ارتقا کی مختصر ترین تاریخ
پہلے بیان کیے گئے ارتقا کے سائنسی اصول وہی ہیں جو نیو ڈارونزم(Neo-Darwinism) یا جدید امتزاج (Modern Synthesis) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، "Neo" کے معنی کو سمجھنے کے لیے اس نظریے کی تاریخی بنیادوں میں جھانکناضروری ہے، اور یہی اس حصے میں بیان کیا جائے گا۔ اس سیکشن میں واضح کیا جائے گا کہ ارتقا کا نظریہ وجود میں کیسے آیا، کس طرح ترقی کرتا رہا، اور آج اسے کن چیلنجز کا سامنا ہے۔ البتہ، یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ یہ ایک سادہ خاکہ ہے، جب کہ ارتقا کی اصل تاریخ بہت طویل اور پیچیدہ ہے۔ مؤرخین، تاریخ کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے اسے مختلف زمروں میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہ تقسیم حقیقت کو مسخ بھی کر دیتی ہے۔ لہٰذا، اس حصے کو ارتقا کی تاریخ کا محض ایک بنیادی خلاصہ سمجھا جائے۔ تاریخی تفصیلات وہی مؤرخین فراہم کرسکتے ہیں، جنہوں نے اس موضوع پر گراں قدر کام کیا ہے (Moore 1981; Bowler 1983; Bowler 2007; Young 2007; Bowler 2009; Depew 2009; Spencer 2009; Bowler 2015; Johnson 2015; Jenkins 2019; Gribbin and Gribbin 2020)۔
مزید برآں، یہاں اختیار کیے گئے مخصوص نقطہ نظر کی وضاحت ضروری ہے۔ ڈارون کے دور میں یہ عام تصور تھا کہ خدا نے تمام چیزوں کو ایک خاص ڈیزائن اور مقصد کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ لیکن ارتقا کے نظریے کے بعد، حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کو کسی مافوق الفطرت وضاحت کے بغیر بھی سمجھنا ممکن ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزائن اور ارتقا کے تصورات کو بعض اوقات ایک دوسرے کے متضادبھی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بحث بہت اہم ہے، لیکن اسے یہاں تفصیل سے زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا۔ ڈیزائن اور ارتقا کے باہمی تعلق پر گفتگو مکمل طور پر ساتویں باب میں کی جائے گی، جب کہ ٹیلیالوجی (teleology) سے متعلق بحث چھٹے باب میں شامل ہوگی۔
قرونِ وسطیٰ کے تصورات
یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ مشترکہ نسب (common ancestry) کا تصور عہد روشن خیالی (تقریباً سترہویں سے انیسویں صدی) سے پہلے موجود نہیں تھا۔ اس وقت کا غالب نظریہ یہ تھا کہ تمام جاندار ہمیشہ اپنی موجودہ حالت میں رہتے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ یہ تصور عظیم سلسلہءِ وجود (Great Chain of Being - GCB) کے نام سے معروف ایک فکری ڈھانچے پر مبنی تھا۔ یہ ایک درجہ بندی پر مبنی نظریہ تھا جو مخلوقات کو ایک مخصوص ترتیب میں رکھتا تھا، جہاں خدا سب سے بلند مقام پر تھا، کیونکہ وہ کبھی بھی ناقص نہیں ہو سکتا۔ اس کے نیچے موجود ہر چیز ناقص مخلوقات پر مشتمل تھی۔ اس نظریے کے مطابق، سب سے نچلے درجے پر بے جان اشیا جیسے معدنیات (minerals) تھیں، اس کے بعد نباتات (plants)، پھر حیوانات (animals)، پھر فرشتے، اور سب سے آخر میں خدا کا مقام تھا (Bowler 2009, 62–66)۔
GCB کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ اس نے دنیا کو مستقل اور غیر متغیر وجودی اکائیوں (fixed ontological units) کے طور پر دیکھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک جاندار کا کسی اور جاندار میں تبدیل ہونا ناممکن تھا (Morvillo 2010, 144)۔ بلی ہمیشہ بلی رہے گی، شیر ہمیشہ شیر رہے گا، اور انسان ہمیشہ انسان رہے گا۔ اس نظریے سے مکمل انحراف کرنے کے لیے سائنسی (اور فلسفیانہ) ارتقا میں کئی اہم پیش رفتوں کی ضرورت تھی۔
اس مخصوص نظریے پر باب پنجم میں مزید تفصیل سے گفتگو کی جائے گی، جہاں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح بعض معاصر مسلم مفکرین ارتقائی نظریات کو تاریخی مسلم مفکرین کے کام میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ درحقیقت وہ GCB کے ہی تصورات پر بات کر رہے ہوتے ہیں۔
قبل از ڈارون ارتقائی نظریات
ارتقا کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ چارلس ڈارون پہلے شخص تھے جنہوں نے ارتقا کا تصور پیش کیا۔ یہ درست نہیں، کیونکہ ڈارون سے پہلے بھی ارتقائی نظریات موجود تھے۔ تاہم، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جینیات (genetics) بطور ایک منظم علم 1930 کی دہائی سے پہلے موجود نہیں تھا، جو کہ ڈارون کے بعد کا دور ہے۔ لہٰذا، ان نظریات کو اسی سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔
ارتقا کا ایک منظم نظریہ پیش کرنے والے ابتدائی مفکرین میں ایک فرانسیسی سائنسدان جین باتیست لامارک (Jean-Baptiste Lamarck) شامل تھے۔ ان کا نظریہ چند بنیادی نکات پر مبنی تھا۔
- لامارک کے مطابق، تمام جانداروں کے اندر ایک سیال (fluid) موجود ہوتا ہے، جو انہیں مسلسل زیادہ پیچیدگی کی طرف لے جاتارہتا ہے (Larson 2006, 41)۔ دوسرے الفاظ میں، حیاتیاتی مخلوقات میں اندرونی طور پر زیادہ ترقی یافتہ ہونے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اس کے مطابق، جانداروں کی نشوونما ایک درجہ وار ترقی (ladder-like progression) میں ہوتی ہے۔
- اسی سیال کی مدد سے جاندار اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی جاندار کسی مخصوص عضو کو مسلسل استعمال کرتا رہے، تو وہ ترقی کرتا ہے، اور جو عضو غیر ضروری ہو جائے، وہ زوال پذیر ہو جاتا ہے (Bowler 2009, 92)۔ اس اصول کو استعمال اور ترک کرنے کا قانون (law of use and disuse) بھی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک زرافہ لمبے درختوں کی پتیاں کھانے کے لیے مسلسل اپنی گردن کو کھینچ کر استعمال کرتا رہے، تو وقت کے ساتھ اس کی گردن لمبی ہو جائے گی، تاکہ وہ اپنے ماحول سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکے۔
- لامارک نے وراثتِ صفات (inheritance of acquired characteristics) کے اصول کو اپنایاتھا۔ اس کے مطابق، اگر کسی جاندار نے اپنی زندگی کے دوران کسی خاص صفت یا صلاحیت کو حاصل کیا، تو وہ اس کی آئندہ نسلوں میں خود بخود منتقل ہو جائے گی۔یعنی اگر کسی زرافے نے اپنی زندگی میں ایک لمبی گردن حاصل کرلی، تو اس کی نسل میں آنے والے بچے بھی لمبی گردن کے ساتھ پیدا ہوں گے، بجائے اس کے کہ انہیں کوشش کرکے خود یہ صفت پیدا کرنی پڑے (Bowler 2009, 92)۔
- لامارک نے سختی سے مشترکہ نسب (common ancestry) کے نظریے کو نہیں اپنایا۔ ان کے خیال میں زندگی مسلسل خود بخود وجود میں آتی رہتی ہے اور اس کے نتیجے میں مختلف، الگ الگ ارتقائی راستے بنتے ہیں، جو زیادہ پیچیدہ شکل کی طرف جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وہ ارتقائی تعلق کو کسی جھاڑی (bush) کی مانند نہیں دیکھتے تھے، بلکہ الگ الگ سیڑھیوں (independent ladders) کے طور پر دیکھتے تھے، جن پر مختلف انواع (species) اپنے اپنے راستے پر ترقی کر رہی تھیں (Larson 2006, 42; Waters 2009, 123; Morvillo 2010, 146)۔ لہٰذاکچھ انواع اپنی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہوتی تھیں (یعنی تاریخی طور پر نئی)، جب کہ کچھ زیادہ ترقی یافتہ، قدیم اور بلند درجے پر پہنچ چکی ہوتی تھیں (Shanahan 2004, 14–17)۔ اس نظریے کا مطلب یہ بھی تھا کہ انواع کا خاتمہ (extinction) ممکن نہیں تھا۔ جو فوسلز دریافت ہو رہے تھے، وہ محض کسی مخصوص نوع کے انفرادی نمونے تھے، نہ کہ اس نوع کے مکمل خاتمے کا ثبوت (Bowler 2009, 89)۔
یہ تمام نظریات مجموعی طور پر لامارکیت (Lamarckism) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
چارلس ڈارون
ڈارون کی سوانح حیات نہایت دلچسپ ہے۔ کئی محققین نے ان کے کام، تاریخی پس منظر، اور اس کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ کیا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ اپنے نظریے تک کیسے پہنچے (Spencer 2009; Johnson 2015)۔ تاہم، یہاں ہمارا مقصد ڈارون کی شخصیت یا ان کے تمام کام پر بحث کرنا نہیں، بلکہ ان کے نظریے کی انفرادیت کو سمجھنا ہے۔
1859 میں، چارلس ڈارون نے اپنی مشہور کتاب On the Origin of Species by Means of Natural Selection, or the Preservation of Favoured Races in the Struggle for Life شائع کی، جسے یہاں On the Origin of Species کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ اس کتاب میں انہوں نے ارتقا کے نظریے کو تین بنیادی نکات پر استوار کیا۔
پہلا نکتہ قدرتی انتخاب (Natural Selection) پر ان کا زور تھا، جو ان کے نظریے کو منفرد بناتا ہے۔ ڈارون نے یہ تصور مصنوعی انتخاب (Artificial Selection) سے اخذ کیا، جو کسان افزائشِ نسل میں استعمال کرتے ہیں (Larson 2006, 69; Waters 2009, 124)۔ مصنوعی انتخاب، جسے Selective Breeding بھی کہا جاتا ہے، وہ عمل ہے جس میں مخصوص جانوروں یا پودوں کو افزائش کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تاکہ ان کی اگلی نسل میں مخصوص صفات کو فروغ دیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، تیز رفتار گھوڑے پیدا کرنے کے لیے مربی تیز رفتار نر اور مادہ گھوڑوں کو ملاپ کے لیے چنتے ہیں۔ اس عمل میں انسانی مداخلت ایک متعین نتیجے کے حصول کے لیے کی جاتی ہے۔
ڈارون نے اسی تصور کو قدرتی ماحول پر منطبق کیا (Largent 2009)۔ چونکہ ہر ماحول کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں، اس لیے وہ جاندار جو اپنے ماحول سے بہتر مطابقت رکھتے ہیں، ان کے زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ تصور دو بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔ اولاً انواع کو خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ مثلاً، گھنے بالوں والے جانور جو جسم کی گرمی کو زیادہ دیر برقرار رکھتے ہیں، گرم صحرائی ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ثانیاً انواع کو اپنے ماحول میں دستیاب محدود وسائل کے لیے مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے (Larson 2006, 85)۔
زندگی کی بقا کے اس پیچیدہ عمل میں، قدرت فیصلہ کرتی ہے کہ کون سی انواع کامیاب ہوں گی۔ یہی اصول قدرتی انتخاب (Natural Selection) کہلاتا ہے، جو ڈارون کے نظریہ ارتقا کی بنیاد بنا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظریے کو "ڈارون ازم" (Darwinism) کہا جاتا ہے، جس کا آگے "نیو ڈارون ازم" (Neo-Darwinism) سے موازنہ کیا جائے گا۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ڈارون کو جینیات (Genetics) کا علم نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اگلی نسل والدین سے صفات کس طرح حاصل کرتی ہے۔ انہوں نے محض ایک قیاس پیش کیا، جسے Pangenesis کہا جاتا ہے (Endersby 2009, 82–86)۔ اس نظریے کے مطابق، جسم کے تمام خلیے چھوٹے ذرات خارج کرتے ہیں، جنہیں "جیمولز" (Gemmules) کہا جاتا ہے، جو والدین کے جنسی خلیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان جیمولز کے ذریعے اولاد والدین کی خصوصیات وراثت میں حاصل کرتی ہے۔
یہ نظریہ دو پہلوؤں سے اہم تھا:
- یہ کسی حد تک لامارکیت (Lamarckism) سے مشابہت رکھتا تھا، خاص طور پر اس اصول سے کہ حاصل شدہ خصوصیات وراثت میں منتقل ہو سکتی ہیں (Larson 2006, 86)۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص جوانی میں دبلا پتلا ہو اور بعد میں لحیم و شحیم ہو جائے، تو اس کے ابتدائی بچوں کی جسامت دبلے پتلے والد جیسی اور بعد میں پیدا ہونے والے بچوں کی جسامت والد کی نئی جسمانی ساخت سے مشابہ ہو سکتی ہے۔
- اس نظریے سے مرکب وراثت (Blended Inheritance) کا تصور پیدا ہوتا تھا، جس میں والدین کی خصوصیات مل کر ایک اوسط صفت پیدا کرتی ہیں۔ مثلاً، اگر والدین کے بالوں کا رنگ مختلف ہو تو اولاد میں درمیانی رنگ کے بال پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اس نظریے میں ایک مسئلہ تھاکہ اگر خصوصیات مسلسل مدغم ہوتی رہیں، تو وہ کئی نسلوں کے بعد مدھم ہو جاتیں، جو مشاہدے اور تجربات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے بعد میں اسے مسترد کر دیا گیا (Morvillo 2010, 152)۔ ڈارون کو معلوم تھا کہ ان کا نظریہ اس وقت دستیاب شواہد کی بنیاد پر محض ایک قیاس تھا (Lustig 2009)۔ ان کے نظریے کے مطابق ارتقا ایک طویل اور تدریجی عمل تھا، لیکن اس وقت کے طبیعیاتی اصولوں کے مطابق زمین کی عمر اتنی زیادہ تسلیم نہیں کی جا رہی تھی (Larson 2006, 120)۔ لارڈ کیلون (Lord Kelvin) نے سائنسی حسابات کی بنیاد پر زمین کی زیادہ سے زیادہ عمر 500 ملین سال اور ممکنہ عمر 200 ملین سال بتائی تھی (Hattiangadi 1971, 505)، جو ڈارون کے نظریے کے لیے ناکافی تھی، اور وہ خود بھی اس مسئلے سے آگاہ تھے (Hattiangadi 1971, 506)۔
مزید یہ کہ، فوسل ریکارڈ کی عدم تکمیل بھی ایک مسئلہ تھا (Shanahan 2004, 247–282; Herbert and Norman 2009)۔ اگر ارتقا واقعی ایک تدریجی عمل ہے، تو فوسل ریکارڈ میں بہت سے عبوری مراحل ہونے چاہییں تھے، لیکن ان کی کمی کی وجہ سے ارتقائی نظریے میں کچھ خلا باقی رہے (Larson 2006, 125; Rogers 2011, 5; Berry 2012, 26)۔ ان نامکمل شواہد کی وجہ سے متبادل تشریحات کے امکانات بھی موجود رہے۔
نیو ڈارون ازم
ڈارون کے نظریات کو ملا جلا ردعمل ملا۔ کچھ لوگ اس کے نظریے کے سخت مخالف تھے، جبکہ کچھ اسے قبول کرنے کے لیے زیادہ مائل نظر آئے (Larson 2006, 177–218; Bowler 2009, 177–273; Brooke 2012)۔ اس حوالے سے مختلف افراد اور تحریکوں کے نظریات سے قطع نظر، اس حصے میں اہم بات یہ ہے کہ ڈارون ازم آخرکار ارتقائی اصول کے طور پر مستحکم ہوگیا۔ ڈارون کے نظریے میں سائنسی مسائل پہلے ہی زیر بحث آ چکے ہیں، لیکن کچھ مذہبی و فلسفیانہ خدشات بھی تھے جن کی وجہ سے ڈارون ازم کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ "کائنات میں مقصدیت" (Teleology) تھا، یعنی یہ سوال کہ کیا فطرت میں ہر چیز کسی خاص مقصد کے تحت بنی ہے، یا محض اتفاقیہ عمل کا نتیجہ ہے؟ اگر ڈارون کے بیان کردہ اصول کے مطابق ارتقا درست ہے اور یہ بنیادی طور پر ماحولیاتی دباؤ اور وراثت پر منحصر ہے، تو یہ کائنات کے روایتی تصور کو چیلنج کرتا ہے، جس سے خدائی مشیت کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں (Berry 2012, 21–22)۔ اگر جانداروں کی بقا ان کے بدلتے ہوئے ماحول پر منحصر ہے، تو کسی مخصوص موافقت کو اچھا یا برا کہنا محض ایک اضافی تصور بن جاتا ہے۔ جو خصوصیت ایک دن کسی جاندار کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، وہی دوسرے دن غیر مؤثر یا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے (Morvillo 2010, 153)۔ اس لحاظ سے، ارتقا کی سمت غیر یقینی اور غیر متوقع نظر آتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض افراد نے ڈارون کے نظریہ ارتقا میں انسان کے ظہور کو ایک "اتفاقیہ واقعہ" سمجھا، جو کہ خدائی منصوبہ بندی کے تصور سے متصادم تھا۔
اسی بنا پر نیو لامارکیت (Neo-Lamarckism) کو ایک بہتر نظریہ تصور کیا گیا، کیونکہ اس میں استعمال اور ترک کا قانون (law of use and disuse) شامل تھا، جس کے تحت جاندار اپنی زندگی کے دوران کچھ حد تک اپنی خصوصیات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے (Bowler 1988, 200–201; Bowler 2009, 236–247)۔ جیسا کہ Bowler (2009, 367) نے لکھا ہے:
انیسویں صدی کے آخر میں نیو لامارک ازم نے ایک نہایت مؤثر دلیل پیش کی کہ ڈارون ازم ایک مشینی نظریہ ہے جو جانداروں کو صرف وراثتی قوانین کے تحت چلنے والی کٹھ پتلیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ انتخابی نظریہ زندگی کو ایک رُوسی رُولیٹ (Russian roulette) بنا دیتا ہے، جہاں کسی کی زندگی یا موت محض موروثی جینز پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، لامارکیت میں فرد کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ماحولیاتی چیلنجز کے مطابق اپنے طرز زندگی کو بدلے اور ارتقا کی سمت پر اثر ڈالے۔
دوسرا مسئلہ فطری انتخاب (natural selection) اور خدائی رحمت (omnibenevolence) کے درمیان تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق، کرۂ ارض پر 99 فی صد انواع (species) معدوم ہو چکی ہیں (Urry et al. 2016, 472)۔ اگر خدا رحیم و کریم ہے، تو اس نے ایسا نظام کیوں بنایا جس میں جانداروں کی بقا اور ان کی نسلوں کی معدومی ایک مستقل حقیقت ہو؟ یہ سوال آج بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے (Larson 2006, 90–93)۔
تیسرا مسئلہ انسانی انفرادیت (human uniqueness) کا تھا (Bowler 2009, 207–223)۔ عام تصور یہ تھا کہ انسان دیگر جانداروں، خاص طور پر بندروں، سے بالکل منفرد ہیں۔ لیکن اگر ارتقا درست ہے، تو انسان اور دیگر جانداروں میں فرق محض درجے (degree) کا ہوگا، نہ کہ نوعیت (kind) کا (Moore 1981, 156; Larson 2006, 97–99)۔ اس نظریے نے انسان کے شعور اور عقل پر سوالات کھڑے کر دیے (Larson 2006, 95)۔ اگر انسان فطری انتخاب اور تصادفی تغیر (random mutation) کے ذریعے وجود میں آیا ہے، تو انسان کے نظریات اور عقائد کی سچائی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جیسا کہ Darwin (1881) لکھتا ہے:
میرے ذہن میں ہمیشہ یہ ہولناک شک پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کا ذہن حیوانی دماغ کی ترقی یافتہ شکل ہے، تو اس کی سچائی کی کیا ضمانت ہے؟ کیا کوئی بندر کے دماغ کے نظریات پر اعتماد کرے گا، اگر اس میں کوئی نظریات ہوتے بھی؟
انسانی انفرادیت سے جڑا ایک اور مسئلہ اخلاقیات (morality) کا تھا۔ اگر ارتقا محض "سب سے طاقتور کی بقا" (survival of the fittest) پر مبنی ہے ) ایک اصطلاح جو ڈارون نے نہیں بلکہ ہربرٹ اسپنسر نے متعارف کروائی تھی ، (Larson 2006, 72) تو پھر معروضی اخلاقیات (objective morality) کے لیے جگہ کہاں رہ جاتی ہے؟ اگر ہمارے آباؤ اجداد کی بقا کا دارومدار محض بقا کی جبلت پر تھا، تو پھر کسی بھی عمل کو ضروری قرار دیا جا سکتا تھا، چاہے وہ ضعیف، معذور یا غریب افراد کا خاتمہ ہی کیوں نہ ہو (Larson 2006, 95)۔ یہی وجہ ہے کہ ارتقا کو بعض نظریات، جیسے یوجینکس (eugenics)، کمیونزم (communism)، اور سرمایہ داری (capitalism) سے جوڑا جاتا ہے (Moore 1981, 153–173; Larson 2006, 70; Bowler 2015, 153–170)۔
اسی طرح، "فطرت" (natural) کے تصور پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اگر جبلت ارتقا کا لازمی حصہ ہے، تو پھر ایسی چیزیں جو روایتی طور پر ممنوع سمجھی جاتی ہیں، جیسے عصمت فروشی، جوا، شراب نوشی، اور دیگر اخلاقی برائیاں، انہیں بھی انسان کی حیاتیاتی ساخت کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے (Morvillo 2010, 155; Huskinson 2020, 108–111)۔ یہ وہ مسائل ہیں جو ارتقا کے نظریے میں انسانی وقار اور اخلاقی اصولوں کے لیے چیلنج بنے رہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ رکاوٹوں کے باوجود سائنسی دریافتوں نے ڈارون کے نظریے کو ارتقائی اصول کے طور پر مستحکم کیا (Bowler 1983)۔ 1930 کی دہائی میں مینڈیلین جینیات (Mendelian genetics) کی دوبارہ دریافت نے وراثت کے مسئلے کو حل کر دیا (Bowler 1983; Bowler 1988, 105–130; Larson 2006, 153–174; Bowler 2015)۔ جب مینڈیلین جینیات اور قدرتی انتخاب (natural selection) کو یکجا کیا گیا، تو اسے نیو ڈارون ازم (Neo-Darwinism) یا جدید ترکیب (Modern Synthesis) کا نام دیا گیا، جسے بعد میں ایک جین پر مرکوز بیانیہ (gene-centred narrative) کے طور پر قبول کر لیا گیا (Larson 2006, 221–243; Walsh and Huneman 2017, 4)۔ علاوہ ازیں، آثارِ قدیمہ کی دریافتوں سے ان حیاتیاتی خلا کو پُر کیا گیا جو ڈارون کے دور میں موجود نہیں تھے۔ اسی طرح تابکاری (radioactivity) کی دریافت سے زمین کی عمر تقریباً 4.6 بلین سال تک بڑھا دی گئی، جس نے لارڈ کیلون (Lord Kelvin) کے اندازوں کو مسترد کر دیا۔ یہ سائنسی انکشافات آخرکار ارتقا کے دیگر متبادل نظریات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے اور نیو ڈارون ازم کو جدید حیاتیاتی سائنس میں مرکزی حیثیت دے دی۔
موجودہ مباحثے
نیو ڈارون ازم کی کامیاب کہانی کے باوجود، سائنسی دنیا نے اب اس پر سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے (Larson 2006, 267–286; Pigliucci and Müller 2010; Fodor and Piatelli-Palmarini 2011; Jablonka and Lamb 2014; Laland et al. 2014; Marshall 2015; Walsh and Huneman 2017; Uller and Laland 2019)۔ اصل مسئلہ جین پر مرکوز بیانیہ پر ہے۔ جیسا کہ Laland et al. (2014, 162) نے کہا:
ہمارے خیال میں یہ "جین پر مرکوز" نقطہ نظر ارتقاکے تمام عوامل کو مکمل طور پر نہیں سمجھاتا جو ارتقا کی سمت طے کرتے ہیں۔ جو چیزیں غائب ہیں ان میں جسمانی ترقی کس طرح تنوع پیدا کرتی ہے؟ یعنی(developmental bias) ماحول کس طرح جانداروں کی خصوصیات کو براہِ راست متاثر کرتا ہے ؟یعنی( (plasticity جاندار کس طرح ماحول کو تبدیل کرتے ہیں؟ یعنی (niche construction) اور جاندار نسلوں کے درمیان صرف جین نہیں بلکہ مزید خصوصیات کس طرح منتقل کرتے ہیں؟ یعنی (extragenetic inheritance)۔
دوسرے الفاظ میں، ایسا لگتا ہے کہ ارتقا کے عمل کو سمجھنے کے لیے دوسرے عوامل کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ جین پر مبنی نقطہ نظر ارتقا کے تمام پہلوؤں کی وضاحت نہیں کرتا۔ یاد رکھیں کہ نیو ڈارون ازم قدرتی انتخاب اور بے ترتیب تغیر کو ارتقا کے اہم اسباب کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہمیں دوسرے اسباب کو بھی تسلیم کرنا چاہیے، اور اگر ایسا کیا جائے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ یہ تمام عوامل ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جڑے ہوئے ہیں اورکیسے ارتقا کے محرکات بناتے ہیں۔ نیوڈارون ازم یا جدید ترکیب کی یہ نئی تبدیلی "Extended Evolutionary Synthesis" کہلاتی ہے۔ اس کے باوجود نیوڈارون ازم کے حامی اس تبدیلی سے قائل نہیں ہوئے ہیں (Wray et al. 2014)۔یہاں اس بحث کی تفصیلات میں جانا ضروری نہیں ہے۔ان پیش رفتوں سے جو بنیادی بات نکالنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اب سائنسدانوں کے درمیان ارتقاء کے اسبابی میکانزم پر ایک صحت مندانہ بحث جاری ہے۔ اس کے مطابق، درج ذیل دو سوالات کے درمیان فرق کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے:
- کیا ارتقا ہوا؟
- ارتقا کیسے ہوتا ہے؟
نیو ڈارونزم کے حامی اور دوسرے سائنسی متبادل پہلے سوال پر متفق ہیں، لیکن دوسرے سوال پر ان کے درمیان اختلافات ہیں (Rogers 2011, 3)۔ یعنی اکثر ماہرین حیاتیات مشترکہ آبا پر یقین رکھتے ہیں (Glansdorff et al. 2008; Koonin and Wolf 2010; Theobald 2010) ۔ لہٰذا وہ چیز جس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے وہ نیو ڈارونین پیراڈائم ہے، نہ کہ ارتقا۔ اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ بعض ناقدین ماہرین حیاتیات کے درمیان موجود اختلافات کو یہ سمجھتے ہیں کہ ارتقا کے پورے نظریے کو مسترد کر دیا گیا ہے، جو کہ درست نہیں ہے۔ ارتقا ایک پیچیدہ نظریہ ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اختلافات کو صحیح طریقے سے سمجھیں (Huskinson 2020, 149–151)۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، اختلاف کا نقطہ ارتقا کے اسبابی میکانزم پر ہے، نہ کہ مشترکہ آبا پر۔ یہ فرق اس بات سے بھی جڑا ہے کہ بعض اہل مذہب ارتقا کو اس لیے مسئلہ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اسے آسمانی کتابوں میں ذکر کردہ آدم و حوا کی تخلیق کے بیان سے متصادم پاتے ہیں، جسے روایتی طور پر والدین کے بغیر انسانوں کا پہلا جوڑا سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ارتقا کے اسباب پر موجودہ مباحثوں کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ایک اہم مذہبی تنازعہ بہر حال باقی رہتا ہے۔
مختصر یہ کہ ارتقا کے نظریے نے کافی ترقی کی ہے۔ ڈارون کے ابتدائی تصور کو بہت مزاحمت کا سامنا تھا۔ تاہم، جب اسے مینڈیلیئن جینیات کے ساتھ جوڑا گیا اور دیگر بڑھتی ہوئی شہادتوں سے اس کی حمایت کی گئی، تو یہ موجودہ متبادل پیراڈائمز کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس ترقی کو نیو ڈارونزم کے طور پر جانا گیا۔ تاہم، اگرچہ نیو ڈارونزم آج ارتقا کو سمجھنے کے لیے اہم فریم ورک کے طور پر موجود ہے، ارتقائی حیاتیات کے ماہرین نے اس کے اسبابی میکانزم اور انکی افادیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس بحث کا نتیجہ ابھی تک غیر یقینی ہے، لیکن اس سے ارتقا کی مجموعی صداقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ارتقا پر تنقیدات اور ان کا جائزہ
یہاں مختصراً ان اہم اعتراضات کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے جو ارتقا کے ناقدین کی طرف سے سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے بعض سائنسی نوعیت کے ہیں، جبکہ بعض فلسفیانہ یا دینی پہلو رکھتے ہیں۔ مؤخر الذکر اعتراضات کے بعض جوابات مختصر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی تفصیلاگلے ابواب میں آرہی ہے۔ یہ تمام اعتراضات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لہٰذا انہیں کسی بھی ترتیب میں پڑھا جا سکتا ہے۔ کہیں کہیں بعض مخصوص مسلم شخصیات کا حوالہ بھی آئے گا جن کی طرف سے یہ اعتراضات سامنے آتے ہیں، اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ وہ قارئین جو اس علمی مکالمے سے واقف ہیں، انہیں عیسائی تخلیقیت پسندوں (Christian Creationists) اور معذرت خواہوں (Apologists) کی تحریروں میں بھی پہچان سکیں۔
مسلم مفکرین پر خصوصی توجہ کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ عیسائی حلقوں میں پائے جانے والے بعض اعتراضات مسلم علمی حلقوں میں بھی موجود ہیں۔ فی الحال ان شخصیات کا مختصر ذکر کیا جائے گا، جبکہ ان پر تفصیلی بحث آگے ایک باب میں آئے گی۔
کیا ارتقا محض ایک نظریہ ہے؟
ارتقا کے خلاف ایک عام اعتراض یہ ہے کہ یہ "محض ایک نظریہ" ہے۔ مشہور مبلغین، جیسے کہ ذاکر نائیک، اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں (Samuel and Rozario 2010, 428; Gardner et al. 2018, 383)، لیکن بدقسمتی سے، ایسے بیانات سائنس (اور فلسفۂ سائنس) کی ناقص سمجھ کی عکاسی کرتے ہیں۔
سائنس میں عام زبان کے الفاظ کا استعمال کوئی غیر معمولی بات نہیں، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ ہم نے ارتقا کے عام فہم تصور اور سائنسی تصور میں فرق واضح کیا۔ اسی طرح، "نظریہ" (theory) کے عام فہم اور سائنسی مفہوم میں بھی نمایاں فرق ہے۔ روزمرہ کی زبان میں "نظریہ" سے مراد قیاس یا اندازہ ہوتا ہے، جو کسی موقع پر غیر ثابت شدہ رائے کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کچھ دوست کسی ماضی کے جنگی واقعے پر گفتگو کر رہے ہوں اور ان میں سے کوئی کہے: "میرا نظریہ یہ ہے کہ یہ جنگ فلاں وجہ سے ہوئی تھی"، تو یہ محض ایک امکان یا قیاس ہوگا، کیونکہ وہ شخص مؤرخ نہیں ہے اور اس کی بات کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں۔ ہم روزمرہ کی گفتگو میں ایسے جملے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، سائنس میں "نظریہ" کا مفہوم بالکل مختلف ہے۔
یہ جاننے کے لیے کہ سائنس میں نظریہ کیا معنی رکھتا ہے، سائنسی عمل کی ایک بنیادی تفہیم ضروری ہے۔ سائنس میں دعوے کرنے کے لیے سب سے پہلے حقائق یا ڈیٹا درکار ہوتا ہے، کیونکہ ڈیٹا کے بغیر سائنس دان کسی مظہر (phenomenon) کے بارے میں کوئی مفروضہ (hypothesis) قائم نہیں کر سکتے۔ جب ڈیٹا حاصل ہو جاتا ہے، تو سائنس دان مختلف مفروضے تشکیل دیتے ہیں۔ پھر ان مفروضات کو تجربات کے ذریعے پرکھا جاتا ہے اور ان سے ریاضیاتی اصول (laws) اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب یہ اصول واضح ہو جاتے ہیں اور بار بار آزمائے جا چکے ہوتے ہیں، تب وہ ایک سائنسی نظریہ (scientific theory) کی صورت اختیار کرتے ہیں (Scott 2009, 11–14)۔
سائنسی نظریہ دراصل ایک ایسا نمونہ (model) ہوتا ہے جو دستیاب حقائق کی سب سے بہتر وضاحت کرتا ہے اور پیش گوئیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی نظریہ نئے دریافت شدہ حقائق سے ہم آہنگ رہتا ہے اور اس کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی رہتی ہیں، تو وہ سائنسی طور پر درست تصور کیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، سائنسی نظریہ کسی بھی سائنسی دعوے کی سب سے زیادہ ثابت شدہ شکل ہوتی ہے۔
عام زبان میں "نظریہ" کا مفہوم سائنس کے "مفروضہ" (hypothesis) کے قریب تر ہے، لیکن کسی بھی صورت میں یہ سائنسی نظریہ کے مساوی نہیں۔ لہٰذا یہ ایک بنیادی غلطی ہے کہ ارتقا کو "محض ایک نظریہ" کہہ کر مسترد کر دیا جائے۔
ارتقا قابلِ ابطال (Falsifiable) نہیں ہے
ایک عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ارتقا ایک ناقابلِ تردید نظریہ ہے کیونکہ یہ خود کو کسی بھی تنقید سے محفوظ رکھتا ہے۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ ارتقا ایک سائنسی نظریہ نہیں ہے کیونکہ یہ قابلِ ابطال (Falsifiable) نہیں ہے، جبکہ قابلِ ابطال ہونا کسی سائنسی نظریے کی ایک بنیادی خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔ اس تصور کو فلسفہ سائنس کے معروف ماہر کارل پوپر (Karl Popper) نے پیش کیا تھا۔ لہٰذا، اس سے پہلے کہ ہم یہ بحث کریں کہ آیا ارتقا قابلِ ابطال ہے یا نہیں، بہتر ہوگا کہ ہم مختصراً یہ سمجھ لیں کہ اس اصطلاح کا مطلب کیا ہے تاکہ کچھ وضاحت حاصل ہو سکے۔
پوپر (Popper) قابلِ ابطال ہونے کے تصور کو واضح کرنے کے لیے تین نظریات کا موازنہ کیا: سگمنڈ فرائیڈ (Sigmund Freud) کا تحلیل نفسی (psychoanalytic theory) کا نظریہ، الفریڈ ایڈلر (Alfred Adler) کا تحلیل نفسی کا نظریہ، اور البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) کا نظریہ اضافیت (theory of relativity)۔ پوپر کے مطابق پہلے دو نظریات غیر سائنسی ہیں، جبکہ تیسرا ایک معتبر سائنسی نظریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرائیڈ اور ایڈلر کے نفسیاتی نظریات اتنے وسیع اور عمومی ہیں کہ وہ ہر قسم کے اعداد و شمار کو اپنے حق میں کر لیتے ہیں، یعنی، اگر کوئی بھی ڈیٹا ان نظریات کے تحت رکھا جائے، تو یہ ہمیشہ کسی نہ کسی طرح نظریے کی تائید کر دیتے ہیں، چاہے وہ متضاد ہی کیوں نہ ہو۔
مثال کے طور پر، دو بالکل متضاد واقعات لیجیے: پہلا، جب ایک آدمی جان بوجھ کر کسی بچے کو پانی میں ڈبو کر مار دیتا ہے، اور دوسرا، جب ایک آدمی خود کو قربان کرتے ہوئے ( خود ڈوب کر) ایک بچے کو بچا لیتا ہے۔ فرائیڈ اور ایڈلر دونوں کے تحلیلِ نفسی کے نظریات ان دونوں واقعات کو باآسانی اپنے دائرے میں سمو سکتے ہیں (Popper 2002, 43–77)۔
یہ کیسے ممکن ہے؟ فرائیڈ کے مطابق، پہلے واقعے کو دباؤ (repression) کی مثال سمجھا جائے گا، جبکہ دوسرے کو والہانہ پن (sublimation) کی مثال کے طور پر لیا جائے گا (یہ اصطلاحات فرائیڈ کے مخصوص نظریاتی فریم ورک کا حصہ ہیں)۔ اسی طرح، ایڈلر کا نظریہ بھی دونوں واقعات کو باآسانی بیان کر سکتا ہے۔ ایڈلر کے مطابق، ہر چیز خود کو احساسِ کمتری (inferiority complex) سے نکال کر اعلیٰ سطح پر پہنچانے پر مبنی ہوتی ہے۔ لہٰذا، پہلے کیس میں آدمی نے بچے کو ڈبونے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ خود کو ثابت کر سکے کہ وہ یہ جرم کر سکتا ہے، جبکہ دوسرے کیس میں آدمی نے خود کو قربان کرکے خود کو بہادر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ دونوں نظریات ڈیٹا کو ایسے قبول کر لیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ درست ثابت ہوں، اور یوں وہ خود کو غلط ثابت کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ اس کے برعکس، پوپر کا خیال تھا کہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (relativity) مختلف تھا۔ تفصیلات میں الجھے بغیر، آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت (general theory of relativity) نے ایک سادہ سی پیش گوئی کی تھی: روشنی بھاری اجسام (جیسے سورج) کے گرد مڑتی ہے۔ اگر ایسا ہے، تو اس کو تجرباتی طور پر جانچا جا سکتا تھا، اور 1919 میں ایسا ہی ہوا، جب ثابت کیا گیا کہ روشنی واقعی بھاری اجسام کے گرد مڑتی ہے۔
آئن سٹائن کے نظریے اور فرائیڈ و ایڈلر کے تحلیلِ نفسی کے نظریات میں فرق یہ تھا کہ آئن سٹائن کا نظریہ غلط ثابت ہونے کے امکان کو تسلیم کرتا تھا اور کسی بھی قسم کے ڈیٹا کو بلاجواز قبول نہیں کرتا تھا۔ یہی وہ چیز تھی جسے پوپر نے "قابلِ ابطال ہونا" (Falsifiability) قرار دیا (Popper 2002, 57–73)۔
اس اصطلاح کو سمجھنے کے بعد ہم یہ تعین کر سکتے ہیں کہ آیا ارتقا قابلِ ابطال ہے یا نہیں۔ سائنسی طور پر ارتقا بالکل قابلِ ابطال ہے (Isaak 2007, 21)۔ مثال کے طور پر، اگر کسی ایسے فوسل (fossil) کو دریافت کر لیا جائے جو اس تہہ (stratum) میں نہیں ہونا چاہیے جہاں وہ پایا گیا ہے، تو ارتقا کی نفی ہو سکتی ہے۔ ارتقا کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انواع (species) کی پیچیدگی اور حیاتیاتی تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جو فوسل ہمیں قدیم تہوں (older strata) میں ملنے چاہییں وہ زیادہ سادہ ہونے چاہییں، جبکہ جدید تہوں (recent strata) میں پائی جانے والی انواع زیادہ پیچیدہ ہونی چاہییں۔
ارتقا کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ جانداروں میں پیچیدگی اور تنوع بڑھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم زمین کی تہوں میں ہمیں نسبتاً سادہ جانداروں کی باقیات ملنی چاہئیں، جبکہ جدید تہوں میں زیادہ پیچیدہ جاندار ہونے چاہئیں۔ اگر کسی ایسے جاندار کی باقیات کسی قدیم تہہ میں مل جائیں جو نظریے کے مطابق بعد میں نمودار ہونی چاہیے تھی، تو ارتقا کا نظریہ رد ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہمیں "کیمبرین دھماکے" (Cambrian Explosion) (550 ملین سال پہلے کا واقعہ جب اچانک پیچیدہ جاندار نمودار ہوئے) سے پہلے کسی خرگوش کی باقیات مل جائیں، تو یہ ارتقا کے لیے ایک سنگین چیلنج ہوگا یا اگر یہ معلوم ہو جائے کہ جینیاتی ترتیب (gene sequences) ہماری پیش گوئی سے میل نہیں کھاتی، تو یہ بھی ارتقا کے خلاف ایک بڑی دلیل بن سکتی ہے۔ یہ چند ایسی مثالیں ہیں جن کی مدد سے ارتقا کو باآسانی غلط ثابت کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا، یہ دعویٰ کہ ارتقا قابلِ ابطال نہیں ہے اور اس لیے غیر سائنسی ہے، سراسر غلط ہے۔
اس نکتے کے متعلق، پوپر کے اپنے موقف کو بھی واضح کرنا ضروری ہے، کیونکہ ارتقا کے خلاف دلائل میں اکثر انہی کو بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے (Bakar 1984; Sonleitner 1986; Ibrahim and Baharuddin 2014)۔ پوپر نے ایک موقع پر ارتقا کی سائنسی حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا (Sonleitner 1986, 11): "میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ڈارون ازم ایک قابل آزمائش سائنسی نظریہ نہیں بلکہ ایک مابعد الطبیعاتی تحقیقی پروگرام ہے، جو ممکنہ طور پر سائنسی نظریات کی جانچ کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔"
تاہم، بعد میں انہوں نے اپنا مؤقف واضح طور پر بدل دیا اورکہا کہ (Sonleitner 1986, 11): "میں نے نظریہ انتخابِ فطری (natural selection) کی قابل آزمائش حیثیت اور منطقی مقام کے بارے میں اپنا موقف بدل لیا ہے، اور میں خوش ہوں کہ مجھے اس کی وضاحت کا موقع مل رہا ہے۔"
لہٰذا، اگر پوپر کو ارتقا کو مسترد کرنے کے لیے بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے، تو یہ دلیل بھی غلط ہے، کیونکہ خود پوپر نے بعد میں تسلیم کیا کہ ارتقا واقعی قابلِ ابطال ہے۔
فوسل ریکارڈ میں خلا ہے
نوح میم کیلر (Nuh Ha Mim Keller) جو کہ ایک ممتاز عالم دین ہیں، یہ دلیل دیتے ہیں کہ فوسل ریکارڈ(وہ تمام اہم شواہد یا فوسلز (fossils) جو ارتقائی تاریخ کے مختلف مراحل اور جانداروں کی ترقی کو ظاہر کرتے ہیں) میں خلا موجود ہے، اور اسی وجہ سے اس کی متعدد تشریحات ممکن ہیں۔ چنانچہ، ہر تشریح زیادہ سے زیادہ صرف ممکنہ (probable) ہوتی ہے ، قطعی نہیں۔
کیلر کے سائنسی دلائل کے ساتھ پہلا مسئلہ اس ثبوت سے منسلک امکان (probability) سے متعلق ہے۔ سائنسدان تسلیم کرتے ہیں کہ فوسل ریکارڈ لازمی طور پر نامکمل ہوتا ہے اور اس کی وضاحت بھی پیش کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ ہڈیوں اور بافتوں (tissues) کا محفوظ رہنا مخصوص اور محدود حالات میں ہی ممکن ہوتا ہے، لہٰذا اگر کوئی حیاتیاتی باقیات (biological specimens) دفن بھی ہو جائیں یافوسل میں تبدیل ہو جائیں، تو وہ بالآخر تحلیل (eroded) یا گل سڑ (decomposed) بھی سکتی ہیں (Berra 1990, 31–51; Futuyma and Kirkpatrick 2017, 432–435)۔ مزید برآں، جو نمونے ہمیں ملتے ہیں، ان میں مکمل اور ترقی یافتہ اشکال (fully-fledged forms) شاذ و نادر ہی دستیاب ہوتی ہیں۔ عام طور پر، ہمیں حیاتیاتی نمونوں کے کچھ حصے، جیسے کہ انگلی کی ہڈی، ملتی ہیں، جو فوسل ریکارڈ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مزید محدود کر دیتی ہیں (Futuyma and Kirkpatrick 2017, 435)۔ اس لیے، سائنسدانوں کے لیے فوسل ریکارڈ میں خلا حیران کن نہیں ہے، بلکہ اس کے وجود کے سائنسی اسباب موجود ہیں (Padian and Angielczyk 2007)۔ فوسل ریکارڈ میں پائی جانے والی مشکلات اور پیچیدگیوں کے باوجود، سائنسدان ایک بہت بڑی تعداد میں فوسلزدریافت کر چکے ہیں جو پہلے نامعلوم تھے۔
ارتقا کے خلاف کیلر کے سائنسی دلائل کے ساتھ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دیگر شواہد سے ناواقف ہیں جو ارتقا کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ فوسل ریکارڈ کو الگ سے دیکھا جائے تو اسے غیر یقینی (uncertain) سمجھا جا سکتا ہے، لیکن آزاد ذرائع سے ملنے والے شواہد ارتقا کے نظریے کی تصدیق کرتے ہیں (van den Brink et al. 2017, 463) ۔ ارتقا کو اب جینیات (genetics)، حیاتی جغرافیہ (biogeography)، ہم ساختیت (homology) اور دیگر کئی مخصوص شعبہ جات کی حمایت حاصل ہے (Morvillo 2010, 185–210; Rogers 2011; Futuyma and Kirkpatrick 2017)۔ آزاد ذرائع سے حاصل ہونے والے شواہد ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں، یعنی consilience of induction، جو ہمیں یہ قوی علمی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ ارتقا ایک سچائی ہے۔
سائنس دانوں کا ارتقا پر اختلاف
یہ دعویٰ اس مشاہدے پر مبنی ہے کہ سائنس دانوں میں ارتقا کے بعض اصولوں یا شواہد پر اختلاف پایا جاتا ہے، جو بظاہر اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ تھیوری بحران کا شکار ہے۔ ارتقائی مفکرین (اور حیاتیات کے فلسفی) ارتقا کی سائنس کے مختلف مسائل کو دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سائنسدانوں کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ "نوع" ہونے کا کیا مطلب ہے۔ اگرچہ یہ معمولی لگتا ہے، لیکن یہ ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ نوع کے وجود میں آنے کو سمجھنے کے لیے ایک مضبوط تعریف کی ضرورت ہوتی ہے (Mayr 1991, 26–34; Ershefsky 2017)۔ ایک اور مثال چمپنزیوں اور انسانوں کے درمیان جینیاتی موازنہ کا مسئلہ ہے۔ چونکہ چمپنزیوں کے کروموسوم طویل ہوتے ہیں، اس لیے یہ کچھ حد تک مشکل ہوتا ہے کہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کون سے حصے انسانی کروموسوم سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ مختصراً، کروموسومز کو اس طرح سے درجہ بندی کرنا تاکہ جینیاتی مماثلت کو غیر متنازعہ طور پر ثابت کیا جا سکے، بھی ایک مسئلہ ہے (Marks 2002, 23–50; Castle 2017)۔ یہ اور دیگر متعدد مسائل ماہرین کے علم میں ہیں اور ان پر تفصیل سے بحث کی جاتی ہے (Sober 2006; Gee 2013; Thompson and Walsh 2017)۔
تاہم، جو بات تسلیم کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دیگر شعبوں کی طرح سائنس کبھی مکمل جوابات کے ساتھ نہیں آتی اور یہ ہمیشہ ایک جاری کام ہوتا ہے۔ ناقدین اسے ارتقا کو مسترد کرنے کے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ سائنسدان اسے مزید تحقیق کے امکانات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اس واضح عدم توافق کے باعث، سائنسی مباحثے بدقسمتی سے مذہبی وسیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ باؤلر (2009, 348) نے مشاہدہ کیا:
ناقدین جو سائنسی برادری کا حصہ نہیں ہیں، ان کے لیے یہ اختلافات خوش آئند ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سائنسدانوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں بن پاتا، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی نظریہ زندگی کی ترقی کے بارے میں صحیح نہیں ہے۔ زیادہ تر سائنسدان ان اختلافات کو اس بات کا اشارہ سمجھتے ہیں کہ وہ ابھی بھی اہم مسائل پر غور کر رہے ہیں اور حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن جو لوگ سائنسی تحقیق میں شامل نہیں ہیں، ان کے لیے یہ ماننا کہ نظریات فوراً ثابت نہیں ہو سکتے، کمزوری کی علامت لگتی ہے۔ مذہبی مفکرین جو یہ مانتے ہیں کہ اللہ نے دنیا کو اس کی موجودہ شکل میں بنایا، سائنسدانوں کے درمیان اختلافات کو اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ مادی دنیا کا نظریہ غلط ہے۔
سائنسدانوں کے درمیان اختلافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاید معاملات پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے اور مزید کام کرنا باقی ہے۔ لیکن عارضی اور محدود سائنسی اختلافات پر مضبوط نتائج (خصوصاً مذہبی) اخذ کرنا اس بحث میں کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ ہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی معاملے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کیا جائے اور غیر جانبدار یا محتاط رہ کر اس پر مزید تحقیق یا غور کیا جائے کیونکہ جو آج متنازعہ ہے وہ کل ایک ٹھوس جواب کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے (یا نہیں)۔ اس لیے، ارتقا کے ناقدین کو ان اختلافات پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ارتقا زندگی کی ابتدا کو وضاحت نہیں دے سکتا
نظریہ ارتقا کے خلاف یہ ایک عام اعتراض ہے کہ یہ زندگی کی ابتدا کی وضاحت نہیں کرتا۔ اس اعتراض میں چند مسائل ہیں۔ زندگی کے بنیادی غیر متحرک مادے سے وجود میں آنے کو سمجھانے کے لیے مختلف قیاسات پیش کیے گئے ہیں۔ اگرچہ سائنسدانوں نے زندگی کی ابتدا کے لیے ممکنہ حالات اور میکانزم کے بارے میں قیاس آرائیاں کی ہیں، تاہم اس شعبے میں موجود سائنس ابھی تک قیاس پر مبنی ہے (Walker 2017؛ Kitadai and Maruyama 2018؛ Maruyama et al. 2019؛ Schreiber and Mayer 2020)۔ اس سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ ایک درست اور مکمل وضاحت کبھی نہیں سامنے آئے گی (Lazcano 2007؛ Ruse 2008، 52–71)۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو چیزیں ایک وقت میں سائنسی طور پر ناممکن سمجھی جاتی تھیں، آج وہ ممکنہ طور پر درست سمجھی جا رہی ہیں، جیسے انسان کا چاند پر جانا۔
فرض کریں کہ سائنس دانوں نے زندگی کی ابتدا کے بارے میں ایک سائنسی طور پر قابل قبول نظریہ پیش کر لیا۔ اس میں مسئلہ کیا ہو گا؟ بعض لوگ اس کو اس لیے مسئلہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس سے خدا کا کردار مزید غیر ضروری ہو جائے گا۔ اس دلیل میں مسئلہ یہ ہے کہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ خدا اور سائنس (یا قدرت) زندگی کی ابتدا کی مختلف وضاحتیں ہیں، جو اسلامی نقطہ نظر سے درست نہیں۔ اس معاملے میں بنیادی اور ثانوی علت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے (Pope 2007)؛ Rieppel 2011، 47، 52۔ سائنسی وضاحت یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ قدرت کیسے کام کرتی ہے (ثانوی علت)، لیکن یہ ہمیشہ خدا کی ہدایت اور مدد سے ہوتی ہے (بنیادی علت)۔ اگر ہم ان دونوں کے درمیان فرق کو ختم کر دیں، تو ہم خدا اور قدرت (یا سائنس) کو حریفوں کی طرح دیکھنے لگتے ہیں، جس سے "خدا کے خلا" کا نظریہ جنم لیتا ہے (Pennock 2007)۔ اس نظریے کے مطابق، جو قدرتی مظاہر پہلے خدا کی طرف سے سمجھائے جاتے تھے، وہ اب سائنسی وضاحتوں سے بدل گئے ہیں۔ اس طرح، جیسے جیسے ہمارا سائنسی علم بڑھتا ہے، خدا کا کردار کم ہوتا جا رہا ہے۔ مختصراً، خدا کا کردار صرف تب تک ضروری سمجھا جاتا ہے جب تک ہمارے علم میں خلا موجود ہو، اور جب وہ خلا بھر جائیں، خدا کو معادلات سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ ایک غلط نقطہ نظر ہے، جس کو ہم باب 6 میں تفصیل سے دیکھیں گے۔
اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ اعتراض پوری طرح غلط ہے۔ زندگی کی ابتدا اور انواع کی ابتدا میں واضح فرق کرنا ضروری ہے۔ زندگی کی ابتدا اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے کہ زندگی کیسے شروع ہوئی، جب کہ انواع کی ابتدا یہ وضاحت کرتی ہے کہ انواع کیسے وجود میں آئیں (Rau 2012، 82–152)۔ ارتقا صرف انواع کی ابتدا کی وضاحت کرتا ہے (اسی لیے ڈارون کی کتاب کا نام "On the Origins of Species" ہے)۔ ارتقا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب زندگی شروع ہو چکی ہو، لیکن یہ بذات خود زندگی کی ابتدا کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ صاف طور پر کہا جائے تو، ارتقا، انواع کی ابتدا کی وضاحت کرنے کے لیے ایک مستند وضاحت پر انحصار کرتا ہے، لیکن یہ زندگی کی ابتدا کی وضاحت نہیں کرتا۔لہذا، ارتقا پر تنقید کرنا کیونکہ یہ زندگی کی ابتدا کی وضاحت نہیں کرتا، ارتقا کی طرف کی جانے والی ایک غلط تنقید ہے۔
کیا ارتقا کا اتفاقیہ ہونا خدا کی قدرت اور علم کو کمزور کرتا ہے؟
جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا، جینیاتی تبدیلیاں غیر متوقع ہوتی ہیں۔ یعنی یہ اچھی، بری یا غیر مؤثر ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ ارتقا کو ایک غیرمنظم عمل سمجھتے ہیں، جو اس نظریے کے خلاف جاتا ہے کہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت بنائی گئی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں" (الذاریات: 56)
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے۔ لیکن اگر ارتقا ایک اتفاقیہ عمل ہے، تو پھر ایسا لگ سکتا ہے کہ انسان کا وجود محض ایک خوش قسمتی کا نتیجہ ہے، یعنی انسان کا پیدا ہونا لازمی نہیں تھا۔ ماہرِ حیاتیات اسٹیفن جے گولڈ (Stephen Jay Gould) کے مطابق، اگر زندگی کے ارتقائی عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے تو ضروری نہیں کہ وہ تمام جاندار، بشمول انسان، دوبارہ وجود میں آئیں۔ یہ نظریہ دو وجوہات کی بنا پر قابلِ فکر محسوس ہوتا ہے:
- مابعد الطبیعیاتی پہلو: اگر ارتقا محض ایک تجرباتی عمل ہے تو یہ تصور پیدا ہو سکتا ہے کہ خدا "کوشش و خطا" (trial and error) کے ذریعے تخلیق کر رہا ہے، گویا وہ اپنے فیصلوں کے بارے میں غیر یقینی ہے۔ یہ تصور اسلامی عقیدے میں بیان کردہ قادرِ مطلق اور عالمِ مطلق خدا کے برعکس ہے۔
- دینی پہلو: یہ خیال، براہِ راست یا بالواسطہ، قرآن کی مذکورہ آیت سے متصادم محسوس ہو سکتا ہے، کیونکہ اس آیت میں انسانی تخلیق کا ایک واضح مقصد بتایا گیا ہے۔
اس بحث پر غور کرتے ہوئے دو باتیں کہی جا سکتی ہیں:
اول، سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ارتقا کا عمل مکمل طور پر بے سمت (random) نہیں ہے۔ کچھ سائنسی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قدرتی عوامل ارتقائی راستوں کو مخصوص حدود میں رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ خاص خصوصیات لازمی طور پر پیدا ہوتی ہیں (McGhee 2008)۔ مثال کے طور پر، آنکھوں کا ارتقا کئی بار آزادانہ طور پر مختلف جانداروں میں ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک ناگزیر ارتقائی نتیجہ ہے (Morris 2003, 147–196)۔ دوم، اگر ہم یہ بھی فرض کر لیں کہ ارتقا واقعی ایک کھلا اور غیر متعین عمل ہے، تب بھی اس سے خدا کے علم و قدرت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر کائنات میں کچھ چیزیں احتمالی (probabilistic) اصولوں کے تحت چلتی ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ خدا چاہے تو ایک ایسی دنیا تخلیق کر سکتا ہے جو بظاہر غیر متعین قوانین پر کام کرے، لیکن پھر بھی وہ اپنی حکمت اور قدرت سے اس کا مکمل علم رکھتا ہو۔ اگر ہم یہ کہیں کہ خدا ایسا نہیں کر سکتا، تو دراصل ہم اپنی انسانی سوچ کو خدا پر مسلط کر رہے ہیں، جو ایک غلط فہمی ہے۔ یہ اور دیگر متعلقہ مباحث کو مزید تفصیل سے باب ششسم میں بیان کیا جائے گا۔
کیا ارتقا فطری اور دہریہ نظریہ ہے؟
ترک مصنف عدنان اکتار (Adnan Oktar)، جوہارون یحی (Harun Yahya) کے قلمی نام سے معروف ہیں، نے اپنی زندگی ارتقا کے رد میں وقف کر رکھی ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ارتقا ایک فطری (naturalistic) اور دہریہ (atheistic) نظریہ ہے۔ ان کے مطابق، چونکہ اسلامی تصورِ حیات میں مافوق الفطرت عناصر جیسے خدا اور فرشتے شامل ہیں، اس لیے ارتقا کو اگر ہر چیز کی مکمل وضاحت سمجھا جائے تو یہ خدا کے وجود کو غیر ضروری بنا دیتا ہے اور نتیجتاً ایک بے خدا تصورِ کائنات پیش کرتا ہے۔اس پر تین نکات غور طلب ہیں:
- یہ دعویٰ کہ ارتقا کا نظریہ لازمی طور پر دہریہ ہے، سائنسی نظریات کی بنیادی نوعیت کو نہ سمجھنے کی علامت ہے۔ سائنسی نظریات قدرت کے قوانین اور کائنات میں پائے جانے والے نظم و ضبط کو دریافت کرتے ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، یہ فطری قوانین بھی خدا کی تخلیق ہیں اور اسی کے حکم سے قائم ہیں (Malik 2019)۔ چنانچہ کسی سائنسی نظریے کو محض اس بنیاد پر "بے خدا" قرار دینا کہ وہ مافوق الفطرت عناصر کا ذکر نہیں کرتا، ہمارے نزدیک یہ درست طرزِ فکر نہیں ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ سائنسی تحقیق کو اس نظر سے دیکھا کہ یہ خدا کے قائم کردہ نظامِ فطرت کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔
- دلچسپ بات یہ ہے کہ ارتقا کو تو دہریت کا نظریہ کہا جاتا ہے، مگر دیگر سائنسی تصورات جیسے ایٹم، کوارکس، کیمیکل ردعمل، کشش ثقل اور بجلی کی طاقت کو اسی انداز میں چیلنج نہیں کیا جاتا۔ اگر ارتقا کو اس بنیاد پر رد کرنا ہے کہ وہ فطری قوانین کے ذریعے وضاحت پیش کرتا ہے، تو پھر جدید ٹیکنالوجی جیسے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور انٹرنیٹ کو بھی اسی بنیاد پر مسترد کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ بھی انہی سائنسی قوانین پر مبنی ہیں۔ اس سلسلے میں رابرٹ پیناک (1999) نے ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ وہ ارتقا پر تنقید کرنے والے فلپ جانسن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر سائنسی طریقہ کار کا فطری ہونا ہی مسئلہ ہے، تو پھر کیمیا، موسمیات، برقیات اور یہاں تک کہ گاڑیوں کے مکینکس کو بھی رد کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ تمام علوم بھی "فطری اصولوں" کے تحت چلتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ ان علوم کے فطری ہونے سے خدا کا انکار لازم آتا ہے۔
- یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے: فلسفیانہ فطریت (Philosophical Naturalism - PN) کا نظریہ کہتا ہے کہ فطرت ہی سب کچھ ہے اور اس سے باہر کوئی مافوق الفطرت ہستی یا قوت موجود نہیں۔ سائنسی فطریت (Methodological Naturalism - MN) یہ نظریہ محض سائنسی تحقیق کے دائرہ کار کو بیان کرتا ہے، یعنی سائنس صرف فطری دنیا کا مطالعہ کر سکتی ہے اور مافوق الفطرت معاملات پر کوئی رائے نہیں دے سکتی۔
ایک دیندار شخص سائنسی فطریت کو بآسانی اپنا سکتا ہے اور ارتقا کو ایک سائنسی وضاحت کے طور پر قبول کر سکتا ہے، جبکہ یہ بھی مان سکتا ہے کہ اس پورے نظام کے پیچھے خدا کی حکمت اور منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ یہ فرق مزید تفصیل سے باب ششسم میں زیر بحث آئے گا۔
کیا ارتقا اخلاقیات کو کمزور کرتا ہے؟
یہ اعتراض ڈارون کے دور میں بھی موجود تھا اور آج بھی ہارون یحی جیسے ناقدین اسے دہراتے رہتے ہیں۔ اخلاقیات اور ارتقا کے تعلق پر دو بنیادی خدشات سامنے آتے ہیں:
ایک تشویش یہ ہے کہ اگر اخلاقی اصولوں کی بنیاد فطرت پر ہو، تو وہ رویے جو ہمیں غیر اخلاقی لگتے ہیں، قدرتی طور پر جائز قرار پا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہمارے آبا و اجداد کسی مخصوص رویے (جیسے قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادی) کو اپناتے تھے، اور اگر یہ ارتقائی طور پر فائدہ مند تھا، تو اس کی کوئی حیاتیاتی توجیہ ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کچھ ایسے اعمال، جو سماجی یا مذہبی طور پر غلط سمجھے جاتے ہیں، وہ فطری طور پر قابلِ قبول قرار دیے جا سکتے ہیں، جو کہ اخلاقی لحاظ سے ایک پیچیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اخلاقیات ارتقائی عمل کا نتیجہ ہیں، تو یہ کسی مخصوص اصول یا حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ صرف زندگی کے تاریخی حالات پر منحصر ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر زندگی کو دوبارہ نئے سرے سے شروع کیا جائے اور ارتقائی عوامل مختلف ہوں، تو ممکن ہے کہ جو اصول ہم آج "اخلاقی" سمجھتے ہیں، وہ تبدیل ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سچ بولنا یا دھوکہ دہی سے بچنا جیسے اصول ہمیشہ لازمی طور پر درست نہیں ہوں گے، بلکہ وقت اور حالات کے ساتھ بدل سکتے ہیں (Ruse 2008)۔
اس بحث کو ایک اور زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے: اگر اخلاقیات محض قدرتی قوانین پر مبنی نہیں ہیں، تو کیا وہ کسی اور بنیاد پر قائم ہو سکتی ہیں؟ ایک مذہبی نقطۂ نظر یہ ہے کہ اخلاقیات کا تعین فطرت یا ارتقائی عوامل کے بجائے خدا کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، جو کچھ خدا درست قرار دیتا ہے، وہی اخلاقی ہے، اور جو کچھ وہ منع کرتا ہے، وہ غیر اخلاقی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقیات کی بنیاد کسی مادی یا سائنسی حقیقت پر نہیں بلکہ وحی یا الہامی ہدایت پر ہونی چاہیے۔ ارتقا اور اخلاقیات کے اس تعلق پر مزید تفصیل سے بحث باب 8 میں کی جائے گی۔
کیا چارلس ڈارون (Charles Darwin) ملحد تھا؟
کسی دلیل کو رد کرنے کا ایک عام طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ماخذ پر اعتراض کردیا جائے۔ ارتقا کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے عام طور پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چونکہ اس نظریے کو پیش کرنے والا شخص، یعنی چارلس ڈارون، ایک ملحد تھا، اس لیے مسلمانوں کو اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک منطقی مغالطہ ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ کوئی نظریہ کسی ایسے شخص سے آیا ہے جس کے خیالات سے ہم متفق نہیں، اس نظریے کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی آمر جیسے ہٹلر، اسٹالن، یا ماؤ (یا حتیٰ کہ شیطان، اگر ہم اس دلیل کو انتہا تک لے جائیں) یہ کہے کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں، تو ان کی شخصیت کا اس بیان کی سچائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسی طرح، اگر ڈارون واقعی ایک ملحد ہوتا اور اس نے ارتقا کا نظریہ پیش کیا ہوتا، تو اس کا ملحد ہونا اس نظریے کی سچائی یا غلطی پر اثرانداز نہ ہوتا۔
پھر تاریخی طور پر یہ دعویٰ درست نہیں کہ ڈارون ایک ملحد تھا، کم از کم اس مفہوم میں نہیں جس طرح ناقدین اسے پیش کرتے ہیں۔ ارتقا کے نظریے تک پہنچنے سے قبل وہ مذہب کے قریب تھا اور پادری بننے کی راہ پر گامزن تھا (Brooke 2009, 393; Osborn 2017, 26–28)۔ اگرچہ بعد میں اس کا مذہب سے تعلق کمزور پڑ گیا اور اس نے خدا پر یقین کھو دیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مکمل طور پر ملحد ہو گیا تھا (Bowler 2009, 146)۔
ڈارون کے دور میں قدرتی الہیات (Natural Theology) کا نظریہ غالب تھا۔ تاہم، اپنے قریبی عزیزوں، خصوصاً اپنی بیٹی این (Anne) کی موت اور ارتقا کے بے رحم عمل کے اثرات نے اسے کریم مطلق خدا (Omnibenevolent God) کے تصور پرشک میں مبتلا کر دیا (Brooke 2009, 396; Spencer 2009, 100)۔ اگر ڈارون کے خیالات کو دیانت داری سے پڑھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی کبھی تذبذب کا شکار ہوتا تھا، آخرمیں وہ ایک لامذہب (agnostic) کی حیثیت سے مطمئن دکھائی دیتا ہے (Brooke 2009, 394; Spencer 2009, 101)۔ لہٰذا، جو لوگ ڈارون کے ایمان سے ہٹ جانے کو ارتقا کے انکار کی بنیاد بناتے ہیں، وہ غلط فہمی اور لاعلمی کا شکار ہیں۔
حوالہ جات
- Al-Aʿẓamī, Muhammad Muṣṭafā. 2003. The History of the Qurʿānic Text, from Revelation to Compilation: A Comparative Study with the Old and New Testaments. Leicester: UK Islamic Academy.
- Alexander, Denis. 2008. Creation or Evolution: Do We Have to Choose? Michigan: Monarch Books.
- Ayala, Francisco J., and Camilo J. Cela-Conde. 2017. Process in Human Evolution: The Journey from Early Hominins to Neanderthals and Modern Humans. Oxford: Oxford University Press.
- Bakar, Osman. 1984. “The Nature and Extent of Criticism of Evolutionary Theory.” In Osman Bakar, ed. Critique of Evolutionary Theory: A Collection of Essays. Kuala Lumpur: The Islamic Academy of Science and Nurin Enterprise, 123–152.
- Bard, Jonathon. 2017. Principles of Evolution Systems, Species, and the History of Life. Abingdon: Routledge.
- Berra, Tim M. 1990. Evolution and the Myth of Creationism: A Basic Guide to the Facts of Evolution Debate. Stanford, CA: Stanford University Press.
- Berry, R. J. 2012. “Biology Since Darwin.” In Andrew Robinson, ed. Darwinism and Natural Theology: Evolving Perspectives. Newcastle Upon Tyne: Cambridge Scholars Publishing, 12–38.
- Bowler, Peter J. 1983. The Eclipse of Darwinism. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
- Bowler, Peter J. 1986. Theories of Human Evolution: A Century of Debate, 1844–1944. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
- Bowler, Peter J. 1988. The Non-Darwinian Revolution: Reinterpreting A Historical Myth. Baltimore, MD: The John Hopkins University Press.
- Bowler, Peter J. 2007. Monkey Trials and Gorilla Sermons: Evolution and Christianity from Darwin to Intelligent Design. Cambridge, MA: Harvard University Press.
- Bowler, Peter J. 2009. Evolution: The History of an Idea. Berkeley, CA: University of California Press.
- Bowler, Peter J. 2015. The Mendelian Revolution: The Emergence of Hereditarian Concepts in Modern Science and Society. London: Bloomsbury Academic.
- Brooke, John Hedley. 2009. “Darwin and Religion: Correcting the Caricatures.” Science and Education, 19: 391–405.
- Brooke, John Hedley. 2012. “Christian Darwinians.” In Andrew Robinson, ed. Darwinism and Natural Theology: Evolving Perspectives. Newcastle Upon Tyne: Cambridge Scholars Publishing, 47–67.
- Brown, Jonathon A. C. 2011. Hadith: Muhammad’s Legacy in the Medieval and Modern World. Oxford: Oneworld.
- Cambridge Dictionary. “Devolution.” Accessed 14th of June 2020b. Available at: https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/devolution
- Cambridge Dictionary. “Evolution.” Accessed 14th of June 2020a. Available at: https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/evolution
- Castle, David. 2017. “DNA Barcoding and Taxonomic Practice.” In R. Paul Thompson, and Denis M. Walsh, eds. Evolutionary Biology: Conceptual, Ethical, and Religious Issues. Cambridge: Cambridge University Press, 87–106.
- Cotner, Sehoya, D. Christopher Brooks, and Randy Moore. 2010. “Is the Age of the Earth One of or ‘Sorest Troubles?’ Students’ Perceptions About Deep Time Affect Their Acceptance of Evolutionary Theory.” Evolution, 64(3): 858–864.
- Darwin, Charles. 1881. “Letter to William Graham, Down, July 31, 1881.” In Francis Darwin, ed. The Life and Letters of Charles Darwin Including an Autobiographical Chapter. Volume 1. London: John Murray, 315–316.
- Delisle, Richard G. 2017. Debating Humankind’s Place in Nature 186-2000: The Nature of Paleoanthropology. Abingdon: Routledge.
- Depew, David. J. 2009. “Darwinian Controversies: An Historiographical Recounting.” Science and Education, 19: 323–366.
- Dobzhansky, Theodosius. 1973. “Nothing in Biology Makes Sense Except in the Light of Evolution.” American Biology Teacher, 35(3): 125–129.
- Eldredge, Niles. 2008. “Experimenting With Transmutation: Darwin, the Beagle, and Evolution.” Evolution: Education and Outreach, 2: 35–54.
- Endersby, Jim. 2009. “Generation, Pangenesis and Sexual Selection.” In Jonathon Hodge, and Gregory Radick, eds. The Cambridge Companion to Darwin. Cambridge: Cambridge University Press, 73–95.
- Ershefsky, Marc. 2017. “Consilience, Historicity, and the Species Problem.” In R. Paul Thompson, and Denis M. Walsh, eds. Evolutionary Biology: Conceptual, Ethical, and Religious Issues. Cambridge: Cambridge University Press, 65–86.
- Fairbanks, Daniel J. 2010. Relics of Eden: The Powerful Evidence of Evolution in Human DNA. New York, NY: Prometheus Books.
- Finlay, Graeme. 2013. Human Evolution: Genes, Genealogies, and Phylogenies. Cambridge: Cambridge University Press.
- Flannery, Michael A. 2018. Nature’s Prophet: Alfred Russel Wallace and His Evolution from Natural Selection to Natural Theology. Tuscaloosa, AL: The University of Alabama Press.
- Fodor, Jerry, and Miassimo Piatelli-Palmarini. 2011. What Darwin Got Wrong. London: Profile Books.
- Fowler, Thomas, and Daniel Kuebler. 2007. The Evolution Controversy: A Survey of Competing Theories. Ada, MI: Baker Academic.
- Futuyma, Douglas J., and Mark Kirkpatrick. 2017. Evolution. Sunderland, MA: Sinauer Associates, Inc.
- Galera, Andrés. 2016. “The Impact of Lamarck’s Theory of Evolution Before Darwin’s Theory.” Journal of the History of Biology, 50: 53–70.
- Gardner, Vika, E. Carolina Mayes, and Salman Hameed. 2018. “Preaching Science and Islam: Dr. Zakir Naik and Discourses of Science and Islam in Internet Videos.” Die Welt Des Islams, 58: 357–391.
(جاری)