دورِ جدید کا فقہی ذخیرہ: عمومی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

آٹھویں قسم :ابواب فقہیہ پر تفصیلی کتب 

عصر حاضر اختصاص و تخصص کا دور ہے۔ پورے فن کی بجائے فن کے مندرجات میں سے ہر ایک پر علیحدہ مواد تیار کرنے کا رجحان ہے ،بلکہ ایک باب کے مختلف پہلووں میں سے ہر پہلو پر الگ الگ کتب لکھنے کا رواج ہے ۔یہ رجحان فقہ اسلامی کے عصری ذخیرے میں بھی نظر آتا ہے۔ پوری فقہ اسلامی پر کتب لکھنے کی بجائے فقہ اسلامی کے ابواب میں سے ہر ایک پر تفصیلی کتب لکھی گئی ہیں ۔ذیل میں مختلف ابواب فقہیہ پر اہم عصری تصنیفات کی ایک فہرست دی جاتی ہے۔

فقہ العبادات پر اہم کتب 

۱۔العبادۃ فی الاسلام، مولف :ڈاکٹر یوسف القرضاوی 

۲۔مقاصد المکلفین فیما یتعبد بہ لرب العالمین،مولف: ڈاکٹر عمر بن سلیمان الاشقر

۳۔نظام الاسلام :العقیدۃ و العبادۃ ،مولف :محمد المبارک 

۴۔احکام العبادات فی التشریع الاسلامی ،مولف :فائق سلیمان دلول 

۵۔فقہ الزکوۃ ،مولف :ڈاکٹر یوسف القرضاوی 

۶۔الارکان الاربعہ ،مصنف :مفکر اسلام ابو الحسن علی ندوی

فقہ الاحوال الشخصیہ یعنی اسلام کے نظام نکاح و طلاق اور خاندانی نظام پر کتب 

۱۔ الاحوال الشخصیہ ،مصنف : عبد الوہاب الخلاف 

۲۔الاحوال الشخصیہ ،مصنف :شیخ ابو زہرہ مرحوم 

۳۔خلاصہ الاحوال الشخصیہ ،مصنف : محمد سلامۃ 

۴۔احکام االاسرۃ ،مصنف :محمد مصطفی الشلبی 

۵۔الزوجہ فی التشریع االاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر ابراہیم عبد الحمید 

۶۔المفصل فی احکام المراۃ و البیت المسلم ،مصنف: ڈاکٹر عبد الکریم زیدان۔ آٹھ جلدوں پر مشتمل اس موضوع پر عصر حاضر کی سب سے مفصل تصنیف ہے ۔

فقہ المعاملات و الاقتصاد پر کتب 

۱۔ المعاملات االمعاصرۃ المالیہ ،مصنف ڈاکٹر علی سالوس 

۲۔مصاد ر الحق فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر عبد الرزاق السنہوری 

۳۔الاموال و نظریۃ العقد فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر محمد یوسف موسی 

۴۔البنوک الاسلامیۃ ،مصنف:ڈاکٹر شوق اسماعیل شحاتۃ 

۵۔الاقتصاد الاسلامی مذہبا و نظاما،مصنف :ابراہیم الطحاوی 

۶۔مفاہیم و مبادی فی الاقتصاد الاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر اسماعیل شحاتۃ 

۷۔اصول الا قتصاد الاسلامی ۔مصنف :ڈاکٹر رفیق العمری 

۸۔المعجم الاقتصادی لاسلامی ،مصنف :ْداکٹر احمد الشرباصی 

۹۔بحوث فقہیۃ فی قضایا اقتصادیہ معاصر ہ،مصنف :ڈاکٹر عمر سلیمان الاشقر 

۱۰۔معجم المصطلحات المالیہ و الاقتصادیہ فی لغۃ الفقہاء ،مصنف :نزیہ حماد 

اسلام کا نظام معاملات معاصر فقہاء کا اختصاصی موضوع ہے ،اور بلا شبہ اس پر عصر حاضر میں ایک ضخیم مکتبہ وجود میں آچکا ہے ،پاکستانی علماء بھی اس میدان میں عالم اسلام سے پیچھے نہیں ہیں ،سید ابو الاعلی مودودی ،ڈاکٹر تنزیل الرحمن ،ڈاکٹر محمود احمد غازی کی خدمات اور خاص طور پر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کو اگر فقہ الاقتصاد کا ’’مجدد‘‘کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا ،حضرت شیخ الاسلام صاحب کی اس میدان میں خدمات جلیلہ کا اعتراف صرف اسلامی ممالک کی سطح پر نہیں ،بلکہ عالمی سطح پر کیا جاچکا ہے ۔اللہ تعالی حضرت کا سایہ تا دیر عالم اسلام پر قائم و دائم رکھیں ۔

فقہ الجنایات و الحدود پر کتب 

۱۔ التشریع الجنائی الاسلامی مقارنا بالقانون الوضعی ،مولف :عبد القادر عودہ 

۲۔دراسات فی الفقہ الجنائی الاسلامی ،مصنف:عوض محمد عوض 

۳۔نظریات فی الفقہ الجنائی الاسلامی ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 

۴۔القصاص فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 

۵۔التعزیر فی الاسلام ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 

۶۔التعزیر فی الشریعۃ الاسلامیۃ ،مصنف :عبد العزیز عامر 

۷۔نظام العاقلۃ فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :عوض محمد عوض 

۸۔الدیۃ فی الشریعۃ الاسلامی ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 

۹۔جرائم الاحداث فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :محمود شحٓت الجندی 

۱۰۔الفقہ الجنائی فی الاسلام ،مصنف :امیر عبد العزیز

فقہ الدولۃ یعنی نظام حکومت و سیاست پر کتب 

۱۔مبادی نظام الحکم فی الاسلام ،مصنف عبد الحمید المتولی 

۲۔الدولۃ فی الاسلام ،مصنف :عبد الحمید المتولی 

۳۔النظریات السیاسیہ الاسلامیہ ،مصنف :ضیاء الدین الریس 

۴۔فقہ الخلافہ و تطورہا ،مصنف ،عبد الرزاق السنہوری 

۵۔الحاکم و اصول الحکم فی النظام السیاسی الاسلامی ،مصنف :صبحی عبدہ سعید 

۶۔مراجعات فی الفقہ السیاسی الاسلامی ،مصنف سلیمان بن فھد العودہ 

۷۔نظریۃ الدولۃ و ادابھا فی الاسلام ،مصنف :سمیر عالیہ 

۸۔قواعد نظام الحکم فی الاسلام ،مصنف :محمدود الخالدی 

فقہ الاقتصاد کی طرح فقہ الخلافۃ معاصر فقہاء کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے ،پاکستانی علماء میں سے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب، مولانا گوہر رحمان ،سید ابو لاعلی مودودی ،مولنا امین احسن اصلاحی ،مولانا محمد زاہد اقبال کی تصانیف (نمونے کے طور پر چند علماء کا نام لیا ،ورنہ اس میدان میں برصغیر کے علماء کی خدمات جلیلہ کافی زیا دہ ہیں ،جو مستقل مضمون کا متقاضی ہیں ) اور خاص طور پر جامعہ حقانیہ کے سابق استاد مولانا عبد الباقی حقانی کی ضخیم اور مایہ ناز تصنیف ’’السیاسۃ و لادارۃ فی لاسلام‘‘ اہم عصری کاوشیں ہیں ۔

فقہ القضاء پر کتب 

۱۔نظام القضاء فی ا لشریعۃ الاسلامیہ ،مصنف :عبد الکریم زیدان 

۲۔النظام القضائی فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :محمد رافت عثمان 

۳۔السلطات الثلاث فی الاسلام ،مصنف :عبد الوہاب الخلاف 

۴۔التنظیم القضائی فی الفقہ الا سلامی ،مصنف :محمد مصطفی الزحیلی 

۵۔القضاء و نظامہ ،مصنف :عبد الرحمن ابراہیم عبد العزیز

۶۔طرق الاثبات الشرعیہ ،مصنف :احمد ابراہیم بک 

۷۔القضا فی الاسلام ،مصنف :علی مشرفہ 

برصغیر کے علماء میں سے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ’’ادب القاضی ‘‘مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کی مایہ ناز کتاب ’’اسلام کا عدالتی نظام ‘‘اس سلسلے کی اہم کتابیں ہیں ۔

فقہ العلاقات الدولیہ یعنی اسلام کے قانون بین الممالک پر کتب 

۱۔سیاسۃ الدولۃ الاسلامیہ ،مصنف :ڈاکٹر محمد حمید اللہ 

۲۔العلاقات الدولیہ فی الاسلام ،مصنف :ابراہیم عبد الحمید 

۳۔القانون و العلاقات الدولیہ فی الاسلام ،مصنف :صبحی محمصانی 

۴۔الشریعہ و القانون الدولی العام ،مصنف :علی علی المنصور

۴۔اثار الحرب فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :وہبہ الزوحیلی 

۵۔العلاقات الدولیہ فی الاسلام ،مصنف :محمد ابوزہرہ 

۶۔احکام القانون الدولی فی الشریعہ الاسلامیہ ،مصنف :حامد سلطان 

۷۔الاسلام و العلاقات الدولیہ ،مصنف :احمد مبارک 

۸۔اسلام کا قانون بین الممالک ،محاضرات ڈاکٹر احمد محمود غازی 

نویں قسم :معدوم فقہی مسالک کا احیاء

فقہ کے دور تدوین میں عالم اسلام کے معروف بلاد سے قابل قدر مجتہدین اٹھے ،اور ہر ایک نے قرآ ن و سنت سے مسائل فقہیہ کے اسنتباط و استخراج کے سلسلے میں ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں ،چنانچہ ائمہ اربعہ کے علاوہ شام سے امام اوزاعی ،مصر سے امام لیث بن سعد،عراق سے امام داود ظاہری ،خراسان سے امام اسحاق بن راہویہ ،اور طبرستان سے امام جریر بن طبری قابل ذکر ہیں ۔لیکن مختلف اسباب اور عوامل کی بنا پر ائمہ اربعہ کے علاوہ بقیہ مسالک معدوم ہوگئے۔ ان ائمہ مجتہدین کے اقوال فقہیہ ،اصول استنباط تفسیر ،حدیث اور کتب فقہ میں بکھرے ہوئے ہیں ۔عصر حاضر میں ایک رجحان یہ پیدا ہوا ہے کہ ان ائمہ مجتہدین کی بکھری فقہی کاوشوں کو یکجا کیا جائے اور نت نئے مسائل میں ان کے اقوال اور فقہی بصیرت سے استفادہ کیا جائے ۔کیونکہ ان کے اصول استنباط سے حوادث و نوازل پر حکم شرعی لگانے سے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں درجہ ذیل عصری کاوشیں قابل ذکر ہیں :

۱۔امام اوزاعی کی فقہی اقوال کے بارے میں محقق شہیر محمد رواس قلعہ جی کی ضخیم کتاب ’’موسوعۃ فقہ الامام الاوازعی ‘‘قابل ذکر ہے،اس کے علاوہ عبد المحسن بن عبد العزیزکی کتاب ’’مذہب الامام الاوازاعی ‘‘اور عبد العزیز سید الاہل کی مفید کتاب ’’الامام اوزاعی فقیہ اہل الشام ‘‘اہم کاوشیں ہیں ۔

۲۔امام لیث بن سعد کے حوالے سے محقق قلعہ جی ’’موسوعۃ فقہ اللیث بن سعد‘‘، ڈاکٹر عبد الحلیم کی ’’اللیث بن سعد امام اہل مصر‘‘اور ڈاکٹر سعد محمود کی مایہ ناز کتاب ’’فقہ اللیث بن سعد فی ضوء الفقہ المقارن ‘‘اہم کتب ہیں ۔

۳۔معدوم فقہی مسالک کے بارے میں اہم عصری تصنیف جامعہ جزائر سے چھپا مقالہ ’’المذاہب المفقہیہ المندثرۃ اثرہا فی التشریع الاسلامی ‘‘قابل ذکر ہے ۔اس میں مقالہ نگار نے ان تمام ائمہ مجتہدین اور ان کی فقہ سے بحث کی ہے ،جن کے مسالک حوادث زمانہ کی نظر ہوگئے ۔

۴۔سلف کے فقہی اقوال کو جمع کرنے کے سلسلے میں محقق معروف محمد رواس قلعہ جی کی خدمات ہمیشہ رکھی جائیں گی ،موصوف نے صحابہ و تابعین میں سے معروف حضرات کے فقہی اقوال جمع کرنے بیڑا اٹھایا اور تقریبا اٹھا رہ کے قریب موسوعات تیار کر گئے ۔اللہ مصنف کو اس پر اجر جزیل عطا فرمائے ۔

دسویں قسم :ماجستیر ،ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالات 

عصر حاضر کی فقہی بیدار ی اور انقلاب میں عالم اسلام کی مشہور جامعات سے فقہی موضوعات پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات کا بنیادی کردار ہے ۔جامعۃ الازہر ،جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ،جامعہ الامام محمد بن سعود،جامعہ ام القریٰ، دمشق یونیورسٹی ،جامعہ زرقاء ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد،ع لامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ،پنجاب یونیورسٹی کا اسلامک ڈیپارٹمنٹ شیخ زید اسلامک سنٹر ،جامعہ کراچی اور عالم اسلام کی دیگر معروف جامعات سے مختلف فقہی موضوعات پر بے شمار مقالات لکھے گئے ۔ان مقالات میں فقہ و اصول فقہ کے مختلف جوانب اور متنوع پہلووں کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ان مقالات کی بدولت قدیم فقہی ذخیرے کے مکنون خزانے منصہ شہود پر آئے اور سینکڑوں کتب سے جمع شدہ نوادرات ان مقالات میں یکجا ہوئے جو ظاہر ہے فقہ و اصول فقہ پر تحقیق کرنے والے حضرات کے لیے بیش بہا اور قیمتی سرمایہ ہیں ۔نامور فقہیہ شیخ مصطفی زرقاء ان مقالات کی افادیت کے حوالے سے لکھتے ہیں :

و بذلک وجدت رسائل ماجستیر و دکتوراہ فی موضوعات فقہیۃ کثیرۃ ،تستوعب کل موضوع و تنقاشہ بتعمق من مختلف جوانبہ ،و تغنی الباحثین و المراجعین (المدخل الفقہی العام :۱؍۲۵۰)
’’یوں ایم ائے اور پی ایچ ڈی کے مقالات بے شمار فقہی موضوعات پر وجود میں آئے ۔جو ہر قسم کی فقہی موضوعات پر مشتمل ہیں ۔ان مقالات میں موضوع کے مختلف جوانب کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے ۔ ان مقالہ جات نے محققین اور طویل کتب کی طرف مراجعت کرنے والوں کی ضروریات کو پورا کیا ۔‘‘

گیارہویں قسم:قدیم فقہی کتب کی نئے طرز پر تحقیق کے ساتھ اشاعت 

عصر حاضر میں فقہی کتب کی نئے طرز پر اشاعت کی داغ بیل ڈالی گئی ،اس مقصد کے لئے ہر ملک میں کچھ افراد نے مستقل طور پر اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کیا ،کتب پر کام کرنے والے ان حضرات کو محققین کا نام دیا گیا ۔یہ محققین کسی فقہی کتاب کو منتخب کرکے درجہ ذیل جہات اس پر کام کرتے ہیں ،پھر اشاعتی ادارے دیدہ زیب ٹائٹل ،عمدہ کاغذ اور کمپیوٹرائز کتابت کے ساتھ اس کو شائع کرتے ہیں:

۱۔کتاب کے مخطوطات کے درمیان تقابل اور ان مخطوطات میں اختلافات کی نشادہی 

۲۔کتاب میں وارد شدہ آیات ،احادیث اور آثار کی تخریج 

۳۔کتاب میں مذکور اعلام اور شخصیات کا مختصر ترجمہ 

۴۔کتاب کے مشکل الفاظ کی حاشیے میں وضاحت

۵۔ہر جلد کے آخر میں موضوعات کی تفصیلی فہرست اور آخری جلد میں کتاب کے جملہ مضامین کی ابجدی فہرست واشاریہ 

۶۔آخری جلد میں تخریج شدہ آیات اور روایات کی الفبائی فہرست 

۷۔کتاب کے شروع میں ’’مقدمۃ التحقیق‘‘ کے نام سے ایک جامع مقدمہ ،جس میں مصنف کے تفصیلی حالات، دیگر تصانیف ،مذکورہ کتاب کا تعارف اوراپنی تحقیق کا منہج ذکر کیا جا تا ہے ۔

مذکورہ طرز تحقیق کے ساتھ عالم عرب خصوصا بیروت سے تقریبا تمام مسالک کی فقہی کتب تحقیق کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں ۔

بارہویں قسم :فقہی ویب سائٹس اور سافٹ وئیرز 

عصر حاضر سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے ،کتب و رسائل کی اشاعت کے ساتھ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنادیا ۔ہر موضوع سے متعلق بلا مبالغہ ہزاروں ویب سائٹس وجود میں آچکی ہیں۔ آج کے بالغ نظر فقہاء اور اہل علم اس اہم ٹیکنالوجی کی اہمیت اور افادیت سے بخوبی آگاہ ہیں ،اور اس میدان میں فقہ اسلامی کے حوالے سے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں ۔فقہ اسلامی تک رسائی اور فقہ اسلامی سے استفادہ ہر عام و خاص کے لیے آسان بنانے کے لیے معاصر فقہاء نے ٹیکنالوجی کے میدان میں متنوع کام کیے ہیں ۔ایک طرف ایسی فقہی ویب سائٹس بنائی گئیں ہیں جن پر چاروں مسالک کی اہم کتب ،فقہی رسائل و مقالہ جات اور آج کے نت نئے مسائل سے متعلق مفید ابحاث موجود ہیں ۔اس کے ساتھ ایسے فقہی سافٹ ویئرز اور پروگرام ترتیب دیے ہیں ،جن میں فقہ اسلامی کا معتد بہ ذخیرہ سرچ کی جدید سہولت کے ساتھ موجود ہے۔ ان مفید اقدامات کا نتیجہ یہ ہے کہ محققین اور مراجعت کرنے والوں کے لیے کسی فقہی مبحث کی تلاش آج کے دور میں پہلے زمانوں کی بہ نسبت انتہائی آسان ہے۔ذیل میں اس حوالے سے چند اہم ویب سائٹس اور سافٹ ویئرز کا ذکر کیا جاتا ہے :

۱۔ نیٹ کی دنیا میں قاضی ابویعلی المغربی کا نام اجنبی نہیں ہے ،اسلاف کے علمی ذخیرے کو نیٹ پر منتقل کرنے کے حوالے سے موصوف کی قابل قدر خدمات ہیں ،موصوف نے چاروں مسالک کے فقہی ذخیرے کے حوا لے سے الگ الگ چار بلاگ بنائے ہیں ،یہ بلاگز ’’خزانۃ الفقہ الحنفی ‘‘خزانۃ الفقہ المالکی ‘‘’’خزانۃ الفقہ الشافعی ‘‘اور ’’خزانۃ الفقہ الحنبلی ‘‘کیانام سے موسوم ہیں ۔ان بلاگز میں ہر مسلک کی اہم کتب تین طرح کے عنوانات کے ساتھ رکھی گئیں ہیں ،تاکہ مطلوب کتاب کی تلاش میں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے :

۱۔ زمانی ترتیب کے ساتھ کتب رکھی گئیں ہیں ،چنانچہ ہر بلاگ میں دوسری صدی سے لیکر پندروہیں صدی تک ہر صدی کی اہم کتب موجود ہیں ۔

۲۔اہم ،معروف اور کثیر التصانیف مصنفین کی ترتیب سے بھی کتب دستیاب ہیں ۔

۳۔ موضوعات کی ترتیب سے بھی کتب رکھی گئیں ہیں ۔

ان بلاگز کے ویب ایڈریس یہ ہیں :

۱۔خزانۃ الفقہ الحنفی : http://hanafiya.blogspot.com

۲۔ خزانہ الفقہ المالکی : http://malikiaa.blogspot.com

۳۔خزانہ الفقہ الشافعی : http://chafiiya.blogspot.com

۴۔خزانہ الفقہ الحنبلی : http://hanabila.blogspot.com

۲۔فقہ اسلا می کے حوالے سے نیٹ کی دنیا کی غالبا سب سے بڑی ویب سائٹ ’’الشبکۃ الفقہیہ ‘‘ ہے ۔اس ویب سائٹس پر درجنوں عنوانات کے ساتھ فقہی کتب،مقالہ جات،اہم مضامین ،رسائل اور دیگر فقہی کتب موجود ہیں ۔اس کے اہم عنوانات کا یک خاکہ پیش کیا جاتا ہے ،تاکہ اس ویب سائٹ کی وسعت اور افادیت کا ایک خاکہ سامنے آئے :

۱۔الملتقی الفقہی العام 

۲۔ملتقی الفقہ المقارن 

۳۔ملتقی المذہب الحنفی 

۴۔ملتقی المذہب المالکی 

۵۔ ملتقی المذہب الشافعی 

۶۔ملتقی المذہب الحنبلی 

۷۔ملتقی فقہ الاصول 

۸۔ملتقی التنظیر الاصولی 

۹۔ملتقی المناہج الاصولیہ 

۱۰۔ملتقی الاعلام و الاصطلاحات الاصولیہ 

۱۱۔ملتقی فقہ المقاصد 

۱۲۔ملتقی القواعد و الضوابط الفقہیہ 

۱۳۔ملتقی التخریج و النظائر و الفروق

۴۱۔ملتقی النظریۃ الفقہیہ و التقنین المعاصر

۱۵۔ملتقی فقہ الارکان 

۱۶۔ملتقی فقہ المعاملات 

۱۷۔ملتقی فقہ الاوقاف

۱۸۔ملتقی فقہ الاسرۃ 

۱۹۔ملتقی فقہ الجنایات ، الحدود 

۲۰۔ملتقی فقہ الاقضیہ و االاحکام 

۲۱۔ملتقی فقہ السیاسۃ الشرعیۃ 

اس کے علاوہ بھی مفید عنوانات کے ساتھ فقہی مواد موجود ہے ۔ا سکا ایڈریس یہ ہے :

http://www.feqhweb.com

۳۔فقہی مواد کے حوالے سے ’’جامع الفقہ الاسلامیْ ‘‘بھی اچھی ویب سائٹ ہے ۔اس کاویب ایڈریس یہ ہے :

http://feqh.al-islam.com

۴۔کتب فقہیہ اور خاص طور پر جدید فتاوی کی ایک اہم ویب سائٹ ’’موقع الفقہ الاسلامی ‘‘ ہے ،اس کا ویب ایڈریس یہ ہے :

http://www.islamfeqh.com

۵۔ فقہی کتب اور مختلف فقہی موضوعات پر مواد کے حوالے سے ’’موقع الفقہ ‘‘ ایک مفید ویب سائٹ ہے ۔

http://www.alfeqh.com

۶۔ سینکڑوں موضوعات پر اہم فتاوی کے حوالے سے ’’الفتوی‘‘ایک اہم ویب سائٹ ہے ۔اس ویب سائٹ پر عالم عرب خاص طور پر سلفی حضرات کے اہم علماء کے فتاوی کی کثیر تعداد موجود ہیں ۔

http://www.alftwa.com

۷۔ فقہ المعاملات پر ایک اہم ترین ویب سائٹ ’’ مرکز الابحاث فقہ المعاملات المالیہ ‘‘ ہے ،اس ویب سائٹ پر معاملات کے حوالے سے سینکڑوں مقالات ،کتب اور مضامین موجود ہیں ۔

http://www.kantakji.com

۸۔نیٹ کی دنیا کی معروف اور وسیع ویب سائٹ ’’ملتقی اھل الحدیث‘‘میں بھی فقہ اسلامی کے حوالے سے وسیع ذخیرہ موجود ہے ۔اس ویب سائٹ میں ’’منتدی الدراسات الفقہیہ‘‘اور ’’منتدی اصول الفقہ‘‘ کے عنوان کے تحت کثیر ذخیرہ موجود ہے ۔

http://www.ahlalhdeeth.com/vb

۹۔مرکز علم و عمل دارالعلوم دیوبند کے ارباب دار الافتاء نے آن لائن فتاوی کی ایک وسیع ویب سائٹ بنائی ہے ،جس میں ایک اجمالی جائزے کے مطابق تقریبا دس ہزار فتاوی موجود ہیں اور ان فتاواجات میں تلاش کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے ۔

http://www.darulifta-deoband.org

۱۰۔فقہی سافٹ وئیرز کے حوالے سے ایک جامع سافٹ وئیر’’موسوعۃ الفقہ الاسلامی ‘‘ ہے ،جس میں فقہی کتب کی تقریبا چار ہزار مجلدات کو اکٹھا کیا گیا ہے ۔اس سافٹ وئیر میں متنوع طریقوں سے تلاش کی سہولت کے ساتھ کسی کتاب کی عبارت کو کاپی پیسٹ کا آپشن بھی موجود ہے ۔یہ سافٹ وئیر بندہ نے کافی عرصہ پہلے ڈاونلوڈ کیا تھا ۔لیکن اب اسکا لنک کافی تلاش کے باوجود نہیں مل سکا ۔کسی صاحب کو مل جائے تو بندہ کو بھی مطلع فرمادیں ۔

تیرہویں قسم :فقہی مسائل پر اجتماعی غور و فکر کے لیے اداروں کا قیام 

عصر حاضر کے اہل علم اور فقہاء میں فقہ اسلامی کے حوالے سے ایک رجحان یہ سامنے آیا ہے ،کہ دور جدید کے پیدا کردہ مسائل کا شریعت کی روشنی میں جائزہ لینے اور فقہ اسلامی پر مختلف پہلووں پر کام کرنے کے لیے اجتماعی فقہی ادارے قائم کیے جائیں ،جن میں عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات اور مختلف مکاتب فقہیہ کے سر کردہ افراد شامل ہوں تاکہ فقہی مسائل پر اجتماعی غور و فکر کیا جاسکے اور مذاہب اربعہ کی روشنی میں عصری مسائل اور فقہی چینلجز کا آسان اور اقرب الی الصواب حل ممکن ہو سکے۔ اجتماعی فقہی اداروں کے قیام کی کوششیں ہر سطح پر ہو ئیں ، مختلف اسلامی ممالک میں ملکی سطح کے فقہی ادارے بن گئے۔ اس کے ساتھ عالم اسلام کی سطح پر بھی عالمی اداروں کے قیام کی کوششیں ہوئیں۔ ذیل میں مختلف ممالک میں قائم کردہ معروف اداروں کی ایک فہرست دی جارہی ہے ۔

۱۔اسلامی نظریاتی کونسل (اسلام آباد،پاکستان)

۱۔المرکز العالمی الاسلامی (بنوں ،پاکستان )

۲۔مجلس تحقیق مسائل حاضرہ (کراچی ،پاکستان )

۳۔اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا )

۴۔مجلس تحقیقات شرعیہ (ندوۃ العلماء )

۵۔ادارۃ المباحث الفقھیہ (جمیعت العلماء ھند)

۶۔مجمع البحوث الاسلامیہ (مصر )

۷۔ ہیءۃ کبار العلماء (سعودی عرب )

۸۔یورپی مجلس برائے افتاء و تحقیق (لندن )

۹۔مجمع الفقہ الاسلامی الدولی (او آئی سی )

۱۰۔المجمع الفقہ الاسلامی (رابطہ عالم اسلامی )

۱۱۔فقہائے شریعت اسمبلی (امریکہ )

۱۲۔شمالی امریکی فقہ کونسل (شمالی امریکہ )

۱۳۔الادارۃ العامۃ للا فتاء (کویت)

ان میں سے بعض ادارے اب غیر فعال ہیں ،البتہ بعض ادارے جیسے مجمع الفقہ الاسلامی ،اسلامی فقہ اکیڈمی ،ھیءۃ کبار العلماء اور یورپی مجلس افتاء و تحقیق کی فقہی کاوشیں عالم اسلام کی سطح پر ممتاز حثیت کی حامل ہیں ۔اور بلا شبہ درجنوں مسائل پر ان فقہی اداروں نے مفید مواد تیار کیا ہے ۔

عالم اسلام کے ممتاز اجتماعی اداروں کی خدمات ،اجتماعی اجتہاد کی عصری کاوشوں اور اس سلسلے میں ہونے والی کوششوں کے حوالے سے ادار ہ تحقیقات اسلامی اسلام اباد کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’’اجتماعی اجتہاد ،تصور ،ارتقاء اور عملی صورتیں‘‘، ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب کا دو جلدوں پر مشتمل پی ایچ ڈی کا ضخیم مقالہ ’’عصر حاضر اور اجتماعی اجتہاد‘‘، جامعۃ الامارات العربیہ المتحدۃ کی طرف سے دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’الاجتہاد الجماعی فی العالم الاسلامی‘‘ اور معروف عالم ڈاکٹر محمد اسماعیل شعبان کی کتاب ’’الاجتہاد الجماعی و دور المجامیع الفقہیہ فی تطبیقہ ‘‘اہم کتب ہیں۔

فقہ / اصول فقہ