یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

انڈیا میں سپریم کورٹ نے یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کے بارے میں متبادل قانون سازی کی ہدایت کی ہے جس پر مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل آیا۔ کچھ اہل علم نے اسے دین میں مداخلت قرار دیا جبکہ کچھ دوسرے حضرات نے مختلف فقہی آراء میں سے ایک رائے کو ترجیح دینے کا کورٹ کا جائز حق بتایا۔ بالعموم مسلم سماج میں مسائل کو فقہی مذاہب کی روشنی میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نظری طور پر فریق مخالف کے درست ہونے کے امکان کو ماننے کے باوجود عملاً ہر فریق صرف اپنے فقہی موقف کو ہی درست مانتا ہے۔ ہمارے سماج میں ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کی تلاش میں واپس اصلی مآخذ تک رسائی اور ان سے استفادہ کا منہج اختیار کیا جائے۔ ہر فریق اپنے مکتب فکر کے متداول فتاوی کو ہی آخری سند کا درجہ دیتا ہے۔ تاہم درست علمی منہج یہ ہے کہ نئی مشکلات میں ہمیں واپس کتاب و سنت سے رجوع کر کے اپنی مشکلات کا قابل عمل حل تلاش کرنا چاہیے۔

طلاق کے حوالے سے اگر کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ نے نکاح و طلاق کے ادارے کی از سر نو تنظیم کی ہے۔ جہاں تک طلاق کا تعلق ہے تو :

طلاق کی ضرورت پیدا ہونے کی ابتدا میں ہی میاں بیوی کے درمیان اختلافی امور پر تبادلہ خیال، عارضی ترک تعلق، معمولی تنبیہ اور ان کوششوں کے کامیاب نہ ہونے کی صورت میں دونوں خاندانوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کے مدارج بیان کئے گئے۔ (النساء ۴: ۳۴، ۳۵) گویا طلاق کوئی ناگہانی آفت کی طرح نازل ہونے والی شے نہیں بلکہ طویل غور وخوض اور مشاورت کے بعد کیا جانے والا ایک آخری اور نا پسندیدہ اقدام ہے۔

طلاق دینے کا وقت طے کیا گیا کہ ایسے وقت میں طلاق دی جائے جب میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف شدید رغبت کی کیفیت میں ہوں۔ (الطلاق ۶۵: ۱)

ایک وقت میں ایک ہی طلاق دی جائے۔ ضرورت ہو تو دوسری اور تیسری دی جا سکتی ہے۔

طلاق کی زیادہ سے زیادہ تعداد مقرر کر دی گئی۔ 

یکبارگی طلاقوں کی کوئی پروویژن نہیں رکھی گئی۔

آخری اور تیسری طلاق کے سوا ہر طلاق کے بعد مصالحت یا تجدید طلاق کی گنجائش دی گئی۔ 

خاتون کو خلع کی صورت میں حق طلاق دیا گیا۔ (البقرۃ ۲: ۲۲۹، ۲۳۰، ۲۳۱)

ایلاء اور ظہار کو طلاق کے دائرے سے نکال کر ان کے ایسے احکام دیے گئے جن کے باعث کسی خاتون سے ظلم ہونے کا امکان نہ رہے۔ (البقرۃ ۲: ۲۲۶۔ المجادلہ ۵۸: ۱ تا ۴)

قرآن حکیم میں یکبارگی دی گئی تین طلاقوں کے حوالے سے کوئی حکم نہیں ہے بلکہ یکے بعد دیگرے اور الگ الگ طہر میں طلاق دینے کا حکم یکبارگی تین طلاقوں کی اجازت نہیں دیتا۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو مختلف احادیث کی بنا پر مختلف فقہی مکاتب فکر الگ الگ موقف رکھتے ہیں۔ ایک فریق کے نزدیک یکبارگی کی تین طلاق تین ہو جاتی ہیں۔ دوسرے فریق کے نزدیک یکبارگی کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے۔ تیسرے فریق کے مطابق یکبارگی کی تین طلاق سرے سے ایک بھی نہیں ہوتی۔

ہر فریق احادیث سے استدلال کرتا ہے اور دوسرے فریق کی مستدل احادیث کو ضعیف قرار دیتا ہے. اس صورت حال میں احادیث کی بنا پر کوئی قطعی فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کو تین قرار دے کر نافذ کر دیا تھا جسے بیشتر صحابہ کرام کی تائید حاصل تھی اور اہل سنت کے چاروں ائمہ نے اپنی اپنی فقہ میں اسی فیصلے کو برقرار رکھا اس لیے اسے زیادہ مستند قرار دیا جاتا ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دور خلافت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی، جلدی شروع کر دی ہے۔ پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چنانچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہو جانے کا حکم دے دیا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: ۱۴۷۲)

لیکن اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سابقہ طرز عمل میں تبدیلی کی ضرورت کیوں محسوس کی اور وہ کیا اسباب تھے جن کی بنا پر انہوں نے ایک گنجائش ختم کردی اور کیا اب بھی حالات و واقعات اسی فیصلہ کے متقاضی ہیں یا حالات و زمانے کی تبدیلی سے اس فیصلے میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے؟

آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کی مذہبی اور سماجی اساسیات کا جائزہ لیتے ہیں :

قرآن نے یکے بعد دیگرے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ یکبارگی تین طلاق دے کر شوہر جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اس لیے اسے اس کی سزا ملنا چاہیے تھی۔

عرب معاشرے میں اس وقت بھی اور آج بھی خواتین کو بھاری مقدار میں مہر دینے کا رواج تھا۔ قرآن نے ڈھیروں سونا چاندی دینے کا ذکر کیا، (النساء ۴:۲۰) اور حدیث میں مہر میں باغات دینے کا تذکرہ ملتا ہے:

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس سے کسی بری عادت یا دینداری کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں، لیکن میں حالت اسلام میں ناشکری نہیں کرنا چاہتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کا باغ اس کو واپس کرنے کو تیار ہے ، اس نے کہا ہاں! آپ نے ثابت بن قیس سے فرمایا کہ اس کا باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دے دو۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث: ۵۲۷۳)

مہر کی ادائیگی اور اس پر عورت کا قطعی حق:

مہر نکاح کے وقت یا نکاح سے قبل ادا کر دیا جاتا تھا۔ بیوی مہر میں ملنے والی جائداد کی قطعی مالک ہوتی تھی اور شوہر یا کسی دوسرے فرد کا اس سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہوتا تھا۔ (النساء ۴: ۳۲) اگر بیوی کو طلاق ہو جاتی تو وہ اپنا مہر لے کر شوہر سے الگ ہو جاتی۔

طلاق کے بعد بچوں کی ذمہ داری:

اگر اس کے بچے ہوتے تو ان کی تمام تر ذمہ داری شوہر کی ہوتی، ان کے تمام اخراجات، تعلیم اور دیگر ضروریات شوہر نے پورے کرنے ہوتے۔ اگر چھوٹے بچے ہوتے جنہیں مطلقہ ماں پال رہی ہوتی تو نہ صرف ان کے اخراجات بلکہ ماں کی مصروفیات کی اجرت بھی شوہر کے ذمے تھی۔ (البقرۃ ۲: ۲۳۳)

عرب معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ سے شادی کرنے کا عام رواج:

اس سماج میں مطلقہ یا بیوہ کے لیے دوبارہ شادی کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ان کے لیے مواقع وسیع اور انتخاب کا تجربہ مستزاد ہوتا۔ یہ رواج اس قدر عام تھا کہ قرآن کو کہنا پڑا کہ ایسی خواتین سے عدت کے دوران عہد و پیمان نہ لے لیا کرو اور انہیں سکون سے عدت پوری کرنے دیا کرو۔ (البقرۃ ۲: ۲۳۵)

عرب معاشرے میں طلاق اور دوسری شادی کا بھار مرد پر پڑنا:

دوسری شادی پر عورت کو مزید بھاری بھر کم مہر ملتا جب کہ سابقہ شوہر کو نئی شادی کرنے کے لیے مزید مالی وسائل کی ضرورت ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ عرب سماج میں بیوہ یا مطلقہ خواتین خاصی مال دار ہوجایا کرتی تھیں۔

قرونِ اولیٰ میں تین طلاق کو نافذ کرنے کا نقصان کس فریق کو ہوتا؟

اس ساری صورت حال میں یکبارگی تین طلاق کو نافذ کرنے کا نقصان عورت کو نہیں بلکہ مرد کو تھا اور اکٹھے تین طلاق دینے کا جرم اسی نے کیا تھا، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے اس جرم کی سزا ملنی چاہیے تاکہ لوگ یکبارگی تین طلاق دینے سے باز رہیں۔ اس فیصلے کے وقت ان کے الفاظ بھی یہی تھے کہ جس کام کو بہت غور و فکر کے بعد کرنا چاہیے تھا، اسے یک دم کرنے والے کو کیوں نہ سزا دی جائے۔ عرب سماج کے لیے تب بھی یہی فیصلہ قرین انصاف تھا اور آج بھی یہی فیصلہ معقول ہے لیکن ہمارے سماج میں صورت حال بالکل اس کے بر عکس ہے :

  1. بیوی کو یا تو نقد مہر دیا ہی نہیں جاتا اور اگر دیا جاتا ہے تو اس کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے ایک مہینے کے یوٹیلیٹی کے بلز تک ادا نہیں کئے جا سکتے۔
  2. خواتین اپنے مال پر آزادانہ تصرف کا اختیار نہیں رکھتیں۔
  3. کسی بھی شام بیوی کو مار پیٹ کر بچوں سمیت گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے اور بہت دفعہ اس پر نیلی چھتری کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوتا۔
  4. بچوں کی ذمہ داری باپ نہیں اٹھاتا۔
  5. ہمارے سماج میں جس لڑکی کی منگنی ٹوٹ جائے، اس کی شادی ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔ بیوہ یا مطلقہ کو کہاں شوہر مل سکتا ہے۔

اس سماجی تفاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں طلاق کی صورت میں سزا مرد کو نہیں بیوی کو ملتی ہے۔

مزید یہ کہ جہالت، دین سے بے بہرہ ہونے اور اجڈ پن کی وجہ سے طلاق اچانک اور یکبارگی تین دے دی جاتی ہیں جو ایک خاندان، دو گھرانوں اور بچوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ ایسے میں یکبارگی تین طلاق کو نافذ کرنا مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ مظلوم پر مزید ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ حالات و زمانے کی تبدیلی کی رعایت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے سماج میں یکبارگی دی جانے والی تین طلاق کو ایک قرار دیا جائے جیسا کہ عہد نبوی اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں یہی قانون تھا، نیز کئی ایک صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ کرام کی بھی یہی رائے ہے۔ نیز اگر حکومت مختلف فقہی آراء میں سے کسی ایک رائے کو قانون کا درجہ دے دے تو وہ رائے مرجوح ہو، تب بھی فتوے اور فیصلے اسی کے مطابق کیے جائیں گے۔

یوں بھی نکاح و طلاق کے قوانین سول لا کا حصہ ہیں اور نصوص کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے حکومت کو سول لا میں تبدیلی کا اختیار ہوتا ہے۔

فقہ / اصول فقہ