فروعی مسائل میں سہولت و رخصت کا فقہی اصول

ادارہ

(۱)

(مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کے نام مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے ایک خط سے اقتباس)

تدوین فقہ پر کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ۱۰۰ صفحات سے زیادہ جامعہ عثمانیہ کے ریسرچ جرنل میں شائع بھی ہو چکا تھا۔ اگرچہ اس کی حیثیت بالکل مقدمہ کتاب کی تھی، تاہم لوگوں نے پسند کیا تھا۔ مولانا مودودی صاحب کے غیر مشہور ایک بڑ ے بھائی ابو الخیر مودودی صاحب سے شاید آپ واقف ہوں۔ انھوں نے اس مقدمہ کو چھاپنے کے لیے لاہور سے طلب کیا تھا۔ فقیر نے روانہ کر دیا، لیکن پھر کچھ پتہ نہ چلا کہ کتاب کیا ہوئی۔ آپ جانتے ہوں یا جان سکتے ہوں تو اپنے کچھ لاہوری یا پنجابی عقیدت مند سے دریافت تو کیجیے۔ یوں تو اس کتاب کے سلسلے میں خدا ہی جانتا ہے کن کن باتوں کے لکھنے کا ارادہ تھا، لیکن ہندی ’’مجددیت‘‘ کی تین خاص باتوں میں سے ارادہ تھا کہ اس خاص مسئلہ کے مالہ وماعلیہ پر اس کتاب میں بحث کی جائے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الف ثانی کے مجدد ہند رحمۃ اللہ علیہ نے ارقام فرمایا ہے:

در دیار ہندوستان کہ ایں ابتلا بیش تر است، دریں مسئلہ کہ عموم بلویٰ دارد اولیٰ آنست کہ فتویٰ باسہل وایسر امور بدہند۔ اگر موافق مذہب خود نبود بقول ہر مجتہد کہ باشد۔ (مکتوب ۲۲)
’’اس خطہ ہندوستان میں جہاں ابتلا کی یہ صورت زیادہ پیش آئی ہے تو عموم بلویٰ (عام مصیبت) کی حیثیت اس مسئلہ نے اختیار کر لی ہے۔ یعنی بہتر اور زیادہ پسندیدہ بات ہے کہ فتویٰ اس پہلو کے مطابق دیا جائے جو آسان اور زیادہ سہل ہو، خواہ فتویٰ دینے والے مفتی کے مسلک کے مطابق یہ فتویٰ نہ ہو۔ کسی دوسرے مجتہد کے قول کے مطابق فتویٰ کا ہونا ایسی صورت میں کافی ہے۔‘‘

عام مولویوں کے لیے ظاہر ہے کہ فتوے میں اتنی مطلق العنانی ذرا مشکل ہی سے قابل برداشت خصوصاً اس زمانہ میں ہو سکتی تھی جس زمانے میں مجدد رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے تھے کہ ندوہ اس وقت تک ہندوستان میں قائم نہیں ہوا تھا، اس لیے بجائے فقہ یا آثار واخبار کے اس موقع پر حضرت مجدد نے قرآنی آیات ہی کو استدلال میں پیش کیا ہے۔ لکھا ہے کہ:

قال اللہ تعالیٰ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر وقال تعالیٰ یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا۔
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تمہارے ساتھ اللہ آسانی چاہتا ہے اور دشواری پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ دوسری جگہ ہے کہ اللہ تمہارے بار کو ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان تو کمزور ناتواں پیدا کیا گیا ہے۔‘‘

آگے ہند کے اسی مجدد نے لکھا ہے کہ:

بر خلق تنگ گرفتن ایشاں را رنجانیدن حرام است۔
’’عام مخلوق کو سختی کے ساتھ پکڑنا اور ان کو دلوں کو (اپنی تنگی گرفت سے) دُکھانا حرام ہے۔‘‘

یہ مکتوب گرامی اس قسم کے گراں مایہ تجدیدی زریں دانش آموزیوں سے معمور ہے۔ اس زمانہ میں ہم عام مولوی لوگ معیاری اسلام کو ہاتھ میں لے کر غریب مسلمانوں کی زندگی کا جو جائزہ لیتے رہتے ہیں اور آئے دن ان کے مومن قلوب کو دُکھاتے رہتے ہیں، دل چاہتا تھا کہ حضرت مجدد کے مشوروں کو اس سلسلہ میں ان کے آگے رکھتا۔ نیز معمولی عام کتابوں میں تلفیق کے نام سے مسلمانوں میں خوف ودہشت کی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے، یعنی مجتہدین ائمہ ہدیٰ میں سے کسی ایک امام کے اجتہادی نتائج کے ساتھ ہم آہنگی کا فیصلہ تاریخ کے مختلف وجوہ واسباب کے تحت مختلف ممالک کے مسلمانوں کو کرنا پڑا تو سمجھایا جاتا ہے کہ آیندہ اپنے اپنے ما نے ہوئے امام کے خلاف عمل کی اجازت ان کی آیندہ نسلوں کو نہیں دی جائے گی۔ ایسے آدمی کو فعل مذموم اور ’’عمل تلفیق‘‘ کا مرتکب ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ واقع کے لحاظ سے مسئلہ کی صحیح صورت حال چونکہ یہ نہیں ہے، ارادہ تھا کہ کافی بسط وتفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کی جائے، مگر بحث کے میدان ہی سے جو نکال دیا گیا، وہ کیا کرے۔

(صدق جدید ،۲۲ جولائی ۱۹۵۶ء بحوالہ ماہنامہ بیداری حیدر آباد)

(۲)

حضرت ڈاکٹر مفتی مظہر بقا صاحب بھی اگست کی دوسری دہائی میں ہم سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفتی مظہر بقا صاحب کیا تھے اور کن صلاحیتوں کے حامل تھے، جنھیں ان سے تعارف نہیں تھا، انھیں یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ کن اوصاف کے حامل تھے۔ انھوں نے اپنے حالات زندگی پر مشتمل کتاب لکھی ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ موصوف جدید وقدیم علوم کی جامع شخصیت تھے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر غلام مصطفی خان مدظلہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ کراچی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر رہے۔اس کے بعد ان کا مکہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں تقرر ہوا۔ ۲۵ سال تک وہاں کام کرتے رہے۔ تقریباً پندرہ سولہ سال پہلے کراچی تشریف لائے اور تصنیف وتالیف کے ساتھ ساتھ سالکین راہ حق کی تعلیم وتربیت کا فریضہ بھی سرانجا م دیتے رہے۔ ......

مفتی صاحب کا بیشتر علمی کام فنی اور تحقیقی نوعیت کا ہے۔ ان کی پندرہ سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ موصوف کی شخصیت اور کام کے بہت سارے پہلو ایسے ہیں جن پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن یہاں اس کا موقع نہیں۔ ان کی شخصیت کے حوالے سے ہم یہاں جس چیز کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، وہ فقہی مسائل میں ان کا طرز عمل ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں فقہی اختلافات کی وجہ سے مختلف گروہ باہم ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں اور ان کی توانائیاں ایک دوسرے کی تردید وتنقید میں صرف ہو رہی ہیں، اس لیے اس معاملے میں دار العلوم دیوبند کی فاضل اور مفتی کی حیثیت سے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کے ساتھ کام کرنے والی شخصیت کا موقف شاید ہمارے مذہبی حلقوں میں فقہی اختلافات کی شدت کو کم کرنے اور اس معاملے میں کسی حد تک ایک دوسرے سے رواداری پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ اس سلسلے میں مفتی صاحب نے اپنی کتاب ’’حیات بقا‘‘ میں ’فقہی مسائل میں میرا طرز عمل‘ کے عنوان سے گفتگو کی ہے۔ ہم ان کی کتاب کا یہ حصہ یہاں نقل کر رہے ہیں:

’’میں حنفی ہوں اور جب تک ہندو پاک میں رہا، صرف حنفی مذہب پر عمل کرتا رہا۔ سعودی عربیہ آنے کے بعد جب مکہ مکرمہ میں جو مختلف مکاتب فکر کا سنگم ہے، اقامت کی سعادت حاصل ہوئی تو حنفیت میں جو شدت تھی، اس میں رفتہ رفتہ کمی آنی شروع ہوئی اور دوسرے فقہی مذاہب کے ساتھ متعصبانہ طرز فکر تقریباً ختم ہو گیا اور اس کے نتیجے میں متعدد تبدیلیاں عمل میں آئیں۔
۱۔ رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین چونکہ صحیح اور قوی احادیث سے ثابت ہے، اس لیے کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیتا ہوں۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک مرتبہ اپنی نجی مجلس میں حاضرین سے فرمایا تھا: کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیا کرو، کیونکہ اگر قیامت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرما لیا کہ تم تک میری یہ سنت بھی تو صحیح طریقہ پر پہنچی تھی، تم نے اس پر کیوں عمل نہ کیا تو کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اگر کوئی حدیث مجھ تک ضعیف طریقے سے بھی پہنچی تو میں نے کم از کم ایک بار ضرور اس پر عمل کیا۔
۲۔ قیام میں کبھی کبھی، شاذ ونادر سینے پر بھی ہاتھ باندھ لیتا ہوں۔ اگرچہ جہاں تک میرا علم ہے، اس سلسلے میں صحاح ستہ میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں اور دوسری کتب حدیث میں اس سلسلے کی جو روایات ہیں، وہ کلام سے مبرا نہیں۔
۳۔ سفر میں صحیح احادیث سے جمع تقدیم بھی ثابت ہے اور جمع تاخیر بھی۔ دوسرے ائمہ کے برخلاف احناف اسے جمع حقیقی کے بجائے جمع صوری پر محمول کرتے ہیں۔ میں نے سفر میں بوقت ضرورت جمع تقدیم بھی کی ہے اور جمع تاخیر بھی، لیکن ایک مرتبہ خیال آیا کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عصر کو اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا کو جمع کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ حنفی مذہب کے مطابق ظہر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوں گی، لیکن ہو سب کے نزدیک جائیں گی۔ اس کے برخلاف اگر ظہر کے وقت میں اس کے ساتھ عصر کو اور مغرب کے وقت میں اس کے ساتھ عشا کو جمع کیا جائے تو وقت نہ ہونے کی وجہ سے حنفیہ کے نزدیک عصر اور عشا کی نمازیں درست ہی نہ ہوں گی۔ چنانچہ اس کے بعد بوقت ضرورت صرف جمع تاخیر کرنے لگا۔
۴۔ طائف چونکہ میقات سے خارج ہے، اس لیے وہاں سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے احناف کے نزدیک میقات پر احرام باندھنا ضروری ہے۔ تفریح کی غرض سے بکثرت ہمارا طائف جانا ہوتا ہے۔ تقریباً دو سال تک تو میں واپسی پر عمرہ کا احرام باندھتا رہا، لیکن بعد میں حنفیت چھوڑ کر ائمہ ثلاثہ کے مسلک پر عمل کرنے لگا کہ جب تک خاص طور پر عمرہ یا حج کی نیت نہ ہو، میقات سے احرام باندھنا ضروری نہیں۔
۵۔ حج کے اعمال میں حاجیوں سے بکثرت غلطیاں صادر ہوتی ہیں۔ لوگ مجھ سے مسائل دریافت کرتے ہیں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ عمل سے پہلے اگر کسی نے مسئلہ دریافت کیا تو حنفی مذہب کے مطابق مسئلہ بتاتا ہوں اور اگر کسی نے عمل کے بعد دریافت کیا تو اگر وہ عمل کسی بھی امام کے نزدیک درست نہیں ہوا تو بھی حنفی مذہب کے مطابق بتا دیتا ہوں کہ اب تمھیں یہ کرنا چاہیے اور اگر ائمہ اربعہ میں سے کسی امام کے نزدیک وہ عمل درست ہو گیا ہے تو کہہ دیتا ہوں کہ جو ہو گیا، وہ ہو گیا، آئندہ ایسا نہ کرنا۔ ایسے موقع پر میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ طرز عمل رہتا ہے جو آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اختیار فرمایا تھا کہ صحابہ کی ہر غلطی پر آپ نے ’’افعل ولا حرج‘‘ ہی فرمایا تھا۔
ایک مسئلہ ایسا ہے کہ مشکل ہی سے کوئی سال ایسا گزرتا ہے جب وہ مسئلہ مجھ سے نہ پوچھا جاتا ہو۔ وہ یہ کہ طواف زیارت سے پہلے کسی عورت کو حیض آ جائے اور سیٹ بک ہو، اس حالت میں عورت طواف کر نہیں سکتی اور طواف کے بغیر چلی جائے تو زندگی بھر شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی تاآنکہ دوبارہ یہاں آئے اور طواف زیارت کرے اور تاخیر کا دم بھی دے۔ اپنی یا شوہر کی ملازمت وغیرہ کی مجبوری کی وجہ سے وہ رک نہیں سکتی اور اگر سیٹ منسوخ کرا کے رک بھی جائے تو حج کے ایام میں دوبارہ اپنی مرضی کی سیٹ ملنا آسان نہیں اور یہ بھی ہر ایک کے بس میں نہیں کہ دوبارہ آئے اور طواف زیارت کرے۔ دوسرے ائمہ کے یہاں اس مسئلہ میں زیادہ شدت ہے کہ ان کے نزدیک طہارت کے بغیر طواف کر لیا تو ہوگا ہی نہیں۔ حنفی مذہب میں کچھ نرمی ہے کہ ہو تو جائے گا لیکن بدنہ (گائے یا اونٹ) قربان کرنا واجب ہوگا، لیکن عورت سے یہ نہ کہا جائے کہ وہ اسی حالت میں طواف کر لے اور بدنہ کی قربانی دے دے، بلکہ اسے اس طرح مسئلہ بتایا جائے کہ اس کے لیے اس حالت میں مسجد میں داخل ہونا اور طواف کرنا حرام ہے، لیکن اگر اس نے کر لیا تو بدنہ واجب ہوگا۔ اب عورت کی اپنی مرضی ہے، چاہے تو وہ اس پر عمل کرے، چاہے تو نہ کرے۔ علامہ ابن تیمیہ نے اس پر مفصل گفتگو کے بعد فتویٰ دیا ہے کہ عورت اسی حالت میں طواف کر لے اور اس پر کوئی دم واجب نہیں۔ میں ایسے مواقع پر کہہ دیتا ہوں کہ حنفیہ کے نزدیک تو مسئلہ یہ ہے، لیکن علامہ ابن تیمیہ کا فتویٰ یہ ہے۔ پھر مجھے نہیں معلوم کہ کون کس پر عمل کرتا ہے۔
یہ میں لکھ چکا ہوں کہ میری حنفی عصبیت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے، لیکن عدم تقلید کی حدود میں کبھی داخل نہیں ہوا۔‘‘

(بشکریہ ماہنامہ بیداری، حیدر آباد)


فقہ / اصول فقہ