قرآن پر اجماع اور اس کا تواتر، ایمان بالغیب اور متشکک ذہن

ڈاکٹر عرفان شہزاد

اصطلاحات بعض اوقات بڑے بڑے حقائق کے لیے حجاب بن جاتی ہیں۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کی نظر بیان حقائق کی بجائے الفاظ کی نامکمل تفہیم تک محدود رہ جاتی ہے۔

اجماع، تواتر اور ایمان بالغیب، مذہبی حلقوں میں استعمال ہونے والی یہ اصطلاحات محض مذہبی علم و عقائد کی ترسیل و تسلیم کے ذرائع نہیں ہیں جن کا دار و مدار تسلیمِ محض پر ہو۔ حقیقت اس کے برعکس ہے، یہ انسانی ذرائع علم کا بیان ہوتا ہے۔ مذہب ، کسی بھی دوسرے علم کی طرح انسان کی انھیں فیکلٹیز سے مخاطب ہوکر ان حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے جو ان ذرائع علم کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو جدید علم پر منطبق کر کے دکھایا جائے تو بات واضح ہو جائے گی۔

20 جولائی 1969 کو نیل آرم سڑانگ نے چاند پر قدم رکھا۔ یہ واقعہ پوری دنیا کے انسانوں کو اس وقت کے دستیاب ذرائع ابلاغ کی سہولیات کے ساتھ دکھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چنانچہ تما م دنیا نے اس کے وقوع پر اتفاق کیا۔ اس اتفاق راے کو مذہبی اصطلاح میں اجماع کہتے ہیں۔ چنانچہ چاند سے انسان کے وصال پر اجماع ہوگیا۔ پھر یہ واقعہ دنیا بھر کے  لوگوں نے رپورٹ کیا، اسے تواتر  کہتے ہیں۔ یہ تواتر اگلی نسلوں کو منتقل ہوا اور آج ہمیں اس واقعہ کے وقوع پر ایسا یقین ہے جیسے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا ہو۔

آج کا انسان جب اس واقعہ کو سنتا، پڑھتا ہے تو  کسی تفصیل و تفتیش میں پڑے بغیر اس پر یقین کرتا ہے، وجہ یہی کہ سبھی لوگ اس پر یقین کرتے ہیں، اسے بیان کرتے ہیں اور کتابوں میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس واقعہ کی سند نہیں مانگی جاتی کہ کس نے بتایا کس کو بتایا، کتنے لوگوں نے بتایا، کس کتاب میں پہلی بار یہ لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس پر یقین کی ابتدا آج کے علم و یقین سے ہوتی ہے۔ ماضی کے ایسے تمام واقعات کے بارے میں یہی کیا جاتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ کیا واقعی سکندر اعظم کوئی شخص تھا جس سے اپنے وقت کی معلوم دینا کا آدھا حصہ فتح کر لیا تھا، جو ہندوستان اور پنجاب پر بھی حملہ آور ہوا تھا۔ اجماع و تواتر خود اپنی سند ہوتے ہیں۔ ان کی تصدیق کے لیے ان کی سند اور ڈاکیومنٹیش کی بحث کرنا ایک غیرعلمی حرکت سمجھا جاتا ہے۔ سند اور ڈاکیومنٹیشن کی بحث اختلاف کی صورت میں اور تفصیلات کے حصول کے لیے کی جاتی ہے، اجماع و تواتر سے منتقل ہوئے نفس واقعہ کی تصدیق کے لیے نہیں۔

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔ ایک طرف  چاند پر انسان کی رسائی کے اس واقعہ پر ہمہ گیر اتفاق ہے، دوسری طرف ہمارے پاس ایسی اختلافی روایات بھی موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ کچھ لوگ اس وقوعہ پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ اس وقت بھی موجود تھے جنھوں نے اس واقعہ کو ڈرامہ قرار دیا۔ آج کا یا مستقبل کا کوئی "ذہین متشکک" اس واقعہ پرانسانوں کے اس ہمہ گیر  اتفاق یعنی اجماع و تواتر کو نظر انداز کر کے ان اختلافی روایات کی بنیاد پر یہ دعوی کر ڈالے کہ اس واقعہ پر اجماع و تواتر کا دعوی مشکوک ہے، اس پر ہمہ گیر اتفاق کی کوئی حقیقت نہیں اور ثبوت میں وہ بیانات، اخبارات کے کالمز، اور یوٹیوب پر موجود ویڈیوز کے حوالے دے، تو اس عبقریت پر جو جواب اسے ملنا چاہیے معلوم  ہے۔

یہی معاملہ قرآن مجید کا ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے یا نہیں، یہ الگ بحث ہے، یہ مابعد الطبیعی دعوی ہے، جس کا تعلق موجودہ ذرائع علم کی بحث سے نہیں ہے۔ لیکن قرآن مجید کے ایک متن پر اِس وقت کے موجود مسلمانوں کا ہمہ گیر اتفاق ایک زندہ اور قابل مشاہدہ حقیقت ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں دوسرا ہمہ گیر اتفاق اس پر ہے کہ یہ وہی کلام ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ سے صادر ہوا تھا۔ آج کا یہ اجماع، بغیر تواتر کے ممکن نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آج کے اس اجماع و تواتر کو مد نظر رکھا جائے گا اور کسی تفصیل میں پڑے بغیر، آنکھوں کے سامنے کھڑی اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے گا کہ قرآن مجید کے متن پر کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس کا اتنساب محمد رسول اللہ ﷺ سے ہونا بھی قطعی ہے۔

اجماع و تواتر پر کسی فرد یا گروہ کا بس نہیں چلتا۔ نہ ان وہ اسے جاری کر سکتے ہیں نہ روک سکتے ہیں۔ قرآن کے متن پر اتفاق اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت میں نہ ہوتا تو آئندہ یہ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ اس وقت کسی فرد کو بالفرض  اپنی کم علمی کی بنا پر قرآن کا کوئی لفظ یا سورت معلوم نہ تھی، تو یہ معاملہ فرد کا تھا جس سے اجماعی علم متاثر نہیں ہوتا۔ ایسے ہی جیسے ہمارے بچوں کو کوئی لفظ پڑھنا نہیں آتا یا انھیں کسی سورت کا علم نہیں ہوتا، یا یہ انھیں معلوم نہیں ہوتا جنھوں نے قرآن نہیں پڑھا ہوتا۔ اس سے قرآن پر مسلمانوں کا اجماع و تواتر متاثر نہیں ہوتے، فرد ہی سے کہا جائے گا کہ اپنا علم اجماع و تواتر کے مطابق درست کرے۔

قرآن پر اجماع اور اس کے تواتر کی بنا پر سند کی بحث نہیں کی جاتی کہ اسے کس نے لکھا، کس کو لکھوایا، کس نے محفوظ کیا، کس نے پھیلایا۔ یہ افراد کا کام نہیں تھا۔ یہ کام پوری امت نے دوسری نسل کے لیے کیا اور انھوں نے آئندہ نسل کے لیے اور یوں سلسلہ چلتا رہا، بالکل ایسے ہی جیسے آج کے مسلمان کرتے ہیں۔ سبھی اپنے بچوں کو ایک ہی  قرآن پڑھاتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ علما اس کا درس دیتے ہیں مفسرین تفسیریں لکھتے ہیں۔ فقہا اس سے مسائل اخذ کرتے ہیں ہر مسلمان اس سے کسی نہ کسی درجے میں جڑا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دستاویزی بحث بھی قرآن کے بارے میں نہیں کی جا سکتی کہ قرآ ن کا سب سے قدیم نسخہ کون سا ہے۔ یہ بحث ان متون کے بارے میں کی جاتی ہے جن پر اختلاف ہوتا ہے یا وہ جو پہلی دفعہ دریافت ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے قرآن کے قدیم نسخے سنبھالنے کی کوئی ذمہ داری اٹھا نہیں رکھی تھی۔ قدیم نسخے وہ کیوں سنبھالتے جب کہ ہر لمحہ تازہ نسخے تیار ہوتے رہتے تھے۔

اب اس  ہمہ گیر اتفاق یا اجماع و تواتر کے مقابل ہمارے پاس چند اخبار احاد ہیں جو بتاتی ہیں کہ قرآن کے متن میں اختلاف تھا اور ہے۔ یہ تاریخی لڑیچر میں اخبار احاد کی شکل میں موجود ہیں، یعنی کچھ لوگ یہ کہتے تھے، مگر امت کے اجماع و تواتر پر ان روایات نے کبھی کوئی اثر پیدا نہیں کیا۔ مسلمان کبھی کنفیوز نہ ہوئے کہ اجماعی قرآن کے مقابلے میں یہ کہانیاں کیا کہتی ہیں۔ قرآن کا اجماع و تواتر بغیر کسی تردد کے ہمیں آج منتقل ہو گیا۔

قرآن مجید کے متن کی محفوظیت کے معاملے میں سب سے زیادہ متہم اہل تشیع ہیں۔ ان کے لڑیچر میں ایسی روایات موجود ہیں کہ قرآن بدلا گیا، اس میں تحریف کی گئی۔ مگر خود اہل تشیع کے مین اسٹریم، یعنی جمہور اہل علم اور عوام نے قرآن کے متن کی محفوظیت کے خلاف ان روایات کو تسلیم نہیں کیا، انھیں رد کیا یا ان کی تاویل کی۔ شیعہ امت کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہمیشہ سے اسی طرح اپنے بچوں کو پڑھاتے اور حفظ کراتے آ رہے ہیں جیسے باقی مسلمان کرتے ہیں۔ ان کے علما فقہا اس سے ہمیشہ منسلک رہے اور درس دیتے رہے تفساسیر لکھتے رہے، بلکہ اہل تشیع میں قرآن کے حفظ کو ایک مزید حیرت انگیز طریقہ سے کرنے کا رواج ہے اور وہ یہ کہ وہ ترجمہ کے ساتھ حفظ کراتے ہیں۔ بچے کو ہر آیت کا نمبر، جس صفحہ پر آیت ہو، اس کا صفحہ نمبر تک یاد کرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ انھیں یہ بتائیں کہ فلاں صفحہ پر فلاں نمبر آیت کون سی ہے تو وہ یہ بھی بتا دیں گے۔ جامعہ کوثر میں یہ تجربہ راقم نے خود کیا تھا۔ جس کو تصدیق کرنا ہو وہ جامعہ کوثر جا کر ان بچوں سے مل سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے اجماع و تواتر کے باوجود اس  کے متن کی محفوظیت پر شکوک کا اظہار کرنے والا "جری" ذہن، قرآن کے متن کے بارے میں اختلاف بیان کرنے والی ان روایات پر شکوک کا اظہار کیوں نہیں کرتا جو خود مشکوک ہیں؟ یہ افواہ چھوڑ دینا کسی کے لیے کیا مشکل تھا کہ قرآن کے متن پر اتفاق نہیں تھا، یا قرآن کے کسی لفظ کے پڑھنے میں کچھ لوگوں میں اختلاف ہوا تھا، یا یہ کہ فلاں سورت کی جگہ یہ نہیں کوئی اور تھی، یا یہ کہ ایک خلیفہ نے قرآن کے سارے نسخے جلا کر سب کو قرآن کی ایک قراءت پر اکھٹا کیا تھا یا کہ عراق کے ایک گورنر نے قرآن میں گیارہ مقامات میں تبدیلی کرا دی تھی۔ جس حوصلے کے ساتھ قرآن کے اجماع و وتواتر کے خلاف ایک غیر علمی موقف اپنانے کی جلدی کی گئی ہے، اسی حوصلے سے ان روایات پر تنقیدی نظر ڈالنے سے گریز کیوں کیا گیا ہے؟ وہ جو قرآن کے ساتھ احادیث کے ذخیرے ہی کو معتبر تسلیم نہیں کرتے، ان روایات کو کیوں تسلیم کرتے ہیں؟ اسی تنقیدی ذہن سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ کیا وجہ ہے کہ اس ایک خلیفہ کی ایک قرآن پر امت کو جمع کرنے والی رویت کا مدار صرف ایک شخص (شہاب الدین زہری) پر کیوں ہے جب کہ یہ واقعہ پورے عالم اسلام میں ایک ہمہ گیر آپریشن کا ہے، جسے ان گنت لوگوں کو بیان کرنا چاہیے تھا۔ یہ واقعہ تو تواتر سے بیان ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ کیا محض یہی بات اس کہانی کو مشکوک نہیں بنا دیتی؟

پھر اسی کہانی میں یہ بیان کہ قرآن کے متن کو بغیر اعراب اور نقطوں کے لکھا گیا تھا، اس سے ایک قراءت پر جمع ہونے میں کیا مدد مل سکتی تھی؟

ان روایات پر وہ "ذہانت" (اگر اسے ذہانت کہا جا سکے)، کیوں نہیں آزمائی گئی جس کے ذریعے سے قرآن کے ایک متن پر ہمہ گیر اتفاق جیسی حقیقت کو نظر انداز کرنے کارنامہ سر انجام دے دیا گیا؟

ایک طرف اجماع و تواتر ہیں جو ان کے نزدیک مشکوک ہیں اور دوسری طرف  مشکوک روایات ہیں جو ان کے نزدیک معتبر ہے۔ اس رویے کو کیا نام دینا چاہیے؟ کسی بھی معیار سے یہ علمی رویہ بہرحال نہیں ہے۔

قرآن مجید کے خدا کا کلام ہونے یا نہ ہونے کی بحث تو کی جا سکتی ہے مگر اس کے واحد متن کی محفوظیت پر اعتراض محض علمی غلطی ہی نہیں، بلکہ غیر علمی حرکت ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہ کہنا کہ قرآن کے علاوہ بھی ماضی کی بعض کتب کا ایک ہی متن اور ایک ہی ورژن محفوظ رہا ہے، اس لیے قرآن کے متن کا محفوظ رہ جانا کوئی معجزہ نہیں، چند بنیادی باتوں کو نظر انداز کیے بنا ممکن نہیں۔ قرآن اور دیگر محفوظ کتب کی محفوظیت میں فروق ہیں۔

پہلا یہ کہ ان کتب کے متن کا محفوظ رہ جانا اتفاقی امر ہے۔ اس کا دعوی نہیں کیا گیا تھا کہ ایسا ہوگا۔ جب کہ قرآن مجید نے خود یہ دعوی کیا  تھا کہ یہ محفوظ رہے گا۔ اور یہ دعوی تب کیا گیا جب متن کے محفوظ رہ جانے کے وسائل دستیاب نہ تھے۔ چنانچہ اس کے متن کی حفاظت باقاعدہ منصوبے اور دعوی کا نتیجہ ہے۔ کیا یہ دعوی اور یہ نتیجہ کسی دیانت دار ذہن کو اپیل نہیں کرتا؟ یہ حقیقت اگر کسی ذہن کو متاثر نہیں کرتی تو یہ ذہن دیانت دار نہیں کہا جا سکتا۔ یہ متعصب ذہن ہے جس کا علاج خود اس کے سوا کسی کے پاس نہیں۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ کیا اُن محفوظ رہ جانی والی کتب کے مصنفین سے ان کتب کا انتساب بھی اتنا ہی محفوظ اور قطعی ہے جتنا قرآن کا انتساب اپنے مصدر (دنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ) سے؟ علم و دیانت کو اس سوال کا جواب بھی معلوم ہے۔

دوسرا نکتہ ایمان بالغیب کا ہے۔

نظریہ ارتقا اور بیگ بینگ تھیوری اپنے آثار و شواہد کی بنا پر تسلیم کیے گئے ہیں۔ یہی ایمان بالغیب ہے۔ ان پر اب ایسا تیقن ہو چکا ہے کہ ان کا انکار کرنا مضحکہ خیز سمجھا جاتا ہے۔ آثار و شواہد کی بنا پر کسی ایسے نتیجے پر پہنچنا جس سے ان آثار و شواہد و مظاہر کی توجیہ ہو جائے، اور خود اس نتیجہ یا نظریہ کو مشاہدہ اور تجربہ کر کے پرکھا نہ جا سکے، اسے ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ خدا پر ایمان لانے کے لیے انسان کی اسی فیکلٹی کو استعمال کیا گیا ہے۔

ہم جانتے ہیں کائنات کا وجود اپنی تخلیق کی توجیہ چاہتا ہے۔ انسان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس کی توجیہ کرے اور بتائے کہ کس طرح ایک معنی خیز کائنات وجود میں آئی ہے جس کے مختلف اجزا باہم مل کر نہایت پیچیدہ نتائج پیدا کرتے ہیں۔ یہ مشاہدہ ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا ایک مہا منصوبے میں باہم بندھے ہوئے ہیں۔ یہ منصوبہ کہیں کامل اور کہیں ناقص ریاضیاتی بنیادوں پر قائم ہے، مگر ہے بے حدپیچیدہ، کرشماتی اور حیرت افزا۔

اس تخلیق اور مہا منصوبے کے پیچھے کسی باشعور ہستی کو فرض کرنا ہے یا بے شعور قوت کو؟ ساری بحث بس یہی ہے۔ انسان جس نتیجے پر بھی پہنچے، وہ ایمان بالغیب ہی کا نتیجہ ہوگا، کیونکہ خدا ہو یا بے شعور قوتیں ان کو یہ سب برپا کرتے ہوئے انسان نے نہیں دیکھا۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ زیادہ معقول بات کیا ہے؟ یہ تخلیق اور منصوبہ کسی ذی شعور ہستی کا ہے یا بے شعور قوتوں  سے پیدا ہونے والا اتفاقی حادثہ؟ اس سوال کا معقول جواب کیا ہونا چاہیے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

 قرآن اسی استدلال پر مبنی ہے کہ یہ سب برپا کرنے والی ایک زندہ باشعور ہستی ہے جس نے یہ سب ایک مقصد کے تحت برپا کیا ہے۔ یہ ایک علمی مقدمہ ہے۔

کوئی اس نتیجے کو مانے یا نہ مانے مگر اس مقدمے کو غیر علمی نہیں کہا جاسکتا۔ کوئی اگر پھر بھی مُصر ہے کہ خدا پر ایمان بالغیب غیر علمی مقدمے کا نتیجہ ہے تو اسے معلوم نہیں کہ علمی مقدمہ ہوتا کیا ہے۔ یہ دیانت دار ذہن نہیں ہے، یہ متعصب ذہن ہے جس کے آزار کا چارہ اس کے سوا کسی اور کے پاس نہیں۔

تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا


اسلام اور عصر حاضر

(ستمبر ۲۰۲۱ء)

Flag Counter