جدیدیت کے خلاف مسلم معاشرے کا ردعمل ۔ نئی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت

ڈاکٹر محمد امین

امت مسلمہ علمی، تہذیبی ، سماجی ، معاشی، دفاعی اور سیاسی شعبوں میں اپنی برتری ایک ہزار سال تک برقرار رکھنے کے بعد جب زوال پذیر ہوئی تو اس کے دو بنیادی سباب تھے۔ ایک اس کی اپنے نظریہ حیات سے مستحکم وابستگی میں کمزوریاں در آئیں اور دوسرے اس کی حریف صلیبی اور یہودی قوتوں کی سازشیں جنہوں نے نہ صرف مسلم معاشرے کو مغلوب کیا بلکہ اس پر قبضہ کر کے اسے پنے فکر ونظر کے مطابق قوت سے بدل ڈالاتاکہ مسلمان آئندہ کبھی سر نہ اٹھاسکیں اور ہمیشہ ان کے غلام ہی رہیں ۔ لیکن اسلام چونکہ اپنے ماخذ سمیت محفوظ موجود تھا اور وہ مزاجاً کفر سے مغلوبیت کو قبول نہیں کرتا اور مسلمانوں کی اسلام سے وابستگی کمزور ضرور پڑی تھی، بالکل ختم نہ ہوئی تھی اس لیے جلد ہی مسلم معاشرے نے انگڑائی لی اور ایک دو صدیوں کے اندر ہی اس نے غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔ اگر چہ فکری اور ذہنی غلامی کے اثرات ابھی تک باقی چلے آرہے ہیں، کہیں کم اور کہیں زیادہ۔

بیسویں صدی کے وسط میں مغربی استعمارسے آزادی کے بعد مسلم معاشرے اور حضو صاً اس کے دینی عناصر نے، جنہوں نے آزادی کی تحریکوں میں نمایاں حصہ لیا اور بعد میں بھی اہم کردار ادا کیا، اپنے لیے جس راہ عمل کا انتخاب کیا اور مغربی فکر و نظر کے رد و قبول کے حوالے سے جو فیصلے کیے ، انہیں ہم سہولتِ بیان کی خاطر تین اقسام میں شمار کر سکتے ہیں: مصالحت ، مزاحمت اور صرفِ نظر ۔ اور اب ان کی کچھ تفصیل :

مصالحت کی پالیسی

مسلم زوال کے وقت چونکہ مسلم معاشرے کا روایتی ڈھانچہ استعمار نے توڑ ڈالا تھا لہذا اب حصول آزادی کے بعد مسلمانوں کو ایک نیا آغاز کرنا تھا اور چونکہ استعمار نے اکثر جگہ اقتدار ایک پلاننگ کے تحت ان طاقتوں کو منتقل کیا جو فکر و عمل کے لحاظ سے اس کی پروردہ تھیں تاکہ مسلم معاشرہ آزادی حاصل کرنے کے باوجود اپنی فکر و عمل میں مغرب ہی کا زیر دست رہے، اس لیے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلم حکمرانوں نے مغربیت اور جدیدیت کو اپنا نے ہی کا راستہ اختیارکیا ۔ مسلم دینی قوتوں نے ان کی مزاحمت کی کوشش کی لیکن انہیں اس میں کامیابی نہ ہوئی اور انہیں عملاً زندگی گزارنے کے لیے رائج الوقت نظام سے مفاہمت کرنا پڑی ۔ اس کو آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اس صورت حال کو بدلنے کے لیے تصادم کی بجائے مفاہمت اور مصالحت کا راستہ اختیار کر لیا یعنی اس نظام کومجبوراً قبول کرتے ہوئے اور اس کے اندر رہتے ہوئے اسے بدلنے کا راستہ اپنایا تاکہ اس میں اسلامی حوالے سے کمی بیشی کر کے اسے مسلم معاشرے کے لیے قابل قبول بنایا جاسکے۔ اس کی بہترین مثال سیاسی نظام کی ہے ۔ مغرب اور مغرب کے پروردہ مسلم حکمران مغربی جمہوریت ہی کو مسلم ریاستوں میں نافذ کرنا چاہتے تھے۔ (اس کے باوجودکہ اس کی روح اور بنیادی اصول خلاف اسلام تھے) اب بعض دینی قوتوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر یہ جمہوری ڈھانچہ اسلام کے بعض بنیادی مطالبات، خواہ نظری طور پر ہی سہی ، مان لے تو اسے اسلامی لحاظ سے قابل قبول گردانا جاسکتا ہے چنانچہ انہوں نے اس قبولیت کے بعد اسے’’ اسلامی جمہوریت ‘‘ قرار دے دیا ۔ اور اس کے تحت انتخابات میں حصہ لینے اور اس نظام کا ایک حصہ بن کر اسے بدلنے اوراسلامی لحاظ سے مزید بہتر بنانے کی جدوجہد میں لگ گئے۔

اس حکمت عملی کا نتیجہ نکلا؟ یہ کہ اس میں وہ سیاسی عناصرتو اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے جن کے پیش نظر مسلم معاشرے کی بقا اور دنیوی مفادات کے لیے اپنا ایک کردار مطلوب تھا لیکن وہ دینی عناصر جن کے پیش نظر اسلامی فکرو تہذیب کا احیا تھا، انہیں عموماً اس نظام میں کامیابی نہ ملی جیسے مثلاً پاکستان، انڈونیشیا ، ملائیشیا، نائجیریا، مصر ، شام ، لیبیا ، تیونس وغیرہ میں اور جہاں ملی بھی تو وہاں مغربی قوتوں نے اسے بروئے کار نہ آنے دیا جیسے مثلاً الجزائر، میں یا سیاسی دباؤ سے اسے موثر نہ ہونے دیا جیسے ترکی میں ،یا اگر کوئی بطور استثنا حکومت بنانے میں کامیاب ہو بھی گیا جیسے مثلاً ایران میں تو مغرب نے ہر سطح پر اس کی مزاحمت کر تے ہوئے اسے غیر مستحکم بنانے کی کوشیش شروع کر دیں۔اس حکمت عملی پر کا ر بند لوگ (جن میں دوسرے دینی عناصر کے علاوہ عالم عرب کی ا خوان المسلمین، برصغیر پاک و ہند کی جماعت اسلامی اور دیگر مسلم ممالک میں ان سے ملتی جلتی جدید اسلامی تحریکیں شامل ہیں) تو اب بھی اپنے موقف کو صحیح سمجھتے ہیں، اس کی وکالت کرتے ہیں اور اس کے حق میں دلائل دیتے ہیں لیکن اگر غیر جانبداری سے ان کی حکمت عملی کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہے بغیر نہیں رہاجا سکتا کہ ان کی بہت ساری دیگر خوبیوں اور مثبت اقدامات کے باوجود انہوں نے اپنے تئیں مغربی مفاہیم کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی جو کوشش کی تھی اس کے نتیجے میں بالاآخر اسلام کی سیاسی تعلیمات مغربی سانچے میں ڈھل گئی ہیں یایوں کہئے کہ نئے سیاسی ڈھانچے میں عملاً برتری اب بھی مغربی سیاسی تصورات ہی کو حاصل ہے اور اسلامی سیاسی تصورات کم بھی ہیں اور غیر موثر بھی بلکہ وہ مغربی تصورات کا حصہ بن کر اس میں مد غم ہوگئے ہیں اور اپنی شناخت کھوچکے ہیں۔

اور بات محض سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ عصر حاضر میں ریاست کا کردار اتنا وسیع ہوگیا ہے اور اس کا عمل دخل ہر شعئبہ زندگی میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ زندگی کے سارے شعبوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جدیدیت زندگی کے سارے شعبوں تعلیم ، ثقافت ،قانون ، معیشت ، معاشرت وغیرہ میں ہر جگہ غالب آگئی ہے اور ان شعبوں میں اسلامی تعلیمات پس پشت چلی گئی ہیں اور مغلوب ہو چکی ہیں اور عملاً گویا پورامسلم معاشرہ مغربیت وجدیدیت کے سیلاب میں بہتا چلا جارہا ہے اور اس کے خلاف دینی عناصر کی قوت مزاحمت دم توڑ رہی ہے بلکہ بڑی حد تک دم توڑ چکی ہے۔ 

یہاں چونکہ ہم مسلم معاشرے کے اجتماعی رد عمل کی بات کر رہے ہیں اس لیے ہم نے ان افراد کے رویے کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے مغربی تہذیب کی فکری بالادستی کو ذہنی مرعوبیت کے ساتھ قبول کر لیا اور اسلامی تعلیمات کی تشریح اس انداز میں کرنے لگے کہ وہ مغربی فکر و تہذیب کے مطابق نظر آئیں ،کیونکہ مسلم معاشرے نے بحیثیت مجموعی اس فکری طرز عمل کو کبھی قبول نہیں کیا بلکہ اسے رد ہی کیا۔ اگرچہ اس میں شک نہیں کہ اس طرح کے افراد ہر مسلم ملک میں پائے جاتے رہے ہیں بلکہ اب بھی پائے جاتے ہیں جیسے برصیغر پاک و ہند میں سرسید احمد خاں ، غلام احمد قادیانی اور آج کل کے پرویز اور جاوید احمد غامدی وغیرہ۔ 

مزاحمت کی پالیسی

مغربی ممالک سے آزاد ہونے والے مسلم معالک کے بعض گروہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اجتماعی زندگی میں مغربی اداروں کو قبول نہ کیا جائے بلکہ عوام کے اندر ان کے خلاف مزاحتمی شعور بیدار کیا جائے تاکہ مغرب کی ملحدانہ تہذیب اور اس کے مقامی ایجنٹوں کے خلاف تحریک چلائی جائے اور ایک ایسا اجتماعی نظام تشکیل دیا جائے جو خالص اسلامی ہو اور مغربی اثرات کو کلیۃََ رد کردے ۔بظاہر یہ نقطۂ نظر بہت صحیح اور مدلل تھالیکن بد قسمتی سے اس کے پیروکار صبرو حکمت اور اعتدال کی پالیسی نہ اپنا سکے اور جونہی ان کو کہیں معمولی منظم ہونے میں کامیابی ملی وہ دیگر دینی قوتوں اور مسلم حکومتوں سے ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں وہ اس تھوڑی بہت قوت کو بھی جو انہیں میسر ہوئی گنوا بیٹھے ۔ اس کی بہترین مثال مصر کی جماعۃ الہجرۃ والتکفیر، حزب التحریر اور پاکستان کے طالبان وغیرہ ہیں ۔

القاعدہ تحریک کو بھی اس کا ایک حصہ سمجھا جاسکتا ہے جس نے مغربی تہذیب اور مغربی ممالک کے سرخیل امریکہ پر حملہ کرکے اہل مغرب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں اور اسلامی تہذیب کے خلاف مغرب کی سازشوں اور جدوجہد میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا خواہ اس میں ان کے اپنے ہاتھ ہی کیوں نہ قلم ہو جائیں۔

ان مسلم گروہوں کی غیر معتد ل اسلامی فکر اور مغرب کی فوجی قوت کو چیلنج کر نے والی اس مزاحمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مغرب اس پر مشتعل ہو گیا ہے اور مغربی فکر و تہذیب کی پشتیبان اور دنیا کی واحدسپر پاور پر امریکہ نے ، جہاں آج کل ایسے عناصربرسر اقتدار ہیں جو اسلام کے خلاف متعصب عیسائیوں جیسا روایتی جوش و جذبہ رکھتے ہیں، مسلم دنیا کے طاقتور ممالک کو بزور قوت تہس نہس کر کے انہیں کمزور، بے بس اور اپنا دست نگر بنانے کا فیصلہ کر لیا تاکہ وہ مغربی فکر و تہذیب کے غلبے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور یورپ اگرچہ امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے خلاف ہے لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بہر حال اس کا ساتھ دے رہا ہے ۔ چنانچہ امریکہ نے مسلمانوں (اور اسلام) کو دہشت گردقرار دے کر ان کے خلاف ایک عالمی جنگ چھیڑرکھی ہے اور وہ اقوام متحدہ کے ادارے ، یورپ اور دیگر ممالک کو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے بل پر گھسیٹ کر اپنے ساتھ کھڑا کر رہا ہے ۔وہ افغانستان اور عراق کو نگل چکا ہے اور ایران اور پاکستان پر اس کی یلغار جاری ہے۔

خلاصہ یہ کہ بعض مسلم دینی عناصر نے مغربی فکر و عمل کے خلاف عملی عسکری مزاحمت کرنے کی جو حکمت عملی اپنائی ہے اس کے نتیجے میں مسلم معاشرہ مزید کمزور ہوا ہے ۔ ان عناصر نے مغرب کے خلاف لڑائی تو چھیڑ لی لیکن وہ مغرب کے خلاف چونکہ باقاعدہ جنگ لڑنے کی سکت نہیں رکھتے لہذا اس نے گوریلا لڑائی بلکہ اکا دکا خود کش حملوں کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ اگرچہ یہ عناصر سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جہاد اور گوریلا کاروائیوں سے دشمن کو بتدریج کمزور کرنے اوربالآخر اس کے قدم اکھاڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ، ان کے اس زعم کو چیلنج نہ بھی کیا جائے، تو بھی دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ محض مغرب خصوصاً امریکہ کے زوال سے مسلمانوں کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ اس سے پہلے ہم یہ تجربہ کر چکے ہیں کہ پاکستان ، افغانستان بلکہ سارے عالم اسلام نے مغرب وامریکہ کا ساتھ دیا اور شلزم کا علمبردار روس ، (جو دوسری سپر پاور تھا) ٹوٹ گیا تو امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا اور مسلمانوں (خصوصاً پاکستان اور افغانستان) کو کچھ بھی نہ ملا بلکہ خود امریکہ آج انہیں برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ لہذا سوال یہ نہیں کہ امریکہ کو کیسے شکست دی جائے؟ فرض کیجیے اور یہ بہت بڑا مفروضہ ہے کہ اگر مسلمان اگلے ایک عشرے میں امریکہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں یا اسے کمزور کر دیتے ہیں تو بھی نظر یہ آتا ہے کہ اس کی جگہ چین یا یورپ لے لے گا ، مسلمانوں کے ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آئے گا کیونکہ (اور یہ دوسرا نکتہ ہے کہ ) اس مزاحمانہ پالیسی کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے کو ابھارنے ، مستحکم کر نے اور اسے مضبوط اور ترقی یا فتہ بنانے کی کوئی متحد، منظم اور موثر تحریک اور حکمت عملی موجود نہیں ہے بلکہ الٹایہ مزاحمتی پالیسی مسلم معاشرے میں خلفشار پیدا کرنے اور اسے کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے کیونکہ ان جہادی تنظیموں نے امریکہ اور یورپ کے خلاف محاذ جنگ کھولنے کے ساتھ ساتھ ان مسلم حکمرانوں اور ریاستو ں کے خلاف بھی محاذ کھول رکھا ہے جوطوعاً اور کرہاً امریکہ و یورپ کا ساتھ دے رہی ہیں ۔ اوریوں مسلم عوام اور ان کے حکمرانوں میں مزید بُعداور کشمکش پیدا ہو رہی ہے ۔اندر یں حالات یہ باور کرنا مشکل ہے کہ ان مسلم گروپوں کی مزاحمانہ عسکری پالیسی مغرب کے زوال اور مسلمانوں کے عروج کا باعث بن سکتی ہے۔

صرف نظر کی پالیسی

بعض مسلم دینی تحریکوں اور تنظیموں نے مغرب اور اس کی فکر و تہذیب کے حوالے سے ایک تیسری حکمت عملی اپنائی ہے جسے صرف نظر کی پالیسی کہا جا سکتا ہے جس کا مفاد اور مطلب یہ ہے کہ سیاست میں عملی حصہ نہ لیا جائے اور اجتماعی زندگی میں تغیر لانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے اور لوگوں تک دین پہنچانے کے عمل کو فرد اور عبادات و اخلاق تک محدود رکھا جائے ۔ اس پالیسی کی علمبردار، بعض دیگرر دینی عناصر کے علاوہ، تبلیغی جماعت ہے جو عالم اسلام کی غالباً سب سے بڑی دینی تحریک ہے اور حج کے بعد سب سے بڑے اجتماعات کئی مسلم ممالک میں ہر سال منعقد کرتی رہتی ہے ۔یہ جماعت اس بات سے کوئی غرض نہیں رکھتی کہ کسی مسلمان ملک کا حکمران نیک ہے یا بد اور وہ اجتماعی زندگی میں اسلام نافذ کرتا ہے یا نہیں ؟ ان لوگوں کو تبلیغ سے غرض ہے کہ وہ لوگوں کے کلمے سیدھے کرادیں اوردین کی بنیادی معلومات ان تک پہنچا دیں اور انہیں اس دین پر عمل کرنے والا بنا دیں ۔ اسی طرح انہیں امریکہ و یورپ سے بھی کوئی دلچسپی یا گلہ نہیں کہ وہ مسلم ممالک میں اپنی تہذیب و ثقافت کیوں متعارف اور نافذ کر رہے ہیں یا عراق و افغانستان جیسے مسلم ممالک کو کیوں کچل رہے ہیں۔ان کی روش یہ ہے کہ یہ سیاسی امور ہیں اور انہوں نے سیاست میں حصہ نہیں لینا۔

تبلیغی جماعت کے لوگوں کی سادگی، اخلاص اور محنت اپنی جگہ لیکن اسلام کے کسی ایسے تصور کو صحیح کیسے سمجھا جا سکتا ہے جو امت کی اجتماعی، سیاسی اور تہذیبی زندگی سے صرف نظر کرتا ہو، اسے اہمیت نہ دیتا ہو اور ان پر منفی طور پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے رد کو نہی عن المنکر کے اسلامی تصورکا حصہ نہ سمجھتا ہو۔ لہذا ہم تبلیغی جماعت اور اس سے ملتی جلتی تنظیموں کے موقف کو اسلامی حوالے سے امت مسلمہ کے سیاسی اور تہذیبی مستقبل کے تناظر میں غیر مفید بلکہ نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

نئی حکمت عملی کی ضرورت

ہماری اب تک کی گفتگو اس امر پر مرتکز رہی ہے کہ دنیا میں مغربیت اور جدید یت کے غلبے کے ماحول میں مسلم معاشرے کے دینی عناصرنے اس فکری اور تہذیبی غلبے کے رد عمل میں مسلم معاشرے میں اسلامی تعلیمات و اقدار کے بقا، احیا اور نفاذکے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی ۔اور اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ اس رد عمل میں دینی قوتوں نے جو موقف اپنائے ہیں وہ ناقص اور غیر موثر ثابت ہوئے ہیں لہذا اس امرکی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ معاملے پر از سر نو غور کیا جائے اور نئی حکمت عملی وضع کی جائے۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلم ممالک کے حوالے سے خود مغرب کے رویے پر ایک نظر ڈال لی جائے تاکہ نئی حکمت عملی وضع کرنے میں آسانی رہے۔

اس ضمن میں اہل مغرب نے ایک حکمت عملی تو یہ اپنائی ، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، کہ مسلم ممالک کو آزادی دیتے وقت وہاں اقتدار اپنے تربیت یافتہ آدمیوں کے سپرد کیا ۔ پھر اس کے بعد بھی اپنا سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے پر امن ذرائع سے (جیسے میڈیا اور تعلیم و تربیت وغیرہ) مسلم اوراجتماعی اداروں کی تشکیل اور ورکنگ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں کی اور ان کو ششوں میں اسے عموماً کامیابی ملی ۔ اس کے باوجود بعض مسلم ممالک اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوگئے اور مغرب کی خواہشات کے بر عکس اپنی پالیسیاں خود مختاری سے وضع کرنے کی کوشش کرنے لگے جیسے پاکستان ، عراق ، ملائیشیا ، ترکی اور ایران وغیرہ ۔

اس موقع پر سرد جنگ کے خاتمے اور روس کے ٹوٹ جانے کے نتیجے میں امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا اوراسے من مانی سے روکنے کے لیے کوئی طاقت موجود نہ رہی۔ دوسری طرف بعض مسلم ممالک کے کچھ ترقی کرنے اور اپنی مرضی چلانے کے نتیجے میں بعض مغربی مفکر ین نے تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا کیونکہ ان کی رائے میں مذہبی اختلافات اوردیگر مسائل اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔( ’’تہذیبی‘‘ تصادم کی بات انہوں نے اس لیے کی کہ ’’مذہب‘‘ کو اہل مغرب رد کر چکے ہیں اور اس کی جگہ ان کے ہاں’’ تہذیب‘‘ لے چکی ہے) اور انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام ہی اب ایک ایسی بڑی نظریاتی قوت ہے جس کے مغربی فکر و تہذیب کے مدمقابل آنے کا امکان ہے یا پھر چین ایک ابھرتی ہوئی بڑی قوت ہے۔ لیکن کمیونزم اور کنفیوشس ازم کے اثرات کے باوجود جدید چین جس طرح نظری اور عملی طور پر مغربی فکر و تہذیب کے قریب آرہا ہے، اسے وہ کوئی بڑا نظریاتی مد مقابل نہیں سمجھتے اور ہر پھر کر ان کی نظریں اسلام ،مسلم معاشروں اور حضوصاًان جماعتوں اور تحریکوں پر پڑتی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کی متمنی ہیں چنانچہ انہوں نے تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیااور دنیاکی بدقسمتی یہ کہ پچھلے کئی سالوں سے امریکی اقتدار پر قابض حکمران جماعت نے اسے قبول کر لیا۔ چنانچہ پر امن ذرائع سے مسلم ممالک کو قابو میں رکھنے کی پالیسی ترک کر کے امریکہ نے یورپ اور اقوام متحدہ کو ساتھ ملا کر ، اور جہاں انہوں نے ساتھ نہ دیا، وہاں اکیلے ہی، اپنی برتر فوجی قوت سے مسلم ممالک پر چڑھائی کر دی ۔ اس نے افغانستان اور عراق کو تباہ و برباد کر دیا اور ایران اور پاکستان کو روندنے کے حیلے بہانے تلاش کئے جارہے اور دباؤ بڑھا یا جارہا ہے۔

نئی حکمت عملی کے خدوخال 

ان حالات میں کہ اسلامی فکر و تہذیب کا بقاء و استحکام خطرے میں ہے اور مغربی فکر و تہذیب کا غلبہ و استیلاء جاری ہے اور مسلم دینی عناصر کی اس صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں، یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ اس معاملے پر از سر نوغور کیا جائے اور اس صورت حال سے عہدہ بر آہونے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کی جائے ۔ ہماری طالب علمانہ رائے میں نئی حکمت عملی کی تشکیل کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہونے چاہئیں:

۱۔ پر امن ہونا 

یہ بات واضح ہے کہ فوجی تصادم اس مسئلے کا کوئی حل نہیں؟ مسلم ممالک بفرض محال اکٹھے ہو بھی جائیں(جس کے امکانات نہایت معدوم ہیں) تو وہ یورپ اور امریکہ کی فوجی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ گوریلا جنگ، جیسا کہ اس وقت بعض مسلم تنظیمیں لڑ رہی ہیں، وہ طاقتور مغرب کو مشتعل تو کر سکتی ہے اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت اسے کچھ کمزور بھی کر سکتی ہے اور مسلمانوں میں جذبہ جہاد بھی بیدار رکھ سکتی ہے لیکن یہ نہ تو مغرب کو شکست دے سکتی ہے اور نہ اس کی علمی اور تہذیبی برتری کو دھندلا سکتی ہے اور نہ مسلم معاشرے کو ترقی اور عروج کی متبادل اساس فراہم کر سکتی ہے بلکہ الٹا اہل مغرب کی نفرت کو بڑھا کر انہیں اسلام اور مسلمانوں سے دور لے جا سکتی ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں مغرب سے فوجی تصادم اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ ہاں !اگر کسی مسلمان ملک پر حملہ ہو تو پھر دفاع اس کا قانونی حق بھی ہے اور مجبوری بھی۔

۲۔ تعلیم و تربیت اور میڈیا پر ترکیز

مسلم جماعتوں اور اداروں کو چاہیے کہ تعلیم و تربیت اور میڈیا پر اپنی توجہ مرکوز کر یں حضوصاً تعلیم و تربیت کا میدان ایسا ہے جو صحیح مسلم فرد اور شخصیت کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کام کی گنجائش اور اس کے مواقع و امکانات بھی موجود ہیں۔ تعلیم میں اس وقت دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔ مسلم عناصرا گر، گر اس روٹ لیول پرکام کریں اور ایسے سکول و کالج ہزاروں کی تعداد میں مسلم معاشرے میں پھیلا دیں جو مسلم شخصیت کی نمومیں مثبت کردار ادا کریں تو اس کام کے مثبت اثرات مستقل قریب میں ضرور نکلیں گے۔ دیکھیے! تعلیم ایک خاموش انقلاب لاتی ہے۔ اس کے لیے نعروں کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کے لیے کسی اسلحے اور ایٹم بم کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے حکومتی امداد کی بھی ضرورت نہیں ۔ مقامی مسلم آبادی کو متحرک کیا جائے اور انہیں تعلیم و تربیت کی اہمیت بتائی جائے تو یقیناًاتنے وسائل مہیا کئے جا سکتے ہیں جن سے مقامی سکول و کالج چلایا جاسکے ۔ ہاں! اس کی ضمانت دیناہوگی کہ اس اسکول کا نصاب مغربی تعلیم کا چربہ نہ ہو بلکہ آزاد مسلم سوچ کا نتیجہ ہو یہ نصاب اسلامی نظرئیہ علم اور اسلامی ورلڈ و یو پر مبنی ہو۔ مغرب کے تعلیمی تجربات کو سامنے ضرور رکھا جائے لیکن ان کی اندھی پیروی نہ کی جائے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے اداروں کے لیے چونکہ بھاری فنڈز درکار ہوتے ہیں جو حکومتوں ہی کے بس میں ہوتے ہیں اس لیے مجوزہ تعلیمی اداروں میں سوشل سائنس یا عمرانی علوم پر توجہ مرکوزکی جائے۔ ان سکولوں میں مسلم طلبہ و طالبات کو نہ صرف صحیح خطوط پر تعلیم دی جائے بلکہ ان کی تربیت بھی کی جائے یعنی تعمیر سیرت اور کردار سازی اس کا لازمی حصہ اور نتیجہ ہو۔ اس سے بڑی تعداد میں ایسے افراد تیار ہونا شروع ہو جائیں گے جو اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں گے اوروہ اسلامی اقدار کے پشیتبان ہوں گے۔ یہ لوگ زندگی میں جہاں بھی جائیں گے مثبت انداز میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں گے۔ وہ اگر اجتماعی اداروں کی تشکیل میں حصہ لیں گے تو ان کی بنا اسلامی اصولوں پر رکھیں گے اور جہاں ضروری ہو گا مغربی تجربات سے استفادہ بھی کر لیں گے۔ یہ کام مسلم معاشرے میں وسیع پیمانے پر کیا جائے تو اس سے اسلامی فکر و تہذیب کو یقیناًفروغ حاصل ہوگا،اس کا تشخص بحال ہو گا اور مسلم معاشرہ بحیثیت مجموعی مستحکم ہو گا۔

مسلمان عوام کی فکری و عملی و تربیت اور ذہن سازی میں تعلیم و تربیت کے علاوہ الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کی مد د لینا بھی ضروری ہے کیو نکہ ان کی افادیت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔مسلم ممالک میں میڈیا اگر آزاد انہ خطوط پر استوار ہو تو بین الاقوامی سطح پر اس سے یہ موقع بھی ملے گا کہ مغرب کے عوام اور اہل دانش میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو دور کیا جائے اوربتدریج ایسی فضا پروان چڑھے جس سے اہل مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نفرت اور تعصب ختم ہو اور وہ معروضی انداز میں اسلامی حقائق کی تفہیم پر قادر ہو سکیں۔اگر ایسا ہو جائے تو اسلام کی مقناطیسی قوت انہیں خوداپنی طرف کھینچ لے گی خواہ ان کے حکمران اس کی جتنی بھی مخالفت کریں۔

۳۔ فرد پر توجہ

اس سے پہلے مصالحت اور مزاحمت پر مبنی جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس میں ترکیز نظام پر تھی مثلاً یہ کہ سیاسی نظام اسلامی ہو جائے، قانونی نظام اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔۔۔ وغیرہ۔ نئی حکمت عملی میں نظام کے برعکس ترکیز فرد پر ہو۔ معاشرہ چونکہ افرد ہی سے مل کر بنتا ہے لہذا اگر فرد کی صحیح تعلیم و تربیت کا فعال اور موثر نظام وضع ہو جائے تو معاشرے کے سدھرنے اور صحیح سمت میں اس کی پیش رفت کے امکانات غالب ہو جائیں گے ۔ معاشرے کی ترقی اور عروج کے لیے فرد کی اصلاح اور ترقی نہ صرف فطری تدریج کے اصول کے عین مطابق ہے بلکہ یہ اس اسلامی اصول کے مطابق بھی ہے جس کی رو سے اصلاح ود عوت کا کام نیچے سے اوپر کو جانا چاہئے نہ کہ اوپر سے نیچے کی طرف آنا چاہیے اور الاقرب فالا قرب کی ترجیح پر مبنی ہونا چاہئے نہ کہ عمومی معاشرتی تبدیلی کی اساس پر۔

۴۔ فکری جارحیت

ماضی کی مفاہمانہ حکمت عملی نے مسلم امت کو مغربی فکر سے مرعوبیت اور اس کی اندھی پیروی کے راستے پر ڈال دیا ہے جو تہذیبی خود کشی کے مترادف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو فکری لحاظ سے کسی دست گیری کی ضرورت نہیں۔ ہمارے دینی مآخذ (قرآن و سنت) الحمدللہ محفوظ و مامون ہیں۔ پھر مسلمانوں کا سماجی اور اقداری ڈھانچہ مغربی تسلط کے باوجود ابھی تک قائم ہے۔ لہذا ہم اب بھی مغرب کو بہت کچھ دینے کے قابل ہیں جیسے مستحکم خاندانی نظام ، پر سکون زندگی، اعلیٰ اقدار، اطمینان ذہن و قلب وغیرہ ۔اور چونکہ اسلام ایک مشنری دین ہے، لہٰذا مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ مغرب سے فکری مرعوبیت کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور مدافعانہ اسلوب اختیار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے رد کرتے ہوئے اور اس پر فکری و علمی تنقید کر کے اسے ناقص اور انسانیت کے لیے مضر ثابت کیا جائے اور ہجومی انداز اختیار کر تے ہوئے اور دعوت و تبلیغ کا کام جدید خطو ط پر اور احسن انداز میں منظم کر کے اہل مغرب کے دل و دماغ کو فتح کر لینے کی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے ۔ اس سے بالواسطہ یہ فائدہ بھی ہو گا کہ نوجوان مسلم نسل اپنے ماضی پر فخر کرنا سیکھے گی،اپنے مستقبل کے بارے میں پر امید ہو جائے گی اور اس کی ملی انا مستحکم ہوگی اور یہ تاثر پختہ ہوگا کہ ہم بھی کچھ چیزہیں، ہماری بھی کچھ اہمیت ہے اور دینا میں ہمارا بھی کچھ کردارہے۔

۵۔ تیز رفتار ترقی

دراصل چیز کی مسلم امہ کو ضرورت ہے وہ یہ کہ کسی تصادم اورچپقلش میں پڑنے کی بجائے اسے موقع ملے کہ وہ خاموشی سے مسلم عوام کی ترقی اور بہبود کے لیے تیز رفتار اقدامات کر سکے (ترقی اسلامی ماڈل کے مطابق [جیسی مثلاً خلافت راشدہ میں ہوئی] نہ کہ مغربی ماڈل کے مطابق) جس کی اساس صحیح اسلامی تعلیم و تربیت ہی ہوسکتی ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم معاشرے میں شرح خواندگی سو فیصد ہو جائے، غربت کا خاتمہ ہو، سیاسی نظام مستحکم ہو، سماجی اقدار پر عمل ہو اور معاشی نظام کو یہودیوں کے زیر تسلط عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل اور قرض کی معیشت سے چھٹکارا دلایا جائے۔

۶۔ قیادت

نئی حکمت عملی کے وضع و نفاذ کے لیے قیادت اور عمل درآمدی قوت کے بارے میں بھی نئی سوچ سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اس کی قیادت روایتی دینی عناصر کی بجائے سول سوسائٹی کے ان افراد کو کرنی چاہیے جو جدید تعلیم یافتہ ہوں، لیکن ساتھ ہی اپنے ماضی، دین، تعلیم اور اقدار سے بھی وابستہ ہوں۔ اسی طرح اس کے نفاذ کے لیے بوڑھوں اور ادھیڑ عمر افراد کی بجائے ایسے نوجوانوں کو اس کے لیے تیار اور متحرک کیا جائے جو اسلامی تناظر میں صحیح نقطہ نظر کے حامل ہوں اور جو اس حکمت عملی کی تفہیم کے بعد اخلاص اور جذبے کے ساتھ اس کے لیے متحرک کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوں۔ 

یہ وہ رہنما خطوط ہیں جن پر عمل کر کے ہماری رائے میں، نہ صرف مسلم معاشرے کو مغربیت اور جدید یت کے تباہ کن سیلاب سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ مسلم امہ کو اسلامی تناظر میں دنیا وی ترقی اور غلبہ و عرو ج کی سمت میں متحرک کیا جا سکتا ہے ۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور مسلم اہل دانش کو اس پر غور و تدبر کرنا چاہئے اور اپنے نتائج فکر سامنے لانے چاہئیں ۔ ظاہر ہے سٹیٹس کو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا اور نئے حالات میں نئی حکمت وضع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام صرف آزادانہ اور تنقیدی سوچ ہی سے ممکن ہے، لہٰذا اس موضوع پر مسلم اہل دانش کے درمیان ڈائیلاگ ضروری ہے جس کی ابتدا ہم نے کردی ہے۔ فہل من مزید؟

اسلام اور عصر حاضر

(نومبر و دسمبر ۲۰۰۸ء)

Flag Counter