ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اصلاح کی گنجائش

مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی

اس میں شک نہیں کہ ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دینے کا مسئلہ بعض اوقات بڑی پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے۔ عام طور پر لوگ مسائل سے واقف نہیں ہیں اور طلاق دینا اگر ضروری ہی ہو تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے، اس کو نہیں جانتے۔ 

ایک مجلس میں ایک دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں تو وہ واقع ہو جاتی ہیں۔ یہ مغلظہ طلاق ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق ختم ہو کر دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور ان میں میاں بیوی کا تعلق ناجائز ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال میں اصلاح کی کتنی گنجائش ہے، اس پر نظر ڈالتے ہیں۔

پہلی صورت: تین دیں مگر نیت ایک طلاق کی، کی

اگر ایک ہی دفعہ ایک ہی مجلس میں کسی مرد نے اپنی بیوی کو، جس سے میاں بیوی کا رشتہ قائم ہو چکا تھا، تین طلاقیں دیں، مثلاً اس طرح کہا: ’’میں نے تجھے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی‘‘ اور شوہر یقین دلائے کہ میرا ارادہ ’’ایک ہی طلاق‘‘ دینے کا تھا، دوسری اور تیسری دفعہ کہنا پہلے جملے کی مضبوطی کے لیے تھا تو یہ گنجائش موجود ہے کہ اس کے بیان کو تسلیم کر کے ایک طلاق کا حکم لگایا جائے۔ (اسلامی قانون، دفعہ ۶۰) 

در مختار میں ہے کہ:

کرر لفظ الطلاق (بان قال للمدخولۃ انت طالق انت طالق انت طالق) وقع الکل، فان نوی التاکید دین (در مختار ج ۱، ص ۲۲۴)
’’لفظ طلاق کو دہرایا اور مدخولہ بیوی سے (جس سے میاں بیوی کا تعلق قائم ہو چکا ہے) اس طرح کہا: تجھ پر طلاق، تجھ پر طلاق، تجھ پر طلاق تو سب واقع ہو گئیں اور اگر صرف تاکید کی نیت کی تھی تو دیانتاً تسلیم کیا جائے گا۔‘‘

بعض دفعہ زور اور تاکید کے لیے بھی الفاظ دہرائے جاتے ہیں، جیسے ’’ہاں جاؤ، بھئی جاؤ، چلے جاؤ‘‘۔ یہاں تکرار کا منشا یہ نہیں کہ تین دفعہ جاؤ، بلکہ صرف تاکید اور شدتِ اظہار پیش نظر ہے۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ جوش کے عالم میں کوئی شخص طلاق دے اور بطور تاکید اُسے دہراتا جائے، ذہن میں یہ بالکل نہ ہو کہ ایک سے زائد طلاق دے رہا ہوں۔ یہ طلاق بھی ظاہراً تین ہیں، لیکن فی الحقیقت اس کی صحیح حقیقت نیت اور ارادے کا علم ہونے کے بعد ہی متعین ہوتی ہے۔ (اسلامی قانون صفحہ ۲۲۱۔ تشریح دفعہ ۶۰)

اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، ترتیب مولانا منت اللہ رحمانی ، بانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ صفحہ ۱۸۱ دفعہ ۲۴ میں ہے کہ:

’’اگر طلاق دینے والا یہ کہتا ہے کہ اس کی نیت ایک ہی طلاق کی تھی اور اس نے محض زور پیدا کرنے کے لیے الفاظ طلاق دہرائے ہیں، اس کا مقصد ایک سے زائد طلاق دینا نہیں تھا تو اس کا یہ بیان حلف کے ساتھ تسلیم کیا جائے گا اور ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔‘‘

بہشتی زیور مرتبہ مولانا اشرف علی تھانوی، حصہ چہارم میں طلاق دینے کا بیان، مسئلہ ۱۳ ہے کہ:

’’کسی نے تین دفعہ کہا کہ تجھ کو طلاق، طلاق، طلاق تو تینوں پڑ گئیں یا گول مول الفاظ میں تین مرتبہ کہا ، تب بھی تین پڑ گئیں، لیکن اگر نیت ایک ہی طلاق کی ہے، فقط مضبوطی کے لیے تین دفعہ کہا تھا کہ بات خوب پکی ہو جائے تو ایک ہی طلاق ہوئی۔‘‘

یہ اصول ہے کہ کہنے والے کے الفاظ کے چند احتمالات میں سے کسی ایک کی تعیین متکلم کی نیت سے ہوگی۔ شریعت میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔ مثلاً یہ کہ چند الفاظ میں سے کسی ایک کی تعیین متکلم کی نیت سے کی جاتی ہے۔

اس پہلی صورت میں، جس کی تفصیل بیان ہوئی، ایک دفعہ کی تین طلاقوں کو ایک ماننے کی گنجائش موجود ہے۔

دوسری صورت: تین طلاقیں دیں، نیت کچھ بھی نہیں کی

دوسری صورت یہ ہے کہ طلاقیں تین دیں، مگر نیت کچھ بھی نہ تھی۔ نہ ایک کی، نہ دو یا تین کی تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ عرف کیا ہے؟ اگر عرف میں تکرار کلام سے مقصد تاکید ہو تو اس کو تاکید ہی پر محمول کیا جائے گا۔ جیسے کوئی کہے ’’میں آتا ہوں، آتا ہوں، آتا ہوں‘‘ تو اس جملے میں عرفاً تین بار آنا مقصود نہیں، بلکہ مقصد محض تاکید ہے۔ (اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، دفعہ ۲۴، صفحہ ۱۸۲)

اصول ہے کہ عرف کی رعایت کی جاتی ہے، اس لیے طلاق کی اس دوسری صورت میں عرف کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ گنجائش موجود ہے کہ تین طلاقوں کو ایک طلاق مانا جائے۔

طلاق کی تیسری صورت: انتہائی غضب میں طلاق

انتہائی درجہ کا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیاکہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، یہ بھی وہ کیفیت ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، شائع کردہ مسلم پرسنل لا بورڈ، صفحہ ۱۳۳)

اسلامی قانون متعلق پرسنل لا میں ہے کہ:

’’دفعہ ۹ ۔۔۔ غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگر غصہ اس درجہ کا ہو کہ ہوش وحواس باقی نہ رہ گئے ہوں اور بوقت طلاق اسے اتنا بھی شعور نہ ہو کہ میری زبان سے کیا بات نکل رہی ہے تو اس حال میں دی ہوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
وللحافظ ابن قیم الحنبلی رسالۃ فی طلاق الغضبان قال فیہا انہ علی ثلاثۃ اقسام:
احدہا: ان یحصل لہ مبادئ الغضب بحیث لا یتغیر عقلہ ویعلم ما یقول ویقصدہ، وہذا لا اشکال فیہ۔
الثانی: ان یبلغ النہایۃ فلم یعلم ما یقول ولا یرہ، فہذا لا ریب انہ لا ینفذ شئ من اقوالہ۔
الثالث: من توسط بین المرتبتین بحیث لم یصر کالمجنون، فہذا محل النظر والادلۃ تدل علی عدم نفوذ اقوالہ، ملخصا من شرح النقایۃ الحنبلیۃ، لکن اشار فی الغایۃ الی مخالفتہ فی الثالث حیث قال: ویقع طلاق من غضب خلافا لابن القیم وہذا الموافق عندنا لما مر فی المدہوش (رد المحتار، کتاب الطلاق، صفحہ ۵۸۷، جلد ۲)
(اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، صفحہ ۱۷۴)

طلاق کی چوتھی صورت: لا علمی

اوپر طلاق کی جو تین صورتیں بیان کی گئی ہیں، ان میں اصلاح کی کافی گنجائش ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص تین طلاقیں ایک مجلس میں یکجائی طور پر دے دے اور پھر دونوں چاہیں کہ میاں بیوی بن کر حسب سابق ایک ساتھ رہیں تو اس میں حلالے کی ناگوار صورتوں کے بغیر اصلاح کی صورتیں موجود ہیں اور اہل علم ونظر نے ان پر اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔ طلاق کی چوتھی صورت جس سے عام طور پر سابقہ پیش آتا ہے، یہ ہے کہ لوگ طلاق کے مسئلوں سے ناواقف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ طلاقیں ہوتی ہی تین ہیں۔ وہ رجعی، بائنہ، مغلظہ کی تفصیلات نہیں جانتے۔ یہ بات عام طو رپر مشہور ہو گئی ہے کہ تین دفعہ کہا جائے، تب ہی طلاق پڑتی ہے۔

شریعت نے عرف کا بڑا لحاظ رکھا ہے۔ عر ف بدلنے سے مسئلے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ تو کیا اس عرف عام اور لاعلمی کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ تین سے کم طلاقیں واقع ہوتی ہیں اور وہ دونوں میاں بیوی حسب سابق یک جا رہنا چاہتے ہیں تو کیا ایک طلاق واقع ہونے کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے اور اس میں رجوع کرنے کی گنجائش ہے؟ اہل علم اور اصحاب فتویٰ سے درخواست ہے کہ ابتلائے عام کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے پر غور فرمائیں۔

دلیل کے طور پر ہمارے سامنے ابتلائے عام، لوگوں کی لاعلمی اور یہ سمجھنا ہے کہ طلاقیں ہوتی ہی تین ہیں۔ لوگوں کو ایک بڑے گناہ سے بچانے کے لیے اس صورت پر غور کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم

(بشکریہ: ماہنامہ ’’دار السلام‘‘، مالیر کوٹلہ، انڈیا)

فقہ / اصول فقہ