ملت اسلامیہ کا بھولا ہوا ایک اہم فریضہ

مولانا محمد عیسٰی منصوری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے اس کی رہنمائی کے لیے حضرات انبیاء کا سلسلہ شروع فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء دنیا میں تشریف لائے۔ ان سارے انبیاء کے بنیادی کام تین تھے۔

۱۔ نبی انسانوں میں محنت وکوشش کر کے اللہ تعالیٰ کا تعارف وپہچان کرا کے ان کے دلوں میں اللہ کی عظمت ومحبت بٹھاتے، اللہ سے رشتہ جوڑ کر انھیں اللہ تعالیٰ کے لیے جینا ومرنا سکھا کر اس کو اللہ والا بنا دیتے۔ اس کے بعد انسان دنیا میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جیتا تھا۔

۲۔ حضرات انبیاء انسانوں کو بتاتے کہ موت کے بعد ایک ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی آنے والی ہے جو کروڑوں، اربوں، کھربوں سال سے زیادہ اور ابدی ہوگی اس لیے اے انسان! تو اپنی اس زندگی (آخرت) کو سنوارنے کے لیے دنیا میں محنت کرے۔ اس مختصر سی عارضی زندگی میں تیرا کوئی کام، کوئی حرکت، کوئی زبان کا بول، کوئی قدم ایسا نہ اتھے جس سے تیری آخرت بگڑ جائے۔ تو انسان آخرت کی فکر کے ساتھ جیتا تھا۔

۳۔ انبیاء انسانوں کو سمجھاتے کہ دنیا کی عارضی زندگی اپنی خواہشات، دل کی چاہت یا لوگوں کی دیکھا دیکھی یا اپنی سمجھ وعقل کے مطابق گزارنے کے بجائے اس کو اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنے سے تو دنیا وآخرت میں کامیاب ہوگا۔ تو انسان کو خواہشات پرچلنے کے بجائے اللہ کے احکامات پر چلنے والا بناتے۔ 

دنیا میں جتنے بھی انبیاء آئے، سارے ہی نبیوں کے بنیادی کام یہی تین تھے۔ (۱) اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرنا (۲) آخرت کی فکر کے ساتھ رہنا (۳) خواہشات کے بجائے احکامات پر چلنا۔

اس کے علاوہ دین کے جتنے بھی کام او رشعبے ہیں جیسے درس وتدریس، وعظ وتذکیر، تصنیف وتالیف، تزکیہ واصلاح نفس، یہ تمام شعبے اللہ کے خاص بندوں، اہل اللہ اور علماء امت نے اپنے اپنے زمانے میں مسلمانوں کی تعلیم وتربیت، دین سکھانے اور دین پر چلنے کے لیے اپنے اجتہاد سے شروع فرمائے۔ حضرت مولانا الیاس صاحبؒ فرماتے تھے کہ یہ تمام اجتہادی شعبے اصل کے ساتھ (حضرات انبیاء کے مذکورہ تینوں کاموں کے ساتھ) ہوں گے تو ان کے منافع، فوائد وبرکات ہزاروں گنا بڑھ جائیں گے اور جب اصل کے بغیر صرف یہی شعبے رہ جائیں گے تو ان کا نفع وفائدہ بہت محدود ہو جائے گا۔ پھر آہستہ آہستہ ان میں رَسمیت آ کر یہ شعبے اپنی اصل روح کھو کر بے جان رہ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان ان اجتہادی شعبوں میں لگا ہو جیسے درس وتریس، وعظ وتذکیر، تزکیہ واصلاح نفس، تبلیغ وارشاد تو اس کے لیے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے معاشرہ میں ایمان واسلام بھی غیروں تک پہنچائے او رمسلمانوں میں محنت کر کے ان میں آخرت کی فکر پیدا کرے۔ ان کا رشتہ تعلق اللہ سے جوڑنے اور انھیں خواہشات سے ہٹا کر احکامات پر لانے کی جدوجہد بھی کرنی ہوگی۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہر نبی کا اصل کام اور اصل دعوت ایمان واسلام یعنی خدا کو ماننے اور خدا کی ماننے ہی کی تھی۔ کسی نبی نے کبھی نماز، ذکر یا کسی اور چیز کی دعوت نہیں دی۔ وہ انسانوں کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کی زندگی کے سب سے بنیادی اور اصل کام دو ہیں۔ (۱) غیر مسلموں کو ایمان واسلام کی دعوت دینا۔ (۲) اور مسلمانوں میں آخرت کی فکر، اللہ سے رشتہ جوڑنے اور اللہ کے احکامات پر لانے کی فکر کرنا۔ پہلا اور اصل کام آج تقریباً بالکل چھوٹ گیا ہے۔ چند لوگ انفرادی حیثیت سے ضرور کر رہے ہیں، لیکن من حیث الامۃ پورے مسلمان اس فریضہ سے غافل ہیں۔ اچھے اچھے صالحین، اللہ والوں، دین دار وعبادت گزاروں کو اس کا خیال تک نہیں کہ ہم جس ملک ومعاشرہ میں رہ رہے ہیں، اس کے باشندوں تک اسلام وایمان پہنچانا بھی ہماری ذمہ داری وفریضہ ہے۔ اس اصل کام کے چھوٹنے کی وجہ سے آج پوری امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے گر کر ہر قسم کی پریشانیوں، مصیبتوں، تباہی وبربادی اور اللہ کی ناراضگی وغضب میں گھر چکی ہے۔

مثلاً یہاں برطانیہ میں ہم نے درجنوں دار العلوم، جامعات قائم کر لیے بلکہ متعدد شہروں اور بستیوں میں دو دو تین تین دار العلوم بنتے جا رہے ہیں، مگر ہمارے پاس ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جہاں کسی نومسلم کو دو تین سال رکھ کر ضروریات زندگی سے بے فکر کر کے اسلام کی بنیادی تعلیم دے کر اس کے اپنے معاشرے میں اسلام وایمان کا داعی بنا کر بھیجا جائے، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جو ایمان لاتا، اسے تھوڑے دنوں دین کی بنیادی تعلیم وتربیت فرما کر اس کے قبیلہ وقوم اور علاقہ میں ایمان کا داعی بنا کر بھیجتے۔ چنانچہ صحابہ کی دعوت پر ان کا قبیلہ وقوم یا اکثر افراد یا بعض افراد مسلمان ہو جاتے۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی صحابی کے اسلام کی دعوت دینے پر ان کی قوم وقبیلہ نے شہید کر دیا۔ جیسے طائف میں حضرت عروہ بن مسعود ثقفیؓ کے ساتھ ہوا۔ غرض ایمان لانے کے بعد براہ راست اسلام کی دعوت اختیار کرنے کی برکت تھی کہ آناً فاناً اسلام دنیا میں پھیلتا رہا۔ 

مدینہ منورہ کے دس سال میں روزانہ ۲۷۴ میل کے حساب سے اسلام پھیلا۔ آپ کی وفات کے وقت تقریباً دس لاکھ مربع میل کا علاقہ اسلام کے زیر نگیں آ گیا۔ دور فاروقی میں ۲۳ لاکھ مربع میل، دور عثمانی میں ۴۴ لاکھ مربع میل اور حضرت معاویہ کے دور میں ۶۵ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح ہوا۔ یعنی صرف ۳۵، ۳۷ سال کی مختصر مدت میں اس دور کی بیشتر دنیا، ایشیا وافریقہ کے بڑے حصہ میں اسلام پہنچ گیا۔ دور عثمانی میں مکران (سندھ) او ربلوچستان اور دریائے جیحوں کو عبور کر کے چین میں مسلم آبادیاں قائم ہو گئی تھیں اور مسلمان یورپ میں پہنچ گئے تھے۔ آج جسے مسلم ورلڈ یا عالم اسلام کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت حضرات صحابہ کرام کی دعوت کاپہن ہے۔ بعد کے ادوار میں اصل طرز دعوت (غیروں کو ایمان واسلام کی براہ راست دعوت کا عمل) چھوڑ جانے کی وجہ سے ایک تو اشاعت اسلام کی رفتار بہت دھیمی اور سست پڑ گئی۔ دوسرے عسکری یا دوسرے ذرائع سے جو خطے مسلمانوں کی عمل داری میں آئے، عسکری طاقت کمزور پڑتے ہی وہاں کفر کی عمل داری واقتدار قائم ہو گیا اور براہ راست غیر مسلموں میں ایمان کی دعوت چھوٹ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر طرح طرح کی خرابیاں اور فتنے پیدا ہو گئے۔ اس کے برخلاف جہاں جہاں اسلام حضرات انبیاء کے اصل طرز، دعوت الی اللہ سے پھیلا، وہاں آج تک اسلام ومسلمان محفوظ ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس آخری دور میں ہم دوبارہ اپنے اولین اور اصلی دور کے طرز عمل کی طرف لوٹیں۔ حضرت امام مالکؒ کا مقولہ مشہور ہے کہ جس طریقہ اور طرز سے اولین دور (دور نبوت وصحابہ) میں کامیابی وفلاح حاصل ہوئی تھی، آخری دور میں بھی اسی طرز (دعوت الی اللہ) کے ذریعہ حاصل ہوگی۔ دین کے دوسرے شعبوں کا کماحقہ فائدہ ایمان کی دعوت کے ساتھ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایمان واسلام کی غیروں کو دعوت کے عمل کے بغیر دین کے اجتہادی شعبے بے جان وبے روح اور رسمی بن کر رہ جاتے ہیں۔ عصر حاضر کی ایک بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ دین کے اجتہادی مختلف شعبہ والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم بھی تو دعوت ہی کا کام کر رہے ہیں جبکہ وہ انسانوں کو براہ راست ایمان واسلام کی دعوت کے بجائے دین کے دیگر اجتہادی شعبوں میں لگے ہوئے ہیں۔ 

سیرت اور قرآن وسنت کی رو سے ایک مسلمان کا سب سے پہلا فریضہ اپنے معاشرہ میں ایمان کی دعوت دینا ہے۔ اسلام کے مثالی معاشرہ (دور نبوت) میں حضرات صحابہ کرام میں چند افراد متخصص فی التجوید وقراء ت یا متخصص فی الفقہ یا متخصص فی المغازی (سیرت) تھے، لیکن سو فی صد صحابہ کرام متخصص فی الدعوۃ تھے۔ یعنی ہر صحابی جہاں رہا، اس نے اپنے معاشرہ میں بے شمار لوگوں تک ایمان واسلام پہنچایا۔ آج ہم مولوی، حافظ، قاری، مفتی سب کچھ بناتے ہیں، نہیں بناتے تو غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے والے نہیں بناتے، جبکہ دین کے دیگر شعبوں کا مقصود اصل کام ایمان کی دعوت ہے۔ جیسے وضو ذریعہ ہے نماز کا۔ اگر کوئی زندگی بھر وضو بناتا رہے، نماز نہ پڑھے۔ ہم وہی کر رہے ہیں۔ متعین رسمی کام کے لیے علمی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں، لیکن اصل کاموں سے غافل ہیں۔

ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ دور نبوت میں جب کوئی ایمان لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ظاہر کے بجائے دل وباطن بدلنے پر ساری توجہ مرکوز فرماتے۔ دیکھیے صحابہ کرامؓ کے نام ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر وغیرہ سب اسلام کے پہلے کے ہیں۔ آپ نے چند ہی لوگوں کے نام تبدیل کیے جن کے نام میں شرکیہ یا گندے معنی نکلتے تھے۔ اسی طرح زبان اور لباس سب عربوں (مسلمان وکافر) کا ایک ہی جیسا تھا۔ آپ کی پوری کوشش ان کے اندر اللہ کا تعلق پیدا کرنے، اندرون اور دلوں کے بدلنے کی ہوتی تھی۔ کفر کی جگہ ایمان، جہالت کی جگہ علم، غفلت کی جگہ اللہ کا دھیان پیدا کرنے کی ہوتی۔ پھر چند دنوں کی تربیت فرما کر انھیں دوسروں کو ایمان واسلام کی دعوت کے عمل پر گام زن فرما دیتے۔ لیکن آج مثلاً کوئی شخص یہاں (لندن میں) مسلمان ہو تو میں اس کے دل اور اندرون کو بدلنے کی کوشش کے بجائے پہلے اس کا نام بدلوں گا۔ پھر لباس شلوار کرتا پہناؤں گا۔ پھر ٹوپی پہنا کر اس پر عمامہ باندھ کر سمجھ لوں گا کہ میرا پورا کام ہو گیا۔ یعنی بڑھیا کے باز کی طرح جس نے شاہی باز کے ناخن چونچ کتر کر اسے اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے معاشرہ اور سوسائٹی میں واپس جا سکے، ہم اس نومسلم کو اس کے معاشرہ میں جا کر دعوت دینے کے قابل نہیں چھوڑتے۔

اگر حضرات صحابہ دنیا کو ایمان کی دعوت دینے کے بجائے اس دور کی کفر کی دو عظیم سلطنتوں اور اس دور کے سپر پاور (رومن ایمپائر اور پرشین ایمپائر) کے عسکری مقابلہ کے لیے اسباب، سازو سامان، اسلحہ وسواریاں اکٹھی کرنے پر توجہ دیتے تو شاید صدیوں تک ان کے مقابلہ کا ساز وسامان اور اسلحہ نہیں جمع کر پاتے۔ حضرات صحابہ نے نہایت مختصر راستہ (Short way) اختیار فرمایا، یعنی سب کو ایمان کی دعوت دی۔ جب کوئی ایمان کی دعوت دے تو دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو سامنے والا دعوت قبول کر کے اللہ کو مان کر مسلمان بن جائے گا یا انکار کرے گا۔ انکار کے بعد اللہ کا غیبی نظام اس کے خلاف ہو جائے گا اور وہ اللہ کی پکڑ میں آ کر تباہ ہو جائے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے سے دس گنا زیادہ طاقتور دشمن کو تدبیر اور حکمت عملی سے اس سے کئی گنا زیادہ طاقت ور دشمن سے بھڑا دیں۔ صحابہ نے یہی کیا۔ ایران اور روم کی عظیم سلطنتوں کو، جن کے پاس ہزار ہا سال کے جمع شدہ خزانے، اسلحہ اور ساز وسامان تھا، ایمان کی دعوت دے کر ان کو اللہ کی طاقت سے ٹکرا دیا جو ان سے کروڑوں گنا زیادہ طاقت وقدرت والا ہے۔ غرض دعوت، دنیا میں کامیابی کی شاہ کلید (Master key)ہے۔

یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے۔ عصر حاضر میں اسلام اور کفر کی طاقت وقوت کا توازن پھر اس لیول (درجہ) پر آ گیا ہے جو دور نبوت میں تھا۔ اگر اس دور میں مسلمان اور کفار کے درمیان اسلحہ وطاقت کا فرق ایک اور دس کا تھا تو یہ فرق مزید بڑھ کر ایک اور سو کا ہو گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ عالم کفر نے سائنسی ترقی سے طاقت وقوت کے فرق کو کمیت سے کیفیت تک وسیع کر دیا، یعنی کوانٹٹی (Quantity) سے کوالٹی (Quality) تک بڑھا دیا۔ دیکھیے اس دور میں فرق صرف تعداد کا تھا۔ مثلاً غزوۂ بدر میں ادھر تین سو تیرہ تو ادھر گیارہ سو، مگر اسلحہ کی کوالٹی میں فرق نہیں تھا۔ دونوں طرف دستی اسلحہ تھے۔ اب سائنس وٹکنالوجی نے دور مار الیکٹرانک اور کیمیاوی اسلحہ دے کر اسلحہ کی کوالٹی میں بھی بڑا فرق (Difference) پیدا کر دیا۔ اب ایک عورت ہوائی جہاز سے ایٹم بم گرا کر پورے ملک کے لاکھوں بہادر وشجاع افراد کو ختم کرسکتی ہے۔ اس لیے دور صحابہ کی طرح آج کے مسلمان کے پاس بھی صرف ایک ہی راستہ بچا ہے۔ وہ ہے ایمان کی دعوت کا راستہ۔ دنیا کے طاقت وقوت والے، جدید اسلحہ وسائنس وٹکنالوجی والے اللہ پر ایمان لے آئیں۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ طرز عمل رہا ہے کہ آپ نے عسکری ٹکراؤ پر ایمان کی دعوت کو ترجیح دی۔ ۶ھ میں آپ عمرہ کی نیت سے مکہ کے پاس حدیبیہ تک پہنچ گئے۔ کفار مکہ کی پوری کوشش تھی کہ آپ کو اس میدان میں لے آئیں جس میں انھیں برتری حاصل تھی (یعنی عسکری میدان) مگر آپ نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا کر انھیں اس میدان میں آنے پر مجبور کر دیا جس میں مسلمانوں کو مطلقاً فوقیت وبرتری حاصل تھی (یعنی دعوت وفکر)۔ اس کی خاطر آپ نے ان کی یک طرفہ اشتعال انگیز قابل گرفت تمام شرائط مان لیں۔ صحابہ کرام میں صدیق اکبر کے علاوہ تقریباً سب ایسی یک طرفہ شرائط جو مسلمانوں کے خلاف اور کفار کے حق میں تھیں، ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، مگر آپ کا صلح سے مقصد یہ تھا کہ مختلف قبائل اور دنیا بھر کو ایمان کی دعوت پہنچانے کے لیے فضا بنے، ٹینشن وٹکراؤ کا ماحول ختم ہو اور دنیا اسلام کی دعوت پر غور کر سکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو سال میں اتنے لوگ ایمان لائے جتنے گزشتہ بیس سال میں نہیں لائے تھے۔ دعوت کے مواقع ملنے کی برکت سے ایسا غلبہ وفتح حاصل ہوئی کہ دو سال بعد ۸ھ میں مکہ خود ہی فتح ہو گیا۔ اس صلح کا مقصد دنیا میں ایمان پہنچانے کے لیے فضا کو سازگار بناناتھا۔ اسی کو قرآن نے فتح کہا ہے۔

ہماری چودہ سو سالہ تاریخ درحقیقت دعوت کی تاریخ ہے۔ ہم نے جو کچھ حاصل کیا، ایمان کی دعوت ہی سے حاصل کیا اور جو کھویا، لوگوں کو ایمان پہنچانے کی دعوت ہی میں کوتاہی سے کھویا۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں جب کبھی ملت پر نازک وقت آیا تو ایمان کی دعوت ہی سے حالات نے مسلمانوں کے حق میں پلٹا کھایا۔ پروفیسر آرنلڈ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ میں دو مواقع ایسے آئے تھے جب وحشی کافروں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کی گردنوں پر پاؤں رکھ دیے تھے۔ گیارہویں صدی عیسوی میں سلجوقی ترکوں نے اور تیرہویں صدی عیسوی میں منگول ترکوں نے، لیکن تعجب کی بات ہے کہ دونوں مواقع پر فاتح نے من حیث القوم مفتوح کا مذہب قبول کر لیا۔ مورخ پروفیسر ہٹی لکھتا ہے، جہاں مسلمانوں کے ہتھیار ناکام ہو گئے، ان کی دعوت نے فتح حاصل کر لی۔

تیرہویں صدی عیسوی کی ابتداء اسلام اور مسلمانوں کی دنیا بھر میں شکست وتباہی سے ہوئی تھی۔ ایک طرف پانچ سو سالہ خلافت عباسیہ ریزہ ریزہ ہو رہی تھی۔ ہر شہر میں مسلمانوں کے سروں کے منارے اور ہر مسجد لاشوں سے اٹی پڑی تھی۔ تاریخ میں یہ وقت (تیرہویں صدی عیسوی کی ابتدا) اسلام اور مسلمانوں کے لیے مکمل شکست وتباہی کا تھا۔ مورخین دنیائے اسلام کے مکمل خاتمہ کا اندازہ لگا رہے تھے۔ یہی وقت تھا جب اسپین سے مسلمانوں کو نکالا جا رہا تھا، زندہ جلایا جا رہا تھا اور قتل عام ہو رہا تھا۔ غرض یہ وقت مسلمانوں کی عسکری وسیاسی طور پر مکمل شکست، ناکامی وتباہی کا تھا۔ مگر یہی وقت تھا جب ایمان کی دعوت نے پورے مشرق بعید انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا اور سماترا کو فتح کر لیا۔ اس خطے میں مسلمانوں نے عسکری اقدام کبھی نہیں کیا۔ آج پھر دنیا بھر میں مسلمانوں کو اسی طرح کی عالمی شکست وہزیمت اور تباہی ک اسامنا ہے جس کا حل آج بھی صرف اور صر ف ایمان کی دعوت ہے۔ یاد رکھیے، جہاد دعوت ہی کا بالکل آخری مرحلہ ہے۔ جب دعوت کو طاقت سے روکا جائے تو طاقت ہی سے رکاوٹ دور کر دی جائے، جس طرح ڈاکٹر آخری آپریشن کے طور پر کینسر زدہ عضو کو کاٹ دیتا ہے کہ کینسر پورے جسم تک نہ پھیلے۔ آج کے جہادیوں کے پا س کوئی دعوت نہیں اور دعوت کے دعوے داروں کے نزدیک جہاد منسوخ۔ 

ملت کے تمام مسائل کا حل صرف ایمان کی دعوت ہے۔ دیکھیے، ۸۵۷اء میں شاملی کے میدان میں انگریز سے عسکری طور پر جن علماء نے شکست کھائی، ان میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ بھی تھے۔ سات آٹھ سالوں کے بعد جب مقابلہ عسکری کے بجائے دعوت وفکر کا پیش آیا اور عیسائی دنیا کے سب سے بڑے پادری (فنڈر) نے مسلمانوں کو للکارا تو انھی مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے اسے ایسی شکست دی کہ وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ بد قسمتی سے آج دین کے تینوں شعبوں (مدارس، خانقاہوں، تبلیغ) پر اہل مال (بنیوں) کا مکمل تسلط ہو گیا ہے اور تینوں شعبوں والے اہل مال کی خوشامد وطواف میں مشغول۔ بندہ اسے بنیوں والا دین کہتا ہے۔ یاد رکھیے، ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں سے کسی ایک نبی نے اہل ثروت سے پیسہ لے کر کوئی مسجد مدرسہ، خانقاہ بنا کر نہیں دی۔ بیسویں صدی کے سب سے بڑے داعی الی اللہ حضرت مولانا الیاسؒ نے میوات میں نہ کوئی مسجد بنا کر دی نہ مدرسہ۔ آپ نے صرف ایمان دیا، آخرت کی فکر پیدا کی اور ان کا اللہ سے رشتہ جوڑا۔ آج بھی آپ یہ کام کر دیجیے۔ ہر جگہ کے مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق مساجد، مدرسے، جامعات ، خانقاہیں خود بنا لیں گے۔ جس طرح ہر شخص (امیر وغریب) اپنا مکان بنانا، بچی کی شادی کرنا، اپنے بچوں کی پرورش کرنا کام سمجھتا ہے، اسی طرح آپ ایمان، آخرت کی فکر دے دیں، وہ اپنی حیثیت کے مطابق سارے دینی ادارے خود بنا لے گا۔ ملت اسلامیہ کو ہندو پنڈتوں اور عیسائی پادریوں کی طرح ایسے مذہبی دلالوں کی ضرورت نہیں کہ فلاں فلاں علاقہ میں ہم مسجد، مدرسہ، جامعہ، ادارہ بنا رہے ہیں، لہٰذا پیسے دو۔ ایسے مولویوں نے اسلام کو، علم وذکر کو ذلیل کر کے دین کو اہل ثروت کی باندی بنا کر رکھ دیا ہے۔

بندہ یہاں (برطانیہ میں) تقریباً چالیس سال سے دیکھ رہا ہے کہ جتنے لوگ مسلمان ہوئے (ہر سال ہزارہا مسلمان ہوتے ہیں) خواہ از خود مسلمان ہوئے ہوں یا کسی کے ہاتھ پر مسلمان بنے ہوں، وہ کہاں ہیں؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ بیشتر ترکی کے شیخ ناظم جیسے لوگوں کا شکار ہو گئے (جس کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے)۔ یہ شخص نومسلم انگریز بچے بچیوں کو اذکار واوراد کے ایسے چکر میں ڈالتا تھا کہ زندگی بھر ذکر کے حلقوں میں سر دھنتے رہیں اور آپس میں روزانہ شادی طلاق میں لگے رہیں اور یہاں کے معاشرہ کو ایمان کی دعوت نہ دے سکیں۔ اس شخص نے شہروں سے دور متعدد مقامات پر نومسلموں کے لیے بستیاں بسائی ہوئی ہیں۔ یہ نومسلم یہاں کے معاشرہ سے کٹ کر آپس میں مشغول رہیں۔ ایمان واسلام کی دعوت دوسروں تک نہ پہنچا سکیں۔ بندہ کی تحقیق کے مطابق یہ شخص صہیونی طاقتوں کا ایجنٹ تھا اور اس کا شیخ مراکش میں صہیونی طاقتوں کا پروردہ ایجنٹ۔ اسلام دشمن طاقتوں نے ایسے لوگ تیار کر کے ان کو مغرب میں اس مشن پر لگا رکھا ہے کہ اگر کچھ گورے مسلمان بھی ہو جائیں تو وہ آگے برطانوی، یورپین معاشرہ میں ایمان واسلام نہ پھیلا سکیں۔ اس شخص کے نزدیک امام حرم، عرب علماء، تبلیغی جماعت، علماء دیوبند، جماعت اسلامی، اہل حدیث سب گمراہ وکافر ہیں۔ ہاں قبر پرست لوگ مسلمان ہیں۔ برونائی سے لے کر کویت وامارات تک کے بے توفیق حکمران اسے ہر سال کئی کئی ملین پاؤنڈ دیتے ہیں۔

غرض یہ قیمتی اثاثہ (نومسلم) جو گوروں کے معاشرہ میں ہزاروں لوگوں کے ایمان واسلام کا ذریعہ بن سکتے تھے، باطل تصوف کے نرغہ میں پھنس کر اسلام کے لیے خود ایک مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف بعض عاقبت نا اندیش سلفی حضرات ان بے چارے نومسلموں کو فروعی مسائل میں الجھا کر رکھ دیتے ہیں۔ بندہ حیرت سے دیکھتا ہے کہ نومسلم ایمان واسلام کی نعمت اس معاشرے میں دوسروں تک پہنچانے کے بجائے رفع یدین، آمین بالجہر اور قراء ت خلف الامام جیسے فروعی مسائل میں بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ ان غریبوں نے اپنے موقف پر احادیث تک زبانی رٹ رکھی ہیں، جبکہ ان مسائل کی حیثیت زیادہ سے زیادہ اولیٰ اور غیر اولیٰ کی ہے۔

ہمارا حال یہ ہے کہ ہندو پاک کے ہر دینی رسالہ میں شد ومد سے نومسلموں کے اسلام لانے کی لمبی لمبی داستانیں چھپ رہی ہیں اور لوگ مزے لے لے کر پڑھ رہے ہیں۔ لگتا ہے ان دینی رسالہ والوں کو مضامین پر محنت کے بجائے یہ بنا بنایا مواد مل گیا ہے۔ مجھے شیخ الازہر شیخ عبد الحلیم محمودؒ کی یہ بات یاد آتی ہے (۱۹۷۶ء میں بندہ یہاں مختلف مجالس میں ان کا ترجمان بن کر چند روز ساتھ رہا ہے)۔ فرمایا، ’’یہ بھی باطل طاقتوں کی ایک سازش معلوم ہوتی ہے کہ پروپیگنڈے اور مبالغے کے ساتھ اس کو عام کریں کہ امریکہ، یورپ میں اتنے لاکھ لوگ ازخود مسلمان ہو رہے ہیں تاکہ ملت اسلامیہ کو اس فریضے سے غافل کر دیں۔‘‘ 

یہاں برطانیہ میں ہمارا یہ حال ہے کہ ان نومسلموں کو اسلام کی بنیادی تعلیم دے کر داعی بنا کر ان ہی کے معاشرہ میں ایمان پھیلانے کا کام لینے کی سوچ تک نہیں، کیونکہ ہمیں مختلف عنوانات پر جلسے جلوس، اپنے اپنے اکابر کے طریقوں کی تبلیغ جیسے بہت سے اہم کام ہیں اور آج ہمارے اکابر حضور، صحابہ، تابعین، تبع تابعین (جن کے دور کے خیر ہونے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے) کے بجائے بیسویں صدی کے اکابر اصل ہیں۔ چونکہ حضرت فلاں اور فلاں نے گوروں میں اسلام کی دعوت کا کام نہیں کیا، ا س لیے یہ فضول کام ہے۔ بس دار العلوم پر دار العلوم، ختم خواجگان، رمضان میں سینکڑوں اعتکاف کرنے والوں کے میلوں سے کیا دین زندہ ہوگا؟ بھئی جب ایک مسجد میں دنیا کے مختلف ملکوں کے تین سو آدمی ہوں گے تو وہ اعتکاف (یکسوئی سے خدا کی طرف متوجہ رہنا) کہاں رہا؟ ہم اہل بدعت پر بڑے شیر ہیں۔ فلاں فلاں کام حضور، صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، محدثین نے نہیں کہا، لہٰذا بدعت ہے۔ یہ جو دن بدن اعتکاف کے میلے بڑھتے جا رہے ہیں، کیا یہ شروع کے ۳، ۴ سو سال میں ہوا؟

ظاہر ہے جب کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے تو مختلف مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ماں باپ گھر سے نکال دیتے ہیں، معاشرہ دھتکار دیتا ہے، بعض اوقات نوکری چھوٹ جاتی ہے، دوست احباب اور رشتہ دار منہ پھیر لیتے ہیں۔ ایسے میں یہ بے چارے شیخ ناظم جیسے یہودی ونصاریٰ کے ایجنٹوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہمارے پاس ایک بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جو سال دو سال ان کو عزت کے ساتھ رکھ کر ان کی ضروریات پوری کرے اور انھیں دین کی بنیادی تعلیم دے کر انھی کے معاشرے میں واپس بھیجے۔ مختلف وجوہات سے یہ لوگ ہم سے سیکڑوں گنا زیادہ کام کر سکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں (۱۱ سے ۲۰؍ اگست ۲۰۱۴ء) بندہ نے برطانیہ کے دو اہم حصوں (صوبوں) مڈلینڈ اور یارک شائر (Midland & Yorkshire) کے شہروں او ربستیوں کا دورہ کیا۔ مقصد عوام اور خواص کو اس طرف توجہ دلانا تھا کہ دین کے جتنے کام ہم لوگ کر رہے ہیں، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات صحابہ کرامؓ سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہؒ ، حضرت سید احمد شہیدؒ ، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ ، حضرت شیخ الہندؒ وغیرہ وغیرہ نے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کیا ہے۔ اس معاشرہ کا، یہاں کے لوگوں کا بھی ہم پر حق ہے۔ ملت اور انسانیت کی اجتماعی ذمہ داریوں کو ادا کیے بغیر ہم خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ اسپین میں ہم نے آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ وہاں بڑے بڑے علمی ودینی کام ہوئے۔ سب سے اچھی تفسیر قرطبی، سب سے مثالی تاریخ، تاریخ ابن خلدون، فلسفیانہ انداز میں سب سے متاثر کن تصوف پر ابن عربی کی کتب، فتوحات مکیہ وغیرہ سب اسپین میں لکھی گئیں۔ مگر سارا کام عربی زبان میں ہوا، ایک لفظ اسپینش زبان میں نہیں ہوا نہ ان میں اسلام کی دعوت قائم کی گئی۔ اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔ بچہ بچہ قتل ہوا۔ لاکھوں زندہ جلائے گئے۔ جہاز بھر بھر کر سمندر میں ڈبوئے گئے۔ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام، حضور کے امتیوں تک حضور کی امانت نہ پہنچانے کا ایسا حشر آج بھی یہاں (یورپ، امریکہ) میں ہو سکتا ہے۔ قرآن کی رو سے اللہ کا عذاب صالح بن کر نہیں، مصلح بن کر ہی ٹالا جا سکتا ہے۔ جس جس ملک اور معاشرہ میں ہم رہتے ہیں، ان لوگوں کا حق ادا کیے بغیر خدا کی پکڑ سے ہم نہیں بچ سکیں گے، خواہ کتنی ہی عبادت نوافل، ذکر وتلاوت، حج وعمرے کر لیں اور جتنے چاہے دار العلوم اور دینی جامعات بنا لیں۔

الحمد للہ ہر جگہ خواص وعوام، علماء کرام، تعلیم یافتہ حضرات اور لوگوں نے کہا کہ اس کام میں ہم پوری طرح آپ کے ساتھ ہیں۔ سب سے بڑھ کر مولانا رضاء الحق صاحب آف نوٹنگھم جو پہلے ہی دو بڑے جامعات اور متعدد مساجد چلا رہے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ آپ اس کام کے داعی بنیں اور ہمیں نصاب بنا کر دیں کہ کیا پڑھانا ہے اور کس طرح پڑھانا ہے۔ تمام انتظامات واخراجات ہم کریں گے، کبھی آپ سے ایک پیسہ نہیں طلب کریں گے۔ ایک بڑا سا پورا جامعہ اس کام کے لیے خاص کر دیتے ہیں۔ اس پر بندہ نے برصغیر کے ان اکابرین اور احباب سے جن سے بندہ کا دلی تعلق اور ذہنی ہم آہنگی ہے، جیسے مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب، مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب، مولانا زاہد الراشدی صاحب، مولانا عدنان کاکاخیل وغیرہ وغیرہ کو متوجہ کیا کہ یہاں نو مسلموں کے لیے نصاب اور نظام تعلیم کا خاکہ بنا کر دیں اور یہاں لندن میں مولانا علی انور صاحب، مفتی سیف اللہ صاحب، مفتی زبیر صاحب کی ایک کمیٹی بنا کر کہا کہ تین ہفتوں میں بنیادی خاکہ بنا کر پیش کریں۔ ایک سال، دو سال اور تین سال کا کورس، کیا پڑھایا جائے، کس طرح پڑھایا جائے اور خارجی مطالعہ میں کن کتب کو رکھا جائے۔

بندہ نے عرض کیا کہ ہم مروجہ درس نظامی کے صرف ونحو، ادب وبلاغت، منطق وفلسفہ اور فقہ وحدیث میں فروعی اختلافی مسائل کی بحثوں کا ایک لفظ بھی نہیں چاہتے۔ نصاب تعلیم کے لیے شروع کے تین دور، صحابہ، تابعین، تبع تابعین کو سامنے رکھیں۔ نہج وترتیب شروع (دور عروج) سے اخذ کریں۔ ہمیں مولوی، قاری، حافظ نہیں، ان معاشروں او رممالک کو اللہ کی طرف ،یمان کی طرف بلانے والے داعی تیار کرنے ہیں۔ خدا کرے یہ دوست ایسا نصاب ونظام تعلیم تیار کر سکیں جو عصر حاضر میں امریکہ یورپ سمیت پورے مغرب میں اچھا نمونہ وماڈل بن سکے اور ملت اسلامیہ کو اصل فریضہ ایمان واسلام کی دعوت پر آنے کا ذریعہ بنے۔ آمین یا رب العالمین

اسلام اور عصر حاضر