جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۱)

مولانا محمد اشفاق

انسانی جسم میں بعض تصرفات خصوصاً عورتوں سے متعلقہ چند افعال   سے احادیث ِ مبارکہ میں سختی  سے منع کیا گیا ہے ،اور ان پر لعنت بھی کی گئی ہے ؛جیسے بالوں میں دوسرے بال ( وصل  کرنا یا کروانا)لگوانا،جسم کو گودنا یا گدوانا( وشم)، ابرؤوں کو باریک کروانا( نمص) دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانا( تفلیج) ۔  انھی میں جدید دور کے بعض جمالیاتی تصرفات کو بھی شامل کیا جاتاہے ،جیسے  چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کےلیے یا اس طرح کے دوسرے مقاصد کےلیے سرجری کروانا وغیرہ ۔اس طرح کے افعال سے ممانعت کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس میں اللہ کی بنائی ہوئی جسمانی ساخت میں تبدیلی ہے جسے " تغییر خلق اللہ " کہا جاتاہے ۔ حدیث کے بعض الفاظ سے  بھی اس علت کاپتا چلتاہے ،اس لیے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت میں تغییر خلق اللہ کو کس نظر سے دیکھا گیا ہے ۔ اگر تغییر خلق اللہ سے ممانعت ہے تو کیا وہ عمومی اور مطلق ہے ۔ اور کیا بذاتِ خود تغییر خلق اللہ سے منع کرنا مقصود ہے یا یہ حکم معلول بالعلۃ ہے ، یعنی اصل مقصود کسی اور برائی سے منع کرنا ہے جو تغییر خلق اللہ میں بھی پائی جا سکتی ہے  ؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم  بن جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی ایسا معاملہ ہے  جس کی بعض صورتیں تو بالکلیہ ناجائز ہیں، لیکن کچھ صورتیں ایسی بھی ہیں کہ جہاں تبدیلی کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ وہاں شریعت کا مطالبہ ہے کہ تبدیلی کی جائے ،اور شریعت اس تبدیلی کرنے پر بھی اجرو ثواب کامستحق بناتی ہے جیسا کہ ہم آگے چل کر ذکر کریں گے ۔ بہرحال سوال یہ پیدا  ہوتاہے کہ مذکورہ بالا جسمانی تصرفات  سے ممانعت کی علت اور وجہ کیا ہے  اور جہاں علت اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں تبدیلی کو قرار دیا گیا ہے، تو خود اس علت کے پیچھے کیا اصول کار فرما ہے اور اگر ان میں اجازت ہے تو کیا مطلقاً اجازت ہے یا اس میں کوئی قیود و شروط ہیں ؟ آنے والے صفحات میں اسی سوال کو قرآن و سنت اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کی مختلف صورتیں

اس سے پہلے کہ ہم سوال سے متعلق بحث کی طرف آئیں ، مناسب معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کی جائز و ناجائز ہونے کے اعتبار سے  جو ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں ان کو ذکر کر دیاجا  ئے۔ 

کسی چیز میں ایسے طور پر  تبدیلی کی جائے کہ  تخلیق کے مقاصد میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہ ہو بلکہ وہ عضو یا جسم کا وہ خاص حصہ اسی طرح باقی رہے   جیسے پہلے تھا محض اس میں اتنی تبدیلی کرنا کہ جس سے اس میں مزید خوب صورتی آجائے جیسے سرجری کے ذریعے سے جسم کے کسی حصہ کو سخت کروانا وغیرہ وغیرہ ، اس قسم کا شریعت میں کیا حکم ہے۔اس کا جواب آئندہ صفحات میں آئے گا ۔

دوسری صورت کہ  جہاں شریعت  کا مطالبہ یہ ہے کہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی  واقع کی جائے اور شریعت  نے  اس تبدیلی کو مستحسن و مستحب قرار دیا ہے گویا یہ تبدیلی شریعت  میں مطلوب ہے ، جیسے ختنہ کرنا،  ناخن  تراشنا، مونچھیں کاٹنا ، وغیرہ 1۔ اب یہاں شریعت ہم سے خود مطالبہ کرتی ہے کہ  یہاں تغییر کی جائے ۔

ایک اور صورت بھی ہے کہ جہاں شریعت نے اس کام کے لیے کوئی حدود وقیود مقرر نہیں  کی ہیں  بلکہ اس کو انسان پر چھوڑ دیا ہے  کہ  اس چیز کے استعمال کو اپنے لیے جیسے مناسب سمجھے ویسا ہی کرے ۔ یعنی یہاں تغییر کو انسانی منفعت کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے کہ اگر اس  تبدیلی سےکسی نفع کا حصول ممکن ہے تو تبدیلی کرنے کی گنجائش ہے   جیسے:درختوں کی پیوندکاری اور گدھے اور گھوڑی کے ملاپ سے خچر پیدا کرنا  وغیرہ ۔ یہاں بھی بظاہر جنس کی تبدیلی ہو رہی ہے جو کہ ’’خلق اللہ‘‘ یعنی قدرتی ساخت میں تبدیلی ہے، لیکن شریعت نے اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں لگائی ،بلکہ  رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ کہا گیاکہ یہ تمہارے دنیا کے معاملات ہیں اس میں تم جو مناسب سمجھو ویسا کرو۔اسی طرح علاج بالکی  ّ(داغ دینا) جو کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں علاج کا ایک ذریعہ تھا کہ لوہا  یا کوئی دھات وغیرہ گرم کر کے جسم پر داغا  کر تے تھے اس سے رسول اللہ ﷺ سے منع نہیں کیا ، چہرہ کے علاوہ کے لیے اسے بھی جائز قرار دیا 2۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جسمانی ساخت میں ہر تبدیلی ممنوع نہیں ہے ، اس لیے یہ اور زیادہ ضروری ہو جاتاہے کہ تغییر خلق اللہ سے ممانعت کے تصور کو گہرائی میں جا کر سمجھا جائے ۔ اس سے نہ صرف حدیث میں ذکر کردہ افعال کی تفصیلات کو جاننا آسان ہوجائے گا بلکہ دورِ جدید میں  تجمیلی جراحات ( cosmetic surgeries) کا حکم ِ شرعی جاننا بھی آسان ہوجائے گا ۔

آنے والے صفحات میں ترتیب یہ ہوگی ، سب سے پہلے قرآن میں تغییر خلق اللہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پھر احادیث ِ مبارکہ میں ، اس کے بعد اقوالِ فقہاء کی روشنی  میں جائزہ لیا جائے گا ۔

تبدیلیٔ تخلیق سے متعلق آیتِ کریمہ کی وضاحت

بادی النظر میں اس بحث سے جس آیت کا تعلق بنتاہے وہ ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے :   

وَلَأُضِلَّنَّھُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّہِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا 3

(اور میں انہیں راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گااور انہیں حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے )  4

اس آیت کریمہ کو مذکورہ افعال   کے عدم ِ جواز پر بطورِ دلیل کے پیش کیا جاتاہے ،اس لیے ضروری معلوم ہوتاہے کہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد "فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّہ"سے متعلق سلف سے جو اقوال مروی ہیں ان کا ذکر کیا جائے، چنانچہ سلف سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق چار اقوال ملتے ہیں ۔

پہلا قول

 اس آیت میں تغییر سے’’ اللہ کے دین میں تبدیلی ‘‘مرادہے ۔ یہ قول ابن عباس  ، ابراہیم نخعی، مجاہد،حکم ، سدی، ضحاک، عطاء الخراسانی  اورقتادہ  (سے  دوسری روایت کے مطابق   )سے مروی ہے 5۔  اس قول کی وضاحت یہ ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے دین میں دو طرح سے تبدیلی کرتے تھے ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ امور و اشیاء کو حرام قرار دیتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کے حرام کیے ہوئے امور و اشیاء کو حلا ل گردانتے تھے ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ  نے ہر ایک کو فطرتِ اسلام پر پیدا کیا ہے  ، بعد میں اس کے والدین اس کو ادیانِ باطلہ کی طرف مائل کردیتے ہیں  ۔یعنی اللہ نے فطرتاً انسان کو جس دین پر پیدا کیاہے اس سے ہٹانا اللہ کی تخلیق میں تبدیلی اور فطرت کو مسخ کرناہے ۔ اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے  امام رازی  کہتے ہیں  کہ اس قول کی دو طرح سے تشریح کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو فطرتِ اسلام پر پیدا کیا  کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے عہدِالست لینے کا ارادہ فرمایا تو اس  وقت حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو ذروں کی شکل میں نکالا اور ان  سےاس بات کی  گواہی لی کہ وہ ان کا رب ہے ، سب  نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کی گواہی دی  ،  اس کے بعد جس نے کفر کیا اُ س نے  اُس فطرت کو تبدیل کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تھا ۔اور رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک سے بھی اس بات کی تائید ہوتی  ہے ۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ہر پیداہونے والا بچہ فطرت(اسلام) پر پیدا کیا جاتاہے پس اس کے والدین اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں 6 ۔

اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور و اشیاء کو حلال سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ امور و اشیاء کو حرام خیال کرے  ، جس نے ایسا کیا گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کی7۔

دوسرا قول

تغییر سے مراد’’ جانوروں کا خصی کرناہے‘‘ یہ قول ابن عباس،انس بن مالک 8، سعید  بن المسیب ، عکرمہ9 ( ایک قول کے مطابق)اور سفیان ثوری سے مروی ہے ( یہ الگ بحث ہے کہ   آیا جانوروں کا خصی کرناجائز ہے یا نہیں )

تیسرا قول

تغییر سے  ’’وشم ‘‘( جسم کا گدوانا) مراد ہے ۔ حسن بصریؒ سے اور بقول امام بغویؒ عکرمہ سمیت متعدد مفسرین کا یہی قول ہے10۔علامہ  قرطبی  لکھتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ اور حسن بصری کے نزدیک اس آیت  میں تغییر سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خوب صورتی کے لیے کیا جائے چنانچہ لکھتے ہیں :

 وقالت طائفۃ: الإشارۃ بالتغيير إلي الوشم وما جری مجراہ من التصنع للحسن، قال ابن مسعود والحسن. ومن ذلك الحديث الصحيح عن عبد اللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق اللہ الحديث. أخرجہ مسلم،۔11

اور ایک گروہ کہتاہے : تغییر سے وشم( جسم گودنے،گدوانے) کی طرف اشارہ ہے اور جو   بھی کام اس سے ملتا جلتاہو ( وہ بھی اس ممانعت میں داخل ہوگا ) ،خوبصورتی کےلیے کیا جائے ۔ ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور حسن کہتے ہیں یہ حدیث بھی اسی سے متعلق ہے چنانچہ عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے :  اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر ، اورپیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی عورتوں پر ،اور دانتوں کے درمیان خوبصورتی کےلیے فاصلہ کروانے والی عورتوں پر جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے والی ہیں ۔

چوتھا قول

 زجاج کہتے ہیں : یہ آیت اپنے عموم پر نہیں بلکہ ایک خاص تناظر میں نازل ہوئی ہے۔  وہ یہ کہ مشرکین کی عادت تھی کہ اپنے پالتو جانوروں میں سے خاص قسم کے جانوروں کو بتوں کے نام وقف کر دیتے اور ان سے حاصل شدہ گوشت اور دودھ کو اپنے اوپر حرام خیال کرتے تھے۔ حالانکہ جانوروں کے پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے دودھ اور گوشت سے منفعت حاصل کی جائے، لیکن مشرکین چونکہ اس مقصدِ تخلیق  کو نظرانداز کر رہے تھے اور مقصدِ تخلیق کو نظرانداز کرنا اللہ تعالیٰ کی  تخلیق  میں تبدیلی ہے ۔اسی پر اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کر رہے ہیں ۔زجاج مزید کہتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورج،چانداور ستاروں کو تخلیق کیا تاکہ ان کے ذریعے سے وقت کی تعیین اور ان کی روشنی سے فائدہ اٹھا کر معاش وغیرہ کا بندوبست کیا جائے ۔لیکن لوگوں نے یہ کیا کہ ان کو اپنا معبود بنالیا اور ان کی عبادت شروع کر دی اور ان کو اپنےمحل کے علاوہ میں استعمال کیاجانے لگا ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز سے منع فرما رہے ہیں کہ یہ  اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے۔ 12

مندرجہ بالا اقوال کا عمومی جائزہ

مندرجہ بالا اقوال میں سب سے معقول اور قرآن کریم کے اس سلسلۂ آیات کے سیاق سے جو قول زیادہ مطابقت رکھتاہ ہوا نظر آتا ہے وہ پہلا قول ہے چنانچہ پورا سلسہ ٔ آیات یہ ہے :

إِنَّ اللَّہ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِہ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّہ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا۔  إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِہ إِلَّا إِنَاثًا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَرِيدًا ۔ لَعَنَہُ اللَّہ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا ۔ وَلَأُضِلَّنَّھُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّہ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّہ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا۔ 13

بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشتا کہ  اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے ، اور اس سے کمتر ہر گناہ  کی  جس کےلیے چاہتاہے بخشش کردیتاہے۔اور  جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہے وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتاہے ۔ اللہ کو چھوڑ کر جن سے یہ دعائیں مانگ رہے ہیں وہ صرف چند زنانیاں ہیں ،اور جس کو یہ پکار رہے ہیں وہ اس سرکش شیطان کے سوا کوئی نہیں ، جس پراللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے ۔ اور اس نے (اللہ سے) یہ کہہ رکھاہے کہ" میں  تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا ، اور میں انہیں راہِ راست سے بھٹکا کر رہوں گا ،اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گا،اور انہیں حکم  دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے ،اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے " اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو دوست بنائے ، اس نے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ 14

ان آیات کے  پورے سیاق کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں اصل موضوعِ بحث مشرکین کی فروعی اور عملی کوتاہی بیان کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان آیات میں شرک  اور شرک سے جڑے افعال کی مذمت فرمارہے ہیں چنانچہ ا س سلسلۂ آیات میں یہ بات بہت بعید ہے  کہ مشرکین کی  ایک جزوی اور فروعی کوتاہی ( جسم کو گدوانا، بالوں میں دوسرے بال لگواناوغیرہ ) کو ذکر کریں ۔  لہذا سیاق سے یہ بات مطابقت رکھتی ہے کہ تبدیلیٔ خلقت سے مراد انسانی فطرت مسخ کرکے دین کو بدلنا ہے15 ۔ (اگر یہ مان لیا جائے کہ یہاں چند جزوی افعال کی مذمت مقصود ہے تو  اًس دور کے اعتبار سے شرکیہ تصورات کے ساتھ ان افعال کا ربط وتعلق بھی ڈھونڈنا پڑے گا) اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کا ذکر سورہ روم میں بھی ہے ، وہاں سیاق میں توحید و شرک کا بیان ہے ۔ سورہ ٔ روم کا انداز ِ تعبیر واضح ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی سے مراد فطرت  کو مسخ کرنا اور قبول ِ حق کی فطری استعداد کو ضائع کرنا ہے ۔ سورۂ روم کی متعلقہ آیات یہ ہیں :

ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ ھَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيہ سَوَاءٌ تَخَافُونَھُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ، بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَھْوَاءَھِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَنْ يَھْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّہ وَمَا لَھُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ،فَأَقِمْ وَجْھَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّہ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْھَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّہ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ، مُنِيبِينَ إِلَيْہ وَاتَّقُوہُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاۃَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ16

اللہ تعالیٰ (شرک کو مذموم و باطل ثابت کرنے کےلیے17 )   تمہارے اندر سے ایک مثال دیتاہے ۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیاہے ، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو ( اور ) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے ڈرتے ہو ؟ہم اسی طرح ان لوگوں کےلیے دلائل کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ، جو عقل سے کام لیں ۔ لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں ۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتاہے جسے اللہ نے گمراہ کر دیاہو ، اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف قائم رکھو ۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام  لوگوں کو پیدا کیا ہے ۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ، یہی بالکل سیدھا راستہ ہے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔(فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو)کہ تم نے اسی (اللہ ) سے لو لگا رکھی ہو ، اور اس ڈرتے رہو ، اور نماز قائم کرو ، اور ان لوگوں  کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں،18

مفتی محمد شفیع آیت کریمہ "لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّہِ" یعنی اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی سے متعلق  ایک قول نقل کرتے ہیں :

دوسرا قول یہ ہے کہ فطرت سے مراد استعداد ہے ، یعنی تخلیق ِانسانی میں اللہ تعالیٰ نے خاصیت رکھی ہے کہ ہر انسان میں اپنے خالق کو پہچاننے اور اس کو ماننے کی صلاحیت و استعداد موجود ہے ، جس کا اثر اسلام قبول کرنا ہوتاہے ، بشرطیکہ اس استعداد سے کام لے ۔ 19

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی اس فطری استعداد کو ضائع کرنے کے مترادف ہےجو اللہ تعالیٰ نے پیدائش سے قبل ودیعت کی تھی ۔گویا قرآن کریم کے ان دونوں مقامات پر فطرت کے مسخ  کرنے اور اسلام کے مقابلے میں کفرو شرک اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہوا کہ سورۂ نساء کی اس زیرِ بحث آیت کی تفسیر میں پہلا قول سیاق کے سب سے زیادہ قریب ہے۔

 اس کے بعد جو قول بظاہر  اس آیت کے سیاق سے قریب  تر معلوم ہوتاہے وہ زجاج کا ہے ۔ کیوں کہ اِ ن آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی مذمت فرمارہے ہیں اور جہاں شرک کی مذمت ہو ،وہاں باطل معبودوں کا تذکرہ نہ ہو۔ یہ بات بہت بعید ہے ، اور زجاج کے قول کا بھی یہی  مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج ،چاند وغیرہ کو منفعت کے حصول کے لیے تخلیق فرمایا، لیکن مشرکین ان کے مقصدِ تخلیق  کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی عبادت کر رہے ہیں ۔

اوپر ذکر کیے گئے ان دو اقوال کے علاوہ باقی اقوال کا بادی النظر  میں اس آیت کے سیاق سے تعلق نہیں   ہے  ۔  اس لیے  انسانی جسم میں تبدیلی کرنے والے مسئلے سے آیت کا تعلق جوڑنا محل نظر ہے، إلا یہ کہ یہ ثابت ہوجائے کہ اُس دور میں ان افعال کا شعائرِ شرک سے کوئی تعلق تھا۔

تبدیلیٔ تخلیق سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات

البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند ارشادات ایسے ہیں جو براہ ِ راست اس مسئلہ سے بحث کرتے ہیں ، ذیل میں ان کواحادیث کو  نقل کیا جارہاہے  ۔اس موضوع پر کل سات صحابہ کرام ؓ سے حدیث مروی ہے :

حدیث ابن مسعودؓ

    1. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاھِيمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: «لَعَنَ اللَّہُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ، وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی» مَالِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ، وَھُوَ فِي كِتَابِ اللَّہِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ} [الحشر: 7]20

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر ، اورپیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی عورتوں پر ،اور دانتوں کے درمیان خوبصورتی کےلیے فاصلہ کروانے والی عورتوں پر جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے والی ہیں ۔اور کہتے ہیں : کیوں نہ میں لعنت کروں اس شخص پر جس پر اللہ کے نبی نے لعنت کی ہے ،اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے " اور جو تمہیں رسول عطا کریں پس اس کو لے لو "۔

حدیث أبو ہریرۃؓ

    2. وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَۃَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ھُرَيْرَۃَ رَضِيَ اللَّہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّہ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ، وَالوَاشِمَۃَ وَالمُسْتَوْشِمَۃَ»21

حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے  روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت کرتے ہیں بالوں میں دوسرے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ، اور جسم کو گودنے والی پر اور گدوانے والی پر

حدیثِ عائشہ ؓ

    3. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ الحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفِيَّۃَ بِنْتِ شَيْبَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، رَضِيَ اللَّہُ عَنْھَا: أَنَّ جَارِيَۃً مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ، وَأَنَّھَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُھَا، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوھَا، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّہُ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ» 22

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی ، اس حال میں کہ وہ مریضہ تھی  پس اس کے  گر گئے تھے تو انصار نے چاہا کہ اس کے سر میں میں دوسرے بال لگوادیں ، پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ۔

حدیثِ أسماء بنت أبی بکرؓ

    4. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ امْرَأَتِہِ فَاطِمَۃَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: «لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ»23

حضرت اسماء بنت ابی بکر   نے کہا: رسول اللہﷺ نے لعنت فرمائی ہے بالوں میں دوسرے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ۔

حدیث ابن عمرؓ

    5. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّہِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّہُ عَنْھُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّہُ الوَاصِلَۃَ وَالمُسْتَوْصِلَۃَ، وَالوَاشِمَۃَ وَالمُسْتَوْشِمَۃَ24

حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ لعنت  کرتے ہیں  بالوں میں دوسرے بال ملانے والی پر اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر ، اور جسم کو گودنے والی پر اور گدوانے والی پر ۔

حدیث معاویۃؓ

    6. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَۃُ المَدِينَۃَ، آخِرَ قَدْمَۃٍ قَدِمَھَا، فَخَطَبَنَا فَأَخْرَجَ كُبَّۃً مِنْ شَعَرٍ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَی أَحَدًا يَفْعَلُ ھَذَا غَيْرَ اليَھُودِ «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ سَمَّاہُ الزُّورَ.25 يَعْنِي الوَاصِلَۃَ فِي الشَّعَرِ

سعید بن المسیب  کہتے ہیں ، حضرت معاویہ ؓ جب آخری بار مدینہ آئے ، پس انہوں نے ہمیں خطبہ دیا، پس انھوں نے بالوں کا ایک گچھا نکالا،کہا: میں نے یہود کے علاوہ کسی کو یہ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا ،بے شک رسول اللہ ﷺ نے اس کو دھوکا قرار دیاہے ، یعنی جو عورت بالوں میں دوسرے بال لگواتی ہے ۔

حدیث ابن عباسؓ

    7. - حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، عَنْ أُسَامَۃَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاھِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لُعِنَتِ الْوَاصِلَۃُ، وَالْمُسْتَوْصِلَۃُ، وَالنَّامِصَۃُ، وَالْمُتَنَمِّصَۃُ، وَالْوَاشِمَۃُ، وَالْمُسْتَوْشِمَۃُ، مِنْ غَيْرِ دَاءٍ26

ابن عباس ؓ سے مروی ہے، فرمایا: بالوں میں دوسرے بال ملانے والی  اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی عورت پت ،اور ابروؤں کو باریک کر نے والی اور کروانے والی  عورت ، اور جسم کو گودنے والی اور گدوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے ( جب یہ افعال) بیماری کے علاوہ کیے جائیں ۔

اوپر ذکر کردہ تمام روایات میں کم و بیش تقریباً ایک جیسے الفاظ ہی استعمال ہوئے ہیں۔ اور تمام روایات میں ان عورتوں پر لعنت کی گئی ہے جو مذکورہ افعال میں سے کوئی ایک بھی  کرتی ہیں۔ البتہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ  کی روایت میں  ایک جملہ "المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالٰی" زائد ہے جس کا باقی روایات میں ذکر نہیں ملتا ۔ اس روایت کے طرق دیکھنے  سے اندازہ ہوا کہ  یہ کسی روای کا ادراج نہیں ہے بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ہی   مروی ہے ۔ تفصیل یوں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرنے والوں میں صرف ان کے ایک شاگرد  علقمہ ہیں ، اور ان سے روایت کرنے والوں میں ابراہیم ،اورابراہیم سے روایت کرنے والے بھی سوائے منصور کے کوئی  نہیں ۔آگے  منصور سے روایت کرنے والوں کی تعداد تقریباً چودہ ہے، ان چودہ طرق میں  سے ہر طریق میں یہ الفاظ  "المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّہِ تَعَالَی" مروی ہیں ۔ تمام طرق میں یہ لفظ موجود ہونے سے زیادہ رجحان یہی ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہی روایت کیے گئے ہیں،بعد کے کسی راوی کا ادراج نہیں ہے ۔  اگرچہ اس سے حتمی نفی منصور سے نیچے کسی کے ادراج کی ہوتی ہے، منصور یا اس سے اوپر کسی کا ادراج ہونے سے تمام طرق میں ہونے والے  اس امکان کی حتمی نفی نہیں ہوتی۔  تاہم آگے کی بحث اسی مفروضے کو لے کر کریں گے کہ یہ لفظ حضرت ابن مسعودؓ ہی سے مروی ہیں، نیچے کے کسی راوی کا ادراج نہیں ہیں۔

مذکورہ  تمام روایات میں ان عورتوں کے لیے لعنت جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ان الفاظ سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ان افعال  سے ممانعت کی علت وہ چیز بن سکتی ہے  جو براہِ راست کسی شرعی اصول سے ٹکرا رہی ہو اور شریعت کی نظر میں وہ بہت شنیع اور سنگین ہو۔ کیوں کہ اگر کسی روایت میں کسی ایسے عمل کی فضیلت  یا مذمت بیان کی گئی ہو جو دیکھنے میں کم اہمیت و حیثیت والا ہو اور اس روایت میں ذکر  ہونے والا ثواب یا عقاب اس عمل سے کسی طرح میل نہ کھاتاہو تو محدثین ایسی احادیث کو موضوعات میں شمار کرتے ہیں ، اور اس کو وضع کی علامت  قرار دیتے ہیں؛ چنانچہ  سیوطی ؒ اپنی معروف تصنیف "تدریب الراوی" میں راقم طراز ہیں :

 ومنھا الإفراط بالوعيد الشديد علی الأمر الصغير، أو الوعد العظيم علی الفعل الحقير، وھذا كثير في حديث القصاص، والأخير راجع إلی الركۃ.27

( اور وضع کی علامات میں سے) ایک یہ ہے کہ چھوٹے سے عمل پر سخت وعید بیان کی گئی ہو ، یا کسی چھوٹے سے نیک فعل پر بہت بڑا وعدہ کیا گیا ہو ۔ اور یہ چیز واقعات میں بہت زیادہ ہے ۔ میں کہتاہوں !اس کے قرائن میں سے یہ ہے کہ رافضی راوی اہلِ بیت کے فضائل میں حدیث بیان کرے ۔

اس سے معلوم ہوا کہ نصوص کے مطالعہ میں یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ فعل اور اس پر وارد شدہ وعید میں کوئی مناسبت ہو۔ اس موقع پر ایسی احادیث کی طرف اشارہ بھی مناسب ہے جن میں  حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے بعض صحابہ کی مرویات پر  استدراکات کیے، ان میں ایسی روایتیں بھی ہیں کہ جب کسی صحابی نے ایسی حدیث بیان کی ، جس میں بیان کی گئی شدید وعید اس عمل کی شناعت سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ،تو حضرت عائشہ  ایسے موقع پر یہ فرماتیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کہنے کا یہ مقصد نہیں ہوگا یا حضور ﷺ ایسا نہیں کہہ سکتے ۔ مثلا ً  حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کو جہنم کی آگ میں جھونکا گیا ، اور جہنم میں ڈالنے کی وجہ یہ بنی کہ اس عورت نے ایک بلی کو باندھ دیا ، جب اس کو بھوک ،پیاس لگی تو اس خود کھلایا نہ ہی اسے کھلا چھوڑا تاکہ وہ اپنی خوراک کا خود بندو بست کرلے ۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے جہنم میں ڈال دیا 28۔ اس حدیث کے بیان کرنے پر حضرت عائشہ ؓ نے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا : ابوہر یرہ  ؓ کیا آپ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کو اس وجہ سے جہنم کی آگ میں ڈالا گیا کہ اس نے ایک بلی کو باندھے رکھا ، اسے کچھ کھلایا نہ پلایا ؟ تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ : جی ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ۔ تو اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ عورت کون تھی ؟ وہ ایک کافرہ عورت  تھی ، اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی ذات سے بہت بعید ہے کہ ایک بلی کی وجہ سے کسی مؤمن کوعذا ب میں مبتلا کریں۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے یہ دیکھ لیا کرو کہ کیسی حدیث بیان کررہے ہو29۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بادی النظر محض یہ افعال تنہا اس قابل نہیں لگتے کہ ان پر اتنی شدید وعید بیان کی گئی ہو، جب تک کہ ان افعال کے پیچھے کوئی اور سنگین برائی موجود نہ ہو  ۔ اس لیے ابن مسعود   سے مروی حدیث کی طرف آنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ  اس حدیث سے قطع نظر فقہا سے اِ ن مذکورہ بالا افعال  سے ممانعت کی جو علتیں  منقول ہیں ان کا ذکر کر دیا جائے ۔

(جاری)

حواشی

  1. صحیح مسلم کی روایت ہے : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ "مسلم بن الحجاج ، الصحیح لمسلم ، دارحیاء التراث العربی،بیروت ، ج۱،ص ۲۲۳،رقم الحدیث : ۲۶۱۔
  2. جامع ترمذی کی روایت ہے : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ»: وَفِي البَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ  الترمذی، محمد بن عیسی، جامع الترمذی،ج ۴، ص ۳۹۰ ،رقم الحدیث:۲۰۵۰،مکتبۃ و مطبعۃمصطفیٰ البابی،مصر،الطبعۃ الثانیۃ،۱۳۹۵ھ،۱۹۷۵ء
  3. النساء :۱۱۹
  4. تقی عثمانی ، محمد ، مفتی ، آسان ترجمہ قرآن ،ص ۲۲۰،مکتبہ معارف القرآن ،کراچی، ۲۰۱۴ء
  5. ابوالحجاج ،مجاہد بن جبر ، تفسیر مجاہد ، ص ۲۹۳، دارالفکر الاسلامی  الحدیثۃ ، مصر ، الطبعۃ الاولیٰ  ۱۹۸۹ء،  ابو حاتم  الرازی، عبدالرحمان بن محمد ، تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم ،رقم: ۵۹۸۲،مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، المملکۃ السعودیۃ، ط: الثالثۃ، ۱۴۱۹
  6. امام ابوداود نے اپنی سنن میں یہ حدیث درج کی ہے : حدَّثنا القَعْنبيُّ، عن مالكٍ، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "كل مَولودٍ يولدُ على الفِطرة، فأبواهُ يُهودانِهِ وينصّرانه، كما تَناتَجُ الإبِلُ من بهيمةٍ جمعاءَ، هل تُحِشُ من جَدْعَاءَ؟ " قالوا: يا رسول الله، أفرأيتَ مَن يموتُ وهو صغير؟ قال: "الله أعلمُ بما كانوا عامِلِين"(ابوداود، سلیمان بن اشعث، سنن لابی داود، رقم الحدیث : ۴۷۱۴ ، المکتبۃ العصریۃ ،بیروت،)
  7. رازی، أبو عبد الله محمد بن عمر بن الحسن بن الحسين  الملقب بفخرالدین الرازی، مفاتیح الغیب ، ج 11،ص 223،داراحیاء التراث العربی،بیروت، ط:الثالثۃ ، ۱۴۲۰ھ
  8. طبری، محمد بن جریربن یزید، ابوجعفر الطبری، جامع البیان  فی تاویل القرآن،رقم : ۱۰۴۴۸۔۱۰۴۴۹
  9. محولہ بالا۔ رقم: ۱۰۴۵۴
  10. بغوی، أبو محمد الحسين بن مسعود البغوي،تفسیر البغوی، ج۲، ص ۲۸۹، دارالطیبہ للنشر والتوزیع، ط: الرابعۃ ، ۱۹۹۷ء
  11. قرطبی،  محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي شمس الدين ،الجامع لاحکام القرآن ، ج۵،ص ۳۹۲، دارلکتب المصریہ،القاہرہ، ط: الثانیۃ،۱۳۸۴
  12. قرطبی،محمد بن أحمد بن أبي بكر  ،الجامع لاحکا م القرآن ، ، ج۵، ص ۳۹۴
  13. النساء ، آیات: ۱۱۶،۱۱۷،۱۱۸
  14. عثمانی ،محمد تقی، مفتی، آسان ترجمہ قرآن ، ص  ۲۱۹
  15. یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ قرآن کریم میں راجح قول کے مطابق تغییر سے اللہ کے دین میں تبدیلی مراد ہے ، حالانکہ یہی الفاظ حدیثِ مبارکہ میں کسی اور سیاق میں استعمال ہوئے تو یہ کیسے ہوسکتاہے کہ قرآن کریم میں انہی الفاظ کا الگ معنیٰ ہو اور حدیث میں الگ ۔؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا محمد زاہد کہتے ہیں : یہ کوئی نئی  بات نہیں  ہے ۔ متعدد مقامات پر ایسا ہوتاہے کہ ایک لفظ قرآن کریم میں کسی اور معنیٰ میں مستعمل ہوتاہے جبکہ بعینہ وہی لفظ جب حدیث میں آتاہے تو اس کامعنیٰ بالکل مختلف ہوتاہے مثلاً :قرطبی لکھتے ہیں : تبتّل کا لفظ ہے ، اس قرآن کریم میں معنیٰ یہ ہے کہ اللہ کی یاد کےلیے اپنے آپ کو لوگوں سے الگ تھلگ کرلو ۔ جبکہ اسی لفظ کا حدیث میں معنیٰ یہ ہوتاہے کہ تارک الدنیا ہونے کی بنا پر شادی نہ کرنا ۔ (قرطبی،محمد بن احمد بن ابی بکر ، الجامع لاحکام القرآن ، ج۱۹،ص۴۵)
  16. الروم ، آیات :۲۷،۲۸،۲۹،۳۰
  17. شفیع، محمد ، مفتی ، معارف القرآن ، ج ۶،ص ۷۴۱، ادارۃ المعارف، کراچی ،۲۰۰۳ء
  18. عثمانی ، تقی، محمد ، آسان ترجمہ قرآن ، ص ۸۵۷،۸۵۸
  19. شفیع ،محمد ، معارف القرآن ، ج ۶،ص ۷۴۶
  20. البخاری ، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، صحیح البخاری  ۱۶۴:۷ رقم ۵۹۳۱( درطوق النجاۃ ،الطبعۃ الثانیہ )
  21. ایضا ، رقم الحدیث:  ۵۹۳۳
  22. ایضا ،رقم الحدیث: ۵۹۳۴
  23. ایضا ، رقم الحدیث: ۵۹۳۶
  24. ایضا ،رقم الحدیث : ۵۹۳۷
  25. ایضا ،رقم الحدیث: ۵۹۳۸
  26. ابوداود، سلیمان بن اشعث الازدی، السجستانی، رقم الحدیث: ۴۱۷۰،المکتبۃ العصریۃ،بیروت ،س ن
  27. سیوطی، عبدالرحمان بن ابی بکر ، جلال الدین ، تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی،ج ۱،ص ۳۲۶، دارطیبہ ، س ن
  28. امام مسلم اپنی صحیح میں یہ روایت بیان کرتے ہیں: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا» قَالَ الزُّهْرِيُّ: ذَلِكَ، لِئَلَّا يَتَّكِلَ رَجُلٌ، وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ (صحیح مسلم، ج۴،ص۲۱۱۰،رقم الحدیث:۲۶۱۹۔)
  29. امام ابوداود طیالسی اپنی مسند میں یہ روایت بیان کرتے ہیں : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ «امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا» فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَتَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً، إِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ ( مسند ابی داود الطیالسی ، ج۳،ص ۲۸، رقم الحدیث: ۱۵۰۳)

فقہ / اصول فقہ