عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد

اویس پاشا قرنی

’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اپنی اصل کے اعتبار سے غلبہ چاہتا ہے‘‘۔ ماجرا کچھ یوں ہے کہ یہ فقرہ آج ایک خاص تصورِ دین کا عکاس ہے۔ اِس عبارت کو سمجھنے کے لیے گزشتہ صدی کے فکری رجحانات اور ان کے اظہار کے لیے وضع کردہ خاص محاورے اور اصطلاحات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ نسل انسانی کے اجتماعی شعور نے جب اپنے گزشتہ مشاہدات و تجربات کی روشنی میں اپنی اجتماعیت کو ایک مربوط نظام کی شکل دینے کی کوشش کی اور اِس کی پشت پر افراط و تفریط پر مبنی خالص مادی نقطۂ نظر سے مختلف فکری استدلال بھی قائم کیے‘ تو بالکل فطری تقاضے کے طور پر مسلمان اہل علم نے دین اسلام کی’’ تعبیر ‘‘ وقت کے محاورے اور اصطلاح کو سامنے رکھتے ہوئے کی۔ یہ اِسی کا مظہر ہے کہ آج ہم اپنی روز مرہ کی زبان میں اِس جیسے کئی جملے استعمال کرتے ہیں کہ ’’ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے‘ اسلام کا معاشرتی نظام‘ سماجی نظام‘ معاشی نظام‘ سیاسی نظام وغیرہ‘‘۔اِس تعبیر کے ساتھ جو ایک خاص جذبہ کار فرما تھا اُسے خود شعوری یا احساسِ بیداری کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں میں یہ احساس عام ہوا کہ نظاموں کی اس کشاکش کے درمیان ‘ جبکہ ہر قوم اپنے افراط و تفریط پر مبنی مادی ‘ خدابے زار نظامِ حیات کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتی ہے‘ ہم بھی ایک نظامِ حیات کے دعوے دار ہیں‘ جس کی ترتیب و تدوین وحی و رسالت کے ہاتھوں ہوئی ہے اور اِسی پر عمل پیرا ہو کرہم نے اِس دنیا پر کئی صدیوں تک حکومت کی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِسی فکری و نظری لہر کے نتیجے میں تمام بلادِاسلامیہ میں مختلف تحریکات غلبہ و اقامت دین یا اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی آرزو کے ساتھ میدانِ عمل میں اُترتی ہیں۔ یہی وہ موقع ہے کہ جب اُمت مسلمہ کے فکری قائدین نے اِس قافلہ کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور اس طرح احیاءِ اسلام کا عمل جاری ہوا ۔

ان احیائی تحریکوں میں ایک نئے عنصر کا ظہور ماضی قریب میں ہوا ہے۔ غلبہ و اقامت دین کے لیے کام کرنے والی ان تحریکات پر قریب قریب ایک صدی مکمل ہونے کو ہے مگر واقعاتی دنیا میں کوئی قابل ذکر تبدیلی رونمانہیں ہوئی ‘یعنی جو نتائج مطلوب تھے وہ حاصل نہیں ہوئے ‘اِلاّ یہ کہ کچھ صالحین مسلم معاشروں میں سے ان تحریکات کے عنوان سے مجتمع ہو گئے۔ان نتائج کے سامنے آنے پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے کام پر ناقدانہ نگاہ ڈالتے اور خامیوں ‘کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل کے لیے خوداحتسابی کے ساتھ پرجوش انداز میں سرگرم عمل رہتے ۔مگر بدقسمتی سے انسان جلدباز واقع ہوا ہے ۔نیا منظر نامہ یوں مرتب ہوا کہ ان تحریکات کے کچھ پرجوش اور سرگرم عناصر اپنے گزشتہ سوچے سمجھے‘ معتدل اور محتاط طریقہ کارکے بارے میں نا امیدی اورشکوک وشبہات کا شکار ہو گئے ‘جیسا کہ فکری خلا کا کوئی وجود نہیں اور انسان کسی صحیح یا غلط استدلال کے اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ چنانچہ ان عناصر نے جلدبازی میں ایک نئی راہ اختیار کی جو کہ ہمہ گیر اسلامی تحریک کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔اس ہنگامی صورت حال سے قبل عالمِ اسلام میں احیائی عمل کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ پہلے دعوتِ ایمانِ حقیقی‘ تزکیۂ نفوس‘ تعلیم کتاب وحکمت‘ تربیت وتنظیم‘ پھر جہاد وقتال۔ جبکہ اس جدید استدلال میں بات تکفیر سے شروع ہوتی ہے اور مجہول الہدف‘ بے نتیجہ قتال کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس بے اصل استدلال کو شرعی نصوص سے بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان صفحات میں ہمارے پیش نظر اسی اشکال کا جائزہ لینا ہے ۔

اِس امر میں تو مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ چاہے معاملات ہو ںیا عبادات‘ معاشرت ہو یا سیاست و ریاست‘ عملی رہنمائی کا اصل ماخذ قرآن کریم اور رسول اللہﷺ اورخلفائے راشدینؓ  کی سنت و سیرت ہے۔ جس طرح یہ اصول دیگر دینی تعلیمات کے لیے صحیح ہے اِسی طرح غلبہ و اقامتِ دین یا نصبِ امامت و خلافت کے طریقہ کار ‘ لائحہ عمل اور منہج انقلاب کے اخذ کرنے کا اولین و اہم ترین ذریعہ بھی سیرتِ رسول ﷺ ہے۔ (اس فرق کے ساتھ کہ عبادات یعنی تعبدی اُمور میں اصل ’’حرمت‘‘ ہے یہاں تک کہ اُس کی حلت ثابت ہو جائے اور معاملات میں اصل ’’اباحت ‘‘ہے یہاں تک کہ اُس کی حرمت ثابت ہوجائے۔) معلوم یہ ہوا کہ مصدر و ماخذ سے متعلق کوئی اختلاف نہیں‘ بلکہ یہ جو تنوع ہم تحریکوں کے طریقہ کار میں پاتے ہیں یہ اصلاً اُس کے فہم اور تعبیر و تشریح میں نقطۂ نظر کی صحت و ضعف کا ہے۔واضح رہے کہ جب ہم کسی فعل کے لیے کسی واقعہ سے نظیرلیتے ہیں یا قضیۂ اولیٰ کو قضیۂ ثانیہ پر قیاس کرتے ہیں تو اِس امر کی صحت و بطلان کا انحصار دو اساسات پر ہوتا ہے‘ جسے اصولیین کی زبان میں اصل اور فرع یا مقیس علیہ اورمقیس کہتے ہیں۔ جب تک ہر دو اجزاء کی مکمل معرفت ‘ اُن کے اوصاف و خواص‘ تعمیم و تخصیص ‘ اطلاق و تقیید سے واقفیت اور سبب و علت پر حکیمانہ نظر نہ ہو تو یہ استشہا د خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔

زیر نظر موضوع پر جب ہم اِس اصول کی روشنی میں غور کرتے ہیں تو تعقل کے اجزا یہ قرار پاتے ہیں:

(۱) منہج انقلاب اخذ کرنے کے نقطۂ نظر سے رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مطہرہ کامطالعہ ۔ 

(۲) موجودہ احوال و ظروف کا دقتِ نظر ی سے مطالعہ۔

جزوِ اول کی حیثیت اصل یا مقیس علیہ کی ہو گی اور جزوثانی فرع یا مقیس کہلائے گا ۔ اِس بات میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ دونوں اجزاء اپنی انفراد ی حیثیت میں مکمل توجہ کے مستحق ہیں ‘کوئی بھی جزو ثانوی درجہ کا نہیں ‘اس لیے کہ مطلوبہ مقاصد کا حصول صرف اُسی وقت ممکن ہے جب دونوں اجزاء کی صحیح معرفت ہو۔ یعنی سیرت کے مطالعے میں خاص معروضی نقطۂ نگاہ کو اپنایا گیا ہو جو کہ تخریج منہج کے لیے مطلوب ہے۔ اور اِسی طرح اپنے زمانہ کے مزاج ‘ تقاضے‘ دورِ نبویؐ کے مقابلہ میں رو نما ہونے والے فرق و تفاوت ‘ تمدنی و فکری ارتقاء اور دیگر قابل لحاظ امور کی صحیح صحیح تحقیق و تنقیح کر لی گئی ہو۔ فقہ کی اصطلاح میں پہلے جزو کو فقہ الاحکام اور دوسرے جزو کو فقہ الواقع سے تعبیر کیا جاتاہے اور ایک شخص کے لیے دونوں اجزا کی تحقیق لازم ہے، ورنہ وہ مقاصدِ شرعیہ کی من کل الوجوہ پاسداری نہیں کر سکتا۔

اِس کو عام فہم انداز میں اِس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے ایک کاریگر فرمے یا سانچے سے کوئی شے تیار کرتا ہے۔ اِس عمل کے دو اجزاء ہیں ‘ایک سانچہ اور دوسرا وہ مادّہ جس کو اُس سانچے میں رکھ کر مطلوبہ شے تیار کی جاتی ہے۔ کاریگر کا دونوں اجزاء سے اچھی طرح واقف ہونا یکساں طور پر ضروری ہے۔ اُسے فرمے یا سانچے کا استعمال بھی آتا ہو اور ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو کہ جس مادہ کو سانچہ میں ڈالا جاتا ہے اُسے پگھلا کر استعمال کیا جاتا ہے یا کاٹ کر یا پیس کر۔ مطلوبہ شے کا حصول تبھی ممکن ہے کہ جب کار یگر دونوں اجزاء سے گہری واقفیت رکھتا ہو۔

اللہ عزوجل نے اپنے نبی حضرت محمدﷺ کو اظہارِ دین یا اقامت دین کے لیے جو منہج دے کر بھیجا وہ واضح طور پر دو مراحل میں منقسم ہے‘اور ہر دو مراحل اپنی نوعیت ‘اثرات اور تقاضوں کے اعتبار سے مختلف اور متضاد بھی ہیں ۔ اگر مکی دور میں نازل ہونے والی آیات پر ایک سر سری نگاہ ڈالی جائے تو کوئی مانع نہیں جو اِس تأثر کے اخذ کرنے سے ہمیں روکتا ہو کہ اُس دَور میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے اپنے نبیؐ‘ کوجو منہج اور طریقۂ کار دیا گیا تھا وہ دعوت اور تبلیغ ہی کا تھا جس میں ایک خاص درویشانہ رنگ غالب ہے۔ یہ دَور جہادو قتال سے یکسر خالی ہے۔ اور اگر کہیں آیات میں لفظ جہاد استعمال ہوا ہے تو اُس کے معنی کوشش اور جدوجہد کے ہیں نہ کہ جنگ و قتال کے۔ اُس دَور کی کیفیا ت کا مطالعہ کیا جائے توچند عناصر بہت واضح ہیں‘ جیسے یہ حکم کہ صبر کیے جاؤ ‘یعنی جو مصائب دعوت کے دوران پیش آئیں اُن پر صبر کی تلقین ہو رہی ہے۔ استقامت یعنی اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ ہر مصیبت کو جھیل جانے کا عزم پیدا کیا جا رہا ہے۔ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیے جانے پر اُبھارا جا رہا ہے‘ تزکیۂ نفوس پر زور ہے‘ نماز اپنی ابتدائی شکل میں ہے اور اُس کی مشق کرائی جا رہی ہے۔ اخلاق کی تہذیب مطلوب ہے۔ حق بات کہنے پر جو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچے اُس پر کمالِ استقامت کی ترغیب اور اس کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری دی جا رہی ہے۔ ایمان و تقویٰ میں درجۂ احسان کی جانب پیش قدمی کے لیے تحریض و تشویق ہے۔ سیرتِ نبویؐ کے اس مرحلہ میں مسلمانوں کی پوری جماعت کو اِس بات کی سخت تاکید تھی کہ ظلم کے جواب میں کوئی اقدام نہیں کرنا ۔ یعنی مار کھانا ہے مارنا نہیں ہے‘ جان دینا ہے جان لینا نہیں ہے۔ اِسی حکم کو بعد میں اِن الفاظ میں ظاہر کیا گیا:

( اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ ۔۔۔) (النساء :۷۷ )
’’کیا تم نے نہیں دیکھا اُن لوگوں کی طرف جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔۔۔؟‘‘

مکی دَور کے منہج کے بر عکس ہجرت کے بعد یعنی مدنی دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا عناصر میں چند اور چیزوں کا اضافہ ہوتا ہے جس سے جد وجہد کا رنگ ہی بدل جاتا ہے۔ اب کفار کو نہ صرف اُن کے ظلم کا جواب دیا جا رہا ہے‘ بلکہ آگے بڑھ کر چیلنج بھی کیا جا رہا ہے۔ اُن سے دو بدو جنگ ہو رہی ہے‘ اُن کی گردنیں اُتاری جا رہی ہیں‘ کفار و مشرکین کو قیدی بنایا جا رہا ہے۔ جہاں معاہدہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے وہاں عہد و میثاق ہو رہے ہیں ‘جہاں عارضی صلح درکار ہے وہاں امن و صلح کی بات چیت ہو رہی ہے۔ غرض اس اُبھرتی ہوئی طاقت کے لیے جس وقت جو عمل مناسب ہے وہ اختیار کیا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ اللہ عزو جل نے اسلام کو شان و شوکت سے نواز دیا۔ ہر دو مراحل کے تقاضے یکسر مختلف ہیں۔ بظاہر یہ تضاد ہے مگر حکمت دین کو محلوظ رکھتے ہوئے اگر سیرت کے اِن اَدوار پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان مراحل کے مابین نسبت تضاد کی نہیں بلکہ تدریج کی ہے۔ ایک مقدم ہے اور ایک مؤخر!

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو غلبہ و اقامت دین کے لیے جو منہج دے کر بھیجا وہ واضح طور پر دو مرحلوں پر منقسم ہے‘ جیسا کہ قرآن و سیرت کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے۔ ایک کو ہم مکی دَور کہتے ہیں اور ایک کو مدنی دَور۔ ان کے مابین اصل فرق یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمانوں کی تعداد اور استعداد کم تھی‘ ان کی تربیت اور تزکیہ و تنظیم کا عمل جاری تھا اِس لیے رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ‘ کو حکم یہ تھا کہ اسلام کی دعوت اپنے قول و فعل سے دیتے رہیں۔ ایمان کی پختگی ‘گہرائی اور گیرائی کے لیے سعئ پیہم جاری تھی۔ اخلاق کی تہذیب‘اللہ کے ساتھ عبدیت کے تعلق کو مستحکم کرنے کی کوشش اور درجۂ احسان کا حصول اُس دَور میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے ۔منہج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صبح وشام اُس مطلوبہ استعداد اور تعداد کو حاصل کرنے کے لیے دعوت کا عمل ہر قربانی اور ایثار کے جذبہ کے ساتھ انتہائی مستقل مزاجی اور بغیر کسی مدا ہنت کے جاری و ساری تھا۔ یہی وہ تشکیلی دَور ہے جس میں رسولِ خداﷺ نے وحئ الٰہی کی روشنی میں صحابہ کرامؓ ‘کی صورت میں وہ قوت و جمعیت فراہم کی جو کسی بھی نظام سے ٹکرانے یا بالفاظِ دیگر مسلح یا غیر مسلح اقدام کے لیے شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ مکی دور میں نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہؓ مشرکین کے مظالم کے جواب میں صبرو مصابرت کی روش پرگامزن ہیں اور اس کے بر عکس مدینے میں ایک ایسا وقت بھی آیاکہ ابو سفیان نے دربارِ نبویؐ میں دست بستہ حاضر ہو کر صلح کی درخواست کی لیکن نبی اکرمﷺ نے صلح نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ یہ عمل وحئ الٰہی کی روشنی میں نبی اکرم ﷺ کی رہنمائی اور قیادت میں اختیار کیا گیا۔مکی دَور میں پوری جدوجہد پر ایک درویشانہ اور مظلومانہ رنگ غالب ہے جبکہ مدنی دور میں اقدامی اور جارحانہ روش دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور اس کے پیچھے کیا حکمت کار فرما ہے؟ تو جاننا چاہیے کہ اسلام نہ ہمیشہ امن اور صلح‘صبر اور در گزر کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی ہر حال اور ہر جگہ جنگ و جدال اورجہاد و قتال پر اُبھارتا ہے۔ اسلام میں فی نفسہٖ نہ صلح مطلوب ہے نہ قتال ‘بلکہ یہ دونوں ایک خاص مقصد کے لیے حکمت عملی کے طور پر اختیار کیے جاتے ہیں‘ اور وہ خاص مقصد ہے اظہارِ دین حق‘ اقامت دین‘ قیامِ خلافت ‘ نصب امامت‘ اقامۃ الدولۃ الاسلامیہ‘ حکومت الٰہیہ کا قیام۔ غرض نام اور اندازِ تعبیر مختلف ہیں مگر ان سب سے ایک ہی حقیقت کا اظہار مطلوب ہے۔ امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلویm نے اِس آیت کو سیرت النبیﷺ کا عمود قرار دیا ہے ‘یعنی یہی وہ نقطہ ہے جس کے گرد پوری تیئیس سالہ جدوجہد گردش کر رہی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: 

(ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ)  (التوبۃ:۳۳‘ الفتح:۲۸‘ الصف:۹) 
’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول کو الہدیٰ (کتابِ ہدایت )اور دین حق دے کر تا کہ غالب کر دے اُسے تمام نظام ہائے حیات پر‘‘ ۔

اس آیت مبارکہ میں نبی اکرمﷺ کا مقصد بعثت بیان ہوا ہے۔ اس نقطہ کو سمجھ لینے کے بعد سیرت کے ہر دو مراحل میں کوئی تضاد اور کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔ یعنی جب بھی جو طریقۂ کار غلبۂ دین کے لیے زیادہ مناسب تھا ہم دیکھتے ہیں کہ سیرت النبیؐ میں وہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ جب تک مکہ میں رہے مسلمانوں کے پاس اِس قدر قوت نہ تھی کہ کفر کی حکمرانی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکتے اور اُس کی جگہ خدا کی حکمرانی قائم کرتے۔ اِس لیے اقدام نہ کیا بلکہ مسلسل تن دہی کے ساتھ قوت کی فراہمی میں کوشاں رہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہاں قوت سے مراد صرف عددی قوت نہیں بلکہ ایسی عددی قوت کی فراہمی مطلوب ہے جو ایمانِ حقیقی سے وافر حصہ رکھتے ہوں اور عمل صالح پر کاربند ہوں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جب مطلوبہ قوت فراہم ہوگئی تورسول اللہﷺ نے باطل کے خلاف اقدام کیا اور بھر پور کیا ۔بالآخر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام اور اہل ایمان کو غلبہ عطا فرمایا۔ دراصل یہ نقطہ حکمت دین سے متعلق ہے اور حکمت کی ایک تعریف یوں بھی کی گئی ہے: ’’وضع الشئ فی محلہ‘‘۔ یعنی ہر چیز کو اُس کے صحیح مقام پر رکھنا۔ اللہ ہمیں حکمت عطا فرمائے ۔ آمین!

کیا اب مکی منہج ( مرحلۂ دعوت) منسوخ ہے؟

جیسا کہ واضح کیا گیا ‘منہج نبوی ؐکے دو مراحل ہیں جن میں حالات کی رعایت سے مقدم و مؤخر کی نسبت ہے۔ اب مسئلہ یہ در پیش ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض خاص ذہنی پس منظر رکھنے والے افراد جو انقلابِ اسلامی کے طریقہ کار جیسے اہم موضوع پر سنجیدہ علمی و عقلی غور و فکر کے لیے سرے سے تیار ہی نہیں اور مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال پر اس قدر انفعالی کیفیت کا شکار ہیں کہ بغیر کسی استدلال کے نری جذباتیت برتتے ہیں‘ اور جو منہج اُنہوں نے اپنایا ہوا ہے وہ اصلاً تو کوئی لائحہ عمل ہے ہی نہیں اِلاّیہ کہ اپنے غم و غصہ کا اظہار ہو یا کچھ انتقامی جذبات کی تسکین ہو‘ سر دست ہم اُن کے اِس دعویٰ بلادلیل کا جائزہ پیش کرنا چاہتے ہیں کہ کیا جہاد و قتال کی آیات کے نزول سے دعوت و تبلیغ کا منہج منسوخ ہو گیا ہے؟ وہ آیات جو مکی دَور میں ہاتھوں کو باندھے رکھنے اور برائی کا جواب اچھائی سے دینے ‘ مظالم پر صبر کرنے اور ظلم و جبر کے جواب میں مسلسل دعوت و تنظیم کو مزید بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہیں ‘منسوخ ہو چکی ہیں اُن آیات سے جو مدنی دَور میں اذِن قتال اور پھر حکم قتال سے متعلق نازل کی گئیں؟ ہمیں اِس بات کا جائزہ لینا ہے کہ یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے؟

ہمارے اِن نیک نیت مگر جذبات سے مغلوب بھائیوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہ خالص علمی بحث کو چٹکیوں میں اُڑا رہے ہیں جسے اہل علم نے علوم القرآن کی کتب میں خاص اہتمام کے ساتھ ناسخ و منسوخ کے عنوان کے تحت درج کیا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس ہوائی دعوے کی زد قرآن حکیم کی بیشتر محکم آیات پر پڑتی ہے جس کے بعد قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ ہمیں مخاطب ہی نہیں کرتا۔ یہ قرآن حکیم جو ابدالآباد کے لیے اور بنی نوع انسا ن کے ہر مسئلہ کے لیے اپنے اندر رہنمائی سموئے ہوئے ہے ہم اُسے اپنے جذبات اور جوش و خروش کے ہاتھوں مجبور ہو کر اتنا محدود کر دیں کہ اُسے غلبۂ دین کی جدوجہد کے صرف ایک دَور کے ساتھ خاص کر دیں‘یہ قرآن پرظلم اور لوگوں کو گمراہ کرنے والی بات ہے!

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس دعوے کے متعلق اہل علم کیا فرماتے ہیں ۔

سب سے پہلے علامہ بدر الدین الزرکشیؒ کی ’البرہان فی علوم القرآن ‘کو لیتے ہیں جس پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ یہ موقف علماءِ سوء نے نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو مغرب کی غلامی میں دینے کے لیے اختیار کیا ہے (کیونکہ علامہ کا تعلق ساتویں صدی ہجری سے ہے)۔ علامہؒ لکھتے ہیں:

فیما یقع فیہ النسخ: الجمہور علی أنہ لا یقع النسخ إلا فی الأمر والنہی وزاد بعضھم الأخبار وأطلق و قید ھا آخرون بالتی یراد بہا الأمرو النہی (۱)
’’ نسخ کہاں واقع ہوتا ہے؟ جمہور اہل علم کی رائے میں نسخ صرف امر و نہی میں واقع ہوتا ہے اور بعض نے اس پر اخبار (واقعہ کا تذکرہ) کا اضافہ کیا ہے ۔کچھ نے مطلق اخبار کہا ہے اور کچھ نے صرف اُن اخبار پر نسخ کا وقوع مانا ہے جن میں امر و نہی وارد ہوتے ہیں‘‘۔

ملا حظہ ہو کہ جن آیات کے نسخ کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اصلاً تو شریعت سے متعلق نہیں بلکہ منہاج سے متعلق ہیں جس کے متعلق اوپر جمہور کا مسلک درج کیا گیا کہ اِس میں نسخ واقع ہی نہیں ہوتا۔ علامہ کی درج ذیل عبارت پر غور کیا جانا چاہیے جس میں انہوں نے براہِ راست ہمارے پیشِ نظر موضوع سے بحث کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

الثالث ما أمربہ لسبب ثم یزول السبب‘ کالأمر حین الضعف والقلۃ بالصبرو بالمغفرۃ للذین یرجون لقاء اللہ و نحوہ من عدم إیجاب الأمر بالمعروف والنہی عن المنکر والجہاد و نحوھا‘ ثم نسخہ إیجاب ذلک وھذا لیس بنسخ فی الحقیقۃ وإنما ھو نَسٌ‘ کما قال تعالیٰ : ’’أونُنْسِہَا‘‘ فالْمُنسَأ ھو الأمر بالقتال‘ إلی أن یقوی المسلون ‘ و فی حال الضعف یکون الحکم وجوب الصبر علی الأذی(۲) 
’’تیسرا یہ کہ جو حکم دیا جائے کسی سبب کی وجہ سے ‘پھر وہ سبب نہ رہے ‘جیسا کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کفار کے ظلم پر صبر کرنے اور در گزر کرنے کا ‘اُن مسلمانوں کو جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح(مکی دور میں) امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور جہاد کے واجب نہ ہونے کا معاملہ ہے۔ پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا وجوبِ جہاد سے اور یہ درحقیقت نسخ نہیں بلکہ یہ بھلا دینا ہے( بایں معنی کہ وقتی طور پر اس کے مطابق عمل نہیں کیا جائے گا) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اَوْنُنْسِہَا۔ تو وقتی طور جو بھلا دیا گیا وہ حکم قتال تھا یہاں تک کہ مسلمان قوت حاصل کر لیں ‘اور ضعف کی حالت میں واجب ہے کہ تکلیف پر صبر کیا جائے‘‘۔

یہ مشاہدہ ہے کہ نسخ کے دعوے دار اکثر ائمہ سلف کی اُن تفسیری آراء سے دلیل پکڑتے ہیں جو آیاتِ قتال کے ذیل میں ان جلیل القدر ہستیوں نے ظاہر فرمائی ہیں۔ اس کے صحیح محل اور مدعا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بعض تابعین نے نُنْسِھَا کی تفسیر نؤخرھا (یعنی مؤخر کرتے ہیں) سے کی ہے۔( ابنِ کثیر ‘جلد اوّل‘ سورۃ البقرۃ‘آیت ۱۰۶)جیسا کہ امام ابن جریر طبری سورۃ الحج کی آیت ۳۹  (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) (اجازت دی گئی اُن لوگوں کو جن سے قتال کیا جاتا ہے (قتال کرنے کی) بسبب اس کے کہ اُن پر ظلم ہوا)کے تحت لکھتے ہیں:

وقال ابن زید کانوا قد أمروا بالصفح عن المشرکین‘ فأسلم رجال ذو ومنعۃ فقالوا یا رسول اللہ لو أذن اللہ لنا لأ نتصرنا من ھؤلاء الکلاب‘ فنزلت ھذہ الآیۃ ثم نسخ ذلک بالجہاد(۳)
’’ ہمیں مشرکین سے عدم تعارض کا حکم دیا گیا تھا‘ مگر پھر مقابلہ کی طاقت رکھنے والے لوگ بھی اسلام لے آئے تو ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسولﷺ !اگر اللہ ہمیں اجازت دیتا تو ہم ان کتوں سے خوب بدلہ لیتے ۔تواِس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے عدم تعارض کے حکم کو منسوخ کر دیا‘‘۔

امام سیوطیؒ نے جہاد و قتال سے متعلق اُن تمام آیات کو جنہیں بطورِ ناسخ پیش کیا جاتا ہے‘ اپنی کتاب ’الاتقان فی علوم القرآن‘ میں نانسخ و منسوخ کی بحث کے تحت جمع کر دیا ہے۔ تفصیل کے لیے اس کتاب سے رجوع کیا جائے۔

یہ اور اس جیسے دیگر مقامات جو کتب تفسیر میں پائے جاتے ہیں ‘سے متعلق اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ یہاں نسخ کے معنی وہ نہیں جو نسخ حقیقی کے ہیں‘ یعنی أن رفع الحکم بدلیل شرعی ولا یجوز امتثالہ أبدًا (دلیل شرعی کی بنیاد پر کسی حکم کا ختم ہو جانا اور پھر اس پر عمل نہ کرنا) بلکہ حکم کے فی الحال معطل اور مؤخر ہونے کے ہیں۔ اورا سی رائے کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے اختیار کیا ہے۔

اس بارے میں علامہ زرکشیؒ کا قولِ فیصل درج ذیل ہے :

وبھذا التحقیق تبین ضعفُ ما لھج بہ کثیر من المفسرین فی الآیات الامرۃ بالتخفیف إنھا منسوخۃ بآیۃ السیف‘ ولیست کذلک بل ھی من المنسأ بمعنی أن کل أمر ورد یجب امتثالہ فی وقت ما لعلّۃ توجب ذلک الحکم‘ ثم ینتقل بانتقال تلک العلّۃ الی آخر‘ ولیس بنسخ إنما النسخ الازالۃ حتی لا یجوز امتثالہ ابدًا وإلی ھذا أشار الشافعی فی ’’الرسالۃ‘‘ إلی النہی عن ادّخار لحوم الأضاحی من أجل الرأفۃ‘ ثم ورد الإذن فیہ فلم یجعلہ منسوخا بل من باب زوال الحکم لزوال علّتہ وھو سبحانہ و تعالیٰ حکیم أنزل علی نبیہ ﷺ حین ضعفہ ما یلیق بتلک الحال رأفۃ ورحمۃ‘ إذ لو وجب لاؤرث حرجا و مشقۃ‘ فلما أعز اللّٰہ الاسلام وأظہرہ ونصرہ أنزل علیہ من الخطاب ما یکافی تلک الحالۃ من مطالبۃ الکفار بالاسلام أو بأداء الجزیۃ ان کانو أھل کتاب أو الاسلام أو القتل إن لم یکونوا أھل کتاب ویعود ھذان الحکمان‘ اعنی المسالمۃ عند الضعف والمسایفۃ عند القوۃ بعود سببھما‘ ولیس حکم المسایفۃ ناسخًا لحکم المسالمۃ بل کلٌّ منہما یجب امتثالہ فی وقتہٖ (۴)
’’اور اِس تحقیق سے وہ ضعف واضح ہو تا ہے جو بہت سے مفسرین کو لا حق ہوا اُن آیات کے بارے میں جن میں بہت زیادہ تخفیف کا حکم ہے(یعنی صبر و استقامت اور عفو ودرگزر کا حکم ہے) کہ یہ تمام آیات منسوخ ہیں آیۃ السیف سے۔جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے ‘بلکہ اوّل الذکر آیات منساء (مؤخرکردہ) کی قبیل سے ہیں‘ اس معنی میں کہ جو بھی حکم وارد ہوا ہے اُس کا پورا کرنا واجب ہے ایک خاص وقت میں جو علت ہے اُس حکم کے وجوب کی۔ پھر وجوب منتقل ہو جاتا ہے دوسرے حکم کی طرف علت کے منتقل ہونے کی وجہ سے۔ اور یہ ہر گز نسخ نہیں ہے‘ بلکہ نسخ تو وہ ہے جس پر ہمیشہ کے لیے عمل کرنا جائز نہ رہا ہو۔ امام شافعیؒ نے اپنی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ: حدیث میں جو قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا (۵) تو وہ بسبب رأفت ہے ۔پھر ذخیرہ کرنے کی اجازت دے دی گئی تو یہ اجازت پہلے حکم کی ناسخ نہیں ہے‘ بلکہ اِس میں بھی وہی حکمت کار فرما ہے کہ علت کے زائل ہونے سے حکم بھی زائل ہو گیا۔اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ حکمت والے ہیں اِس لیے اپنے نبیﷺ پر حالت ضعف میں وہ احکام نازل فرمائے جو اُس حال کے مطابق تھے‘ نرمی برتتے ہوئے رحمت کے ساتھ۔ اگر شروع ہی سے قتال کے احکام واجب کر دیے جاتے تو اِس سے شدید حرج اور مشقت لازم آتی۔ پھر جب اللہ نے اسلام کو عزت ‘نصرت اور غلبہ سے سرفراز فرمایا تو آپﷺ پر وہ احکام نازل فرمائے جو اِس حال کے مطابق تھے۔ جیسے کفار سے اسلام کا مطالبہ (جزیرہ نمائے عرب کے کفار مراد ہیں) ورنہ اُن کا قتل کر دیا جانا ‘یا اگر اہل کتاب ہیں تو جزیہ کا مطالبہ۔یہ دونوں حکم واپس آ سکتے ہیں سبب کے لوٹنے سے ۔ یعنی امن(عدم جنگ) کا اختیار کرنا کمزوری کے وقت اور جنگ و قتال کا اختیار کرنا قوت و طاقت کے وقت ۔ اور ’حکم المسایفۃ‘ (قتال و جنگ کا حکم) ’حکم المسالمۃ‘ (امن و عدم جنگ کے حکم)کے لیے ناسخ نہیں‘ بلکہ اُن میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ اوقات میں عمل ہو گا‘‘۔

پس ثابت ہوا کہ نسخ کا دعویٰ مکی منہج یعنی منہج دعوت کے لیے کسی طور پر بھی ثابت نہیں۔ احوالِ واقعہ یعنی معروضی حالات کی نسبت سے معاملہ مقدم اور مؤخر کا ہے نہ کہ ناسخ و منسوخ کا ۔ نہ منہج دعوت منسوخ ہے اور نہ منہج جہاد (جیسا کہ اس کے برعکس اکثر متجددین کا زعمِ باطل ہے)۔ منہج جہاد و قتال بھی اپنی پوری شان و شوکت‘ جاہ و جلال ‘وقار وطمطراق کے ساتھ موجود ہے اور منہج جہاد و قتال کو ساقط یا منسوخ قرار دینے والا اور اِس پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے والا مغلوب ذہنیت کا حامل‘ حقائق کا منکر ‘ اسلام کی تکمیلی شان سے ناواقف اور مارِآستین ہے۔ مگر یہاں محل گفتگو یہ ہے کہ کون سا منہج کن حالات میں زیادہ مناسب للمطلوب ‘ مؤثر ‘ راجح‘ مقدم اور مقاصد شریعت کا زیادہ محافظ اور غلبہ و اقامت دین کے لیے مبنی برہدف ہے۔ واللّٰہ المُستعان!

ایک اشکال اور اُس کا حل

زیر نظر مضمون کا یہ بنیادی مقدمہ ہے کہ آج مسلمانوں میں کام کرنے والی تحریکاتِ اسلامیہ کے لیے رہنمائی کا اہم ترین ذریعہ نبی اکرم ﷺ کے مکی دور کا منہج ہے۔ ہمارے نزدیک یہی وہ بنیادی مقدمہ ہے جس کو تسلیم کر لینے سے اسلامی تحریکات جو غلبہ واقامت دین کے لیے مصروف کار ہیں ‘صحیح راہ پر گامزن رہیں گی اور منزل بہ منزل نفاذِ اسلام اور نظامِ خلافت سے قریب تر ہوتی چلی جائیں گی اور پھر اسلامی ریاست کے قیام کے بعد اُس کے تحت اور امامِ شرعی کی اقتدا میں کفار کے خلاف قتال کو منظم کرنے کا مرحلہ بھی آئے گا (اِن شاء اللہ)۔

اس استدلال پر ایک اعتراض یہ وارد کیا جاتا ہے کہ اگر آج جدوجہد کے لیے مکی دور کو نظیر ٹھہرایا جائے تو پھر وہ حلت و حرمت کی تفصیلات جو شریعت میں تدریجی مراحل سے گزرنے کے بعد اپنی حتمی شکل کو پہنچ چکی ہیں‘ درہم برہم ہو جائیں گی‘ شراب و سؤر کی حلت و حرمت کا سوال اُٹھ کھڑا ہو گا ۔ اِس اشکال کو ایک معترض کی زبانی سنیے! ہم عبارت نقل کیے دیتے ہیں:

’’جب جہاد کے حتمی احکامات نازل کیے جا چکے تو اب کسی کو یہ حق نہیں کہ موجودہ دور کو مکی دور کے مثل قرار دے کر جہاد کو معطل کر دے‘ کیونکہ اِس طرح تو آج شراب و سود کی عدم حرمت کا سوال بھی کھڑا ہو جائے گا کہ مکی دور میں یہ بھی حرام نہ تھے۔ جبکہ ہمارے سامنے اللہ کا یہ حکم موجود ہے :(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا) (المائدۃ:۳) ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر میں رضا مند ہو گیا‘‘۔

الغرض ہمارے لیے شریعت کے حتمی احکام ہی حجت ہیں۔

یہ اعتراض خلط مبحث کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی نظیر یا مثال کا سوفیصد انطباق نہیں ہوتا‘ بلکہ کسی نسبت سے اُس کا اطلاق ہوتا ہے اور کسی پہلو سے نہیں بھی ہوتا ۔ اُسوۂ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات کی رعایت کے ساتھ عمل کرنا مقصود ہوتا ہے اور یہ عقل عام کی بات ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔

ارشا دِ باری تعالیٰ ہے:

(لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا) (المائدۃ:۴۸)
’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت دی اور ایک منہاج‘‘۔

اِس آیت میں دو غور طلب الفاظ وارد ہوئے ہیں‘ ایک شریعت اور دوسرا منہاج۔ آئیے دیکھتے ہیں لغت میں اس کے معنی کیا ہیں ‘ اِس آیت کی ماثور تفسیر کیا ہے اور سلف نے اِ س سے کیا مراد لی ہے۔ اِس نقطے کی تفہیم سے اِن شاء اللہ محولہ بالا اشکال کا جواب بھی حاصل ہو جائے گا۔

لفظ’’ الشِّرعۃ ‘‘ کے بارے میں علامہ آلوسی البغدادی ؒ لکھتے ہیں:

’الشِّرعۃ‘ بکسر الشین‘ و قرأ یحیی بن ثاب بفتحھا ’الشَّریعۃ‘ وھی فی الأصل الطریق الطاھر الذی یوصل منہ إلی الماء والمراد بھا الدین‘ واستعمالھا فیہ لکونہ سبب موصلا إلی ما ھو سبب للحیاۃ الأبدیۃ کما أن الماء سبب للحیاۃ الفانیۃ أو لأنہ طریق إلی العمل الذی یطھر العامل عن الأوساخ المعنویۃ کما أن الشریعۃ طریق إلی الماء الذی یطھر مستعملہ عن الأوساخ الحسیۃ(۶)
’’الشِّرعۃ شین کی زیرکے ساتھ ہے اور یحییٰ بن ثاب کی قرا ء ت میں زبر کے ساتھ ہے۔ اور اِس کے اصلی معنی ہیں ایسا صاف طاہر راستہ جو پانی تک پہنچتا ہو اور اِس سے مراد دین ہے‘ اور اِس کا آیت میں استعمال ان معنی میں کیا گیا ہے کہ دین سبب ہے حیاتِ ابدی کا جیسا کہ پانی سبب ہے حیاتِ فانی کا ۔یا یہ کہ یہ وہ راستہ ہے جو عامل کو ایسے عمل کی طرف لے کر جاتا ہے جو اُسے معنوی آلائشوں سے پاک کرتاہے‘ جیسا کہ شریعت اُس راستہ کو کہتے ہیں جو ایسے پانی کی طرف لے کر جاتا ہے کہ اُس کا استعمال کرنے والا حسی آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے‘‘۔

اب لفظ ’’منہاج‘‘ کے متعلق تفصیلات ملا حظہ ہوں:

’’مِنْہَاجًا‘‘ اسم آلہ مفردہے اور اس کا مطلب ہے کھلا ہوا راستہ‘ کشادہ راستہ‘ روش۔ نہج‘ منہج اور منہاج تینوں ہم معنی ہیں۔ نَہْجٌ باب فَتَحَ سے مصدر ہے اور مراد ہے راستہ کا کشادہ اور صاف ہونا اور اُس پر چلنا‘کپڑے کا پرانا ہونا ‘ کپڑے کو پرانا کرنا۔ اِس معنی میں باب سَمِعَ اور کَرُمَ سے بھی مستعمل ہے۔ انہاجٌ ’’لازم‘‘ بن کر بھی آتا ہے اور ’’متعدی‘‘ بھی ۔ یعنی اس کا مطلب کشادہ راستہ ہونا بھی ہے اور راستہ کشادہ کرنابھی ۔(۷)

ملاحظہ کیجیے کہ ائمہ سلف نے اس آیت کی تفسیر میں اِن الفاظ کے شرعی معنی کیا بیان کیے ہیں۔ امام ابن جریر طبری ؒ نے اس آیت کے ذیل میں کئی روایات جمع کی ہیں جن کے طرق مختلف ہیں مگر معنی میں اشتراک ہے۔ ہم یہاں ایک روایت نقل کرتے ہیں:

حدثنا ابن بشار ‘ قال ثنا عبدالرحمن بن مہدی ‘ قال ثنا مسعر عن ابی اسحاق عن التمیحی ‘ عن ابن عباس: لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا قَالَ سُنَّۃً وَ سَبِیْلًا(۸)
’’۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آیت(لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا) سے مراد سنت (یعنی شرعی طریقہ و حکم) اور سبیل (یعنی اس شرعی حکم اور طریقے پر چلنے کا رستہ) ہے‘‘۔

معلوم ہوا کہ شریعت اور منہاج میں فرق ہے ۔یہ دونوں الفاظ الگ الگ مفاہیم کی ادائیگی کے لیے وارد ہوئے ہیں مگر یہ فرق ایک ہی حقیقت یعنی دین کے دو پہلوؤں کے اظہار کے اعتبار سے ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اِ س آیت کے ذیل میں کافی و شافی کلام فرمایا ہے جس سے مدعا واضح ہوجاتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں:

و (الحقیقۃ) حقیقۃ الدین‘ دین ربّ العالمین ھی ما اتفق علیھا أنبیاء والمرسلون‘ وإن کان لکل منھم شرعۃ ومنہاج فالشرعۃ ھی الشریعۃ قال اللہ تعالیٰ: (ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ o اِنَّہُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئا ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍج وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ) (الجاثیۃ) ۔ (والمنہاج) ھو الطریق قال تعالیٰ: (وَاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنَاہُمْ مَّآءً غَدَقًا لِّنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ ط وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا) (الجِنّ) فالشرعۃ بمنزلۃ الشریعۃ والمنہاج ھو الطریق الذین سلک فیہ والغایۃ المقصود ہی حقیقۃ الدین وھی عبادۃ اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ وھی حقیقۃ دین الاسلام (۹)
’’حقیقۃ سے مراد حقیقتِ دین ہے‘ یعنی اللہ ر بّ العالمین کا دین۔ یہ وہ دین ہے جو تمام انبیاء اور رسولوں fکے درمیان متفق چلا آ رہا ہے باوجود اِس کے کہ اُن سب کے لیے شریعت اور منہاج علیحدہ علیحدہ تھے۔ پس ’ الشرعۃ‘سے مرادشریعت ہے‘ جیسا کہ فرمانِ باری ہے:’’ پھر ہم نے رکھا آپ کوایک شریعت پر اس کام میں تو اسی کی پیروی کیجیے‘ اور ہرگز نادان لوگوں کی خواہشات کی پیرو ی مت کیجیے ۔ وہ کام نہ آئیں گے آپ کے اللہ کے سامنے کچھ بھی‘ اور بے شک ظالم تو ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘اور اللہ دوست رکھتا ہے متقین کو‘‘۔اور’منہاج ‘ سے مراد ہے طریقہ کار‘ راستہ۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے :’’اگر لوگ سیدھے طریقہ پر رہتے تو ہم اُنہیں پلاتے پانی بھر کر‘ تا کہ ہم اُن کو اس کے ذریعہ چانچیں ۔اور جو کوئی منہ موڑے اپنے ربّ کی یاد سے تو وہ اُس کو چلا دیتا ہے چڑھتے ہوئے عذاب میں‘‘۔پس شرعۃسے مراد شریعت ہے اور منہاج سے مراد وہ طریقہ کار ہے جس پر چل کر غایت مقصود حاصل کیا جاتا ہے جو کہ حقیقت دین ہے اور یہ حقیقت اصلاً اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی کا نام ہے‘‘۔

اِسی طرح کئی اور مقامات پر امام ابن تیمیہؒ نے واضح کیا ہے کہ شریعت الگ ہے اور طریقہ کار الگ ہے۔ اور یہ تمام انبیاء ؑ کے لیے مختلف رہی ہیں‘ مگر دین کی حقیقت جو کہ عبادتِ ربّ واحد ہے ‘وہ تمام انبیاء اور رُسل ؑ کے ما بین متفق رہی ہے۔ شریعت بحث کرتی ہے حلا ل و حرام سے ‘جائز و ناجائز سے ‘اشیاءِ استعمال کے مستحب و مکروہ ہونے سے ‘جبکہ منہاج اُس طریقہ کار‘ اُس حکمت عملی‘ اُس راستہ اور منہج کو کہتے ہیں جس پر کار بند ہوکراللہ کی بندگی‘اظہارِ دین اور اعلا ءِ کلمۃ اللہ کی جدوجہد کی جاتی ہے۔ یہاں پہنچ کر بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج اقامت دین کے لیے رسول اللہ ﷺ کے دیے گئے دو مراحل منہج میں سے کسی کے اختیار کرنے سے شریعت کے معطل ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بے شک شریعت مکمل ہو چکی ‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا)

یعنی آج منہج نبویؐ کے مرحلۂ دعوت پر عمل کرنے کے باوجود شریعت کے حلال و حرام پر کوئی فرق واقع نہیں ہو گا۔ آج ہمارے لیے شر یعت کے وہی احکام حجت ہیں جو تدریجی مراحل سے گزرنے کے بعد اپنی تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ بالکل دوسری بات ہے کہ آج شریعت کے بہت سے احکام پر ہمارے ہاں عمل نہیں۔ خاص طور پر شریعت اسلامی کا وہ حصہ جو ریاست سے متعلق ہے ۔ جیسے نفاذِ حدود ‘ نظامِ صلاۃ ‘ نظامِ زکوٰۃ ‘ کفار کے خلاف شرعی قتال یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا قیام‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکر بالید ‘ حرمتِ سود ‘ کفارسے جزیہ کامطالبہ وغیرہ ۔کوئی مانے یا نہ مانے تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم اپنے ربّ کے ان احکام پر اجتماعی طور پر عمل کرنے سے عاجز ہیں۔ اس کا تدارک صرف اسی طرح ممکن ہے کہ ہم اس فرمانِ حقیقت بیان کی روشنی میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدو جہد کریں۔ حضرت امام مالکؒ نے فرمایاتھاکہ: لَن یصلح آخر ھذہ الأمۃ الا بما صلح بہ أولھا، اور منہج انقلابِ نبویؐ کی رو سے جدوجہد کی ترتیب میں مکی دَور مقدم ہے اور اسی کا ثمر ریاست مدینہ کے نام سے معروف ہے۔

نصوص سے غلط استدلال

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آج اصل اعتبار قرآن مجید سے استنباطِ احکام کے وقت عمومِ لفظی کا ہوگا نہ کہ سبب خصوصی کا ۔ العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب ۔مگر یہ قاعدہ احکامِ شریعت سے متعلق ہے نہ کہ استخراجِ منہج سے۔ استخراجِ منہج میں تواصل اعتبار ترتیب نزولی کا ہے اور یہ بات اتنی سامنے کی ہے کہ اس کے لیے دلائل دینے کی ضرورت نہیں۔

آج ایک خاص طرح کے لٹریچر میں جہاں بہت سے اصولی اور علمی خلط مبحث پائے جاتے ہیں، اُ ن میں سب سے خطرناک اور کثرت سے پائی جانے والی خامی نصوص کا بے موقع انطباق ہے۔ یعنی آیا تِ قرآنی ‘ احادیث نبویؐ ‘ فتاویٰ و اقوالِ سلف کو سیاق و سباق ‘ ظروف و احوال سے کاٹ کر یکسر بے محل پیش کیا جاتا ہے‘جو کہ نتیجہ ہے اُس حد سے بڑھی ہوئی جذباتیت‘ انتقامی جذبات اور عالم کفر کی طرف سے ڈھائے جانے والے مسلسل ظلم و جبر کا‘ جس کے نتیجہ میں ہمارے یہ بھائی موجودہ پستی کی کیفیت سے باہر آنے اور غلبۂ اسلام کے لیے منہج و طریقہ کار پر سنجیدہ غور و فکر کے لیے تیار ہی نہیں۔ اور زبانِ حال سے کہہ رہے ہوتے ہیں : ع

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے!

اور : ؂

نصیحتم چہ کنم ناصحاچہ میدانی
کہ من نہ معتقد مردِ عافیت جوییم

مگر یہ الزام درست نہیں ‘کیونکہ ہم مفاہمت یا عافیت جوئی کی تعلیم نہیں دے رہے ‘بلکہ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی نبوی حکمتِ عملی کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ 

مفہوم اور مرادِ متکلم کے اخذ کرنے میں سیاق و سباق اور احوال و ظروف کی حد درجہ اہمیت ہے ۔ اس بات کا اندازہ ہم ایک سادہ سی مثال سے لگا سکتے ہیں۔ ایک شخص کہتا ہے ’’ پانی لاؤ‘‘۔ اب اگر وہ شخص یہ جملہ کھانے کی میز پر ادا کرے گا تو آپ اُس کو پانی کا ایک گلاس لا دیں گے۔ اگر یہی جملہ غسل خانے سے کوئی پکار کر کہے تو آپ بالٹی بھر پانی کا اہتمام کر یں گے اور اگر یہی جملہ کوئی وضو خانے میں کہے تو آپ اُسے پانی کا ایک ظرف فراہم کر دیں گے۔غور طلب بات یہ ہے کہ جملہ ایک ہی ہے مگر محل و مقام کے بدلنے سے تعمیل حکم میں کتنا فرق واقع ہوتا ہے! اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سیاق و سباق اور احوال و ظروف اور مزاج و لہجے کا متکلم کی مراد کو سمجھنے میں کتنا حصہ ہے۔

سیاق و سباق سے کاٹ کر نصوص کو پیش کرنے کے حوالے سے ہم ایک روایت کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ عصر حاضر کے جہادی لٹریچر میں آپ کو بخاری و مسلم سے مروی یہ حدیث نبویؐ جابجا ملے گی:

((اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ)) (صحیح مسلم)
’’ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک روایت کا جزو ہے نہ کہ مکمل حدیث۔ اب آپ مکمل حدیث نبویؐ کا مطالعہ فرمائیں اور اندازہ لگائیں کہ سیاق و سباق کے ساتھ اِس حدیث کا کیا مفہوم ہے اور سیاق و سباق سے کاٹنے کے بعد اس کے معنی میں کیا فرق واقع ہوتا ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے:

((یَا اَیُّھَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْاَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ‘ فَاِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ)) (۱۰)
’’ اے لوگو! دشمن سے لڑنے کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔ پس جب لڑنے کی نوبت آہی جائے تو ڈٹ جاؤ(بھاگو نہیں) اور یہ جان رکھو کہ بہشت تلواروں کے سائے تلے ہے۔(یعنی شہید ہوتے ہی داخل جنت ہو گے)‘‘۔

اِس طرح کے لٹریچرکا ایک اور خاصہ یہ ہے کہ اِس میں ائمہ‘سلف کے فتاویٰ کو اُن کے پورے استدلال سے کاٹ کر الگ اور بے محل پیش کیا جاتا ہے‘ بغیر اِس پر غور کیے کہ صاحبِ فتویٰ نے یہ فتویٰ کن حالات میں اور کن امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیا تھا۔اِس لیے ضروری ہے کہ فتوے کی شرعی حیثیت اور اُن عوامل کو دیکھ لیا جائے جن کا ایک مفتی فتویٰ دیتے وقت لحاظ رکھتا ہے۔ اِس سے یہ بات صاف واضح ہوجاتی ہے کہ اسلاف میں سے کسی کے فتویٰ سے منہج کے لیے دلیل پکڑنا درست نہیں‘ کیونکہ منہج کا تعلق اپنے زمانے کے خاص حالات سے ہوتاہے۔ منہج کے تعین میں فیصلہ کن عامل کی حیثیت وقت کے عرف و عادت اور مصالح مرسلہ کو حاصل ہے۔اسی لیے اہل علم کے ہاں مشہور ہے کہ: من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھلٌ۔کہ ’’جو شخص اہل زمانہ کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے‘‘ ۔اور عالم کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ: ان یکون بصیرًا بزمانہ کہ وہ اپنے زمانے کی بصیرت رکھتا ہو۔علامہ شامی کا شعر ہے: ؂

والعرف فی الشرع لہ اعتبار
لذا علیہ الحکم قد یدار
’’عرف کا شریعت میں اعتبار ہے ‘اس لیے کہ اِس پر حکم کا مدار رکھا جاتا ہے‘‘۔

دکتور عبدالکریم زیدان (استاذ الفقہ المقارن ‘ جامعہ صنعاء) نے اپنی شاہکار تألیف ’’اصول الدعوۃ‘‘ میں باب نظام الافتاء کے تحت اِس موضوع پر عمدہ بحث کی ہے‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ فتویٰ کا خاص تعلق احوال‘ امکنۃازمنۃ‘ ظروف اور مستفتی کے حالات سے ہوتا ہے اور یہ فتویٰ اِن امور کے بدلنے سے بدلتا رہتا ہے ۔یعنی والفتویٰ قد تتغیر بتغیر المکان والزمان(۱۱) قواعد فقہ کی کتب میں یہ قاعدہ کلیہ مسلّمہ حیثیت کا حامل ہے کہ: 

والحکم یدورمع العلۃ وجودًا و عدمًا۔ ’’حکم کا مدار وجوداً اور عدماً علت پر رہے گا‘‘۔

علامہ ابن عابدین الشامی ’’عقود رسم المفتٰی‘‘ میں رقم طراز ہیں: 

إن کثیرًا من الاحکام التی نص علیہ المجتھد صاحب المذہب بناء علی ما کان فی عرضہ وزمانہ قد تغیرت بتغیر الازمان بسبب فساد اھل الزمان أو عموم الضرورۃ کما قد مناہ من افتاء المتأخرین (۱۲)
’’یقیناًبہت سے احکام جن کی تصریح صاحب مذہب مجتہد نے اپنے عرف اور اپنے زمانہ کے احوال پر بنیاد رکھتے ہوئے کی تھی وہ زمانہ کے بدلنے کی وجہ سے بدل جاتے ہیں اور یہ تبدیلی یا تو لوگوں میں بگاڑ پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے یا عمومی ضرورت کا لحاظ پیش نظر ہوتا ہے ‘جیسا کہ ہم متأخرین کے فتاویٰ کے ذیل میں پہلے بیان کر چکے ہیں ‘‘۔

ان تصریحات سے جہاں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خاص حالات میں دیے گئے فتاویٰ سے منہج کے لیے آج استدلال کرنا درست نہیں ‘وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلم ممالک میں ہر جگہ ایک ہی منہج کو اختیار کرنا بھی ضروری نہیں۔ جیسا کہ بعض ممالک براہِ راست کافر اورغیر ملکی افواج سے اپنی حریت و آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہاں فوری ضرورت کے پیش نظر مرحلۂ دعوت کا التزام کارگر نہیں ہے۔

آخر میں ہم مولانا سید ابو الا علیٰ مودودیؒ کی وہ نصیحت نقل کر تے ہیں جو آپ نے بزبانِ عربی‘ عرب ممالک کے نوجوانوں کو حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں ۱۳۸۲ھ میں فرمائی تھی۔ اس نصیحت کے ایک ایک حرف کو بغور پڑھنے کی ضرورت ہے ۔جب مولانا مرحوم نے یہ تقریر فرمائی تھی تو اُس وقت سے زیادہ شاید آج مسلمانوں کو اس رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ہم اِس تقریر کا ایک جزو نقل کیے دیتے ہیں:

’’اِس سلسلے میں اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انہیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحہ کے ذریعہ سے انقلاب بر پا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے(۱۳) ۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعہ بر پا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے‘ بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے‘ لوگوں کے خیالات بدلیے‘ اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے۔ اِس طرح بتدریج جو انقلاب بر پا ہو گا وہ ایسا پائیدار اور مستحکم ہو گا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کر سکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا اسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا۔‘‘ (۱۴)


حوالہ جات

۱) البرھان فی علوم القرآن ۲/۳۳۔ 

۲) البرھان فی علوم القرآن ۲/۴۲۔

۳) الطبری ۱۸/۳۲۴۔

۴) البرھان فی علوم القرآن ۲/ ۴۲‘ ۴۳۔

۵) حدیث میںآتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے دیہاتی غرباء کی وجہ سے یہ حکم دیا تھا کہ : ((اِدَّخِرُوْا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوْا بِمَا بَقِیَ))’’تین دن کا گوشت ذخیرہ کر لو اور باقی گوشت صدقہ کر دو‘‘۔ اس کے بعد لوگوں نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ ! لوگوں نے تو اپنی قربانی سے مشکیزے بنا لیے ہیں اور اُن میں چربی کی چکناہٹ مل رہے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ اس پر لوگوں نے آپﷺ کا گزشتہ حکم بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا :((اِنَّمَا نَھَیْتُکُمْ مِنْ اَجَلِ الرَّاْفَۃِ فَکُلُوْا وَادَّخِرُوْا وَتَصَدَّقُوْا))’’میں نے تو صرف اُن آنے والے غربا ء کی سہولت کی وجہ سے تمہیں منع کیا تھا۔ اب تم کھاؤ ‘ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو‘‘۔ مسلم ۱۹۸۱۔ واحمد ۶/۵۱۔ وابوداوٗد ۲/۲۸۔ والنسائی ۸/۲۳۵۔

۶) تفسیر روح المعانی للعلامۃ شہاب الدین آلوسی البغدادی ص۱۵۳ج ۶ آیت ۴۸ سورۃ المائدۃ۔

۷) تاج العروس‘ لغات القرآن جلد پنجم ص ۴۶۴۔

۸) رقم : ۹۴۶۷ص ۳۳۶المجلد الرابع جامع البیان عن تاویل آی القرآن للام ابن جریر طبریؒ ۔

۹) مجموع الفتاوی للشیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ ۱۱/۲۱۸‘۲۱۹۔

۱۰) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب کان النبیﷺ اذا لم یقاتل اول النھار آخر القتال۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب کراھۃ تمنی لقاء العدو والامر بالصبر عند اللقاءِ۔

۱۱) اصول الدعوۃ لدکتور عبدالکریم زیدان‘ ص۱۲۹‘۱۸۰بیروت۔

۱۲) عقود رسم المفتی لابن عابدین الشامی ص۳۸۔

۱۳) ظاہر ہے یہ ہدایت مولانا نے آج کے خاص حالات کے حوالے سے فرمائی ہے ورنہ اسلام میں مسلح کارروائی چند شرائط کے ساتھ کوئی ممنوع شے نہیں۔ (مضمون نگار)

۱۴) ماخود از تفہیمات حصہ سوم سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ ’’ دُنیائے اسلام میں اسلامی تحریکات کے لیے طریق کار۔‘‘

اسلام اور عصر حاضر

(ستمبر ۲۰۱۱ء)

ستمبر ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۹

دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قومی ہم دردی اور ہم
مولانا محمد بدر عالم

مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال
مولانا محمد وارث مظہری

عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد
اویس پاشا قرنی

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

حافظ صفوان محمد کے جواب میں
طلحہ احمد ثاقب

جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں
پروفیسر خالد شبیر احمد

مکاتیب
ادارہ

Flag Counter