مکاتیب

ادارہ

(۱)

بعد از سلام مسنون

میں شاید ان دنوں پچھلے دو تین سالوں کے الشریعہ کی ورق گردانی کی بات لکھ چکا ہوں۔ اسی ضمن میں نومبر ۲۰۱۱ء کے شمارہ میں محمد اظہار الحق صاحب کا مضمون پڑھنے میں آیا۔ دلچسپ نکلا۔ اظہار صاحب نے اس میں صفحہ ۴۷ پر سوال اٹھایا ہے کہ فلاں خط میں فلاں صاحب کے متعلق ایسے ایسے ناملائم الفاظ کی بہتات ہے۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ ’’اس کی اشاعت ایک دینی پرچہ میں کیوں ضروری تھی اور اس کے شائع نہ ہونے سے کون سی صحافتی اقدار مجروح ہو رہی تھیں۔‘‘ مجھے یاد آیا کہ بارہا مجھے خیال ہوا کہ آپ کو اور مولانا کو لکھا جائے کہ آپ اپنے بارے یہ فراخ حوصلگی رکھتے ہیں تو رکھیں کہ مکاتیب نگار جو کچھ بھی مناسب نامناسب آپ کے بارے میں لکھیں، وہ آپ من وعن چھاپ دیں، لیکن دوسروں کے حق میں تو اس فراخی کا مجاز اپنے آپ کو نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایڈیٹر اگر ایسے امور میں بھی ایڈیٹنگ نہ کرے تو وہ ایڈیٹر کس معنی کا۔ الغرض یہ فرض جو اب تک کوتاہی کی نذر رہا، اظہار الحق صاحب کی ’’برکت‘‘ سے آج ادا ہو جاتا ہے۔

(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی (لندن)

(۲)

عزیز گرامی محمد عمار خان ناصر سلمک اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حافظ عبد الجبار سلفی صاحب نے راقم کی وضاحت پر پھر خامہ فرسائی کرنی ضروری سمجھی ہے، حالانکہ ان کے اصل مضمون میں جو دو غلطیاں یا غلط فہمیاں تھیں، راقم نے ان کی بابت حقیقت واقعی کی وضاحت کی تھی جس میں بحث وتکرار کی قطعاً ضرورت نہیں تھی، لیکن ذہنی جمود مخالف کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مانع بن جاتا ہے۔ یہی حادثہ ان کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔

راقم نے عرض کیا تھا کہ عدم تقلید کو گمراہی قرار دینا یکسر غلط ہے۔ اس فتوائے گمراہی کی زد میں صرف اہل حدیث ہی نہیں آتے، بلکہ خیر القرون کے صحابہ وتابعین بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ان کا جو طرز عمل تھا، اہل حدیث کا طرز فکر وعمل اسی کے مطابق ہے اور اسلاف کا یہی منہج، منہج حق ہے۔ اصل گمراہی منہج سلف سے انحراف ہے۔ اس کی بابت موصوف نے کوئی وضاحت نہیں فرمائی اور راقم نے صحابہ وتابعین کے طرز عمل کی جو وضاحت کی تھی اور قرآن کریم کی ایک آیت بھی پیش کی تھی، اس کو انھوں نے تقلید کی حمایت قرار دے دیا، حالانکہ اس سے تقلید شخصی کا اثبات نہیں ہوتا بلکہ صرف اہل علم کی طرف مراجعت کا حکم ہے۔ تقلید اور اتباع دونوں کو یکساں قرار دینا کسی صاحب علم سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ پھر قرآن کریم کی آیت فاسئلوا اہل الذکر سے تقلید شخصی کا اثبات تو ستم ظریفی کی انتہا ہے۔ 

تقلید کا مطلب ہے امام کی بات کو بلا دلیل مان لینا۔ اس میں مقلد کو سرے سے دلیل پوچھنے کا حق ہی نہیں ہے، قول امام ہی دلیل ہے۔ اور تقلید شخصی کا مطلب ہے ایک ہی امام اور ایک ہی فقہ کی بات کو ماننا، کسی بھی دوسرے امام یا فقہ کی بات نہ ماننا۔ کسی امام اور فقہ کے پابند عوام کو اپنے مقلد علماء سے دلیل پوچھنے کی اجازت ہے نہ جرات۔ اور اگر کوئی یہ جرات کر بیٹھتا ہے تو اس کو دلیل کے بجائے جھڑک اور ڈانٹ ملتی ہے۔ الحمد للہ اہل حدیث عوام اور علماء میں اتبا ع کا طریقہ تائج ہے جو صحابہ وتابعین کا بھی منہج ہے۔ عوام یقیناًدینی مسائل میں رہنمائی کے لیے علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں اور علماء ان کی رہنمائی کرتے ہیں، لیکن عوام کے ذہن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ان کو صرف اللہ رسول کی بات بتلائی جائے اور علماء بھی پوری دیانت داری سے اپنے فہم او رمعلومات کی روشنی میں اللہ رسول ہی کی بات بتلاتے ہیں۔ وہ نہ کسی امام کی رائے یا فقہ کی روشنی میں فتویٰ دیتے ہیں اور نہ اپنے ہی کسی بڑے بزرگ کی رائے کے مطابق۔ اور قرآن کی محولہ آیت سے بھی اسی طریقے کا اثبات ہوتا ہے نہ کہ تقلید کا۔

دوسرا مسئلہ حیات النبی کا ہے جس کی بابت عرض کیا گیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں جو زندگی حاصل ہے، وہ برزخی ہے جس کی نوعیت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے نہ جان ہی سکتا ہے۔ دنیوی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی مسلک دیوبندی علماء میں سے مولانا عنایت اللہ شاہ بخاری مرحوم کا تھا اور یہی مسلک اہل حدیث کا ہے، جبکہ عام دیوبندی علماء کا عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں جو زندگی حاصل ہے، وہ دنیوی زندگی ہی کی طرح بلکہ اس سے بھی قوی ہے، اس لیے جس طر ح ان سے زندگی میں توسل جائز ہے، اسی طرح اب بھی آپ سے توسل جائز ہے۔ یعنی قبر مبارک پر جا کر آپ سے درخواست کرنا، جائز ہے۔ اسی لیے مولانا حسین احمد مدنی نے حج پر جانے والوں کو یہ تاکید کی ہے کہ مکہ جانے سے پہلے مدینہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبولیت حج کی استدعا کی جائے۔ یہ عقیدہ قرآن وحدیث کی نصوص صریحہ کے خلاف ہے، اس لیے سید عنایت اللہ شاہ بخاری اس سے انکار کرتے تھے اور اہل حدیث بھی اس مسئلے کو اسی طرح ہی مانتے ہیں۔

جہاں تک فاضل موصوف کی یہ بات ہے کہ ’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کے ساتھ روح مبارکہ کو ایک خاص تعلق حاصل ہے‘‘ یہ بالکل صحیح ہے، لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی برزخی زندگی بالکل دنیوی زندگی کی طرح حقیقی بلکہ اس سے بھی قوی زندگی ہے؟ روح اور جسم کا معنوی تعلق بھی تو برزخ ہی کی زندگی کی ایک صورت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہے، لیکن اسے دنیوی زندگی کی طرح کیونکر کہا جا سکتا ہے جو آپ حضرات کا عقید ہ ہے؟ بنا بریں اس صحیح بات پر یہ عقیدہ کیونکر متفرع ہو سکتا ہے جو آپ نے کیا ہے کہ ’’اسی تعلق کی بنا پر آپ اپنے روضہ انور پر پڑھا جانے والا صلوٰۃ وسلام سماعت فرماتے ہیں۔‘‘ سماعت کا یہ عقیدہ اس وقت تک صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک آپ جسم وروح کے معنوی تعلق کو دنیوی زندگی کی طرح حقیقی زندگی ثابت نہیں کر دیتے اور اس کے اثبات کے لیے نص صریح کی ضرورت ہے۔ وہ آپ پیش فرمائیں، وہ آپ کے اکابر کے اپنے بیان کردہ عقیدوں سے ثابت نہیں ہوگی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن کے اس عموم میں داخل ہیں کہ فوت شدگان کو کوئی اپنی بات نہیں سنوا سکتا۔ الا یہ کہ کسی نص صحیح وصریح سے آپ کا (عند القبر) سننا ثابت نہ کر دیا جائے، جیسے حدیث میں آتا ہے کہ جب مردے کو دفنا کر لوگ واپس ہوتے ہیں تو فوت شدہ جانے والوں کے قدموں (جوتوں) کی آہٹ سنتا ہے۔ مردے کا یہ سننا ایک استثناء (تخصیص) ہے جو حدیث صحیح وصریح سے ثابت ہے، اس لیے اس پر ہمارا ایمان ہے، لیکن یہ تخصیص اس حد تک ہی محدود رہے گی جس کی صراحت حدیث میں ہے، اسے عام نہیں کیا جا سکتا۔ اس حدیث سے یہ استدلال جائز نہیں ہوگا کہ فوت شدگان ہر بات سن سکتے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے اس حدیث سے مطلقاً سماع موتی کا جواز ثابت کر کے غیر اللہ سے استمداد واستعانت (شرک) کا راستہ کھول رکھا ہے۔

(عند القبر درود و سلام سننے کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کی صفت سمیع سے متصف ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ مافوق الاسباب طریقے سے سننے پر قادر ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مافوق الاسباب طریقے سے لوگوں کی درخواستیں سن سکتے ہیں۔ ظاہر اسباب کے مطابق ایک فوت شدہ شخص گھر کے اندر بھی، جب کہ ابھی اس کو دفنایا نہ گیا ہو، کوئی بات نہیں سن سکتا، لیکن اس کو منوں مٹی کے نیچے دفنانے کے بعد یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ اب بھی ہماری بات سن سکتا ہے تو اس کا یہ سننا (بالفرض اگر وہ سنتا ہے) ظاہری اسباب کے مطابق کہلائے گا یا مافوق الاسباب؟ ظاہر بات ہے یہ سننا ماورائے اسباب ہی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی نص قرآنی کے مطابق وفات پا چکے ہیں اور صحابہ نے عام انسانوں کی طرح آپ کو بھی لحد مبارک میں دفنایا ہے۔ آپ کی وفات کے بعد کسی صحابی نے آپ کی قبر پر جا کر آپ سے توسل یا استشفاع نہیں کیا۔ اب یہ کہنا کہ آپ روضہ انور کے پاس کھڑے ہو کر پڑھے جانے والا صلوٰۃ وسلام بھی سنتے ہیں اور ہر قسم کی درخواستیں بھی تو یہ سننا مافوق الاسباب قوت سماعت کے بغیر ممکن نہیں۔ جب تک کسی نص صریح سے یہ ثابت نہیں کر دیا جائے گا کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ کی طرح مافوق الاسباب طریقے سے قوت سماعت سے متصف تھے اور اب بھی ہیں، اس وقت تک دیوبندی عقیدہ بھی بے بنیاد ہے اور وہ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ بریلویوں کے مماثل ہے۔

ہمارے ناقص علم کے مطابق محولہ حدیث جس کے الفاظ ہیں: من صلی علی عند قبری، ضعیف ہی نہیں، موضوع ہے۔ اس کی اسنادی بحث کے لیے ملاحظہ ہو: السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی جلد ۱، ص ۲۳۹، رقم الحدیث ۲۰۳ اور ’’تحقیقی وعلمی مقالات‘‘ از حافظ زبیر علی زئی، جلد ۱، ص ۲۵، ۶۶، مکتبہ اسلامیہ لاہور۔ اس لیے اس سے زیر بحث مسئلہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں اس کے لیے کسی بھی بڑے سے بڑے عالم یا بزرگ کی کتاب یا فتویٰ یا رائے کا حوالہ کافی نہیں ہے، چاہے اہل حدیث کے ہاں بھی اس کی علمی حیثیت مسلمہ ہو، کیونکہ حدیث کی صحت کے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ فلاں بزرگ نے اس سے استدلال کیا یا اس کو صحیح کہا یا اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ مسلمہ اصول حدیث کے مطابق اس کی صحت کا اثبات ضروری ہے۔

موصوف فرماتے ہیں کہ ’’بالکل یہی بات اہل حدیث عالم مولانا نذیر حسین دہلوی نے لکھی ہے۔‘‘ 

اہل حدیث کے نزدیک سید نذیر حسین یا اور دیگر کبار علمائے اہل حدیث اپنے علم وفضل اور خدمات کے پیش نظر یقیناًقابل احترام ہیں، لیکن اہل حدیث چونکہ اکابر پرستی اور غلو عقیدت سے پاک ہیں، اس لیے وہ معصوم صرف نبی مفترض الطاعت کو مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی کو معصوم سمجھتے ہیں نہ مانتے ہیں، اس لیے کئی مسائل میں وہ سید نذیر حسین کی رائے اور فتوے کو بھی غلط قرار دیتے ہیں۔ محولہ عبارت بھی اگر واقعی ان کے فتاویٰ یا کسی کتاب میں لکھی ہوئی ہے تو وہ ہمارے نزدیک غلط اور ناقابل حجت ہے۔ 

ثانیاً، واقعہ یہ ہے کہ محولہ عبارت نہ صرف یہ کہ محولہ مقام پر نہیں ہے، بلکہ فتاویٰ نذیریہ کی تینوں جلدوں میں یہ عبارت تمام مظان دیکھنے کے باوجود ہمیں نہیں ملی۔ یہ عبارت اگرچہ مدار استدلال نہیں، لیکن ہماری یہ خواہش ضرور ہے کہ اس عبارت کا اتا پتا ہمیں معلوم ہو تاکہ اس کا سیاق وسباق دیکھا جا سکے۔

فاضل موصوف نے مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی طرف عند القبر صلاۃ وسلام کے سماع کا فتویٰ منسوب کیا ہے، حالانکہ ان کا یہ فتویٰ ان کے فتاویٰ میں ہمیں کہیں نہیں ملا۔ ان کا اصل فتویٰ ملاحظہ فرمائیں۔ اصل فتویٰ فارسی میں ہے، اس کا اردو ترجمہ جو اس کے حاشیے ہی میں درج ہے، حسب ذیل ہے:

’’اور نبی یا کسی دوسرے کو ندا (یا  کے لفظ سے خطاب کرنا) یا درود اور غیر درود میں ندا کرنے کا جو فرق کیا جاتا ہے، وہ ہماری سمجھ سے تو بالاتر ہے کیونکہ ندا (یا) تو حاضر کے لیے ہوتی ہے اور نبی بھی حاضر نہیں ہوتا، نہ درود کے وقت اور نہ کسی دوسرے وقت۔ اور درود کے متعلق صرف اتنا ثابت ہے کہ اس کو فرشتے پہنچا دیتے ہیں۔ پس ندا (یا) حاضر ہونے کے عقیدے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ عقیدہ شرک ہے تو ایسے الفاظ شرکیہ سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے۔‘‘ (فتاویٰ نذیریہ جلد اول ص ۱۶۰)

یہاں درود کے بارے میں واضح طور پر یہ لکھا ہے کہ صرف اتنا ثابت ہے کہ اس کو فرشتے پہنچاتے ہیں۔ یہ لفظ انھوں نے مطلقاً لکھے ہیں، یہ درود پڑھنا عند القبر ہو یا کسی اور جگہ سے ہو۔ ہر دو صورتوں میں فرشتے ہی پہنچاتے ہیں، جیسے حدیث میں ہے: ان للہ ملائکۃ سیاحین فی الارض یبلغونی عن امتی السلام (موارد الظمآن، حدیث ۲۳۹۲)

یہ چند گزارشات بادل نخواستہ اس لیے پیش کی گئی ہیں کہ اہل حدیث کی بابت یکسر خلاف واقعہ الزام تراشی اور نہایت غلط تاثرات کا اظہار کیا گیا ہے، اس لیے انھی صفحات پر ان کا ازالہ ووضاحت ضروری تھی۔ امید ہے کہ آئندہ ایسی صورت حال پیش نہیں آئے گی (کم از کم الشریعہ کے صفحات پر) کہ ہمیں پھر یہ ناخوش گوار فریضہ ادا کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ وما علینا الا البلاغ

حافظ صلاح الدین یو سف

مدیر شعبہ تحقیق وتالیف دار السلام لاہور

(۳)

(اہل تشیع کی تکفیر کے حوالے سے اس بحث میں دونوں طرف کا موقف متعدد بار تفصیل کے ساتھ سامنے آ چکا ہے اور اب یہ مباحثہ تکرار اور مناظرے کی حدود میں داخل ہوتا نظر آ رہا ہے، اس لیے اس خط کی اشاعت کے ساتھ اس سلسلے کو یہیں ختم کیا جا رہا ہے۔ کسی دوسرے موقع پر کوئی نیا علمی یا فکری تقاضا سامنے آنے کی صورت میں اس موضوع پر گفتگو کے لیے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پھر سے حاضر ہوں گے۔ مدیر)

مفتی محمد زاہد صاحب کا مضمون ’’برصغیر میں برداشت کا عنصر‘‘ماہ نامہ الشریعہ میں شائع ہوا ۔ اس میں فاضل مضمون نے تین دعوے کیے تھے :

۱۔ بطور فرقہ شیعہ کی تکفیر اہل سنت کا متفقہ فتویٰ نہیں ہے ۔

۲۔ اہل تشیع ملی تحریکات میں شامل رہے ۔ 

۳۔ جو حضرات شیعوں کے خلاف کام کرتے رہے، وہ بھی موجود ہ ماحول کے روادار نہیں تھے ۔

ہم نے اپنے سابقہ مضمون میں ان تینوں باتوں کاتفصیلی جواب دیا۔ ہمارے موقف کا لب لبا ب یہ تھا کہ :

۱ ۔ جنہوں نے شیعیت کے مدو جزر پر مستقل نگار رکھی ہے، انہوں نے علی الاطلاق بطور فرقہ تکفیر کی ہے اور اس مسئلہ پر رائے بھی انہی کی معتبر ہو گی ۔ 

۲۔ ملی تحریکات سے نظریاتی اختلاف کے فاصلے نہیں سمٹتے، نیز ہمارے اسلاف نے انہیں شامل کرنے کے باوجود موقع بہ موقع علمی تعاقب جاری رکھا ۔ 

۳۔ موجود ہ مذہبی ماحول لاریب اسلاف کے مزاج کے خلاف ہے اور ہم نے پوری دیانت کے ساتھ اس پر بحث کر دی ہے ، مگر اس کا ذمہ دار کوئی ایک جماعت یا طبقہ نہیں ہے اور نہ ہی اس ماحول کے کالے بادل دور کرنے کے لیے کسی گمراہ فرقے کی وکالت ضروری ہے۔

اس کے جواب میں فاضل مضمون نگار اپنی حالیہ تحریر میں یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے برصغیر کے مذہبی ماحول میں برداشت کے عنصر کے حوالہ سے بحث کی ہے ، حالانکہ یہ تاثر غلط ہے۔ انہوں نے اہل تشیع اور اہل تسنن کے ضمن میں کلیتاً اہل تشیع کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ صراحتاً یہ باور کرایا گیا تھا کہ ان کا ملت اسلامیہ کے ساتھ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے اورساری تگ و تاز اہل تشیع کے دفاع پر تھی۔ ہمیں اس سے غرض نہ تھی کہ تکفیرِ شیعہ پر اکابرین امت کا اجماع ہے یا نہیں۔ ہم نے تو فاضل مضمون نگار کی اس روش کی تردید کی ہے کہ علی الاطلاق تکفیر نہ کرنے والوں نے بھی کبھی اس گمراہ ترین فرقے کی وکالت نہیں کی۔ ملتِ اسلامیہ کے جن جہابذۂ روزگار اہل علم نے پوری متانت اور فکرِ بیدار کے ساتھ رفض کے نشیب وفراز کا مشاہدہ کیا، انہوں نے ان کی تکفیر کی اور جنہیں غور کرنے کے لیے دیگر خدماتِ دینیہ کے انہما ک نے موقع نہیں دیا، انہوں نے بھی اس فرقہ کو ’’گمراہ ترین‘‘ ضرور کہا ہے اور مشروط تکفیر کرنے سے انہوں نے بھی دریغ نہیں کیا۔جو سود ا آپ کے دماغ میں سمایا ہے، یہ اہل دانش و بینش کے علمی مزا ج کے برعکس ہے ۔ 

کسی متشدد طبقے کی مخالفت میں نفسِ مسئلہ کا ہی انکار کر دینا کہاں کی علمی دانش ہے ؟ کل کلاں اگر جذباتی نوجوان مرزائیوں کے خلاف تشدد پر اتر آئے تو آپ مرزائیوں کی ترجمانی کرنے بیٹھ جائیں گے؟ فاضل مضمون نگار کو فتوے اور رائے میں تمیز ملحوظ نظر رکھ کر قلم اٹھانا چاہیے تھا۔ سو فاضل مضمون نگار نے جب شیعہ ، سنی نزاعی مسائل پر علمی ذوق استعمال کر نے کے بجائے محض ایک فرقہ کو مسلمانوں کی قطار میں کھڑا کر نا چا ہا تو ہم نے امت کے ان اکابر کی تحقیق پیش کر دی جنہوں نے پوری چھان بین کے بعد علی الاطلاق اہل تشیع کے تین فرقوں یعنی ۱۔ اثنا عشریہ ۲۔ اسماعیلی اور۳۔ نصیری پر فتویٰ تکفیر دیا۔ 

ہمارا یہ مضمون ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘، ماہنامہ ’’حق چار یا ر‘‘ اور ماہنامہ’’ صفدر‘‘ کے ذریعے جب اہل ذوق کے ہاتھوں میں پہنچا تو دادو تحسین کے ڈونگرے برس پڑے ۔ کیا علماء اور کیا وکلا ء بلکہ مقتدر مفتیانِ عظام نے باضابطہ فون کے ذریعہ حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کے جذبات یہ تھے کہ آپ نے اکابرینِ اہل سنت کی ترجمانی کی ہے۔ 

تحریفِ قرآن پر فاضل مضمون کا دعویٰ یہ تھا کہ اہل تشیع اس کے قائل نہیں ہیں اور دلیل کے طور پر انہوں نے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور علامہ شمس الحق افغانیؒ کے حوالہ جات پیش کیے ۔ ہم نے اس ضمن میں جو بحث کی ہے، اس کا دوبارہ یہاں اندارج ضرور ی نہیں ۔ تاہم حیرت اس امر کی ہے کہ موصوف نے اس ساری بحث کو ہضم فرما محض ایک ہی نکتہ اٹھایا کہ مولانا شمس الحق افغانیؒ کا رجوع ثابت کرنے کے لیے جس مکتوب کا مختصر سا اقتباس پیش کیا گیا ہے، اس میں صرف تصحیح کرنے کا وعدہ ہے۔ تصحیح کے وعدے ، تصحیح کے ارادے ، عملاً تصحیح کرنے اور رجوع میں فرق ہے ۔ علاوہ ازیں یہ کہ اس وقت مارکیٹ میں موجود ’’علوم القرآن ‘‘میں وہ عبارت جوں کی توں موجود ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشاغل علمی اور ہجومِ کار نے علامہ افغانی ؒ کو ممکن ہے اپنی زیر نگرانی تصحیح کا موقع نہ دیا ہو ۔ کیونکہ کسی بھی کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہوتا ہے تو دوسرا شائع ہوتا ہے۔ اس وقت تک ان کو صحت، یادداشت نے موقع نہیں دیا ہوگا۔ اور اس کی تاریخ میں ایک نہیں، بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ اور مولانا عبد الماجد دریا بادی ؒ کی زندگی میں کئی اتارچڑھاؤ آئے،جمہور اہل سنت کے نظریات سے ہٹ کر کی گئی لاتعداد باتوں سے ان حضرات نے عملاً رجوع کیا ۔ مگر ان کی کتابوں میں کئی ایک مقامات پر سابقہ نظریہ موجود ہے ، بلکہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کی انکارِ حدیث اور دیگر لایعنی موضوعات پر آج بھی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ انہوں نے زندگی کے اواخر میں ’’تاریخ حدیث‘‘ لکھ کر اپنے سابقہ عقیدے سے رجوع کر لیا تھا، مگر پیشہ ور تجار اب بھی ان کی کتابیں شائع کر رہے ہیں ۔ 

فاضل مضمون نگار لکھتے ہیں کہ علامہ بحر العلوم نے ’’فواتح الرحمو ت شرح مسلم الثبوت‘‘ میں جہاں شیعہ کی تکفیر کی بحث آتی ہے، وہاں انہوں نے عدمِ تکفیر کو مدلل انداز سے ترجیح دی ہے ۔ 

علامہ بحر العلوم نے شیعہ مفسر علامہ ابو علی طبرسی کی تفسیر ’’مجمع البیان‘‘پڑھ کر ان کے عقیدہ تحریف قرآن پر غور کیا تو صاف الفاظ میں شیعوں کی تکفیر کی۔ ملاحظہ ہو فواتح الرحمو ت شرح مسلم الثبوت صفحہ ۴۱۷۔ امام اہل سنت علامہ عبد الشکور لکھنویؒ نے ’’فقہی نظر سے مختتم فیصلہ‘‘ کے زیر عنوان علامہ بحرالعلوم کے اس فتویٰ تکفیر کو تفصیل سے بیان فرمایا تھا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ میں نے بھی کسی زمانہ میں شیعوں کے ساتھ مناکحت کا جواز لکھا تھا، لیکن جب کتب شیعہ پر عبور ہوا تو اس فتوے سے رجو ع کر لیا جیسا کہ علامہ بحر العلوم نے رجوع فرمایا تھا ۔ (ملاحظہ ہو: ’’النجم ‘‘لکھنو ۷شوال ۱۳۴۵ھ) 

فاضل مضمون نگار اپنے حالیہ مضمون میں مولانا کرم الدین دبیرؒ کے متعلق لکھتے ہیں ’’ویسے مولانا دبیر ؒ بڑے آدمی ہیں، لیکن فتوے کی دنیا میں اتنا بڑا نام نہیں کہ تکفیر کے حوالے سے مجھے ان کی بات سے دو ر از کار استدلال کی ضرورت ہوتی۔‘‘ فاضل مضمون نگار کو غلط فہمی ہو رہی ہے کہ مولانا دبیر مفتی نہیں تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں ایک مدقق ، صاحب نظراور فقہی باریکیوں پر نگاہ رکھنے والے منصب افتاء پر فائز تھے اور شرعی و فقہی روشنی میں لوگوں کے نکاح و طلاق اور دیگر معاشرتی و سماجی فیصلے صاد ر فرماتے تھے اور اسی منصب کی وجہ سے وہ’’ قاضی‘‘مشہور ہو گئے تھے، ورنہ ان کی ذات تو ’’اعوان‘‘ تھی۔ تاہم فاضل مضمون نگار کی مہربانی ہے کہ وہ مولانا دبیرؒ اور حضرت اقدس قاضی صاحب کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’اس خاندان کا تکفیر کا قائل ہونا اظہر من الشمس ہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’تاہم ویسے حقیقت یہی ہے کہ وہ (مولانا دبیرؒ )‘ اوران کے صاحبزادے تکفیر کے قائل تھے ۔‘‘

فاضل مضمون نگار تو ہم سے مایوس ہیں، مگر ہم ان سے مطمئن ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے اور میرے مضامین کو ٹھنڈے دل کے ساتھ بار بار نظر نواز کیجیے اور غصہ تھوک دیجیے۔ 

بس آج اتنا ہی۔ اپنے ناراض بزرگ عالم دین کی خدمت میں حافظ شیرازیؒ کا ایک شعر بھرپور امیدوں کے ساتھ پیش خدمت ہے : 

آہِ من گراثرے داشتے
یار من بکویم گزرے داشتے 
(اگر میری آہ میں کوئی اثر ہے تو میرے دوست کا میری گلی سے ضرور گزر ہوگا)

حافظ عبد الجبار سلفی، لاہور

مکاتیب

نومبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۱

الشریعہ اور ہائیڈ پارک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کار
مولانا امین احسن اصلاحیؒ

فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء
مولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی

اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالک
قاضی محمد رویس خان ایوبی

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر اسلم فرخی)
عرفان احمد

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی