بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟

خورشید احمد ندیم

انسان تسخیر کائنات کے اگلے مرحلے، تسخیر فطرت میں داخل ہو چکا۔ صدیوں سے قائم ما بعد الطبیعیاتی تصورات اور عقائد کے پاؤں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ مذہب بھی اپنی حقیقت میں مابعد الطبیعیاتی تصور ہے،اگرچہ وہ طبیعات کی دنیا سے اپنے حق میں دلائل کشید کر تا ہے۔ تسخیر کائنات کا مر حلہ درپیش تھا تو مسیحیت مذہب کی نمائندگی کر رہی تھی۔ ہمیں معلوم ہے کہ اہل کلیسا اس چیلنج سے عہدہ برآ نہ ہو سکے۔ تسخیر فطرت کے مر حلے میں، مذہب کی نمائندگی اسلام کر رہا ہے۔ کیا اہل اسلام اس چیلنج کا سامنا کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

۲۸۔ نومبر کو ’نیو یارک ٹائمز‘ کے صفحہ اوّ ل پر ایک خبر شائع ہوئی۔’جین ایڈیٹنگ‘ سے بیل کے تخلیقی فارمولے کوبدل دیا گیا ہے۔ دو ایسے بیل پیدا کیے جاچکے جن کے سینگ نہیں ہیں۔ اسی علم سے، اس سے پہلے ایک مچھلی بھی پیدا کی گئی جو اب امریکہ میں دستر خوان کا حصہ ہے۔ایک ایسا مچھر’پیدا‘کر لیا گیا ہے جو ملیریا پھیلانے کی ’صلاحیت‘ سے محروم ہے۔ اس علم سے سور اور مویشیوں کی ایسی نسلیں پیدا کی جا رہی ہیں جو کم خوراک لیکن زیادہ فربہ ہوں گی اور یوں زیادہ گوشت کی فراہمی کاباعث ہوں گی۔چینی محققین نے بونے سور پیدا کر دیے ہیں جنہیں گھروں میں پالتو جانوروں کی طرح رکھا جا سکے گا۔ وہ ایسی بھیڑیں بھی پیدا کرہے ہیں جو زیادہ گوشت فراہم کریں گی اور ان کے بال بھی کہیں لمبے ہوں گے جن سے زیادہ گرم کپڑابنایا جا سکے گا۔اس نوعیت کے ان گنت تجربات ہیں جو جانوروں پر جاری ہیں۔

’پیوند کاری‘ کوئی نیا عمل نہیں۔ عالمِ نباتات و حیوانات پر اس کے تجربات قدیم سے ہورہے ہیں۔تاہم یہ بہت سست اور محدود عمل تھا۔ایک تجربے کے نتائج کے لیے کئی عشروں تک انتظار کر نا پڑتا تھا۔’جین ایڈیٹنگ‘کامعاملہ مختلف ہے۔اس نے تبدیلیء ہیت کے عمل کو مہمیز دے دی ہے۔وہ تخلیقی فارمولہ اب اس کی دست رس میں ہے جوایک صنف کی صورت میں حسب خواہش و ضرورت تبدیلی لا سکتا ہے۔انزائمزکے استعمال سے اب ڈی این اے کے حسب خواہش مقام پر چرکہ لگا کر، کوئی جین نکالی اور کوئی ڈالی جا سکتی ہے۔ یوں اپنی مرضی کا جانور تخلیق کیا جا سکتا ہے۔کیا معلوم کب بولنے والے جانور پیدا ہو جائیں اور سوچنے والے بھی؟اگر جانوروں میں سوچ آگئی تو کیاپھربھی وہ جانور ہی شمار ہوں گے؟کچھ دیر کے لیے ذہن کے گھوڑے کو اس سمت میں دوڑائیے اور پھر سوچیے کہ مستقبل کا کیسا منظر آپ کے سامنے ہے؟ 

مذہب مظاہر فطرت سے دلیل اٹھاتا ہے۔ انہیں خدا کے وجود کے لیے بطور استدلال پیش کرتا ہے۔مثال کے طور پروہ اونٹ کی تخلیق پر غور کی دعوت دیتا ہے ۔انسان اب اس صناعی میں شریک ہونے کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔ اُس نے پہلی بارایسا نہیں کیا۔نمرود نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ میں زندگی دیتاہوں اورموت بھی۔اللہ کے ایک رسول نے اس کے استدلال کی کمزوری طشت ازبام کر دی۔ہم ختم نبوت کے عہد میں زندہ ہیں۔اب آسمان سے کوئی وحی نہیں اترنے والی جو آج کے نمرود کو جواب دے۔یہ جواب تو وحی کے وارثوں کو دینا ہے۔یہ امت جس پر آ خری رسول سیدنا محمد ﷺ نے شہادت دی اور اسے تمام عالم انسانیت کے سامنے یہ شہادت دینی ہے۔

آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!

ابراہیم ؑ کی صلبی اور معنوی اولاد، جسے امتحان کا سامنا ہے، کیا اس کے لیے تیار ہے؟

یہ چیلنج گھمبیر ہونے والا ہے جب معاملہ جانوروں تک محدود نہیں رہے گے۔’جین ایڈیٹنگ‘ کا ہاتھ حریم آ دم کی طرف بڑھ رہا ہے۔کیا معلوم مستقبل کے پردے سے ابھرنے والا آ دم کیسا ہو؟اس کے خدو خال کیسے ہوں؟سوچ کیسی ہو؟ ابھی تو سائنس دانوں کو روک دیا گیا ہے لیکن کب تک؟یہ پابندی زیادہ عرصہ باقی نہیں رہ سکے گی۔ لوگوں نے اس مقصد کے لیے اربوں8 ڈالر مختص کر دیے ہیں۔یہ روبوٹ کی بات نہیں ،جیتے جاگتے انسان کا معاملہ ہے۔وہ انسان جس کے بارے میں مذہب کا مقدمہ ہے کہ اسے روز جزا اپنے رب کے حضور میں پیش ہو نا ہے۔بزعمِ خویش ،نئے انسان کا خالق،ا س دنیا میں انسان اور اس کے حقیقی خالق کے مابین آ کھڑا ہوا ہے،نمرود کی طرح۔آ خری الہام کے وارثوں کوکیا اس کا اندازہ ہے؟

علم بالحواس اور علم بالو حی کی بحث سے بات آگے نکل چکی۔ یہ بات طے ہے کہ جنہوں نے سائنس کی زبان میں مذہب کا مقدمہ پیش کیا، انہیں شکست ہوئی۔انہوں نے یقین کے لیے گمان کی دلیل پر انحصار کیا۔یوں یقین کو نقصان پہنچایا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ما بعد الطبیعیات کا مقدمہ طبیعیات کے میدان میں لڑا۔ سائنس دریافت کا ایک مسلسل عمل ہے۔کیا معلوم اس کی اگلی منزل کیا ہے؟اس کے نتائج سے محکمات پر استدلال نہیں کیا جا سکا۔ تاہم ایک دائرہ ایسا ہے جہاں اس سے گریز ممکن نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مذہب اپنے حق میں مظاہر فطرت سے استنباط کر تا ہے۔ یہاں لازم ہے کہ فطرت کے جن مظاہر کی طرف مذہب اشارہ کرتا ہے، وہ تحقیق کے پیمانے پر پورا اترتے ہوں۔ ’جین ایڈیٹنگ‘ کے بعد، میرااحساس ہے کہ ان نصوص کی قدیم تفسیر اور شرح شاید نئے ذہن کے اطمینان کے لیے کافی نہ ہوجہاں فطرت کے مظاہر پر مذہب کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

اس بحث کا ایک پہلو اور بھی ہے۔مذہب کا مقدمہ یہ بھی ہے کہ پیغمبر دراصل ان باتوں کی یاد دہانی کے لیے تشریف لاتے ہیں جوانسانی فطرت میں الہام کر دی گئی ہیں۔وہ فطرت کو ایک محکم بنیاد فرض کر تا ہے۔وہ آفاق ہی نہیں، انفُس کی نشانیوں سے بھی دلیل لا تا ہے۔ ’جین ایڈیٹنگ‘کے تحت فطرت اب قابل تغیر ہے۔اگر انسان کی یاداشت ہی کو کھرچ ڈالا جائے توعہدِ الست کی گواہی کا کیا ہوگا؟یہ درست ہے کہ مذہب کی دنیا میں روح زندگی کا محور ہے۔جو اس پر رقم ہے، ’جین ایڈنٹنگ‘ کی اس تک رسائی نہیں۔ عہد الست اگر اس پر محفوظ ہے تواس ٹیکنالوجی کے دسترس سے باہر ہے۔ بات لیکن یہاں ختم نہیں ہو جا تی۔اس کے بعد یہ بتانا پڑے گا کہ فطرت کیا ہے؟مثال کے طور پر اب یہ کہا جا رہا ہے کہ جرم جینز میں ہو تاہے۔اگر جینز میں تبدیلی ممکن ہے تویہ بھی ممکن ہے کہ ’جین ایڈیٹنگ‘ سے جرم کر نے کی صلاحیت ہی سلب کر لی جائے۔ سوال یہ ہے کہ جس فطرت میں فجور اور تقویٰ الہام کر دیے گئے ہیں،اگراس میں تبدیلی ممکن ہے تو پھر قانونِ آ زمائش کی معنویت کیا ہوگی؟

’جین ایڈیٹنگ‘ آج کے علمِ جدید کا چیلنج ہے۔انیسویں صدی میں جب علم بالحواس نے اسی نوعیت کا چیلنج اٹھایا تھا تو سر سید نے ایک نئے علم کلام کی ضرورت کو نمایاں کیا تھا۔علامہ اقبال نے بھی اسی بات کو آگے بڑھایا۔اب سر سید کا علم کلام بھی ہماری مدد نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مذہب کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے کی بات کی تھی۔اب تو فطرت ہی تبدیلی کی زد میں ہے۔بنیادی سوا ل پھر اپنی جگہ کھڑا ہے کہ محکم کے لیے متغیر کو معیار کیسے مانا جا سکتا ہے؟

میں مذہب کی سخت جانی سے واقف ہوں۔اس نے ہر دور کے ’علم جدید‘ کا سامنا کیا ہے اور میری نظرمیں،دلیل کے میدان میں اسے شکست نہیں دی سکی۔یقیناًوہ اس معرکے میں بھی فاتح ہوگا۔اس وقت ایک جانب توصف بندی ہو چکی۔ آج بیل کے سر سے سینگ غائب ہوئے ہیں۔کل کچھ اور غائب ہو جائے گا۔یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔کیا اہلِ مذہب نے بھی صف بندی کا سوچ لیا ہے؟کیا ان کے پاس وہ علم کلام مو جود ہے جو بیل کے سر پر سینگ اگا دے یا پھراسے اپنے حق میں انفس وآفاق کی ایک نئی دلیل میں بدل ڈالے؟ 

(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)

اسلام اور عصر حاضر

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی