ڈاکٹر شعیب احمد ملک

لیکچرر سائنس اینڈ ریلیجئن، یونیورسٹی آف ایڈنبرا، سکاٹ لینڈ
تعارفی لنک تعارفی لنک تعارفی لنک
کل مضامین: 11

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)

جیسا کہ پچھلے دو حصوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے، اشعریت اور DAP بنیادی طور پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ DAP سے وابستہ مفکرین قدرتی سائنسز کے وقار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ معجزات سے گریز کرتے ہیں۔ اس منصوبے کو...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۰)

اسلامی فکری تاریخ میں متعدد فکری دھارے موجود رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں دھارا علم کلام کہلاتا ہے، جسے مغربی علمی روایت میں scholastic theology کے قریب سمجھا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ ترجمہ اس کی مکمل معنویت کا احاطہ نہیں کرتا۔...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۹)

داؤد سلیمان جلاجل (David Solomon Jalajel) وہ واحد مفکر ہیں جنہوں نے اختصاصِ آدم (Adamic exceptionalism) کی اصطلاح پر مبنی موقف پیش کیا ہے۔ ان کی یہ تجویز نہایت باریک بینی کے ساتھ وضاحت کی متقاضی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، مالک (2018؛ 2019) اور...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۸)

جدول 4.3 میں ہم نے تین مختلف مفکرین کا ذکر کیا ہے جو انسانی امتیاز کے قائل ہیں۔ نوح میم کیلر ، یاسر قاضی اور نذیر خان ۔ بعد کے دونوں مصنفین نے اس موضوع پر ایک مشترکہ مقالہ بھی تحریر کیا ہے، اس لیے یہاں ہم تینوں مصنفین کی...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۷)

اسلام اور نظریہ ارتقا کے علمی و تحقیقی مباحث میں جیسے جیسے وسعت اور ترقی آ رہی ہے، متعدد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ اس موضوع پر دنیا کے مختلف خطوں جیسے کہ امریکہ، ہندوستان، پاکستان، ترکی، مشرقِ وسطیٰ، ملیشیا اور ایران کے...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۶)

گذشتہ صفحات میں ہم نے عیسائی سیاق و سباق میں نظریہ ارتقا سے متعلق چار اہم موضوعات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد باب 3 میں، ہم نے اسلامی صحیفے کا مطالعہ کیا، جہاں ارتقا سے متعلق مختلف قرآنی آیات اور احادیث کو سامنے رکھ کر عیسائی...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۵)

اسلامی متون اور نظریہ ارتقا: تعارف: بہت سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے دو بنیادی مآخذ ہیں۔ پہلا مآخذ قرآن مجید ہے، جو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، نہ کہ پیغمبر محمدﷺکا ذاتی اظہار یا الہامی تاثر۔...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۴)

ارتقا کے نظریے کی تشکیل غالب طور پر عیسائی سیاق و سباق میں ہوئی ہے۔ چنانچہ جب چارلس ڈارون نے پہلی بار 1859 میں اپنی کتاب On the Origin of Species شائع کی، تو اس نظریے پر فوری ردعمل اور طویل مدتی علمی مکالمہ زیادہ تر عیسائی نقطہ نظر...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۳)

پہلے بیان کیے گئے ارتقا کے سائنسی اصول وہی ہیں جو نیو ڈارونزم(Neo-Darwinism) یا جدید امتزاج (Modern Synthesis) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، "Neo" کے معنی کو سمجھنے کے لیے اس نظریے کی تاریخی بنیادوں میں جھانکناضروری ہے، اور یہی اس حصے...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۲)

ڈاکٹر تھیوڈوسیئس ڈوبژانسکی (Theodosius Dobzhansky) نے ایک مشہور جملہ کہا تھا: "حیاتیات میں کوئی بھی چیز اس وقت تک مکمل طور پر سمجھ نہیں آتی جب تک کہ اسے ارتقا کی روشنی میں نہ دیکھا جائے۔" اگرچہ کچھ افراد اور گروہ اس بیان سے اختلاف...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱)

ہم بڑی مسرت کے ساتھ ڈاکٹر شعیب احمد ملک کی کتاب "اسلام اور ارتقاء: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات" کے تعارفی باب کا اردو ترجمہ قارئین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اس کتاب میں مؤلف نے اسلامی تعلیمات اور جدید سائنس کے مابین...
1-11 (11)