مسلم نشاۃ ثانیہ: اصلاحِ مفاہیم

احمد جاوید

۱۔ اس بات کا شعور بہت ضروری ہے کہ نشاۃ الثانیہ کی اصطلاح مسلمانوں کے لیے وہ معانی نہیں رکھتی جو یورپ کی تحریک نشاۃ الثانیہ کی بنیاد بنا تھا۔ مغرب میں نشاۃ الثانیہ کے تمام نتائج دین کے مخالف رخ پر نکلے اور اس تحریک میں ایک رَو اسلام دشمنی کی بھی تھی۔ ایک تہذیبی تناظر میں یورپ نشاۃ الثانیہ میں اسلام دشمنی کے کسی عنصر کی موجودگی ہمارے لیے کوئی بڑا انتباہ نہیں ہے، بشرطیکہ وہ تحریک عیسائیت کے کسی مذہبی تصور کے دفاع اور اس کی تشکیل و تجدید کے لیے اٹھتی، لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس تحریک نے عیسائیت کے مذہبی جوہر کو منہا کر کے یونانی انداز تعقل کو نئے سرے سے اختیار کیا اور اس فلسفیانہ عقل پرستی کو مذہبی مابعد الطبیعی مباحث اور حقائق کی شناخت کا واحد مستند ذریعہ قرار دے دیا۔ اس کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ نکلا اور اس تحریک کو جس مقصد کاحصول درکار تھا، وہ مقصد بھی حاصل ہوگیا یعنی دین اور دنیا کی جدائی۔ جدید مغرب اسی تحریک کے شجر کا پھل ہے۔ مسلم نشاۃ الثانیہ، ظاہر ہے کہ ان محرکات اور نتائج کو کسی ادنیٰ درجے میں بھی قبول نہیں کر سکتی۔

۲۔ رہا یہ سوال کہ مسلم نشاۃ الثانیہ کے تصور کا حقیقی سیاق و سباق کیا ہے تو اس معاملے میں ہمیں بہت احتیاط اور تفکر کے ساتھ اپنے وسائل اور مقاصد متعین کرنے پڑیں گے۔ سردست یہ ایک سیاسی تصور بن گیا ہے اور اس میں رومانویت کی آمیزش زیادہ ہے۔ نشاۃ الثانیہ کا مروجہ تصور، جس سے ہم بہت زیادہ مانوس ہو چکے ہیں، یہ ہے کہ ملت اسلامیہ اقوام عالم پر اپنی بالادستی، نظام زندگی کے ہر شعبے میں نہ صرف یہ کہ ثابت کر دے بلکہ ماضی میں جس طرح یہ حاصل تھی، اسے پھر سے قائم کر کے دکھا دے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مسلم نشاۃ ثانیہ کا تصور رکھنے والے تمام اذہان اس کی مذکورہ بالا تعبیر تک محدود ہیں، لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دیگر تصورات پوری طرح مکمل ہو کر نہ تو بیان ہوئے ہیں اور نہ وسیع پیمانے پر معروف ہو سکے ہیں تو ہمیں اپنا یہ خیال درست محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس تصور سے موافقت رکھنے والا ذہن بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ مثلاً احیاء خلافت کا تصور یعنی خلافت راشدہ کو اس کی سوچ کے مطابق دوبارہ رو بعمل لانا۔ اس تصور کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس میں خلافت راشدہ کی ساری حیثیت اور حقیقت سیاسی رنگ لیے ہوئے ہے۔ 

اسی طرح نشاۃ الثانیہ کا ایک دوسرا تصور یہ ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور مختلف علوم و فنون میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان شعبوں پر ترقی یافتہ اقوام کی طرح دسترس حاصل کریں اور خود کو ان اقوام کی صف میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ تصور مذہبی حلقوں سے باہر پایا جاتا ہے اور لوگوں میں اس کی مقبولیت پہلے نظریے کے مقابلے میں زیادہ ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہماری رائے میں نشاۃ الثانیہ کی یہ دونوں تعبیرات جزوی فائدے اور کلی نقصان پر منتج ہو سکتی ہے۔ 

۳۔ یہ بات نشاۃ الثانیہ کی ترکیب سے ظاہر ہے کہ مسلمان امت تاریخ کے کسی مرحلے پر کمال یافتہ تھی اور اب حالت زوال سے نکل کر اسے وہی کمال دوبارہ مطلوب ہے۔ یہاں تک پوری بات ٹھیک ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر پہلے ہی قدم پر یہ طے کرنا ہوگا کہ اس امت کو جو کمال حاصل تھا، اس کے واقعی اسباب کیا تھے؟ ان اسباب کی بالکل کلینیکل انداز میں تشخیص ہونی چاہیے۔

۴۔ ایک اور ضروری نکتہ یہ ہے کہ عروج زوال کے تاریخی عوامل کیا ہمیں بعض مظاہر عروج کی باز آفرینی کا موقع دیں گے؟ مذہبی ذہن قوانین تاریخ سے مناسبت نہ رکھنے کی وجہ سے اکثر ناگزیر اور بدیہی رکاوٹوں کی طرف سے آنکھ بند کر لیتا ہے۔ اس روش کا ازالہ کیے بغیر نشاۃ الثانیہ محض ایک خواہش کی سطح سے اوپر نہیں اٹھ سکتی۔ 

۵۔ زندگی کے نئے اسالیب خصوصاً انسان کی جدید تہذیبی اور نفسیاتی ساخت کسی عقیدے یا نظریے کی لفظی اور قانونی تعمیم کو قبول نہیں کر سکتی۔ قبول نہ کر سکنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مستقل عقیدے یا نظریے کی طرف ذہنی میلان ہو بھی جائے تو بھی زندگی کے موجودہ اسالیب و اطوار اس عقیدے کو ذہن سے نکال کر اپنے اندر سرایت کرجانے کا راستہ نہیں دیں گے۔ اس صورت حال میں نشاۃ الثانیہ کے کسی بھی تصور کو عملی صورت دینے کی کوشش کرتے وقت اس عالمگیر مجبوری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، یعنی اس فکر کے حاملین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مزاحمت یا عدم قبولیت کا پیشگی ازالہ کرنے کی کوئی واضح صورت نکالیں، ورنہ دیگر تصورات کی طرح یہ تصور بھی اپنے اطلاق کے امکان کو مستقلاً گنوا بیٹھے گا۔

۶۔ مسلمانوں میں نشاۃ الثانیہ کا حقیقی مقصود یہ ہے کہ آدمی اپنی بنیادوں کی طرف واپس لوٹے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ترقی و خوشحالی کا کوئی گزشتہ دور واپس آجائے۔ بالفاظ دیگر مسلمانوں میں نشاۃ الثانیہ کا ہر وہ تصور بے معنی ہے جس کا مقصود مسلم ماڈل کی نئی تشکیل کے علاوہ کوئی بات ہو، یعنی ہماری اصل ضرورت عمرؓ ہیں نہ کہ ان کا دور حکومت۔ 

۷۔ خود مغربی نشاۃ الثانیہ کی تحریک آدمی کی تبدیلی کی تحریک تھی جو بڑی حد تک کامیاب ہوگئی۔ وہ لوگ جانتے تھے کہ انسان میں تبدیلی لائے بغیر حالات کو نہیں بدلا جا سکتا۔ ہمارا سادہ لوح دماغ اس وہم میں مبتلا ہے کہ حالات کو انتظامی، سیاسی یا معاشی طور پر بدل کر یعنی خلافت راشدہ جیسا نظام حکومت لا کر آدمی خود بخود بدل جائے گا جب کہ بات اس کے برعکس ہے۔ آدمی بدلے گا تو حالات بدلیں گے۔ یہ بات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعی اسوۂ مبارکہ کو پیش نظر رکھ کر کہہ رہے ہیں اور اس کے علاوہ انسانوں میں تجدید و احیاء وغیرہ کی جتنی کامیاب تحریکیں چلی ہیں، ان کے طریق کار سے بھی اس کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ 

۸۔ جدید مسلم ذہن تاریخ کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ یا اس کی وجہ سے ہم حیات انسانی کے مکینیکل مظاہر (یعنی وہ چیزیں جو زندگی میں خود بخود دَر آتی ہیں) پر بھی کوئی موقف نہیں رکھتے۔ تہذیب، علم، دنیا، عروج و زوال، نفسیات وغیرہ کے بارے میں ہم اگر کچھ کچے پکے تصورات رکھتے بھی ہیں تو انہیں اپنی اساس ہستی اور اپنے مقاصد حیات سے کسی بلند سطح پر ہم آہنگ نہیں کر پاتے یا اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ اس کمی کے ہمیں کم از کم دو بڑے نقصانات اٹھانے پڑے۔ ایک تو یہ کہ ہمارا تصور دین سطحی اور یک رُخا ہو کر رہ گیا۔ دوسرے یہ کہ ہم کوئی ایسا تصور انسان قائم اور پیش کرنے کے قابل نہیں رہے جو انسان کو موضوع بنانے والے کسی بھی علم کے مقابلے میں رکھا جا سکے۔ مثال کے طور پر جدید فلسفۂ قانون پڑھ لیں تو ہمارا موجودہ فقہی ذہن اور اس کا تخلیق کردہ لٹریچر بچوں کا کھیل معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح علم بشریات، نفسیات اور بیشتر سماجی علوم انسان کی واقعی حقیقت کی جن گہرائیوں تک عملاً پہنچ چکے ہیں، وہ ہمارے لیے یکسر نا معلوم اور اجنبی ہیں، حالانکہ ان گہرائیوں کی دریافت ہمارا کام ہونا چاہیے تھا تاکہ ہم انسان تک دین کی رسائی کا بڑا دائرہ بنا سکتے۔ ایسے پس ماندہ ذہن میں بننے والے تصورات فطری طور پر تصور کی حیثیت سے بھی ناقص ہوتے ہیں اور علمی جہت سے بھی ناممکن العمل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نشاۃ الثانیہ کا تخیل بھی ذرا سے غور کے بعد خواب کی طرح معلوم ہوتا ہے جس سے تھوڑی دیر کو سکون تو مل جاتا ہے، لیکن اس کی طرف عملی پیش رفت خود اس خواب میں رہنے والے کے لیے ناممکن ہوتی ہے۔ 

۹۔ ہماری رائے میں نشاۃ الثانیہ کا کوئی تصور اس وقت تک مسلمانوں کے لیے بامعنی نہیں ہے جب تک اس کے اندر مندرجہ ذیل امور کا ادراک نہ پایا جائے:

  • عقیدے اور تاریخ کا تعلق
  • انسان میں تبدیلی کی صلاحیت
  • انسان کا وہ مرکز جو کسی بات کو قبول کر کے اسے تمام سطحوں پر محفوظ کر لیتا ہے اور حالات کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتا
  • تہذیب کے اصول تشکیل اور ان کا دین سے تعلق
  • بنی نوع انسان میں انفرادیت اور اجتماعیت کا نقطۂ اشتراک
  • فضائل انسانی اور ان کی Manifestation کا تنوع
  • انسانی زندگی اور قانون
  • انسان کی مستقل اور عارضی ضروریات
  • تقدیر اور تاریخ
  • تقدیر اور انسانی اختیار کے حدود
  • انسانی اختیار اور تاریخ کا قانون جبر و تغیر
  • انسانوں کے اجتماعی نظام کی معنویت
  • نظام زندگی: استقلال اور لچک
  • نفس انسانی: استعداد اور محرکات
  • دین کا مقصد اصلی

۱۰۔ مندرجہ بالا امور پر ایسا دینی موقف اختیار کرنا جو مبنی بر واقعیت ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ ان مباحث کی طرف علمی سفر سے آغاز کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس علم کو ایک نظام تربیت بنایا جائے۔ اس کے بعد کہیں جا کر نشاۃ الثانیہ کا عمل خارج میں اظہار پذیر ہونا شروع ہوگا۔ لہٰذا پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم پوری طرح بدلا جائے اور تعلیم کے مقاصد کو دنیا سے منقطع کیے بغیر دین کے تابع رکھا جائے۔ 

۱۱۔ موجودہ دور چھوڑی بڑی تمام چیزوں کو ایک نظریاتی کل اور نامیاتی وحدت میں اس طرح ڈھالنا چاہتا ہے کہ ایک ہی تعریف (Definition) سب پر صادق آسکے۔ اقوام متحدہ کے زیادہ تر منصوبے مثلاً گلوبلائزیشن وغیرہ دراصل اسی ہمہ گیر تقاضے کے مظاہر ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی استعمار کی طرف سے دیگر اقوام کو اپنے تابع کرنے کی جو نہایت باضابطہ کوششیں کی جا رہی ہیں، وہ محض اس لیے نہیں ہیں کہ ان کے چند سیاسی یا معاشی مفادات کا حصول ممکن ہو جائے، بلکہ اس کے پیچھے ایک نظریہ کار فرما ہے۔ وہ نظریہ یہ ہے کہ انسان اور اس کے تمام متعلقات یعنی علم، تہذیب وغیرہ کو ایک ہی اصل پر مبنی اور ایک ہی مقصود سے وابستہ ہونا چاہیے۔ اس میں پہلی ضرورت یہ ہے کہ جو ترقی یافتہ اقوام اس اصل اور مقصود کا ادراک رکھتی ہیں یا انہیں وضع کر چکی ہیں، وہ پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ قوموں کو اپنے برابر لانے کی بجائے اپنے بنائے ہوئے دائرے میں رکھنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے ان کی ہر نظریاتی اور تہذیبی تحدید کو توڑنے کے درپے ہو چکی ہیں۔ کیونکہ ان کی نظر میں قوموں کی سطح پر نظریاتی اور تمدنی انفرادیت کا اظہار اور اس پر اصرار بنی نوع انسان کی ہم اصلی اور ہم مقصدی کے اس تصور کو عمل میں نہیں لانے دے گا جو ان طاقتور اقوام کے پیش نظر ہے۔ عالم اسلام میں اس خطرے کا احساس اور ادراک بالکل مفقود تو نہیں ہے لیکن جس سطح پر ہے، وہ قطعی غیر موثر ہے اور زندگی کی کسی نظریاتی تشکیل میں کوئی با معنی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے نظریۂ زندگی اور زندگی میں مطابقت کا ہر پہلو غیر موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان نظریے یا عقیدے اور زندگی کی پوری عدم مطابقت کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسے ان دو غیر متعلق امور میں سے ایک کو لازماً چھوڑنا پڑتا ہے۔ ابھی وہ صورت حال تو نہیں آئی کہ ہم ترک و قبول کے عمل میں ایک حتمی مقام پر پہنچ گئے ہوں، تاہم ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا رخ جس طرف ہو چکا ہے، اس کے پیش نظر یہ بات بہت بعید از قیاس نہیں ہے کہ ہم محض زندہ رہنے پر قانع ہو جائیں اور زندگی کے بارے میں تصورات کو فراموش کر دیں۔ موجودہ حالات میں ایسا ہو جانا تقریباً یقینی دکھائی دیتا ہے اور تاریخ و انسان کے مطالعے کا کوئی طریقہ ہمارے اس خوف کو زائل نہیں کرتا کہ مستقبل میں ہم دنیا کو اپنا علانیہ مقصود بنا کر دین کو ایک غیر ضروری رکاوٹ قرار دے کر اسے عین اس طرح نظر انداز کر بیٹھیں جس طرح جدید مغرب نے عیسائیت کو کر رکھا ہے۔ اس رویے میں دین کی اتنی بھی وقعت نہیں پائی جاتی کہ اس کا انکار کرنے کا تکلف پالا جائے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ اسے فرد کا ذاتی مسئلہ قرار دے کر زندگی کے مرکزی دھارے سے الگ کر دیا جائے۔ 

فی زماننا جدید مسلم ذہن اسی روش پر چلنے پر راضی نظر آتا ہے کہ دین ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اسے کاروبار زندگی میں مخل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ مشکل یہ ہے کہ ہماری مذہبی فکر اس بات کا ایک تحکمانہ قانونی اور سیاسی جواب دے کر مطمئن ہو جاتی ہے اور یہ نہیں دیکھتی کہ جس ذہن میں ایسا خیال آسکتا ہے، وہ بھلا فتوے یا خطاب کو قبول کرے گا؟ احیائے امت کی کسی بھی کوشش میں ابتدائی طور پر ہی اس روز افزوں ذہنیت کامکمل تجزیہ کر کے اسے ایک گمراہی کی بجائے ایک مرض کے طور پر دیکھنا ہوگا اور اس کے ازالے کا طریق کار بھی مناظرے کی جگہ معالجے پر مبنی رکھنا ہوگا۔ یہاں معالجے کا مطلب وعظ و نصیحت نہیں ہے بلکہ کسی خرابی کے بنیادی اسباب کی تشخیص کے بعد ان اسباب کا ایسا ازالہ کرنا ہے کہ ان کی دوبارہ پیدائش کا احتمال نہ رہے اور ان کی کشش انسانوں کے اندر سے ختم ہو جائے۔ انسان کا خاصہ یہ ہے کہ اس کی عمومی زندگی کے تقریباً تمام اہداف حق و باطل اور صحیح و غلط کے معیارات پر اتنے استوار نہیں ہوتے جتنے کہ پسند و ناپسند پر ہوتے ہیں۔ زندگی انسان کی جس استعداد یا سطح سے فوری اور فطری مناسبت رکھتی ہے، وہ ذہن نہیں ہے بلکہ طبیعت ہے۔ یہ قانون مسلمانوں کے لیے بدل نہیں جاتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمات کی قبیل میں رکھ کر اس کی اپنے نظریات کے مطابق تراش خراش کی جائے یعنی مسلم نشاۃ الثانیہ اگر ایک سلسلہ عمل ہے تو اس سلسلے کی ابتدائی کڑیوں میں سے ایک کڑی یہ ہے کہ زندگی اور طبیعت کا جبری تلازم پورے انسان اور پوری زندگی پر حاوی نہ آجائے یعنی مسلمان اپنے منہاج حیات میں طبیعت تک محدود نہ ہو کر رہ جائے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ طبیعت کو نظر انداز کر کے آدمی کے اندر ذہنی یا اخلاقی مقاصد سے مستقلاً وابستہ رہنے کی قوت باقی نہیں رہتی، چونکہ طبیعت منہا ہو جائے تو بڑی سے بڑی چیز بھی اپنی کشش کھو بیٹھتی ہے اور محض اس کی بڑائی کا ادراک انسان کو اس کے ساتھ جوڑے نہیں رکھ سکتا۔ ہماری اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنے عقیدے کے عملی اور اطلاقی مظاہر کو انسانی نفس اور طبیعت کے لیے ہی قابل قبول بنا دیں تاکہ حق کے ساتھ ہماری وابستگی کی قوت میں ضعف نہ پیدا ہو جائے۔ 

اس انتہائی بنیادی ضرورت سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل امور کو خوب غور و فکر کے ساتھ پیش نظر رکھا جائے:

  • دین کی دنیاوی افادیت بھی ثابت کی جائے، علمی سطح پر بھی اور عملی سطح پر بھی۔ 
  • قرآن و سنت سے بلا تاویل مستنبط ہونے والے تصور انسان کو انسان فہمی کے مروجہ معیارات پر حقیقی بنا کر دکھایا جائے اور انسانیت کے اس ٹائپ کو معاشرے میں مدار فضیلت بنایا جائے۔
  • وہ علوم جو کائنات اور انسان کی حقیقت سے بحث کرتے ہیں، انہیں دین کی ثابت شدہ غایات اور مقاصد کے اس طرح تابع رکھا جائے کہ ان علوم کے اپنے اپنے معیارات پر کوئی ضرب نہ لگے۔ مثال کے طور پر نفسیات وغیرہ میں ان تحقیقات کی کوئی حیثیت نہیں جو اس علم کے مسلمہ معیار سے کمتر ہیں۔ ہمارے دور میں اسلامائزیشن آف نالج کی کوششیں اسی لیے دین کی سبکی کا سبب بنی ہیں کہ انہوں نے تمام علوم پر اناڑیوں کی طرح دست اندازی کی ہے۔ انسان کی دنیاوی فلاح کے لیے قائم کیا جانے والا ہر نظام واضح طور پر دینی اساس پر مبنی ہونا چاہیے اور وہ اساس محض قانون کے دائرے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ 
  • مسلم نشاۃ الثانیہ کا تصور جن اغراض سے پھوٹا ہے، ان میں ایک کڑی غرض مسلمانوں کے مفوضہ کائناتی کردار کی باز آفرینی ہے یعنی ہم ساری دنیا کے لیے داعی الی الحق بنیں۔ اس دعوت کی داخلی بناوٹ علمی سے زیادہ عملی اور نظریاتی سے زیادہ معاشرتی ہونی چاہیے۔ دین کو معاشرت میں منتقل کیے بغیر نشاۃ الثانیہ کا ہر تصور مہمل ہے۔ 

۱۲۔ احیائے امت کی کسی بھی تحریک کا انحصار اسی آزمودہ منہج پر ہونا چاہیے جس پر اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس منہج کے دو پہلو ہیں، علمی اور عملی۔ علمی منہج جس کی بنیاد عقیدہ ہے، اس کے ضروری اجزا یہ ہیں:

  • تقویم امت کے حقیقی اصول کی معرفت
  • اس سوال کا جواب کہ امت کیا ہے اور مسلمانوں کی مختلف تہذیبی اور قومی وحدتیں امت کی وحدت میں ضم ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں۔
  • اسلام اور مسلمانوں کے موجودہ حالات کی درست تشخیص اور ان کے محرکات
  • اسلام اور اہل اسلام کو درپیش مخالفتوں، مزاحمتوں اور مجبوریوں کی شناخت اور ان کا تجزیہ۔ اس تجزیے کے نتائج کو عروج و زوال کے تاریخی اور نقص و کمال کے اخلاقی قوانین کے اندر رہتے ہوئے مطلوبہ نتائج کے حصول کی ذہنی اور عملی کوششوں کی بنیاد بنانا۔ 

عملی منہج جس کی بنیاد اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہے، اس کے بنیادی عناصر یہ ہیں:

  • زندگی کے موجودہ مقاصد اور دین کے مطلوبہ مقاصد کے درمیان پیدا ہو جانے اولے فاصلے کو ختم کرنا
  • دین کی کلچرلائزیشن
  • موجودہ معاشرتی اور دین کے نظام فضائل میں ہم آہنگی پیدا کرنا
  • غربت اور نا انصافی کا ازالہ اور بے تحاشا امارت و غیر محدود ملکیت کا خاتمہ
  • عورتوں میں مظلومیت اور بے حیائی دونوں کا علاج

۱۳۔ یہ تمام مناہج جس علمی قانون اور اخلاقی اصول پر مبنی ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ مسلم نشاۃ الثانیہ کے عمل میں فرد اور اجتماع دونوں کی یکساں ذمہ داریاں ہیں جن میں بعض مشترک ہیں اور بعض منفرد۔ علمی ذمہ داریوں کا اکثر حصہ افراد سے تعلق رکھتا ہے، قانونی فرائض بیشتر اجتماعی نوعیت کے ہیں اور اخلاقی ذمہ داریاں دونوں میں مشترک ہیں، یعنی نشاۃ الثانیہ کی تیاری جس درست علم، محکم ارادے اور خالص نیت پر موقوف ہے، انہیں حاصل کرنے کے عمل میں خود کو ڈالے بغیر ہم اپنے مطلوبہ نتائج کی طرف پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکیں گے۔

خلاصہ یہ کہ مسلم نشاۃ الثانیہ صدر اول کے حالات کی بازیابی کا نام نہیں ہے بلکہ اس انسان کے حصول کا نام ہے جسے صدر اول نے ایک مستقل نمونے کے طور پر عملاً تشکیل دیا تھا۔ گویا جب ہم نشاۃ الثانیہ کی آرزو کرتے ہیں تو اس کا واحد مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے موجود ہونے کی تمام بنیادوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کر کے انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں حالات کی یکسر تبدیلی کے باوجود فنکشنل بنانا چاہتے ہیں۔ نشاۃ الثانیہ کا یہ محرک اتنا جامع اور مانع ہے کہ اس میں کسی چیز کمی کی جا سکتی ہے نہ اضافہ۔

اسلام اور عصر حاضر

(مئی ۲۰۱۳ء)

Flag Counter