فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج

محمد عمار خان ناصر

(زیر طبع کتاب کے دیباچے سے اقتباس)

حدیث وسنت سے متعلق اسلامی فقہی روایت میں جو مباحث پیدا ہوئے، ان کے تناظر میں کسی بھی فقیہ یا فقہی مکتب فکر کے زاویہ نظر کو سمجھنے کے لیے تین بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے:

ایک یہ کہ سنت کی تشریعی حیثیت اور خاص طور پر اخبار آحاد سے متعلق اس کا موقف کیا ہے؟

دوسرا یہ کہ اس مکتب فکر میں اخبار آحاد کی تحقیق وتنقید کے لیے کون سے اصول اور معیارات برتے گئے ہیں؟

اور تیسرا یہ کہ حدیث سے احکام کے استنباط اور ان کی تعبیر وتشریح کے ضمن اس کا منہج کیا ہے اور یہ علمی سرگرمی اس کے ہاں کون سے اصولی تصورات اور کن علمی قواعد کی روشنی میں انجام دی جاتی ہے۔

میری سابقہ کتاب “فقہائے احناف اور فہم حدیث: اصولی مباحث” میں ان تینوں سوالات کے حوالے سے ایک بنیادی سطح پر حنفی اہل علم کے انداز فکر کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بحمد اللہ حنفی منہج کی خصوصیات اور خط وخال کے ابتدائی یا متوسط تعارف کے لیے کافی حد تک کفایت کرتی ہے۔ اسی وجہ سے خیال تھا اور مذکورہ کتاب کے دیباچے میں وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ اگلے مرحلے پر ان اصولوں کی روشنی میں فقہی روایت کے اہم اختلافی مباحث کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا تاکہ اطلاق وانطباق کی سطح پر بھی حنفی فقہاءکا انداز فکر منقح ہو کر سامنے آ سکے۔ یہ کام، جیسا کہ اسی دیباچے میں عرض کیا گیا، کافی حد تک کیا بھی جا چکا ہے اور اسے حتمی شکل دے کر ان شاءاللہ جلد شائع کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی موجود تھا کہ مذکورہ کتاب میں ایک تو کئی اہم اور بنیادی سوالات، مثلاً قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور تعارض کی صور ت میں تطبیق یا ترجیح وغیرہ کے حوالے سے حنفی منہج پر سرے سے کلام ہی نہیں کیا جا سکا اور دوسرے یہ کہ جن اصول وقواعد کا ذکر ہوا ہے، وہ بہرحال تمہیدی اور ابتدائی نوعیت ہی کا ہے جن کی مزید تفصیل کی ضرورت ہے۔

اس تناظر میں جب شیخ زاید اسلامک سنٹر (جامعہ پنجاب، لاہور) میں پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے موضوع کے انتخاب کا مرحلہ پیش آیا تو قدرتی طور پر اسی عنوان کی طرف توجہ مبذول ہو گئی اور اساتذہ کے مشورے اور راہ نمائی سے “فقہ الحدیث میں ائمہ احناف کا اصولی منہج: اہم اختلافی مباحث کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ” کا عنوان تحقیق کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ تین سال کے عرصے میں جناب پروفیسر ڈاکٹر ابو الوفا محمود کی نگرانی میں مقالہ کی تسوید مکمل ہوئی اور بحمد اللہ ۱۵/ فروری ۲٠۱۹ءکو زبانی امتحان کے بعد ۲۲/ فروری کو جامعہ پنجاب کی طرف سے مقالہ نگار کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

زیر نظر کتاب میرے پی ایچ ڈی کے اسی مقالے کے بعض ابواب پر مشتمل ہے جس میں بعض فصول (مثلاً “پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیار کی نوعیت” ، “تشریعی احکام اور امور عادیہ میں امتیاز” اور “حدیث کی تشریح میں صحابہ کے فہم کی حیثیت”) کا اضافہ کیا گیا ہے جو بعض وجوہ سے مقالے میں شامل نہیں کی جا سکی تھیں۔ کتابی صورت میں اشاعت کے لیے مسودے پر تفصیلی نظر ثانی کی گئی ہے اور حسب ضرورت مضامین کی ترتیب نو کے علاوہ ضروری حک واضافہ بھی کیا گیا ہے۔ طوالت نیز موضوعات کے کسی قدر مختلف ہونے کے باعث مقالے کے تمام مباحث کو یکجا شائع کرنا مناسب محسوس نہیں ہوا اور دیگر ابواب کو اپنے موضوع پر مستقل تصانیف کا حصہ بنانا زیادہ مفید معلوم ہوا جو ان شاءاللہ اپنے وقت پر منظر عام پر آجائیں گی۔

موضوع کے انتخاب اور اس کی تحدید وتعیین سے لے کر مقالہ کی تکمیل تک مقالہ نگار کو جن شخصیات اور اساتذہ کی راہ نمائی اور سرپرستی حاصل رہی، ان سب کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر محمد اعجاز اور دیگر اساتذہ (ڈاکٹر محمد عبد اللہ، ڈاکٹر حافظ مفتی عبد الباسط، ڈاکٹر حافظ عبد القیوم اور ڈاکٹر اشتیاق احمد گوندل) نے اس موضوع کے انتخاب کے حوالے سے بھرپور حوصلہ افزائی کی، خاص طور پر ڈاکٹر حافظ محمد عبد اللہ صاحب نے موضوع کی تحدید وتعیین کے ضمن میں قیمتی راہ نمائی کی۔ مقالہ کے نگران جناب پروفیسر ڈاکٹر ابو الوفا محمود نے بڑی محبت اور توجہ سے مقالہ کے مندرجات کو ملاحظہ فرمایا اور اصلاحی تجاویز سے اس کی خامیوں کو کسی قدر کم کرنے میں مدد کی۔ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے بطور خاص اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر پورے مسودے پر ناقدانہ نظر ڈالی اور قابل اصلاح امور کی طرف توجہ دلائی۔ مقالے کے ممتحنین جناب ڈاکٹر خالد عرفان ڈھلوں اور جناب ڈاکٹر محمد اکرم رانا نے مقالے کے علمی معیار پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے مصنف کی علمی حوصلہ افزائی بھی کی اور بعض اہم تجاویز سے بھی نوازا۔ میں ان سب حضرات کا تہہ دل سے ممنون اور ان کے علم وعمل میں برکت کے لیے دعا گو ہوں۔

میں نگران مقالہ جناب ڈاکٹر ابو الوفا محمود اور شیخ زاید اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر محمد اعجاز صاحب کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس مقالے کی اشاعت کی اجازت عنایت کی۔ یہاں یہ وضاحت برمحل ہوگی کہ مقالہ کے مندرجات، معروف علمی اصول کے مطابق، مقالہ نگار کے ذاتی نتائج فکر پر مبنی ہیں۔ نگران مقالہ یا شیخ زاید اسلامک سنٹر کے ذمہ داران کا ان سے کلی اتفاق ضروری نہیں اور ان کی طرف سے مقالہ کی اشاعت کی اجازت علمی دنیا کے اسی معروف پر مبنی ہے۔

کتاب محل کے منتظم برادرم محمد فہد دلی شکریے کے حق دار ہیں کہ پورے مقالے کی تسوید کے دوران میں حسب سابق مسلسل اس کی تکمیل کے متعلق دریافت کرتے رہے اور اس کی اشاعت کی پرجوش خواہش کے اظہار سے مصنف کو بھی تحریک دیتے رہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو جن کا اس کتاب کی تکمیل اور اشاعت میں کسی بھی درجے میں اور کسی بھی نوعیت کا کوئی حصہ ہے، اپنی شان کے مطابق بہترین اجر عطا فرمائے اور اسے مصنف کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے۔ آمین۔ مجھے امید ہے کہ اسلامی علمی روایت سے عموماً اور فقہ حنفی سے خصوصاً دلچسپی رکھنے والے اہل علم اس ناچیز کاوش کو کسی قدر فائدہ مند پائیں گے اور یہ، ان مباحث میں سنجیدہ دلچسپی کو کماً وکیفاً بڑھانے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا سکے گی۔ وما توفیقی الا باللہ۔


فقہ / اصول فقہ