شاتم رسول کی توبہ ۔ سعودیہ کے سابق مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن بازؒ کا فتویٰ

ادارہ

فاذا کان من سب الرب سبحانہ او سب الدین ینتسب للاسلام فانہ یکون مرتدا بذلک عن الاسلام ویکون کافرا یستتاب فان تاب والا قتل من جہۃ ولی امر البلد بواسطۃ المحکمۃ الشرعیۃ وقال بعض اہل العلم انہ لا یستتاب بل یقتل لان جریمتہ عظیمۃ ولکن الارجح ان یستتاب لعل اللہ تعالی یمن علیہ بالہدایۃ فیلزم الحق ولکن ینبغی ان یعزر بالجلد والسجن حتی لا یعود لمثل ہذہ الجریمۃ العظیمۃ وہکذا لو سب القرآن او سب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم او غیرہ من الانبیاء فانہ یستتاب فان تاب والا قتل 
(http://www.binbaz.org.sa/mat/354)
’’ذات باری یا دین کو برا بھلا کہنے والا اگر مسلمان ہو تو ایسا کرنے سے وہ اسلام سے مرتد اور کافر قرار پائے گا اور اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ اگر توبہ کر لے تو درست، ورنہ حاکم شہر شرعی عدالت کی وساطت سے اس پر قتل کی سزا نافذ کر دے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایسے شخص کو توبہ کے لیے نہ کہا جائے بلکہ قتل کر دیا جائے، کیونکہ اس کا جرم بہت سنگین ہے، لیکن راجح بات یہی ہے کہ اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے سرفراز فرمائیں اور وہ حق پر پختگی سے قائم ہو جائے، البتہ اسے کوڑوں اور قیدکی صورت میں تعزیری سزا دی جانی چاہیے تاکہ وہ آئندہ کبھی اس جرم عظیم کا ارتکاب نہ کرے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن مجید یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی دوسرے نبی کی شان میں گستاخی کرے تو اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ اگر توبہ کر لے تو درست، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔‘‘

فقہ / اصول فقہ