مکاتیب

ادارہ

(۱)

آج کل سوشل میڈیا پر’داعش‘ کے متعلق مولانا سید سلمان صاحب ندوی کا ایک مضمون بڑے پیمانے پر نشرکیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے مذکورہ تنظیم کو سلفیت سے منسلک کرتے ہوئے سلفی منہاج فکر اور سلفی علما کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں انھوں نے اس تشدد پسند گروہ کی تحسین و ستایش کرتے ہوئے اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں ان سے مختلف اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ بہ ظاہر یہ مضمون اپنے اسی سابقہ موقف کے کفارے کے طور پر لکھا گیا ہے جس میں سلفیت خواہ مخواہ زیر عتاب آگئی ہے۔ ہم نے بعض احباب کے توجہ دلانے پر موصوف کی اس تحریر کا مطالعہ کیا تو بے حد افسوس ہوا کہ ان کا تجزیہ غیر جانب دارنہ نہیں ہے بلکہ غلطی ہاے مضامین کا شاہ کار ہے۔ اس پرمفصل نقدکی خاطر تو ایک مبسوط مضمون ہی کی ضرورت ہے جس کا فی الحال موقع نہیں؛ البتہ چندمختصر نکات کی صورت میں ایک اجمالی تبصرہ پیش خدمت ہے:

1) تشدد اور بدامنی کا رشتہ سلفیت سے جوڑنا صریح ناانصافی اور خلاف حقیقت ہے۔ سلفیت نام ہے: نصوص کتاب و سنت کو فہم سلف کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کا اور اپنے تمام تر افکار و اعمال کو ان کے مطابق ڈھالنے کا اور بس! قرون مفضلہ کے اسی نظریے کوقرون متوسطہ میں شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ نے اور عہدِ متاخر میں امام محمد بن عبدالوہابؒ نے پیش کیا؛ فی زمانہ عرب کے سلفی علما اور برصغیر کے اصحاب الحدیث اسی کے پر چارک ہیں۔

2)شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ عظیم مجدد،مصلح اور داعیِ توحید تھے جنھوں نے قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات اور سلف صالحین کے طرز عمل کی اتباع میں عقیدۂ توحید اور اس کے تقاضوں کو شرح و بسط سے اجاگرکیا اور معاشرے میں دَر آنے والی بدعات اور مزخرفات پر تنقید کی۔ ان پر کفر سازی یا قتل مسلمین کے الزامات غلط فہمی پر مبنی ہیں جن کے ازالے کے لیے مولانا مسعود عالم صاحب ندویؒ [ایک وہ ندوی تھے اور ایک ہمارے ممدوح ہیں!] کی وقیع کتاب’’شیخ محمد بن عبدالوہابؒ : ایک مظلوم اور بدنام مصلح ‘‘کا مطالعہ بے حد مفید رہے گا۔ برصغیر میں بعض علماے دیوبند نے بھی ان پر اعتراضات کیے تھے لیکن اس کی وجہ ان کے احوال کی تفصیلات سے عدم واقفیت تھی جیسا کہ معروف دیوبندی عالم اور مناظر مولانا منظور احمد صاحب نعمانی نے اپنی کتاب’’شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے خلاف پراپیگنڈا اور علماے حق پر اس کے اثرات‘‘ میں اس امر کی وضاحت کی ہے۔ واضح رہے کہ دارالافتا، دارالعلوم دیوبند کی آفیشل ویب سائٹ پر ایک سوال کے جواب میں اس کتاب کی تائید و تصدیق کرتے ہوئے امام محمد بن عبدالوہاب کو اہل سنت قرار دیا گیا ہے۔

3) داعش کا ناتا سلفیت سے ملانا اور پھر پورے سلفی مدرسہ فکر کو اس کا ذمہ دار ٹھیراتے ہوئے اسے مطعون کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے بعض لوگ پاکستانی طالبان ،لشکر جھنگوی اور بعض دیگر متشدد گروہوں کو حنفی دیوبندی قرار دے کر پورے دیوبندی مکتب خیال کو نشانہ جرح بنالیتے ہیں اورخطے میں بپا قتل و غارت اور بد امنی و فساد کا منبع حنفیت اوردیوبندیت کو گردانتے ہیں!!ہماری رائے میں دونوں رویے نامنصفانہ اور افراط و تفریط کے مظہر ہیں کیوں کہ کسی بھی مسلک کے عقائد و افکار کی نمایندگی اس کے معتبر اور کبار علماسے ہوتی ہے جب کہ یہاں عالم یہ ہے کہ سعودی عرب کے مفتیِ اعظم اپنے خطبہ حج میں ’داعش‘کو گم راہ کہتے اور اس سے اظہارِ براء ت کرتے ہیں اور آج تک کسی بھی معروف سلفی عالم نے اس تنظیم کی تائید و حمایت نہیں کی؛ اس کے باوجود داعش کا نام لے کر سلفیت اور سلفیوں کو رگیدتے چلا جانا عدل و انصاف کے کون سے پیمانوں پر پورا اترتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے ایک منحرف گروہ کا بہانہ بنا کر تجزیے کے عنوان سے دل کا پرانا بخار نکالا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں ایسے ارباب دانش بھی موجود ہیں جو موجودہ صورت حال کی تمام تر ذمہ داری شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مفتی تقی عثمانی اور مولانا زاہدالراشدی سمیت پورے مذہبی حلقے پر ڈالتے ہیں!!

4) مولاناسید سلمان صاحب ندوی عالم دین ہیں؛ اس پہلوسے ان کا احترام واجب ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ وہ موقع بہ موقع سلفیت پرتند وتیز لہجے اور سخت الفاظ میں ناروا تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ سیاسی مسائل ہوں یا دیگر فکری و مذہبی امور، ان میں اختلاف کی گنجایش ہمیشہ رہتی ہے اور صحت مند تنقیدسے معاملے کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں جس کی اہمیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن محترم موصوف اکثر و بیش تر حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں؛ پھرجذباتی انداز اور فکر کا الجھاؤ تحریر کی سلاست، روانی اور ادبی چاشنی کو بھی سلب کر لیتا ہے اورقلم سے اس نوع کے جملے صفحہ قرطاس پر آتے ہیں:’’یہ ساری تنظیمیں سلفیت کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہیں۔۔‘‘، ’’اس کے فکری دھماکے۔۔۔‘‘، ’’اس کی شرعی ماں القاعدہ ہے!!‘‘بہ ہر حال ان کا اسلوب جارحانہ اور جانب دارانہ ہوتا ہے اور وہ مسائل یا نظریات پر گفتگو کے بجاے پورے مکتب فکر کو مورد الزام ٹھیراتے ہیں جو علمی تنقید کے معیارات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ 

مولانا موصوف کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک عجلت پسند اور متلون مزاج انسان ہیں؛ کل تک وہ داعش کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور آج اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ مناسب نہ تھا کہ وہ اس تنظیم سے متعلق پہلے ہی اچھی طرح تحقیق کر لیتے اور پھر اپنی رائے قائم کرتے جب کہ سلفی علما اول روزسے اس کی حقیقت آشکار کر چکے تھے! لیکن انھوں نے غالباً طلب شہرت کے پیش نظر’امیر المومنین‘ کے نام مکتوب لکھا اور اسے عام شائع کیا۔ ہمیں تسلیم ہے کہ انسان سے اندازے کی غلطی ہو جاتی ہے اور وہ تفاصیل و جزئیات سے بے خبری کے سبب کوئی غلط رائے بنا لیتا ہے، لیکن یہ کیا انداز ہے کہ اپنی غلطی سے رجوع کرتے ہوئے غیر متعلق نکات پربحث شروع کر دی جائے اورسارا ملبہ اْن لوگوں پر ڈال دیا جائے جن کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں!!گویا مولاناے محترم ایک مرتبہ پھر وہی غلطی دہرا کر اپنی عجلت پسندی اور ناعاقبت اندیشی کا ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں!! 

5) آخر میں ہماری دردمندانہ گزارش ہے کہ آج جب کہ امت کو کفر ونفاق اور الحادو لادینیت کے خلاف متحد اور متفق ہونے کی اشد ضرورت ہے ،اس نوع کی تحریریں ہر گز سود مند نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ حنفیت اور سلفیت میں فاصلوں کو بڑھانے کا باعث ہوں گی؛ جب کہ ہماری نگاہ میں یہ دونوں مکاتب اپنے اپنے انداز سے اسلام کی تشریح و تعبیر کرتے ہیں جن میں علمی مکالمہ جاری رہنا چاہیے؛ پس ہر دو کی توقیر لازم ہے اور ان سے وابستہ افراد کو ایک دوسرے سے قریب کرنا نہ صر ف یہ کہ مذہب کا ضروری مطالبہ ہے بلکہ حالات کا بھی اولین تقاضا ہے۔ جو احباب ندوی صاحب کے اس مضمون کو بہت ہی نادر اور قیمتی سوغات سمجھ کر اس کی اشاعت عام رہے ہیں، اگرچہ یہ اْن کا حق ہے لیکن ہماری استدعا ہے کہ یہ ہر گز کوئی مستحسن عمل نہیں ہے کہ اس کی افادیت توشاید ایک فی صد بھی نہ ہو، البتہ مضر اثرات بہت زیادہ ہیں؛اس لیے اس سے گریز ہی فرمائیں تو بہتر ہو گا:ع

مانیں، نہ مانیں، آپ کو یہ اختیار ہے 
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں!

حافظ طاہر اسلام عسکری

(مدیر،سہ ماہی نظریات،لاہور)

(۲)

تاریخ اسلام کا مطالعہ ہمیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ مسلمانوں میں آج تک جتنے فتنوں نے سراُٹھایا ،وہ سب اسلام کی غلطی تشریح و تعبیر کا نتیجہ تھے۔ ایسے ادارے، ایسی تحاریک اور ایسے افراد جنھوں نے اسلام کو منہج سلف سے ہٹ کر سمجھنے کی کوشش کی ،گمراہی و ضلالت ان کا مقدر ٹھہری۔ جہمیہ، مرجۂ، کرامیہ، خلاسفہ، قراطہ، سوفسطائیہ، باطنیہ، لاادریہ، خوارج ،روافص و نواصب، یہ سب اسلام کی غلط تشریح و تعبیر کے نتیجے میں پیدا ہوء۔ 

عصر حاضر میں دو فتنے ایسے ہیں جو منہج سلف سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ایک فتنۂ خوارج (جس کی نمائندگی پاکستانی طالبان، القاعدہ و داعش جیسی تنظیمیں کررہی ہیں) اور دوسرا فتنہ غامدیت(جس کی قیادت جاوید احمد غامدی اور ان کا ادارہ کررہا ہے)۔ یہ دونوں تحاریک دراصل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ عہدِ حاضر کا فتنۂ خوارج ان افکار و نظریات کی ضد میں پیدا ہوا ہے جو افکارو نظریات آج جاوید احمد غامدی پیش کررہے ہیں یا پھر ان کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ حامیان۔ ان میں سے ایک فکر گمراہی کے ایک دہانے پر ہے اور دوسری فکر گمراہی کے دوسرے دہانے پر۔ جبکہ اسلام کی فکری ونظریاتی شاہراہ ان کے درمیان ہے جو کہ سلف صالحین کی راہ ہے۔ فتنۂ خوارج و غامدیت کا حال کچھ ایسا ہے کہ بقول مفتی تقی عثمانی مدظلہم :

’’جب ایک مرتبہ کوئی صاحبِ فکر جمہورامت کے مسلمات سے آزاد ہوکر اپنی راہ الگ اختیار کرلیتا ہے اور یہ تصور کرلیتا ہے کہ وہ اِن مسلمات کے بارے میں پہلی بار اصابتِ فکر سے محروم رہے ہیں ،توان کے اوپر کوئی روک باقی نہیں رہتی۔ ماضی میں یہی طرزِ فکر نہ جانے کتنی گمراہیاں پیدا کرچکا ہے۔ طہٰ حسین سے لے کر سرسید تک اور وحید الدین خان سے لے کر جاوید احمد غامدی تک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اپنے اپنے وقت میں اس طرزِ فکر نے دلائل کا زور بھی باندھا ،لیکن امتِ اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر رفتہ رفتہ اسے رَد کرکے اس طرح آگے بڑھ گیا کہ اس کا ذکر صرف کتابوں میں باقی رہ گیا۔ بالخصوص آج کے دور میں جس طرح کے افکار،دین میں تحریف کے درپے ہیں، اس کے سواسلامتی کا کوئی راستہ نہیں کہ انسان علماءِ امت کے سوادِ اعظم سے اور جمہور امت کے مسلمات سے وابستہ رہے۔ بے شک انبیاء کرام ؑ کے سوا کوئی معصوم نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہ ہونا چاہیے کہ انسان جمہور علماءِ امت کے مقابلے میں خود کو معصوم سمجھنے لگے اور یہ سمجھے کہ اُن سب سے بیک وقت غلطی ہوئی ہے،مجھ سے نہیں۔‘‘ (ماخوذ از مجلہ صفدر، فتنہ غامدی نمبر، جلد اول) 

برِصغیر احیائے اسلام کی ایک عظیم تحریک ،جو کہ امیر المومنین مجاہدِ کبیر سید احمد شہیدؒ کی امارت میں اٹھی تھی، صحابہ کرامؓ کے بعد اخلاص و للہیت، زہد وتقویٰ ،ایما ن و عزیمت اور جرأت و استقلال کے باب میں اپنا ثانی کوئی نہیں رکھتی۔ یہ تحریک سندالہند حضرت الامام شاہ ولی اللہ نوراللہ مرقدہٗ کے افکار ونظریات سے مولود ہوئی اور امام شاہ ولی اللہؒ کے افکار و نظریات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اسلام اپنا غلبہ اور اقتدار چاہتا ہے اور غلبہ اسلام کے لیے جدوجہد کرنا مسلمانوں کے فرائض میں شامل ہے۔ امام شاہ ولی اللہؒ کی یہ فکر ان کی ذاتی و اختراعی فکر نہیں بلکہ آپ کے تمام فکری ڈانڈے سلف صالحین سے جڑے ہوئے ہیں اور سلف صالحین کا راستہ ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ عہدِ حاضر کے خوارج اپنا فکری و نظریاتی رشتہ فکرِ سیداحمد شہیدؒ سے جوڑتے ہیں یا نہیں، لیکن غامدی افکارونظریات کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ حامیان اپنے تئیں پاکستانی طالبان کا فکری ونظریاتی رشتہ فکر سید احمد شہیدؒ سے جوڑنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے انھیں بہت دور کی کوڑ لانی پڑے، مختلف و متنوع تحریکات کا، جو کہ مختلف ومتنوع حالات میں چلی تھیں، آپس میں رشتہ جوڑنا پڑے، یا پھر مختلف تحاریک کو اپنے ذہنی تخیلات کی بنیاد پر اپنا مَن چاہا مفہوم پہنانا پڑے تو وہ کسی بھی بات سے نہیں چوکتے۔ 

راقم الحروف کے مطابق، اگر کسی شخص نے پاکستانی طالبان کا فکری و نظریاتی رشتہ سید احمد شہیدؒ کی تحریک سے جوڑنا ہے تو وہ اِن دنوں تحریکات کے افکار ونظریات میں باہمی یکسانیت پیش کرے کہ کیا سید صاحبؒ فاسق و فاجر مسلمانوں کی تکفیر کرتے تھے اور کیا سید صاحبؒ نے کبھی بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل کو جائز سمجھا۔ ہمیں ان سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے ،جبکہ پاکستانی طالبان (خوارج) فاسق و فاجر مسلمانوں کی تکفیر بھی کرتے ہیں اور بے گناہ انسانیت کو ’’انصارانِ طاغوت‘‘ جیسے القاب سے ملقب کرکے مباح الدّم قرار دیتے ہیں ۔اس لیے اُن حضرات کے دلائل میں کوئی وزن نہیں جو پاکستانی طالبان کو نفاذِ شریعت کا دعوے دار قرار دے کر ان کو فکر سید احمد شہیدؒ کا تسلسل قرار دیتے ہیں، کیونکہ غلبۂ اسلام کے لیے جدوجہد کا نظریہ صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم، ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر غامدی افکار کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ حامیان نے محض غلبۂ اسلام کی جدوجہد کے نام پر پاکستانی طالبان کا سید صاحبؒ سے رشتہ جوڑنا ہے تو پھر انھیں پاکستانی طالبان کا فکری ونظری رشتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرات سلف صالحین سے بھی جوڑنا ہوگااوراگر سلف صالحین سے ان کا رشتہ نہیں جوڑتے تو پھر لامحالہ سید صاحبؒ سے بھی نہیں جوڑ سکتے، کیونکہ پاکستانی طالبان بھی اسی طرح منہج سلف سے ہٹے ہوئے ہیں جس طرح فکرِ غامدی منہج سلف سے ہٹی ہوئی ہے۔ 

محمد یاسر الحسینی

مکاتیب

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

Flag Counter