دعوت ِ دین میں درپیش چیلنجز اور علماءکی ذمہ داریاں

ڈاکٹر محمد اکرم ورک

 اصلاح ِ احوال کے ذمہ دار طبقات میں جن دو طبقات کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے ان میں علماءکرام اور حکمران طبقہ خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں ۔مجموعی انسانی رویوں کی تشکیل میں ان دو طبقات کا کردارسب سے اہم ہے۔ اگر کسی معاشرے کا دانشور طبقہ(Intellectuals) بد دیانت ہوجائے تو پھر اس معاشرے کی اصلاح کی امیدیں دم توڑ نے لگتی ہیں ۔اس پس منظر میں دانشور طبقے کی اہمیت اور ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ سماجی اور معاشرتی سطح پر اصلاح ِ احوال کے لئے اپنے دور کی تفہیم اور در پیش تحدّیات کا ادراک اہل ِ علم کے لئے ضروری ہے ۔ اس وقت ہمارے پیش ِ نظر ان تحدّیات کا جائزہ پیش کرنا ہے جو داعیان ِ اسلام کو دعوت ِ دین میں در پیش ہیں۔اس سلسلے میں ہماری معروضات حسب ِ ذیل ہے:


دعوت ِ دین میں درپیش خارجی چیلنجز

۱۔ اسلام کی عالمگیر یت :

اسلام نے اپنی دعوت کا آغاز ایک عالم گیر دین کی حیثیت سے کیا ہے، اس دین کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں خود اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف”رب العالمین“ اپنے رسول کا ”رحمۃ للعالمین“ جیسے اوصاف سے کروایا ہے ،اور پھراپنی آخری کتاب قرآن مجید کو ”ھدی للناس“کہہ کر اس کی عالمگیر یت اور آفاقیت کو نمایاں کیا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے ،قرآن مجید پوری انسانیت کے لئے صحیفہ ہدایت ہے، اسی طرح رسول اللہﷺ کی نبوت و رسالت بھی عالمگیر (Global) ہے ۔پیغمبر نے صلح حدیبیہ (۶ھ) کے بعد شاہان ِ عالم کے نام دعوتی خطوط روانہ فرما کر اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ اسلام کا پیغام پوری انسانیت کے لئے ہے ،لیکن بدقسمتی سے مسلمان دور ِ حاضر میں اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے رسالتِ محمدی ﷺ کی آفاقیت اور ہمہ گیریت کو اس طرح نمایاں نہیں کرسکے جس طرح کہ آپپر ایمان لانے کا حق تھا۔ شاید یہ کہنا کسی حد تک درست ہو کہ اس وقت دیگر اقوام بالخصوص مغر ب میں اسلام اور رسول اللہﷺ کی سیرت کے حوالے سے جو غلط فہمیاں پائی جارہی ہیں اس کا ایک سبب خود مسلمان اور ان کا کردار بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو محسن ِ انسانیت اور رحمةللعالمین بنا کر مبعوث کیا ، آپ کی بعثت کے نتیجے میں سسکتی ہوئی انسانیت کووہ زریں اصول عطاہوئے ،جن کو اپنا کر عرب قعر مذلت سے نکل کر اوجِ ثریا پر جا پہنچے۔اس وقت عالم ِ انسانیت جس روحانی کرب اور معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں میں مبتلاءہے اس کا واحد حل صرف اسلام کے پاس ہے۔  سیاسی اور معاشرتی سطح پر جاگیر داری نظام(Feudalism) اور سوشلزم(socialism) کے ناکام تجربات کے بعد کیپیٹلزم (Capitalism) نے انسانیت کو تباہی کے جس دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اس کے بعد اسلام ہی بنی نو ع انسان کے لئے واحد آپشن کے طور پر باقی بچتا ہے ، اب توخود مغرب کا دانشور طبقہ بھی اس حقیقت کااعتراف کر رہا ہے۔ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے اپنے ایک مضمون "Islam and the west" میں مغربی دانشوروں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک متبادل نظام کے طور پر اسلام کا مطالعہ کریں ، لیکن ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ اسلام کو عالمگیر دین سمجھنے والے مسلمان دانشور عصری احوال و ظروف میں دین ِ اسلام کو متبادل بیانےے کے طورپر پیش کرنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہےں۔مسلمان اہل ِ علم کی علمی تگ و تاز کے میدان دیکھتے ہوئے تو یہی واضح ہو تا ہے کہ وہ اسلام کے عالمگیر اور پوری انسانیت کا دین ہونے کے تصور سے عملاً دستبردار ہو چکے ہیں،یہ اپروچ کسی المےے سے کم نہیں ہے ۔ دورِ حاضر میں داعیان ِ اسلام کے لئے ایک بڑا چیلنج تویہی ہے کہ وہ اسلام کی آفاقیت کے تصور کو دوبارہ سے دریافت کریں۔

۲۔ سیکو لرازم :

کہنے کی حد تک تو سیکولرازم (Secularism) سے مراد لادینیت ہے ،لیکن عملاً مغربی فکرو فلسفے کی بنیاد پر پروان چڑھنے والاسیکولرازم بذات ِ خود ایک دین اور عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔مغربی تہذیب نے گذشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقاءکا کٹھن سفر طے کیا ہے،مسلسل فکری ارتقاءاور تہذیبی تجربات کے نتیجے میں ان کے ہاں کئی تصوّرات اور نظریات اب مسلمہ عقائد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔اہل ِ مغرب اب ان نظریات پرکوئی سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔مغرب نے سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی حوالے سے جو تجربات کئے ہیں اس کے نتیجے میں ان کے ہاں یہ سوچ پختہ ہو چکی ہے کہ انسانیت اپنے سماجی ارتقاءکی آخری سیڑھی پر قدم رکھ چکی ہے ۔مغرب میں "The End of History"کے عنوان سے لکھی جانے والی کتب اسی سوچ کی مظہر ہیں کہ مغربی فکر وفلسفہ کے نفاذ میں ہی انسانیت کی بقا ہے ۔مغرب کو اسلام کی ان تعلیمات سے کوئی سروکار نہیں ہے جن کا تعلق انسان کی نجی اور انفرادی زندگی سے ہے ،لیکن وہ مسلمانوں کو یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں کہ وہ نظام ِ خلافت کی بات کریں اور اجتماعی زندگی میں مذہب کے کردار کی دعوت دیں ۔

 مغربی فکروفلسفہ کی بنیاد عقل پر ہے، دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے مغرب کا خدا عقل ہے ،اور صرف وہی چیز ان کے ہاں قابل ِ قبول ہے جو عقلی اصولوں پر ثابت ہو ۔ مسلمان اہل ِ علم کو اس حقیقت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت مغرب سیکولرازم انسانوں کا مقبول ِ عام مذہب بن چکا ہے ، جبکہ اس کے بالمقابل مذاہب ِ عالم اپنی غیر عقلی اور غیر فطری تعلیمات کی وجہ سے محض تاریخ بنتے جا رہے ہیں ۔ اس پس منظر میںعلماءکرام پر لازم ہے سیکولرازم کے بنیادی سوالات کا سامنا کریں ۔ سیکولرازم کے بنیادی سوالات (۱) انسانی حقوق(۲)دین اور سیاست کا باہمی تعلق (۳)مرتد کی سزا (۴)آزادی نسواں (۵)آزادی اظہارِ رائے (۶) جمہوریت (۷) جہاد (۸)مذہبی رواداری اور اسی نوعیت کے دیگر موضوعات سے متعلق ہیں۔مغرب کے فکری چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے علماءکرام کے لئے ضروری کہ وہ دینی احکام کے اسرارو حکم کو نئے سرے سے دریافت کریں۔دور ِ حاضر میں دینی احکام کی عقلی تعبیر دعوت ِ دین میں ”اصول ِ حکمت“ کا بنیادی تقاضا ہے ۔اس حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی شہرہ آفاق کتاب” حجة اللہ البالغہ“اور اس جیسی دیگر کتب سے استفادہ کی ضرورت ہے۔

داعیا نِ اسلام کے لئے ان اسباب اور وجوہات کا ادراک بھی لازم ہے جن کی وجہ سے مغرب میں دین سے نفرت پیدا ہوئی، مذہب کے حوالے سے اہل ِ مغرب کی نفسیات کو سمجھنے کے لئے یورپ کے دور ِ تاریک (Dark Ages) میں کلیسیا اور علم جدید میں تصادم کی تاریخ پر گہری نظر ضروری ہے ، اس دور کی درست تفہیم سے ہی ہمیں مغرب میں عیسائیت سے لوگوں کی نفرت کی وجوہات کا اندازہ ہو سکے گا اورہم جان پائیں گے کہ کس طرح عیسائیت کی غیر عقلی اور غیر فطری تعلیمات، پوپ کے خدائی اختیارات، مذہب اور سائنس کا تصادم ،پوپ کی حکمران طبقے کی ناجائز حمایت وغیرہ نے عام لوگوں کو عیسائی مذہب سے متنفر کیا۔ لازم ہے کہ علماءکرام دلائل سے واضح کریں کہ عیسائیت اور اسلام میں کیا فرق ہے ؟اور بتائیں کہ جن وجوہات کی بنا پر مغرب میں لوگ مسیحیت سے متنفر ہوئے ان کے بارے اسلام کا موقف کیا ہے ؟نیز مسیحیت میں پوپ اور علمائے اسلام کی دینی حیثیت میں فرق واضح کرنا بھی ضروری ہے۔ داعیان ِ اسلام پرلازم ہے کہ مذاہب کے تقابلی مطالعے کے ساتھ مغربی فکرو فلسفہ کا تجزیاتی مطالعہ بھی کریں اور مغربی فکرکی اصولی غلطیوں کو واضح کریں۔

۳۔ بین المذاہب ہم آہنگی :

مذہبی تکثیریت پر مبنی معاشروں میں مسلمانوں کاطرز ِ عمل کیا ہو نا چاہےے؟اس حوالے سے اسلام اپنی شاندار تاریخ رکھتا ہے ۔ اسلام اس دعوے کے ساتھ کھڑا ہے کہ دین میں کو ئی جبر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرت ِ سلیمہ پر پیدا کیا ہے اور ہدایت اور راہنمائی کے لئے اسے عقل جیسی نعمت سے سرفراز کیا ہے اور پھر مزید مہربانی یہ فرمائی کہ اسے حق کی یاد دہانی کے لئے تسلسل کے ساتھ انبیاءکرام کو مبعوث فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے خیرو شراورحق وباطل کے انتخاب میں انسان کو اختیار دیا اوریہی بنی نوع ِ انسان کی آزمائش ہے ۔اس امکان کو تسلیم کرلینے کے بعد کہ مختلف اسباب کی بنا پر تمام لوگ خدا پر ایمان لانے والے نہیں ہونگے ، اسلا م لوگوںکے اس حق کو تسلیم کرتا ہے۔یہ وہ تناظر ہے جس میں اسلام مذہبی رواداری اور آزادی اظہارِ رائے کا داعی ہے۔ اسلام بین المذاہب ہم آہنگی (Inter-Faith Dialogue) اور اقوام کے ساتھ تعمیری تعلقات کے حوالے سے واضح راہنمائی فراہم کرتا ہے ۔قرآن مجید نے دیگر قوموں کے ساتھ مکالمے کے جو بنیادی اصول بیان کئے ہیں وہ یہ ہیں : (اُدعُ  اِلِی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالحِکمَۃِ وَالمَوعِظَۃِ الحَسَنَۃِ وَجَادِلہُم بِالَّتِی ھِیَ اَحسَنُ) (1) (آپ لوگوں کو اپنے پروردگارکی طرف حکمت اوراچھی نصیحت سے بلائیے اوران کے ساتھ پسندیدہ طریقہ سے بحث کیجئے۔)میثاق ِ مدینہ ،معاہدہ نجران اورعہد ِ خلافت ِ راشدہ میں غیر مسلموں سے کئے گئے سیاسی معاہدات ہمارے دعویٰ کی سب سے بڑی دلیل ہیں ۔شاہان ِ عالم کے نام رسول اللہ ﷺ کے دعوتی خطوط اس حوالے سے ہمارے لئے راہنمائی کا بڑا ذریعہ ہیں ۔اسلام کے اصول ِ دعوت میں موعظہ حسنہ اور مجادلہ کے ساتھ مکالمہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ویسے بھی سماجی مقاطعہ (Social Boycott) کی نفسیات ان گروہوں میں پائی جاتی ہے جن کو اپنی دلیل کی طاقت پر اعتمادنہیں ہوتا ۔تاریخ گواہ ہے کہ قریش ِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ کا مقاطعہ کیا تھا ،اس لئے کہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کے دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا،آپ تو ان سے گفتگو کے مواقع تلاشنے میں لگے رہتے تھے۔

دیگر قوموں کے برعکس بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ ہمیشہ قابل ِ ستائش رہا ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں یہود و نصاریٰ میں سے جس گروہ کو بھی سیاسی غلبہ حاصل ہوا اس نے دوسرے فریق پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑدےے، لیکن مسلمانوں کے سیاسی اور تہذیبی غلبے کے دور میں دونوں گروہوں نے اسلام کے زیر سایہ ہی امن و سلامتی کے ساتھ رہنا سیکھا ۔ برّصغیر کے مسلمان تو اس حوالے سے اوربھی منفرد تاریخ رکھتے ہیں ،یہ حقیقت کچھ کم تعجب انگیز نہیں ہے کہ تقریباً بیس(۲٠) فیصد لوگ محض اپنی رواداری اور برداشت کے رویے کی وجہ سے اسی (۸٠)فیصد لوگوں پر صدیوں تک حکومت کرتے رہے ۔رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے : ﴿قُل یَا اَہلَ الکِتَابِ تَعَالَوا الَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَینَنَا وَبَینَکُم اَلاَّ نَعبُدَ الاَّ اللّہَ وَلاَ نُشرِکَ بِہِ شَیئاً﴾ (2) (آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل ِ کتاب ! ایسے قول کی طرف آ جاو جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں)،دور ِ حاضر میں مسلمانوں کی بد قسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی تو بڑی دور کی بات ہے، بین المسالک ہم آہنگی کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکے ہےں ۔مذاہب ِ عالم سے ہم آہنگی کے حوالے سے داعیان ِ اسلام کے لئے حضور ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی کا مطالعہ اس نقطہ  نظر سے از بس ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ آپ کا غیر مسلموں کے رویہ کیا تھا ؟ اورمدنی ریاست میں تمام گروہوں کو جو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی اس کی حدود اور اصول وضوابط کیا تھے؟

داعیان ِ اسلا م پر لازم ہے کہ وہ منکر اور گستاخ میں فرق کو ملحوظ رکھےں ، اہم سوال یہ ہے کہ کیا غیر مسلم ہماری دعوت کا مخاطَب ہے یا نہیں؟ اگر تمام غیر مسلم ہماری دعوت کے مخاطَبین ہیں تو پھر سماجی مقاطعہ چہ معنیٰ دارد؟ مملکت خداد پاکستان میں آئینی طور پر تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے تو پھر جوزف کالونی ،مریم آباد اور فرانسیس آباد جیسی مذہبی بنیادوں بننے والی آبادیوں کا وجود میں آنا کیاہمارے غیر متوازن رویے کا آئینہ دار نہیں ہے؟ رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ تو یہ ہے کہ آپ غیر مسلموں کو کھانے دعوت پر بلاتے تھے اور ان کی دعوت قبول بھی کرلیتے تھے۔ آپ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہو گئے اور ایک یہودی کا بچہ آپ کے خدمت گاروں میں بھی شامل تھا ۔ آپ نے مسجد ِ نبوی میں ِنجران کے عیسائی وفد کو اجازت دی کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں ۔ ان چند مثالوں کو ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ داعیان ِ اسلام اپنے اسلوب ِ دعوت پر غور کریں ، اور اس حقیقت کا ادراک کریں کہ چند ہزار صحابہ کرام ؓ نے تو ایک صدی بھی مکمل نہ ہونے پائی تھی کہ اسلام کے پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچادیا ،اور آج کروڑں مسلمان اور بلامبالغہ لاکھوں داعیان ِ اسلام اس مشن میں ناکام کیوں ہیں ؟

۴۔ روز مرہ کی زبان :

دعوت ِ دین میں ہم زبانی کی اہمیت شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔رسول اللہﷺ کے نزدیک دعوت ِ دین اور مکالمہ بین المذاہب کے لئے مخاطَب کی زبان سے واقفیت کی اہمیت کیا ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے مختلف صحابہ کرام ؓ کودوسری قوموں کی زبانیں سیکھنے کا حکم دیا ، کیونکہ دعوت وتبلیغ اور باہمی مکالمہ میں تاثیر اور قوت اسی وقت پیداہوسکتی ہے جب داعی اور مدعو کی زبان ایک ہو۔ ہم زبانی سے اُنسیت میں اضافہ ہوتاہے،اجنبیت دور ہوجاتی ہے اور گفتگو کا مقصد آسانی سے سمجھا اور سمجھایا جا سکتاہے ۔اسی ضرورت کے پیش ِ نظر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن ثابتؓ (م ۴۴ھ) کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا ،تاکہ یہود سے انہی کی زبان میں گفتگو کی جاسکے اور ان کے خطوط کا جواب دیاجاسکے۔حضرت زید بن ثابت ؓ کا بیان ہے:”فتعلّمت کتابھم مامرّت بی خمس عشرة لیلۃ حتی حذقتہ وکنت اقراءلہ کتبھم اذا کتبوا الیہ واجیب عنہ اذا کتب“ (3) ”پس میں نے ان کی زبان میں لکھنا سیکھ لیا، ابھی پندرہ دن نہیں گزرے تھے کہ میں اس میں ماہر ہو گیا۔ جب یہودی کوئی خط آپ کی طرف لکھتے تو میں آپ کو پڑھ کر سنا دیتا اور اگر آپ کو جواب لکھنا ہوتا تو میں وہ لکھ دیتا۔“ ایک روایت میں ہے کہ ایک ایرانی عورت حضرت ابو ہریرہؓ (م ۵۸ ھ) کی خدمت میں استغاثہ لے کر آئی کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب مجھ سے میرا بیٹا بھی چھیننا چاہتاہے اس عور ت نے یہ ساری گفتگو فارسی زبان میں کی اور ابو ہریرہؓ نے بھی اس سے اسی زبان میں گفتگو کی اور پھر آپؓ نے بچہ عورت کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔(4) ان واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ نے دوسری قوموں کی زبانیں صرف اس غرض سے سیکھ رکھی تھیں، تاکہ ان سے براہ راست تبادلہ  خیال کرکے ان کے مسائل کو حل کیاجاسکے۔ بعض روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن مجید کے بعض اجزا کادوسری زبانوں میں ترجمہ بھی کیا تھا، تاکہ عربی زبان سے ناواقف لوگ اسلام کی حقیقی روح اور تعلیمات سے محروم نہ رہ جائیں ۔چنانچہ علامہ سرخسیؒ (م ۴۹٠ھ) لکھتے ہیں: ”ان الفرس کتبوا الی سلمانؓ ان یکتب لھم الفاتحۃ بالفارسیۃ فکانوا یقرءون ذالک فی الصلوۃ حتیٰ لانت السنتھم للعربیۃ“ (5) ”بعض نو مسلم ایرانیوں نے حضرت سلمان ؓکی خدمت میں لکھا کہ ان کے لیے سورہ فاتحہ کو فارسی میں نقل کر دیا جائے، چنانچہ وہ لوگ (اسی ترجمہ کو)نماز میں پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ عربی سیکھ گئے ۔“اسی واقعے کو ڈاکٹر حمیداللہ ؒنے ”النہایة حاشیة الھدایة “ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ (م ۳۳ھ) نے رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے یہ کام انجا م دیا اور ان کے ترجمے کا ایک جز بھی نقل کیاہے ،”بنام خداوند بخشا یندہ مہربان “ یہ بسم اللہ کا ترجمہ ہے۔ (6) شاہان ِ عالم کی طرف بھیجے جانے والے نبوی سفراءکا معجزانہ طور پر انہیں قوموں کی زبان میں گفتگو کرنے لگ جانا بھی دعوت وتبلیغ اور مکالمے میں ہم زبانی کی اہمیت کو واضح کرتاہے۔ (7) اس کے علاوہ جن صحابہ کرام ؓ کو رسول اللہﷺ نے مختلف قوموں کی طرف داعی اور مبلغ بنا کر روانہ فرمایا اس میں بھی یہ چیز آپ کی حکمت ِعملی کا حصہ نظر آتی ہے کہ وہ مبلغ اسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں ،اور اگر مبلغین کا تعلق کسی دوسری قوم سے ہو تو کم ازکم وہ اس قوم کی زبان، رسم ورواج اور کلچر سے لازمی طور پر آگاہ ہوں۔

مذکورہ بالا چند حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کے لئے مدعو قوموں کی زبان ،کلچراور نفسیات سے آگاہی کس قدر اہم ہے ،اس حوالے سے ویسے تو پورے عالم ِ اسلام کی حالت ہی ناگفتہ بہ ہے ،تاہم اگر اسلامیا نِ ہند سے تعلق رکھنے والے علماءکرام کے طرز ِ عمل کا تجزیہ کیا جائے توصورتِ حال کی سنگینی کا زیادہ احساس ہوتا ہے ۔ اس حد تک تو یہ بات قابل ِ فہم ہے کہ ۱۸۵۷ءکی جنگ آزادی میں شکست کے بعد بچی کچی مسلمان قیادت نے دینی مدارس میں جو نصاب رائج کیا اور اس کا بنیادی مقصد لوگوں کے ایمان کی حفاظت تھا ،تاکہ ہندوستان کو اندلس بننے سے بچایا سکے ۔ یہ اعتراف بھی لازم ہے کہ ہندوستان کے علماءکرام کی قربانیوں اور دینی مدارس کے شاندار کردار کی وجہ سے یہ مقصد پورا ہو گیا،لیکن آزادی کے بعد نصاب ِتعلیم میں جس تبدیلی کی ضرورت تھی اس کی طرف توجہ نہ دی جاسکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ایسے علماءکرام کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے جو آج کی زبان اور محاورے میں گفتگو کر سکےں ،لیکن عملی صورت ِ حال مایوس کن ہے ،آج کے داعیان ِ اسلام پر اصحاب کہف کی مثال صادق آتی ہے،کہ تقریباً تین صدیوں کی نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب وہ غار سے نکلے تو ان کا سکہ اور زبان دونوں ان کی اپنی بستی کے لوگوں کے لئے اجنبی ہو چکے تھے ،گویا وہ اس زمانے کے لئے غیر متعلق (Irrelevant) ہو چکے تھے، اور بالآخر ان کو وآپس غار میں ہی پناہ لینا پڑی ۔غلامی کے طویل دور سے نکلنے کے بعد ہماری صورت ِ حال بھی اصحاب ِ کہف ہی کے مماثل ہے ، عصری تقاضوں کے مطابق علماءکرام کی تربیت کے بغیر اسلام کی عالمی سطح پر دعوت کا خواب شرمندہ  تعبیر نہیں ہو سکتا۔دور ِ حاضر میں داعیان ِ اسلام اگر بین الاقوا می قوانین،جدید نظامہائے معیشت و سیاسیات اور مغرب کے فلسفہ  اخلاق سے واقف نہیں ہوں گے تو ان کے مخاطبین کا دائرہ صرف مسلم معاشروں تک ہی محدود رہ جائے گا اور اگر وہ ”کتاب البیوع“ اور ”کتاب الامارہ “ کی عصری تعبیرات پر عالمانہ دسترس نہیں رکھتے تو اس کا مطلب یہ ہواکہ دین کا ایک بڑا حصہ ان کے دعوتی مضامین ہی سے خارج ہوجائے گا ،اور اسلام کے مکمل ضابطہ  حیات ہونے کے تصور کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔


دعوت ِ دین میں درپیش داخلی چیلنجز

۱۔ عرف کی تفہیم :

انسانی معاشرہ ہر لمحہ تغیر پذیر ہے ،معاشرتی اور تہذیبی ارتقاءکا لازمی نتیجہ عرف کی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ بہت سارے فقہی احکام ومسائل کا تعلق عرف کے ساتھ ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ عرف کی تبدیلی کے براہِ راست اثرات فقہی احکام و مسائل کے استنباط پر مرتب ہوتے ہیں ۔عرف اور زمان ومکان کی تبدیلی فقہی مسائل کے استنباط پر کس حد اثر انداز ہوتی ہے، اس کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے ہی کیاجا سکتا ہے کہ امام مالک ؒ (م ۱۷۹ھ) کے نزدیک پانی کے طاہر ہونے کے لئے اس کی کم ازکم مقدار ”قُلَّتَان “ یعنی دو بڑے مٹکوں کے برابر ہونا لازم ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ (م ۱۵٠ھ) کے نزدیک پانی کے طاہر ہونے کے لئے اس کی کم ازکم مقدار”دہ در دہ“ ہونا ضروری ہے ۔ ایک امام مدینہ میں بیٹھ کر یہ رائے قائم کر رہا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے، جبکہ دوسرا امام دجلہ و فرات کے کنارے بیٹھ کرفتویٰ جاری کررہا ہے جہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہے ، گویا عرف اور زمان ومکان کی تبدیلی کے اثرات مسائل کے استنباط پر براہ ِ راست مرتب ہوتے ہیں۔

قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ جب غیر مشروط اطاعت صرف خدا و رسول کے لئے ہی ہے تو پھر فقہ کی تقدیس چہ معنیٰ دارد؟ جبکہ فقہ سے مراد دین نہیں بلکہ دینی تعبیرات ہیں یعنی وہ تمام فروعی مسائل جو واضح طور پر قرآن و سنّت میں موجود نہ ہوںاور ان کو مقاصد شریعت کی روشنی میں قرآن و سنّت سے مستنبط کیا گیا ہو۔ اس نوعیت کے مسائل میں ایک تووہ احکام ہیں جن کے بارے اسلاف نے کوئی رائے قائم کی ہو اور دوسرے وہ احکام ہیں جن کا تعلق زمان و مکان اور عرف کی تبدیلی سے ہے ۔اس میں متوازن رائے یہ کہ اگرکسی مسئلے میں صحابہ کرام ؓ کی رائے منقول ہو تو فبھا ،اور اگر دیگر اہل ِ علم کی مختلف آراءمنقول ہوں تو یہ ہر دور کے علماءکا حق ہے کہ وہ کسی بھی رائے کو دلیل کے ساتھ قبول کریں اور دلیل کے ساتھ رد کردیں ۔ صحابہ کرام کے علاوہ دیگر ارباب ِ فکرو دانش کے حوالے سے بہترین بات وہی ہے جو امام ابو حنیفہ ؒ نے فرمائی :”ھُم رِجَال وَ نَحنُ رِجَال “ یعنی جس طرح انہیں اجتہاد کا حق حاصل ہے اسی طرح ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے ۔ وہ تمام فقہی مسائل جن میں صحابہ کرام ؓ کے درمیان اختلاف منقول ہے ،اس کو تنوع اور توسع پر محمول کر کے کسی ایک پہلو کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔

علماءکرام جب مختلف احکام و مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو عمومی طور پر وہ ان مسائل کو فقہی تناظر میں ہی دیکھتے ہیں اوران کے سماجی تناظر کو نظر انداز کردیتے ہیں اس کی مثال عائلی زندگی سے متعلق نکاح،طلاق اور خلع جیسے مسائل میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ کیا آج کے معاشرتی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے ولی کے بغیر نکاح کو درست قرار دیا جانا چاہیے ؟ جبکہ نکاح کے انعقاد کے لئے اگر ایک طرف عاقل و بالغ کی رائے ضروری ہے، تو دوسری ”لا نکاح الا بولی “، کی شرط بھی موجود ہے ،اسی طرح طلاقِ ثلاثہ سے متعلق مسائل کو محض فقہی تناظر میں ہی دیکھا جاتا اس کے عملی نتائج خاندانوں کو کس طرح برباد کر رہے ہیں یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی جاتی ۔غور کیا جائے تو بہت سارے مسائل میں صحابہ کرام اور فقہاءکے درمیان جو اختلافات نظر آتے ہیں اس کا بڑا سبب وہ سماجی تناظر ہے جس میں انہوں نے مختلف اورمتنوع نصوص پر غور کیا اور پھر اس نص کو ترجیح دے دی یا اس تعبیر کو اختیار کر لیا جس میں حالات اور زمان و مکان کی رعایت نظر آئی یا پھر خلق ِ خدا کے لئے آسانی اور سہولت کا پہلو نظر آیا ۔ہمارے ہاں عملی صورت ِ حال یہ ہے کہ علمائے اسلام اپنے مسلک اور فقہی مذاہب سے ہٹ آج کے ماحول اور عرف کی روشنی میں قرآن و سنّت کا مطالعہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اس وقت مذہب کو علم ِ جدید کا سنجیدہ چیلنج درپیش ہے۔ جدید سائنسی علوم نے انسانی زندگی پر جو اثرات مرتب کئے ہیں اس کے نتیجے میں کئی نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مثلاًDNAٹیسٹ کے سو فیصد درست نتائج نے گواہی اور حسب ونسب جیسے مسائل کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ۔غالباً 2002ءمیں جب سائنسدا نوں نے محض جینز کی مدد سے”ڈولی “ نامی بھیڑ تخلیق کی تو علماءکے لئے اس پر کوئی واضح موقف اختیار کر نا مشکل تھا ۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی (Test tube baby)اور کلوننگ(Cloning) جیسے کامیاب تجربات نے ماں کے قدموں تلے جنت کے تصور کو چیلنج کر دیا ۔اس نوعیت کی محیر العقول ایجادات اور تخلیقات نے انسان کے لئے جہاں کئی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں بہت سے سوالات بھی کھڑے کر دیئے ہیں ۔اب بہت سارے مسائل کو صرف سابقہ فتاویٰ کی بنیاد پربیان کرنا ممکن نہیں رہا،اس لئے علماءکرام کے لئے اپنے دور کی حقیقی تفہیم بڑا چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔

دور ِ حاضر میں علماءکرام کے لئے صرف علاقائی عرف کا جاننا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اسلام کی عالمگیریت کے تناظر میں عالمی عرف سے گہری واقفیت بھی ضروری ہے۔مثال کے طور پرفقہائے اسلام نے ”دالاسلام“ اور” دار الحرب“ کی تقسیم کے ساتھ قرآن و سنّت سے جو احکام مستنبط کئے ہیں ،ان تعبیرات کا تعلق مسلمانوں کے دور ِ عروج سے ہے ،جبکہ اس وقت صورت ِ حال بالکل تبدیل ہو چکی ہے ۔ جزیہ ، ذمی اور اہل ِ کتاب سے متعلق احکام ومسائل کو ان عالمی قوانین کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جن کو خود مسلمان ملک تسلیم کر چکے ہیں۔ تسلیم کرنا ہوگا کہ ”انسانی حقوق کا عالمی منشور“ (Universal Declaration of Human Rights) آج کا عالمی قانون ہے۔ اس قانون کی تمام شقوں کو قبول کرنا تو مسلم معاشروں کے لیے ممکن نہیں ہے، تاہم اس بحث میں زیادہ مثبت اور تعمیری انداز میں حصہ لینے کی ضرورت ہے اور اگر کسی جگہ لچک کی گنجائش موجود ہو تو اس کا لحاظ کیا جانا چاہیے۔ سیرتِ طیبہ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ کئی مواقع پر رسول اللہﷺ نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی قانون ،عرف اور قبائلی رسم ورواج کا احترام کیا ۔مثلاً :جب حضور ﷺ کا مسیلمہ کذّاب کے سفیروں سے مکالمہ ہوا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم مسیلمہ کو نبی مانتے ہو؟ تو انھوں نے کہا :ہاں ، حضرت عبداللہ ابن ِ مسعود سے روایت ہے کہ مسیلمہ کذّاب کے سفیروں کے جواب میں آپ نے فرمایا: ”لوکنت قاتلاً رسولاً لقتلتکما، فمضت السنّۃ انّ الرّسلَ لا تَقتُل“ (8) یعنی اگر سفیروں کا قتل جائز ہوتا تو  میں تمہیں قتل کروادیتا۔ دیکھئے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے لیکن آپ نے ان پر یہ حد جاری نہیں کی بلکہ فرمایا کہ چونکہ عالمی قانون یہ ہے کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا اس لئے میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں ورنہ میں تمہیں قتل کروا دیتا۔

سن ۹ہجری میں اقرع بن حابسؓ کی زیر ِقیادت بنوتمیم کا وفد اسلام قبول کرنے کے لیے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، ان لوگوں نے قبولِ اسلام کے لیے بڑی عجیب شرط رکھی کہ آپ پہلے ہمارے ساتھ مفاخرت کریں،آپ کا خطیب ہمارے خطیب کا اور آپ کا شاعر ہمارے شاعر کا مقابلہ کرے ، تب ہم اسلام قبول کریں گے ۔آپ نے ان کے اس مطالبہ کو قبول کیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺکے حکم پر حضرت حسان بن ثابت ؓ نے ان کے شاعر زبر قان بن بدر کا مقابلہ کیا اور ثابت بن قیسؓ نے ان کے خطیب عطارد ابن حاجب کا مقابلہ کیا۔بنو تمیم نے با لآ خر حضورﷺ کے شاعر اور خطیب کی برتری کو تسلیم کر تے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔ (9) دیکھا جائے تو وفد ِبنی تمیم کا مطالبہ بالکل لایعنی تھا ،بالفرض اگر مسلمانوں کا شاعر اور خطیب مقابلے میں شکست بھی کھا جاتے تو پھر بھی اسلام کی حقانیت میں کوئی شک نہ تھا،لیکن اس کے باوجود آپ نے ان کے رسم ورواج کا احترام کیا۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے دوسری قوموں کے ساتھ مکالمے کی اتنی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ بنو تمیم نے جب قبول ِاسلام کی یہ عجیب وغریب شرط رکھی تو آپ نے بلا جھجک اپنے ان ساتھیوں کو طلب کیا جن کی خاص اسی مقصد کے لئے تربیت کی گئی تھی۔ اسی طرح جب آپ نے شاہان ِعالم کے نام دعوتی خطوط روانہ کرنے کا پروگرام بنایا تو واقفان ِحال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! حکمرانوں میں یہ اصول ہے کہ وہ ان خطوط پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے جن پر کوئی مہر(Seal) وغیرہ نہ ہو،چنانچہ اسی وقت آپ نے خطوط کو ُمہر بند کرنے کے لیے مُہر بنانے کا حکم دیا۔(10)

اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ داعیان ِ اسلام کے لئے لازم ہے کہ وہ عالمی عرف کو سمجھیں اور ان قوانین اور معاہدات کے مندرجات کا بھی تنقیدی مطالعہ کریں جن کی حیثیت اب مسلمہ بین الاقوامی قانون کی ہے ،اور جن کی پاسداری کا حلف خود مسلمان ممالک نے بھی اٹھا رکھا ہے ۔عالمی عرف اور بین الاقوامی معاہدات کے مثبت مطالعہ و تجزیہ سے مسلم معاشروں کے علاوہ عالمی سطح پر دعوت ِ دین کی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

۲۔ فرقہ واریت :

عصر حاضر کا ایک بڑا فتنہ مختلف عنوانات کے ساتھ اسلام کی تقسیم ہے ۔صوفی اسلام ،تبلیغی اسلام،سلفی اسلام، وہابی اسلام، جہادی اسلام،سیاسی اسلام،یہ تقسیم شیعہ اور سنّی اسلام کے علاوہ ہے ۔اس کے علاوہ دین کی فقہی اور کلامی تعبیرات کو مکمل دین کے طور پر پیش کرنے کا رجحان بھی پوری شدّومد کے ساتھ موجود ہے ۔حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مساجد اور مدارس کے ناموں سے مسالک کی نشاندہی کی جاسکتی ہے ،اس پر مستزاد یہ کہ آپ مذہب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے ناموں ،کاموںاور حلیے سے باآسانی ان کا مسلک معلوم کرسکتے ہیں۔ علماءکرام دین ، مذہب ، مسلک، ذوق اور تاریخ میں فرق کرنے کے لئے تیار نہیں ہےں جس سے فرقہ واریت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ علماءکرام کی اکثریت اپنے مسالک،فقہی مذاہب اور روحانی سلاسل کو ہی کل دین کے طور پیش کر رہی ہے۔اس سے بھی تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض کوتاہ نظر اور نام نہاد علماءبعض تاریخی واقعات اور علاقائی رسم و رواج کو ہی کل دین کا درجہ دے رکھا ہے۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ کلامی، فقہی اوراسلامی فرقوں کا مثبت انداز میں مطالعہ کیا جائے ۔ بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ اس دور کی ضرورت ہے ۔ مسلک اور دین میں فرق کئے بغیرہم آہنگی کا صرف خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورت ِ حال یہ ہے کہ نصوص ، اجتہادات اور رواجات میں فرق کی ضرورت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ فروعی مسائل اور بنیادی عقائد میں فرق نہیں کیا جا رہا ۔سماجی رسوم و آداب میں بھی ہمارا رویہ بڑا عجیب و غریب ہے ، کسی رواج کا اسلام کے مطابق ہونا اور چیز ہے اور اسلام ہونا بالکل دوسری چیزہے ،دین اور کلچر کا باہمی تعلق اور اس کی حدود کیا ہےں ؟یہ بات بھی سمجھنا بہت ضروری ہے ،ورنہ اس ملت کونئے سے نئے فتنوں سے بچانا ممکن نہیں ہوگا۔

آج کے ماحول میں ایک سچے داعی کے لئے صحیح رویہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اسلام کو مکمل ضابطہ  حیات کے طور پر تسلیم کرے، اب بے شک وہ عملی جدوجہد کے لئے کسی ایک میدان کا انتخاب کرلے، لیکن دین کے دوسرے شعبوں کے ساتھ اس کو مربوط کرے ،اور مناسب یہ ہے کہ وہ دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے لوگوں کی قدر کرے ۔ فروعی مسائل میں دین میں تنوع اور توسع کے حوالے سے اعتدال پسندعلماءکی فکرکا مطالعہ راہنمائی کے لئے مناسب ہوگا۔ اگر اس اصول کو مان لیا جائے کہ فرقہ بنیادی عقائد میں انحراف سے بنتا ہے تو اس لحاظ سے دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث ایک ہی گروہ شمار ہوں گے اور ان کے مقابل شیعہ دوسرا گروہ شمار ہوگا، ملی یکجہتی کا تقاضا یہ ہے کہ شیعہ کی عمومی تکفیر اجتناب کرنا چاہیے ،تاہم شیعہ کے وہ ذیلی فرقے جن کی تکفیر خود اہل ِ تشیع نے کی ہے ان کا معاملہ البتہ دوسرا ہے ،کیونکہ شیعہ کے بعض اقلیتی گروہوں کی گمراہی کے دلائل موجود ہیں ۔مرزا غلام احمد قادیانی(م ۱۹٠۸ء) کی جانب منسوب ”جماعت ِ احمدیہ “ کو ایک باطل فرقہ کہنا حق بجانب ہے کیونکہ وہ ختم ِ نبوت کے بنیادی عقیدے کے منکر ہیں۔

۳۔ مروّجہ تصو ّف :

جس طرح تصوف کوعین ِ دین کہنا غلط ہے اسی طرح تصوف کو متوازی دین کہنا بھی غلط ہے، بلکہ د رست یہی ہے کہ یہ دین کی روحانی تعبیر کا ایک ایسا پہلو ہے جو ”وَیُزَکِّیہِم“ کے عنوان کے ساتھ منصب ِ رسالت کا لازمی تقاضا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا مقصد ِ بعثت ہے ۔ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تکوینی نظام کے مطابق مختلف افراد اور گروہوں سے دین کی حفاظت اور ترویج و اشاعت کا کام لیا ۔محدثین اور ائمہ جرح و تعدیل نے متون (Texts) کی حفاظت کا کارنامہ اس انداز میں انجام دیا کہ تاریخ ِ علوم میں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں ہے ۔ فقہاءکرام نے اس متن کو بنیاد بنا کر دین اسلام کو معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ کر نے کا عظیم کارنامہ انجام دیا اور ثابت کیا کہ دین اسلام صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیوی کامیابی کا بھی ضامن ہے، صوفیہ کرام نے تزکیہ نفس کے عنوان کے ساتھ دین کے روحانی پہلو کو اجاگر کیا ، خدمت ِ خلق اور ذاتی کردار سے مخلوق ِ خدا کو ایمان کی دولت سے آشنا کرکے ان کی روحانی تسکین کا سامان کیا ۔دین ِ اسلام کے تحفظ اور ترویج و اشاعت میں محدثین ،فقہاءاور صوفیہ ،تینوں طبقات کا کردار آب ِ زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔یہ وہ تناظر ہے جس میں تمام روحانی سلاسل کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ برصغیر کے معروف روحانی سلاسل کے مزاج کا ادراک کئے بغیر ان کی خدمات کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

حضرت باقی باللہ(۱۵۶۴۔۱۶٠۳ء) کی آمد سے پہلے ہندوستان میں جو روحانی سلاسل قادریہ، سہرودیہ اور چشتیہ مقبول و مشہور تھے وہ تمام کے تمام ایران اور ایرن کی علمی سرحد عراق کی پیداوار تھے ۔ان تینوں سلسلوں میں جزوی اور فروعی اختلافات تو تھے لیکن ان کا روحانی پس منظر اور مزاج ایک ہی جیسا تھا،ان تینوں سلسلوں میں وحدة الوجود کا طریقہ رائج تھا ۔ان روحانی سلاسل میں دیگر سلاسل کی بنسبت بین المذاہب ہم آہنگی کی صلاحیت زیادہ ہے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بر صغیر میں آغاز ِاسلام کے وقت ان سلاسل کے مزاج نے فروغ ِ اسلام میں اہم کردار ادا کیا۔ان روحانی سلاسل نے دعوت وتبلیغ کے میدان میںکئی نئے تجربات کئے۔ان سلاسل کے بزرگوں نے وقت اور حالات کے زیر اثر اس طرح کے” تبلیغی اجتہادات“ فرمائے جس کے نتیجے میں دیگر قوموں سے مسلمانوں کی سماجی اور معاشرتی سطح پر ہم آہنگی میں زبردست اضافہ ہوا ۔ذات پات کے نظام میں جھکڑے ہوئے برصغیر میں صوفیہ نے انسانی مساوات کے اسلامی تصور کو اپنے عمل سے اس طرح نمایاں کیا کہ پسے ہوئے طبقوں کے لئے اسلام امید کی آخری کرن بن کر ظاہر ہوا۔

 ہندوستانی معاشرے میں جہاں لوگ مذہبی رسومات وعبادات ،بھجن اور اشلوک وغیرہ صرف ساز و ترنم کے ساتھ ہی سننے کے عادی تھے، وہاں صوفیہ نے ہندو قوم کو دعوت وتبلیغ کے لئے سماجی سطح پر اپنے قریب رکھنے کے لئے ”قوالی “ کی صورت میں ایک منفرد تجربہ کیا ۔ خانقاہی نظام میں ”لنگر خانے“ کے ادارے کو بھی دعوتی نقطہ  نظر سے دیکھنے کی ضرروت ہے۔ جس میں بلا رنگ و نسل اور مذہبی شناخت ،لوگوں کی حاجت براری کی جاتی ہے ۔ اسی دور میں ہم حضرت میاں میر ؒ جیسی بزرگ ہستی کو سکھوں کے مقدس مذہبی مرکز ” دربار صاحب امرتسر “(گولڈن ٹیمپل ) کا سنگ ِ بنیاد رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔برصغیر میں ہندو اکثریت کے کئی علاقوں میں صوفیہ نے اپنے مریدین کو تلقین کی کہ وہ ہندووں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کے ذبیحہ سے اجتناب کریں۔ دیگر مذاہب کے بارے احترام کا یہ رویہ صوفیہ کا آزمودہ دعوتی منہج ہے ،مذہبی تکثیریت پر مبنی ہندوستانی معاشرے میں اس طریقِ دعوت کے گہرے اثرات کا ہم بآسانی مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ہماری رائے میں سر زمین ہند میں صوفیہ نے وحدة الوجود کی تعبیر خاص مصلحت کے تحت اختیار کی تھی اوریہ بھی ایک طرح کا” تبلیغی اجتہاد “ہی تھا جس کے نتیجے ہیں تبلیغ اسلام میں بہت سہولتیں پیدا ہوئیں ۔ ہندو جوگی اور بہت سے ریاضت کرنے والے قدیم ہندو ”ویدانت فلاسفی “ کو ماننے والے جو وحدة الوجود کے قائل تھے وہ اس تعبیر کے نتیجہ میں ہی مسلمان ہوئے۔

مذاہب عالم کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف مذاہب کی شریعتیں اگرچہ مختلف ہوتی ہیں، لیکن حکمت کے کئی اعلیٰ اصول بالعموم تمام مذاہب میں مشترک ہوا کرتے ہیں اور یہ اصول اقوام و ملل کے درمیان فکری اتحاد اور یگانگت کا باعث بنتے ہیں ۔ ایک بالغ نظر داعی ،مدعو قوم کے ان اصولوں کو بھلا کیسے نظر انداز کر سکتا ہے جو باہمی قربت کا باعث بن سکتے ہیں ۔ سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کے ان تمام مظاہر کے باوجودصوفیہ نے اس چیز کا ہمیشہ خیال رکھا کہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت پوری طرح برقرار رہے۔لیکن جس طرح کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ سے ہوتا آیاہے بعض غیر محتاط صوفیہ، جن کے لئے حضرت مجددؒ نے ”صوفیائے خام “ کی اصطلاح کثرت سے استعمال کی ہے ، نے مذہبی رواداری کی آڑ میں اسلامی اورہندوتصوف میں قائم حد فاصل کو مٹانے کی کوشش کی ۔ ہندوستانی معاشرے میں غیر محتاط صوفیہ نے اس طرح کے حالات پیدا کر دیے جس سے مسلمانوں کا تشخص خطرے سے دو چار ہونے لگا اور یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھارتا ہوا نظر آ رہا تھا کہ جس طرح دیگر کئی مذاہب ہندوستانی معاشرے میں ضم ہو کر اپنی شناخت کھو چکے ہیں کہیں مسلمان بھی اپنی مذہبی شناخت سے محروم نہ ہو جائیں ۔ یہی وہ دور ہے جب ہندوستان کے افق پر نقشبندی سلسلے کا ظہور ہوا۔بر صغیر میں مختلف روحانی سلاسل کی آمد کے ادوار کو محض اتفاق کہنا شاید درست نہ ہو بلکہ اس میں قضاءو قدر کی دخل اندازی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ، اگر آغاز میں ہی برصغیرمیں نقشبندی سلسلے کا ورود ہو جاتا تو شایدہندوستانی معاشرے میں اشاعت ِاسلام کی رفتار کم رہتی۔ نقشبندیہ کا عمومی مزاج تاریخ علوم میں محدثین کے مماثل ہے جبکہ قادریہ ،سہروردیہ اور چشتیہ کا عمومی مزاج فقہاءکے مزاج کے مماثل ہے ۔لیکن جو چیز محسوس کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تکوینی نظام کے مطابق اشاعت ِ اسلام کاکام دیگر سلاسل سے لیا اوراسلامیان ِ ہند کے اسلامی تشخص کے تحفظ کا کام اس روحانی سلسلے سے لیا جو تاریخ میں مجددی نقشبندی سلسلے کے نام سے معروف ہے۔

ان سطور میں ہمارے پیش ِ نظر صرف یہ بتانا ہے کہ اگرچہ بر صغیر میں فروغ ِ اسلام میں عرب تاجروں،مجاہدین اسلام اور مسلم حکمرانوں کی خدمات بھی قابل ِ قدر ہیں ،لیکن ہندوستان میں اسلام کی جڑیں پاتال تک پہنچانے کا بنیادی کردار صوفیہ کرام نے ہی انجام دیا ۔ لیکن اس وقت صوفیہ کرام اور خانقاہی نظام کے نام پر جو جعل سازی ہو رہی ہے وہ انتہائی قابل ِ افسوس ہے ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ اہل ِ تصو ّف کی کتب میں تصو ّف اور ہے ،جبکہ مروجہ تصوف کی شکلیں اس سے بالکل ہٹ کر اور الگ ہیں ۔کوئی صوفی اور پیر جاہل نہیں ہو سکتا ،اور ناہی کسی ایسی خانقاہ کا تصور بھی کیا سکتا ہے جس کے ساتھ مسجد ،مدرسہ اور تزکیہ نفس کا مستقل حلقہ موجود نہ ہو ۔علماءکرام پر لازم ہے کہ وہ مروجہ تصوف پر قرآن و سنّت کی روشنی میں کھل کر تنقید کریں ۔ یہ جان لینا ضروری ہے کہ جاہل صوفیہ اور ان کے پھلائے گئے غلط تصو ّرات پر علمی تنقید کے بغیر اسلامی تصو ّف کا دِفاع ممکن نہیں ہے ۔ آج سے ایک ڈیڑھ صدی قبل یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا کہ کوئی شخص کسی صوفی سلسلے سے وابستگی کے بغیر دین کی حقیقت سے آشنا بھی ہو سکتا ہے ، لیکن پھر جعل سازی نے خانقاہی نظام کے مقدس ادارے کو بری طرح متاثر کیا، جس کی ذمہ داری جعلی صوفیہ اور سجادہ نشین حضرات پر عائد ہوتی ہے ۔علماءکرام پر لازم ہے کہ وہ صوفیہ کرام کی خدمات،اسلوب ِ دعوت اور میدان ِ دعوت میں ان کے اجتہادات پر پوری بصیرت سے غوروفکر کریں ،تمام سلاسل تصوف کے مزاج کو سمجھیں اور ان کی اصل تعلیمات کو اجاگر کریں۔

۴۔ اسلامی جدیدیت اور مابعد جدیدیت :

جدیدیت (Modrenism)اور مابعد جدیدیت(Post Modrenism) اگر چہ مغربی اصطلاحات ہیں لیکن محض تفہیم ِ مطلب کے لئے ہم ان اصلاحات کو مسلمانوں کے عہد ِ زوال میں جنم لینے والی مختلف علمی اور فکری تحریکوں کے تعارف اور تجزیہ کے لئے استعما ل کریں گے۔گذشتہ دو اڑھائی صدیوں میں مسلمانان ِ عالم ،سیاسی ، معاشرتی،معاشی اور علمی واخلاقی سطح پر زوال کا شکار ہیں، فکری انحطاط کے اس دور میں ایسے افراد اور گروہوں نے جنم لیا، جنہوں نے اسلامی نصوص کی تعبیر و تشریح میں بالکل آزادانہ نقطہ نظر اختیار کیا ۔ مغربی فکر و فلسفہ سے ذہنی مرعوبیت کے شکار جن اہل ِ علم نے مغربی اصولوں کی روشنی میں اسلام کی ” تشکیل ِ جدید “کا بیڑا اٹھایا، ان میں سر سید احمد خان ( م ۱۸۹۸ء) اور ان کے رفیق ِ کار مولوی چراغ علی (م ۱۸۹۵ء)، فرقہ اہل ِ قرآن کے بانی مولوی عبداللہ چکڑالوی (م ۱۹۱۴ء)،خواجہ احمد الدین امرتسری(م ۱۹۳۶ء)، حافظ محمد اسلم جیراج پوری (م ۱۹۵۵ء)، علامہ عنایت اللہ المشرقی(م ۱۹۶۴ء)، نیاز فتح پوری (م ۱۹۶۶ء) ، علامہ غلام احمد پرویز (م ۱۹۸۵ء) ،ڈاکٹر فضل الرحمن (م ۱۹۸۸ء)، مولانا جعفر شاہ پھلواری (م ۱۹۸۸ء)،علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی (م ۱۹۹۱ء) اور عمر احمد عثمانی(م ۱۹۹۶ ء) وغیرہ اسلام میں جدیدیت کے حوالے سے خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں ۔عالم ِ عرب میں ڈاکٹر احمد امین مصری (م ۱۹۵۴ء) محمود ابوریّہ اور جامعہ ازہر کے استاذ شیخ محمد شلتوت بھی اسی گروہ میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔

ما بعدجدیدیت کی اصطلاح کے ذیل میں علامہ شبلی نعمانی (م ۱۹۱۴ء) ،علامہ حمید الدین فراہیؒ(م ۱۹۳٠ء) اور مولانا امین احسن اصلاحی (م ۱۹۹۷ء) قابل ِ ذکر ہیں۔ دور ِ حاضر میں محترم جاوید احمد غامدی اس مکتب ِ فکر کی نمائندگی کر رہے ہیں ، جبکہ بعض اہل ِ علم نامور محقق اور دانشور جناب ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر کو بھی فراہی مکتب ِ فکر کا نمائندہ خیال کرتے ہیں ۔ بہرحال یہ وہ لوگ ہیں جو روایت پسند اور جدیدیت پسندطبقے میں پل کا کردار ادا کررہے ہیں اوربے چارے پل کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی طرف بھی شمار نہیں ہو پاتا،اور اس کا تعارف بھی بالآخر ایک مستقل گروہ کے طور پر ہی کیا جانے لگتا ہے ۔اس کے علاوہ مسلم معاشروں کے اندر کئی ایسے اہل ِ علم اور تحریکوں نے بھی جنم لیا ، جنہوں نے روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے تئیں عصری تناظر میں اسلام کی تعبیر و تشریح کا بیڑا اٹھایا ۔ عالم ِ عرب میں اخوان المسلمون کے بانی حسن البناءشہید ؒ اور پاکستان میں جماعت ِاسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰؒ (م ۱۹۷۹ء) نے اسلام کے ہمہ گیر غلبے کے لئے اسلام کی جدید سیاسی تعبیر پیش کی۔ پہلی جنگ ِ عظیم میں ترکوں کی شکست اور خلافت ِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مغربی استعمارکے رد ِ عمل میں سیاسی تحریکوں کے ساتھ جہادی تحریکوں نے بھی جنم لیا ، رد ِ عمل کی نفسیات لے کر پروان چڑھنے والی جہادی تحریکوں کے پلیٹ فارم سے اسلام کے تصور ِ جہاد کی بعض ایسی تعبیرات بھی سامنے آئیں جن پر راسخ العقیدہ علماءبھی شدید تحفظات رکھتے ہیں، اس حوالے سے القاعدہ اور داعش وغیرہ کے تصور ِ جہاد کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

علماءکرام کے لئے لازم ہے کہ وہ اس نوعیت کی فکری بحثوں سے گہری واقفیت حاصل کریں ، اور فکری کشمکش کے اس ماحول میں اسلام اور اہل ِ اسلام کے حوالے سے جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کو ایڈریس کریں ۔ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ نئی نسل جس ماحول میں پروان چڑھ رہی وہ بے لگام عقل پرستی کا دور ہے ۔ اب وہ دور نہیں ہے کہ جب علماءکرام پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ صرف مسئلہ بتادینا کافی سمجھا جاتا تھا ،بلکہ اب لوگ مسائل کو دلائل کے ساتھ جاننا چاہتے ہیں۔ مزید یہ کہ مغربی تہذیب نے مسیحیت کو چاروں شانے چت کرکے اپنی برتری منوائی ہے اور مذہب کو انسان کی اجتماعی زندگی سے خارج کرکے اس کو انسان کا نجی معاملہ قرار دے دیا ہے ۔آج کا نوجوان مغرب کی ان کامیابیوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ،اور ان اسباب سے بھی آگاہ ہے جن کی بدولت ان کو یہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔اس ماحول میں نئی نسل کے سوالات سے صر فِ نظر نہیں کیا جا سکتا ،فتوے سے زبان تو بند کی جاسکتی ہے، لیکن ذہن کو سوچنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جدید ذہن میں مذہب کے بارے جو شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں، ان کاجواب اس پس منظر کو جانے بغیر ممکن نہیں ہے جس میں ان سوالات نے جنم لیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ مغربی فکر و فلسفہ کے عالم گیر غلبے کے بعد خود مذہب کے حوالے جن نئے سوالات نے جنم لیا ہے ان کا کوئی جواب مدارس کے روایتی نصاب کی بنیاد پر دینامشکل ہورہا ہے ۔اہل ِ مذہب نے مذہب سے متعلق اٹھنے والے سوالات سے چشم پوشی کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے یہ تاثر پیدا ہورہاہے کہ مذہب کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب سرے سے موجود ہی نہیں ۔ اس رویے کے بعض نتائج و اثرات ہم اپنی انکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ نئی نسل تیزی کے ساتھ تہذیبی ارتداد کا شکار ہو رہی ہے ۔ حال یہ ہے کہ مسلم معاشروں کے اندر ایک طبقہ تو وہ ہے جو غیرعلانیہ طور پر مذہب سے دستبرداری اختیار کرچکا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ مذہب کا اب انسانی زندگی میں کوئی کردار باقی نہیں رہا ،جبکہ دوسرا طبقہ اپنے آپ کو ان اہل ِ تجدد سے وابستہ کر رہا ہے جو ان کے سوالات کو ایڈریس کرتا ہے اور وہ ان کو مطمئن کرنے میں کوشاں ہے۔ علماءکرام پر لازم ہے کہ وہ مذہب کو درپیش ان چیلنجز کا ادراک کریں اور فتوے کی زبان میں بات کرنے کی بجائے عقلی اور فطری دلائل کے ساتھ مذہب کی ضرورت و اہمیت کو ثابت کریں۔ اہل ِ تجدد میں سے جن افراد یا جماعتوں سے جو علمی اور فکری غلطیاں ہوئی ہیں، فتویٰ بازی کے بجائے ان کا علمی اور فکری محاذ پر تعاقب ضروری ہے، بصورت ِ دیگر نئی نسل کو فکری پراگندگی اور تہذیبی ارتداد سے بچانا ممکن نہیں ہو گا۔


دعوت ِ دین میں درپیش شخصی چیلنجز

۱۔ عزت و احترام کی بحالی :

علماءکرام ہر دور میں معاشرے کا ایک معزز طبقہ شمار ہوتے رہے ہےں ،لیکن اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ علماءکرام اپنا مقام تیزی سے کھورہے ہیں۔ایک وقت وہ تھا جب مولوی ،مولانا اور علامہ جیسے الفاظ باعث ِ عزت سمجھے جاتے تھے ،اور کسی شخص کے نام کے ساتھ ان القابات کا لکھا جانا اس کے علمی اور سماجی قد کاٹھ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مولانا ظفر علی خان، مو لانا الطاف حسین حالی،بابائے اردومولوی عبد الحق اور تحریک ِ خلافت کے روح ِ رواں علی برادران سمیت بیسیوں اہل ِ علم کے ناموں کے ساتھ ان القابات کا بولا جانا ان الفاظ کی حرمت و تقدس کی دلیل ہے، لیکن اب یہ الفاظ اپنی قدر و قیمت کھو چکے ہیں۔ مدارس ِ دینیہ کے فضلاءبھی اب مولوی کہلوانا پسند نہیں کرتے ۔یہ بات بھی کم تشویشناک نہیں کہ سوسائٹی کے مقتدر طبقات مسجد ، مدرسے اور دین سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار تو ضرور کرتے ہیں اور دینی مقاصد کے لئے رقم بھی خرچ کرتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کودین کی راہ میں دینے سے ہچکچاتے ہیں ۔ اس وقت دینی مدارس میں پڑھنے والے زیادہ تر طلبہ کا تعلق ایسے غریب گھرانوں سے ہے جو ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں یا پھر ایسے خاندانوں سے ہے جو پہلے سے اپنی الگ اور مستقل مذہبی شناخت رکھتے ہیں ۔اس صورت ِ حال میں سیاسی گھرانوں کی طرح مذہبی گھرانوں اور ایسے سجادہ نشینوں کا طبقہ وجود میں آچکا ہے جن کا مقصد مذہب کے نام پر عوام الناس کا استیصال ہے ، کسی ذاتی صلاحیت کی بجائے محراب ومنبر کا وراثت میں منتقل ہونا اور ایک ہی خانقاہ پر سجادہ نشینوں کی فوج ظفر موج کا معرضِ وجودمیں آناایک ایسی خوف ناک حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔یہ ایک بڑی وجہ ہے جس نے دینی قیادت کو بے توقیر کرکے رکھ دیا ہے۔ بقو ل اقبال

میراث میں آئی ہے انھیں مسند ِ ارشاد
زاغوں کے تصرّف میں عقابوں کے نشیمن

دعوت ِ دین کو خاندانی پیشے اور کاروبار کے طور پر اختیار کرنے کا نتیجہ اور ردِ عمل بھی عوامی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے کہ معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ حق پرست علماءکرام کو بھی”کاروباری“ سمجھنے لگا ہے۔

علما ءکرام اور داعیان ِ اسلام کا وہ طبقہ جنہوں نے اس میدان کو ایک مشن کے طور پر اختیار کیا ہے ان کے مسائل البتہ دوسرے ہیں۔ اپنی نیک نیتی اور اخلاص کے باوجود ایسے علماءکا دائرہ اثر بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے ۔ اس صورت ِ حال کے اسباب بالکل ظاہر ہیں ، ہماری رائے میں اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اس وقت عمومی طور پر اسلام کی جو تبلیغ ہو رہی ہے اس کے غالب حصے کا تعلق شمائل و فضائل اور ہمارے مرنے کے بعد کے معاملات سے ہے ، جس سے یہ تاثر بن رہا ہے کہ دین محض جینے مرنے کے چند رسوم و آداب پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے اور بس،ہماری دنیوی زندگی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ علما ءکرام کو عام طور پر صرف مرحومین کو بخشوانے کے لئے ہی زحمت دی جاتی ہے ۔ہمارے خیال میں اس کا دوسرا سبب قرآن و سنّت کا تقلیدی مطالعہ ہے ، سنجیدہ فکر علماءکرام بھی اکابر کی فقہی آراءاور کلامی تعبیرات کو عملاً منزل من اللہ کے درجے میں ہی شمار کرتے ہیں اوربراہ ِ راست قرآن و سنّت کا مطالعہ کرنے کی بجائے اکابرین کی اجتہادی آراءکی روشنی میں قرآن و سنّت کا مطالعہ کرتے ہیں۔علماءکرام کا یہ انداز ِ فکر اس وجہ سے قابل ِ اصلاح ہے کیونکہ قرآن و سنّت پر براہ ِ راست اور تواتر کے ساتھ غوروفکر کے نتیجے میں جو بصیرت پیدا ہوتی ہے انسان اس سے محروم ہو جاتا ہے۔

ہماری رائے میں علماءکرام کی اثرپذیری میں کمی کا سبب یہ بھی ہے کہ اسلام کا بہت گہرا اور برا ہ ِ راست تعلق ہماری معاشی ،سیاسی،معاشرتی اور اخلاقی زندگی سے ہے ،لیکن علماءکرام کی ایک بڑی تعداد جیتے جاگتے اور معاشرے کے زندہ موضوعات(Current issues) پر عصری تناظر پر گفتگو کرنے سے قاصر ہے ۔ ہماری رائے میں اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس وقت جدید تعلیمی اداروں سے جو نسل تیار ہوکر نکل رہی ہے ان کی سوشل سائنسز پر تو نظر ہے لیکن ان کا دینی علم انتہائی کمزور ہے اور دوسری طرف جو نسل روایتی دینی اداروں سے فارغ التحصیل ہو رہی ہیں ان کا حالات حاضرہ ،جدید معاشی ،سیاسی اور عمرانی علوم سے تعارف نہ ہونے کے برابر ہے،عالمی قانون ،عرف،رسم ورواج اور مغربی فکر وفلسفہ توان کے لئے قطعاً اجنبی چیزیں ہیں ۔ ملک میں پڑھے لکھے طبقے کی دو مستقل جماعتیں قائم ہوگئیں ہیں،ایک طبقہ دوسرے پر فسق والحاد اور بے دینی کا الزام عائد کرتاہے، تو دوسرا اس پرتاریک خیالی اور زمانے سے ناواقفیت کی پھبتیاں کستا ہے۔مسڑاور ملا  کے طنزیہ ناموں سے قائم ان طبقوں میں کشمکش مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس ِ دینیہ کے نظام و نصاب میں کسی خارجی دباوکے بغیر از خود ایسی تبدیلیوں کو بروئے کا ر لایا جائے جس کے نتیجے میں علماءکرام کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو جو عصری موضوعات پر علمی انداز میں گفتگو کرسکے ۔ انسانیت نوازی، وسعت علمی اور ذاتی کردار ہی علماءکرام کی عزت و وقار اور معاشرتی کردار کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

۲۔ علمی تراث سے واقفیت :

قوموں کے عروج و زوال میں علم اور اخلاق کا کردار بنیادی نوعیت کا رہا ہے ۔اسلام میں پہلی وحی کا آغاز ہی ”اِقرَا“ سے ہوا ۔مسلمانوں کے عروج میں ان کے اخلاق و کردار کے ساتھ علم و تحقیق سے ان کی والہانہ محبت نے اہم کردار ادا کیا ،اور پھر تحقیق و جستجو کے میدان میں تنزلی نے ہی ان کے عروج کو زوال آشنا کیا ۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور کی متمدن تہذیبوں سے بھر پور استفادہ کیا اور ان علوم کا اس انداز میں ”تزکیہ“ کیا کہ مسلمانوں کے ایجاد کردہ علوم و فنون پوری انسانیت کی اجتماعی ترقی کی بنیاد بن گئے ۔ مسلمانوں کی تحقیقات کے نتیجے میں مشرق و مغرب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا،اقوامِ ِ عالم بالخصوص مغرب نے علمی میدان میں مسلمانوں سے خوب اخذ و استفادہ کیا ۔ ہلاکو خان کے حملہ بغداد ۱۲۵۸ء  تک مسلم فکر میں زبردست ارتقاءنظر آتاہے ۔بغداد کی تباہی سے نہ صرف مسلمانوں کی صدیوں کی علمی ترقی اور ذہنی ریاضت دریا برد ہوگئی بلکہ کئی نامور علماءبھی تاتاری تلوار کی نذرہوگئے ،اور ۱۴۹۲ء  میں سقوط غرناطہ کے بعد مسلم فکر کے تقریباً تمام علمی سر چشمے خشک ہوگئے۔ مسلمان علمی میدان میں اجتہاد کے بجائے تقلید کا شکار ہو گئے اور علمی روایت آہستہ آہستہ مکمل طورپر مغر ب کی طرف منتقل ہوگئی۔ اگر چہ ان دو بڑے حادثات کے بعد بھی مسلمانوں کو سیاسی عروج حاصل رہا،لیکن فکری اور علمی اعتبار سے یہی مسلمانوں کادورِ انحطاط ہے۔

درس نظامی کے روایتی نصاب پر ایک نظر ڈالنے سے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مدارس ِ دینیہ کے نصاب میں شامل اکثر کتب اور علوم وفنون اسی دور زوال کی یاد گار ہیںجب مسلمانوں کا علمی انحطاط شروع ہوچکاتھا اور مسلم فکر پر جمود کے سائے پڑنا شروع ہوگئے تھے ۔جب کہنے کو کچھ باقی نہ رہا تو غیر منقوط کتب نویسی ہی کمال ِ فن قرار پایا، نئے علوم وفنون اور زندہ موضوعات پر غور وفکر کی بجائے ایسی کتابیں منصہ شہود پر آنے لگیں ،جن میں اختصار نویسی ، لفظی بحثوں اور لفظی موشگافیوں کو ہی کمال فن سمجھا جانے لگا۔بڑا کمال یہی سمجھا گیا کہ عبارت ایسی دقیق اور غامض ہو جس کے لئے شرح وحاشیہ کی ضرورت ہو ، لطیفہ یہ ہے کہ بعض اصحاب ِ علم نے ذہنی عیاشی کی خاطر انتہائی مختصر کتب تصنیف کیں ۔اور پھر خود ہی ان پر طویل حواشی لکھنے بیٹھ گئے، اور اب ہمارے مدرسین اپنی عمر عزیز کا زیادہ حصہ انہی دقیق عبارتوں کے سمجھنے اور سمجھانے میں گزار دیتے ہیں۔مصنف کی مراد ،ضمائر کے امکانی مراجع اور عبارت کی اعرابی حالتوں کے ایسے خیالی پلاﺅ پکائے جاتے ہیں کہ بسااوقات ایسی بحثوں میں کئی کئی ہفتے گزر جاتے ہیں اور نتیجہ پھر بھی غیر حتمی ہی رہتاہے۔گویا فن میں مہارت کے بجائے کتاب کی تفہیم حقیقی مقصد بن کر رہ گئی ہے ۔ علم و تحقیق میں زوال کے ساتھ ہی ہماری علمی روایت اور علمی میراث بھی مغرب کی طرف منتقل ہو گئی ۔بقول علامہ اقبال   وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباءکی  دیکھا ان کو جو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سہ پارہ     

عام طور پر درس نظامی کی تکمیل پر فرض کرلیا جاتا ہے کہ علم کی تکمیل ہو گئی ہے ،حالانکہ حقیقت صرف اس قدر ہے کہ درسیات کی تکمیل سے انسان صرف ایک سچا طالب علم بننے کی صلاحیت حاصل کرپاتا ہے۔

علماءکرام کو اس حقیقت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ علم کے جدید وسائل اور ذرائع نے نئی نسل کو بہت باخبر بنا دیا ہے ،جدید عمرانی علوم میں گہری بصیرت کے بغیر اسلا م کی عصری احوال و ظروف میں تبلیغ ممکن نہیں ہے۔طبقہ  علماءمیں موجود”العوام کالا نعام “ کے دقیانوسی تصور کو اب تبدیل کر لینا چاہیے۔ علماءکرام کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمی اختلاف ِ رائے کے باوجود متقدمین کے ساتھ ساتھ دور ِ جدید کے نامور علماءاور شخصیات کی فکر کا مطالعہ کریں اور ان کی اہم کتب پڑھ ڈالیں ،نیز مختلف موضوعات مثلاً سوشل سائنسز پر منتخب کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے ۔اس چیلنج سے نبرد آزما ءہونے کے لئےمطالعہ کی کمی،مخصوص ذہنیت کے ساتھ مطالعہ کا ذوق،متشددانہ رویے ، جذباتیت ،سطحیت جیسی منفی اپروچ کی اصلاح ضروری ہے۔

۳۔ معاشی مسائل :

 دنیا میں ایساکوئی مذہب اور نظریہ کامیاب نہیں ہو سکتا جو روح اور بدن میں سے ایک کو ابھارے اور دوسرے کو کچل دے۔ عیسائیت ، ہندو مت ، بدھ مت، اور دیگر مذاہب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ انہوں نے ترک دنیا اور رہبانیت کے تیشے سے انسانی جسم کو صرف اس لیے گھائل کر دیا ہے تاکہ انسانی روح کو بیدار کیا جا سکے۔ لیکن اس غیر طبعی تعلیم اور جان سوزی کے نتیجے میں روح کی شمع بھی گل ہو کر رہ گئی۔ اہل کلیسا نے خانقاہوں میں بسیرا کر لیا، ہندووں او ر بدھوں نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔مذاہب عالم میں ا سلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے روح اور جسم ددنوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھا، اور انسان کے پیٹ کے مسائل کو ایک معاشی مسئلے کے طور پر موضوع بنایا ۔مذاہب ِ عالم میں اسلام یہ منفرد سوچ رکھتا ہے کہ اس نے خالصتاً روحانی غلطیوں پر بھی مالی جرمانے کی سزا عائد کی ہے، تاکہ ضرورت مندوں کی داد رسی کے ذریعے خدا کی مرضی حاصل کی جا سکے ۔حکم ہے کہ اگر رمضان کا روزہ ٹوٹ جائے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔قسم ٹوٹنے کی صورت میں تین مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔اپنی بیوی سے ظِہار کی صورت میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔حتی کہ قتل جیسے سنگین معاملے میں مقتول کے ورثاءضرورت مند ہوں تو وہ دیت پر صلح کر سکتے ہیں ۔ دیت پر صلح کے امکان کو تسلیم کیا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے انسان کے معاشی مسائل کے حل کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک پہلو سے اس کو دین اور ایمان کی مضبوطی کے لےے اساس قرار دیا ہے۔  رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان معاشی مسئلے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے:

      کَادَ الفَقرُ اَن یَّکُونَ کُفراً۔ (11)  قریب ہے کہ تنگدستی انسان کو کفر تک پہنچا دے۔

 اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ داعیان ِ اسلام کو ایک طرف تو یہ چیلنج درپیش ہے کہ وہ دین کی دعوت کا کام ایک مشن کے طور پر کریں اور دوسری طرف ضروریاتِ زندگی سے بھی صرف ِ نظر ممکن نہیں ہے ۔تاریخ کے مختلف ادوار میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلم معاشروں میں دین کی دعوت و تبلیغ کو عوامی سر پرستی کے ساتھ ریاست کی معاونت بھی حاصل رہی ہے ،لیکن اب کم ازکم برصغیر کی حد تک ریاست علماءکرام کی معاشی ضروریات کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ ان حالات میں مدارس کے مہتمم حضرات سے ہی یہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ حالات ِ حاضرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے نصاب ِ تعلیم میں شعوری طور پر ایسی تبدیلیاں بروئے کار لائیں جو باعزت روز گار کی ضمانت بن سکیں ۔آج مارکیٹنگ کا دور ہے اس دور میں علماءکرام کے لئے ایسی ورکشاپس کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، جو ان کے لئے درست میدانِ عمل (ملازمت ،تدریس، خطابت ، کاروبار ، وغیرہ )کے لئے معاون ہوں۔


مصادرو مراجع

    1.   النحل ،۱۶/۱۲۵

    2. اٰل عمران ،۳/۶۴

    3. احمد بن حنبل ؒ،ابو عبداللہ الشیبانی، الامام (م ۲۴۱ھ)

    4.    ”المسند“ ،حدیث زید بن ثابتؓ،ح:۱۱٠۸،۲۳۸۶ (دار احیاءالتراث العربی،بیروت،۱۹۹۱)

    5. ابو داودؒ ،سلیمان بن الاشعث بن اسحاق السجستانی (م ۲۷۵ھ)،   ” سنن ِابی داود“،کتاب الطلاق،باب من احق بالولد،ح:۲۲۷۷،ص:۲۳٠ (دارالسلام للنشر والتوزیع ،الریاض،۱۹۹۱ء)

    6.  سرخسی ،ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل ،(م ۴۹٠ھ) ،   ”المبسوط “ کتاب الصلوٰة ،۱/۳۷،(دار المعرفة ،بیروت ،۱۹۷۸ء)

    7.  حمید اللہ ،ڈاکٹر ،(م ۲۰۰۲ء) ،    ”صحیفہ ہمام بن منبہ“ ، ص ۱۹۳،(ناشر رشید اللہ یعقوب ،کلفٹن ،کراچی ،۱۹۹۸ء)

    8. ابن سعد ،ابو عبد اللہ محمد،(م ۴۵۶ھ)،  ”الطبقات الکبری “ذکر بعثة رسول اللّٰہ ﷺ الرسل بکتبہ الی الملوک ، ۱/۲۵۸،(دار صادر ،بیروت،۱۹۸۵ء)

    9. ”المسند“ ،حدیث عبداللہ ابن ِ مسعودؓ،ح:۳۷۵۲،۶۵۴۱)

    10. ”الطبقات الکبری “،وفد تمیم،۱۴۲۱

    11. ”الطبقات الکبری “،ذکر نقش خاتم ِ رسول اللہ ﷺ،۲۳۲۱

    12. خطیب التبریزی، مشکوة المصابیح ،رقم الحدیث ۴۹۷۹


اسلام اور عصر حاضر