قواعد فقہیہ: تعارف و حجیت

مفتی شاد محمد شاد

فقہ کی اساس ’’اصولِ فقہ‘‘پر ہے جس میں قرآن،سنت،اجماع اور قیاس سے متعلق اصولی مباحث ہوتے ہیں اور یہی فقہ کے دلائل ہیں۔فقہ سے متعلق ایک اور مفید اور دلچسپ علم ’’قواعد فقہیہ‘‘کا ہے جس کی طرف متقدمین فقہاء نے کافی توجہ دی ہے اور عصر حاضر میں اس موضوع پر خاصا کام ہوا ہے،خصوصا عرب دنیا میں اس پر بڑا ذخیرہ وجود میں آگیا ہے۔ زیرنظر مضمون میں قواعد فقہیہ کے مفہوم کے بعدان کی حجیت اور دائرہ کار سے متعلق فقہاء کی آرا کو بیان کرنا مقصود ہے۔

قواعد فقہیہ کا مفہوم

قاعدہ کا مادہ (ق ع د) ہے، جس کے بنیادی معنی ثبات و استقرار کے ہیں۔اس کی جمع قواعد آتی ہے اور لغت کی کتابوں میں اس کے معنی ’’اساس ‘‘اور’’ بنیا د‘‘ کے بھی ملتے ہیں۔(1)

قرآن مجید میں بھی قاعدہ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ باری تعالیٰ کاارشاد ہے: وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ۔ (2)۔ ترجمہ:’’اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی بنیادیں اْٹھارہے تھے۔‘‘ دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ۔ (3)۔ترجمہ:’’ان سے پہلے بہت سے لوگ مکاریاں کرچکے ہیں، تواللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی۔‘‘

قاعدہ فقہیہ کی اصطلاحی تعریف میں علماء کے دو نقطہ ہائے نظر ہیں:

1۔بعض حضرات نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: القاعدۃ ھی قضیۃ کلیۃ منطبقۃ علی جمیع جزئیاتھا۔ (4)۔ یعنی وہ کلی امر جو اپنی تمام جزئیات پر منطبق ہو۔

اگرچہ علامہ جرجانی کی یہ تعریف عام قاعدے کی ہے،قاعدہ فقہیہ کی تعریف نہیں ،لیکن بہت سے فقہاء نے قاعدہ فقہیہ کے سلسلے میں بھی یہی رائے اختیار کی ہے۔اس تعریف کی روشنی میں قواعدِ فقہ ’’کلیہ‘‘ ہوتے ہیں۔رہی بات استثناء ات کی تو اس سے قاعدہ کے کلی ہو نے پر اثر نہیں پڑتا، کیونکہ ہر اصل سے کچھ چیزیں مستثنیٰ ہوتی ہیں۔ جب ان کا تذکرہ ہو جا ئے تو بقیہ قاعدہ ’’کلیہ‘‘ اپنی جگہ برقرار رہ جا تا ہے،اور ان مستثنیات کے مجموعہ سے کوئی دوسرا ایسا قاعدہ یا کلیہ نہیں بن سکتا جو کہ اس قاعدے کے معارض بن سکے، لہٰذا قواعد فقہ کو ’’کلیات استقرائیہ‘‘ کہا جاسکتا ہے، جیسا کہ علامہ شاطبیؒ نے لکھا ہے کہ:

فکل ھذا غیر قادح فی اصل المشروعیۃ، لان الامر الکلی اذا ثبت کلیا فتخلف بعض الجزئیات عن مقتضی الکلی لا یخرجہ عن کونہ کلیا، وایضا فان الغالب الاکثری معتبر فی الشریعۃ اعتبار العام القطعی، لان المتخلفات الجزئیۃ لا ینتظم منھا کلی یعارض ھذا الکلی الثابت، ھذا شان الکلیات الاستقرائیۃ (5)

ترجمہ:’’تو یہ سب (مستثنیات) اصل مشروعیت کے لیے مضر نہیں ہیں،کیونکہ کسی امر کا کلی ہونا جب ثابت ہوجائے تو اس سے بعض جزئیات کا نکل جانا اس کے کلی ہونے کو ختم نہیں کرتا اور اس لیے بھی کہ غلبہ و اکثریت شریعت میں اسی طرح معتبر ہے جیسا کہ عام قطعی،کیونکہ مستثنیٰ جزئیات سے کوئی ایسا کلیہ نہیں بن سکتا جو ثابت شدہ کلی امر کے معارض بن سکے،کلیات استقرائیہ کی یہی شان ہوتی ہے۔‘‘

شیخ وہبہ الزحیلی ؒ نے یہی رائے اختیار کی ہے۔وہ لکھتے ہیں:

قد اخترنا التعریف الاول الذی یفید انطباق القاعدۃ علی جمیع الجزئیات، لان الاصل فیھا ان تکون کذلک، وان خروج بعض الفروع عنھا لا یضر ولا یوثر، وتکون استثناء من القاعدۃ، لان کل قاعدۃ او مبدا او اصل لہ استثناء، وھذا الاستثناء لا یغیر من حقیقۃ الاصل او المبدا (6)

ترجمہ:’’ہم نے پہلی تعریف کو اختیار کیا جو کہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ قاعدہ تمام جزئیات پر منطبق ہو،کیونکہ قاعدہ کے اندر اصل یہی ہے کہ وہ کلی ہو اور بعض فروعات کاقاعدہ سے خارج ہونا اس کے لیے مضر نہیں ہے،کیونکہ ہر قاعدے،بنیاد یا اصول کے لیے کچھ مستثنیات ہوتے ہیں، اس سے قاعدہ کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘

2۔دوسری طرف اکثر علماء نے قاعدہ کو اکثری قراردیتے ہوئے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: حکم اکثری لا کلی ینطبق علی اکثر جزئیاتہ لتعرف احکامھا منہ۔ (7)۔ یعنی وہ اغلبی یا اکثری حکم جو اپنی اکثر جزئیات پر منطبق ہو،تاکہ اس کے ذریعہ اس کی جزئیات کا علم ہوسکے۔

اس تعریف کی رو سے قواعد ،کلیہ نہیں ہوتے،بلکہ ’’اکثریہ‘‘ ہو تے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کسی چیز کے مطرد یا کلی ہو نے کا مطلب یہی ہے کہ وہ استثناء ا ت سے خا لی ہو، ورنہ وہ کلی ومطرد نہیں رہے گا۔

شیخ مصطفی الزرقاء نے اسی دوسری رائے کوترجیح دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دراصل قواعد فقہیہ قیاس کا نتیجہ ہے،کہ جو مسائل ایک جیسے تھے، انہیں منضبط کرنے کے لیے عقلاً ایک مختصر سی جامع عبارت بنالی گئی۔اب یہ ممکن ہے کہ ان سے ’’استحسان‘‘ یا ’’جلب مصالح‘‘ یا ’’درء المفاسد‘‘ یا ’’دفعِ حرج‘‘ کی وجہ سے کچھ مسائل مستثنیٰ ہوں۔ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اکثر قواعد سے کچھ مسائل مستثنیٰ بھی ہیں،جنہیں فقہاء نے ذکر کیا ہے، لہٰذا قواعد فقہ کو ’’کلیات ‘‘ کہنا درست نہیں۔ آپ نے اپنے الفاظ میں قواعد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:

اصول فقھیۃ کلیۃ فی نصوص موجزۃ دستوریۃ تتضمن احکامھا تشریعیۃ عامۃ فی الحوادث التی تدخل تحت موضوعھا (8)

ترجمہ:’’فقہ کے وہ کلی اصول جنہیں مختصر قانونی عبارات میں مرتب کیا گیا ہو اور وہ ایسے قانونی اور عمومی احکام کو متضمن ہوں جو ان کے موضوع کے تحت آنے والے حوادث کے بارے میں ہوں۔‘‘

اس تعریف میں شیخ مصطفی الزرقاء نے ’’کلیہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ،جس کے بارے میں مولاناخالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے لکھا ہے کہ اس کے بجائے اگر ’’اکثریہ‘‘کی تعبیر اختیار کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا،کیونکہ قواعد ’’کلی‘‘ نہیں ہوتے، ’’اکثری‘‘ہوتے ہیں،یعنی ہمیشہ ان کا اطلاق نہیں ہوتا،بعض صورتیں مستثنیٰ بھی ہوتی ہیں اور اکثر وبیشتر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔(9)

لیکن اگر غور کیا جائے تو شیخ مصطفی الزرقاء کی مراد ’’کلیہ‘‘کے لفظ سے وہ نہیں ہے جو مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے سمجھا ہے،بلکہ اس سے بظاہر مراد ’’ایسے قواعد ہیں جو کسی اور قاعدے پر متفرع نہ ہو،بلکہ اس سے دوسرے قواعد مستخرج ہوں‘‘کیونکہ فقہا کی عبارات میں کئی جگہ ’’قواعدِکلیہ‘‘ کے لفظ سے یہی معنی مراد لیے گئے ہیں، جیسا کہ علامہ حمویؒ نے لکھا ہے :

ان المراد بالقواعد الکلیۃ القواعد التی لم تدخل قاعدۃ منھا تحت قاعدۃ اخری لا الکلیۃ بمعنی الصدق علی جمیع الافراد بحیث لا یخرج فرد (10)

ترجمہ:’’قواعد کلیہ سے وہ قواعد مراد ہیں جوکسی دوسرے قاعدے کے تحت داخل نہ ہوں۔کلیہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمام افراد پرس طرح صادق آئیکہ کوئی فرد اس سے خارج نہ ہو۔‘‘

دوسری وجہ یہ ہے کہ شیخ مصطفیٰ الزرقاء نے آگے خود تصریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: وھذہ القواعد ھی کما قلنا احکام اغلبیۃ غیر مطردۃ (11)۔ترجمہ:’’یہ قواعد احکام اکثریہ ہوتے ہیں، نہ کہ مطردہ و کلیہ۔‘‘

علامہ قرافی ؒ لکھتے ہیں کہ: ومعلوم ان اکثر قواعد الفقہ اغلبیۃ (12) ترجمہ:’’اور یہ بات معلوم ہے کہ اکثر فقہی قواعد اغلبی ہوتے ہیں۔‘‘ شیخ احمد بن عبد اللہ نے بھی قواعدِ فقہ کی دوسری تعریف(اغلبی)اختیار کی ہے۔ (13)

ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ نے اس مقام پر ایک اہم نکتہ ذکر کیا ہے کہ قواعدِ فقہ کے علاوہ دیگر علوم وفنون کے قواعد کلیہ ہوسکتے ہیں، لیکن فقہ کے قواعد ،کلی نہیں،بلکہ اغلبی ہوتے ہیں، لہٰذا جن حضرات نے پہلی تعریف اختیار کی ہے، اس کا اطلاق دیگر علوم پر درست ہے،جبکہ قواعد فقہ پر دوسری تعریف زیادہ منطبق ہوتی ہے۔آپ لکھتے ہیں:

’’اصطلاحی اعتبار سے فقہی اور قانونی قاعدہ دوسرے علوم وفنون سے ذرا مختلف مفہوم رکھتا ہے۔دوسرے علوم مثلاً نحو، طبیعیات،ریاضی وغیرہ میں قاعدہ سے مراد ایسا حکم یا اصول ہے جو اپنی تمام جزئیات پر منطبق ہوتا ہو،یعنی اس کا اطلاق اس کے ذیل میں آنے والی تمام فروعی صورتوں پر ہوتا ہو،مثلاً نحو کا قاعدہ ہے کہ فاعل مرفوع ہوتا ہے،مفعول منصوب ہوتا ہے۔اب یہ دونوں قواعد ہر قسم کے فاعل اور ہر قسم کے مفعول کو حاوی ہیں اور سب پر ان کا اطلاق یکساں طور پر ہوتا ہے۔کوئی مفعول یا فاعل ایسا نہیں ہے جو ان قواعد کے اطلاق سے باہر ہو۔یا مثلاً طبیعیات اور منطق کے قواعد ہیں کہ وہ ہر حال میں اپنی ذیلی شکلوں پر منطبق ہوتے ہیں۔

فقہی قواعد کا معاملہ ان سے ذرا مختلف ہے،ایک فقہی قاعدہ کا اطلاق اس کے ذیل میں آسکنے والے تمام حالات ومسائل پر نہیں ہوتا،بلکہ اس کی صرف بیشتر صورتوں پر ہوتا ہے اور بہت سی صورتیں بہرحال ایسی ہوتی ہیں جو اس قاعدہ کے اطلاق سے باہر رہتی ہیں۔‘‘(14)

قواعد فقہیہ اور اصول فقہ میں فرق

یہاں یہ نکتہ ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ اصول فقہ اور قواعد فقہ میں فرق ہے۔دونوں میں سب سے اہم اور بنیادی فرق یہ ہے کہ اصول فقہ سے براہ راست احکام مستنبط نہیں ہو سکتے، بلکہ ان کی روشنی میں کسی نص سے استفادہ کرتے ہوئے حکم کا استنباط ممکن ہوتا ہے، جبکہ قواعد فقہیہ سے براہ راست حکم مستنبط کرنا ممکن ہوتا ہے۔ جیسے ’’الامر یدل علی الوجوب‘‘ یہ اصولِ فقہ کا ایک اصل ہے۔اس سے براہ راست حکم مستنبط نہیں ہو سکتا، لیکن کسی نص میں امر ہو، قرینہ صارفہ عن الوجوب نہ ہو جیسے: ’’اقیموا الصلاۃ‘‘، تب حکم مستنبط ہو سکے گا ، جبکہ ’’الیقین لا یزول بالشک‘‘ جو کہ ایک قاعدہ فقہیہ ہے، اس سے براہ راست حکم مستنبط کیا جاسکتا ہے کہ اگر طہارت کا یقین ہو اور حدث لاحق ہونے یا نجاست کا شک ہو توطہارت ہی برقرار رہے گی۔ شک کی وجہ سے حدث یا نجاست کا حکم صادر نہیں کیا جائے گا۔ (15)

قواعد فقہیہ کی حجیت

اب آتے ہیں اصل مقصودی بات کی طرف کہ کیا ’’قواعد فقہ ‘‘ کسی شرعی مسئلہ کے لیے دلیل بن سکتے ہیں؟ بالفاظ دیگر کیا ’’قواعد فقہ‘‘ کو بنیاد بناکرکسی مسئلہ کا حکم شرعی بتانا یا فتویٰ دینا درست ہے یا نہیں؟

اس سلسلے میں علماء کی عبارات سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں،جن کوتین آراء کے ضمن میں بیان کیا جاسکتا ہے:

پہلی رائے:

علامہ ابن نجیم حنفیؒ ، علامہ شامیؒ ، علامہ ابن دقیق العیدؒ اور شیخ الجوینی کی رائے یہ ہے کہ قواعدِ فقہ سے استدلال کرنااور ان سے فتویٰ دینا جائز نہیں ہے،جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔قواعد فقہ ’’کلیہ‘‘ نہیں ہوتے،بلکہ اغلبی اور اکثری ہوتے ہیں۔ان سے کئی مسائل مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ممکن ہے پیش آنے والا مسئلہ بظاہر قاعدہ کی تفریعات میں سے ہو،لیکن حقیقت میں وہ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہو،اس لیے قواعد فقہ سے مسئلہ کا جواب نہیں دینا چاہیے۔ علامہ حمویؒ نے علامہ ابن نجیم ؒ کی کتاب ’’فوائد زینیہ‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے:

فی الفوائد الزینیۃ بانہ لا یجوز الفتوی بما تقتضیہ الضوابط لانھا لیست کلیۃ بل اغلبیۃ خصوصا وھی لم تثبت عن الامام بل استخرجھا المشایخ من کلامہ (16)

’’فوائد زینیہ میں لکھا ہے کہ ضوابط کے مقتضی کے مطابق فتویٰ دینا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ ’’کلیہ ‘‘ نہیں ہوتے،بلکہ اغلبی ہوتے ہیں اور قواعدوضوابط امام ابوحنیفہ سے ثابت نہیں ہیں، بلکہ انہیں بعد کے مشائخ نے امام صاحب کے کلام سے اخذ کیا ہے۔‘‘

2۔چونکہ بعض قواعد فقہ کسی نص شرعی کی طرف منسوب نہیں ہوتے، بلکہ استقراء ناقص کی طرف منسوب ہوتے ہیں، یعنی فقہی مسائل میں غور کرکے ایک جیسے مسائل کے لیے قاعدہ بنالیا جاتاہے ، تاکہ اس کے ذریعے ان متشابہ اور ایک جیسے مسائل کو یاد کرنا اور ذہن میں رکھنا آسان ہو۔ بعض قواعد کا وجود اجتہاد کا ثمرہ ہوتا ہے جو کہ خطاء کا احتمال رکھتا ہے، اس لیے محض ان قواعد کی روشنی میں کسی مسئلہ کا حکم بتلادینا ’’مجازفہ‘‘ یعنی تخمینہ کہلائے گا، جو کہ فتویٰ میں بے احتیاطی ہے اور احکامِ فقہیہ کے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔

3۔قواعدِ فقہ، مسائل فقہ کا ثمرہ ہیں، اور کسی چیز کا ثمرہ اس کے لیے دلیل نہیں بن سکتا۔یعنی پہلے اصولِ فقہ کی روشنی میں قرآن و سنت سے مسائل فقہ کو مستنبط کیا گیا ہے۔مسائل فقہ کے وجود میں آنے کے بعد قواعدِ فقہ وجود میں آئے ہیں،اور یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ جو چیز خود کسی دوسری چیز کا ثمرہ ہو، وہ اس کے لیے دلیل بن سکے۔(17)

دوسری رائے:

امام قرافی، علامہ شاطبی اور شیخ ابن بشیر فرماتے ہیں کہ قواعد فقہ سے فتوی دینا جائز ہے اور مسائل فقہ کے لیے دلیل بن سکتے ہیں،ان کے دلائل یہ ہیں:

1۔قواعد فقہ’’کلیہ‘‘ ہوتے ہیں اور اپنی تمام فروعات پر منطبق ہوتے ہیں،بعض مستثنیات سے ان کے کلی ہونے پر فرق نہیں پڑتا،اس لیے یہ اپنی ہر فرع کے لیے دلیل بن سکتے ہیں۔

2۔قواعد فقہ کی حجیت اور ان کا استدلال کے قابل ہونا اَدلہ جزئیہ (نصوص)کے مجموعہ سے مستفاد ہے،کیونکہ ہر قاعدے پر کوئی نہ کوئی شرعی دلیل یاماخذ موجود ہے،اور جب ادلہ جزئیہ انفرادی طور پر استدلال کے قابل ہیں تو ان کے مجموعہ (جو قاعدہ کی شکل میں ظاہر ہوا ہے)میں بطریق اولیٰ استدلال کی صلاحیت ہوگی۔

3۔مجتہدین اور فقہاء کرام کے احوال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے قواعد فقہ کا اعتبار کرکے ان پر اعتماد کیا ہے اورایسے کئی مقامات ہیں جہاں نص شرعی کے نہ ہونے کی صورت میں قواعد فقہ سے مسائل مستنبط کیے ہیں۔

تیسری رائے:

تیسری رائے وہ ہے جسے ’’مجلہ احکام عدلیہ‘‘ میں اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک کسی قاعدہ فقہیہ پر قرآن و سنت کی کوئی نص موجود نہ ہو، اس وقت تک محض قواعد فقہ کو دلیل و بنیاد بناکر احکام مستنبط کرنا درست نہیں ہے،چنانچہ مجلہ احکام عدلیہ کی تقریر میں یہ لکھا ہے :

فحکام الشرع ما لم یقفوا علی نقل صریح لا یحکمون بمجرد الاستناد الی واحدۃ من ھذہ القواعد، الا ان لھا فائدۃ کلیۃ فی ضبط المسائل (18)

ترجمہ:’’حکامِ شرع کو جب تک کسی نقل صریح پر اطلاع حاصل نہ ہو، تب تک وہ محض ان قواعد میں سے کسی قاعدہ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے،البتہ مسائل کے ضبط میں ان قواعد کا ایک بڑا فائدہ ہے۔‘‘

علامہ اتاسیؒ نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ قواعد فقہ کے خاص مدارک،مآخذ،علل،شروط،قیود اور مستثنیات ہوتی ہیں جو کہ ہر مقلد کے ذہن میں موجود نہیں ہوتی، اس لیے ممکن ہے کہ پیش آنے والا مسئلہ ان ہی میں سے کسی سبب کی وجہ سے قاعدہ سے خارج ہو، لہٰذا محض قواعد فقہ کی بنیاد پر فتوی نہیں دینا چاہیے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

لکن ربما یعارض بعض فروع تلک القواعد اثر او ضرورۃ او قید او علۃ مؤثرۃ تخرجھا عن الاطراد، فتکون مستثناۃ من تلک القاعدۃ یتنور بھا المقلد ولا یتخذھا مدارا للفتوی والحکم، فلعل بعضا من حوادث الفتوی خرجت عن اطرادھا لقید زائد او لاحد الاسباب المتقدم ذکرھا (19)

ترجمہ:’’لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی روایت، ضرورت، قید یا کوئی علتِ مؤثرہ ان قواعد کی بعض فروعات کے معارض ہوتی ہے جو ان کو قواعد کے تحت داخل ہونے سے نکال دیتی ہے،تو وہ فروعات اس قاعدہ سے مستثنیٰ شمار ہوتی ہیں،(ان قواعد کا فائدہ یہ ہے کہ) مقلد ان کے ذریعے نور اور روشنی حاصل کرے اور ان کو فتویٰ اور حکم کے لیے مدار نہ بنائے،کیونکہ ممکن ہے کہ بعض جدید مسائل ایسے ہو ں جو کسی اضافی قید یا سابقہ اسباب میں سے کسی سبب کی وجہ سے قاعدہ کی تفریعات سے خارج ہوں۔‘‘

شیخ مصطفی الزرقاء لکھتے ہیں :

ولذلک کانت تلک القواعد الفقھیۃ قلما تخلو احداھا من مستثنیات فی فروع الاحکام التطبیقیۃ خارجۃ عنھا، اذ یری الفقھاء ان تلک الفروع المستثناۃ من القاعدۃ ھی الیق بالتخریج علی قاعدۃ اخری، او انھا تستدعی احکاما استحسانیۃ خاصۃ ۔۔۔ ومن ثم لم تسوغ المجلۃ ان یقتصر القضاۃ فی احکامھم علی الاستناد الی شیء من ھذہ القواعد الکلیۃ فقط دون نص آخر او عام یشمل بعمومہ الحادثۃ المقضی بھا، لان تلک القواعد الکلیۃ علی ما لھا من قیمۃ واعتبار ھی کثیرۃ المستثنیات، فھی دساتیر للتفقیہ لا نصوص للقضاء. (20)

ترجمہ:’’اور اسی وجہ سے بہت کم قواعد فقہیہ ایسے ہوں گے جومستثنیات سے خالی ہوں، کیونکہ فقہاء یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ فرع یا جزئیہ ایک قاعدے سے مستثنیٰ ہو اور کسی اور قاعدے کے تحت آجائے،یا وہ مسئلہ استحسانی احکام میں سے ہو،اسی لیے مجلہ میں قضاۃ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک کوئی صریح نقل یا ایسی نص نہ ہو جس کے عموم کے تحت مسئلہ آئے،اس وقت تک محض ان قواعد پر اعتماد نہ کیا جائے ،کیونکہ ان قواعد کی قدر وقیمت کے باوجود ان کے تحت کئی مستثنیات بھی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ تفقہ کے لیے طریقہ و آئین تو ہے، لیکن قضاۃ کے لیے نصوص نہیں ہیں۔‘‘

اس قول کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ کے بارے میں قرآن وسنت کی کوئی نص موجود ہو تو ایسی صورت میں ان قواعد کو بطورِ دلیل ذکر کیا جاسکتا ہے،بلکہ بعض قواعد چونکہ براہ راست نصوص سے مستنبط ہیں ،جیسے: ’’الامور بمقاصدھا‘‘ اور ’’الخراج بالضمان‘‘ اس لیے مسئلہ کے استنباط میں محض ان جیسے قواعد کوذکر کرلینا بھی کافی ہوسکتا ہے، کیونکہ ان قواعد کو ذکر کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اصل نص کو ذکر کردینا،تاہم ایسے قواعد بہت کم ہیں۔اور اگر قرآن و سنت کی کوئی نص موجود نہ ہو تو پھر یہ قواعد محض استیناس کا فائدہ دیں گے،کہ ایک دلیل کو دوسری دلیل پر ترجیح دینے یا کسی دلیل میں قوت اور مزید پختگی پیدا کرنے کے لیے ان قواعد کو ذکر کیا جاسکتا ہے ،لیکن محض قواعد ہی کی بنیاد پر فیصلہ نہ کیا جائے۔

ترجیح:

درج بالا تینوں اقوال میں سے تیسرا قول زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے،لیکن بندہ کی نظر میں اس میں تھوڑا اضافہ کرنا مناسب ہے۔وہ یہ کہ جب مفتی کے سامنے کوئی سوال آئے تو اس پر لازم ہوگا کہ پہلے قرآن وسنت میں اس کی دلیل اور کتبِ فقہ میں اس مسئلہ کا صریح جزئیہ تلاش کرے، اور محض چند کتابیں دیکھنے سے یہ ذمہ داری پوری نہ ہوگی، بلکہ خوب جستجو اور تلاش بسیار سے کام لینا ضروری ہے، جیسا کہ علامہ شامی نے لکھا ہے :

والغالب ان عدم وجدانہ النص لقلۃ اطلاعہ او عدم معرفتہ بموضع المسئلۃ المذکورۃ فیہ، اذ قل ما تقع حادثۃ الا ولھا ذکر فی کتب المذھب، اما بعینھا او بذکر قاعدۃ کلیۃ تشملھا (21)

ترجمہ:’’عموما کسی کو نص(یا صریح جزئیہ) نہ ملنے کی وجہ قلت اطلاع (کم تلاش) ہوتی ہے یا جس مقام پر وہ مسئلہ مذکور ہوتا ہے، اس کی معرفت نہیں ہوتی، کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے اور مذہب کی کتابوں میں اس کا ذکر نہ ہو، یا تو بعینہ وہ مسئلہ مذکور ہوتا ہے یا کوئی ایسا قاعدہ کلیہ ہوتا ہے جو اس مسئلہ کو بھی شامل ہوتا ہے۔‘‘

البتہ اگر مکمل کوشش کے باوجود کوئی صرح جزئیہ نہ ملے تو عموماً مفتی کو قواعد سے اس مسئلہ کا جواب نہیں دینا چاہیے، بلکہ سائل کو کسی دوسرے عالم اور مفتی کے حوالے کردے، تاہم اگر مفتی ایک متبحر عالم ہے اور فقہ، اصولِ فقہ اور قواعد فقہ پر مکمل عبور رکھتا ہے تو ایسی صورت میں وہ قواعد فقہ سے جواب دے سکتا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسرے مفتی سے پوچھنے کا مشورہ بھی دینا چاہیے۔(22) یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابر کو جب تک کسی مسئلہ کے بارے میں صریح جزئیہ ملا ہے، انہوں نے قواعد سے جواب نہیں لکھا، تاہم صریح جزئیہ نہ ملنے کی صورت میں قواعد سے جواب لکھ کر یہ مشورہ بھی دیتے تھے اور دیتے ہیں کہ ’’جواب کا صریح جزئیہ نہیں ملا،اس لیے قواعد سے جواب لکھا گیا ہے،بہتر ہے کہ دوسرے علماء سے بھی جواب دریافت کرلیا جائے۔‘‘

مولانا شبیر احمد قاسمی صاحب امداد الفتاوی کی خصوصیات لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’(2)۔جس مسئلہ میں (حضرت تھانوی کو)کوئی صریح جزئیہ ہاتھ نہ آتا، وہاں اصول وقواعد سے مسئلہ کا جواب تحریر فرماتے تھے اور آخر میں عموماً اس پر تنبیہ فرماتے تھے کہ جواب اصول وقواعد سے لکھا گیا ہے،صریح جزئیہ فقہاء کے فتاوی میں نہیں ملا۔ اس لیے دوسرے علماء سے بھی مراجعت کرلی جائے اور وہ اختلاف فرمائیں تو مجھے بھی مطلع کردیا جائے۔‘‘(23)

ہمارے کئی اکابر نے یہی طریقہ اختیار فرمایا ہے۔چند مثالیں دیکھنے کے لیے ملاحظہ فرمائیں:امداد الفتاوی 2/423۔ 219۔ امداد الاحکام2/234 اور4/254۔ فتاویٰ محمودیہ 17/325۔ فتاویٰ عثمانی 2/375۔ 516۔ فتاوی حقانیہ 4/294۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی لکھتے ہیں:

’’ان(قواعدِ فقہ)کے بارے میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ قواعد کسی مستقل بالذات شرعی دلیل کی حیثیت نہیں رکھتے، یعنی یہ خود اپنی ذات میں ماخذ قانون نہیں ہیں کہ محض کسی قاعدہ کلیہ کی بنیاد پر کوئی قانون وضع کیا جا سکے، ماخذِ قانون صرف قرآن مجید اور سنت رسول ہیں،یا وہ اجماع اور اجتہاد وقیاس جو قرآن وسنت کی کسی سند کی بنیاد پر وقو ع پذیر ہوئے ہوں۔‘‘

آگے لکھتے ہیں:

’’لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ کبھی بھی کسی قاعدہ کلیہ سے کوئی استدلال کرنا یا کسی نئی پیش آمدہ صورت حال پر اس کو منطبق کرنا غلط ہے۔ قاعدہ کلیہ سے استدلال کرنا درست ہے اور کسی نئی صورت حال پر اس کو منطبق کرنا بھی درست ہے،لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اس استدلال کو محض مجازاً ہی استدلال کہا جا سکے گا، اس لیے کہ یہ وہ استدلال نہیں ہے جو کسی شرعی دلیل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔اس استدلال کی حیثیت دراصل تفریع کی ہے۔‘‘(24)

عصر حاضر میں بھی قانون سازی کے وقت قواعد کلیہ سے راہنمائی لی جاتی ہے،چنانچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دساتیر، 1956ء، 1962ء اور 1973 ء میں اس سے استفادہ کیا گیا ہے،اور 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 29 تا 40 میں ’’حکمت عملی کے اصول‘‘ (Principles of Policy)کے تحت انہیں درج کیا گیا ہے۔ہماری عدالتیں بھی فیصلے کے وقت ان جیسے قواعد سے استفادہ کرتی ہیں۔

انگریزی قوانین میں بھی اس سلسلے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہ جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے آجائے جس پرقانون موجود نہ ہو تو وہاں جج کیا کرے؟اس بارے ایک اہم رائے یہ بھی ہے کہ ایسی صورت میں جج موجود ہ قانون کے قواعد عامہ معلوم کرے اور ان کے ذریعے مقننہ کا عمومہ ارادہ طے کر کے اس کی روشنی میں فیصلہ کرے۔اسی کی طرف انگریزی کے اس مقولہ میں اشارہ ہے کہ:

If the law is inadequate, the maxim serves in its place.

یعنی قانون کی عدم موجودگی میں قواعد اور مقولے اس کی جگہ لیتے ہیں۔

یہاں یہ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ جب قواعد فقہ کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور بذاتِ خود یہ کسی حکم کے لیے دلیل وماخذ نہیں بن سکتے تو پھر علماء نے اس علم کے لیے اتنی محنت اور تگ و دو کیوں کی؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ علم قانونی حیثیت سے زیادہ تعلیمی اہمیت کا حامل ہے،کیونکہ اس سے فقہ کی فہم اور شریعت اسلامیہ کے اسرار ورموز کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اس علم سے کثیر تعداد میں جزئیات یاد کرنے سے نجات مل جاتی ہے۔اس علم میں مہارت رکھنے والے فکری انتشار اور فقہی اختلافات سے بچ جاتے ہیں اور اسی علم سے مقاصد شریعت کا ادراک بھی حاصل ہوتا ہے، لہٰذا محض اس کی قانونی حیثیت کو سامنے رکھ کر اس علم سے بے اعتنائی برتنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔


حوالہ جات

(1) تاج العروس من جواہر القاموس 9/ 60

(2) البقرۃ: 127

(3) النحل: 26

(4) التعریفات ص: 219

(5) الموافقات للشاطبی 2/ 83

(6) القواعد الفقہیۃ وتطبیقاتہا فی المذاہب الاربعۃ 1/ 22

(7) غمز عیون البصائر 1/ 51

(8) المدخل الفقہی العام2/966

(9) فقہ اسلامی، تدوین وتعارف، ص:156

(10) غمز عیون البصائر 1/ 198

(11) المدخل الفقہی العام2/966

(12) الفروق للقرافی 1/ 58

(13) مقدمۃ التحقیق لکتاب القواعد للمقری 1 /107

(14) قواعد کلیہ اور ان کا آغاز وارتقاء، ص:11

(15) مقدمۃ فی قواعد الفقہ الکلیۃ، ص:7

(16) القواعد الکلیۃ والضوابط الفقہیۃ فی الشریعۃ الاسلامیۃ، ص:73

(17) ایضاً، ص:84

(18) مجلۃ الاحکام العدلیۃ، ص: 11

(19)شرح المجلۃ للاتاسی 1/12

(20)المدخل الفقہی العام 2/966،967

(21) شرح عقود رسم المفتی، ص:59

(22) المصباح فی رسم المفتی ومناہج الافتاء 2/224

(23) امداد الفتاوی جدید، مطول ومبوب 1/193

(24) قواعدِ کلیہ اور ان کا آغاز وارتقاء ،ص: 17


فقہ / اصول فقہ