مذہب حنفی کے حوالے سے دو سنجیدہ سوالات

مولانا سمیع اللہ سعدی

سائد بکداش فقہی تحقیقات کے حوالے سے معاصر علمی دنیا کے معروف محقق ہیں۔ جامعہ ام القریٰ سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ہے ،پی ایچ ڈی مقالے کے لیے مختصر الطحاوی پر امام جصاص کی مبسوط شرح مختصر الطحاوی کے مخطوطے کا انتخاب کیا ،اور اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر آٹھ جلدوں میں اس کی تحقیق مکمل کی۔ موصوف حلب کے معروف حنفی عالم اور محقق شیخ عوامہ کے داماد بھی ہیں۔ آج کل مدینہ منورہ میں مقیم ہیں۔ گرانقدر تصنیفات کے ساتھ فقہ حنفی کی ایک درجن سے زائد بنیادی کتب پر تحقیق کر چکے ہیں ،جن میں متون ثلاثہ ،قدوری ،کنز اور المختار بھی شامل ہیں۔آپ کی تحقیقات علمی دنیا میں بڑی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ حال ہی میں موصوف کا سو صفحات پر مشتمل "تکوین المذھب الحنفی مع تاملات فی ضوابط المفتی بہ" کے نام سے ایک قیمتی کتابچہ سامنے آیا ہے۔ رسالے کے مقدمے میں لکھا ہے کہ اس رسالہ کے لیے فقہی کتب سے عبارات جمع کرنے میں دس سال کا عرصہ لگا ۔اس رسالے میں محقق مذکور نے فقہ حنفی کے حوالے سے دو سوالات کو زیر بحث بنایا :

ایک سوال یہ کہ فقہ حنفی کا اطلاق امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال پر ہوتا ہے یا اس اصطلاح میں صاحبین و امام زفر کے اقوال بھی شامل ہیں؟اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اجلہ اصحاب کے اقوال پر بھی فقہ حنفی کا لفظ بو لا جاتا ہے ،جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے تو اس اطلاق کی ابتداء کب سے ہوئی؟کیا ائمہ کے زمانے سے ہی یہ رائج تھا کہ فقہ حنفی میں صاحبین و امام زفر کے اقوال بھی شامل تھے یا بعد کے فقہاء نے یہ اصطلاح بنائی ہے؟اگر بعد میں بنی ہے تو اس اصطلاح کی علمی حیثیت کیا ہے؟ اور اس پر از سر نو غور کرنے کی کتنی گنجائش ہے؟

دوسرا سوال یہ کہ فقہ حنفی میں مفتی بہ اقوال کی تعیین کے ضوابط کیا ہیں؟اس میں علامہ شامی رحمہ اللہ کے ذکر کردہ منہج سے ہٹ کل مزید کتنے مناہج ہیں؟ ان مناہج کے واضعین فقہاء نے کن علمی بنیادوں پر یہ ضوابط طے کیے؟ ان ضوابط کے پیچھے کیا اصول و دلائل کار فرما ہیں ؟اور مفتیان کرام پر ان ضوابط کی پاسداری کس حد تک اور کیوں لازم ہے؟

ہم موصوف کے اٹھا ئے گئے دونوں سوالات کی تفصیل ترجمانی کے انداز میں قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں اور فیصلہ فقہ و فتویٰ سے شغف رکھنے والے محققین پر چھوڑ دیتے ہیں۔

پہلا سوال: فقہ حنفی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟

موصوف کے بقول اس مسئلے پر فقہائے حنفیہ میں سے سب سے پہلے بارہویں صدی ہجری کے معروف شامی عالم عبد الغنی نابلسی نے مستقل رسالہ "الجواب الشریف للحضرۃ الشریفۃ فی ان مذھب ابی یوسف و محمد ھو مذھب ابی حنیفۃ" لکھا۔ فقہی کتب میں اگرچہ مختلف مقامات پر ضمناً فقہاء نے اس پر بحث کی ہے، چنانچہ علامہ نابلسی کے علاوہ اس موضوع پر ابن عابدین شامی،شاہ ولی اللہ، مصری عالم شیخ محمد بخت المطیعی، شیخ الاسلام زاہد الکوثری اور دیگر فقہاء نے اس موضوع پر بحث کی ہے،لیکن اس کو باقاعدہ تصنیف کا موضوع شیخ نابلسی نے بنایا۔اس رسالہ کے لکھنے کا سبب یہ بناکہ امیر حجاز شریف سعد نے شیخ نابلسی سے یہ سوال کیا :

ما تقولون فی مذھب ابی حنیفہ رضی اللہ عنہ و صاحبیہ ابی یوسف ومحمد، فان کل واحد منھم مجتھد فی اصول الشرع الاربعۃ: الکتاب و السنۃ و الاجماع و القیاس، وکل واحد منھم لہ قول مستقل غیر قول الاخر فی المسالۃ الواحدۃ الشرعیہ، وکیف تسمون ھذہ المذاھب الثلاثۃ مذھبا واحدا، و تقولون ان الکل مذھب ابی حنیفۃ؟و تقولون عن الذی یقلد ابا یوسف فی مذھبہ ا ومحمدا انہ حنفی، و انما الحنفی من قلد ابا حنیفہ فقط فیما ذھب الیہ؟ (ص ۶۱)
’’امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے مذہب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟کیونکہ ان تینوں حضرات میں سے ہر ایک شریعت کے ادلہ اربعہ میں مجتہد مستقل ہے ،اور ایک ہی مسئلے میں ہر ایک کاالگ الگ مستقل قول ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ ان تین مجتہدین کے مذاہب فقہیہ کو ایک مذہب کے نام سے کیسے موسوم کرتے ہیں؟اور سب کو ابوحنیفہ کے مذہب سے پکارتے ہو ،اور تم لوگ امام ابویوسف یا امام محمد کی تقلید کرنے والے کو "حنفی"کانام دیتے ہو ،حالانکہ حنفی تو صرف وہ ہوتا ہے ،جو امام ابوحنیفہ کی تقلید کرے ؟‘‘

فقہائے حنفیہ کی طرف سے اس سوال کے جوابات

محقق مذکور کے بقول اس سوال کے فقہائے حنفیہ کی طرف سے عموماً دو قسم کے جواب دیے جاتے ہیں ،ایک جواب صاحبین کو مجتہد منتسب ماننے کی صورت میں اور دوسرا جواب ان کو مجتہد مستقل مان کر دیا جاتا ہے۔ 

علامہ نابلسی و دیگر بعض فقہاء نے پہلے طرز کا جواب دیا ہے کہ صاحبین کے اقوال فقہیہ دو وجوہ سے امام ابوحنیفہ کے اقوال شمار ہوتے ہیں :

۱۔صاحبین امام ابوحنیفہ کے مستنبط کردہ اصول اجتہاد پر مسائل فقہیہ کی تخریج کرتے ہیں۔

۲۔صاحبین کے بیشتر اقوال در اصل امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مرجوع عنہ اقوال ہیں۔

لہٰذا جب صاحبین کے اقوال در اصل امام ابو حنیفہ کے اقوال ہیں تو صاحبین کا قول لینا اور اس پر عمل کرنا امام ابو حنیفہ کے قول پر عمل ہے۔اس لیے صاحبین کے اقوال لینے کے باوجود مقلد فقہ حنفی پر ہی عمل پیرا ہوتا ہے۔ اس جواب کی بنیاد ابن کمال پاشا کی بیان کردہ فقہاء کی طبقاتی تقسیم پر ہے، کیونکہ اس میں صاحبین کو مجتہد منتسب مانا گیا ہے۔

اس سوال کا دوسرا جواب فقہائے حنفیہ کی عبارات میں یہ ملتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کی طرح صاحبین بھی مستقل مجتہد ہیں اور فقہ حنفی ان تین مجتہدین کے اجتہادات کا مجموعہ ہے ،مجتہدین ثلاثہ کے اجتہادات کے مجوعے کو تغلیباً و اصطلاحاً "فقہ حنفی"کا نام دیا گیا ہے ،اور اصطلاح و تسمیہ میں مناقشہ و مباحثہ نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ اصطلاح کوئی بھی بنائی جا سکتی ہے۔

مذکورہ جوابات پر سائد بکداش کا نقد و تبصرہ

پہلے جواب پر خود متعدد فقہائے حنفیہ نے نقد کیا ہے،کیونکہ اس کی بنیاد ابن کمال باشا کی بیان کردہ طبقا ت فقہاء پر ہے ،اور اس تقسیم کو بعد میں آنے والوں نے رد کیا ہے۔اس تقسیم میں دیگر خامیوں کے علاوہ بڑی خامی یہ ہے کہ صاحبین کو مجتہد منتسب مانا گیا ہے ،جبکہ صاحبین مجتہد مستقل کے منصب پر فائز ہیں اور حنفی فقہ کے اصول و فروع اس بات پر شاہد ہیں کہ صاحبین نے فروع و اصول دونوں میں امام ابو حنیفہ سے بڑے پیمانے پر اختلاف کیا ہے، حالانکہ مجتہد منتسب اصول میں اپنے امام کی مخالفت نہیں کرتا۔محقق مذکور نے اس موقع پر اس بات کے متعدد شواہد پیش کیے ہیں، اختصا ر کے پیش نظر ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔

دوسرے جواب پر محقق مذکور نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فقہ حنفی کا اطلاق اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے امام ابو حنیفہ کے اقوال پر ہوتا ہے اور فقہ حنفی کے مقلدنے بھی صرف امام ابو حنیفہ کی تقلید کا التزام کیا ہے۔ لہٰذا یہ جواب علمی و عملی دونوں طرح سے مخدوش ہے۔ نیز اسے "اصطلاح عرفی"(اصطلاح عرفی سے مراد کہ کسی خاص فن کے لوگ مل کر کوئی اصطلاح بنا لیں)بھی نہیں مانا جا سکتا ،کیونکہ متقدمین فقہائے حنفیہ کی عبارات میں ایسی کوئی صراحت نہیں ملتی جو اس بات پر دلالت کرے کہ فقہ حنفی کے اطلاق میں صاحبین کے اقوال بھی شامل ہیں، لہٰذا متاخرین کے خلط و دمج (اقوال امام کو اقوال صاحبین کے ساتھ ملانے اور آپس میں تصحیح و ترجیح) سے اصطلاح عرفی نہیں بن سکتی، جب تک اس پر مذہب کے اولین مدونین اور بانین کی صراحت نہ ملے۔ 

اقوال امام کو اقوال صاحبین کے ساتھ ملانے کا تاریخی جائزہ

محقق مذکور نے یہاں اس بات کا ایک تاریخی جائزہ لیا ہے کہ فقہ حنفی کے اطلاق میں صاحبین کے اقوال کو شامل کرنے کی فکر نے کب جنم لیا۔ ہم موصوف کے تاریخی جائزے کو نکات کی شکل میں قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں :

۱۔امام ابوحنیفہ نے اپنے اجتہادات خود مدون نہیں کیے ،بلکہ ان کے شاگرد رشید امام محمد نے اس کی تدوین کی۔ کتب ظاہر الروایہ میں ان کا طرز یہ ہے کہ وہ شیخین اور اپنے قول کے لیے الگ الگ "مذہب"کا لفظ استعمال کرتے ہیں، مذہب ابی حنیفہ ،مذہب ابی یوسف وغیرہ۔ہر ایک کے قول کے لیے مذہب کا مستقل لفظ دلالت کرتا ہے کہ خود امام محمد رحمہ اللہ بھی تینوں کو الگ الگ متصور کرتے تھے۔

۲۔امام محمد نے اپنی کتب میں اپنے دونوں شیوخ امام ابو حنیفہ ،امام ابویوسف اور اپنے اقوال بلا ترجیح، تقابلی انداز میں ذکر کیے ہیں۔اس سے ایک اہم بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ اپنے شیخ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے اقوال کو ایک مان کر ان میں تصحیح و ترجیح کا طرز ان کے پیش نظر نہیں تھا۔

۳۔امام محمد کی کتب فقہ حنفی کی امہات قرار پائیں ،اس لیے بعد میں آنے والے فقہاء نے کتب ظاہر الروایہ کی تلخیص، شروح اور انہی پر تخریج و تاسیس کا سلسلہ شروع کیا۔کتب ظاہر الروایہ میں متقدمین فقہائے حنفیہ نے عام طور پر امام ابو حنیفہ کے اقوال فقہیہ کی ترجیح و تصحیح پر توجہ دی۔

۴۔ فقہ حنفی میں دو قسم کے متون و مختصرات تیار ہوئے۔ بعض متون میں صرف امام ابو حنیفہ کے اقوال فقہیہ ذکر کیے گئے ہیں، جیسے علامہ موصلی کی المختار اور علامہ نسفی کی کنز الدقائق۔یہ دو متون فقہ حنفی کی بنیادی ترین متون میں شمار ہوتی ہیں۔ ان اصحاب متون کا طرز خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک فقہ حنفی اقوال امام کا نام ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے متون میں اقوال امام کے ساتھ صاحبین کے اقوال بھی ذکر کیے گئے ہیں،جیسے مختصر القدوری ،انہوں نے بھی اولاً اصل مذہب کے طور پر امام صاحب کا قول لیا ہے اور تقابلی فقہ کے لیے دوسرے ائمہ و صاحبین کے اقوال بھی ذکر کیے ہیں۔ مختصرالقدوری کی شروح سے اس بات کی تائیدہوتی ہے، اصحاب متون و مختصرات کے اس طرز سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ فقہ حنفی کا اطلاق صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال پر ہوتا ہے۔

۵۔ان متون و مختصرات کی جو معروف شروح لکھی گئی ہیں ،ان میں بھی قول امام کی ترجیح و تصحیح کے دلائل دیے گئے ہیں، جیسا کہ امام جصاص کی "شرح مختصر الطحاوی "، قاسم بن قطلوبغا کی "تصحیح القدوری "وغیرہ۔

۶۔صاحب قدوری نے اپنی کتاب"التجرید "میں یہ طرز اپنایا ہے کہ وہ امام صاحب کے قول کو مبرہن کرنے کے بعد صاحبین وغیرہ کے اقوال کے لیے "قول المخالف"کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور ان کے دلائل کا امام صاحب کی طرف سے جواب دیتے ہیں۔ بنیادی متون میں سے ایک کے مصنف کا یہ طرز اس بات کی دلیل ہے کہ امام قدوری رحمہ اللہ کے نزدیک فقہ حنفی اصلاً اقوال امام کانام تھا۔

۷۔اس کے علاوہ متعدد فقہائے حنفیہ کی اس با ت پر صراحت ہے کہ فتوی مطلقاً امام صاحب کے قول پر ہوگا، البتہ کسی حاجت و ضرورت کے وقت صاحبین کے اقوال کی طرف عدول ہوگا۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ عدول ہر مذہب فقہی میں ہوتا ہے۔ اس عدول سے یہ بات قطعاً لازم نہیں آتی کہ صاحبین کے اقوال بھی فقہ حنفی میں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں محقق مذکو ر نے چھٹی صدی ہجری کے حنفی عالم احمد بن محمود الحلبی، ساتویں صدی ہجری کے علامہ موصلی، آٹھویں صدی ہجری کے علامہ نسفی، نویں صدی ہجری کے قاسم بن قطلوبغا، صاحب الدرالمختار علامہ حصکفی، صاحب البحر الرائق ابن نجیم، ابن عابدین الشامی اورعلامہ لکھنوی کی عبارات ذکر کی ہیں ،جنہوں نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ امام ابو حنیفہ کا قول مطلقاً اولیٰ و راجح ہے۔

۸۔محقق مذکور نے مولانا احمد رضاخان صاحب کے ایک رسالے "اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام" کا بھی حوالہ دیا ہے جو فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد میں شائع ہوا ہے ،جس میں آنجناب نے متعدد ائمہ حنفیہ سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ فتویٰ مطلقاً امام ابو حنیفہ کے قول پر ہوگا۔

۹۔محقق مذکور کے نزدیک صاحبین کے اقوال کو فقہ حنفی میں شامل کر کے صاحبین و امام صاحب کے اقوال میں تصحیح و ترجیح کی داغ بیل صاحب ہدایہ نے ڈالی۔ انہوں نے اپنے تصنیف کردہ متن بدایۃ المبتدی کی شرح ہدایہ میں صاحبین و امام صاحب کے اقوال میں خلط کرتے ہوئے مختلف مسائل میں تینوں ائمہ کے اقوال میں تصحیح و ترجیح کا طرز اپنا یا۔

۱۰۔صاحب ہدایہ کے بعد اس طرز کو قاضی خان نے مقدمہ فتاویٰ قاضی خان میں ،ابن ہمام نے فتح القدیر میں، ابن نجیم نے البحر الرائق میں اور ابن عابدین نے حاشیہ الدر میں اختیار کیا اور یوں متقدمین کی بجائے ان متاخرین کا طرز ہی اصل قرار پایا اور آج صورتحال یہ ہے کہ صاحبین کے اقوال کو باقاعدہ فقہ حنفی کا جزو سمجھا جاتا ہے اور صاحبین کے اقوال پر فتویٰ کو کسی صورت خروج عن المذہب نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ یہ متقدمین اور اصحاب متون و مختصرات (متون کو ہر مذہب میں اصل و بنیاد سمجھا جاتا ہے) کے طرز کے بالکل خلاف ہے۔نیز انہی میں سے بعض ائمہ کی صراحت کے بھی خلاف ہیں، چنانچہ خود صاحب ہدایہ نے التجنیس و المزید میں مطلقاً امام صاحب کے قول پر فتوی کی صراحت کی ہے۔ 

دوسرا سوال 

فقہ حنفی کے حوالے سے محقق مذکور نے دوسرا سوال یہ اٹھایا ہے کہ فقہ حنفی میں مفتی بہ اور راجح اقوال کے ضوابط کیا ہیں؟ کیونکہ فقہائے حنفیہ کی عبارات و تصنیفات میں متعدد مناہج ذکر کیے گئے ہیں۔ محقق مذکور کے بقول یہ اختلاف بھی دراصل اقوال امام کو اقوال صاحبین کے ساتھ ملانے کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ان تین ائمہ مجتہدین کے اقوال فقہیہ میں تصحیح و ترجیح کے حوالے سے ائمہ حنفیہ میں بڑے پیمانے پر اختلاف وجود میں آیا۔ محقق مذکور کے بقول اس سلسلے میں کل پندرہ قسم کے مناہج افتاء و اصول ترجیح ہیں اور یہ مناہج فقہائے حنفیہ کی طرف سے محض اجتہاداور اپنے ذوق کی بنا پر ہیں جن کے پیچھے کوئی مضبوط دلائل نہیں ہیں۔ نیز یہ مناہج فقہ حنفی کے مقلد فقہاء کی طرف سے ہیں ،تو ان "مقلدین"کی پیروی اور ان کے ذکر کردہ ضوابط اصول مذہب کی رو سے کسی صورت دیگر"مقلدین "پر لازم نہیں کیے جاسکتے ،کیونکہ مقلدین نے ان ائمہ کی بجائے امام ابو حنیفہ کی تقلید کا التزام کیا ہے۔اب ہم موصوف کے بیان کردہ مناہج افتاء ذکر کرتے ہیں۔ان مناہج و ضوابط میں اگر غور کیا جائے تو بعض مناہج بعض میں ضم ہو سکتے ہیں ،لیکن اتنی بات بہرحال اس سے ثابت ہوتی ہے کہ فقہ حنفی میں مفتی بہ قول کا کوئی ایک متفقہ منہج نہیں ہے :

۱۔متعدد ائمہ حنفیہ نے مطلقاً امام ابوحنیفہ کے قول کو مفتی بہ قرار دیا ہے۔ اس کی تفصیل ما قبل میں گزر چکی ہے۔

۲۔بعض ائمہ حنفیہ نے قول امام اور قول صاحبین میں اختیار کا قول ذکر کیا ہے کہ اگر صاحبین ایک طرف اور امام صاحب دوسری طرف ہوں تو ان دو فریقوں میں سے جس کے قول کو لیا جائے ،درست ہے۔ یہ قول علامہ اسبیجابی نے مقدمہ مختصر الطحاوی میں اور علامہ غزنوی نے "الحاوی القدسی"میں فقہائے حنفیہ کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے۔

۳۔بعض ائمہ حنفیہ نے قوت دلیل کی بنا پر ترجیح کا قول اختیار کیا ہے کہ جس قول کی دلیل قوی اور ماخذ معتمد ہو ،اس قول کو لیا جائے گا۔محقق مذکور کے بقول یہ اصول خود بڑے اختلاف کا دروازہ کھولنے کا سبب ہے کہ قوت دلائل ایک اضافی چیز ہے، اس میں ایک سے زیادہ آراء عموماً ہوتی ہیں۔

۴۔بعض فقہاء نے تیسیر اور لوگوں کی آسانی والے اصول کو ترجیح کا سبب قرار دیا ہے کہ جس قول میں مقلدین کے لیے آسانی ہو ،اسی کو لیا جائے گا۔

۵۔بعض ائمہ نے عموم البلوی کو سبب ترجیح قرارد یا ہے۔

۶۔کچھ فقہاء نے تعامل الناس کو ترجیح کی بنیاد بنایا ہے۔

۷۔بعض فقہاء نے زمان و مکان کو اصل سبب قرار دیا ہے کہ زمانے کے بدلنے سے اور جگہ کے بدلنے سے ایک سے دوسرے کے قول کی طرف عدول ہوگا۔

۸۔متعدد فقہائے حنفیہ نے "احوط قول" کا اصول ذکر کیا ہے ،کہ جس قول میں احتیاط ہو گا ،وہی قول لیا جائے گا۔

۹۔بعض فقہاء نے احوط اور ارفق میں اختیار کا قول اپنایا ہے کہ اگر دو قولوں میں سے ایک قول میں احتیاط ہو اور دوسرے میں لوگوں پر آسانی ہو تو دونوں میں اختیار ہوگا۔محقق مذکور کے بقول کتب فقہ میں "القول الاول احسن و القول الثانی ارفق" وغیرہ جیسی اصطلاحات کا یہی مطلب ہے۔

۱۰۔بعض فقہاء نے قول امام اور قول صاحبین سے نکل کر دیگر ائمہ کے قول کو اختیار کیا ہے۔(جزوی مسائل میں خاص وجوہ سے خروج عن المذہب کو باقاعدہ اصول ترجیح میں ذکر کرنا محل نظر ہے۔ )

۱۱۔بعض فقہاء نے حاجت مسلمین کو اصل سبب قرار دیا ہے۔ (یہ قول پچھلے بعض اقوال میں داخل ہیں ،الگ ذکر کرنے کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہوتی)۔

۱۲۔متعدد فقہائے حنفیہ کی ترجیحات میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔کسی کتاب میں قول امام کو ترجیح دیتے ہیں ،جبکہ اپنی دوسری کتاب میں قول صاحبین کو راجح قرار دے دیتے ہیں ،جیسے کہ قاضی خان ،علامہ نسفی و دیگر ائمہ کی مختلف کتب دیکھنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔

۱۳۔بعض فقہاء کی عبارات میں یہ بھی ملتا ہے کہ اس مسئلے میں کسی خاص قول کو مفتی بہ نہ قرار دیا جائے اور کسی ایک کو راجح قرار دینے کی بجائے بلا ترجیح چھوڑ دیا جائے ،تاکہ عوام کو آسانی رہے، جیسا کہ صاحب ہدایہ نے خراج و عشر کے بعض مسائل میں اس کی صراحت کی ہے۔

محقق مذکور نے اس کے اصل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کتب فقہیہ میں ذکر کردہ ترجیحات کی بجائے نزول حادثہ کے وقت، مکان اور مستفتی کے احوال کو دیکھ کر ہی صورتحال کے مطابق فتوی دیا جائے گا۔ موصوف نے مزید لکھا ہے کہ اگر مذاہب اربعہ کی کتب پر غور کیا جائے اور تتبع کیا جائے تو اس کی کافی مثالیں مل سکتی ہیں کہ فقہاء نے نظری اصول افتاء و ترجیح کی بجائے مبتلی بہ کی حاجت، ضرورت اور اس کی حالت کے مطابق فتاوی دیے ہیں۔

۱۴۔متعدد فقہاء کا طرز یہ بھی ہے کہ قول امام و صاحبین بلا کسی ترجیح و تصحیح کے بیان کرتے ہیں اور ائمہ مذہب کے اقوال کے ساتھ ساتھ "قال البعض کذا" یا "فیہ اختلاف المشائخ" جیسے الفاظ بلا کسی ترجیح کے ذکر کر دیتے ہیں ۔محقق کے بقول ان مصنفین کے اس طرز سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک ان تمام اقوال و تصحیحات میں توسع و اختیار ہے۔

۱۵۔ان تمام ضوابط و مناہج کے ساتھ فقہ حنفی میں مستقل مکاتب و مدارس ہیں ،جیسا کہ مکتب عراق ، جن کے سرخیل امام جصاص ،امام کرخی اور امام قدوری رحمہ اللہ ہیں۔دوسری طرف بلخ میں مشائخ بلخ کا مکتب ہے ،جس کی طرف ابو جعفر الہندوانی اور ابو اللیث سمرقندی منسوب ہیں۔ مشائخ بخارا و وماوارء النہر ہیں ،جن کی طرف امام خواہر زادہ و صدر الشہید بن مازہ جیسے اساطین منسوب ہیں۔ان سب مدارس فقہیہ و مکاتب کی اپنی ترجیحات ہیں ،اپنے اصول افتاء اور اپنے مناہج تصحیح ہیں۔

خاتمہ

محقق مذکور نے اس بحث کے آخر میں تین اہم باتیں بھی لکھی ہیں :

۱۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی معروف فقیہ اپنی کتاب میں محض اپنے اجتہاد کی بنا پر کسی مسئلے میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے تو بعد میں آنے والے اس خاص فقیہ کی رائے کو "مذہب"سمجھ کر اسے نقل کرتے ہیں اور یوں نقل در نقل سے اس خاص فقیہ کی رائے "مذہب حنفی"بن جاتا ہے۔محقق مذکور کے بقول حاشیہ ابن عابدین میں اس کی متعددامثلہ موجود ہیں۔

۲۔اصحاب ترجیح و تصحیح نے جن اقوال کو معتمد قرار دیا ہے، ان پر بھی بعد والوں کی طرف سے تعقبات و اعتراضات ہوئے ہیں، لہٰذا متفقہ طور پر قول مفتی بہ کی نشاندہی کافی مشکل اور گنجلک کام ہے، جیسا کہ ابن ہمام نے فتح القدیر میں صاحب ہدایہ کی تصحیحات پر اور ابن نجیم نے البحرمیں متعدد مفتی بہ اقوال پر نقد کیا ہے۔اسی طرح متاخرین میں تصحیح و ترجیح کے امام سمجھے جانے والے "ابن عابدین "کی تصحیحات و ترجیحات پر بھی بعد والوں نے تعقبات کیے ہیں، خصوصاً شیخ عابد سندھی نے اپنی کتاب "طوالع الانوار شرح الدر المختار" میں، علامہ رافعی نے "تقریرات رافعی" میں اور شیخ احمد رضاخان نے "جد الممتار علی رد المحتار" میں ابن عابدین کی تصحیح و ترجیح سے متعدد مقامات پر اختلاف کیا ہے۔ 

۳۔بسا اوقات کوئی فقیہ کسی مسئلے میں کسی ایک عالم کی تصحیح و ترجیح پر اعتماد کرتے ہوئے لکھ لیتا ہے کہ اس میں یہ قول راجح و مفتی بہ ہے، جبکہ اس میں دیگر علماء کی تصحیحات و ترجیحات بھی موجود ہوتی ہیں۔بعد میں کوئی ناقل یا مفتی جب دیکھتا ہے کہ اس مسئلے میں تو دیگر اقوال کے بارے میں بھی تصحیح و ترجیح موجود ہیں تو وہ مذہب حنفی کے بارے میں شبہات کا شکار ہوجاتا ہے کہ مذہب حنفی میں تناقض و تضاد موجود ہے۔

آخر میں محقق مذکور نے لکھا ہے کہ متقدمین و متاخرین، اصحاب متون و مختصرات اور اصحاب شروح و حواشی کے اپنے ذوق و اجتہاد کی بنا بیان کردہ متضاد تصحیحات سے مخلص یہی ہے کہ فقہ حنفی کی حقیقت کا اعتبار کرتے ہوئے صرف اقوال امام کو مذہب حنفی مانا جائے اور اولین ائمہ مذہب اور اصحاب متون و مختصرات کے مطابق صرف قول امام کو مفتی بہ قرار دیا جائے تو ان تمام مشکلات سے چھٹکارا پا یا جاسکتا ہے۔ہاں جس مسئلے میں امام ابو حنیفہ سے کوئی روایت نہ ہو ،وہاں صاحبین و دیگر فقہاء کی رائے لی جاسکتی ہے۔

مکاتب فکر