اسلام عصری تہذیبی تناظر میں ۔ ممتاز دانشور جناب احمد جاوید کا فکر انگیز انٹرویو (۲)

اے اے سید

فرائیڈے اسپیشل: مغربی دنیا اگرچہ باطل کی پرستش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اُسے عالمگیر غلبہ حاصل ہے۔ آخر مغرب کے عالمگیر غلبے کی وجوہات کیا ہیں؟

احمد جاوید: اس کی دو ہی وجوہات ہیں: اول طاقت اور دوم علم۔ غلبے اور مغلوبیت کے جو اسباب ہوتے ہیں وہ قانونِ قدرت میں ہیں، قانونِ ہدایت میں نہیں ہیں۔ تو یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا بنایا ہوا ایک نظام قدرت ہے، جس میں کافر بھی اس کے مطابق ہوجائے گا تو غالب ہوجائے گا، اور مومن اس کی خلاف ورزی کرے گا تو مغلوب ہوجائے گا۔ تو طاقت اور علم، یہ مغرب کے غلبے کے مکینکس کے دو پارٹ ہیں۔ غلبہ اُس قوم کو حاصل نہیں ہوسکتا جس کے پاس طاقت نہ ہو۔ اس قوم کو حاصل نہیں ہوسکتا جس کے پاس دنیا کا علم نہ ہو۔ جو معاصر دنیا ہے اس کا علم، یہ عروج و زوال کا معیار ہے۔ اس کا تیسرا معیار اخلاقی ہے، کہ وہ معاشرہ اپنے آپ کو مربوط رکھنے، اپنے آپ کو ایک نظام میں ڈھالنے کے لائق ہو۔ یہ تینوں ضرورتیں مغرب نے پوری کردیں۔ یہ تینوں چیزیں جب تک کسی قوم میں موجود ہیں اُس وقت تک اس قوم کو زوال نہیں ہوگا، چاہے وہ کافر ہو یا مومن۔

فرائیڈے اسپیشل: کیا مغرب کمزور پڑرہا ہے؟

احمد جاوید:  مغرب کمزور پڑتا رہتا ہے، لیکن اس کے ہاں رپیئرنگ کا نظام بہت مضبوط ہے۔ وہ اپنی کمزوری کو فوراً بھانپ لیتا ہے اور اس کا علاج کرلیتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ مغرب میں کتنے بڑے بڑے معاشی زلزلے آئے، کتنے بڑے بڑے معاشرتی زلزلے آئے، انہوں نے سب کو ایک ڈھب سے رام کرلیا، کیونکہ ان کا تو کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں ہے۔ جب بھی کوئی ایشو اٹھا تو مغربی معاشرے میں ایک ہلچل پیدا ہوئی۔ اس سے بالادست قوتوں نے بھانپ لیا کہ اس کے نتیجے میں مغربی معاشرے کا جو تانا بانا ہے، وہ کمزور پڑجائے گا تو انہوں نے اسے لیگل کور دے دیا کہ قانوناً یہ جائز ہے۔ تو وہ ہرچیز کو رپیئر کرلیتے ہیں کیونکہ وہ کسی کمٹمنٹ پر نہیں ہیں۔ ان میں خدا کو جواب دینے کا تصور نہیں ہے، ان کے ماڈلز یا محرکاتِ عمل دینی، مذہبی یا ایمانی نہیں ہیں۔ ان کا ماڈل تو یہ ہے کہ ہمیں طاقتور رہنا ہے اور اپنے لوگوں کو آرام سے رکھنا ہے، اس کے لیے ہمیں جو جو کمپرومائز کرنے پڑیں، جیسی جیسی لچک دکھانی پڑے، جتنا جتنا قانون کو، تعلیم کو بدلنا پڑے ہم بدلتے رہیں گے۔

فرائیڈے اسپیشل: اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ امریکہ کے معروف دانشور سیموئیل پی ہن ٹنگٹن نے 1990 کی دہائی میں تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا تھا، لیکن تہذیبوں کے تصادم کی باتیں اقبالؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ بھی بہت پہلے کرچکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اقبال ؒ اور مودودی ؒ اور سیموئیل پی ہن ٹنگٹن کے تناظر میں کیا کوئی فرق پایا جاتا ہے اور اس نظریے کی ہمارے لیے کیا اہمیت ہے؟

احمد جاوید: تہذیبوں کے تصادم کا آئیڈیا بہت قدیم ہے۔ یونان میں بھی تھا۔ یہ ان لوگوں (اقبال اور مودودی صاحب) کا اندازہ تھا، اور یہ نظریاتی نوعیت کا زیادہ تھا۔ یہ قیاس تھا، تصور تھا۔مغرب یہ کرنے جارہا ہے۔ ہم یہ کرنے جارہے ہیں۔ اگلے تیس سال بعد زمین پر یہ صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ تو دونوں کے یہاں یہ تصور آئیڈیلسٹک تھا کہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ اسلامی نظریہ زندگی مغربی نظریہ حیات سے بالآخر تصادم کی صورت میں نہ آئے۔ ظاہر ہے کہ اُن کا تصورِ انسان الگ، بنیادی تصورات الگ۔۔۔ ہمارے بنیادی تصورات الگ۔۔۔ تو علمی تصادم تو جاری ہے، اس لیے یہ عملی تصادم بھی بن سکتا ہے۔ پیش گوئی نہیں صرف ایک قیاس تھا۔ ہن ٹنگٹن کا کام یہ ہے کہ اس نے اس نظریے کو بالکل clinically بناکر دکھادیا ہے۔ اس پر ورک آؤٹ کرکے دکھادیا ہے۔ دنیا میں بعد میں آنے والے نظریے میں اس نظریے کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس لیے ہن ٹنگٹن کا تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ واقعی ایک نظریہ ہے، اور اقبالؒ وغیرہ کا تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ ایک تصور ہے جو اپنی بنیادوں پر بالکل درست ہے۔ ہن ٹنگٹن تصور سازی نہیں کررہا، وہ مستقبل کی دنیا کی پیشگی تصویر کھینچ رہا ہے۔ وہ کوئی نظریاتی باتیں نہیں کررہا، وہ واقعات بیان کررہا ہے۔ جہاں تک ہمارے نزدیک اہمیت کی بات ہے، اقبالؒ اور ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا جو پیراڈائم ہے، اس کے مطابق ہم اس تصادم سے گزر رہے ہیں، اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تصادم زندگی کی تمام سطحوں پر عملی حالات میں برپا ہوکر رہے گا بشرطیکہ ہم، ہم کہلانے کے لائق تو بنیں۔ آپ کی امت اپنی تہذیبی، اخلاقی اور نظریاتی قوت کے ساتھ مغرب کے سامنے صف آرا تو نہیں ہوسکی اور نہ ہی ہونے کا کوئی منصوبہ دکھائی دیتا ہے، نہ تیاری نظر آرہی ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: یہ جو امت کا منصوبہ یا تصور ہے یہ کیسے اور کہاں بنے گا؟ کسی ایک جگہ بنے گا؟ امت تو کہیں نظر بھی نہیں آرہی! اس کا وجود کہاں ہے؟پاکستان میں بنے گا، ترکی میں یا سعودی عرب میں؟ اور پوری دنیا کے لیے یہ نظریۂ امت کیسے قابل قبول ہوگا؟یا یہ کہ آج کے جغرافیائی دور میں تبدیلی کس طرح آئے گی؟

احمد جاوید: امتِ مسلم اجتماعیت اور قومیتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں، یعنی مسلم تہذیبیں، قومیں اور ممالک ہم عقیدہ ہونے کی بنیاد پر، ہم مقصد ہونے کی اساس پر ایک دائرۂ وحدت کے اندر ہیں۔ اس دائرۂ وحدت کا نام امت ہے۔ اور اس امت کو پاکستانی اور ملائشین ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم مختلف قوموں، معاشروں، ریاستوں اور ثقافتوں کے ہوتے ہوئے بھی متحد ہوسکتے ہیں۔ یہ اتحاد جب برپا ہوجائے گا تو ہم قوم کے ساتھ ساتھ امت کا تشخص بھی حاصل کرلیں گے۔ امت کا تشخص قومیت کی نفی سے نہیں ہے، قومیت کو اپنے اندر جذب کرلینے سے ہے۔ ان معنوں میں مسلمان عملاً اب بھی امت ہیں، لیکن امت کا یہ تصور کہ اس کا سیاسی نظم، اس کا ریاستی اسٹرکچر ایک حاکم کے تابع ہو، ایک حکومت کے تحت ہو تو یہ اب محالات میں سے ہے، نہ ہی یہ اسلام کا مطالبہ ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: آپ کو اس وقت دنیا میں وہ نرم زمین کہاں نظر آرہی ہے جہاں سے تبدیلی کے امکانات ہیں؟

احمد جاوید: اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں ترکی وہ خطۂ زمین ہے جہاں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ وہ مرحلہ شروع ہوگیا ہے، اور اگر یہ کامیابی سے چلتا رہا تو ترکی سینٹر آف امہ بننے کی قابلیت رکھتا ہے، کیونکہ طاقت، علم، اخلاق،کمٹمنٹ اور آزادی کا جذبہ۔۔۔ یہ تمام چیزیں ان میں موجود ہیں۔ وہ نفسیاتی طور پر آزاد لوگ ہیں۔ یہ سب عناصر مل کر کسی قوم کو اپنی ہم خیال اقوام کے لیے نمونہ یا لیڈر بناسکتے ہیں۔

فرائیڈے اسپیشل:  جب ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا ذکر کرتے ہیں تو تین نقطہ ہائے نظر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مغرب قابلِ تقلید ہے اور مسلمانوں کو آنکھ بندکرکے مغربی فکر کی تقلید کرنی چاہیے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے جو علماء کا ہے کہ مغرب کو یکسر مستردکردیا جائے، اور وہ کہتے ہیں کہ مغرب باطل ہے اور باطل کی پیروی ممکن نہیں۔ تیسرا نقطہ نظر ہے جو درمیان کی راہ نکالتا ہے اور مغرب اور مشرق کے اندر امتزاج تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے ذریعے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان جو تصادم ہے اس کی راہ روکی جاسکتی ہے اور اس سے دونوں تہذیبوں کو بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ ان تین نقطہ ہائے نظر کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

احمد جاوید:  یہ ایک پرانا منظرہے جس میں یہی تین باتیں مغرب کے بارے میں کہی جارہی تھیں۔ سرسید کے دور کے فوراً بعد مغرب کے حوالے سے یہ تین رویّے پیدا ہوئے تھے۔ ان تینوں رویوں کے پیچھے ایک مفروضہ قائم کرنے کی غلطی ہے، یعنی ان تینوں کی پشت پر بنیادی مفروضہ ہی غلط ہے کہ تہذیبیں معاہدوں کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتیں۔ تہذیبوں کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے وہ آرگینک (Organic) ہوتا ہے۔ وہ کسی مذاکرات، ناپ تول یا سیاسی فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ سارے فیصلے اور منصوبہ بندیاں اثرانداز تو ہوتی ہیں لیکن یہ تصور کرلینا کہ ہم مغرب کی تہذیب کو مکمل طور پر روکنے کا ایک پلان بناکر اس کی پابندی کریں یا اس کو مکمل طور پر قبول کرنے کا منصوبہ تیار کرکے اس کے پیچھے رہیں، اس کو عمل میں لائیں، یا یہ کرلیں کہ دین کا تعلق رکھیں، یہ چیزیں کسی طرح کے فیصلوں سے نہیں پیدا ہوتیں۔ مغربی تہذیب سے ہمارے تعلق کی جیسی بھی نوعیتیں بنیں گی وہ یکطرفہ نہیں ہوں گی، وہ ایسی نہیں ہوں گی کہ جیسے ہم نے پہلے کوئی فیصلہ کیا، اب تعلق کا سارا نظام ہمارے پہلے کیے گئے فیصلے پر چل رہا ہے۔ گویا یہ ایک مصنوعی سوچ ہے۔ 

صورت حال یہ ہے کہ مغرب اس وقت عالمگیر تہذیب بننے کے عمل میں ہے۔ جس چیز کو ہم ستّر اسّی برس پہلے مغربی تہذیب کہتے تھے اُس کا ایک جغرافیہ تھا مغربی یورپ اور امریکہ ملاکر۔ لیکن اب جو مغربی تہذیب ہے وہ مغرب کے جغرافیہ میں محصور نہیں ہے۔ اب مغربی تہذیب ہندوستان اور چین میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس وقت موجود تہذیبی مظاہر میں ایک مغرب ہی ہے جو عالمگیر تہذیب بننے کے عمل سے سردست کامیابی کے ساتھ گزر رہا ہے اور اس کو جو چیلنج پیش آرہے ہیں وہ معمولی نوعیت کے ہیں۔ اب حقیقی اور برسرزمین صورت حال یہ ہے۔ اس طغیانی اور مغرب کے اس تہذیبی طوفان میں، مغرب کے اس عالمگیر اخلاقی، علمی، عقلی غرض ہر طرح کے تہذیبی غلبے کے ماحول میں ہم یہ فکر کررہے ہیں کہ ہم بطور مسلمان اپنے تہذیبی امتیاز کی حفاظت کیسے کریں؟ ہم خود کو مغربی تہذیب میں ضم اور جذب ہوجانے سے کیسے بچائیں؟ یہ اس وقت کا مسلم سولائزیشن کو درپیش ایک مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو کچھ طریقوں سے حل کرنے یا اس مسئلے سے نکلنے کے لیے کچھ راستے ہم اپنے سامنے ایسے موجود پاتے ہیں جن سے یہ امید باندھی جاسکے کہ یہ ہمیں مغرب کے تہذیبی غلبے سے بچانے کی قوت رکھتے ہیں۔ ان میں ایک راستہ یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ تصادم کا رویہ اختیار کریں، اور کیوں کہ مغربی تہذیب کے پھیلاؤ میں اس کی قوت کا بہت عمل دخل ہے لہٰذا اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قوت ہی کا استعمال ضروری ہے۔ مسلم تہذیب اپنے کچھ پاکٹس میں طاقت کے خلاف مزاحمت ((Power Resistance کررہی ہے کہ اس کا راستہ ہم طاقت سے روک لیں گے، جس کی ایک موجودہ صورت حال جنگجوئی (Milintancy) ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کچھ تنکے آپس میں اتحاد کرکے سونامی کو روکنے کا منصوبہ بنائیں۔یہ انتہائی لغو خیال اور بے معنی طرزعمل ہے۔ یہ جنگجوئی مغرب کے غلبے کی قبولیت میں اضافہ کررہی ہے، یعنی مغربی تہذیب کو اخلاقی جواز فراہم کررہی ہے۔ تہذیبوں کے پھیلاؤ میں جو سب سے بڑے جواز ہوتے ہیں ان میں سے ایک جواز ان کی اخلاقی برتری ہوتا ہے۔ تو داعش وغیرہ کے مقابلے میں مغربی تہذیب یا داعش کا ہر ہدف اخلاقی طور پر ان سے بلند ہوگا۔ اب مغرب کے خلاف تشدد کا رویہ اور دہشت گردی کے واقعات جتنے بڑھتے چلے جائیں گے، ان سے مغرب کے جسم پر خراش تک نہیں آئے گی بلکہ ان کی طرف ہمارا رویہ بدلنے لگے گا اور ہم ان کی اخلاقی برتری کے قائل ہونے لگیں گے۔ تو اس سے ان کے پھیلاؤ کا راستہ اور زیادہ ہموار ہوجائے گا۔ 

دوسرا رویہ یہ ہے کہ ہم مغرب کی وہ اقدار، مغربی نظام کے وہ عناصر جن کی عالمگیریت مسلم ہوچکی ہے، جو اس وقت دنیا کا قانون بن چکے ہیں اور ان کا موجد مغرب ہے، مثلاً جمہوریت، مائلڈ کیپٹلزم (mild capitalism)، انسانی حقوق کا تصور، آزادئ اظہار کا آئیڈیا، دین بدلنے کی آزادی وغیرہ، تو ہم مغرب کی یہ جو قدریں آفاقی اقدار کی صورت اختیار کرتی جارہی ہیں، ہم ان میں سے کچھ قدریں منتخب کرکے اختیار کرلیں۔ دو راستے ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم جمہوریت اختیار کرلیں، کیونکہ جمہوریت کے نتائج اچھے ہیں۔ ہم آزادئ اظہار اختیار کرلیں، ہم انسانی حقوق کی وہی فہرست مان لیں جو مغرب نے بنائی ہے اور اقوام متحدہ سے منظور کروائی ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ ہم نماز، روزہ جاری رکھیں۔ ہم اپنا آئین نیا بنادیں کہ جس میں لکھ دیا جائے کہ قرآن و سنت سے ٹکراؤ رکھنے والا کوئی قانون نہیں بن سکتا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو ہم اسلام کو آئینی طور پر غالب رکھیں اور زندگی کا پورا مزاج جو ہے، وہ مغرب سے نزدیک رہ کر بنائیں۔ مغرب میں ضم ہوئے بغیر اپنی بعض شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے، یا یوں کہیں کہ اپنی اُن شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے، جن پر مغرب کو اعتراض نہیں ہے، ہم اپنے ان تہذیبی امتیازات کو برقرار رکھتے ہوئے زندگی کو چلانے والا اجتماعی نظام ،چاہے وہ سیاست کے دائرے میں ہو، اخلاق کے دائرے میں ہو، چاہے معیشت میں ہو، چاہے تعلیم میں ہو، چاہے انصاف میں ہو، وہ ہم مغرب سے نقل کریں، مغرب سے پورا پیکیج لے لیں اور اس پیکیج کو لے کر بس اس پر عنوان یہ لگادیں کہ یہ ہماری ہی تہذیب کے بنیادی عناصر ہیں جو مغرب نے ہم سے لیے تھے۔ تو ہم گویا اپنی دی ہوئی چیز اُن سے واپس لے رہے ہیں۔ تو دوسرا رویہ یہ ہے، ٹھیک ہے نا! مغرب کی بنائی ہوئی دنیا کو مغرب ہی کا ایجاد کیا ہوا نظام چلا سکتا ہے۔ ہم اس وقت مغرب کی بنائی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں اور اس دنیا میں رہنے کے لیے انھی کے بنائے ہوئے نظام کے محتاج ہیں۔ یہ دنیا کسی اور نظام سے چل نہیں سکتی۔ 

تیسرا رویہ ابھی تصور کی سطح پر ہے، ابھی اس کے مظاہر پیدا نہیں ہورہے۔ وہ رویہ ہے مغرب سے لاتعلق ہوکر مثبت انداز میں اپنی تہذیب کو اس کی بنیادی اقدار پر چلانے کا عمل شروع کیا جائے۔ جیساکہ دنیا میں کئی خطے ہیں جو مغرب سے لاتعلق ہوکر اپنی تہذیبی اقدار کو بچانے، برقرار رکھنے اور برسرعمل رکھنے میں بڑی حد تک کامیاب ہیں، تو اس ماڈل کو ہم بھی اپنالیں۔ تو یہ تین ممکنہ راستے ہیں جن سے ہم یہ امید باندھ رہے ہیں کہ شاید یہ ہمارے دینی اور تہذیبی بقا میں ہمارے معاون ثابت ہوں۔ لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی راستے کو سفر کے قابل بنانے کا جو سامان ہوتا ہے، وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ ہم نے ریل کی پٹری کے تین نقشے بنالیے ہیں، لیکن اس نقشے پر پٹری بچھانے کا سامان ہمارے پاس نہیں ہے۔ تو ان تینوں تصورات پر عمل کرنے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں، وہ ہمارے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے ہم ایک طرح سے عادی ہوگئے ہیں کہ تصور میں اپنے امتیاز کی حفاظت کرتے ہیں اور عملاً مغرب کی پیروی میں چلتے رہیں۔ ہماری موجودہ صورت حال یہی ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: آئیڈیل طریقہ کیا ہے؟

احمد جاوید: آئیڈیل طریقہ مغرب سے تصادم کی فضا ختم کرکے اپنے prospective سے ترقی اور کامیابی کے تصورات کو عمل میں لانا ہے۔ ہمیں یہ کہنے کے لائق ہونا چاہیے کہ ترقی کا مغربی ماڈل ہمیں قبول نہیں، کامیابی کا مغربی نظام ہمیں قبول نہیں، ہم انسانی فضائل اور انسانی زندگی کی آسانیوں اور راحتوں کا اپنا ایک تصور رکھتے ہیں اور اس تصور کو عمل میں لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری خوشحالی سود سے پاک ہونی چاہیے۔ ہمارا یہ آئیڈیل ہے، ہم اس کے پابند ہیں کہ ہمارا مال سود سے پاک ہو، ہمارے اخلاق حیا کی بنیاد پر ہوں، آزادی یا کاروبارکی بنیاد پر نہیں۔ ہماری شخصیت انکسار کے جوہر سے تعمیر ہو، کسی اور تصور سے نہیں۔ میں صرف مثال دے رہا ہوں۔ تو جب تک ہم اسلام کا ورلڈ ویو بنانے یا بتانے اور اسے عمل میں لانے کی صلاحیت پیدا نہیں کریں گے اُس وقت تک ہمیں مغرب کے تسلط سے بچانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ ہر امت، قوم، تہذیب کی پہلی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ بتائے کہ اس کا ورلڈ ویو کیا ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: ورلڈ ویو سے آپ کی کیا مراد ہے؟

احمد جاوید: ورلڈ ویو سے مراد ہے: اس کا تصورِ علم کیا ہے؟ اس کا تصورِ دنیا کیا ہے؟ اس کا تصورِ انسان کیا ہے؟ جب تک ہم اپنے ورلڈ ویو کو فراموشی کی دھند سے نکال کر سب سے پہلے خود اپنے ذہن میں لانے اور اپنی زبان سے اظہار دینے کے لائق نہیں ہوں گے اُس وقت تک مغرب کے تسلط سے نکلنے کا کوئی نقشہ تیار نہیں ہوگا۔

فرائیڈے اسپیشل: اس آئیڈیل تصور کا شعور ہمارے معاشرے میں کس طبقے کو ہونا چاہیے یا ہوگا؟ 

احمد جاوید: اس کا شعورتو آ پ کے حاکم طبقے کو ہونا چاہیے آپ کے علماء کو ہونا چاہیے آپ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا احساس عام ہونا چاہیے۔ حقیقت کی دو نسبتیں ہوتی ہیں۔ اس کا شعور اُن طبقات کو ہونا چاہیے جو سوسائٹی کو چلانے کی قوت رکھتے ہیں۔ جو اپنے فیصلوں کو نتیجہ خیز بنانے کے اسباب رکھتے ہیں یا جن کی ذمہ داری ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: یہ احساس اور شعور تو ہمیں کسی طبقے میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ علماء کی صورت حال بھی مختلف نہیں بلکہ ان کے بارے میں ایک طبقے کی رائے ہے کہ علماء مغرب کے بارے میں ہی نہیں جانتے، اس کا شعور وہ کیسے رکھ سکتے ہیں!

احمد جاوید: یہ صحیح بات ہے۔ یہ اعتراف صحیح ہے کہ ہمارے علماء مغرب کو نہیں سمجھتے۔ لیکن صرف اتنی سی بات نہیں ہے، ہمارے پی ایچ ڈی بھی مغرب کو نہیں سمجھتے۔ یہ جو مکاری کی جاتی ہے نا کہ زوال کی ساری ذمہ داری مذہبی طبقے پر ڈال دی جائے، یہ چالاکی اور عیاری ہے۔ مغرب کو نہ سمجھنا اگر ایک جرم ہے تو اس کے بڑے مجرم علماء نہیں ہیں، کیونکہ ان کی ذمہ داریوں میں مغرب کو سمجھنا ثانوی ذمہ داری ہے۔ اس کے ذمہ دار جدید مغربی تعلیم یافتہ طبقات ہیں جنہوں نے مغربی نظام تعلیم میں اپنی تحصیلات مکمل کی ہیں اور مغرب کے حوالے سے اتنے ہی جاہل ہیں جتنے گاؤں کا کوئی مولوی۔ تو فہم مغرب جو ہے نا یعنی وہ فہم جوان کی تہذیب کے اثرات، ان کی تہذیب کے مزاج، ان کی تہذیب کے چھپے ہوئے (Hidden) مقاصد کو سمجھ سکے، وہ شعور ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقے میں بالکل نہیں ہے اور اپنی تہذیب کی عائد کردہ ذمہ داریوں کا کوئی احساس ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقات میں نہیں ہے۔ مولویوں میں کم از کم اپنی تہذیب کے تحفظ کا احساس تو ہے۔ جدید تعلیم یافتہ آدمی اپنی تہذیب کا غدار ہوتا ہے، وہ اپنی تہذیب کی وفاداری کی رمق سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ یہ مغرب کا سب سے کامیاب حربہ ہے کہ وہ اپنے سے مختلف تہذیبوں کے تعلیمی نظام میں سرایت کرکے انجام دیتا ہے۔

فرائیڈے اسپیشل:  آپ جو علم کی بات کرتے ہیں تو اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جتنا بھی فساد ہے وہ تعلیم یافتہ لوگوں کا پھیلایا ہوا ہے اور اس میں جدید تعلیم یافتہ اور دینی تعلیم یافتہ دونوں ہی شامل ہیں بدنام جاہل ہیں ان کا کیا قصور؟

احمد جاوید: جاہلوں کا قصور یہ ہے کہ وہ جاہل نہ رہتے تو علم کا غلط استعمال نہ ہوتا جہل اپنی جگہ جرم ہے۔جو بھی مقتدا اس کا رہنے پر راضی ہے وہ اپنے انسان رہنے پر انکار کرنے پر راضی ہے۔ یہ الگ بات ہے ہم دوسری بات جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بات بھی ٹھیک ہے۔علم کے بغیر نہ گمراہی کو قوت حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہدایات کو، یہ نیچرل اصول ہے یعنی ابوجہل بننے کے لیے بھی ذہین ہونا ضروری ہی اور ابوبکر بننے کے لیے بھی صاحب علم ہونا ضروری ہے ۔ جھوٹا شعور نہ ابوجہل بن سکتا ہے نہ ابوبکرؓبن سکتا ہے وہ ایک نیچرل نظام ہے لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری مذہبی تعلیم سے فساد زیادہ پھیل رہا ہے اور ہماری جدید تعلیم سے الحاد پھیل رہا ہے؟ یہ کیا وجہ ہے؟ کوئی تہذیب ان دو سوالوں کا جواب دیے بغیر وجود ہی میں نہیں آسکتی۔ علم کیا ہے اور علم کس لیے ہوتا ہے؟ مغرب کہتا ہے علم محسوسات کا علم ہے اور علم آرام سے، آزادی اور سلامتی ‘ خوشحالی کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے ہے۔ علم دنیا کو اپنے لیے آسان اور پرآسائش بنانے کے لیے ہے۔ان کے پاس دنوں کا واضح جواب ہے اوروہ ان دنوں جوابات کو عملی جامہ پہنانے میں بھی کامیاب ہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ علم محسوساتی (Empirical) ہوتا ہے، اس سے انہوں نے فزکس، میتھی میٹکس اور تمام علوم جو دنیا اورانسان سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایک لائن پیدا کرکے دکھادی پھر اس علم کو نتیجہ خیز بنا کر دکھادیا انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ نہیں کہتے کہ ایٹم ہوتا ہے۔ ہم ایٹم کو پکڑ کر استعمال بھی کرسکتے ہیں اور استعمال کرکے دکھادیا، انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ خوشحالی ہونی چاہیے ہم وہ خوشحالی لاکر دنیا کے لیے دکھابھی چکے ہیں۔ یہ خوشحالی ہمارا تصور ہے او ریہ دیکھ لو کہ اس تصور کو ہم نے کس طرح عملی روپ دے دیا۔ 

تو وہ (مغرب) واضح ہیں انہوں نے پوری طرح یکسو ہوکر اپنی تہذیب کی تعمیر میں ان دو جوابات سے مدد لی اور ان دو جوابات کو زندگی کے تمام گوشوں میں جاری کرکے دکھادیا اورنہ صرف اپنے اندر کی زندگی میں بلکہ جوان کے اس نظریے کو قبول کرلے وہ بھی ان کے معیار پر خوشحال ہوسکتا ہے ترقی یافتہ ہوسکتا ہے عالم اسلام میں جتنی بھی ترقی اور خوشحالی ہے وہ مغربی اصول کی تقلید کے نتیجے میں ہے۔ اسلامی تعلیم کے نتیجے میں نہیں ہے۔ یہ مغرب کے تسلط کا ناقابل تردید ثبوت ہے ۔آپ کو بھی ترقی کرنے کے لیے دنیاوی معاملات میں مسلمان ہونا چھوڑنا پڑتا ہے یہ ہے مغرب کا غلبہ ،کہ تمہیں ترقی کرنی ہے تو خدا کو چھوڑ کر کرنی ہے اور اس پر انہوں نے ہمیں قائل کرلیا ہے چاہے زبان سے اعتراف نہ کریں چاہے اس کا ہمیں ادراک نہ ہو لیکن عالم اسلام میں جہاں جہاں چھوٹی موٹی ترقیاں نظر آتی ہیں ان سب کا سرچشمہ مغرب کے یہ دو اصول ہیں۔وہ اسلام کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔ ملائیشیا نے اگر کچھ ترقی کی ہی تو کس اسلامی تعلیم سے کی ہے؟ مغربی ماڈل پہ کی ہے ترکی اگر کچھ ترقی کررہا ہے تو کس اسلامی تعلیم سے کررہاہے؟ مغر ب کے اصول ترقی کی تقلید کرکے کررہاہے تو اتنے غلبے میں پسے ہوئے ہم لوگ ہیں تو اس میں سے نکلنے یا اس میں مسلمان کی حیثیت سے سانس لینے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم ان دو سوالوں کا جواب پہلے بتائیں اپنے جواب میں خود کو کلیئر کریں اور پھر اس جواب کو عمل میں لانے کی اجتماعی سرگرمیوں کا پورا ایک مربوط نظام بنائیں اب اس میں چاہے سو سال لگیں چاہے پچاس سال لگیں لیکن یہ کیے بغیر ہم تہذیبی بقا حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ ہے اس سوال کاجواب کہ علم کیا ہوتا ہے؟ علم کس لیے ہوتا ہے؟

فرائیڈے اسپیشل: اب اس میں ایک سوال تحریکوں کی کامیابی اور ناکامی کے پس منظر میں اٹھتا ہے کہ کیا تحریکوں کی ناکامی واقعی ان کی ناکامی ہوتی ہے تحریکوں اور جماعتؤں کا کام تو جدوجہد کرنا ہے آپ سے سوال جدوجہد کا ہوگا؟ آپ کا پیغام قبول ہوا یا نہیں ہوا لوگ تبدیل ہوئے نہیں ہوئے یہ مطلوب نہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

احمد جاوید: نہیں اس کو دوسری طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک تحریک اگر پچاس سال سے ناکام ہے، اپنے مقاصد حاصل نہیں کرپارہی اور اپنے کام میں لگی ہوئی ہے تو اسے ناکام نہیں کہا جائے گا۔ بالکل ٹھیک ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اسے دینی معنوں میں بھی ناکام نہیں کہا جائے گا دنیاوی معنوں میں بھی ناکام نہیں کہا جائے گا۔ اسے ناکام کہنے کا کوئی دینی یا عقلی جواز نہیں ہے، لیکن ا گر کوئی تحریک اس طرح کی ہو، وہ سکڑنے لگے، اس کا ایکٹی وزم کم ہونے لگے، اس کے مقاصد بدلنے لگیں تو پھر کہا جائے گا کہ یہ ناکام ہوگئی ہے ۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ وہ ناکامی کے احساس سے بچانے والی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بھی اب تیزی سے کم ہوتی جارہی ہیں۔جدوجہد تو کررہے ہیں، بس جدوجہد کرتے رہنے پر ہم راضی ہیں۔ اپنی جدوجہد کو نتیجہ خیزبنانے کے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہے، ان سے غافل ہیں۔ یہ مذہبی طبقے کا ایک ڈایلیما ہے کہ آپ انقلاب لانے کی جدوجہد میں مخلص بھی ہیں، سرگرم بھی ہیں، لیکن انقلاب لانے کے لیے جو قوت اور صلاحیت لازماً درکا ہے، اس قوت و صلاحیت کو حاصل کرنے کی کوئی سنجیدہ اور مربوط کوشش نہیں کررہے۔

اب جماعت اسلامی یا کوئی بھی معروف سیاسی ذریعہ سے غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والی مخلص جماعت، اس طرح کی کوئی بھی جماعت ہو، ان سے یہ پوچھا جائے کہ تم جو اسلامی نظام لانے کے لیے اپنے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہو، اس میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے۔ وہ اسلامی نظام عمل میں کس طرح آئے گا؟ سودی نظام سے نکلنے کا کوئی لٹریچر ہے تمہارے پاس سے؟ تمہارے پاس موجودہ نیشن اسٹیٹ کے جو شہری مساوات کا حق ہے، اس کو اسلام سے کس طرح جوڑوگے، اس کا کوئی narativeہے تمہارے پاس ؟ کیپٹلسٹ معیشت میں جو باریکیاں، پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں، ان کا کوئی احساس ہے تمہارے پاس؟ کیپٹلزم کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ مغرب کے بارے میں تمہاری کیا انڈر اسٹیڈنگ ہے؟ اور پھر اسلامی نظام ‘ اللہ کی حاکمیت‘ حاکمیت اعلیٰ ‘ اللہ کا قانون‘ شریعت کا طریقہ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا‘ یہ سب تمہاری وجہ سے بے معنی نعرے لگنے لگے ہیں۔ کیونکہ تم اس کے معنی بتاتے ہی نہیں ہو‘ اللہ کی حاکمیت کس اسٹرکچر میں ہوگی؟ جیسے مغرب نے کہا ناں؟ مغرب نے ایک ڈسکورس (Discourse) کیا جمہوریت کا، جمہوریت ایک مغربیوں کے لیے دین ہے۔ انہوں نے بتادیا جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کے لیے۔ انہوں نے ایک لائن بنائی ناں۔ اس طرح اللہ کی حاکمیت ‘ اللہ کے بندوں کے لیے یہ ان کا سلوگن ہے جمہوریت نے اپنے سلوگن کو عمل میں لانے کے لیے تمام وسائل تمہاری نظروں کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

فرائیڈے اسپیشل:  مولانا مودودیؒ نے معیشت‘ اسلامی معیشت پر بہت لکھا سود کے حوالے سے ’’سود‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب لکھی اور آج اگر دیکھا جائے تو دوسری طرف مولانا تقی عثمانی نے اسلامی بینک کا نظام متعارف کروادیا کام تو ہوا ہے اور ہورہا ہے؟

احمد جاوید: پہلی مثا ل لے لیتے ہیں، مولانا مودودی کا ’’مسئلہ سود‘‘۔اس کتاب کا بڑا فائدہ اوربڑی برکت یہ ہے کہ اس سے مسلمان کو یہ پتا چل جاتا ہے کہ سود حرام ہے، بس۔ بلاسودی معیشت کا ایک نظام کے طو رپر کیسے پتہ چلے گا، اس کی کوئی رہنمائی ہے اس کتاب میں؟ سرمایہ دارانہ capitalisticسودی معیشت کی متبادل معیشت کے ضروری خدوخال اور ورکنگ پیپر ہے اس کتاب میں ؟ یا کسی بھی عالم کی کتاب میں؟ اس طرح تھوڑی ہوتا ہے۔ ایڈم اسمتھ کو پڑھیں تو آپ کو کیپٹلزم کی بائبل نظر آجائے گی۔ تو بلاسودی معیشت اپنی ورک ایبل حالت میں کہاں ہے؟ پھر یہ کہ کسی بھی مسلمان ملک میں کسی بھی اسلامی مملکت کہلانے والے ملک میں بلاسودی نظام معیشت سرے سے موجود نہیں ہے۔ تو اس کا کیا سبب ہے؟ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ علماء کے ذہن میں معیشت کا نظام بنانے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ وہ موجودہ معیشت کے دروبست کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ کیپٹلزم کا سامنا کرکے معیشت کا ایک ڈھانچہ بنانے کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ بس ہوا میں احکام کی سطح پر بات کررہے ہیں کہ یہ حکم قرآن میں ہے، یہ حکم حدیث میں ہے، یہ حکم اخلاقی طور پر ضروری ہے۔ اخلاق بھی کتابی، قرآن و حدیث بھی کتابی، یہ سارے احکام اپنی تعاملی صورتوں میں ایک نظام کو چلانے والے کیسے بنیں گے؟یہ سب کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے بھی معلوم ہے، سود حرام ہے۔

اب دوسرا ماڈل تقی عثمانی صاحب کا ہے۔ تقی عثمانی بڑے عالم ہیں، میں عالم نہیں ہوں۔ میرے ایک دوست ہیں، سینئر بینکر ہیں اور انٹلکچول بینکر ہیں۔ وہ نظام معیشت اور عالمی نظام معیشت کو تقی عثمانی سے ایک ارب گنا زیادہ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا، یہ رام کا نام رحیم رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، جو ہم ان سے فرمائش کرتے ہیں کہ اس کو جائز بنا دیں، اس کو اسلامی بنادیں، وہ ہمارے مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے کہ ہمیں کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے، اسے اسلامی اصطلاحات میں بدل دیتے ہیں اور تھوڑا سا اس میں (ضابطے) Procedural change لے آتے ہیں۔عمل اور اس کی بنیاد اور اس کا نتیجہ وہی رہتا ہے۔ یہ وہی تصور ہے کہ مغرب پر ہم غالب نہیں آسکتے، مغرب سے ہم لڑ نہیں سکتے تو اب بعض مغربی اقدار میں کچھ جزوی اور غیر موثر آرائشی تبدیلیاں کرکے اسے مشرف بہ اسلام کرلو۔ یہ مذاق ہے اور یہ ہماری طرف سے ایک مکمل اعتراف شکست ہے۔

فرائیڈے اسپیشل:  آپ کی شہرت ماہر اقبالیات کی بھی ہے۔ آپ نے اپنی عمر کا طویل عرصہ فکر اقبال کو عام کرنے میں بسر کیا۔ سوال یہ ہے کہ اقبال کی فکر ہمارے لیے اور بحیثیت مجموعی پوری امت مسلمہ کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟

احمد جاوید:  اقبال ہماری جدید روایات میں وہ آدمی ہیں جن کے یہاں ہم اسلامی ورلڈ ویو کو زیادہ کامل حالت تلاش کرسکتے ہیں۔ اقبال معاصرین میں غالباً عالم اسلام میں سب سے ممتاز اور منفرد آدمی ہیں جنہوں نے اس ضرورت کا ادراک کیا کہ اسلامی ورلڈ ویو جو ہے وہ پہلے تشکیل دینا چاہیے اسلامی تہذیب کے اصول ومبادی کو پہلے بیان ہونا چاہیے واضح ہونا چاہیے ورلڈ ویو کی میں نے تعریف کردی کہ تصور خدا‘ تصور انسان‘ تصور کائنات اور تصور علم‘ اقبال کے علاوہ یہ ورلڈ ویو اتنی اونچی ذہنی سطح اور اتنی مضبوط جذباتی سطح دونوں سطح پر ظاہر ہوا ہے وہ ان کے معاصرین کو اس کا شعور اور احساس نہیں تھا۔ اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ اور افادیت یہ ہے کہ جب بھی ہم ہوش میں آکر اپنا ورلڈ ویو بنانے کی کوشش کریں گے تو اس میں اقبال سے مدد لینی ناگزیر ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: اقبال کے بارے میں آپ کے استاد سلیم احمد سمیت کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اقبال کی شاعری اور اقبال کے خطبات میں تضاد پایا جاتا ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

احمد جاوید: اقبال کی شاعری اور خطبات میں تضاد نہیں ہے، موضوعات کا فرق ہے اور موضوعات کا بیان کرنے کا فرق ہے۔ تضاد کہیں نہیں ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: وضاحت فرمایئے؟

احمد جاوید: وضاحت تو اس بات کی ہونی چاہیے کہ کہاں تضاد دیکھا ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: جی۔ کہا یہ جاتا ہے کہ وہ اپنی شاعری میں عشق اور اپنے خطبات میں عقل کی فوقیت کے قائل نظر آتے ہیں۔ شاعری میں ایک مذہبی انسان کو ہم دیکھتے ہیں تو خطبات میں مغربی فکر سے متاثر دکھائی دیتے ہیں؟

احمد جاوید: نہیں وہ شاعری میں بھی مغربی فکر سے متاثر ہیں اور خطبات میں بھی ہیں۔ لیکن خطبات میں وہ مغربی فکر کا سامنا کرکے مغربی ذہن کے لیے قابل قبول تصور اسلام بتانے کی کوشش کررہے ہیں۰ شاعری میں ان کا مخاطب مسلمان ہے جس میں وہ اپنے ہی ورلڈ ویو سے آشنا کرنے کی جذبے اور عقل دونوں سطحوں پر کوششیں کررہے ہیں۔ تو مخاطب بدل جانے کے فرق سے طریقۂ کلام بدل گیا ہے اور استدلال کا نظام بدل گیا ہے اور وہ بدلنا ضروری تھا۔ غیر مسلم کے سامنے یا غیر مسلم طبیعت کی سامنے اسلام کو جس طرح پیش کیا جائے گا، وہ اس سے مختلف ہوگا جیسا کہ مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔تضاد کی نسبت نہیں ہے، تنوع کہہ سکتے ہیں۔ 

فرائیڈے اسپیشل: سلیم احمد صاحب نے جب اس رائے کا اظہار کیا تو ان کے سامنے آپ نے اپنی رائے کا اظہار کیا؟ ان سے بات ہوئی؟

احمد جاوید: ’’اقبال ایک شاعر‘‘ انہوں نے لکھی وہ بہت جلدی میں لکھی، انہوں نے وہ کتاب ایک مہینے میں لکھی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب سلیم بھائی نے یہ کہا تھا تو ہم اس بات کے قائل تھے کہ خطبات کا اقبال کوئی اور ہے شاعری کا اقبال کوئی اور ہے خطبات کا اقبال مغرب سے مغلوب ہوچکا ہے اور شاعری کا اقبال مغرب سے لڑنے پر اکساتا ہے۔ اس وقت میری بھی یہی رائے تھی جو استاد کی رائے ہے اوریہ فطری بات ہے لیکن جب میرا خود اقبالیات سے عملی تعلق سلیم احمد کے انتقال کے دو سال بعد پیدا ہوا ہے تو جب میں اقبالیات کے شعبے سے متعلق ہوا اور جب میں نے اقبال کو تفصیل سے اور زیادہ سنجیدگی سے پڑھا تو پھر مجھے یہ معلوم ہوا کہ سلیم احمد کی اس رائے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اقبال ایک بہت منضبط آدمی تھے۔ تضاد چھوٹے ذہن کے افکار میں ہوتا ہے ایک آدمی چیزوں کا holistic View کلی نقطہ نظر کھتا ہو اس میں غلطی ہوسکتی ہے کہ مغرب کی وجہ سے ترقی کررہاہے عالم اسلام علم نہ ہونے کی وجہ سے تنزل میں ہیں یہی وہ خطبات ہیں بھی کہتے ہیں۔شاعری مغرب کے تصور وجود کے مقابلے میں اسلام کا تصور وجود پیش کرتی ہے اور خطبات مغرب کے تصور علم کے سامنے اسلام کا تصور علم پیش کرتے ہیں تو اتنے بڑے بنیادی تھیمز(موضوعات) کا ادراک اور کلام کے دو ذرائع اختیار کرنا بڑے آدمی کاکام ہے ۔

فرائیڈے اسپیشل: آج کل سیکولرزم اور لبرل ازم کی اصطلاح ایک بار پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہے اس موضوع پر بہت بات کی جارہی ہے اورلکھا بھی جارہا ہے یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا سیکولرزم کفر ہے؟آخر ان کا مطلب کیا ہے؟ ذرا ہمیں سمجھایئے؟

احمد جاوید: سیکولرزم اور لبرل ازم دونوں جڑواں بہنیں ہیں لبرلزم ایک رویہ ہے سیکولرازم ایک نظام ہے ان میں فرق یہ ہے کہ سیکولرزم کا مطلب ہے کہ دنیا کے معاملات انسان چلائے گا اس کی لیے کسی خدا ئی ہدایات نامے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ سیکولرزم ہے لبرل ازم کا مطلب ہے کہ کفر بھی ٹھیک ہے ایمان بھی ٹھیک ہے آدمی کو کافر ہونے کا بھی کھلا موقع ملنا چاہیے مومن ہونے کا راستہ بھی صاف رہے یہ رویہ ہے کہ کافر سے اس کی کفر کی بنیاد پر دوری نہ محسوس کرنا اور مومن سے اس کی ایمان کی بنیاد پر خصوصی محبت محسوس نہ کرنا یہ لبرل ازم ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: ایک شخص اگر مسلمان ہے او روہ خود کو سیکولر کہے تو کیا اس نے اسلام کی جس بنیاد کا حلف لیا ہے اس کی خلاف ورزی کررہاہے؟

احمد جاوید: خلاف ورزی ہے ‘ مذہبی آدمی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ سیکولزم کا مطلب ہے دنیا میں خدا کے اختیارات کو سلب کرلینا‘ خدا کو غیر متعلق کردینا تو سیکولر ازم مذہب کی اور خاص طور پر اسلام کی نفی ہے۔ عیسائیت نے تو اپنی اس پوزیشن کو قبول کرلیا کہ چلو دین انفرادی معاملہ ہے لیکن اسلام کا تو دعویٰ ہی اس پر ہے کہ انسان اس کی انفرادیت اور اجتماعیت سب کی سب اسلام کے دائرے میں ہونی چاہیے یعنی اسلام کو انسان کی اجتماعی انفرادی سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے اور سیکولرازم اس کو مانتا ہی نہیں۔ کہتا ہے، مرکز انسان خود ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: آپ کے جو اساتذہ ہیں وہ اپنی بات کو آسان اسلوب میں بیان کرنے والے ہیں مثلا ایوب دہلوی، سلیم احمد وغیرہ لیکن بہت سے لوگوں کو آپ کے اظہار کا سانچہ بہت مشکل، ادق اور پیچیدہ محسوس ہوتا ہے اس کا کیا سبب ہے؟

احمد جاوید: میں یہ نہیں کہتا کہ اس میں صداقت ہے یا نہیں ہے کیونکہ میں اپنے اوپر غور نہیں کرتا۔ لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے تو اپنی دفاع کی نیت کیے بغیر میں یہ کہوں گاکہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ سلیم احمد کے اسٹائل میں ایک سلاست تھی لیکن مولانا ایوبؒ کی گفتگو آسان نہیں تھی۔ مولانا ایوب صاحب کی گفتگو میں بہت اصطلاحات تھیں وہ گفتگو عالموں کے لیے تھیں۔ میں یہ سمجھتا ہو کہ مخاطب میں فرق پیدا ہو جانے کی وجہ سے مجھے مشکل پسندی کا چارج سننا پڑتا ہے کیونکہ سامعین وہ نہیں رہے۔ اگرہمارے سامعین بھی مولانا ایوب صاحب اور سلیم احمد اور حسن عسکری جیسے ہوتے تو میرا خیال ہے کہ میرا طرز کلام ان کے لیے سہل تھا اب صورت یہ ہے کہ اخبار پڑھنے کی صلاحیت لے کر لوگ حقائق کی کھوج میں نکلتے ہیں۔ یعنی آپ جن سے بات کر رہے ہیں انہوں نے بمشکل اخبار کو پڑھ کر سمجھنا سیکھا ہے اب آپ ان سے بات کرتے ہیں حیات و کائنات کے مسائل کی یا کچھ گہرے مسائل کی تو وہ انہیں مشکل لگتے ہیں۔ لیکن وہ مشکل ہوتے نہیں ہیں میرے خیال میں، میں چیزوں کو واضح کرنے کا مزاج رکھتا ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں پہلے دو فقرے یا تمہیدی جملے ایسے بولتا ہوں جو اصطلاحی ہو اور جس میں بات پوری ہو جائے اور جو اس علمی معیار کے مطابق ہوں تو اس کے بعد زیادہ وقت انہی کی وضاحت میں لگاتا ہوں تو جس کی گفتگو میں وضاحت کرنے کا عمل زیادہ ہو اس کو مشکل کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ دوسرا مجھے ایک چیز کا جیسے بہت احساس رہتا ہے کہ علم کی اور علم کے بیان کی سطح کو گرنے نہ دیا جائے مخاطب کو دعوت دی جائے تم اوپراٹھو خود کو اس کاپابند نہ کیا جائے کہ میں علم کو اس کی سطح فہم پر گرا دوں،ہمارے زوال کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ہمالیہ کو کہتے ہیں کہ اپنا قد چھوٹا کرو تو میں تم سے معانقہ کروں گا۔ اگر تم نے اپنی بلندی برقرار رکھی تو میں چلا، تو یہ ذہن اونچائی کی کشش سے محروم ہو گیا ہے۔ مشکل میں ایک ذہین آدمی کے لیے دلکشی ہوتی ہے اس کو سوچ اس پر غور کرے اور اس کو حل کرے تو جن لوگوں نے مجھ سے کہا تمہاری بات سمجھ میں نہیں آئی۔ مشکل ہے تو میں نے ان سے ایک سوال کیا اور سب کا جواب مشترک تھا۔ مطلب یہ میں رپورٹ کر رہا ہوں۔ میں نے کہا تم نے غورکرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد یہ کہہ رہے ہو۔ غور کر کے کہہ رہے ہو۔ تمہاری بات مشکل ہے انہوں نے کہا غور کرنے میں نہیں سننے میں مشکل لگی۔ یعنی پہلا تاثر مشکل لگا۔ تو اس کے اندر یہ ارج نہیں پیدا ہوئی کہ ایک آدمی کی یہ بات سننے میں مجھے مشکل لگی ہے تو میں اس مشکل کو حل کرنے کی کوشش تو کروں نا۔ اس جملے پردو مرتبہ غور تو کر کے دیکھو۔ اب آپ کسی کی بات پر دوسری مرتبہ غور تو کر کے دیکھو۔ اب آپ کسی کی بات پر دوسری مرتبہ غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے اور پہلے تاثر اس پر فیصلہ کر لیں کہ یہ بات مشکل ہے، لہٰذا میں اس کا مخاطب نہیں بنتا، میں اس پر غور نہیں کروں گا تو یہ تو بہت ہی لکڑی کے دماغ کا کام ہے نا۔ ورنہ ہم بھی چھوٹے تھے، اپنے استادوں کی باتیں نہیں سمجھتے تھے تو وہ حافظے میں رکھتے تھے، کاغذ پر لکھتے تھے اور پھر اگلی ملاقات تک اس پر غور کرتے تھے اور انہیں یہ بات فخریہ بتاتے تھے کہ ہمیں یہ بات آپ کی مشکل لگی اور ہم نے دو دن غور کر کے اس کواس طرح سمجھا ہے یہ درست ہے؟ تو کبھی درست ہوتی تو کہتے تھے، درست ہے۔ کبھی غلط ہوتی تھی تو کہتے تھے، یہاںیہ غلطی تھی اور بات واضح ہو جاتی تھی۔

اسلام اور عصر حاضر

مارچ ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۳