عالم اسلام اور فتنہ تکفیر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(’’کلمہ گو کی تکفیر۔ اصول وضوابط، اسباب وموانع’’ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا)

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی ٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین

باہمی تکفیر اور قتال کا مسئلہ  ہمارے دور کا ایک ایسا حساس اور سنگین مسئلہ بن گیا ہے کہ امت مسلمہ کی وحدت  پارہ پارہ ہونے کے ساتھ ساتھ فکری وذہنی انتشار وخلفشار کا سبب اور اسلام دشمن قوتوں کے لیے مسلمانوں کے معاملات میں دخل اندازی کا ذریعہ بھی ثابت ہو رہا ہے۔ اس کا ایک پہلو تو علمی اور فقہی ہے اور دوسرا سماجی ومعاشرتی ہے۔ علمی وفقہی دائرہ تو زیادہ پیچیدہ نہیں ہے کہ جمہور فقہائے امت رحمہم اللہ تعالی ٰ نے اس سلسلے  میں مختلف ادوار میں جو راہ نمائی کی ہے، وہ محفوظ ہے اور امت مسلمہ کی راہ نمائی کے لیے کافی ہے، جبکہ اس حوالے سے سب سے زیادہ اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ تکفیر کا مسئلہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں ہی خوارج کی صورت میں سامنے آ گیا تھا اور اس پر جمہور صحابہ کرام وتابعین  عظام رضی اللہ عنہم کا مجموعی طرز عمل ہماری راہ نمائی کر رہا ہے جو اپنے استناد وثقاہت کے معاملے میں کسی اور دلیل کا محتاج نہیں ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ورفاقت اور تعلیم وتربیت سے مسلسل بہرہ ور طبقہ سے بڑھ کر کوئی گروہ دلیل اور حجت کا درجہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

البتہ سماجی اور معاشرتی دائرے میں یہ مسئلہ ضرور سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے کہ یہ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جسے مسلمانوں کو خود مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی ایک بڑی سہولت اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔  میں اس سلسلے میں   مثال کے طور پر الجزائر کا ذکر کرنا چاہوں گا جہاں عباس مدنی کے اسلامک سالویشن فرنٹ نے ۸٠ فی صد ووٹ لے کر الجزائر کی حکومت ونظام سنبھالنے کا استحقاق حاصل کر لیا تھا، مگر وہاں عالمی طاقتوں کی سرپرستی  اور پشت پناہی کے ساتھ  عسکری مداخلت سے ایسا ماحول پیدا کر دیا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ باہمی تکفیر اور قتال کے عنوان سے مبینہ طور پر ایک لاکھ  سے زیادہ الجزائری مسلمان  اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک  عوامی اسلامی قوت پارہ پارہ ہو کر رہ گئی۔ مجھے اس دور میں لندن میں قیام کے دوران الجزائر کے مسلح اسلامی گروہوں میں سے چند  ایک ذمہ دار افراد کے ساتھ ملاقات وگفتگو کا موقع ملا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسی ٰ منصوری کی رفاقت میں متعدد بار کوششوں کے باوجود اس مقصد میں کامیابی حاصل  نہ ہو سکی کہ ان حضرات کو آپس میں کسی ملاقات میں بٹھا کر گفتگو ہی کرا دی جائے۔

یہ صورت حال   عالم اسلام کے دیگر حصوں میں بھی پائی جاتی ہے اور پوری ملت اسلامیہ کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے، حالانکہ تکفیر اور معاشرتی مقاطعہ وتصادم دو الگ الگ مسئلے ہیں۔ مثلا مدینہ منورہ کے جن منافقین کے بارے میں قرآن کریم نے صراحتا ’’وماھم بمومنین’’ کہا  اور ان کے عقیدہ وایمان کے حوالے سے واضح طور پر فرمایا ہے کہ ’’واللہ یشھد انھم لکاذبون’’، انھیں مقاطعہ اور قتل وقتال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، بلکہ بعض نمایاں افراد کے قتل کی اجازت طلب کرنے پر بھی بارگاہ رسالت سے اس کی اجازت نہیں ملی۔  اسی طرح  مسجد ضرار تعمیر کرنے والے افراد کا جن کے نام بھی حافظ ابن کثیر کی روایت کے مطابق معلوم ومتعین تھے، قرآن کریم نے ’’کفرا وتفریقا بین المومنین وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ’’  کے الفاظ سے ذکر کیا ہے،  مگر ان کے ساتھ  قتال کی نوعیت کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور صرف ان کے تعمیر کردہ مرکز کو گرانے اور نذر آتش کر دینے پر اکتفا کیا گیا۔  اسی لیے میری طالب علمانہ رائے میں تکفیر ایک مستقل مسئلہ ہے جبکہ کسی بھی حوالے سے اس کی زد میں آنے والے افراد اور گروہوں کے ساتھ معاشرتی طرز عمل کا مسئلہ اپنا مستقل دائرہ  رکھتا ہے جس کا سماجی ومعاشرتی عوامل واسباب اور نتائج وعواقب کے حوالے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

بہرحال تکفیر وقتال کی اس نئی عالمگیر رو نے ذہنوں میں جو شکوک وشبہات پیدا کر دیے ہیں، ان کا قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں جائزہ لینے کے لیے مختلف اہل علم نے قلم اٹھایا ہے اور اس سلسلے میں جمہور اہل سنت کے موقف کو دلائل کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھی علمی مساعی میں فضیلۃ الدکتور شریف حاتم العونی حفظہ اللہ تعالی ٰ کی زیر نظر تصنیف بھی ہے جس میں انھوں نے خالصتا علمی انداز میں اہل شہادتین کی تکفیر کے اسباب اور موانع کا جائزہ لیا ہے اور قرآن وسنت کے ساتھ ساتھ سلف صالحین رحمہم اللہ تعالی ٰ کی تصریحات کی روشنی میں امت کی راہ نمائی کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ  مفتی محمد بلال ابراہیم بربری صاحب نے بڑی محنت اور توجہ کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ مکمل کیا ہے اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ، کتاب محل لاہور کے اشتراک کے ساتھ اس کی اشاعت کی خدمت سرانجام دے رہی ہے۔  اللہ تعالی ٰ فاضل مصنف اور مترجم کی اس محنت کو قبولیت سے نوازیں اور امت مسلمہ کی راہ نمائی کا ذریعہ بنائیں۔ آمین یا رب العالمین


اسلام اور عصر حاضر