مکاتیب

ادارہ

(۱)

۱۹ اپریل ۲۰۱۳ء

مکرمی ومحترمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گزشتہ مہینے آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں میرے دفتر میں تشریف لائے اور مجھے ملاقات کی سعادت نصیب فرمائی۔ اس کے لیے میں آپ کا تہ دل سے ممنون ہوں۔ میرے لیے وہ دن یقیناًبے حد خوشی کا دن تھا۔ آپ سے ملاقات کے دو تین بعد آپ کی عنایت سے آپ کے چند کالم، ’’الشریعہ‘‘ اور ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے تازہ شمارے بھی ملے جن کے لیے میں آپ کا بے حد مشکور ہوں۔

آپ کو معلوم ہے کہ میں آپ اور عزیزم محمد عمار خان ناصر کی تحریروں کا ایک مدت سے مداح ہوں۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ آپ دونوں کے خیالات میں جو توازن اور اعتدال پایا جاتا ہے، وہ ہمارے مذہبی (اور دیگر حلقوں میں) آج کل ناپید ہے۔ تاہم پورے احترام اور عقیدت کے ساتھ میں ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے مارچ ۱۲۰۳ء کے شمارے میں آپ کے قلم سے لکھے ہوئے اداریے کے بارے میں اپنی مایوسی اور شکایت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ آپ جیسے معتدل مزاج عالم دین سے مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ آپ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کے اس متعصبانہ بیان کی تائید کریں گے جو موصوف نے ایران کے صدر جناب محمد احمدی نژزاد کے سامنے دیا۔ مجھے شیخ الازہر سے بھی ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ مہمان نوازی کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ اپنے گھر آئے مہمان کو اس طرح ڈانٹ پلائیں گے جیسا کہ ان کے بیان سے عیاں ہے۔

اس سلسلے میں دو تین باتیں سامنے رکھنا ضروری ہے:

۱۔ شیخ الازہر کا یہ شکوہ کہ ایران خلیج کی ریاستوں اور خصوصاً ’’برادر ہمسایہ عرب ملک‘‘ بحرین کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے، صریحاً غلط بینی اور یک طرفہ فیصلے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بحرین میں اہل تشیع کی اکثریت ہے اور اس کے باوجود انھیں نہ شہری حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ووٹ دینے کا حق۔ گزشتہ دو سال سے وہاں شہری حقوق اور سیاسی آزادیوں کے لیے ایک تحریک چل رہی ہے۔ اس تحریک میں یقیناًاہل تشیع کی اکثریت ہے، لیکن اس میں بحرین کے جمہوریت پسند سنی بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ یہ تحریک پرامن تحریک تھی، لیکن اس کو کچلنے کے لیے جس بے رحمی سے فائرنگ کر کے درجنوں شیعوں کو ہلاک کیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو جیل میں ڈالا گیا، حتیٰ کہ ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا جنھوں نے زخمی مظاہرین کی مرہم پٹی کی تھی۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی پریس میں اور خود ہمارے اخبارات میں مسلسل رپورٹ ہوتا رہا ہے۔ شیخ الازہر شکایت کرتے ہیں (اور آپ اس کی تائید کرتے ہیں) کہ ایران، بحرین کے داخلی امور میں مداخلت کر رہا ہے، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ بحرین کے شاہی نظام کی حفاظت کے لیے ایران نے نہیں، بلکہ ’’برادر عرب ملک‘‘ نے اپنی فوج بھیجی تھی۔

۲۔ میرے علم کی حد تک حکومت ایران کی جانب سے نہ تو سنی ممالک میں شیعہ مذہب کو پھیلانے کی کوئی باقاعدہ کوشش ہو رہی ہے اور نہ ہی، جیسا کہ شیخ الازہر نے الزام لگایا ہے، ’’اہل سنت کے مسلک کو گزند پہنچانے‘‘ کی کوئی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ۱۹۷۹ء کے انقلاب کے فوراً بعد یقیناًایران کی مذہبی قیادت میں مسلکی جوش وخروش کی فراوانی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اندازہ ہو گیا تھاکہ جس چیز کو اولیت حاصل ہے، وہ ایران کے قومی مفادات ہیں، مسلکی ترجیحات نہیں۔

’’الامام الاکبر‘‘ صاحب کو اتنی بات تو معلوم ہونی چاہیے کہ خطے میں گزشتہ تیس سال سے مختلف ملکوں کے درمیان اقتدار کی جو جنگ جاری ہے، اس میں دوسرے ملکوں کی طرح ایران بھی ایک اہم کردار ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیج میں جو ملک آج برسرپیکار ہیں، وہ شیعہ اور سنی مسلک کے لیے نہیں، عراق، شام، لبنان اور مقبوضہ فلسطین میں اپنا اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اقتدار کی اس جنگ کو شیعہ سنی تنازعے سے تعبیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے صدام حسین کا ۱۹۹۱ء میں یہ دعویٰ کہ وہ اہل عرب اور اہل سنت کی بالادستی کے لیے ایران پر حملہ آور ہوا تھا یا امریکہ کا دعویٰ کہ اس نے ۲۰۰۳ء میں جمہوریت کے فروغ کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا۔ بلاشبہ ایران کی خارجہ پالیسی، دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح، تضادات کا مجموعہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ ایران کے قومی مفادات ہیں جن کی ترجیحات حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ اخلاقیات، مسلک اور مذہبی رجحانات کی حیثیت خارجہ پالیسی میں اکثر وبیشتر ثانوی ہوتی ہے۔

۳۔ جہاں تک الازہر کے شیوخ کی علمی دیانت اور اسلامی Integrity کا تعلق ہے تو میرے خیال میں یہ بات جاننے کے لیے گوگل سرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ گزشتہ پچاس سال سے ان حضرات (الا ما شاء اللہ) صدر جمال عبد الناصر، انوار سادات اور حسنی مبارک اور ان کی پالیسیوں کے حق میں کتنے فتوے دیے ہیں اور ہر آمر کی کن کن حیلوں سے ہاں میں ہاں ملائی ہے۔

۴۔ اداریے کے آخر میں آپ کا یہ ارشاد کہ ’’شیخ الازہر آگے بڑھ کر اس مسئلہ پر عالم اسلام کے علمی حلقوں کی باہمی مشاورت کا بھی اہتمام کریں تاکہ اجتماعی طور پر اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے‘‘ ایک نہایت خطرناک تجویز ہے جس کا مطلب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں لیا جا سکتا کہ شیعوں کے خلاف ایک عالمی سنی محاذ بنایا جائے۔ امید ہے، آپ میری معروضات پر ناراض نہیں ہوں گے اور اپنے اس اداریے کے خطرناک مضمرات پر غور فرمائیں گے۔

کل کی طرح آج بھی آپ کا نیاز مند

(ڈاکٹر) ممتاز احمد

[صدر] بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

(۲)

محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ

السلام علیکم۔ اللہ آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور نظر بد سے محفوظ رکھے۔

آپ بحث و مباحثہ، حالات و واقعات اور مکالموں میں اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ ہی اعتدال کی راہ ہے اور قوم کو تنگ نظری سے نکالنے کا راستہ ہے۔

چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ کے ’’صریر خامہ‘‘ پر تبصرہ کے جواب میں میرا ایک مضمون ’’جماعت اسلامی کے ناقدین و مصلحین‘‘ ماہنامہ الشریعہ کے شمارے فروری میں شائع ہوا جس کی نوک پلک سنوارنے اور ایڈٹ کا فریضہ ادا کرنے سے جہاں مضمون کے حسن کو چار چاند لگ گئے وہاں کچھ ابہام بھی پیدا ہوگئے۔ مثلاً مجھے اسلامی جمعیۃ طلبہ کینٹ کا رکن لکھا گیا جبکہ میں شروع سے آخر تک ناظم ہی رہا۔ اس وقت کینٹ کا وجود ہی نہیں تھا، میں گوجرانوالہ کا ناظم تھا۔ کینٹ میں عارضی طور پر مقیم ہوں، میری رہائش پیپلز کالونی میں ہے۔ شاید اس فقرے سے بھی ابہام پیدا ہوا کہ چودھری یوسف صاحب کو جماعت وراثت میں ملی اور مجھے سوچ سمجھ اور پرکھ کر اس کا ساتھ دینا پڑا۔ مگر میں آج تک جماعت اسلامی کا نہ رکن نہ رفیق نہ متفق رہا۔ اگرچہ ایوب خان کے خلاف پی۔ڈی۔ایم کے پلیٹ فارم سے جاتا رہا، گرفتاری کے فورًا بعد کم عمری کی بنا پر چھوڑ دیا گیا، پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں شریک رہا، گوجرانوالہ کی تحریک کے دوران سب سے بڑا مقدمہ مجھ پر درج ہوا، شاہی قلعہ میں میاں محمد عثمان جو کہ دو دفعہ ایم۔این۔اے رہے اور ایک دفعہ ڈپٹی میئر لاہور رہے، طارق چودھری ۱۲ سال سینیٹر رہے، حافظ ڈاکٹر عبد الرحمن مکی لشکر طیبہ کے ساتھ بھی شاہی قلعہ میں رہا، بہاولپور جیل میں میاں طفیل محمدؒ اور ایئر مارشل اصغر خان کے ساتھ رہا، وہ بھی بہاولپور جیل میں تھے۔ ہم نے شاید بہت سے لوگوں سے زیادہ جیلیں کاٹی ہیں، یہ سب کلمہ حق کہنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

میرے استاد محترم صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، جن کا مقام اور مرتبہ میرے نزدیک مولانا مودودیؒ سے کم نہیں ہے، کے جانشین محترم مولانا فیاض خان سواتی نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ فرماتے ہیں:

’’وہ کون سے سوالات تھے جن سے یہ جبال علم گھبرا جاتے تھے، وہ بھی ایک نو آموز اور مبتدی طالب علم سے۔ ہماری تو معلومات اول الذکر دونوں بزرگوں کے متعلق یہ ہیں کہ وہ اعلاء کلمۃ الحق کے لیے کبھی کسی جابر سلطان کے سامنے بھی حق کہنے سے نہیں گھبرائے، اس لیے الشریعہ کی وساطت سے خواجہ صاحب موصوف کی خدمت میں مؤدبانہ درخواست پیش کریں گے کہ اگر ان کی یادداشت صحیح کام کر رہی ہو تو براہ کرم ان سوالات کی لسٹ الشریعہ میں طبع کرا دیں تا کہ ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہو سکے۔ عین ممکن ہے خواجہ صاحب موصوف کو علم ہی نہ ہو اور یہ حضرات اپنی تحریروں تقریروں اور مواعظ میں ایسے سوالات کے جوابات دے چکے ہوں۔ یہ تو بہرحال ان کے سوالات سامنے آنے پر ہی واضح ہو سکے گا۔‘‘

جب میں صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے پاس پڑھنے جایا کرتا تھا، میرا ذہن بالکل صاف تھا۔ تاریخ کا مطالعہ ضرورت سے زیادہ ہی کرتا تھا اور مولانا غلام غوثؒ ہزاروی جو نصرۃ العلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ اور شیرانوالہ باغ میں اکثر آکر تقاریر فرمایا کرتے تھے۔ ان کا بہت معتقد تھا، بلکہ گھر کی مستورات کو بھی ان کی تقاریر سننے کے لیے لے جایا کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقول حضرت عائشہ صدیقہؓ قرآن حکیم کے بتائے گئے اخلاق کا جیتا جاگتا نمونہ تھے اور اُن کے یہ پیروکار جب اُن کے منبر پر بیٹھ کر مخالفین پر جو زبان استعمال کرتے، اس وجہ سے میں ان سے دور ہوتا گیا۔ یہ ہی سوال میں محترم صوفی عبد الحمید سواتیؒ سے کرتا کہ یہ بد اخلاقی کہاں اور کس مذہب میں جائز ہے؟ 

سوال نمبر ۱: مودودی کی لڑکیاں مخلوط اداروں میں جیب میں ایف۔ایل ڈال کر لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہیں۔

سوال نمبر ۲: مودودی کہتا ہے میں نے سرجمال خان لغاری کو کہا ہے کہ لڑکیوں کا دھیان رکھے، اس نے اچھا ہی دھیان رکھا ہوگا۔ 

سوال نمبر ۳: جب ۱۹۷۰ء میں ۳۱۳ علماء کا یہ فتویٰ آیا کہ سوشلزم، کمیونزم، نیشنل ازم، سرمایہ داری سب کفر ہیں تو فتویٰ دینے والوں میں تمام فرقوں کے جید علمائے کرام شامل تھے جن میں مولانا رسول خانؒ ہزاروی بھی تھے جو کہ مولانا غلام غوثؒ ہزاروی کے استاد بھی تھے، مگر مولانا نے سب کو فتویٰ فروش کہا۔

سوال نمبر ۴: ایئر مارشل اصغر خان کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا: لوگ شاہین پاکستان کہتے ہیں، میں چیل پاکستان کہوں گا۔ میجر جنرل سرفراز مرحوم کو لوگ محاذ لاہور کا ہیرو کہتے تھے، مولانا غلام غوثؒ نے فرمایا کہ میں تو ہیر کہوں گا۔ 

سوال نمبر ۵: سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آل انڈیا مسلم لیگ مولانا ظفر احمد انصاریؒ کو جن کی ایک ٹانگ خراب تھی، لنگڑا مودودیا کہا کرتے تھے۔ 

سوال نمبر ۶: شیخ الحدیث مولانا محمد چراغ ؒ کو سیاہ دل کہا کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ چراغ باہر روشنی دیتا ہے، اندر سے سیاہ ہوتا ہے۔ 

سوال نمبر ۷: مولانا ضیاء القاسمیؒ اپنی تقریروں میں اکبر الٰہ آبادی کا مشہور شعر یوں سنایا کرتے تھے:

میں نے کہا کہ پردہ تمہارا وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مودودی کے پڑ گیا

سوال نمبر ۸: مدینہ کتاب گھر کے سامنے حاجی صدر دین مرحوم ہوا کرتے تھے جو عوامی لیگ (مجیب الرحمن) کے لیڈروں میں سے تھے۔ ان کے بیٹے انعام الحق مرحوم خود کافی لوگوں کو بتا چکے ہیں کہ اُن کو اِس حد تک مشتعل کیا کہ وہ لاہور مولانا مودودیؒ کے گھر جہاں وہ عصر کے بعد درس دیا کرتے تھے چلے گئے اور مولانا سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگا، مگر مولانا مودودیؒ مرحوم نے جس تحمل سے اسے جواب دیا، وہ اس دن سے مولانا کا گرویدہ ہوگیا۔ 

اگر میں لکھتا چلا جاؤں تو بہت کچھ اور بھی آئے گا۔ ان باتوں کا استاد محترم صوفی عبد الحمید ؒ سواتی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آپ کی مسجد نور سے اسلامیہ کالج جاتے ہوئے سامنے کی طرف درزیوں کی کوٹھی مشہور ہے، وہاں ایک لیڈی ڈاکٹر توحید اخترؒ ہوا کرتی تھیں۔ یہ مولانا مودودیؒ کے گھر اکثر جایا آیا کرتی تھیں اور مولانا مودودیؒ کی بیٹیوں سے دوستانہ بھی تھا۔ ان کے کلینک کے آگے گلی نمبر ۱ گوبندھ گڑھ میں دوسرا مکان ان کا تھا۔ یہ پردہ نماز روزہ کی سخت پابند خاتون تھیں۔ ہمارے گھر آیا کرتی تھیں اور میری خالہ زاد بہن کی دوست بھی تھیں۔ مولانا غلام غوثؒ کی تمام باتوں کی تردید کرتی تھیں۔ اس سے مجھ پر وارثانِ محراب منبر کا یہ پہلو بھی آشکار ہوا۔ مفتی محمودؒ جب ولی خان کے اتحادی تھے اور مولانا غلام غوثؒ ہزاروی اُن سے علیحدہ ہوئے تو اُن کے گروپ کو ہزاروی گروپ کہا جانے لگا تو انہوں نے فرمایا جو مجھے ہزاروی گروپ کہے گا میں اسے مریم جمیلہ گروپ کہوں گا۔ پھر یہ کہنا کہ مریم جمیلہ مجھے فون کرتی ہے کہ مجھے مودودی سے بچاؤ۔ ان سوالات کا دفاع کون کرے گا؟

جہاں تک مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا تعلق ہے، مجھے چودھری منظور صاحب جو ان دنوں جمعیۃ العلمائے اسلام کے نیشنل گارڈ کے سالار اعلیٰ تھے، پونڈاں والا مسجد میں ان کے پاس لے گئے۔ مولانا عبد القیومؒ مسجد کے صحن میں دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے اور آگے حدیث شریف کی ایک کتاب رکھی ہوئی تھی۔ میں نے اسے اٹھا کر اونچا رکھنے کو کہا تو اہل حدیث حضرات کے خلاف سخت الفاظ بولنے لگے۔ منظور صاحب نے کچھ خلافت و ملوکیت کے متعلق مجھ سے بات کرنے کو کہا مگر ان کا غصہ اترنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ اس کے بعد ان سے کچھ کہنا اور سننا فضول تھا۔ 

الشریعہ کے اسی شمارے میں صفحہ ۶ پر زاہد الراشدی صاحب ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’مزاج کے سخت تھے اور مولانا غلام غوث ہزاروی کے زیادہ قریب تھے اور زندگی بھر اسی فکر پر رہے‘‘۔ اسی سختی کی وجہ سے جب پونڈاں والا کی مسجد پر بریلی مکتب فکر کے لوگوں نے قبضہ کیا تو اردگرد سے ایک بھی بندے کی حمایت مولانا کو حاصل نہ تھی۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔

یعقوب طاہر مرحوم جماعت اسلامی کے ایک رکن تھے جو جامع مسجد نور میں نماز جمعہ پڑھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ جب صوفی عبد الحمید سواتیؒ صاحب کبھی مولانا مودودیؒ پر تنقید کیا کرتے تو وہ جواب دینے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے قاضی مظہر حسینؒ چکوال اور سید نور الحسن بخاریؒ کی خلافت و ملوکیت پر تنقید کا جواب بھی کتابی صورت میں دیا تھا۔ انہیں پکڑ کر مسجد سے نکال دیا جاتا۔ جب آپ اعتراض کرتے ہیں تو جواب بھی سن لینا چاہیے۔ 

پیرزادہ عطاء الحق قاسمی جوکہ مشہور کالم نگار بھی ہیں، انہوں نے اپنے ایک کالم میں جس کا عنوان تھا ’’دولے شاہ کے چوہے‘‘ لکھا ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے مدرسوں میں طالب علموں کے بڑے بڑے دماغوں کو یوں جکڑ رکھا ہوتا ہے اور یوں برین واشنگ کی ہوتی ہے کہ وہ دولے شاہ کے چوہوں سے بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ یہی بات محترم حافظ عمار ناصر صاحب نے اس شمارے میں صفحہ نمبر ۲۷ پر مشعل سیف کو انٹرویو کے دوران کہی ہے:

’’عام طور پر کسی بھی مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ایک خاص نوعیت کے مسلکی رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں۔‘‘ 

فیاض خان سواتی صاحب بھی میرے لیے محترم ہیں۔ ان کے کہنے پر کچھ سوالات لکھ دیے ہیں، اب اس پر مزید کچھ نہیں لکھوں گا۔ صوفی عبد الحمیدؒ سواتی صاحب پاکستان کے جید، باکردار اور صاحب عمل علماء میں سے تھے۔ ہمارے دل میں ان کا بہت مقام ہے۔ سوالات پوچھنا، غلط فہمیاں دور کرنا اور مطمئن ہونا ہر طالب علم کا حق ہوتا ہے جو مدرسے والے استعمال نہیں کرنے دیتے۔ اگر میں نے یہ کام کیا تو کوئی جرم نہیں کیا۔ 

خواجہ امتیاز احمد 

سابق ناظم اسلامی جمعیۃ طلبہ گوجرانوالہ

مکاتیب