مسلم معاشروں سے متعلق فکری مباحث پر استشراقی اثرات

محمد عمار خان ناصر

ہمارے ہاں کم وبیش تمام اہم فکری مباحث میں مغربی فکر وتہذیب اور جدیدیت کے پیدا کردہ سوالات، قابل فہم اسباب سے اور ناگزیر طور پر، گفتگو کا بنیادی حوالہ ہیں۔ اس پورے ڈسکورس میں ایک بنیادی مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسئلے کی نوعیت بنیادی طور پر وہی ہے جس کی نشان دہی ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ’’استشراق “ میں کی ہے، تاہم وہ مغربی علمی روایت کے تناظر میں ہے۔ ایڈورڈ سعید نے بتایا ہے کہ کس طرح استشراقی مطالعات میں مغربی تہذیب کو معیار مان کر دنیا کے باقی معاشروں کا مطالعہ کرنے کا زاویہ کارفرما ہے اور کیسے اس سارے علمی عمل کی تشکیل تہذیبی تعصبات کے تحت اور superiority کے ذہنی رویے کے زیر اثر ہوئی ہے۔ (حال ہی میں وائل حلاق نے خود ایڈورڈ سعید پر یہ دلچسپ تنقید کی ہے کہ انھوں نے غیر مغربی معاشروں اور روایتوں کی جو ایک ہمدردانہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، وہ بھی مغربی تہذیبی تصورات کو ہی normative ماننے پر مبنی ہے۔)

میرا احساس یہ ہے کہ جس رویے کی نشان دہی ایڈورڈ سعید نے استشراق کے حوالے سے کی ہے، ہمارے ہاں بھی وہ بدرجہ اتم موجود ہے اور زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدیدیت کے حامی اور ناقد، دونوں حلقوں کے طرز فکر میں یہ رویہ اتنی ہی گہرائی کے ساتھ سرایت کیے ہوئے ہے۔ مثلا سیاسیات میں سیکولرزم اور ادبی تنقید میں زبان سے متعلق جدید مباحث بنیادی طور پر مغربی فکر ومعاشرت کے مخصوص تاریخی تجربات سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے بہت سے اجزا یقینا مغرب کے مخصوص تاریخی تجربے سے ماورا بھی معنویت رکھتے ہیں، لیکن مجموعی حیثیت میں، ایک پیکج کے طور پر، ان کی معروضی تفہیم مغربی سیاق سے باہر نہیں ہو سکتی۔ لیکن ہمارے ہاں کے فکری مباحث میں اس فرق کو ملحوظ رکھنے بلکہ سمجھنے کی بھی کوئی خاص اہمیت محسوس نہیں کی جاتی اور غیر مغربی معاشروں کے اپنے خاص مزاج، تہذیبی پس منظر اور روایات کو ناقابل اعتنا گردانتے ہوئے مغربی فکری تصورات کو یوں منطبق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے وہ انسانی تجربے اور تاریخ کی پیداوار نہیں، بلکہ اس سے ماورا کسی مصدر سے دریافت کیے گئے ہیں اور انسانی تجربے اور تاریخ پر حکم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جدیدیت کے ناقدین بھی غیر شعوری طور پر اسی طرز فکر کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں۔ مثلا مذہبی فکر میں تجدید یا توسیع کی کوششوں کو بنیادی طور پر ’’تحریک اصلاح مذہب“ کے پیراڈائم میں دیکھنا اسی کا ایک مظہر ہے جس میں اس پہلو سے کلیتا صرف نظر کر لیا جاتا ہے کہ خود اسلامی روایت میں بھی تجدید، اصلاح اور فکری توسیع کا ایک تسلسل موجود ہے اور یہ کہ مثال کے طور پر، مخصوص فقہی مذاہب کی پابندی نہ کرنے اور قرآن وسنت سے براہ استنباط کی روایت کو زندہ رکھنے کا عمل مستقل طور پر اسلامی روایت میں موجود رہا ہے۔ یوں یہاں نہ تو روایت کا کوئی monolithic تصور ہے اور نہ اس کے محافظ کے طور پر کلیسا کا کوئی ادارہ ہے جس کے خلاف ’’ریفرمیشن “ کے طریقے پر بغاوت کی ضرورت محسوس کی گئی ہو۔

جدیدیت اور سائنس نے مذہبی فکر پر یقینا گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن مذہبی رسپانس کی تفہیم کے لیے ’’ریفرمیشن “ کا پیراڈائم قطعی طور پر غیر متعلق اور ناکافی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید مذہبی تعبیرات یا قرآن وسنت کے براہ راست فہم کے ناقدین، خود یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں ’’اصلاح مذہب“ جیسی تحریکوں کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہاں کوئی چرچ موجود نہیں، لیکن پھر اگلی ہی سانس میں جدید تعبیرات کو ’’اصلاح مذہب“ سے تشبیہ دینے لگتے ہیں اور اس تضاد کو محسوس نہیں کرتے کہ جب اسلامی روایت میں وہ صورت حال ہی موجود نہیں جو ’’اصلاح مذہب“ کا جواز بن سکے تو پھر مذہبی تعبیر نو کا رجحان کیونکر مسلم معاشروں میں قبولیت عامہ حاصل کر رہا ہے؟ یہاں ایک دوسری تفہیم بعض ایسے حلقوں کی طرف سے ہمارے سامنے آتی ہے جو اس تضاد کو محسوس کرتے ہیں اور وہ اس ظاہرے کو ’’استعماری طاقت“ سے منسوب کرنے لگتے ہیں۔ یوں عدم تقلید اور تعبیر نو کے داعی تمام مفکرین استعمار کے ایجنٹ اور ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے قرار پاتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی، جمال الدین افغانی، محمد عبدہ اور شبلی وغیرہ، سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا استدلال کا منطقی تقاضا بن جاتا ہے۔ گویا اسلامی فکری روایت اب ایک ’’مردہ بدست زندہ“ ہے جس کی اپنی کوئی داخلی حرکیات نہیں ہیں اور اس کی ہر جنبش کو اسی طرح ماحول کے دباو کا اثر سمجھنا ضروری ہے جیسے نظریہ ارتقا میں حیاتیاتی آرگنزم کی ہر تبدیلی، ماحول کے تقاضوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔

وائل حلاق کا ذکر ہوا جنھوں نے اپنی تازہ کتاب Restating Orientalism: A Critique of Modern Knowledge میں ایڈورڈ سعید پر یہ تنقید کی ہے کہ وہ استشراق کے فکری مزاج کو پوری طرح سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور یہ کہ خود ایڈورڈ سعید کا کام بھی استشراقی مفروضات ہی پر مبنی اور اسی طرز فکر کا نمونہ ہے۔ حلاق کے اس دعوے کا جائزہ لینا یہاں میرا موضوع نہیں، لیکن میری رائے میں یہی تنقید خود حلاق پر بھی وارد ہوتی ہے اور ان کی سابقہ کتاب The Impossible State ایک بنیادی سطح پر مغربی ڈسکورسز ہی کو مسلمان معاشروں پر منطبق کر کے مخصوص نتائج اخذ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ حلاق اس کتاب میں ریاست کے دو ماڈلز کو ایک دوسرے کے مقابل دکھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ Paradigmatic Islamic Governance کی یہ اور یہ خصوصیات تھیں، جبکہ ماڈرن اسٹیٹ کی خصوصیات یہ اور یہ ہیں جو کلی طور پر معیاری اسلامی ریاست کی خصوصیات سے متصادم ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جدید ریاست کے ساتھ ’’اسلامی ریاست“ کا کوئی بامعنی تعلق بنانا، ناممکن ہے۔

حلاق کے اس استنتاج میں دو بنیادی مسئلے ہیں جن میں سے ایک، براہ راست استشراقی منہج مطالعہ کا نتیجہ ہے۔ وہ ماڈرن اسٹیٹ کی خصوصیات متعین کرنے کے لیے مشل فوکو اور دریدا کی تنقیدی تھیوریز پر انحصار کرتے ہیں جنھوں نے ریاست کو، جیسا کہ وہ مغرب میں ارتقا پذیر ہوئی ہے، موضوع بنایا ہے۔ یہاں اس نکتے سے صرف نظر کر لیا جائے کہ یہ ایک پوسٹ ماڈرنسٹ تنقید ہے جو بہرحال ایک خاص مکتب فکر کی ترجمانی کرتی ہے اور اسے مغربی فکر کی کوئی uncontested self-understanding قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس تنقید کو فیس ویلیو پر درست مان لیا جائے تو بھی اس سے اسلامی ریاست کے ناممکن ہونے کا نتیجہ اخذ کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ مسلم معاشروں میں بھی ریاست ارتقا پذیر ہو کر وہی صورت اختیار کر چکی ہے جو مغرب میں پائی جاتی ہے۔ حلاق دونوں معاشروں میں ریاست کی شکل وصورت اور واقعیت کے کھلے ہوئے فرق کو نظر انداز کر کے اور مغربی ریاست کو گویا جدید ریاست کی واحد معیاری صورت فرض کر کے یہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ اسلامی ریاست کی خصوصیات اس میں کوئی جگہ نہیں پا سکتیں، اس لیے اسلامی ریاست اور جدید ریاست دو متضاد تصورات ہیں۔


اسلام اور عصر حاضر