مسئلہ طلاق ثلاثہ اور فقہائے امت

مولانا افتخار تبسم نعمانی

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک دفعہ تین طلاقیں دے دے تو کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ اس مسئلے میں علماے اہل سنت میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک یہ فعل (بیک وقت تین طلاق دینا) حرام ہے، تاہم اگر کسی نے ایسا کیا تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اس کے برعکس فقہا اور محدثین کی ایک قابل لحاظ تعداد اس کی قائل ہے کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہو گی ۔ تمام اہل علم ہمیشہ سے اس مسئلے کو ایک اختلافی مسئلے کے طور پر نقل کرتے آئے ہیں اور کسی نے اس پر اجماع کا یا اس میں اختلاف کی گنجایش نہ ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ اکابر اہل علم کے حوالہ جات حسب ذیل ہیں:

امام طحاوی حنفیؒ اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فذہب قوم الی ان الرجل اذا طلّق امراتہ ثلاثا معا فقد وقعت علیھا واحدۃ اذا کانت فی وقت سنّتہ وذلک ان تکون طاہرا فی غیر جماع واحتجّوا فی ذالک بھذا الحدیث (شرح معانی الاثار ج ۲ ص۳۵)
’’ ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ مرد جب اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی جبکہ وقت سنت میں یعنی اس وقت دی گئی ہو کہ عورت پاک ہو اور اس سے ہم بستری نہ کی گئی ہو اور دلیل ان کی یہی حدیث ہے۔‘‘

امام صاحب کی مراد صحیح مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ عہد رسالت مآب ﷺ، عہد صدیقیؓ اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔

امام عینی حنفیؒ لکھتے ہیں :

وفیہ اختلاف فذھب طاوس و محمد بن اسحاق والحجاّج بن ارطاۃ والنخعی وابن مقاتل والظاہریۃ الی ان الرجل اذا طلق امراتہ ثلاثا معا فقد وقعت علیھا واحدۃ ،واحتجّوا بحدیث ابی الصہباء۔ (عمدۃ القاری ج ۲۰ ،ص ۲۳۳ طبع جدیدمصر) 
’’اس مسئلے میں اختلاف ہے۔ امام طاوس ،محمد بن اسحاق، حجاج بن ارطاۃ، نخعی، محمد بن مقاتل اور ظاہریہ اس طرف گئے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے تو وہ ایک ہی شمار ہوں گی اور نہو ں نے مسلم شریف کی حدیث ابی الصہباء ؒ سے استدلال کیاہے۔‘‘

امام نووی شافعی ؒ لکھتے ہیں :

قد اختلف العلماء فیمن قال لامراتہ انتِ طالق ثلاثا ..... وقال طاؤس وبعض اہل الظاہر لا یقع بذلک الاّ واحدۃ وھو روایۃ عن الحجاّج بن ارطاۃ ومحمد بن اسحاق۔ (شرح صحیح مسلم ، ج ۱۰، ص ۷۰)
’’ اس میں اختلاف ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے کاکیا حکم ہے ..... اور امام طاوس (تابعی) اور بعض اہل ظاہر اس کے قائل ہیں کہ اس طرح ایک ہی طلاق واقع ہوگی، اور یہی حجاج بن ارطاۃ ؒ اور محمد بن اسحاق بن یسار المدنیؒ سے مروی ہے‘‘۔

امام رازی شافعیؒ لکھتے ہیں:

ثم القائلون بھذا القول اختلفوا علی قولین، الاوّل وھو اختیارکثیر من علماء الدین انہ لو طلقہا اثنین او ثلاثا لا یقع الاّ الواحدۃ وھذا القول ھو الاقیس لان النھی یدل علی اشتمال المنھی عنہ علی مفسدۃ راجحۃ والقول بالوقوع سعی فی ادخال تلک المفسدۃ فی الوجود وانہ غیر جائز فوجب ان یحکم بعدم الوقوع (تفسیر کبیر، ج ۶ ،ص ۱۰۳،طبع جدید)
’’پھر اس قول کے قائلین میں اختلاف ہو گیا اور ان کے دو قول ہیں۔ ایک قول جو بہت سے علماے دین کا اختیار کردہ ہے، یہ ہے کہ اگر اس نے بیک وقت دو یا تین طلاقیں دیں تو صرف ایک واقع ہوگی۔اور یہی قول قیاس کے زیادہ موافق ہے کیونکہ کسی چیز کی ممانعت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ممنوع چیز میں فساد اور خرابی کا پہلو غالب ہے، جبکہ تین طلاقوں کو واقع مان لینے سے اس مفسدہ اور خرابی کو وجود میں لانے کی کوشش ہے جو جائز نہیں، لہٰذا عدم وقوع (یعنی بیک وقت تین طلاقوں کے نہ ہونے)کا حکم لگانا واجب اور ضروری ہے۔‘‘

امام فخرالدین رازی ؒ کے اس بیان سے دو باتیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ مسلک زیادہ قرین قیاس ہے ۔دوسرے یہ کہ یہ مسلک شاذ مسلک نہیں بلکہ بہت سے علماے دین کا اختیار کردہ ہے۔

قاضی ابو الولیدابن رشد مالکی اندلسی ؒ لکھتے ہیں:

جمہور فقہاء الامصار علی ان الطلاق بلفظ الثلاث حکمہ حکم الطلقۃ الثالثۃ وقال اہل الظاہر وجماعۃ حکمہ حکم الواحدۃ ولا تاثیر للفظ فی ذالک (بدایۃ المجتہد ج ۲،ص،۶۱)
’’ جمہور فقہاے امصارکا کہنا یہ ہے کہ تین کے لفظ سے جو طلاق دی جائے گی، اس کا حکم تیسری طلاق کاہے، جبکہ اہل ظاہر اورایک جماعت کاقول ہے کہ اس کا حکم ایک طلاق کا حکم ہے اور تین کا لفظ یہاں غیر موثر ہے۔‘‘

اس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں : 

کانّ الجمہور غلبوا حکم التغلیظ فی الطلاق سدّا للذریعۃ ولکن تبطل بذلک الرّخصۃ الشرعیّہ والرفق المقصود۔
’’ جمہور نے اس صورت میں گویا سدّ ذریعہ کے طور پر سختی کے پہلو کا زیادہ لحاظ رکھا ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس سے وہ شرعی رخصت اور سہولت اور نرمی فوت ہو جاتی ہے جو کہ مطلوب ہے۔‘‘

یعنی بیک وقت تین طلاقوں کو تین شمار کرلینے سے وہ رخصت وسہولت ختم ہو جاتی ہے جو متعدد ومتفرق مواقع پر دینے میں ہے۔ اس سے قاضی ابن رشد ؒ کااپنا رحجان بھی معلوم ہوتاہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کا حکم ایک ہی طلاق کاہونا چاہیے تاکہ شرعی رخصت وسہولت باطل نہ ہو۔

امام قرطبیؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں آیت کریمہ ’الطلاق مرّتن‘ کے تحت لکھتے ہیں:

ذکر احمد بن محمد بن مغیث الطلیطلیّ ھذہ المسئلۃ فی وثائقہ ثم اختلف اھل العلم بعد اجماعھم علی انہ مطّلِق کم یلزمہ من الطلاق، فقال علی بن ابی طالب وابن مسعودؓ یلزمہ طلقۃ واحدۃ وقالہ ابن عباؓس،... و قال الزؓبیر بن العوامّ وعبد الرحمن بن عوفؓ وروینا ذلک کلہ عن ابن وضاّح وبہ قال من شیوخ قر طبۃ ابن زنباع شیخ ھدی ومحمد بن تقی بن مخلد ومحمد بن عبد السلام الحسنی فرید وقتہ وفقیہ عصرہ واصبغ بن الحباب وجماعۃ سواھم (الجامع لاحکام القرآن، ج ۳،ص۱۲۹،۱۳۲ طبع مصر)
’’اور امام احمد بن محمد بن مغیث طلیطلی اندلسی نے یہ مسئلہ کتاب الوثائق میں ذکر کیا ہے۔ .... پھر اہل علم اس بات پر اجماع کے بعد کہ طلاق بدعت واقع ہو جائے گی، اس میں مختلف الرائے ہوئے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوں گی ۔تو حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ایک طلاق کو واقع مانتے ہیں اوریہی بات حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے ارشاد فرمائی ہے اور یہی رائے حضرت زبیر بن عوّام اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کی ہے۔ یہ سب باتیں ہم نے امام محمد بن وضاّح سے نقل کی ہیں، اور یہی موقف شیوخ قرطبہ میں سے ابن زنباع شیخ ہدی، محمد بن تقی بن مخلد اور یگانہ روزگار وفقیہ دوراں محمد بن عبد السلام الحسنی اور اصبغ بن حباب اور ان کے علاوہ ایک جماعت کاہے۔‘‘ 

مشہور مفسر اور نحوی امام ابو حیاّن ’الطلاق مرّتن‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد دو الگ الگ اور متفرق اوقات میں طلاق دینا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے الفاظ ’الطلاق مرّتن‘ سے میرے دل میں ہمیشہ یہی بات آتی ہے کہ طلاق دینے والا مرد اگر ایک مجلس اور ایک وقت میں دو یا تین طلاقیں دے تو ایک ہی طلاق واقع ہونی چاہیے۔ (البحر المحیط، ص۱۹۲، ج ۲)

امام نظام الدین ؒ نیشاپوری اپنی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :

ثم من ھولاءِ من قال لو طلقہا ثنتین او ثلاثا لایقع الاّ واحدۃ وھذا ھو الاقیس واختارہ کثیر من علماء اھل البیت لان النھی یدل علی اشتمال المنھی عنہ علی مفسدۃ راجحۃ والقول بالوقوع سعی فی ادخال تلک المفسدۃ فی الوجود ( تفسیر نیشابوری علیٰ ہامش ابن جریر ص۳۶۱ ج ۲)
’’پھر ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے کہا کہ بیک وقت دو یا تین طلاقیں دینے کی صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی اوریہی قول قیاس کے سب سے زیادہ موافق ہے اور اسے کثیر علماے اہل بیت نے اختیار کیا ہے کیونکہ کسی چیز سے منع کرنا اس پر دلالت کرتاہے کہ وہ چیز کسی بڑے مفسدے اور خرابی پر مشتمل ہے اور بیک وقت تین طلاقوں کو تین شمار کرلینا اس مفسدے اور خرابی کو وجود میں لانے کاسبب ہے۔‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ حنبلی لکھتے ہیں :

وقد ثبت فی الصحیح عن ابن عباسؓ عنھما قال کان الطلاق علی عہد رسول اللہ ﷺ وابی بکرؓ وصدرا من خلافۃ عمرؓ طلاق الثلاث واحدۃ وثبت ایضا فی مسند احمد انّ رکانۃ بن عبد یزید طلق امراتہ ثلاثا فی مجلس واحد فقال النبی ﷺ ھی واحدۃ ولم یثبت عن النبی ﷺ خلاف ھذہ السنۃ بل ما یخالفھا اماّ انہ ضعیف بل مرجوح واما انہ صحیح لا یدل علی خلاف ذلک کما قد بسط ذلک فی موضعہ ٖ واللہ اعلم۔ (فتاویٰ ج ۲ ص ۸۶) 
’’مسلم شریف کی صحیح حدیث میں حضرت ابن عباسؓ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے عہد میں اور خلافت عمرؓ کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک ہی سمجھی جاتی تھیں۔ اور مسند احمد کی روایت سے ثابت ہے کہ حضرت رکانہ بن عبد یزیدؓ نے اپنی بیوی کو مجلس واحد میں تین طلاقیں دیں لیکن نبی ﷺنے فرمایا کہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے۔ نبی ﷺ سے اس سنت کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہے۔اس کے خلاف جو کچھ مروی ہے، وہ یاتو ضعیف بلکہ مرجوح ہے، اور یا صحیح ہے لیکن اس سے اس کے خلاف بات ثابت نہیں ہوتی، جیسا کہ دوسرے مقام پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاچکا ہے۔ واللہ اعلم۔‘‘

امام حافظ ابن قیّم حنبلی نے اپنی کتب اِغاثۃ اللہفان، زاد المعاد اور اعلام الموقعین میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر بہت مفصّل، جامع اور مدلّل گفتگو کی ہے۔ چنانچہ اجماع صحابہؓ کی نسبت حافظ ابن القیم ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ ، حضرت علی بن ابی طالبؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے متعلق دونوں طرح کی روایات ہیں۔ بعض میں ہے کہ وہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے کا فتویٰ دیتے تھے اور بعض روایات میں اس کے برعکس یہ ہے کہ وہ طلاق مغلظ ہونے کا فتویٰ دیتے تھے، لیکن حضرت زبییر بن عواّم، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ ،عکرمہ مولیٰ ابن عباسؓ، طاؤس، محمد بن اسحاق، فلاس بن عمرو، حارث عکلی،داؤد بن علی اور ان کے اکثر اصحاب ،بعض اصحاب مالک ،بعض اصحاب حنفیہ اور ،بعض اصحاب احمد بن حنبل ان سب کافیصلہ یہ تھا کہ طلاق ثلاثہ کاحکم ایک طلاق کاہے۔ (اعلام الموقعین ج ۲،ص۱۴تا۳۲ )

اغاثۃ اللہفان میں لکھتے ہیں : امام ابو حنیفہؒ سے اس مسئلے میں دوروایتیں منقول ہیں۔ ایک تووہی جو مشہور ہے۔ دوسری یہ کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق ہوتی ہیں، جیسا کہ امام محمد بن الحسن الشیبانی ( ۱۳۲ھ۔۱۸۹ھ)کے تلمیذ رشید امام محمد بن مقاتل الرازی الحنفیؒ نے امام ابو حنیفہؒ سے نقل کیا ہے۔ (ص۱۵۷، طبع مصر)

امام مازری ؒ نے بھی اپنی کتاب ’’المعلم‘‘ میں محمد بن مقاتل حنفی ؒ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ طلاق ثلاثہ جو ایک ساتھ ہوں، وہ ایک رجعی طلاق کے حکم میں ہیں او ر امام ابو حنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کابھی ایک قول یہی ہے۔ 

امام حافظ ابن حجر صحیح بخاری کے ’’باب من جوزّالطلاق الثلاث‘‘ (جس نے تین طلاق کو جائز قرار دیا) کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :

وفی الترجمۃ اشارۃ الی انّ من السلف من لم یجز وقوع الطلاق الثلاث۔ (فتح الباری ج ۹ ص۲۸۹) 
’’اس عنوان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سلف میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تین طلاق کے وقوع کو جائز قرار نہیں دیتے۔‘‘ 

اس رائے پر اعتراض نقل کر کے اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

الرابع انہ مذہب شاذ فلا یعمُل بہ واجیب بانہّ نقل عن علیِِِّ وابن مسعودؓ وعبد اللہ بن عوفؓ والزبیرؓ مثلہ نقل عنہ ذلک ابن مغیث فی کتاب الوثائق لہ وعزاہ لمحّمد بن وضاّح ونقل الغنوّی ذلک عن مشائخِ قرطبۃ کمحمد بن تقی بن مخلد ومحمد بن عبد السلام الحسینی ؒ وغیرھما ونقلہ ابن المنذرعن اصحاب ابن عباسؓ کعطاء وطاوس وعمر وبن دینارِِ ویتعّجب من ابن التیّن حیث جزم باّن لزوم الثلاث لا اختلاف فیہ و انما الاختلاف فی التحریم مع ثبوت الاختلاف کما تریٰ (فتح الباری،جلد،۹،ص۲۹۰) 
’’چوتھی بات یہ کہی گئی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق کے ایک ہونے کی بات شاذ مسلک ہے، اس لیے اس پر عمل نہ ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ رائے حضرت علی،ؓ ابن مسعودؓ ،حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ اور حضرت زبیرؓ سے منقول ہے ۔اسے ابن مغیث نے اپنی کتاب الوثائق میں نقل کی ہے اور اسے امام محمد بن وضاّح کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور غنوی نے اس مسلک کو قرطبہ کے مشائخ کے ایک گروہ مثلاً محمد بن تقی بن مخلد اور محمد بن عبد السلام الحسینیؒ وغیرہ سے نقل کیا ہے۔اورابن المنذر نے اسے حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ عنہما کے اصحاب مثلاً عطا، طاؤس ،اور عمرو بن دینار سے نقل کیاہے۔ اور ابن التین پر حیرت ہے کہ انہوں نے اس یقین کااظہارکیا کہ تین طلاق کے لازم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ اختلاف صرف اس کے حرام ہونے میں ہے، حالانکہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو، تین طلاق کے لازم ہونے یا نہ ہونے میں بھی اختلاف ثابت ہے ‘‘۔

محدث شہیر امام شوکانی ؒ نے مذکورہ اہل علم کے علاوہ یہی مسلک جابر بن زید ،ہادی ،قاسم ،باقر،ناصر ،احمد بن عیسیٰ،عبد اللہ بن موسیٰ بن عبد اللہ اور ایک روایت کے مطابق امام زید بن علی بن حسینؓ کا بھی نقل کیا ہے۔ (نیل الاوطار‘ جلد ۶ ص ۲۴۵)

مولانا ابو الحسنات عبد الحی فرنگی محلی تحریر فرماتے ہیں: 

والقول الثانی انہ اذا طلق ثلاثا تقع واحدۃ رجعیۃ وھذا ھو المنقول عن بعض الصحابۃ وبہ قال داود الظاہری واتباعہ وھو احد القولین لمالک ولبعض اصحاب احمد (عمدۃ الرعایہ ج ۲ ص،۷۱ مطبع انوار محمدی لکھنو)
’’( اس مسئلے میں اختلاف ہے) اور دوسرا قول یہ ہے کہ جب ایک ساتھ تین طلاقیں دی جائیں تو ایک رجعی طلاق ہوگی۔اور یہ رائے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے اور اسی کے قائل امام داؤد ظاہریؒ اور ان کے اتباع ہیں۔ اور ایک قول کے مطابق یہی مذہب امام مالک ؒ اور امام احمد بن محمد بن حنبل ؒ کے بعض اصحاب کاہے۔‘‘

مفتی اعظم قطر علامہ شیخ عبداللہ بن زید آل محمود، شیخ الازہر علامہ شیخ محمود شلتوت مرحوم (الفتاویٰ ص۳۰۶)، علامہ سید رشید رضا مصریؒ (تفسیر ’ المنار‘ ج ۹ ص ۶۸۳ ) اور عہد حاضر کے جلیل القدر عرب عالم اور مفسّر شیخ جمال الدین قاسمی (الاستیناس لتصحیح انکحۃ الناس) طلاق کے مسئلہ پر نہایت مفّصل گفتگو کے بعد یہی رائے ظاہر کرتے ہیں کہ جو تین طلاقیں بیک دفعہ دی جائیں، ان سے ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوگی۔

سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کافتویٰ حسب ذیل ہے : 

’’اس مسئلہ میں درست بات یہ ہے کہ اگر مرد ایک کلمہ سے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی، ،جیساکہ امام مسلم ؒ نے اہل علم کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے، اورکئی دوسروں نے بھی اس بات کو اختیار کیا ہے اور امام محمد بن اسحاق صاحب السیرہ بھی اسی بات کے قائل ہیں اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ اور ان کے شاگرد علامہ ابن القیمّ رحمہ اللہ نے بھی یہی بات اختیار کی ہے۔‘‘ 

علماے دیوبند میں سے مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ ، مولانا محمد محفوظ الرحمن قاسمی اور مولانا عمر احمد تھانویؒ بھی طلقات ثلاث بیک مجلس کو ایک طلاق رجعی قرار دیتے ہیں۔ علماے بریلی میں سے جسٹس پیر کرم شاہ ازہری رحمہ اللہ بھی علماے مصر اور علماے جامع ازہر کے فتویٰ کے مطابق عمل کرنے کو ارجح قرار دیتے ہیں۔

ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کا موقف اہل علم کی ایک بڑی تعداد نے اختیار کیا ہے۔ اصول فتویٰ کی رو سے اگر کوئی رائے ائمہ اربعہ نے اختیار نہ کی ہو لیکن وہ ضرورت اور مصلحت کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہو تو اس پر فتویٰ دیا جا سکتا ہے۔ بحر العلوم عبد العلی حنفیؒ ’التحریر‘ لابن الہمام ؒ کی شرح میں فرماتے ہیں :

واما المجتہدون الذین اتبعوھم باحسان فکلھم سواء فی صلاحھم فان وصل فتویٰ سفیان بن عیینہ ؒ او مالک بن دینار یجوز الاخذ بہ کما یجوز الاخذ بفتویٰ الائمۃ الاربعۃ الاّ انہ لم یبق عن الائمۃ الاخرین نقل صحیح الا اقلّ القلیل ولذا منع من التقلید ایاّھم فان وجد نقل صحیح منھم فی مسئلۃ فالعمل بہ والعمل بفتویٰ الائمۃ الاربعۃ سواء ۔
’’وہ مجتہدین جو صحابہ کرام کے اچھے پیرو ہیں، وہ سب کے سب صلاحیتِ تقلید میں برابر ہیں (یعنی ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کی تخصیص نہیں) اگر سفیان بن عیینہ ؒ یامالک بن دینار ؒ کا فتویٰ مل جائے تو اس پر بھی اسی طرح عمل کیا جا سکتاہے جس طرح کہ ائمہ اربعہ کے فتوے پر عمل کرنا جائز ہے۔اتنی بات ضرور ہے کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال نقل صحیح کے ساتھ کم تر ہی مہیاہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے ان کی تقلید سے روکا ہے، تاہم اگر کسی مسئلے میں نقل صحیح کے ساتھ ان کی رائے مل جائے تو اس پر عمل کرنا اور ائمہ اربعہ کے فتوے پر عمل کرنا دونوں برابر ہیں۔‘‘ 

فواتح الرحموت شرح مسّلم الثبوت میں بھی بحر العلوم ؒ نے یہی بات تحریر کی ہے۔ (ص ۶۳۰،طبع نول کشور ۱۸۷۸ء ) 

شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں امام محمد رحمہ اللہ کی امالی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی فقیہ کو طلاق بتہ دے دے اور اس کے نزدیک طلاق بتہ سے مراد طلاق ثلاثہ ہو، لیکن کوئی قاضی یہ فیصلہ کر دے کہ طلاق رجعی ہوئی ہے تو طلاق دینے والے فقیہ کے لیے جائز ہے کہ اپنے مسلک کے برخلاف قاضی کے فتوے پر عمل کرے اور اپنی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ (ج ۱، ص ۳۹۰)

مولانا عبد الحی فرنگی محلیّ (م ۱۳۰۴ھ) نے اسی اصول پر حسب ذیل فتویٰ دیا ہے: 

’’ اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک تین طلاقیں ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح درست نہ ہوگا مگر بوقت ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائدہ کاہو تو کسی اور امام کی تقلید کرے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوج مفقود اورعدّت ممتدّۃ الطہرُ موجود ہے کہ حنفیہ عندالضرورۃ قول امام مالک ؒ پر عمل کرلینے کو درست رکھتے ہیں، چنانچہ ’’ردّ المحتار ‘‘ میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔‘‘  (مجموعہ فتاویٰ ص ۳۴۷)

مفتی حبیب المرسلین ؒ ( دارالافتاء مدرسۃ امینیہ دہلی) فتویٰ دیتے ہیں:

’’ بوجہ شدید ضرورت اورخوف مفاسد اگر طلاق دینے والا ان بعض علما کے قول پر عمل کرے گا جن کے نزدیک اس واقعہ مرقومہ میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے تو وہ خارج از مذہب حنفی نہ ہوگا، کیونکہ فقہاے حنفیہ نے بوجہ شدّت ضرورت کے دوسرے امام کے قول پر عمل کر نے کو جائز لکھاہے۔‘‘ (بحوالہ الجواہر العالیہ، الاعظمی مدظلہ)

فقہ / اصول فقہ