فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

(مولانا قاری عبد الباسط (جدہ) کی تصنیف ’’طریقہ نماز‘‘ کے مقدمے سے ماخوذ۔)


اس بات کو پیش نظر رکھنا مناسب ہوگا کہ آیات و احادیث سے احکام شرعیہ کے اخذ کرنے میں فقہاء حنفیہ کا منہج کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ شروع ہی سے کتاب و سنت سے استنباط میں دو مکاتب فکر ہیں، ایک طبقہ وہ تھا جو حدیث کی حفظ و روایت کے پہلو سے غور کرتا تھا۔ دوسرا گروہ وہ تھا جس نے قرآن و حدیث سے احکام کے استنباط پر زیادہ توجہ دی۔ وہ محض الفاظ حدیث کے ظاہری مفہوم پر اکتفاء کرنے کے بجائے اس کے معانی و مقاصد میں بھی غواصی کرتا تھا اور روایات کو خارجی قرائن کی روشنی میں بھی پرکھتا تھا۔ پہلا گروہ ’’اصحاب الحدیث‘‘ کہلایا اور دوسرا گروہ ’’اصحاب الرائے‘‘۔ اس لیے یہ لقب متقدمین کے نزدیک وجہ تعریف تھا نہ کہ باعث مذمت، جیسا کہ آج کل بعض کوتاہ بین سمجھتے ہیں۔

ائمہ اربعہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اس لقب کے زیادہ مستحق تھے اور اسی لیے حنفیہ اور مالکیہ کی فقہ میں قربت بھی زیادہ ہے، حالاں کہ خود امام مالک کا اپنا مزاج اصحاب الحدیث سے قریب تھا، لیکن ان کے استاذ ’’ربیعہ‘‘ اصحاب الرائے سے تھے اور اسی لیے بطور تعریف و تکریم ’’ربیعۃ الرائے‘‘ کہلاتے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت و طباعی کا حال یہ تھا کہ لوگ ان کو أعقل أھل الزمان  اور أعلم أھل الزمان  کہتے تھے، اس لیے وہ بھی اصحاب الرائے میں شمار کیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’اصحاب الرائے‘‘ اور ’’اصحاب الحدیث‘‘ کے گروہ عہد صحابہؓ ہی سے تھے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عائشہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ کا شمار اصحاب الرائے میں تھا اور حضرت ابو ہریرہ،ؓ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ وغیرہ اصحاب الحدیث میں تھے، اس کا اندازہ ان مناقشوں سے ہوتا ہے جو صحابہؓ کے درمیان پیش آتے رہے ہیں۔

مثلاً حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ آگ میں پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو کیا جائے۔ تَوَضَّؤُوْا مِمَّا مَسَّتْہُ النَّارُ  (آگ میں پکی ہوئی چیز سے وضوء کرو)۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: 

أرأیت لو توضأت بماء سخن أکنت تتوضأ منہ؟ أو رأیت لو أدھن أھلک بدھن فأدھنت بہ شاربک أکنت تتوضأ منہ۔ (اصول السرخسی ۱/۳۴۰، باب: الکلام فی قبول اخبار الآحاد والعمل بھا، فصل: فی اقسام الرواۃ الذین یکون خبرھم حجۃ)
’’اگر آپ گرم پانی سے وضو کریں تو کیا اس کی وجہ سے دوبارہ وضو کریں گے؟ اگر آپ کے اہل خانہ نے تیل تیار کیا اور آپ نے مونچھ میں تیل لگایا تو کیا آپ اس کی وجہ سے وضو کریں گے؟ ‘‘

اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ نے روایت کیا: 

من حمل جنازۃ فلیتوضأ۔ (حوالہ مذکور)
’’جو جنازہ اُٹھائے وہ وضو کرے۔‘‘ 

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: 

أیلزمنا الوضوء في حمل عیدان یابسۃ۔ (حوالہ مذکور)
’’کیا خشک لکڑیوں کے اُٹھانے کی وجہ سے ہم پر وضو ضروری ہوگا؟‘‘

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہؓ سے ایک اور روایت ہے:

ان ولد الزنا شر الثلاثۃ۔ (حوالہ مذکور)
’’ولد الزنا تین میں سے ایک شر ہے۔‘‘

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو فرمایا:

کیف یصح ھذا: وقد قال اللّٰہ تعالیٰ: ولا تزر وازرۃ وزر أخرٰی۔ (حوالہ مذکور)
’’یہ کہنا کیوں کر درست ہوگا؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک شخص پر دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں ہوگا۔‘‘

پس حضرت ابو ہریرہؓ کا طریق استنباط اس انداز فکر کی نشاندہی کرتا ہے جو ’’اصحاب الحدیث‘‘ کا تھا، جس میں نصوص کے ظاہر ہی پر انحصار کی کیفیت تھی، اور حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا طریق ’’اصحاب الرائے‘‘ کے طریقۂ اجتہاد و فکر کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں تعمق فکر اور غواصی پائی جاتی ہے، اسی لیے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ میں حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی آراء سے بڑی موافقت پائی جاتی ہے اور اگر ان صحابہؓ کے فتاویٰ کو جمع کیا جائے تو شاید دس فی صد (%10)مسائل بھی فقہ حنفی کے اس سے باہر نہ جائیں۔ فقہ مالکی میں بھی چونکہ حضرت عمرؓ کی آراء اور فتاویٰ سے بہت استفادہ کیا گیا ہے، اسی لیے اس فقہ میں عام فقہاء حجاز کی طرح ظاہریت نہیں پائی جاتی۔ واللہ اعلم۔

فقہ حنفی کے طریقۂ استدلال کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس میں حدیث کو قبول و رد کرنے اور متعارض نصوص میں سے ایک دوسرے پر ترجیح دینے میں محض راویوں کی ثقاہت ہی کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے ،بلکہ خارجی قرائن و شواہد کو بھی اس باب میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جہاں سندِ حدیث کو اُصولِ روایت کی کسوٹی پر پرکھا گیا ہے، وہیں متن حدیث کے قبول و رَد کرنے میں تقاضائے درایت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں چند اُمور خاص طور پر قابل ذکر ہیں:

(۱) یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا حرف حرف نص قطعی ہے اور اپنے ثبوت کے اعتبار سے ہر شک و شبہ سے بالاتر، احادیث میں سوائے احادیث متواترہ کے کوئی اس درجہ صحت و قوت کے ساتھ ثابت نہیں، اس لیے حنیفہ کے یہاں حدیث کے مقبول اور نا مقبول ہونے میں قرآن مجید سے اس کی موافقت کو بڑا دخل ہے، امام سرخسیؒ فرماتے ہیں:

اذا کان الحدیث مخالفًا لکتاب اللّٰہ فانہ لا یکون مقبولا ولا حجۃ للعمل بہ، عامّۃً کانت الآیۃ أو خاصّۃً، نصًّا أو ظاھرا عندنا، علی ما بینا أن تخصیص العام بخبر الواحد لا یجوز ابتداء، وکذلک ترک الظاھر فیہ، والعمل علی نوع من المجاز لا یجوز بخبر الواحد عندنا، خلافا للشافعي۔ (اصول السرخسی: ۱/۳۶۴، باب: الکلام فی قبول أخبار الآحاد والعمل بھا، فصل: فی بیان وجوہ الانقطاع)
’’جب حدیث کتاب اللہ کے خلاف ہو تو ہمارے نزدیک مقبول اور عمل کے لیے حجت نہیں ہوگی، چاہے آیت عام ہو یا خاص، نص ہو یا ظاہر، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ خبر واحد سے عام کو خاص کرنا ابتداءً جائز نہیں، اسی طرح خبر واحد کی وجہ سے ظاہری معنٰی کو چھوڑ دینا اور مجاز کی صورت پر عمل کرنا جائز نہیں، بخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے۔‘‘

اسی لیے بعض اوقات ایک حدیث سند کے اعتبار سے قوی ہوتی ہے، لیکن قرآن کو اصل بنا کر اس حدیث میں تاویل کی جاتی ہے اور اس کا ایسا مصداق متعین کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید سے اس کا تعارض نہ رہے۔ مثلاً فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ مطلقہ بائنہ کے لیے نہ نفقہ ہے نہ سکنیٰ۔ لا نفقۃ و لا سکنٰی للمبتوتۃ لیکن حدیث بظاہر سورۂ طلاق کی آیت ۶ سے متعارض ہے جس میں فرمایا گیا ہے وَأَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُم  اور اِنْ کُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ، اس لیے حنفیہ کا نقطۂ نظر ہے کہ حضرت فاطمہؓ کی حدیث ایک استثنائی واقعہ ہے اور مطلقہ بائنہ ہو یا رجعیہ، دونوں ہی کے لیے نفقۂ عدت واجب ہے۔ 

اسی طرح بعض روایتیں جو سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں، اس لیے قبول کر لی جاتی ہیں کہ وہ معنًا قرآن سے مطابقت رکھتی ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

من جمع بین صلٰوتین من غیر عذر فقد أتی بابًا من أبواب الکبائر۔ (سنن الترمذی: ۱/۹۳، باب : ماجاء فی الجمع بین الصلاتین، أبواب الصلاۃ)
’’جس نے بلا عذر دو نمازیں جمع کیں، اس نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا۔‘‘

اس روایت کا مدار، حنش بن قیس ہیں جو ضعیف ہیں، لیکن آیت قرآنی إِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوْتاً۔ (النساء : ۱۰۳) سے فی الجملہ اس کی تائید ہوتی ہے کہ نمازیں اپنے مقررہ اوقات ہی پر ادا کی جائیں، اس لیے حنفیہ کے یہاں معناً یہ روایت مقبول ہے۔ 

متعارض احادیث کی ترجیح میں بھی حنفیہ کے یہاں اس اُصول کو خوب برتا گیا ہے کہ جو روایت اپنے معنٰی و مصداق کے اعتبار سے قرآن مجید سے موافقت اور قربت رکھتی ہو، اسے ترجیح دی جائے گی، چنانچہ احکام صلوٰۃ سے متعلق اکثر مشہور مسائل جن میں حنفیہ اور فقہاء حجاز کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے پر غور کیا جائے تو حنفیہ کا نقطۂ نظر اسی اُصول پر مبنی نظر آتا ہے، مثلاً ’’امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے‘‘ ہی کا مسئلہ ہے، حضرت عبادہ بن صامتؓ کی روایت لا صلٰوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب  (جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نہیں ہوئی) کے عموم سے مقتدی کے لیے قرأت کا وجوب ثابت ہوتا ہے، دوسری طرف آپؐ کا ارشاد بھی منقول ہے کہ:

انما جعل الامام لیؤتم بہ، فاذا کبر فکبروا واذا قرأ فانصتوا۔
’’امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، چنانچہ جب وہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہے تو تم بھی ’’اللہ اکبر‘‘ کہو، اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔‘‘

یہ دونوں روایتیں بظاہر متعارض ہیں، فقہاء حجاز نے عام طور پر پہلی روایت کو ترجیح دیا ہے، اور سِرّی اور بعضوں نے جہری نمازوں میں بھی مقتدی کے لیے قرأت فاتحہ کو واجب یا کم سے کم مشروع قرار دیا ہے، حنفیہ نے دوسری حدیث کو ترجیح دی، اس لیے کہ ارشاد خداوندی ہے: اِذَا قُرِأَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا (الاعراف: ۱۰۴) سے یہی حدیث مطابقت رکھتی ہے اور پہلی روایت کو منفرد اور امام سے متعلق قرار دیا۔

اسی طرح آمین کے مسئلہ کو لے لیجئے! آمین بالجہر اور آمین بالسرّ، دونوں روایتیں صراحتاً حضرت وائل بن حجرؓ سے مروی ہیں، شعبہ سے سِرّ کی روایت منقول ہے اور سفیان سے جہر کی۔ حنفیہ نے شعبہ کی روایت کو ترجیح دی، کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آمین دعاء ہے اور قرآن مجید نے دعاء کا ادب یہ بتایا ہے کہ دعاء کرتے وقت قلب میں فروتنی و عاجزی کی کیفیت ہو اور آواز میں اخفاء: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً۔ (الاعراف : ۵۵) 

قرآن سے موافقت کی بناء پر حدیث کا مقبول و نا مقبول ہونا، یا متعارض روایات میں اس کی بناء پر ترجیح دینے کے اُصول کو گو حنفیہ نے زیادہ برتا ہے، لیکن یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ احناف کا طبع زاد اُصول ہے اور وہ اس میں متفرد ہیں، بلکہ اصولی طور پر دوسرے اہل علم نے بھی اسے تسلیم کیا ہے، چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: 

وقال أبو الحسن ابن الحضار فی تقریب المدارک علی موطا مالک، قد یعلم الفقیہ صحۃ الحدیث اذا لم یکن فی سندہ کذاب بموافقۃ آیۃ من کتاب اللّٰہ أو بعض أصول الشریعۃ فیحملہ ذلک علٰی قبولہ والعمل بہ۔ (تدریب الراوی: ۱/۴۸، ط: دارالکتاب العربی، بیروت) 
’’ابوالحسن بن حضار نے ’’تقریب المدارک علی موطا مالک‘‘ میں کہا ہے کہ بعض اوقات فقیہ ایسی حدیث جس کی سند میں کوئی جھوٹا راوی نہ ہو، کے صحیح ہونے پر قرآن مجید کی آیت یا شریعت کے بعض اصول سے موافقت کی وجہ سے مطمئن ہو جاتا ہے، یہ بات اسے اس کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔‘‘

کتب حدیث میں اس طرح کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی، مثلاً نماز حاجت کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن ابی اوفٰیؓ کی جو روایت منقول ہے وہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر ان الفاظ میں نقد کیا ہے: 

قال أبو عیسٰی: ھذا حدیث غریب و فی اسنادہ مقال: فائدۃ بن عبد الرحمٰن یضعف فی الحدیث۔ (ترمذی: ۱/۱۰۹، باب ماجاء فی صلاۃ الحاجۃ: ط: دیوبند)
’’امام ترمذی نے فرمایا کہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں کلام ہے، فائدہ بن عبد الرحمن حدیث میں ضعیف ہیں۔‘‘

لیکن تمام ہی فقہاء نے غالبًا ارشاد ربانی: استعینوا بالصبر والصلٰوۃ۔ (البقرۃ: ۴۵) ’’صبر اور نماز کے ذریعہ سے اللہ سے مدد چاہو‘‘ کی روشنی میں اس حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ 

بلکہ خود عہد صحابہؓ میں بھی جو حضرات اصحاب الرائے کہلاتے تھے، باوجودیکہ سند حدیث کی تحقیق کی ان کو کوئی حاجت نہیں تھی، انہوں نے اس اصول کو بعض احادیث کے قبول اور رَد کرنے میں معیار بنایا ہے، چنانچہ مطلقہ کے نفقہ و عدت کے سلسلہ میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت جب حضرت عمرؓ کو پہنچی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا اور ارشاد فرمایا:

لا ندع کتاب ربنا و سنۃ نبینا لقول امرأۃ۔ (سنن بیہقی: ۷/۵۷۴)
’’ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبیؐ کی سنت کی سنت کو ایک عورت کی بات کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘

اسی طرح مشہور روایت: ان المیت لیعذب ببکاء أھلہ علیہ۔ (بخاری: باب :ماجاء فی البکاء علی المیت) ’’میت پر اس کے لوگوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے‘‘ پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رَد فرمایا اور قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا کہ لا تزر وازرۃ وزر اخرٰی۔ (الانعام: ۱۶۴) ’’ایک شخص پر دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں۔‘‘ پس، گو حنفیہ نے اپنے اجتہادات میں اس اُصول کو زیادہ ملحوظ رکھا ہے، لیکن در حقیقت اُصولی طور پر تمام ہی اہل علم کو اس سے اتفاق ہے۔ 

(۲) حنفیہ کے طریقۂ استدلال کے سلسلہ میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان کے یہاں روایات کے مقبول اور نا مقبول ہونے میں اس بات کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے کہ جو روایت شریعت کے عمومی مزاج و مذاق اور اصول و قواعد سے مطابقت رکھتی ہے، بعض اوقات سند میں ضعف کے باوجود مقبول ہوتی ہے اور بعض روایتیں گو سند کے اعتبار سے قوی ہوتی ہیں، لیکن چوں کہ اپنے مضمون اور متن کے اعتبار سے شریعت کے عام اور مسلمہ اصول و مبادی کے خلاف ہیں، اس لیے ایسی حدیثیں رَد کر دی جاتی ہیں۔ چنانچہ قاضی ابو زید دبوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الأصل عند أصحابنا أن خبر الآحاد متٰی ورد مخالفًا لنفس الأصول لم یقبل (تاسیس النظر: ۷۷)
’’ہمارے اصحاب کے نزدیک اصول یہ ہے کہ خبر واحد نفس اصول کے خلاف ہو تو اس کو قبول نہیں کیا جائے۔‘‘

حنفیہ کے یہاں بہت سے مسائل ہیں جو بظاہر اس اصول پر منطبق ہیں، جیسے حیوانات کے فضلہ کا ناپاک ہونا، عورت کے یا شرم گاہ کے چھونے کا ناقضِ وضو نہ ہونا، پتھر سے استنجاء میں تین پتھروں کا واجب نہ ہونا اور جس جانور کا دودھ تھن میں روک رکھا گیا ہو (مصراۃ) کو فروخت کرنے کے مسئلہ میں حدیث کی ظاہری مراد پر عمل کرنے کے بجائے تاویل و توجیہ کی راہ اختیار کرنا، اور اس طرح کے کتنے ہی مسائل ہیں جن میں نمایاں طور پر اس قاعدہ کا اثر محسوس ہوتا ہے۔

متعارض احادیث کی ترجیح میں بھی حنفیہ نے اس اصول سے فائدہ اٹھایا ہے، جیسے صلوٰۃ کسوف (سورج گہن کی نماز) ہی سے متعلق روایتوں کو دیکھئے جن میں ایک رکعت میں ایک رکوع سے پانچ رکوع تک کی تعداد مروی ہے، جمہور نے سند کے قوی ہونے پر نگاہ رکھتے ہوئے اس روایت کو ترجیح دیا جس میں ایک رکعت میں دو رکوع کا تذکرہ ہے، حنفیہ نے ان روایتوں کو ترجیح دیا جس میں ایک رکوع کا اشارہ ملتا ہے، کیونکہ یہ نماز کی عمومی کیفیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ 

حنفیہ کے بعد غالباً مالکیہ کے یہاں اس اصول کو زیادہ برتا گیا ہے، علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر روشنی ڈالی ہے:

اذا جاء خبر الواحد معارضًا لقاعدۃ من قواعد الشرع ھل یجوز العمل بہ؟ قال أبو حنیفۃ: لا یجوز العمل بہ وقال الشافعي: یجوز، وتردد مالک في المسئلۃ، قال: والمشھور والذي علیہ المعول ان عضدتہ قاعدۃ أخری قال بہ وان کان وحدہ ترک۔ (مالک: ۲۵۷، لأبی زہرہ)
’’خبر واحد شریعت کے قواعد میں سے کسی قاعدہ کے معارض ہو تو کیا اس پر عمل کرنا جائز ہوگا؟ امام ابو حنیفہؒ نے کہا کہ اس پر عمل کرنا جائز نہیں، امام شافعی ؒ نے کہا جائز ہے، اور امام مالکؒ کو اس میں تردد ہے، اور مشہور قول جس کو قبول کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اگر دوسرا قاعدہ اس کی تائید میں ہو تو اسے قبول کیا جائے گا اور اگر خبر واحد تنہا ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘

حنفیہ اور مالکیہ کے یہاں واقعہ ہے کہ اصول کی رعایت زیادہ ہے، لیکن یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ محدثین نے اس کو بالکل ہی نا قابل اعتناء سمجھا ہے، خود امام بخاریؒ کے یہاں ایسی متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ انہوں نے اخبار آحاد کے مقابلہ میں شریعت کے قواعد عامہ کو مقدم رکھا ہے، امام ترمذیؒ نے کتنی ہی روایتیں نقل کی ہیں اور اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے، اور بعض ایسی روایتیں بھی ہیں کہ ان کی توثیق بھی کرتے ہیں اور اس کے بھی معترف ہیں کہ اہل علم کے یہاں اس پر عمل نہیں ہے۔

اسی لیے علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اصولی بات لکھی ہے کہ:

وعلٰی کل حال فالتقیید بالاسناد لیس صریحًا في صحۃ المتن وضعفہ بل ھو علی الاحتمال۔ (فتح المغیث: ۱/۱۰۶)
’’بہرحال، اسناد کی قید کے ساتھ (کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف قرار دینا، یعنی یہ کہنا کہ اس کی سند صحیح ہے، یا اس کی سند ضعیف ہے) مضمون حدیث (متن) کے صحیح یا ضعیف ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ اس میں احتمال ہے۔‘‘

پھر آگے لکھا ہے:

وکذا أورد الحاکم فی مستدرکہ غیر حدیث یحکم علی اسنادہ بالصحۃ وعلی المتن بالوھاء بعلۃ أو شذوذ الی غیرھما من المتقدمین وکذا من المتأخرین کالمزني حیث تکرر منہ الحکم بصلاحیۃ الاسناد ونکارۃ المتن۔ (فتح المغیث: ۱/۱۰۷)

اسی طرح متقدمین میں سے امام حاکم مستدرک میں متعدد حدیثیں نقل کرتے ہیں، جن کی سند پر صحیح ہونے کا اور متن پر علت یا شذوذ کی وجہ سے ضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں، اور اسی طرح متأخرین میں سے امام مزنی وغیرہ سے بھی بار بار یہ بات پیش آئی ہے کہ وہ سند کے معتبر اور متن کے منکر ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔‘‘

(۳) حدیث کے مقبول ہونے کے سلسلہ میں حنفیہ کے یہاں ایک اہم اصول یہ ہے کہ حدیث کا صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین کے درمیان درجۂ قبول حاصل کر لینا بجائے خود اس کے معتبر و مقبول ہونے کی دلیل ہے، اسی کو اہل علم نے ’’تلقی بالقبول‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ’’تلقی بالقبول‘‘ کی وجہ سے بعض روایتیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہونے کے باوجود اہل علم کے یہاں پایۂ قبول حاصل کر لیتی ہیں اور اگر صحیح یا حسن ہیں تو ان کے استناد و اعتبار میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن بعض محققین کے نزدیک تو وہ تواتر کے درجہ میں آجاتی ہیں، چنانچہ حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے طلاق الأمۃ ثنتان وعدتھا حیضتان والی روایت منقول ہے، ابوبکر جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے: 

وان کان واردۃ من طریق الآحاد، فصار في حیز التواتر لأن ما تلقاہ الناس من أخبار الآحاد بالقبول فھو عندنا في معنٰی المتواتر لما بیناہ۔ (أحکام القرآن للجصاص: ۲/۱۳۰)
’’اگرچہ یہ خبر واحد کے طریقہ پر وارد ہوئی ہے، لیکن یہ تواتر کے درجہ میں ہے، اس لیے کہ جب خبر واحد کو لوگ قبول کر لیں، وہ ہمارے نزدیک تواتر کے حکم میں ہے، اسی بناء پر جو ہم بیان کر چکے ہیں۔‘‘

مولانا ظفر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اس موضوع پر بحث کے بعد رقم طراز ہیں:

بل الحدیث اذا تلقتہ الأمۃ بالقبول فھو عندنا في معنی التواتر۔ (قواعد فی علوم الحدیث: ۶۲)
’’بلکہ حدیث کو جب امت میں قبول عام حاصل ہو جائے تو ہمارے نزدیک وہ تواتر کے معنٰی میں ہے۔‘‘

اسی طرح جیسا کہ مذکور ہوا، ’’اہل علم کے نزدیک قبول عام‘‘ (تلقی بالقبول) کی وجہ سے سند کے اعتبار سے ضعیف روایتیں بھی صحت کے درجہ میں آجاتی ہیں، حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی مذکورہ روایت کی بابت علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وما تصح الحدیث أیضًا ھو عمل العلماء علی وفقہ۔ (فتح القدیر)
’’جو بات اس حدیث کو صحیح قرار دیتی ہے، وہ علماء کا اس کے موافق عمل کرنا ہے۔‘‘

نیز مولانا عبد الحئی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے:

وکذا اذا تلقت الأمۃ الضعیف بالقبول یعمل بہ علی الصحیح۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ: ۵۱)
’’جب امت حدیث ضعیف کو قبول کر لے تو اس پر صحیح قول کے مطابق عمل کیا جائے گا۔‘‘

بعض حضرات کے نزدیک خاص صورتوں میں خبر واحد قیاس کے مقابلہ میں رد کر دی جاتی ہے، لیکن اسے تلقی بالقبول حاصل ہو تو وہ ان کے نزدیک بھی قابل عمل ہے، علامہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وما خالف القیاس، فان تلقتہ الأمۃ بالقبول فھو معمول بہ۔ (اصول السرخسی : ۱/۳۴۱)

’’جو حدیث قیاس کے خلاف ہو، اگر اُمت میں اُسے قبولِ عام حاصل ہوگیا ہو تو اس پر عمل کیا جائے گا۔‘‘

حنفیہ کے یہاں اس اصول کو زیادہ ملحوظ رکھا گیا ہے، بلکہ حنفیہ کے یہاں حدیث اور خبر واحد کے درمیان حدیث کی ایک اور قسم ’’خبر مشہور‘‘ کی اصطلاح پر غور کیا جائے تو غالباً اسی اصول پر مبنی ہے۔ فخر الاسلام بزدوی رحمۃ اللہ علیہ نے خبر واحد کی تعریف اس طرح کی ہے: 

المشھور ماکان من الآحاد في الأصل ثم انتشر فصار منقلۃ قوم لا یتوھم تواطؤھم علی الکذب وھم القرن الثاني بعد الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم من بعدھم۔ (اصول البزدوی: ۲/۶۷۴)

’’حدیث مشہور وہ ہے جو اصل میں خبر واحد ہو، پھر اہل علم میں پھیل جائے، یہاں تک کہ اتنے لوگ اس کے نقل کرنے والے ہوں کہ ان کا جھوٹ پر اتفاق ممکن نہ ہو، یعنی صحابہؓ کے بعد دوسری صدی کے ناقلین۔‘‘

گویا خبر مشہور وہ ہے جو گو عہد صحابہ میں اخبار آحاد کے قبیل سے ہو، لیکن تابعین اور تبع تابعین کے عہد میں اسے قبول عام حاصل ہوگیا ہو۔ علامہ نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ خبر مشہور کے ذریعہ کتاب اللہ پر زیادتی کے درست ہونے کی وجوہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لأن الأمۃ تلقتہ بالقبول واتفاقھم علی القبول لا یکون الا بجماع جمعھم علی ذلک۔ (المنار مع کشف الاسرار: ۲/۱۳)

’’اس لیے کہ علماء کے درمیان قبول عام اور قبولیت پر اتفاق کسی ایسے سبب سے ہی ہو سکتا ہے، جس نے ان سب کو اس پر متفق کیا ہو۔‘‘

حالانکہ حنفیہ کے یہاں خبر واحد سے کتاب اللہ کے عام کی تخصیص اور مطلق کی تقیید نہیں کی جا سکتی، لیکن متعدد روایتیں ہیں کہ احناف نے ان کے ذریعہ تخصیص و تقیید کی ہے، جیسے: القاتل لا یرث ’’قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو سکتا۔‘‘

یقید الأب من ابنہ ولا یقید الابن من أبیہ۔
’’باپ بیٹے سے قصاص لے گا، بیٹا باپ سے قصاص نہیں لے سکتا۔‘‘
لا زکٰوۃ في مال حتّٰی یحول علیہ الحول۔
’’مال میں زکوٰۃ نہیں، جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے۔‘‘

اسی لیے کہ یہ اور اس طرح کی اخبار آحاد نے قبول عام کی وجہ سے ایک خصوصی درجۂ استناد و اعتبار حاصل کر لیا ہے۔ 

حنفیہ کے یہاں حدیث کی تحقیق و تنقیح میں چوں کہ درایت کا استعمال زیادہ ہے، اس لیے انہوں نے اس قاعدہ سے بھی زیادہ مدد لی ہے، لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ دوسرے فقہاء محدثین کے نزدیک اس کا کوئی اعتبار نہیں، فقہاء مالکیہ میں علامہ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ھو الطھور ماءہ ’’سمندر کا پانی پاک ہے‘‘ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے: 

لٰکن الحدیث عندي صحیح لأن العلماء تلقوہ بالقبول۔ (تدریب الراوی: ۱/۴۷، ط: دارالکتاب العربی، بیروت)
’’لیکن میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے، اس لیے کہ علماء نے اسے قبول کر لیا ہے۔‘‘

ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے تمہید میں الدینار أربعۃ و عشرون قیراطًا ’’دینار چوبیس قیراط کا ہوتا ہے‘‘ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے: 

واجماع الناس علی معنی غني عن الاسناد فیہ۔ (حوالہ سابق)
’’لوگوں کا اس بات پر اتفاق، اسے سند سے بے نیاز کر دیتا ہے۔‘‘

ابو اسحاق اسفرائنی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: 

تعرف صحۃ الحدیث اذا اشتھر عند أئمۃ الحدیث بغیر نکیر منھم۔ (تدریب الراوی: ۱/۴۷، ط: دارالکتاب العربی، بیروت)
’’جب ائمہ حدیث کے نزدیک کوئی حدیث بلا نکیر مشہور ہو، تو تم اس طرح اس حدیث کے صحیح ہونے کو جان سکتے ہو۔‘‘

علامہ ابراہیم شبرخیتی مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’اربعین‘‘ کی شرح میں لکھا ہے: 

محل کونہ لا یعمل بالضعیف في الأحکام مالم یکن تلقتہ الناس بالقبول فان کان ذلک تعین و صار حجۃ یعمل بہ في الاحکام وغیرھا کما قال الشافعي۔ (دیکھئے: التحفۃ المرضیۃ: ۳۶۴)
’’احکام میں ضعیف حدیث پر عمل نہ کیے جانے کی بات اس وقت ہے جب کہ لوگوں نے اس کو قبول نہ کیا ہو، پس اگر اسے قبول عام حاصل ہو ۔۔۔ تو وہ حجت ہو جائے گی، جس پر احکام اور دوسرے اُمور میں عمل کیا جائے گا، جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔‘‘

فقہاء شوافع میں علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے، فرماتے ہیں:

وکذا اذا تلقت الأمۃ الضعیف بالقبول یعمل بہ علی الصحیح، حتی أنہ ینزل منزلۃ المتواتر في أنہ ینسخ المقطوع بہ ولھٰذا قال الشافعي رحمہ اللّٰہ فی حدیث ’’لا وصیۃ لوارث‘‘ أنہ لا یثبتہ أھل الحدیث ولکن العامۃ تلقتہ بالقبول وعملوا بہ حتی جعلوہ ناسخًا لآیۃ الوصیۃ لہ۔ (فتح المغیث للسخاوی: ۱/۳۳۳)
’’جب امت حدیث ضعیف کو قبول کر لے تو صحیح قول کے مطابق اس پر عمل کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس دلیل قطعی کے لیے ناسخ ہونے میں وہ متواتر کے درجہ میں ہو جائے گی، چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث لا وصیۃ لوارث ’’وارث کے لیے وصیت کا اعتبار نہیں‘‘ کے بارے میں کہا ہے کہ علماء حدیث اسے مستند قرار نہیں دیتے، لیکن عام طور پر اہل علم نے اس کو قبول کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے، یہاں تک کہ اس کو آیت وصیت کے لیے ناسخ قرار دیا ہے۔‘‘

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ’’شرح نظم الدر‘‘ میں رقمطراز ہیں:

المقبول ما تلقاہ العلماء بالقبول وان لم یکن لہ اسناد صحیح أو اشتھر عند أئمۃ الحدیث بغیر نکیر عنھم۔ (دیکھئے: التحفۃ المرضیۃ: ۲۶۴)
’’حدیث مقبول وہ ہے جس کو علماء نے قبول کیا ہو، اگرچہ اس کی کوئی صحیح سند موجود نہ ہو، یا وہ حدیث ائمۂ حدیث کے نزدیک کسی نکیر کے بغیر مشہور ہو۔‘‘

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’التعقبات علی الموضوعات‘‘ میں لکھا ہے: 

وقد صرح غیر واحد بأن من دلیل صحۃ الحدیث قول أھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علی مثلہ۔ (دیکھئے: تحقیق الأجوبۃ الفاضلۃ للشیخ أبی غدۃ: ۲۲۹)
’’متعدد اہل علم نے صراحت کی ہے کہ اہل علم کا کسی حدیث کا قائل ہونا اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، گو اس کی کوئی قابل اعتماد سند نہ ہو۔‘‘

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ’’الافصاح علی نکت ابن صلاح‘‘ میں لکھتے ہیں:

ومن جملۃ صفات القبول التي لم یتعرض لھا شیخنا یعنی الحافظ زین الدین العراقي أن یتفق العلماء علی العمل بمدلول حدیث، فانہ یقبل حتی یجب العمل بہ وقد صرح بذلک جماعۃ من أئمۃ الأصول۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ: ۲۳۲)
’’قبول حدیث کی جن صفات کا ہمارے استاذ علامہ زین الدین عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر نہیں کیا ہے، ان میں ایک یہ ہے کہ علماء اس حدیث کے مدلول پر عمل کرنے کی بابت متفق ہوں، کہ وہ مقبول ہوگی اور اس پر عمل کرنا واجب ہوگا اور ائمۂ اُصول کی ایک جماعت نے اس کی صراحت کی ہے۔‘‘

نیز علامہ بزدوی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے:

والیہ ذھب بعض أصحاب الشافعي فقد ذکر في القواطع خبر الواحد الذي تلقتہ الأمۃ بالقبول یقطع بصدقہ۔ (کشف الاسرار للبزدوی: ۲/۶۷۴)
’’اور بعض فقہاء شوافع بھی اسی طرف گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے قطعی دلیلوں میں اس خبر واحد کو بھی ذکر کیا ہے، جس کو امت میں قبول عام حاصل ہو، کہ اس کہ درست ہونے کا یقین کیا جائے۔‘‘

فقہ حنبلی کے معروف ترجمان حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ’’کتاب الروح‘‘ میں ایک ضعیف روایت پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فھذا الحدیث وان لم یثبت فاتصال العمل بہ في سائر الأمصار والأعصار من غیر انکار کاف في العمل بہ۔ (التحفۃ المرضیۃ: ۲۶۶)
’’یہ حدیث اگرچہ ثابت نہیں ہے، لیکن اس پر تمام شہروں اور زمانوں میں بلا نکیر عمل اس کے قابل عمل ہونے کے لیے کافی ہے۔‘‘

سلفی مکتبہ فکر کے صاحب نظر عالم علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:

وھکذا خبر الواحد اذا تلقتہ الأمۃ بالقبول فکانوا بین عامل بہ و متاول۔ (ارشاد الفحول)
’’اسی طرح خبر واحد کو جب امت میں قبول حاصل ہو جائے، کچھ لوگ اس پر عمل کریں اور کچھ لوگ اس کی تاویل کریں۔‘‘

اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ’’تلقی بالقبول‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام لوگ اس حدیث پر عمل ہی کرنے لگیں، بلکہ جو لوگ اس حدیث میں تاویل سے کام لیتے ہوں وہ بھی دراصل ان لوگوں میں داخل ہیں جو حدیث کو قبول کر رہے ہیں، جیسا کہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت بین عامل بہ و متاول سے ظاہر ہے۔

پس تلقی بالقبول ان اسباب میں سے ہے جو ضعیف حدیث کو درجۂ اعتبار عطا کرتا اور صحیح حدیثوں کی قوت و صحت میں اضافہ کا موجب ہوتا ہے اور ایک متفق علیہ اُصول ہے۔ لیکن احناف نیز مالکیہ نے اس اُصول کو زیادہ برتا ہے، مالکیہ کے نزدیک تعامل اہل مدینہ کو جو اہمیت اور اولیت حاصل ہے وہ در اصل اسی اصول کو برتنے سے عبارت ہے، بلکہ غور کیا جائے تو بخاری و مسلم کو حدیث کی دنیا میں جو درجۂ اعتبار و استناد حاصل ہوا ہے وہ اس لیے نہیں کہ اس کی تمام اسناد اہم درجہ ہیں اور کہیں انگلی رکھنے کی جگہ نہیں، اہل علم کے لیے یہ بات محتاج اظہار نہیں کہ بخاری کے سو سے زیادہ راویوں پر تو تشیع کی تہمت ہے اور ناصبیت نیز دوسرے باطل فرقوں کی طرف منسوب راویوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے، لیکن یہ اُمت کی طرف سے قبول عام ہی ہے جس کی وجہ سے ان کتابوں کی احادیث کو مقبول مانا جاتا ہے، چنانچہ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ شیخین کی روایت سے علم یقینی نظری حاصل ہوتا ہے اور وجہ یہی ہے کہ انما تلقتہ الأمۃ بالقبول۔(مقدمۃ ابن صلاح: ۱۲)

یہاں اس بات کا ذکر مناسب ہوگا کہ گو اس موضوع پر اصول حدیث و فقہ کی کتابوں میں جا بجا اشارے کیے گئے ہیں، لیکن محدث حسین بن محسن یمانی رحمۃ اللہ علیہ (م : ۳۲۷ھ) کا رسالہ ’’التحفۃ المرضیۃ فی بعض المشکلات الحدیثۃ‘‘ اس مسئلہ پر ایک بے نظیر تحریر ہے جو ’’المعجم الصغیر للطبرانی‘‘ کے ساتھ طبع ہو چکا ہے، اس رسالہ میں در اصل اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ بعض روایتوں کو ضعیف قرار دینے کے باوجود لکھا کرتے ہیں کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے: العمل علی ھذا الحدیث عند أھل العلم  تو روایت کے ضعیف ہونے کے باوجود اس پر کیوں عمل کیا جاتا ہے؟ مشہور محدث و محقق شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ’’الأجوبۃ الفاضلۃ‘‘ کے اخیر میں اس موضوع پر اپنی تحقیقات رقم فرمائی ہیں جو بڑی چشم کشا اور قابل مطالعہ ہیں۔

یہ تو چند اہم پہلو تھے جو حنفیہ کے یہاں احادیث کے رد و قبول میں خاص طور پر ملحوظ ہیں، لیکن حنفیہ نے متن حدیث پر صحت و ضعف کا حکم لگانے یا متعارض روایات کو ایک دوسرے پر ترجیح دینے میں مزید جن قرائن و شواہد سے فائدہ اٹھایا ہے اور اصول درایت کو برتنے کی کوشش کی ہے، ان میں سے چند کی طرف اشارہ کر دینا بھی مناسب ہوگا۔ 

(۴) حدیث کے اولین راوی چوں کہ صحابہ کرامؓ ہیں اور وہ سب کے سب عادل و ثقہ ہیں اور ان کی عدالت و ثقاہت پر خود حدیث نبوی شاہد عدل ہے، اس لیے کسی حدیث کے بارے میں صحابہؓ نے جو رویہ اختیار کیا ہے، حنفیہ کے یہاں اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، چنانچہ:

(الف) اگر کوئی حدیث ایسے مسئلہ سے متعلق ہو جس میں عہد صحابہ میں اختلاف رائے رہا ہو اور اس حدیث سے کسی نے استدلال نہیں کیا ہو تو علامہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان میں یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس حدیث میں کہیں کوئی کھوٹ موجود ہے اور یا تو یہ بعد کے راویوں کا سہو ہے یا پھر یہ حدیث منسوخ ہے۔ (اصول السرخسی : ۱/۳۶۹) جیسے عہد صحابہ میں اس بابت اختلاف تھا کہ جو باندی آزاد کے نکاح میں ہو، اس کی طلاق تین ہوگی یا دو؟ لیکن حدیث الطلاق بالرجال والعدۃ بالنساء ’’طلاق میں مردوں کا اور عدت میں عورتوں کا اعتبار ہوگا‘‘ سے استدلال نہیں کیا، اسی طرح نابالغ بچوں کے مال میں زکوٰۃ واجب ہونے کا مسئلہ صحابہ کے درمیان بھی اختلافی رہا ہے، لیکن حدیث ابتغوا فی أموال الیتامٰی خیرًا کیلا تأکلھا الصدقۃ سے استدلال کرنا کسی صحابیؓ سے منقول نہیں، اسی لیے حنفیہ کے یہاں ان احادیث کی تاویل کی گئی ہے۔ 

(ب) کسی روایت پر صحابہؓ کے عہد میں عمل نہ کیا گیا ہو، یا علانیہ اسے ترک کر دیا گیا ہو تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کا ظاہری مفہوم و مصداق مطلوب نہیں ہے، جیسے زنا کی سزا کے سلسلہ میں ’’جَلد‘‘ (کوڑے لگانے) کے ساتھ ’’تغریب عام‘‘ (ایک سال کے لیے شہر بدر کرنے) کی سزا صحیح احادیث میں منقول ہے (بخاری : ۲/۱۰۰۸۔ ابوداؤد: ۲/۶۱۰) لیکن حضرت عمرؓ نے ایک خاص واقعہ کے پس منظر میں فرمایا کہ آئندہ میں کسی کو شہر بدر کرنے کی سزا نہیں دوں گا۔ اس لیے حنفیہ نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل کرنے کے بجائے یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ ’’ایک سال شہر بدر کرنے‘‘ کی سزا سیاست شرعیہ کی قبیل سے ہے اور قاضی و امیر کی صوابدید پر ہے، اسی طرح فتح خیبر کی نظیر حضرات صحابہؓ کے سامنے تھی، پھر بھی حضرت عمرؓ نے فتح عراق کے موقع سے اراضی عراق کی تقسیم نہ فرمائی، اس لیے حنفیہ کے نزدیک اراضی مفتوحہ کی بابت فیصلہ کرنے میں حکومت مصالح کے تحت فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ 

(ج) اسی طرح صحابہؓ نے کسی روایت کو نقل کیا ہو، جو اپنے معنٰی و مصداق کے اعتبار سے واضح ہو، اس کے باوجود خود اس صحابی کا فتویٰ یا عمل اس روایت کے خلاف ہو تو حنفیہ کے یہاں ایسی روایت بھی نامقبول ہے، جیسے: حضرت ابو ہریرہؓ سے ’’کتے کے جھوٹے‘‘ کے سلسلہ میں سات دفعہ دھونے کی حدیث مروی ہے (صحیح مسلم، باب : حکم ولوغ الکلب) لیکن خود ان کا فتویٰ تین دفعہ دھونے کا ہے (طحاوی: باب : سور الکلب) حنفیہ نے اس حدیث کو اصل بنایا اور سات بار والی روایت کو استحباب پر محمول کیا۔

اسی طرح ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر اکثر وتر ادا فرمایا کرتے تھے (ترمذی: ۱/۱۰۸) لیکن خود حضرت عبد اللہؓ کا معمول نقل کیا گیا ہے کہ وتر ادا کرنے کے لیے سواری سے نیچے اتر آتے تھے، لہٰذا حنفیہ نے اسی پر عمل کیا، اور جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کا ذکر ہے، اسے تہجد پر محمول کیا، کیونکہ حدیث میں وتر کا لفظ تہجد کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ 

اسی طرح حضرت عائشہؓ سے وہ روایت منقول ہے جس میں عورت کے نکاح کے لیے ولی کو ضروری قرار دیا گیا ہے لا نکاح الا بولی  لیکن خود حضرت عائشہؓ نے اپنی بھتیجی یعنی حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرؓ کی لڑکی کا نکاح والد کی عدم موجودگی میں خود کیا ہے (المبسوط: ۵/۱۲) اسی لیے حنفیہ کے نزدیک بالغ لڑکی پر اولیاء کی ولایت استحبابی ہوگی نہ کہ وجوبی۔ 

البتہ اس سلسلہ میں دو باتیں قابل توجہ ہیں: اول یہ کہ اگر صحابیؓ کا عمل یا فتویٰ کسی حدیث کے خلاف ہو اور وہ حدیث ایسے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہو کہ بعض لوگوں پر اس کا مخفی رہ جانا ناقابل قیاس نہ ہو، تو یہ اس حدیث کے مقبول ہونے میں مانع نہیں ہے، جیسے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کے قائل نہ تھے کہ حائضہ طوافِ وداع ترک کر سکتی ہے، یا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی رائے منقول ہے کہ نماز کی حالت میں قہقہہ ناقضِ وضو نہیں، علامہ سرخسی نے لکھا ہے کہ یہ ایسے ہی مسائل میں ہے۔ (اصول السرخسی: ۲/۸)

دوسرے: اگر کسی حدیث میں ایک سے زیادہ معنوں کی گنجائش ہو اور کسی صحابی نے اپنے اجتہاد سے ایک معنٰی مراد لیا تو یہ حجت نہیں، کیونکہ اس کی بنیاد اجتہاد ہے نہ کہ نص، فالعبرۃ لما روی لا لما رأی  چنانچہ خرید و فروخت کے بارے میں المتبایعان بالخیار مالم یتفرقا  مروی ہے، یہاں جمہور کے نزدیک تفرق أبدان  مراد ہے، یعنی جب تک ایجاب کے بعد قبول کا اظہار نہ ہو جائے بیع کو رد کرنے کا اختیار حاصل ہے، حالانکہ خود حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس حدیث کے وہی معنٰی مراد لینا ثابت ہے جو جمہور نے لیا ہے، لیکن چونکہ خود اس حدیث کے الفاظ میں ان دونوں معنوں کی گنجائش ہے، اس لیے حنفیہ کے یہاں روایت کے الفاظ زیادہ قابل لحاظ ہیں نہ کہ راوی کا اپنا اجتہاد۔ 

(۵) احناف کے یہاں بعض کتب اصول میں خبر واحد کے مقبول ہونے کے لیے یہ شرط بھی لگائی گئی ہے کہ اس کے رُواۃ مقبول ہوں، لیکن حضرت الامام کے مجتہدات پر غور کیا جائے تو اس کی تصدیق دشوار ہے، کیونکہ کتنے ہی مسائل ہیں جن میں حنفیہ نے ایسے راویوں کی روایت کو لیا ہے جو تفقہ میں معروف نہ تھے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر دو حدیثیں متعارض ہوں اور سند کے اعتبار سے دونوں ہی صحیح ہوں تو امام صاحب ایسی روایت کو ترجیح دیتے ہیں جن کو ’’اصحاب فقہ راویوں‘‘ نے نقل کیا ہے، اس کی بہترین مثال امام ابو حنیفہ رحمۃا للہ علیہ اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان دارالحناطین مکہ میں رفع یدین کے مسئلہ پر ہونے والا مناقشہ ہے، جس میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے راویوں کے تفقہ کو ملحوظ رکھ کر ’’حماد عن ابراہیم عن علقمہ و اسود عن عبد اللہ بن مسعود‘‘ کی سند کو ’’زہری عن سالم عن عبد اللہ بن عمر‘‘ پر ترجیح دی اور واسطوں کے کم ہونے کے مقابلہ میں، راوی کے تفقہ کو آپ نے زیادہ اہم سمجھا۔ 

علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس مناقشہ کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: 

فرجح بفقہ الرُواۃ کما رجح الأوزاعي بعلو الاسناد وھو المذھب المنصور عندنا۔ (فتح القدیر : ۱۱/۳)
’’امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے راویوں کے تفقہ کی بنا پر حدیث کو ترجیح دی جیسا کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے سند کے عالی ہونے کی بنا پر اور یہی (تفقہ کی بنا پر ترجیح) ہمارے نزدیک مذہبِ منصور ہے۔‘‘

علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے ’’تحریر الاصول‘‘ میں بھی وجوہِ ترجیح میں اس کا شمار کیا ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ نکاح محرم کے مسئلہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کو ابو رافع رضی اللہ عنہ کی روایت پر ترجیح ہوگی۔ (دیکھئے تیسیر التحریر: ۳/۱۶۷)

بعض حضرات نے اس پر نقد کیا ہے کہ روایت حدیث کا تعلق بنیادی طور پر حفظ سے ہے، اس لیے روایت حدیث میں حفظ پر تفقہ کو ترجیح دینا قرین صواب نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ روایات زیادہ تر بالمعنی مروی ہیں نہ کہ باللفظ، اور معانئ حدیث کی حفاظت وہی کر سکتا ہے جو فہم بلیغ اور قلب عقول بھی رکھتا ہو، علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ بھی فی الجملہ راوی کے تفقہ کو وجۂ ترجیح قرار دیتے ہیں: ان تفقہ الراوي مرجح بحال۔ (المحصول : ۲/۴۵۴) اور علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس نقطۂ نظر کی معقولیت کا احساس کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لأنہ أعرف بمدلولات الألفاظ  (ارشاد الفحول: ۲۶۷)

حنفیہ کے علاوہ بعض دوسرے ائمۂ حدیث و فقہ نے بھی اس اُصول کو تسلیم کیا ہے، امام وکیع نے ایک صاحب سے دریافت کیا کہ تم أعمش عن أبی وائل عن عبد اللّٰہ بن مسعود اور سفیان عن منصور عن ابراہیم عن علقمہ عن ابن مسعود  میں سے کس سند کو ترجیح دیتے ہو؟ ان صاحب نے کہا: اعمش کی سند کو۔ وکیع نے اظہارِ حیرت کرتے ہوئے کہا کہ اعمش و ابو وائل شیوخ ہیں، اور سفیان، منصور، ابراہیم اور علقمہ فقہاء ، اور جس حدیث کے راوی فقہاء ہوں، وہ اس حدیث سے بہتر ہے جس کو شیوخ نے نقل کیا ہو، حدیث یتداولھا الفقہاء خیر من أن یتداولھا الشیوخ۔

(۶) اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جہاں محدثین نے اصول روایت کے اعتبار سے ذخیرۂ حدیث کو پرکھا ہے اور اس کے لیے تحقیق رجال کا وہ عظیم الشان کام سر انجام دیا ہے کہ تاریخ مذاہب میں اس کی مثال نہیں مل سکتی اور مستشرقین تک نے اس کا اعتراف کیا ہے، وہاں فقہاء اور بالخصوص فقہاء احناف نے متن حدیث کو کتاب اللہ، شریعت کے عمومی اہداف و مقاصد اور مزاج و مذاق نیز جو واقعات مروی ہیں، ان کے تاریخی پس منظر کی روشنی میں پرکھنے کی جو کوشش کی ہے اور درایت حدیث کے جو اُصول و قواعد قائم کیے ہیں، ان کی داد نہ دینا بھی نا انصافی ہوگی، لیکن افسوس کہ تحقیق حدیث کے اس پہلو کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، بلکہ فقہاء حنفیہ کو ان کی اس سعی مسعود پر بعض کوتاہ فہم اور کوتاہ بین اہل قلم نے، تارک حدیث اور متبع رائے ٹھہرایا، حالانکہ یہ ایسا ظلم ہے کہ علم کی دنیا میں کم ایسا ظلم روا رکھا گیا ہوگا۔ 

اگر بہ نظر انصاف دیکھا جائے تو بہ مقابلہ دوسرے مکاتب فقہ کے حنفیہ کے یہاں احادیث سے اعتناء زیادہ نظر آتا ہے، اس سلسلہ میں فقہاء کے دو اُصولی اختلاف کی طرف اشارہ کرنا مناسب محسوس ہوتا ہے، اول یہ کہ تابعین کی مرسل روایات میں درمیان کے واسطوں کو حذف کرکے براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی گئی روایات، حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک حجت ہیں، بشرطیکہ راوی کے بارے میں معلوم ہو کہ عام طور پر وہ ثقہ راویوں ہی سے روایت لیتا ہے (قفو الاثر: ۶۷) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور بعد کے اہل علم نے عام طور پر سند میں انقطاع کی وجہ سے مراسیل کے قبول نہیں کیا ہے، حنفیہ نے مرسل روایات اور خاص کر امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی مراسیل سے بہ کثرت استدلال کیا ہے، جس کا اندازہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کی ’’کتاب الاثار‘‘ سے کیا جا سکتا ہے۔ 

احناف کا مرسل کو قبول کرنا جہاں ان کی اس فکر کا غماز ہے کہ ’’دین میں نقل پر عمل بہرحال عقل کو راہ دینے سے بہتر ہے‘‘، وہیں یہ حقیقت بھی پیش نظر ہے کہ بہت سے محدثین حدیث کو اس وقت مرسلًا نقل کرتے تھے جب متعدد شیوخ کے ذریعہ ان تک بہ کمال اعتبار و استناد یہ روایت پہنچتی تھی، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب کسی صحابی کی روایت مجھ تک چار اصحاب کے ذریعہ پہنچتی ہے تو میں ارسالًا روایت کرتا ہوں، اذا اجتمع لي اربعۃ من الصحابۃ علی حدیث أرسلہ ارسالًا (اصول السرخسی: ۱/۳۶۱) ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ جب میں کسی حدیث کو براہ راست حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کروں تو سمجھنا چاہیے کہ میں نے ایک سے زیادہ لوگوں سے یہ حدیث سنی ہے: اذا قلت قال عبد اللّٰہ فھو عن غیر واحد عن عبد اللّٰہ (تدریب الراوی: ۱/۱۶۹) اسی لیے حنفیہ نے نماز میں قہقہہ کے ناقضِ وضو ہونے کے مسئلہ میں ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ کی مرسل روایت ہی کو اصل بنایا ہے۔ (سنن دار قطنی : ۱/۱۷۱)

(۷) دوسرے جن مسائل میں احادیث مرفوعہ موجود نہ ہوں، کہا جا سکتا ہے کہ ان میں حنفیہ کے یہاں صحابہ کے فتاویٰ کی حیثیت قول آخر کی ہے اور عام طور پر وہ اس سے تجاوز نہیں کرتے، حنفیہ کے علاوہ حنابلہ کے سوا شاید ہی کسی دبستانِ فقہ میں آثارِ صحابہؓ کو اس درجہ اہمیت دی گئی ہو، چنانچہ اس سلسلہ میں حنفیہ کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ:

i) کوئی ایسا مسئلہ ہو جس میں قیاس کو دخل نہ ہو اور اس سلسلہ میں ایک ہی صحابی کا قول منقول ہو، صحابہ کے درمیان اختلاف نقل نہ کیا گیا ہو تو قول پر عمل کرنا واجب ہے: 

ولا خلاف بین أصحابنا المتقدمین والمتأخرین أن قول الواحد من الصحابۃ حجۃ في مالا مدخل للقیاس في معرفۃ الحکم فیہ۔ (اصول السرخسی : ۲/۱۱، نیز دیکھئے: التقریر والتحبیر: ۲/۳۱۱)
’’ہمارے متقدمین و متاخرین اصحاب کے درمیان اس بابت کوئی اختلاف نہیں کہ ایک صحابی کا قول بھی ان مسائل میں حجت ہے، جن کا حکم جاننے میں قیاس کا کوئی دخل نہیں۔‘‘

چنانچہ حضرت انسؓ کے قول پر حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن ابی العاصؓ کے قول پر نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن، حضرت عائشہؓ کے قول پر حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال اور حضرت علیؓ کے قول پر مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم حنفیہ نے مقرر کی ہے، کیوں کہ مقدار اور مدت کی تعیین میں اجتہاد کو کوئی دخل نہیں۔

ii) کوئی ایسا مسئلہ ہو جس میں اجتہاد کی گنجائش ہو اور ایک ہی صحابی کا قول منقول ہو، اس صورت میں اختلاف ہے، ابوبکر جصاص رازی، ابو سعید بردعی، فخر الاسلام بزدوی، شمس الائمہ سرخسی اور ابو الیسر رحمہم اللہ وغیرہ کی رائے پر اس صورت میں بھی قول صحابی حجت ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔ (التقریر والتحبیر : ۲/۳۱۰) اور نسفی کا بیان ہے کہ : علی ھذا أدرکنا مشائخنا (کشف الاسرار مع نور الأنوار: ۲/۱۷۴)

یہی رائے مالکیہ کی ہے، یہی ایک قول امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور یہی امام شافعی رحمۃ اللہ کا قول قدیم تھا۔ (التقریر والتحبیر: ۲/۳۱۰)

امام کرخی اور قاضی ابو زید دبوسی کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں قول صحابی حجت نہیں، بلکہ قیاس پر عمل کیا جائے گا (حوالہ سابق، نیز دیکھئے الاقوال الاصولیۃ للکرخی: ۹۲، باب قول الصحابی) یہی امام شافعی رحمۃ اللہ کا قول جدید ہے۔ (دیکھئے: الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی: ۲/۳۵۷) گو اس حقیر کا خیال ہے کہ خود امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے اجتہادات سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی، پہلے نقطۂ نظر اور اس کے دلائل پر امام سرخسی نے شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے (اصول السرخسی: ۲/۱۰۸) اور دوسرے نقطۂ نظر کو کرخی نے دلائل و براہین کی قوت کے ساتھ واضح کیا ہے۔ (دیکھئے : الاقوال الاصولیۃ للامام الکرخی: ۹۲)

سرخسی نے اس صورت میں بھی قول صحابی کے معتبر ہونے کے سلسلہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کا نقطۂ نظر اس طرح نقل کیا ہے: 

  • قیاس کا تقاضا تھا کہ وضو اور غسلِ جنابت دونوں ہی میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہو، لیکن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی بناء پر قیاس کو ترک کر دیا گیا اور وضو میں سنت اور غسل میں واجب قرار دیا گیا۔ 
  • قیاس کا تقاضا تھا کہ خون زخم پر ظاہر ہو اور اپنی جگہ سے نہ بہہ پایا ہو تب بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی بناء پر ہم نے اس صورت کو ناقص وضو قرار نہیں دیا۔ 
  • اگر کسی شخص کی ایک شب و روز یا اس سے کم نمازیں بے ہوشی کی حالت میں گزر جائیں تو از روئے قیاس قضا واجب نہ ہونی چاہیے ، لیکن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے قول کی بنا پر قضا واجب قرار دی گئی۔
  • از روئے قیاس مریض موت کا اپنے وارث کے حق میں اقرار معتبر ہونا چاہیے، لیکن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عہنما کے قول پر اس کو نا معتبر قرار دیا گیا۔
  • کوئی شخص اس طرح خرید و فروخت کا معاملہ طے کرے کہ اگر میں تین دنوں تک قیمت ادا نہ کر پایا تو ہمارے درمیان بیع نہیں، تو قیاس کا تقاضا ہے کہ یہ معاملہ فاسد ہو، لیکن امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علہما نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عہنما کے قول پر اس معاملہ کو درست قرار دیا ہے۔ 
  • اگر ’’اجیر مشترک‘‘ کے پاس سے سامان کسی ایسے سبب سے ضائع ہوگیا جس سے بچنا بھی ممکن تھا، تو قیاس یہ ہے کہ اجیر پر اس کا ضمان نہ ہو، لیکن امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی بنا پر اس کو ضامن قرار دیا۔
  • امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے محض عبد اللہ بن مسعود اور حضرت جابرؓ کے قول کی بنا پر حاملہ عورت کو ایک سے زیادہ طلاق دینے کو خلاف سنت قرار دیا۔ (ملخص از: اصول السرخسی: ۲/۶۔۱۰۵)

حقیقت یہ ہے کہ یہ محض چند مثالیں ہیں، ورنہ فقہ حنفی میں اس کی بہت سی نظیریں ملتی ہیں کہ قیاس و اجتہاد کے بجائے ’’اقوالِ صحابہ‘‘ کو مشعل راہ بنایا گیا اور عقل پر بہرحال نقل کو ترجیح دی گئی ہے، فقہ حنفی کے اس مزاج و مذاق اور مسلک و طریق پر خود امام صاحب کا قول شاہد عدل ہے کہ:

ان لم أجد في کتاب اللّٰہ ولا سنۃ رسول اللّٰہ آخذ بقول من شئت وأدع من شئت منھم، ولا أخرج من قولھم الی قول غیرھم۔
’’اگر قرآن و حدیث میں حکم نہ ملے تو صحابہ میں سے جس کا قول مناسب سمجھتا ہوں لیتا ہوں اور جس کا مناسب خیال کرتا ہوں چھوڑتا ہوں، لیکن ان کے قول سے باہر نہیں جاتا۔‘‘

اب اگر کسی خاص مسئلہ میں امام صاحب نے قول صحابی کو نہ لیا ہو تو سمجھنا چاہیے کہ اس کی کوئی اور وجہ ہوگی یا صحابہ میں اس مسئلہ میں ایک سے زیادہ رائیں رہی ہوں گی جو امام صاحب کے علم میں آئی ہوں گی، انہیں میں آپ نے ترجیح کا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ 

iii) اگر کسی مسئلہ میں صحابہ کے ایک سے زیادہ اقوال ہوں تو پھر امام صاحب ان میں سے انتخاب کرتے ہیں اور جو قول قرآن سے قریب تر اور مزاجِ دین سے موافق تر محسوس ہوتا ہو اس کو اختیار کرتے ہیں۔

iv) فقہ حنفی کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام صاحب بعض اوقات آثار صحابہ سے خبر واحد میں تخصیص کے بھی قائل ہیں، مثلًا حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ:

لیس علی المسلم في عبدہ ولا فرسہ صدقۃ۔
’’مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘

اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عہنما سے مروی ہے کہ گھوڑوں میں زکوٰۃ کا واجب نہ ہونا ان گھوڑوں کے ساتھ مخصوص ہے جو جہاد کے لیے استعمال کیے جائیں۔ (البحر المحیط: ۴/۳۹۸) ایسے ہی مرتد کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: من بدّل دینہ فاقتلوہ  (جس نے اپنا دین بدل لیا، اس کو قتل کر دو) ۔ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ عورت مرتد ہو جائے تو اسے قتل نہ کیا جائے، چنانچہ حنفیہ نے عورت کو ارتداد کی بنا پر سزائے قتل سے مستثنیٰ کیا ہے، ان کے نزدیک اسے قید میں رکھا جائے گا تا آں کہ وہ تائب ہو جائے۔ 

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

اذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبۃ۔ (ترمذی: ۲/۲۸۲، باب : ماجاء اذا اقیمت الصلاۃ)
’’جب نماز قائم کی جائے تو سوائے فرض نماز کے نماز نہیں پڑھی جائے۔‘‘

لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہم سے خاص طور پر نماز فجر میں اقامت نماز کے بعد بھی سنت پڑھنا ثابت ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔

(۸) حنفیہ کے یہاں حدیث پر عمل کا اس درجہ اہتمام ہے کہ ان کے یہاں یہ بات اُصول کے درجہ میں ہے کہ جن مسائل میں کوئی حدیث موجود نہ ہو، لیکن ایسی ضعیف روایات موجود ہوں جن کے راوی پر کذب کی تہمت نہ ہو تو بمقابلہ قیاس کے ایسی ضعیف احادیث پر عمل کیا جائے گا۔ مشہور محدث اور فقیہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے حنفیہ کا مذہب اس طرح بیان کیا ہے: 

ان مذھبھم تقدیم الحدیث الضعیف علی القیاس المجرد الذی یحتمل التزییف۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/۳)
’’حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ حدیثِ ضعیف کو مجرد قیاس پر جو کھوٹ کا احتمال رکھتا ہے مقدم رکھا جائے۔‘‘

علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ضعیف پر عمل کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:

شرط العمل بالحدیث الضعیف عدم شدۃ ضعفہ، وأن لا یعتقد سنیۃ ذلک الحدیث۔
’’حدیث ضعیف پر عمل کرنے کی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو، اور اس کے سنت سے ثابت ہونے کا اعتقاد نہیں رکھے۔‘‘

اور شامی رحمۃ اللہ علیہ ’’شدت ضعف‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطرز ہیں :

شدید الضعف ھو الذی لا یخلو طریق من طرقہ عن کذاب أو متھم بالکذب۔ (رد المختار: ۱/۸۷)
’’شدید ضعف سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی سند جھوٹے یا جھوٹ سے متہم راوی سے خالی نہ ہو۔‘‘

نہ صرف حدیث کے قبول و رد بلکہ اس کی توجیہ و تاویل کے باب میں بھی علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کیسی شمشیر بے نیام ہیں، وہ محتاج اظہار نہیں، لیکن انہیں بھی اعتراف ہے کہ:

جمیع الحنفیۃ مجمعون علی أن مذھب أبی حنیفۃ ھی أن ضعیف الحدیث عندہ أولی من الرأی۔ (مقدمۃ علوم الحدیث للتھانوی: ۶۹)
’’تمام احناف اس بات پر متفق ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث بھی قیاس سے بڑھ کر ہے۔‘‘

اور علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:

وأصحاب أبي حنیفۃ مجمعون علی أن مذھب أبي حنیفۃ أن ضعیف الحدیث عندہ أولی من القیاس والرأی، وعلی ذلک مبني مذھبہ کما قدم حدیث القھقھۃ مع ضعفہ علی القیاس والرأی۔ (اعلام الموقعین: ۱/۷۷)
’’حنفیہ اس بات پر متفق ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ ضعیف حدیث ان کے نزدیک قیاس اور رائے پر مقدم ہے، اور اسی پر ان کے مذہب کی بنیاد ہے، جیسا کہ انہوں نے قہقہہ کی حدیث کو اس کے ضعیف ہونے کے باوجود قیاس اور رائے پر ترجیح دی ہے۔‘‘

اس لیے حنفیہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنی رائے کے مقابلہ میں صحیح و ثابت احادیث کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یا تو ان کے منہج استدلال سے ناواقفیت کے باعث ہے، اور یہ منہج اُصولی طور پر محدثین و سلف صالحین کے نزدیک قریب قریب متفق علیہ ہے، یہ اور بات ہے کہ دوسرے مکاتب فقہ میں اُصولِ روایت پر قناعت کیا گیا اور وجوہِ درایت پر کم توجہ دی گئی اور حنفیہ نے عملی طور پر اس کو برتا ہے، یا پھر یہ بہتان عظیم اور کذبِ اثیم ہے۔ والی اللّٰہ المشتکي۔

مکاتب فکر

دسمبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۲

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہید کون؟ کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ
محمد عثمان فاروق

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک
مولانا عبد الرؤف ربانی

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

مکاتیب
ادارہ

نسوانیت کا دشمن لیکوریا
حکیم محمد عمران مغل