شاتم رسول کی توبہ کا شرعی حکم

امام تقی الدین السبکی الشافعیؒ

(۹ ویں صدی ہجری کے ممتاز شافعی فقیہ اور مجتہد علامہ تقی الدین السبکیؒ نے اپنی معروف تصنیف ’’السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘ کی ایک مستقل فصل میں اس مسئلے پر مفصل کلام کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو تو ا س کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں۔ امام صاحب نے ایسے شخص کی توبہ قبول کرنے کے حق میں قرآن وسنت سے مثبت طور پر بھی دلائل پیش کیے ہیں اور اس ضمن میں پیش کیے جانے والے اشکالات کا بھی عالمانہ تجزیہ کیا ہے۔ توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے جاری مباحثہ کے تناظر میں، یہاں امام سبکی کی اس بحث کے بعض اہم اور نسبتاً عام فہم اجزا کی تلخیص پیش کی جا رہی ہے۔ عمار ناصر)


توبہ کی قبولیت کے حق میں دلائل

ایسے شخص کی توبہ کو قبول کرنے کے حق میں ہمارے دلائل حسب ذیل ہیں:

۱۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُل لِلَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِن یَنتَہُواْ یُغَفَرْ لَہُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ یَعُودُواْ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّۃُ الأَوَّلِیْنِ (الانفال: ۳۸)
’’کافروں سے کہہ دو کہ اگر وہ باز آ جائیں گے تو ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور اگر دوبارہ یہ راستہ اختیار کریں گے تو ان سے پہلے ایسے لوگوں کا انجام گزر چکا ہے۔‘‘

نیز ارشاد ہے:

قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللّٰہِ، إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعاً، إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ (الزمر: ۵۳)
’’کہہ دو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔ اللہ سب گناہوں کو معاف کر دینے والا ہے۔ بے شک وہ بخش دینے والا، بے حد مہربان ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

أُوْلَئَکَ جَزَآؤُہُمْ أَنَّ عَلَیْْہِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَالْمَلآئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ، خَالِدِیْنَ فِیْہَا، لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنظَرُونَ، إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران: ۸۷۔۸۹)
’’ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور لوگوں، سب کی لعنت ہے۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔ ہاں، جو لوگ اس کے بعد توبہ کر کے اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

یہ آیات مرتد کی توبہ قبول کرنے کے معاملے میں نص ہیں اور سب وشتم کی وجہ سے مرتد قرار پانے والا بھی ان کے عموم میں داخل ہے۔

۲۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

فَإِن یَتُوبُوا یَکُ خَیْْراً لَّہُمْ وَإِن یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْہُمُ اللّٰہُ عَذَاباً أَلِیْماً فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَمَا لَہُمْ فِیْ الأَرْضِ مِن وَلِیٍّ وَلاَ نَصِیْرٍ (التوبہ: ۷۴)
’’اب اگر یہ توبہ کر لیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوگا اور اگر واپس پلٹ جائیں تو اللہ انھیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین میں انھیں نہ کوئی دوست میسر ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔‘‘

یہ آیت رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے غزوۂ تبوک کے موقع پر اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ’’ہماری اور محمد کی مثال (نعوذ باللہ) وہی ہے جو اس مقولے میں بیان کی گئی ہے کہ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تمھیں ہی کھا جائے۔ اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو ہم میں سے عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا۔‘‘ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ان منافقین کے بارے میں آیت یہ کہہ رہی ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے، ورنہ انھیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دیا جائے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کی توبہ قابل قبول ہے اور اس کی وجہ سے ان سے دنیا اور آخرت کی سزا ٹال دی جائے گی۔

۳۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :

’’الاسلام یجب ما کان قبلہ‘‘۔ 
’’اسلام ان گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کیے گئے ہوں۔‘‘

یہ بات آپ نے ہبار بن الاسود بن عبد المطلب کے بارے میں فرمائی تھی۔ آپ نے اس کے بارے میں قتل کا حکم دے رکھا تھا، لیکن اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کلمہ پڑھا اور کہا کہ میں آپ کو برا بھلا کہنے اور ایذا دینے میں حد سے تجاوز کر گیا تھا، لیکن آپ مجھ سے درگزر فرمائیے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’قد عفوت عنک والاسلام یجب ما کان قبلہ‘‘۔ (میں نے تمھیں معاف کر دیا اور اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے)۔ اس ارشاد کی رو سے قبول اسلام کے بعد آدمی کا وہ جرم بھی معاف ہو جائے گا جس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق سے ہو، کیونکہ آپ نے خود ایسے شخص کے قبول اسلام کے بعد اپنے حق کو معاف کر دیا ہے۔ گویا آپ کے اس ارشاد کی یوں تعبیر کی جا سکتی ہے کہ ’’جو شخص اسلام قبول کر لے، میں نے اسے معاف کر دیا۔‘‘ 

۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لا یحل دم امرئ یشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ الا باحدی ثلاث: الثیب الزانی والنفس بالنفس والتارک لدینہ المفارق للجماعۃ۔
’’جو شخص لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو، اس کو تین صورتوں کے علاوہ قتل کرنا جائز نہیں۔ ایک شادی شدہ زانی، دوسرا جسے قصاص میں قتل کیا جائے اور تیسرا وہ جو دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔‘‘

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ جرائم کے علاوہ کسی کو قتل کرنا جائز نہیں اور چونکہ گستاخی کا مرتکب دوبارہ اسلام قبول کر لینے کے بعد اس زمرے میں نہیں آتا، اس لیے اس کو قتل کرنا بھی جائز نہیں۔ 

۵۔ سب وشتم کے بعد توبہ کرنے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہے اور معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ اب اگر یہ مانا جائے کہ (سب وشتم کے بعد توبہ کر کے) حالت اسلام میں مرنے والے کے ذمے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق باقی ہے، کیونکہ دنیا میں اسے اس کی سزا نہیں دی گئی، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے شخص کو جب تک آپ خود قیامت کے دن معاف نہیں کریں گے، وہ جنت میں نہیں جا سکے گا۔ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت حال پر کبھی خوش نہیں ہو سکتے کہ آپ کی امت کے کسی فرد کے جنت میں جانے میں کسی دوسرے آدمی کے حق کی وجہ سے، چہ جائیکہ خود آپ کے حق کی وجہ سے، تاخیر ہو جائے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اپنے بعد اپنی امت کے ایسے تمام افراد پر اپنے حق کے تحت لازم ہونے والی سزا کو آپ معاف فرما چکے ہیں)۔

مزید برآں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والے پر قیاس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کی توبہ قبول کی جائے، کیونکہ اللہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل کی سزا اس سے ساقط ہو جائے گی۔

توبہ کی قبولیت پر اشکال کا جواب

یہ اشکال پیش کیا جا سکتا ہے کہ سب وشتم حق اللہ نہیں، بلکہ حق العبد ہے اور حق العبد توبہ سے معاف نہیں ہوتا، بلکہ صاحب حق کے معاف کرنے سے معاف ہوتا ہے۔ اب چونکہ آپ خود موجود نہیں جبکہ کسی دوسرے کو آپ کا یہ حق معاف کرنے کا اختیار نہیں تو آپ کا حق کیسے ساقط ہو سکتا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ یہ حق العبد ہے، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رافت ورحمت اور شفقت کی وجہ سے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے۔ ہاں اگر اللہ کی قائم کردہ حرمتیں پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقال لیتے تھے۔ سب وشتم کا ارتکاب کرنے والا اللہ کے نبیوں کو برا بھلا کہہ کر دراصل اللہ کی حرمت کو پامال کرتا ہے، اس لیے اگر وہ سب وشتم کے بعد اپنے کفر پر قائم رہے تو اس پر قتل کی سزا لازم ہوگی، لیکن توبہ کر کے اسلام قبول کر لینے کی صورت میں حق اللہ اس سے ساقط ہو جائے گا۔ جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کا تعلق ہے تو جب آپ نے خود اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا تو آپ کی وفات کے بعد کیسے آپ کی ذات کے لیے انتقام لیا جا سکتا ہے؟ دراصل اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حق کو حق اللہ کے تابع کر دیا ہے، اس لیے جب اصل یعنی حق اللہ ساقط ہوگا تو اس کے تحت حق العبد بھی ساقط ہو جائے گا۔

اس پر اتفاق ہے کہ حق اللہ کے طو رپر شاتم رسول کو قتل کرنا لازم نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے معاف کرنے کا حق تھا، اسی لیے آپ نے ابو سفیان، عبد اللہ بن ابی سرح اور دوسرے بہت سے ایسے افراد کو معاف کیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد کسی کو قتل نہیں کیا۔ اگر شاتم رسول کو حق اللہ کے طور پر قتل کرنا لازم ہوتا تو آپ ان لوگوں کے قبول اسلام کے بعد بھی اس کو ترک نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے شخص کو قتل کرنا دراصل حق اللہ کے طو رپر تھا، کیونکہ اپنی ذات کے لیے تو آپ انتقام لیتے ہی نہیں تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی ظرفی سے یہ معلوم ہو گیا کہ آپ اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیتے تھے اور امت پر ان کی اپنی جانوں سے بھی بڑھ کر رحم کرنے والے تھے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اپنے گستاخ کو معاف کرنے پر راضی ہیں، چنانچہ شاتم رسول کے دوبارہ اسلام قبول کرنے کی صورت میں اگر اسے معاف کیا جائے تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا شامل ہوگی۔

اصل یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنی کسی گستاخانہ بات سے) غصہ دلائے، آپ کو اسے قتل کرنے کا اختیار تھا۔ اب یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک آپ کی ناراضی برقرار ہو۔ جب آپ (توبہ کی وجہ سے) اس شخص سے راضی ہو گئے تو قتل کا حکم بھی خود بخود زائل ہو گیا۔ گویا قتل کا مدار سب وشتم پر نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی پر ہے۔ جہاں آپ کی ناراضی موجود ہوگی، وہاں قتل کرنا جائز ہوگا اور جہاں ناراضی ختم ہو جائے گی، وہاں قتل کی سزا بھی باقی نہیں رہے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کو راضی کیا جاتا تو آپ راضی ہو جاتے تھے۔ جب آپ کو سب وشتم کرنے والا دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آنے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا مورد نہیں رہتا تو اسے کیسے قتل کیا جا سکتا ہے؟

یہ اشکال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ حدیث میں ہے کہ ’’من سب نبیا فاقتلوہ‘‘۔ (جو شخص کسی نبی کو برا بھلا کہے، اس کو قتل کر دو)۔ یہ ارشاد ایسے شخص کے مستوجب قتل ہونے کے لیے کافی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘۔ (جو شخص اپنا دین بدل لے، اس کو قتل کر دو) ظاہر ہے کہ اس سے یہ استدلال درست نہیں کہ مرتد کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح ’’من سب نبیا فاقتلوہ‘‘ کو بھی توبہ کے قابل قبول نہ ہونے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ سب وشتم کا مرتکب کی توبہ میں اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو شک وشبہے کا موجب ہوں اور وہ خبث باطن سے متہم ہو تو ایسے شخص کی توبہ قبول کرنے کے بارے میں تو اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن قوی بات یہی ہے کہ اس کے اسلام کو قبول کر لیا جائے او ر قتل کی سزا ٹال دی جائے، جبکہ اگر توبہ کرنے والے کی حسن نیت کے آثار اور قرائن ظاہر ہوں تو میرے نزدیک اس کی توبہ کو قبول کرنا اور اس سے قتل کی سزا کو ٹال دینا قطعی طور پر لازم ہے۔ ایسے شخص کو قتل کرنے پر اصرار کرنا ایسا جمود ہے جس کی بنیاد کسی صریح، واضح اور قوی دلیل پر نہیں، بلکہ مجھے خدشہ ہے کہ اگر اسے قتل کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کے بارے میں باز پرس فرمائیں گے۔

فقہ / اصول فقہ

Flag Counter