جدید ریاست میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید ۔ بنیادی خدوخال اور طریق کار (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

بحث دوم : فقہ اسلامی  اور تشکیل جدید کا متقاضی حصہ 

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید سے پہلے اس سوال کا جواب معلوم کرنا نہایت ضروری ہے کہ  فقہ اسلامی کے کس حصے کی تشکیل جدید وقت کی ضرورت ہے اور کس قسم کے مسائل   تجدید  کا تقاضا کرتے ہیں ؟تجدید کے بنیادی خدوخال طے کرنے سے پہلے اگر محل ِتجدید کا تعین نہیں ہوا تو قوی امکان  ہے کہ عمل تجدید تحریف یا تغییر میں تبدیل ہوجائے ۔اس نکتے پر بحث سے  کرنے سے پہلے فقہ اسلامی کے بنیادی شعبہ جات  اور فقہی مسائل  کی مختلف انواع کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ فقہ اسلامی اور معاصر قانون کے نامور ماہر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب  رحمہ اللہ  نے فقہی موضوعات کو درجہ ذیل آٹھ قسموں میں تقسیم کیا ہے :

۱۔عبادات 

۲۔مناکحات 

۳۔معاملات

۴۔فقہ التعامل الاجتماعی (الحظروالاباحہ)

۵۔الاحکام السلطانیہ

۶۔ جنایات

۷۔ادب القاضی

۸۔ فقہ السیر1

فقہی مسائل کی انواع و اقسام 

کتب فقہ میں مذکور مسائل کی  استقرائی  طور درجہ ذیل انواع و اقسام ہیں :

۱۔ وہ مسائل جو منصوص ہیں اور قطعی و حتمی ہیں  ،یعنی اس کا مفہوم بھی واضح ہے اور اس کے معارض نصوص بھی نہیں ہیں ،جیسے بنیادی محرمات و محللات اسے ہم منصوص حتمی کا نام دیں گے ۔

۲۔ وہ مسائل جو منصوص تو ہیں ،لیکن مفہوم میں ایک سے زیادہ احتمالات ہونے کی وجہ سے یا معارض نصوص  کی وجہ سے ان میں مجتہدین کی مختلف آرا پائی جاتی ہیں  ،اسے منصوص غیر حتمی کہہ سکتے ہیں  ،نیز اسے مجتہد فیھا مسائل بھی کہتے ہیں ۔

۳۔وہ مسائل جو منصوص نہیں ہیں  ،بلکہ فقہا نے منصوص مسائل پر قیاس و استنباط  کے ذریعے  ان کا حکم  معلوم کیا ہے ،اسے آسانی کے لئے مسائل قیاسیہ کہیں گے ۔پھر مسائل قیاسیہ کی  آگے متعدد قسمیں ہیں :

الف۔ وہ مسائل  جن پر  چاروں  مکاتب  فقہیہ کا اتفاق ہے ،اسے مسائل قیاسیہ اجماعیہ کا نام دیں  گے۔

ب۔ وہ مسائل جن  پر مجتہدین اربعہ کا  تو اتفاق نہیں ہے ،لیکن ایک مذہب و مکتب میں وہ متفقہ ہیں ،اسے آسانی کے لئے مسائل قیاسیہ   اتفاقیہ کہہ سکتے ہیں 

ج۔ وہ مسائل جو ایک مسلک و مذہب میں بھی اختلافی ہیں ،اسے ہم مسائل قیاسیہ  خلافیہ کہیں گے ۔

د۔ وہ مسائل  جن کے حکم کی بنیادسدِ ذریعہ،عموم ِبلوی ، مصلحت یا عرف ہے ۔اسے ہم (تغلیبا)مسائل قیاسیہ  عرفیہ کہیں گے ۔

۴۔ وہ مسائل  جو قدیم فقہی ذخیرے میں مذکور نہیں ہیں ،بلکہ  نوازل و حوادث کے قبیل سے ہیں ۔

اس طرح سے مسائل فقہیہ کی درجہ ذیل انواع بنیں گی:

۱۔ منصوص حتمی 

۲۔منصوص غیر حتمی 

۳۔قیاسی 

۴۔ نوازل و حوادث

پھر قیاسی کی  درجہ ذیل چار قسمیں ہیں :

۱۔قیاسی اجماعی

۲۔قیاسی اتفاقی 

۳۔قیاسی خلافی 

۴۔قیاسی عرفی 

اب  فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے متقاضی حصے کے بنیادی خدوخال کچھ یوں بنتے ہیں :

۱۔ وہ مسائل جو نوازل و حوادث کے قبیل سے ہیں ،ان کا  فقہی اصولوں اور جزئیات کی روشنی میں حکم معلوم کرنا وقت کی سب بڑی ضرورت ہے اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے اہم تقاضا  ہے ۔ یہ ضرورت فقہ کے  تما م موضوعات و شعبہ جات میں ہے اور عبادات سے لے کر فقہ السیر تک نوازل و حوادث کا ڈھیر لگ گیا ہے ،جن کا فقہی حل   عصر حاضر کے نمایاں  چلینجز میں سے ہیں ۔

۲۔ وہ مسائل جو منصوص حتمی ہیں ،ان کو کسی صورت نہیں چھیڑا جائے گا ،ان میں تشکیل جدید دراصل تحریف و تغییر ہے ۔

۳۔وہ مسائل جو منصوص غیر حتمی ہیں ،ان میں حالات کے مطابق متعدد آرا میں انتخاب کیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ اس میں  فقہی طریقہ کار کی پوری پابندی ہو ،جو  کتب اصول میں افتا ءبمذہب الغیر یا  افتاء بقول المرجوح کے عنوان سے مذکور ہے ۔

۴۔مسائل اجماعیہ و اتفاقیہ  بھی منصوص حتمی کے قریب قریب ہیں ،اس لئے اس میں تبدیلی  کے لئے اجتہاد ِاجماعی درکار ہوگا ۔

۵۔مسائل قیاسیہ خلافیہ میں   حالات کے مطابق انتخاب  یا متعدد آرا کا جمع بھی تشکیلِ جدید کے زمرے میں آتا ہے ،معاصر سطح پر کاسموپولیٹن فقہ یا تلفیق بین المذاہب کی جو صدائیں بلند ہورہی ہیں ،اور اس کی موافقت و مخالفت میں بحث کا بازار گرم ہے 2، اس کا مصداق دراصل اسی قسم کے مسائل ہیں ۔

۶۔ مسائل قیاسیہ عرفیہ نوازل و حوادث کے بعد فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے بڑا تقاضا ہے ، معاصر سطح پر تشکیل جدید کی جو   آوازیں اٹھ رہی ہیں ،عمومی طور پر انہی دو اقسام کے مسائل مراد ہوتے ہیں، لہذا فقہ اسلامی کے ذخیرے میں جن مسائل کی بنیاد اس وقت کا عرف تھا ،یا  ان کا حکم سد ذریعہ یا کسی مصلحت کے طور پر  نکالا گیا تھا ، ان مسائل پر دوبارہ غور و فکر کر کے معاصر عرف کے مطابق اس کا نیا حکم معلوم کرنا چاہیے ، اسی طرح  مصلحت پر مبنی مسائل میں مصلحت  کی تبدیلی  کی صورت میں حکم تبدیل کرنا چاہئے یا سد ذریعہ والے احکامات میں ذرائع کی دوبارہ جانچ پڑتال کر کے  موجودہ حالات کے مطابق حکم نکالنا  چاہئے ۔

بحث سوم :تشکیل جدید کے بنیادی خدوخال اور اس کا  طریقہ کار

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید  کن خطوط پر ہونی چاہئے ؟اس کے لئے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اور تشکیل جدید کے بنیادی خدوخال کیا ہوں گے ؟یہ ایک طویل الذیل اور ذو ابعاد موضوع ہے ،    عمومی طور پر اس سے احکام فقہیہ کی تبدیلی  مراد ہوتی ہے ،حالانکہ تغییر و تبدیلی تشکیل جدید کا ایک جزو ہے جو بعض  مسائل میں   جاری ہوتی ہے  ،وہ بھی اصطلاحا تبدیلی کے زمرے میں نہیں آتا ،کیونکہ  عرف کے بدلنے ،مصلحت کی تبدیلی یا ذرائع  و علل کے تغییر سے  مسائل پر نیا حکم لگانا  فقہی اصطلاح میں تبدیلی نہیں کہلاتی ، درجہ ذیل میں تشکیل جدید کے چند مراحل بیان کئے جاتے ہیں :

۱۔تصنیف و تالیف میں تجدید 

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے  اہم مرحلہ    فقہی کتب کے طرزِ تصنیف و تالیف میں تجدید ہے ،قدیم تراث بے پناہ اہمیت و مرکزیت رکھنے کے باوجود معاصر  اسلوب ِتصنیف سے ہم آہنگ نہیں ہے ،فقہی کتب کے طرز ِتالیف میں  درجہ ذیل تبدیلیاں  وقت کا تقاضا ہے :

۱۔قدیم فقہی تراث کا انداز جزئیات کے ضمن میں اصول و کلیات کی تفہیم ہے ،جبکہ معاصر ذہن    اصول و قواعد  کو جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے ،اس لئے جدید طرز کے مطابق ایسی کتب فقہیہ تصنیف ہونی چاہیں ،جن میں ابوابِ  فقہیہ  سے بحث اصولی انداز میں ہو ،اور ہر باب میں تعریفات ،تقاسیم ،انواع و اقسام مرتب انداز میں موجود ہو ،معاصر سطح پر معروف فقہیہ وہبہ الزحیلی کی الفقہ الاسلامی و ادلتہ  جدید منہج کی نمائندہ مثال ہے ۔

۲۔ قدیم تراث میں ابواب  و مسائل کی طے شدہ ترتیب ہے ،جو تقریباً‌ ہر فقہی کتاب میں یکساں  نظر آتی ہے ، جبکہ جدید ذہن فقہی تصورات کو بحیثیت مجموعی جاننے  کا  متمنی ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی باب سے ہو ، مثلاً‌ ضمان  کا فقہی تصور خواہ اس کا تعلق کتاب الغصب سے ہو ،لقطہ سے ہو ،کتاب البیوع سے ہو یادیگر ابواب فقہیہ سے،مال کا فقہی تصور ،فساد و بطلان کا فقہی تصور  وغیرہ ۔اس لئے ایسی کتب کی ضرورت ہے جو  فقہی  تصورات و نظریات پر مشتمل ہو اور اس مخصوص تصور کا پوری فقہ اسلامی  کی روشنی میں جائزہ لیا گیا اور اس کی وضاحت کی گئی ہو۔

۳۔قدیم  تراث میں عمومیت ہے  فقہ اسلامی کے جملہ ابواب  پر کتب فقہیہ مشتمل ہوتی ہیں ،جبکہ جدید دور تخصص و سپیشلائزیشن کا ہے ،اس لئے ہر باب پر تفصیلی کتب ہونی چاہیں ،اس پر اگرچہ کافی کام ہوا ہے، لیکن مزید بھی اس نہج پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

۴۔قانون دان اور وکیل حضرات کے لئے فقہ اسلامی کی دفعہ وار تدوین و ترتیب وقت کا تقاضا ہے ،اس کی عمدہ مثال مجلہ الاحکام العدلیہ ہے ،نیز معاصر سطح پر مزید کام بھی ہوا ہے ،مزید بھی اس نہج پر کام فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا اہم مرحلہ ہے ۔

۵۔ مباحث فقہیہ  کو  الفبائی ترتیب پر  موسوعات و قوامیس کی صورت میں مرتب کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ عربی میں اس کی مثال الموسوعہ الفقہیہ جبکہ اردو میں  مولنا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی قاموس الفقہ اس کی بہترین مثالیں ہیں ،لیکن اس پر مزید تفصیلی انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔معروف فقیہ جمال الدین عطیہ نے اپنی کتاب تجدید الفقہ الاسلامی میں ایک ضخیم  فقہی موسوعہ مرتب کرنے کے  کا تفصیلی نقشہ پیش کیا ہے3،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی یہ موضوع مزید کام کا متقاضی ہے ۔

۶۔قدیم تراث کی جدید طرز پر اشاعت بھی تشکیل جدید کا اہم تقاضا ہے ،یہ بات ایک حقیقت ہے کہ جدید اصول تحقیق و تدوین کے مطابق قدیم تراث کی اشاعت نے فقہ اسلامی سے استفادہ  بہت آسان بنا دیا ہے ،عالم عرب سے اگرچہ اہم مصادر فقہیہ محقق انداز میں چھپ چکی ہیں ،لیکن اب بھی دنیا بھر کے  مکتبات میں ہزاروں کتب  فقہیہ اشاعت کی منتظر ہیں ۔

۷۔نواز ل و حوادث  پر مشتمل فقہی کتب  کی تیاری تشکیل جدید کا اہم مرحلہ ہے ، اس پر عربی و اردو میں کچھ کام ہوا ہے ،لیکن وہ بالکل ابتدائی نوعیت کا کام ہے ،نیز وہ اکثر انفرادی کاوشیں ہیں ،جبکہ نواز ل کے فقہی حل کے لئے اجتماعی غور و فکر کی ضرورت ہے ۔

تصنیف و تالیف میں  تجدید کے چند اہم  پہلو بطور مثال کے ذکر کئے ،ورنہ تجدید کا یہ پہلو متنوع ابعاد کا حامل ہے  اور انفرادی کوششوں کی بجائے اجتماعی کاوشوں کا متقاضی ہے۔

۲۔ تعبیر و اصطلاح میں تجدید

فقہ اسلامی کی تجدید کا دوسرا اہم مرحلہ فقہی تعبیرات و اصطلاحات کو عصر حاضر کی قانونی مصطلحات ، مروج تعبیرات اور معاصر ذہن سے ہم آہنگ الفاظ کا جامہ پہنانا ہے ،اس کام کا مقصد جدید تعلیم یافتہ حضرات ، اور جدید قانونی نظا م و اصطلاحات کے ماہرین   کے لئے فقہ اسلامی  کو عام فہم بنانا ہے ،ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ  محاضرات فقہ   کے ابتدائی تعارف میں  لکھتے ہیں :

"مزید برآں  کسی بھی علم وفن کی طرح   فقہ اور اصول فقہ کے کلیات کو بیان کرنے کا انداز اور اسلوب بھی ہرزمانے میں بدلتا رہتا ہے ،ایک زمانہ تھا مثلا ائمہ مجتہدین کا زمانہ ،جب ان کلیات کو خالص مذہبی عقائد اور تعلیمات کی زبان اور انداز میں بیان کیا جاتا تھا ۔چنانچہ امام شافعی اور امام محمد بن شیبانی اور ان جیسے دوسرے فقہا کی تحریروں میں شریعت کے کلیات بحث کرنے کا ایک خاص انداز پایا جاتا تھا ۔پھر جلد ہی ایک دور ایسا آیا جب فقہی اور اصولی مباحث منطق اور فلسفہ کے اسلوب میں بیان کیا جانے لگا ،اس اسلوب کا اعلی ترین نمونہ امام غزالی اور امام رازی کی تصنیفات میں نظر آتا ہے ،یہ اسلوب متقدمین  کے اسلوب سے بالکل مختلف ہے ،دور جدید میں مغرب کے تصورات اور مباحث نے فقہ اسلامی کے مباحث اور انداز گفتگو پر گہرا  اثر ڈالا ،آج عرب دنیا میں جو کتابیں لکھی جارہی ہیں ،ان میں خاصا بڑا حصہ ان کتابوں کا ہے جو مغربی قوانین کے اسلوب اور تصورات کے مطابق لکھی جارہی ہیں ،ان  حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو زبان میں بھی نئے اسلوب کے مطابق کتابیں   تیار کی جائیں تاکہ قانون دان حضرات اور وکالت پیشہ حضرات زادہ بہتر اور موثر انداز میں فقہ اسلامی کے موقف کو سمجھ سکیں4"

۳۔احکام کی نوعیت میں تجدید

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے حساس مرحلہ احکام کی نوعیت میں تجدید ہے ،وہ فقہی احکام جو عرف ،مصلحت ،سد ذریعہ  ،عموم بلوی ،اور متنوع احوال و ظروف  پر مبنی ہیں ،ان میں آج کے حالات کے مطابق   اور موجودہ ظروف کے موافق حکم نکالنا موجودہ حالات کا  سب سے بڑا تقاضاہے ،لیکن اس عمل میں ماضی سے مکمل ربط اور حال کا کامل ادراک بیک وقت ہونا چاہئے  ،ورنہ تجدید تحریف میں بدل سکتی ہے ۔

۴۔ درس و تدریس میں تجدید 

درس و تدریس میں تجدید فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ،نصاب اور طریقہ تدریس دونوں تجدید کے متقاضی ہیں ،اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قدیم طرز کے مدارس میں متاخرین کی کتب پر مکمل اعتماد ہے ،جن میں   احکام و اصول کی اصل روح سے زیادہ لفظی ابحاث پر زور ہے جبکہ جدید اداروں میں  تدریس کا سارا مواد جدید کتب ہیں  ،جن میں اکثر کتب  مرتب ہونے کے باوجود  اس فقہی عمق کی حامل نہیں ہیں ،جو فقہ کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے ،اس لئے درس و تدریس میں ہر فقہ کی   امہات الکتب کی طرف رجوع ہونا چاہئے ،نیز طریقہ تدریس میں بھی جدت وقت کا تقاضا ہے ،مناظرانہ و مباحثانہ طرز کی بجائے تقابلی جائزہ کو رواج دینا چاہئے  ۔

۵۔ شعبہ افتا ءمیں تجدید 

افتا ءفقہ اسلامی کے تطبیقی عمل کانام ہے ،جس کا ایک سرا کتاب اور دوسرا خارجی عمل ہے ،کتاب کے فہم میں خلل یا خارجی عمل کو سمجھنے میں نقص   سے   عمل فتوی  اپنی جاذبیت کھو بیٹھتا ہے ، اور وہ محض ایک موقف بن جاتا ہے ، جو جذبات ،میلانات  اور خواہشات و ترجیحات کے تابع ہوتا ہے ،بد قسمتی سے امت مسلمہ کے دور زوال میں عمل ِفتوی مناظرہ و مباحثہ کا مظہر بن گیا ہے ،  اس کے ساتھ جدت پسند حضرات اباحتِ کلی کے درپے ہیں ،جبکہ روایتی علما جمود پر عمل پیرا ہیں ،اس لئے شعبہ افتا میں  تجدیدی نوعیت کے کام وقت کی ضرورت ہیں ،منصب افتا ءکے لئے کڑی شرائط رکھنی چاہییں ،جس میں ایک طرف  تراث کا  گہرا مطالعہ شامل ہو اور دوسری طرف  موجودہ حالات و تغیرات کا مکمل احاطہ ہو ۔

۶۔طریقہ اجتہاد  میں تجدید 

اجتہاد کی تاریخ کا اگر تجزیہ کیا  جائے تو انفرادی اجتہاد کا غلبہ دکھائی دیتا ہے ،فقہ اسلامی کا اکثر حصہ انفراد ی کاوشوں کا نتیجہ ہے ،سوائے  امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کے ،جنہوں نے اجتماعی اجتہاد کی ابتدائی شکل کی  داغ بیل ڈالی تھی ،فقہ اسلامی کو درپیش معاصر چلینجز  اجتماعی اجتہاد سے حل ہونگے ،اس لئے عملِ اجتہاد کو  فرد کی سرگرمی سے نکا ل کر اجتماعی سرگرمی بنانا چاہئے ،دور حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے ادارے خوش آئند مستقبل کی نوید ہے ،مجمع الفقہ الاسلامی ،اسلامک فقہ اکیڈمی ،مجمع البحوث الاسلامیہ ،ھیئہ کبار العلما ،یورپی مجلس برائے افتا و تحقیق جیسے اداروں کی  منظور کردہ قرار دادیں طریقہ اجتہاد میں تجدید کی بہترین مثال ہے،اس کے علاوہ ریاستی سطح پر قوانین کو اسلامیانے کے لئے اجتماعی اجتہاد کے ادارے وقت کی ضرورت ہیں ،تاکہ اجتماعی اجتہاد سے کئے گئے فیصلے  قانونی حیثیت کے حامل ہو ں ،پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت اپیلٹ بینچ کو اس کی مثال میں پیش کر سکتے ہیں ۔

طریقہ اجتہاد میں تجدید کی دوسری سطح  مقاصدی اجتہاد کی وہ لہر ہے جو معاصر سطح پر اٹھی ہے ،مقاصدی اجتہاد وقت کی اہم ضرورت ہے اگر اسے  قواعد و ضوابط کا پابند کیا جائے ،اس سلسلے میں اہل علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افراط و تفریط سے ہٹ کر مقاصدی اجتہاد کے اصول ،حدود ،قیود اور طریقہ کار کو منضبط کریں ۔

۷۔امثلہ و جزئیات میں تجدید 

قدیم ذخیرہ  لاکھوں جزئیات و امثلہ سے عبارت ہے ،لیکن  اکثر جزئیات اس وقت کے تمدن اور  احوال  پر مبنی ہیں ،ان  قدیم جزئیات کا  طلبا کے ذہن پر غیر شعوری طور  پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ فقہ اسلامی کو  ایک زندہ جاوید فن کے طو ر پر نہیں دیکھتے  اور انہیں فقہ اسلامی قدیم  مقدسات کے قبیل  سے لگتی ہے ،دوسرا  نقصان یہ ہوتا ہے کہ قدیم جزئیات کے نواز ل پر  انطباق  کے لئے جس فقہی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ مفقود ہونے کی وجہ سے انطباق  کما حقہ نہیں ہوپاتا ،جس کی وجہ سے عمل  فتوی بھی  متاثر ہوتا ہے ،اس لئے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا  اہم ترین مرحلہ ان جزئیات کو حال سے جوڑنا ہے تاکہ فقہ اسلامی میں رواں دواں زندگی کی جھلک محسوس ہو ،یہ نہایت مشکل اور تفصیلی کام ہے ،جو انفرادی سطح کی بجائے اجتماعی کوششوں کا متقاضی ہے۔

امثلہ کی تجدید کا دوسرا مرحلہ اصول فقہ میں  قواعد کی تفہیم کے لئے دی  گئی امثلہ میں تجدید ہے ،عمومی طور پر اصول فقہ کے ذخیرے میں چند مثالیں ہیں ،جو ہر اصولی کتاب کی زینت ہیں  ،اس سے اصول فقہ کا تطبیقی عمل شدید متاثر ہوا اور اصول فقہ ، فقہ اسلامی  کی رگوں میں دوڑتے خون کی بجائے   چند نظری قواعد پر مبنی علم کی صورت میں سامنے آیا ہے ،اس لئے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ کتب اصول میں  مروج  امثلہ میں کم و کیف دونوں اعتبار سے بہتری لائی جائے ۔

۸۔مکاتب فقہیہ کے تقابل و مقارنہ میں تجدید 

مکاتب فقہیہ کا تقابلی مطالعہ ہماری فقہی روایت کا حصہ رہا ہے ،ائمہ مجتہدین کے دور سے اس کی داغ بیل پڑ گئی تھی ،امام محمد کی الحجہ علی اہل المدینہ ،اما م ابویوسف کی الرد علی  سیر الاوزاعی  اور امام شافعی کی الرد علی محمد بن الحسن تقابلی مطالعے کے اولین نقوش ہیں ،ان کتب  کا  انداز عمومی طور پر مباحثانہ رہا ہے ،جس میں مخالف نقطہ نظر کا تخطئہ،مرجوحیت اور اس میں پائے جانے والی کمزوریوں کی نشاندہی  کی کوشش  ہوتی ،اور اپنے موقف کی تقویت اور اصابت کے دلائل دئے جاتے ،یہی منہج بعد میں تقابلی مطالعے کا امتیاز قرار پایا ،اور یوں   مختلف مکاتب میں بحث و مباحثہ کا بازار گرم رہا ، اس منہج کا سب سے بڑا فائدہ دلائل کی تنقیح اور ان میں پائے جانے والی  فنی خامیوں کا تعین کی شکل میں سامنے آیا  ، انہی مباحثوں کی بدولت ہر  فقہی  مکتب نے اپنے مستدلات کو از سر نو منضبط کیا اور اپنے مواقف کے لئے دلائل کا  ڈھیر لگا دیا ،جس سے  منصوص مسائل    پوری طرح مبرہن ہوئے، دور جدید میں اس منہج کی تشکیل جدید کی ضرورت ہے اور تقابلی مطالعے  کا یہ قدیم انداز  تبدیل کرنے کی ضرورت  ہے ،تقابلی مطالعہ میں اس بات کی کوشش ہو کہ   مختلف اقوال کا تقابل عصر حاضر کے تناظر میں کیا جائے کہ آج جدید دور میں امت مسلمہ کی آسانی اور  نوازل و حوادث کو حل کرنے کے لئے کونسا قول زیادہ مناسب ،احوط اور قابل عمل ہے ۔نیز مختلف  آرا کا  بلا امتیاز مسلک مختلف پہلووں سے جائزہ  ہو ،قوت دلیل کے اعتبار سے ،احوط ہونے کے اعتبار سے ،تیسیر کے اعتبار سے وغیرہ ،مبادا اس  سے تلفیق کی طرف دعوت دینا  مقصود نہیں ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ   افتا ءبمذہب الغیر کی ضرورت کے وقت ان جیسی کتب کی طرف رجوع ہو اور کسی مسئلہ میں مختلف فقہی اقوا ل کا تیسیر ،احتیاط  ،تشدید اور دیگر پہلووں سے موازنہ و تقابل    کرنا آسان ہو ۔

۹۔مطالعہ تراث  کے منہج میں تجدید

ہمارے ہاں مطالعہ تراث کے محدود مقاصد ہیں ،درس و تدریس ،افہام و تفہیم ،توضیح و تشریح اور تعلیق و اختصار ، دور جدید میں اس منہج میں خاص طور پر یہ چیز  شامل کرنے کی ضرورت ہے کہ  تہذیب و تنقیح کے اعتبار سے  تراث کا مطالعہ و تحقیق ہو  ،فقہی تراث  میں مختلف اسباب  کی بنا پر     ایسی چیزیں پروان  چڑھیں ،جو اپنی اصل کے اعتبار سے  جس نوعیت کی تھیں ،آگے جاکر اس کی وہ نوعیت برقرار نہ  رہ سکی ، اس کی کچھ مثالیں علامہ ابن  عابدین شامی نے عقود رسم المفتی میں دی ہیں ،نیز بعض مسلم  مانے جانے والے تصورات  پر بھی از سر نو  تحقیق کی ضرورت ہے ،اس کی سب سے بہترین مثال معاصر محقق سائد بکداش کا کتابچہ  تکوین المذہب الحنفی مع تاملات فی ضوابط المفتی بہ  ہے ،جس میں محقق نے صاحبین کے اقوال کو فقہ حنفی کا حصہ سمجھنے پر نقد کیا ہے اور مفتی بہ قول کے بعض ضوابط پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے ۔ اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر  تراث کی تحقیق و تہذیب کی اچھی کاوش ہے۔ مطالعہ تراث کے اس منہج سے فقہی ورثہ میں نکھار آئے گا اور  حوادث زمانہ سے جمی گرد کی تہیں   اتریں گی ۔

۱۰۔مندرس مکاتب فقہیہ و مجتہدین کی آرا کی  تجدید 

تدوینِ فقہ کے دور میں عالم اسلام کے مختلف خطوں سے قا بل قدر مجتہدین اٹھے ،لیکن مختلف وجوہات و اسباب کی بنا پر چار کے علاوہ باقی مجتہدین کی  آرا حوادثِ زمانہ کی نذر ہوگئیں اور ان کے مستقل مقلدین  کا سلسلہ نہ چل سکا ،البتہ کتب میں ان کے اقوال اور ان کی فقہی ترجیحات بکھری پڑی ہیں ،دور جدید میں  ان مندرس مکاتب کے احیا کی ضرورت ہے ،تراث سے ان کی فقہی آرا ،ان کےپیش نظر اصول اور ان کی ترجیحات نکال کر انہیں ایک مرتب شکل دینے کی ضرورت ہے ۔فقہ اسلامی کی تشکیل جدید اور  نوازل فقہیہ کے حل میں ان اقوال و آرا سے بہت مدد مل سکتی ہے اور فکر و نظر کے نئے دریچے وا ہوسکتے ہیں ۔ معروف   شامی محقق رواس قلعہ جی کی کوششیں اس حوالے سے خشت اول کی حیثیت رکھتی ہیں  کہ انہوں نے فقہ السلف کے عنوان سے اٹھارہ کے قریب معجم تیار کئے ہیں ،جن میں سلف کے اقوال فقہیہ کو بالاستیعاب جمع کرنے کی کوشش کی ہے ،اب ان اقوال کی تہہ میں کار فرما اصول و قواعد  کی تخریج اور ائمہ اربعہ کے فقہی اصولوں سے اس کے تقابل کی ضرورت ہے ۔

بحث چہارم : فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کی معاصر کوششیں اور اس کے اثرات 

دور جدید فقہ اسلامی کے حوالے سے بیداری  و اٹھان کا دور ہے ،فقہ اسلامی کی مرحلہ وار  تا ریخ  لکھنے والے مصنفین نے  دور جدید کو فقہ اسلامی کا تجدیدی زمانہ  قرار دیا ہے 5، دور جدید میں فقہ اسلامی پر مختلف جہات سے کام ہوا ،نئے تصورات اور نئے طرز و اسلوب کی داغ بیل ڈالی گئی  اور فقہ اسلامی کو جدید ذہن اور جدید احوال و ظروف سے ہم آہنگ کرنے کے لئے  قابل قدر کوششیں ہوئیں ،ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

"بیسویں صدی کی آخرکی تین چوتھائیاں اور بالخصوص اس کا نصف ثانی فقہ اسلامی میں  ایک نئے دور کا آغاز ہے ،عرب دنیا میں اور غیر عرب مسلم دنیا میں عام طور پر فقہ اسلامی پر ایک نئے انداز سے کام کا وسیع پیمانہ پر آغاز ہوا ،ایسا کام جس کے مخاطبین مغربی تعلیم یافتہ لوگ اور مسلمانو ں میں  وہ لوگ تھے ،جو مغربی قوانین اور افکار سے مانوس یا متاثر ہیں6"

ذیل میں ان  کاوشوں کی اہم جہات کا ذکر کیا جاتا ہے :

۱۔ فقہ اسلامی کی تشکیل جدید  اور اس کے بنیادی خدوخال پر قابل قدر تصانیف منظر عام پر آئیں ،جن میں فقہ اسلامی کی تجدید کی صدا بلند کی گئی ،اس کا نقشہ کھینچا گیا ،اس کے اسباب و موانع پر بحث کی گئی  اور اس راہ میں حائل مشکلات و صعوبات کی نشاندہی کی گئی،ان تصانیف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان سے فقہ اسلامی کی تجدیدکی فکر کو مہمیز ملی ،علمی حلقوں کی توجہ مبذول ہوئی  اور  اس موضوع پر مختلف فورمز اور کانفرنسوں میں مباحثے و مکالمے ہوئے ،ان تصانیف میں شیخ ازہر علی جاد الحق کی تصنیف الفقہ الاسلامی  مرونتہ و تطورہ ،معروف فقیہ شیخ مصطفی احمد زرقا کی المدخل المفقہی العام ،شیخ جما  ل الدین عطیہ  اور شیخ وھبہ الزحیلی کی مشترکہ تصنیف تجدید الفقہ الاسلامی ،الدکتور عبد الوہاب ابو سلیمان کی منہج البحث فی الفقہ الاسلامی خصائصہ و نقائصہ ،مشہور مصری مصنف محمد سلیم العواکی ضخیم کتاب الفقہ الاسلامی فی طریق التجدید ،ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی الفقہ الاسلامی بین الاصالہ و التجدید ،جزائر یونیورسٹی سے  حوریہ تاغلابت کا لکھا ہوا پی ایچ ڈی کا ضخیم مقالہ الفقہ الاسلامی بین الاصالہ و التجدید،جما ل البنا کی نحو فقہ جدید ، ڈاکٹر حسن ترابی کی کتباور ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی محاضرات فقہ و محاضرات شریعت کے بعض خطبات  قابل ذکر ہیں ۔عالم اسلام کے مختلف خطوں سے مسلم مفکرین کی جانب سے فقہ اسلامی کی تجدید کی یہ صدائیں بہت موثر ثابت ہوئیں ،اور اس فکری صدا پر  عمل کی مختلف صورتیں سامنے آئیں ۔

۲۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں فقہ اسلامی  پر تجدیدی کام ہوا ہے ،اور جدید طرز و اسلوب پر فقہ اصول فقہ اور فقہ و اصو ل فقہ کے تعارف و تاریخ  کی کتب لکھی گئیں ہیں ،تجدیدی تصانیف کی  اہم انواع کا تذکرہ کیا جاتا ہے :

  1. جدید قانونی طرز پر فقہ اسلامی کی تدوین نو  جیسے  مجلہ الاحکام العدلیہ ،شیخ احمد القاری کی مجلہ الاحکام الشریعہ  اور  محمد قدوری پاشا کی مرشد الحیران وغیرہ
  2. فقہی موسوعات و انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری جیسےموسوعہ الفقہ الاسلامی  ، موسوعہ جمال عبد الناصر  فی الفقہ الاسلامی ،محمد  صدقی البورنو کی موسوعہ القواعد الفقہیہ وغیرہ
  3. فقہ و اصول فقہ کا مقارن مطالعہ جیسے وھبہ زحیلی کی الفقہ الاسلامی و ادلتہ ،ڈاکٹر عبد الکریم النملہ کی المہذہب فی اصول الفقہ المقارن
  4. مقاصد شریعت پر جدید انداز میں  تصانیف جیسے شیخ طاہر بن عاشور کی مقاصد الشریعہ الاسامیہ ،محمد سلیم العوا کی  مقاصد الشریعہ الاسلامیہ اور جما ل الدین عطیہ کی نحو تفعیل مقاصد الشریعہ وغیرہ
  5. فقہ اسلامی و مذاہب فقہیہ کی تاریخ و تعارف پر مبنی کتب جیسے شیخ خضری کی تاریخ التشریع الاسلامی، حجوی کی الفکر السامی وغیرہ
  6. معدوم فقہی مسالک و مجتہدین کے اوقوال فقہیہ کی جمع و تدوین نو جیسے محمد رواس قلعہ جی کے تیار کردہ معاجم
  7. عالم اسلام کی مختلف جامعات و یونیورسٹیوں سے جاری شدہ ماجستیر ،ایم فل و پی ایچ ڈی مقالات ،جو فقہ اسلامی کے مختلف پہلووں پر مشتمل ہیں  اور بلا شبہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔
  8. فقہ اسلامی کے مختلف ابواب  پر تفصیلی و ضخیم تصانیف  جیسے شیخ ابوزہرہ مرحوم کی الاحوال الشخصیۃ، شیخ عبدالقادر عودہ کی التشریع الجنائی الاسلامی مقارنا بالقانون الوضعی  وغیرہ
  9. قدیم تراث کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ اشاعت جدید جیسے الدکتور حسام الدین الفرفور کی نگرانی میں فتاوی شامی کی جدید اشاعت
  10. فقہی ویب سائٹس و سافٹ وئیر کی تیاری جیسے الشبکہ الفقہیہ وغیرہ7

۳۔فقہی مسائل پر اجتماعی غور و غوص کے ادارے وجود میں آئے  ہیں ،جن میں عالم اسلام کے ممتاز فقہا و قانون دان حضرات اہم مسائل پر مشترکہ غور و فکر اور بحث و مباحثہ کرتے ہیں اور اجماعی یا اکثریتی فیصلے کئے جاتے ہیں ۔یہ ادارے ملکی و بین الاقوامی دونوں سطح پر وجود میں آئے ،پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل ، المرکز العالمی الاسلامی (بنوں )مجلس  تحقیق مسائٍل حاضرہ (کراچی ) ،انڈیا میں اسلامک فقہ اکیڈمی ،مجلس تحقیقات شرعیہ   اور ادارہ المباحث الفقہیہ ،مصر میں مجمع البحوث الاسلامیہ ،سعودی عرب میں ھیئہ کبار العلما ، کویت میں الادارہ العامہ للافتاء،یورپ میں یورپی  مجلس برائے افتا و تحقیق ،امریکہ میں فقہائے  شریعت اسمبلی، شمالی امریکی فقہ کونسل ،جبکہ عالم اسلام کی  مشترکہ فورمز میں رابطہ عالم اسلامی کے تحت  مجمع الفقہ الاسلامی ،او آئی سی کے تحت مجمع الفقہ الاسلامی الدولی  اہم ادارے ہیں ۔ان اداروں سے سینکڑوں مسائل  پر فقہی فیصلے جاری ہوئے  ہیں ،انفرادی کاوشوں کی بنسبت یہ اجماعی کوششیں استناد ،قوت ،صحت اور ثقاہت  کے اعلی معیار پر ہیں  اور  عالم اسلام میں ان فیصلون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔

۴۔ دور جدید میں ریاستی سطح پر فقہ کو نافذ کرنے اور اسلامی ممالک کے دساتیر کو اسلامیانے کے عمل کا آغاز ہوا  اور مختلف اسلامی ممالک میں مختلف فقہی مکاتب کے نفاذ کی کوششیں ہوئیں ، یہ کوششیں اگرچہ زیادہ تر عائلی ،فوجداری اور بعض دیوانی  قوانین  میں ہوئیں ،لیکن بہر حال ان سے جدید  دور میں فقہ کے نفاذ اور جدید قوانین کی اسلامائزیشن کی راہیں ہموار ہوئیں ،پاکستان ،ہندوستان ،سعودی عرب ،مصر ،عراق اور شام میں یہ کوششیں بڑے پیمانے پر ہوئیں ، خاص طور پر پاکستان میں قرار داد مقاصد ،۱۹۷۳ کی اسلامی دفعات ،ضیا ءالحق  کے دور حکومت میں جاری کئے گئے آرڈیننس اور ریاستی سطح پر قوانین کو اسلامیانے کے عمل کو تیز تر بنانے کے لئے شریعت اپیلٹ بینچ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام فقہ اسلامی کے نفاذ کے لئے  اہم سنگ میل ہیں ۔

۵۔دور جدید میں فقہ الاقلیات  معاصر فقہا کا خصوصی موضوع ہے ،یورپ و امریکہ میں مقیم مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر خصوصی کام ہوا ہے  اور فقہ الاقلیات المسلمہ ایک ممتاز فقہی شعبہ بن گیا ہے ، جس کے اصول و فروع کے انضباط پر مستقل کام ہوا ہے ،اس حوالے سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی  فی فقہ الاقلیات المسلمۃ، سید عبد المجید بکر کی الاقلیات المسلمۃ فی اوروبا، محمد یسری ابراہیم کا ضخیم مقالہ فقہ النوازل للاقلیات المسلمہ تاصیلا و تفعیلا، علی بن نایف کی الخلاصۃ فی فقہ الاقلیات، اشرف عبدالعاطی کی فقہ الاقلیات المسلمۃ بین النظریۃ والتطبیق اور شیخ عبد اللہ بن بیہ کی صناعۃ الفتوی و فقہ الاقلیات اہم کتب ہیں ،اس کے علاوہ یورپی مجلس  برائے افتا و تحقیق اور اسلامک فقہ اکیڈمی کی منظور کردہ قرار دادیں فقہ الاقلیات کے مختلف پہلووں پر  اہم فیصلے ہیں ۔

۶۔جدید معاشیات کی اسلامائزیشن اور بینکنگ سسٹم کو اسلامی قوانین سے ہم آہنگ بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے ،خصوصا پچھلی تین چار دھائیوں سے  نوے فیصد فقہی کاوشیں مالیاتی نظام سے متعلق ہیں ،دور جدید میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے بڑا مظہر فقہ المعاملات المعاصرہ ہے ،اس فقہی پیراڈائم میں اگرچہ کافی چیزیں محل نظر ہیں  اور اس پر عالم اسلام کے مختلف خطوں سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے لیکن  یہ تنقیدیں   مزید نکھار اور  تنقیح و تہذیب  کا سبب ہیں ،جدید معاشی نظام کے اسلامیانے کا عمل اگر پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے اہم اور بنیادی مرحلہ عبور ہوجائے گا ۔

۷۔فقہ السیر کے میدان میں قابل قدر تجدیدی کام ہوا ہے ،ڈاکٹرحمید اللہ ،علی علی المنصور ،صبحی محمصانی ،شیخ ابوزہرہ ،شیخ وھبہ الزحیلی اور ڈاکٹر محمود احمد غازی   سمیت  نامور فقہا نے اس میدان میں قابل  قدر کتب لکھی ہیں ،لیکن اکیسویں صدی  میں فقہ السیر کو نئے چلینجز کا سامنا ہے ،خاص طور پر جہاد ،بغاوت، ارتداد،مسلم حکمرانوں کے فسق و تکفیر   اور ان کی اطاعت یا معزولی کا مسئلہ  اور مسلم معاشروں میں خود کش حملوں جیسے مسائل کا فقہ السیر کے اصولوں کی روشنی میں جائزہ لینا  وقت کی اہم ترین ضرورت ہے 8،مسلم امہ  خارجیت  کے افراط اور تجدد پسندی کی تفریط کے درمیان پِس رہی ہے ،بین الاقوامی حالات کے اتار چڑھاو سے لگ رہا ہے کہ اگلی صدی میں مسلم مفکرین کو فقہ السیر پر خصوصی  توجہ دینا پڑے گی ۔

۸۔جدید دور میں مختلف فقہی مکاتب میں  قربتیں بڑ ھ گئی ہیں  اور خاص طور پر اجتماعی فقہی اداروں کے قیام نے مکاتب فقہیہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،اور بقول ڈاکٹر غازی صاحب کہ دنیا ایک عالمی فقہ (کاسموپولیٹن  فقہ )کی طرف بڑھ رہی ہے ،جس میں چارو ں مکاتب سے اخذو استفادہ ہوگا ، البتہ اس  کے نتیجے میں  تلفیق بین المذاہب اور شواذ آرا  کے انتخاب کا رجحان پیدا ہورہا ہے ،جس سے ٹھیٹھ اور روایت پرست فقہا متفق نہیں ہیں ، اسلامی بینکاری کے جواز و عدم جواز پر مبنی  مباحثوں میں  خاص طور پر یہ دونوں رجحانات ممتاز طور پر سامنے آئے  ہیں ۔یہ دونوں رجحانات اپنے دلائل اور بنیادیں رکھتے ہیں  ،ان میں سے کس رجحان کو  قبو ل عام ملتا ہے ،اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔

اختتامی بات

جدید دور میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے بنیادی خاکے اور اس کی مختصر تاریخ  سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  جدید  تغیرات کے ساتھ چلنے کے لئے فقہ اسلامی کی مستحکم بنیادوں پر تشکیل جدید انتہائی اہم ترین کام ہے ،اس مضمون کا اختتام   فقہ اسلامی کی تشکیل جدید  کے سب سے بڑے داعی ،نامور قانون دان اور ممتاز فقیہ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ کی ایک عبارت پر کرنا چاہوں گا ،جس سے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کی اہمیت  و ضرورت واضح ہوتی ہے ،ڈاکٹر غازی صاحب رحمہ اللہ محاضرات فقہ کے آخری محاضرہ میں فرماتے ہیں :

"اگر دنیائے اسلام کا مستقبل خوشگوار ہے ،اگر د نیائے اسلام کی آئندہ زندگی کا نقشہ ان کی اپنی آرزووں اور تمناوں کی روشنی میں تشکیل پانا ہے ،اگر مسلم ممالک  کی آئندہ سیاسی زندگی خود مختار،آزاد اور باعزت  مستقبل پر مبنی ہے  اور یقینا ایسا ہی ہے تو ایسا صرف اور صرف ایک بنیاد پر ممکن ہے ،وہ یہ کہ مسلمان شریعت اسلامیہ کے بارے میں اپنے عمومی رویہ پر نظر ثانی کریں، دور جدید میں فقہ اسلامی کی فہم از سر نو حاصل کریں اور اس رشتہ گم گشتہ کو بازیاب کریں،جس سے ان کا تعلق گزشتہ کئی سو سال سے ٹوٹ گیا ہے یا کمزور پڑ گیا ہے ۔اس ساری صورتحال میں جو چیز ان کی زندگیوں کو نئی تشکیل عطا کر سکتی ہے ،وہ فقہ اسلامی کا نیا فہم ہے۔فقہ اسلامی کے نئے فہم سے ہر گز یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نیا فہم ماضی کے فہم  سے مختلف ہوگا ،یا اکابر فقہا ئے اسلام کے فہم و بصیرت پر عدم اعتماد کا غماز ہوگا ،بالکل نہیں ۔بلکہ یہ فہم ماضی کے فہم ہی کا تسلسل ہوگا۔یہ فہم صدر اسلام کے ائمہ مجتہدین کے فہم کا تسلسل اور احیا ہوگا ۔ جس انداز سے اسلام کے ابتدائی چار پانچ سو سال میں فقہ اسلامی نے ان کی رہنمائی کی ،اسی انداز کی  رہنمائی فقہ اسلامی مسلمانوں  کے مستقبل کے لئے کر سکتی ہے اور ان شاء اللہ کرے گی ۔9"


حواشی

1. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،اسلام کا قانون بین الممالک ، ص ۳۸، شریعہ اکیڈمی اسلام آباد  ۲۰۰۷۔

2. ڈاکٹر عمران احسن نیازی اور ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کا اس حوالے سے اختلاف معروف ہے۔

3. عطیہ ،جما ل الدین ،تجدید الفقہ الاسلامی ،ص ۷۵ ت ۱۴۰ دار الفکر بیروت ۲۰۰۰۔

4. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،محاضرات فقہ ، ص۷،۸الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور ۲۰۰۵۔

5. القطان ،مناع ،تاریخ التشریع الاسلامی ، ص ۳۹۷،مکتبہ المعارف، ریاض۱۹۹۶۔

6. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،محاضرات فقہ ، ص۵۳۳،الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور ۲۰۰۵۔

7. جدید دور کے فقہی ذخیرہ کے تفصیلی تعارف پر راقم الحروف کا مقالہ الشریعہ ج۲۶ شمارہ۵ اور ۶ میں شائع ہوچکا ہے۔

8. اردو میں اس حوالے سے اسلامک یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مشتاق صاحب کی کتاب" جہاد ،مزاحمت اور بغاوت اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں" اہم کتاب ہے۔

9. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،محاضرات فقہ ،ص ۵۱۶،۵۱۵،الفیصل ناشران و تاجران کتب ۲۰۰۵۔

فقہ / اصول فقہ

(جون ۲۰۱۸ء)

Flag Counter