ سرکٹی تصویر کی طرح نہ تو ہم دھڑکٹی تصویر (جس کی ضرورت آج قدم قدم پر مختلف امورِدنیامیں پیش آتی ہے اور جو اس وقت ہماری تحقیق کا اصل موضوع ہے ) کو قطعی طور پر جائز سمجھتے ہیں اور نہ ہی اہل علم سے اس کو بہر صورت جائز سمجھنے کا تقاضاکرتے ہیں کیونکہ یہ ایک اجتہادی تخریج ہے ،کوئی منصوص مسئلہ نہیں ۔اس لیے اس میں خطا و صواب کا امکان برابر موجود ہے او راہل تحقیق کو اِس میں کراہت یا عدمِ کراہت کا کوئی ایک نکتۂ نظر اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے حنفی فقہاء ہی کے مابین اِ س تصویر کا جواز کوئی متفق علیہ امر نہیں رہا۔ فتاویٰ عالم گیری کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: ’’اختلف المشائخ فی رأس الصورۃ بلاجثۃ ہل یکرہ اتخاذہ والصلوۃ عندہ؟‘‘ (۱۳) نیز علامہ شامی لکھتے ہیں: ’’قال القہستانی : فیہ اشعاربأنہ لاتکرہ صورۃ الرأس وفیہ خلاف کما فی اتخاذہا،کذا فی المحیط‘‘ (۱۴) پاک وہند کے علماء میں اگرچہ جواز کے قول کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں رہی، مگر ثقہ علما نے ہمیشہ جواز کے ایک قول کا بہرحال اعتراف ضرور کیا ہے اور اِس تصویر کو متفقہ طورپر حرام کبھی نہیں کہا ۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ امدادالفتاوی میں ردالمحتار کی ہی مذکور الصدر عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :’’اس سے معلو م ہوا کہ اس میں بوجہ اختلاف کے ضرورت والے کو گنجائش ہے، گو غیر ضرورت والے کو بقاعدہ اذا تعارض المحرم والمبیح الخ منع کو ترجیح ہوگی۔‘‘ (۱۵)‘‘نیز مفتی محمد شفیع ؒ لکھتے ہیں :’’لیکن اگر ناقص تصویرمیں چہرہ موجود ہو تو خواہ بدن باقی نہ ہو توایسی تصویر کا استعمال اکثر فقہا کے نزدیک جائز نہیں ، مگر بعض حضراتِ حنفیہ اور اکثرمالکیہ اس کے استعمال کوبھی جائز فرماتے ہیں۔‘‘ (۱۶)

مولانا مفتی محمد شفیع ؒ نے عدمِ جواز کی ترجیح ثابت کرنے کے لیے جواز کے موقف پر کئی اشکالات بھی وارد کیے ہیں (۱۷)، جبکہ ان سے قبل مولانا احمد رضاخان بھی اِس نکتۂ نظر پر بہت تفصیل سے ناقدانہ کلام کرچکے ہیں۔(۱۸)اٹھائے گئے نکاتِ اعتراض میں سے ایک مشہور اعتراض یہ ہے کہ تصویر کے اندر اصل مقصود چہرہ ہوتا ہے ، اس لیے جب تک چہرہ باقی رہے گا ، اس وقت تک تصویر بھی باقی رہے گی اور حرمت کا حکم مرتفع نہیں ہوگا۔ یہ اعتراض بظاہر بہت معقول اور وزنی ہونے کے باوجود اپنی اصل میں بالکل قابلِ التفات نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تصویر کے اندر چہرہ کے ’’اصل مقصود‘‘ ہونے سے کیا مراد ہے ؟اگر یہی کہ لوگوں کے مقاصد اور ضروریات اسی قدر سے پورے ہوتے ہیں تو ہمارے خیال میں یہ چیز ممانعت کی کوئی شرعی وجہ نہیں۔احناف کے نزدیک حرمت کی وجہ المضاہاۃ لخلق اللہ ہے ، نہ کہ عرفِ عام کے اندر اس کا قابلِ اعتبار اور بامقصد ہونا یا لوگوں کی معاشرتی ، قانونی اور حفاظتی ضروریات کے ایک خاص دائرہ میں اس کا کارآمد ہونا ، بلکہ فقہا کے کسی بھی مکتبِ فکر کے نزدیک تصویر کے عدمِ جواز کی یہ علت نہیں ۔نیز اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اِس صورت میں صرف دھڑکٹی تصویر کو ہی نہیں ، سرکٹی تصویر کو بھی ناجائز ہی کہنا پڑے گاکیونکہ جس طرح محض چہرہ کی تصویر بعض اوقات مقصودِ اصلی اور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ، بعینہ اسی طرح بعض اوقات صرف نچلے دھڑ کی تصویر بھی اصل مقصود کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے ۔چہرہ کی تصویر اگر ایک فرد کا تعین کرتی ہے تو نچلے دھڑ کی تصویرجان داروں کی اصناف میں سے کسی ایک صنف کا تعین کرتی ہے ۔اگر مصور کا تخیل تصویر کے اندر جان داروں کی کسی خاص جنس کی عکاسی کا تقاضاکرتاہے تو وہ اس کے چہرہ کو مدہم یاکسی دوسری چیز کے اندر مدغم کرکے بھی اپنا کام چلاسکتا ہے۔ اس صورت میں اس کا اصل مقصود چہرہ نہیں ، بلکہ نچلا دھڑ قرار پائے گا۔تو کیا ’’مقصود‘‘ ہونے کی وجہ سے اِس کو بھی ناجائز کہا حائے گا؟حالانکہ بغیر سر کے نچلے دھڑ کی تصویر اجماعاً مباح ہے ۔(۱۹)

مکررعرض ہے کہ ہمارا مقصود کسی ایک نکتۂ نظر کی ترجیح پر اصرار کرنا نہیں، بلکہ صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ازراہِ کرم مختلف فیہ مسائل کو اپنی کم علمی کی بھینٹ چڑھا کر اجماعی مت بنائیں۔ ایسا کرکے ہم دین کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے ۔ محض چہرہ کی تصویر اگر بعض علماء کے نزدیک جائز ہے تو آپ بے شک اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں،مگر اس کے اندر موجود اختلاف کا بھی اعتراف کریں اور دوسروں کو اپنی رائے کا مکلف اور پابند بنانے کی بجائے،اختلاف کی وجہ سے اس مسئلہ میں جو شرعی گنجائش پیداہورہی ہے ،اپنے دیانت دارانہ موقف پر کاربندرہنے کے باوصف اختلاف الأمۃ رحمۃ  اور الدین یسر کے تحت لوگوں کو اس سے مستفید ہونے دیں۔فقہِ حنفی میں کئی ایسی نظائر موجود ہیں کہ جن کے اندر مسئلہ کے شرعی حکم میں ہمارے فقہا نے صرف اس لیے تخفیف کردی کہ یہ مجتہدفیہ مسئلہ ہے اور اس میں بعض اہلِ علم کا اختلاف ہے (باوجو داس کے کہ ایک مجتہد صرف اپنے اجتہاد کا مکلف ہوتاہے ، کسی دوسرے کی رائے کے لحاظ اور رعایت کانہیں)مثال کے طور پر:

۱۔نجاستِ خفیفہ کے تصور کو لے لیں۔ امام محمد ؒ کے نزدیک حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے جبکہ امام ابوحنیفہ ؒ اور امام ابویوسف ؒ کی تحقیقی رائے اس سلسلہ میں یہ ہے کہ یہ نجاست کے قبیل سے ہے ،لیکن وہ اسے ہلکی نجاست(نجاستِ خفیفہ ) کہتے ہیں۔ اس کی وجہ ؟ صرف یہ کہ اِس کی نجاست کا حکم منصوص اور قطعی نہیں،بلکہ مجتہدفیہ ہے ۔(۲۰)

۲۔’’عورتِ غلیظہ ‘‘،’’عورتِ متوسطہ‘‘ اور’’ عورتِ خفیفہ ‘‘کی درجہ بندی کو لے لیں۔ احناف کے نزدیک مرد کے جسم میں ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ ستر ہے ، مگر ان کے نزدیک گھٹنا معمولی ، ران متوسط اور اعضاءِ رئیسہ بڑے درجہ کی ’’برہنگی ‘‘ شمارہوتے ہیں۔ (۲۱)بعدازاں اس درجہ بندی کے اثرات فروعی احکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ میت کو غسل دیتے وقت غسال کی سہولت کے لیے صرف اس کے اعضاءِ رئیسہ (عورتِ غلیظہ ) کو چھپالینا ہی کافی ہے۔(۲۲)نیز اگر کسی آدمی کا ستر کھلا ہوا ہے تو اِن درجات اور مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے ساتھ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ گھٹنا یا ران کے کھلے ہونے کی صورت میں زیادہ سختی سے پیش آنا جائز نہیں۔(۲۳)اس درجہ بندی کا پسِ منظر کیا ہے ؟کوئی آیت یا حدیث نہیں ، محض اس کی ’’مجتہد فیہ‘‘ کی حیثیت ہی ہے کیونکہ شوافع کے نزدیک گھٹنا ستر میں شامل نہیں ، جبکہ اصحابِ ظواہر کے نزدیک ران بھی اِس میں شامل نہیں۔ البتہ چونکہ اعضاءِ رئیسہ کے ستر ہونے پر اتفاق ہے اس لیے اس کو عورتِ غلیظہ قرار دیا گیا ہے ۔(۲۴)

۳۔اگر نفل نماز شروع کرکے توڑ دی جائے تو احناف کے نزدیک اس کا اعادہ واجب ہوتا ہے ، لیکن بعض صورتیں احناف کے نزدیک بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔ یہ وہ صورتیں ہیں کہ جن کے اندر اولاًً نفل نماز کے صحیح طور سے شروع ہونے میں اختلاف ہے ۔ احناف کے نزدیک اگرچہ تحریمہ صحیح ہوگیا تھا اور اس وجہ سے اِن صورتوں میں بھی ان کے نزدیک توڑے گئے دوگانہ کو واجب الاعادہ ہونا چاہئے تھا مگر فی الواقع ایسا نہیں۔ کیوں؟صرف اس لیے کہ اصلاً اس تحریمہ کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے ۔ اگر نماز اُسی تحریمہ سے مکمل کرلیتا تو احناف کے نزدیک مستحقِ اجر ہوتا ،لیکن اگر درمیان میں قطع کردی ہے توخلافِ قاعدہ اس کا اعادہ ضروری نہیں کیونکہ اُس تحریمہ کی صحت ’’مظنون‘‘ اور مجتہد فیہ ہے۔ (۲۵)

یہ تین مثالیں صرف ’’عبادات وقربات ‘‘ کے باب سے نقل کی گئی ہیں جس کے اندر بالاتفاق احتیاط کا پہلو ملحوظ رکھنا مطلوب ہے۔ اگر اس باب کے اندر اسلافِ امت اور خصوصاً ہمارے فقہاءِ احناف اپنے موقف پر کاربند رہتے ہوئے محض مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے اتنی آسانیاں فراہم کررہے ہیں تو معاشی ، معاشرتی اور سماجی نوعیت کے مسائل میں اس پہلو کو ملحوظ رکھنا کس حدتک ضروری ہوگا ؟بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔شاید اسی وجہ سے حضرت گنگوہی ؒ اور حضرت تھانویؒ سے معاملات کے باب میں لوگوں کی آسانی اور سہولت کے لیے ائمہ اربعہ میں سے کسی بھی امام کے مذہب پر فتوی دینے کا جواز بلکہ پسندیدگی منقول ہے۔ (۲۶)

ہمارے خیال میں’’ الشریعہ ‘‘کے مکتوب نگار مولانا سختی داد خوستی کو ان طالب علمانہ گذارشات کی روشنی میں اپنے مکتوب کے ان مندرجات پر نظر ثانی کرلینی چاہیے جن کے اندر وہ تصویر کی حرمت کو پوری شدومد کے ساتھ متفق علیہ امر لکھ کر اکابرینِ وفاق سے اپنی اس نئی پالیسی کو تبدیل کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں جس کے تحت امتحان کے شرکا کو داخلہ فارم کے ساتھ پاسپورٹ سائز کی تصویر جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے ۔ تاہم ان کا یہ شکوہ بجا ہے کہ ’’ہم لوگ ‘‘ کل تک جس امر کو پوری قطعیت کے ساتھ حرام کہتے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کا ذرا بھی اعتبار نہ کرتے ہوئے ان کے لیے اسے ’’شجرۂ ممنوعہ ‘‘ قرار دیتے ہیں، بعد میں جب خود اپنے اوپر آن پڑتی ہے اور عملاً مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ کے تحت اسے جائز قرار دے دیتے ہیں۔پہلے یہ شکوہ مولوی کو عوام سے ہوتا تھا، لیکن اب خود علماءِ کرام کے حلقے میں بھی یہی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں ۔ مولانا سختی داد نے جس شکوہ کا اظہار کیا ہے، یہ صرف ان کا نہیں،نوے فی صد سے زیادہ علماءِ کرام وفاق المدارس اور بڑے دینی مدارس کے تصویر کو ’’ضرورت‘‘ اور لازمی قرار دینے کی پالیسی پر بعینہ اسی طرح تشویش میں مبتلا ہیں اور یہ تشویش کسی حد تک بجا بھی ہے کیونکہ کل تک ہم ہی تھے جو شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر امورِ دنیا میں تصویر کے ضرورت قرار دینے کو بلاجواز اور اور مسلمان حکم رانو ں کے فسق وفجور پر محمول کرتے تھے ۔ ایسے میں یہ سوال بالکل بدیہی ہے کہ اگر ریاستی اور بین الاقوامی معاملات میں تصویر کی ضرورت مسلمہ نہیں تھی تو ہمارے معمولی تنظیمی اور ادارہ جاتی امور میں یہ ضرورت کیسے متحقق ہوگئی؟ یہی گول مول پالیسیاں اور طرزِ عمل کی عدمِ یکسانیت بعد میں لوگوں کوایسے معاملات پر ازخود رائے زنی کا جواز فراہم کرتی ہے جو ہمیں گراں گزرتی ہے ۔

حواشی

(۱) تفصیل کے لیے دیکھیے: المستصفی للغزالی۱/۱۸۵۔ط:مصری قدیم، (ایضا) فواتح الرحموت لبحرالعلوم العلامۃ عبدالعلی ۲/۲۲۰۔ط:مصری قدیم

(۲) الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۳۔ط: دارالغد الجدید، مصر

(۳) الفقہ علی المذاہب الاربعہ ، کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۲۔ط:دارالغدالجدید،مصر

(۴) الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۳۔ط:دارالغدالجدید،مصر

(۵) الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۳۔ ط: دارالغد الجدید، مصر

(۶) ردالمحتار،باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا، ۱/۴۷۹۔ط:مصری قدیم

(۷) صحیح البخاری ،کتاب اللباس (باب من کرہ القعود علی الصور)، حدیث نمبر ۵۹۵۷

(۸) صحیح البخاری ،کتاب اللباس (باب من صور صورۃ کلف یوم القیمۃ ۔۔۔)، حدیث نمبر۵۹۶۳

(۹) شرح معانی الآثار ،کتاب الکراہیۃ (باب الصور تکون فی الثیاب) ۴/۱۰۰۔ط:قدیمی کتب خانہ ،کراچی

(۱۰) ان کی عبارت یہ ہے :’’وفی روایۃ النسائی : اما أن تقطع رؤسہا أو تجعل بسطا توطأ، وفی ہذاالحدیث ترجیح قول من ذہب الی أن الصورۃ التی تمتنع الملائکۃ من دخول المکان التی تکون فیہ باقیۃ علی ہیئتہا مرتعفۃ غیر ممتہنۃ ، فأما لوکانت ممتہنۃ أوغیر ممتہنۃ لکنہا غیرت من ہیئتہا اما بقطعہا من نصفہا أو بقطع رأسہا فلاامتناع (فتح الباری ۱۰/۴۸۰۔ط:قدیمی کتب خانہ ،کراچی)

(۱۱) الدرالمختار،باب ما یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا، ۱/۴۷۹،۴۸۰۔ط: مصری قدیم

(۱۲) حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ،فصل فی المکروہات من الصلوۃ، صفحہ نمبر ۱۹۹۔ط:مصری قدیم

(۱۳) الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الکراہیۃ (الباب الرابع)  ۵/۳۱۵۔ ط: مصری قدیم

(۱۴) ردالمحتار،باب ما یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا، ۱/۴۷۹۔ط:مصری قدیم

(۱۵) امدادالفتاوی ، غناؤ مزامیراور لہوولعب وتصویر کے احکام۴/۲۵۳۔ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی

(۱۶) تصویر کے شرعی احکام،صفحہ نمبر۸۶۔ط:ادارۃ المعارف ، کراچی

(۱۷) تصویر کے شرعی احکام،صفحہ نمبر۷۸۔ط:ادارۃ المعارف ، کراچی

(۱۸) فتاوے رضویہ۲۴/۵۷۸،۵۸۹۔ط:رضافاؤنڈیشن،لاہور

(۱۹) تصویر کے شرعی احکام،صفحہ نمبر۴۴۔ط:ادارۃ المعارف ، کراچی

(۲۰) الہدایۃ،باب الأنجاس وتطہیرہا ۱/۱۳۲۔ط: مکتبۃ البشری

(۲۱) ردالمحتار،باب شروط الصلوۃ ۱/۳۰۱۔ط:مصری قدیم

(۲۲) الہدایۃ، باب الجنائز (فصل فی الغسل) ۱/۴۰۸۔ط: مکتبۃ البشری

(۲۳) ردالمحتار،باب شروط الصلوۃ ۱/ ۳۰۱۔ط:مصری قدیم

(۲۴) فتح الباری ۱/ ۶۳۳۔ط:قدیمی کتب خانہ ،کراچی (ایضا) کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الصلوۃ (مبحث ستر العورۃ فی الصلوۃ)، صفحہ نمبر ۱۱۱۔ط: دارالغد الجدید

(۲۵) الہدایۃ ،باب سجودالسہو ۱/۳۳۷،۳۴۰۔ط: مکتبۃ البشری

(۲۶) ملفوظاتِ حکیم الامت ۶/ ۲۱۴۔ط: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ،ملتان

مکاتب فکر